مکتوبات

شیخ الازہر کے نام مکتوب

عالم اسلام کے قدیم علمی مرکز جامعہ ازہر قاہرہ میں ۳،۴ دسمبر کو ’’مواجھۃ التطرف والارھاب‘‘ (دہشت گردی اور انتہا پسندی کا مقابلہ) کے عنوان پر دو روزہ عالمی کانفرنس ہوئی ۔ ۔ ۔ جامعہ کے سربراہ شیخ الازہر معالی الدکتور الشیخ احمد الطیب حفظہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے راقم الحروف کو بھی کانفرنس میں شرکت کا دعوت نامہ موصول ہوا، مگر بعض وجوہ کے باعث میں سفر کا پروگرام نہیں بنا سکا، البتہ شیخ الازہر محترم کے نام ایک عریضہ میں اس موضوع کے حوالہ سے اپنے تاثرات و احساسات انہیں بھجوا دیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر شیخ الازہر کے نام مکتوب

۳۰ نومبر ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

نفاذ شریعت کی جدوجہد اور حاجی محمد بوستان کا مکتوب

طالبان کے ساتھ مذاکرات کی جو فضا بن رہی ہے اس نے اسلام، ملک اور امن کے بہی خواہوں کے دلوں میں امید کی ایک نئی کرن روشن کر دی ہے، وزیر اعظم پاکستان اور تحریک طالبان کی طرف سے مذاکراتی ٹیموں کی نامزدگی دونوں فریقوں کی سنجیدگی کی غمازی کرتی ہے۔ خصوصًا طالبان کی طرف سے ایک متوازن گروپ کے اعلان نے خوشگوار ماحول کی توقع پیدا کر دی ہے جس پر دونوں فریق مبارک باد اور شکریہ کے مستحق ہیں۔ ہم ان مذاکرات میں مثبت پیش رفت اور ان کی کامیابی کے لیے بارگاہ ایزدی میں دعا گو ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر نفاذ شریعت کی جدوجہد اور حاجی محمد بوستان کا مکتوب

۵ فروری ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

شیعہ سنی کشیدگی کا خاتمہ ممکن ہے!

سنی شیعہ کشیدگی میں اضافے کے حوالے سے جناب محمد الطاف قمر نے اپنے حالیہ مضمون میں جن خیالات کا اظہار کیا ہے اس سے ہمیں بھی اتفاق ہے اور یہ ملک کے ہر باشعور شہری کی سوچ ہے۔ مگر اس کے ساتھ اس بات کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے کہ اصولی اور نظریاتی باتوں سے تو کسی بھی مکتب فکر کے لوگوں کو اختلاف نہیں ہوتا، بات ان کے عملی اطلاق اور الگ تعبیر کی ہے کہ جھگڑے اس سے پیدا ہوتے ہیں۔ اور کوئی متوازن قانون یا حکمت عملی نہ ہونے کی وجہ سے یہ جھگڑے اپنی جائز حدود پھلانگ کر پورے معاشرے کے لیے جان لیوا بن جاتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر شیعہ سنی کشیدگی کا خاتمہ ممکن ہے!

۲۳ جنوری ۲۰۱۴ء

عمار خان ناصر اور اس کے ناقدین

ہمارے ہاں بد قسمتی سے یہ مزاج پختہ ہوتا جا رہا ہے کہ رائے کا اختلاف، تحقیق سے پیدا ہونے والا اختلاف اور علمی مسائل میں تحقیق وتجزیہ کا معاملہ ذاتی پسند و ناپسند اور مخالفت و عناد کی صورت اختیار کر جاتا ہے۔ اور ہم جس سے کسی مسئلہ پر اختلاف کرتے ہیں، اسے کسی نہ کسی دشمن کا ایجنٹ اور گماشتہ قرار دیے بغیر خود اپنے موقف کی سچائی پر ہمارا اعتماد قائم نہیں ہوتا۔ تحریک پاکستان میں قیام پاکستان کی حمایت ومخالفت میں دونوں طرف ہمارے بزرگ تھے اور ارباب علم وفضل تھے، مگر اس دور کا لٹریچر ایسے الزامات سے بھرا پڑا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر عمار خان ناصر اور اس کے ناقدین

مئی ۲۰۱۳ء

دینی مدارس میں عصری علوم

دینی مدارس کے نصاب و نظام میں عصری علوم کو شامل کرنے کے حوالہ سے مختلف اصحابِ دانش نے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے اور اس مفید مباحثہ کے نتیجے میں بہت سے نئے پہلو سامنے آرہے ہیں جن پر غور و خوض یقیناً اس بحث کو مثبت طور پر آگے بڑھانے کا باعث ہوگا۔ اس سلسلہ میں جامعہ دارالعلوم کراچی کے ایک طالب علم محمد افضل کاسی آف کوئٹہ کا خط پیش خدمت ہے، راقم الحروف کے نام اس خط میں انہوں نے اس مسئلہ پر ایک طالب علم کے طور پر اپنے جذبات و تاثرات پیش کیے ہیں جو یقیناًقابل توجہ ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دینی مدارس میں عصری علوم

مارچ ۲۰۱۳ء

دورِ حاضر کی اہم دینی ضروریات: ایک بیٹی کا خط

میں آپ کا کالم روزنامہ اسلام میں بہت شوق سے پڑھتی ہوں، اللہ پاک نے آپ کو وسیع الظرفی، حقیقت پسندی، جدید حالات کا فہم، مغربی ذہنیت کا ادراک، قدیم مسائل کو جدید حالات پر منطبق کرنا، بے تکلف قوتِ تحریر، طبعیت میں اکابر والی سادگی، سلف صالحین کے اصل مزاج کو باقی رکھتے ہوئے جدید حالات کے تقاضوں کو پورا کرنے کی لگن، جدید طبقات سے قریبی روابط، مغربی دنیا کو بار بار قریب سے دیکھنے اور سمجھنے کے مواقع، معاصر اہل علم کا اعتماد، تفسیرِ قرآن و علومِ حدیث سے طبعی مناسبت عطا فرمائی ہے۔ اللہم زد فزد ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دورِ حاضر کی اہم دینی ضروریات: ایک بیٹی کا خط

۱۵ مئی ۲۰۱۰ء

جامعہ حفصہ کا سانحہ ۔ کچھ پس پردہ حقائق

ہماری رائے میں افغانستان سے روسی استعمار کے انخلا کے بعد سے ہی پاکستان کے ان ہزاروں نوجوانوں کی فہرستوں کی تیاری اور ان کی درجہ بندی شروع ہو گئی تھی جنھوں نے افغانستان کی جنگ میں حصہ لیا تھا اور ٹریننگ حاصل کی تھی۔ اسی وقت سے یہ حکمت عملی بھی طے کر لی گئی تھی کہ مرحلہ وار مختلف علاقوں میں ان مجاہدین کو کسی نہ کسی طرح اشتعال دلا کر سامنے لایا جائے اور ایسا ماحول پیدا کیا جائے کہ یہ ہتھیار اٹھانے پر مجبور ہو جائیں اور پھر فوجی آپریشن کے ذریعے ان کی قوت کو ختم کر دیا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جامعہ حفصہ کا سانحہ ۔ کچھ پس پردہ حقائق

یکم دسمبر ۲۰۰۷ء

اسلام کی تشکیل نو کی تحریکات اور مارٹن لوتھر ۔ مولانا سید سلیمان ندویؒ کا مکتوب

بہت سے مسلم دانشوروں نے مارٹن لوتھر کی اس تحریک کے پس منظر اور نتائج کی طرف نظر ڈالے بغیر اس کے نقش قدم پر چلنے کو ضروری خیال کرلیا اور اب جب کہ مغرب اس کے تلخ نتائج کی تاب نہ لاتے ہوئے واپسی کے راستے تلاش کر رہا ہے، ہمارے یہ دانشور اب بھی اسی کی پیروی میں اسلام کی تعبیر وتشریح کے روایتی فریم ورک کو توڑدینے کی مسلسل کوششوں میں مصروف ہیں ۔ ۔ ۔ ’’اسلامی تہذیب وثقافت‘‘ کی جلد اول میں اس حوالے سے مولانا سید سلیمان ندویؒ کا ایک مکتوب گرامی ہے جس سے ہماری مذکورہ بالا گزارشات کی تائید ہوتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اسلام کی تشکیل نو کی تحریکات اور مارٹن لوتھر ۔ مولانا سید سلیمان ندویؒ کا مکتوب

مارچ ۲۰۰۷ء

قرب قیامت کی پیش گوئیاں

قرآن کریم یا جناب نبی اکرم ﷺ کی پیش گوئیوں کا اپنے دور کے واقعات پر اطلاق یا انہیں مستقبل کے حوالہ کر کے ان کے وقوع کا انتظار خود حضرات صحابہ کرام کے دور میں بھی مختلف فیہ رہا ہے۔ سورۃ الدخان میں ’’دخان‘‘ اور ’’البطشۃ الکبریٰ‘‘ کی پیش گوئیوں کا حضرت عبد اللہ ابن مسعودؓ اپنے دور کے حالات پر اطلاق کرتے ہیں، جبکہ حضرت عبد اللہ بن عباسؓ انہیں قیامت کی نشانیوں میں شمار کر کے اپنے دور میں ان کے وقوع کی بات قبول نہیں کرتے۔ اس سے اصولاً یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ پیش گوئیوں کے بارے میں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قرب قیامت کی پیش گوئیاں

مارچ ۲۰۰۳ء

مولانا اکرم اعوان کا پرویز مشرف کے نام خط

امریکہ کے صدارتی انتخابات میں جارج ڈبلیو بش اور الگور کی تاریخی کشمکش اور پاکستان کے سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی خاندان سمیت جلاوطنی نے بہت سے موضوعات کو نگاہوں سے وقتی طور پر اوجھل کر دیا تھا، اب کچھ دھند چھٹی ہے تو بعض باتیں یاد آنے لگی ہیں۔ امریکی انتخابات میں تو سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد مسٹر الگور نے اپنی شکست تسلیم کرتے ہوئے جارج ڈبلیو بش کو مبارکباد دے کر بات صاف کر دی ہے مگر میاں نواز شریف کی جلاوطنی کے حوالہ سے الجھنوں میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا اکرم اعوان کا پرویز مشرف کے نام خط

۲۲ دسمبر ۲۰۰۰ء

دینی جماعتوں کے راہنماؤں کے نام ایک اہم خط

محترمی و مکرمی! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مزاج گرامی؟ گزارش ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں قرآن و سنت کی دستوری بالادستی کی جدوجہد، قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دے کر اسلام کے نام پر سرگرمیوں سے روکنے، توہین رسالتؐ پر موت کی سزا اور دیگر نافذ شدہ بعض اسلامی قوانین کے حوالہ سے اس وقت عالمی سطح پر جو کشمکش جاری ہے اس کے بارے میں دو اہم خبریں پیش خدمت ہیں جو تازہ ترین صورتحال کی عکاسی کرتی ہیں۔ آنجناب سے گزارش ہے کہ اس سلسلہ میں رائے عامہ کی راہنمائی فرمائیں اور اسلامی قوانین کے تحفظ کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دینی جماعتوں کے راہنماؤں کے نام ایک اہم خط

۱۶ جون ۱۹۹۹ء

’’صائمہ کیس‘‘ ۔ ہائیکورٹ کے جج صاحبان کی خدمت میں گزارشات

بگرامی خدمت جناب عزت ماب جسٹس احسان الحق چودھری صاحب و عزت ماب جسٹس ملک محمد قیوم صاحب۔ لاہور ہائی کورٹ لاہور۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ۔ مزاج گرامی؟ گزارش ہے کہ آپ کی عدالت میں زیر سماعت ’’صائمہ کیس‘‘ کے بارے میں شرعی نقطۂ نظر سے کچھ ضروری معروضات پیش کر رہا ہوں، قانوناً گنجائش ہو تو انہیں باضابطہ ریکارڈ میں شامل کر لیا جائے اور ضرورت پڑنے پر وضاحت کے لیے عدالت میں حاضری کے لیے بھی تیار ہوں، ورنہ ذاتی معاونت و مشاورت سمجھتے ہوئے ان گزارشات کا سنجیدگی کے ساتھ مطالعہ ضرور فرمایا جائے، بے حد شکریہ۔ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ’’صائمہ کیس‘‘ ۔ ہائیکورٹ کے جج صاحبان کی خدمت میں گزارشات

جنوری ۱۹۹۷ء

قادیانی امت کے سربراہ مرزا طاہر احمد کے نام کھلا خط

جناب مرزا طاہر احمد صاحب ۔ سربراہ قادیانی جماعت۔ مقیم ٹل فورڈ، لندن۔ السلام علیٰ من اتبع الہدٰی۔ گزارش ہے کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اس سال پھر اپنی سالانہ رپورٹ میں پاکستان میں قادیانی جماعت کے مبینہ انسانی حقوق کی پامالی کا ذکر کیا ہے اور متعدد قادیانیوں کے خلاف درج مقدمات کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے حکومتِ پاکستان کو اس کا ملزم ٹھہرایا ہے۔ میں اس خط کے ذریعے اسی اہم مسئلہ پر آپ سے مخاطب ہو رہا ہوں کیونکہ یہ مسئلہ اس وقت نہ صرف مسلمانوں اور قادیانیوں کے مابین تنازعہ اور کشیدگی میں شدت کا باعث بنا ہوا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قادیانی امت کے سربراہ مرزا طاہر احمد کے نام کھلا خط

ستمبر ۱۹۹۵ء

گلگت بلتستان کا مسئلہ ۔ صدرِ پاکستان کے نام ایک عریضہ

بگرامی خدمت جناب سردار فاروق احمد لغاری صاحب، صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، مزاج گرامی؟ گزارش ہے کہ کچھ دنوں سے قومی اخبارات میں وفاقی کابینہ کا ایک فیصلہ زیر بحث ہے جس کے تحت مبینہ طور پر گلگت اور اس سے ملحقہ شمالی علاقہ جات کو مستقل صوبہ کی حیثیت دی جا رہی ہے۔ اس سلسلہ میں چند حقائق کی طرف آپ کو توجہ دلانا چاہتا ہوں۔ شمالی علاقہ جات بین الاقوامی دستاویزات کی رو سے کشمیر کا حصہ ہیں اور اس نقشہ میں شامل ہیں جو پاکستان اور بھارت کے درمیان ۱۹۴۷ء سے متنازعہ چلا آرہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر گلگت بلتستان کا مسئلہ ۔ صدرِ پاکستان کے نام ایک عریضہ

جون ۱۹۹۴ء

صدر پاکستان جناب غلام اسحاق خان کے نام کھلا خط

گزارش ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کا قیام اسلامی معاشرہ کی تشکیل اور قرآن و سنت کے احکام کے عملی نفاذ کے لیے عمل میں لایا گیا تھا اور دستورِ پاکستان میں غیر اسلامی قوانین کے خاتمہ اور اسلامی احکام کی عملداری کا وعدہ کیا گیا ہے۔ لیکن ملک کے معاشی ڈھانچے کو سود کی لعنت سے ابھی تک نجات نہیں دلائی جا سکی جسے قرآن و سنت میں واضح طور پر حرام قرار دیا گیا ہے۔ اسلامی نظریاتی کونسل نے، جو ایک آئینی ادارہ ہے، ۱۹۸۰ء میں سودی نظام کے خاتمہ اور بلاسود بینکاری کے عملی ڈھانچہ پر مشتمل ایک تفصیلی رپورٹ حکومت کو پیش کر دی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر صدر پاکستان جناب غلام اسحاق خان کے نام کھلا خط

۲۰ مارچ ۱۹۹۲ء

وزیراعظم جناب محمد خاں جونیجو کے نام کھلا خط

باسمہ سبحانہ۔ بگرامی خدمت جناب محمد خاں جونیجو صاحب، وزیراعظم حکومت پاکستان اسلام آباد۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مزاج گرامی؟ گزارش ہے کہ قومی اخبارات کی ۱۳ اپریل ۱۹۸۷ء کی اشاعت کے مطابق آنجناب نے اپنے حالیہ دورۂ برطانیہ کے دوران بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے سینٹ آف پاکستان میں علماء کے پیش کردہ شریعت بل کے بارے میں یہ کہا ہے کہ ’’میں شریعت بل کے خلاف ہوں کیونکہ اس سے ایک فرقہ کی بالادستی قائم ہونے کا خطرہ ہے۔‘‘ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر وزیراعظم جناب محمد خاں جونیجو کے نام کھلا خط

۲۴ اپریل ۱۹۸۷ء