مشرق وسطیٰ

مشرق وسطیٰ کی صورتحال ۔ ترکی اور خلیجی تعاون کونسل کی کوشش

اس زمینی حقیقت سے کسی صاحب شعور کے لیے انکار کی گنجائش نہیں ہے کہ جو سنی شیعہ اختلافات موجود ہیں وہ اصولی اور بنیادی ہیں اور صدیوں سے چلے آرہے ہیں، نہ ان سے انکار کیا جا سکتا ہے، نہ دونوں میں سے کوئی فریق دوسرے کو مغلوب کر سکتا ہے، اور نہ ہی ان اختلافات کو ختم کرنا ممکن ہے۔ ان اختلافات کو تسلیم کرتے ہوئے اور ایک دوسرے کے وجود کا اعتراف کرتے ہوئے باہمی معاملات کو ازسرنو طے کرنے کی ضرورت بہرحال موجود ہے جس کے لیے آبادی کے تناسب اور دیگر مسلمہ معروضی حقائق کو سامنے رکھ کر ہی توازن کا صحیح راستہ اختیار کیا جا سکتا ہے ۔ ۔ ۔

۱۸ اکتوبر ۲۰۱۶ء

ترکی اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر ایک اجلاس

ضرورت اس امر کی ہے کہ ایران اور سعودی عرب دونوں سے اس مسئلہ پر بات کی جائے، دونوں کی باہمی شکایات کا جائزہ لیا جائے اور اس تنازعہ کو مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے دونوں کو ایک میز پر لایا جائے۔ ظاہر بات ہے کہ عالمی قوتوں سے اس بات کی توقع نہیں کی جا سکتی اس لیے کہ وہ خود اس آگ کو بھڑکانے میں خاص دلچسپی رکھتی ہیں اور اسی میں وہ اپنا مفاد سمجھتی ہیں۔ اس لیے عالم اسلام کو ہی اس سلسلہ میں کوئی کردار ادا کرنا ہوگا اور اس کے لیے سب سے اہم کردار او آئی سی کا بنتا ہے کہ وہ خاموش تماشائی بنے رہنے کی بجائے اس معاملہ میں متحرک ہو ۔ ۔ ۔

۲۰ جولائی ۲۰۱۶ء

مشرق وسطیٰ میں مسلکی کشمکش

مشرق وسطیٰ کے متعدد ممالک میں مسلمانوں کے مختلف گروہوں کے درمیان سالہا سال سے جاری کشمکش بلکہ خانہ جنگی کے بارے میں جب یہ بات کہی جاتی ہے کہ یہ سنی شیعہ کشمکش نہیں ہے یا اسے سنی شیعہ کشمکش کا عنوان نہیں دینا چاہیے تو دل کی بات یہ ہے کہ خود میرا بھی جی چاہتا ہے کہ یہی بات کہوں اور مسلسل کہتا چلا جاؤں۔ لیکن معروضی حال کو دیکھتا ہوں تو کھلی آنکھوں سے نظر آنے والا منظر اس معصوم سی خواہش کا ساتھ دینے سے انکار کر دیتا ہے ۔ ۔ ۔

۳۱ جولائی ۲۰۱۵ء

مشرق وسطیٰ میں ایران کا کردار

ایرانی وزیر خارجہ محترم جواد ظریف اسلام آباد تشریف لائے اور وزیر اعظم پاکستان کے امور خارجہ کے مشیر جناب سرتاج عزیز سے یمن کے بحران پر گفتگو کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ اس موقع پر ان کی طرف سے کہا گیا ہے کہ ایران امت مسلمہ کی وحدت کا خواہاں ہے اور وہ پاکستان کے ساتھ مل کر یمن کے تنازعہ کے سیاسی حل کے لیے کام کرنا چاہتا ہے۔ اس سے قبل ایران کے صدر محترم جناب حسن روحانی نے ترکی کا دورہ کیا ہے اور ترک حکمرانوں کے ساتھ اسی قسم کے جذبات کا اظہار کر چکے ہیں ۔ ۔ ۔

۱۰ اپریل ۲۰۱۵ء

مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور امریکہ

ہم آج امریکہ کے صدر باراک اوبامہ کے ایک اہم انٹرویو کا تذکرہ کرنا چاہیں گے جو انہوں نے گزشتہ دنوں ’’نیو یارک ٹائمز‘‘ کے صحافی تھامس فریڈمین کو دیا ہے اور مشرق وسطیٰ کی سنی آبادی کے حوالہ سے اپنے موقف اور احساسات کا اظہار فرمایا ہے۔ امریکی صدر محترم کا ارشاد ہے کہ ’’جہاں تک ہمارے سنی عرب اتحادیوں مثلاً سعودی عرب کی حفاظت کا سوال ہے تو میرے خیال میں سعودیوں کو واقعی چند حقیقی بیرونی خطرات کا سامنا ہے لیکن ان کو کئی اندرونی خطرات بھی لاحق ہیں ۔ ۔ ۔

۲۳ اپریل ۲۰۱۵ء

مشرق وسطیٰ میں سنی شیعہ کشمکش

مشرق وسطیٰ میں اس کشیدگی کا واقعاتی تناظر یہ ہے کہ شام میں اس وقت حکومت اور باغیوں کے درمیان جو جنگ جاری ہے وہ زیادہ تر سنی شیعہ کشیدگی کا پس منظر رکھتی ہے۔ کویت میں گزشتہ انتخابات میں سنی شیعہ بنیادوں پر پارلیمنٹ میں جو تناسب سامنے آیا اور پھر حکومتی سطح پر جو اقدامات دکھائی دیے وہ اس کشیدگی کی موجودگی اور کویت کی قومی سیاست میں اس کی اثر خیزی کی غمازی کرتے ہیں۔ عراق کو سنی شیعہ بنیادوں پر مختلف ریاستوں میں تقسیم کر دینے کی تجویزیں بین الاقوامی حلقوں میں آگے بڑھ رہی ہیں ۔ ۔ ۔

نا معلوم

مشرق وسطیٰ کی سیاسی ومذہبی کشمکش

جنرل (ر) غلام جیلانی خان صاحب کو یہ شکایت ہے کہ آج کی نسل کو اپنے ماضی بلکہ ماضی قریب کی بھی خبر نہیں ہے، اور وہ خلافت عثمانیہ کے زوال میں عرب دنیا کے کردار، آل سعود کے سیاسی و تاریخی پس منظر، جنگ عظیم اول کے بعد نئی عرب ریاستوں کے ساتھ برطانیہ و امریکہ کے معاہدات، اور موجودہ عالمی نیٹ ورک میں عرب ریاستوں کی حیثیت و مقام سے بالکل بے خبر ہیں، جس کی وجہ سے ہم نہ صرف یہ کہ معروضی حالات کے اصل تناظر اور زمینی حقائق سے آگاہی حاصل نہیں کر پاتے بلکہ ۔ ۔ ۔

ستمبر ۲۰۱۳ء

امریکی صدر کا مشرق وسطیٰ کا دورہ اور مسئلہ فلسطین

امریکہ اور اس کی قیادت میں مغربی حکمران مشرق وسطیٰ میں صرف ایسا امن چاہتے ہیں جس میں اسرائیل کے ا ب تک کے تمام اقدامات اور اس کے موجودہ کردار کو جائز تسلیم کر لیا جائے اور اس کی بالادستی کے سامنے سر تسلیم خم کرتے ہوئے فلسطینی عوام خود کو اس کے رحم وکرم پرچھوڑدیں۔ اور اسرائیل جوکچھ بھی کرے فلسطینی عوام اس کے خلاف کسی بھی قسم کی مزاحمت سے ہمیشہ کے لیے دست برداری کا اعلان کردیں۔ اگر صدر بش فلسطینیوں کو امن وسلامتی کے اسی نکتے پر لاناچاہتے ہیں تو ایسا ہونا ممکن نہیں ہے ۔ ۔ ۔

فروری ۲۰۰۸ء