مذاہبِ عالم

دور حاضر کا ایک اہم علمی و فکری چیلنج

۱۹۸۸ء کے لگ بھگ کی بات ہے امریکی ریاست جارجیا کے ایک شہر اگستا میں گکھڑ سے تعلق رکھنے والے اپنے ایک پرانے دوست افتخار رانا کے ہاں کچھ دنوں کے لیے ٹھہرا ہوا تھا۔ میں نے رانا صاحب سے کہا کہ کسی سمجھدار سے مسیحی مذہبی راہنما سے ملاقات و گفتگو کو جی چاہتا ہے، انہوں نے جارجیا کے صدر مقام اٹلانٹا کے ایک پادری صاحب سے، جو بیپٹسٹ فرقہ کے اس علاقہ کے چیف تھے، بات کر کے وقت لے لیا اور ملاقات کا اہتمام کیا، جبکہ رانا صاحب خود بطور ترجمان گفتگو میں شریک رہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دور حاضر کا ایک اہم علمی و فکری چیلنج

۲۹ جولائی ۲۰۱۹ء

موجودہ دور میں مسلمانوں اور غیر مسلموں کے باہمی تعلقات کار کی نوعیت

آج ہماری گفتگو کا عنوان ہے کہ ایک مسلمان ریاست میں غیر مسلموں کے کیا حقوق و مسائل ہیں اور کسی غیر مسلم ریاست میں رہنے والے مسلمانوں کے معاملات کی نوعیت کیا ہے؟ ہمارے ہاں جب پاکستان، بنگلہ دیش، بھارت اور برما سمیت یہ خطہ، جو برصغیر کہلاتا ہے، متحد تھا اور مسلمانوں کی حکمرانی تھی تو اس کی شرعی حیثیت کے بارے میں فقہی بحث و مباحثہ اس قسم کے عنوانات سے ہوتا تھا کہ یہاں رہنے والے ذمی ہیں یا معاہد ہیں، اور یہاں کی زمینیں عشری ہیں یا خراجی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر موجودہ دور میں مسلمانوں اور غیر مسلموں کے باہمی تعلقات کار کی نوعیت

۳۰ جنوری ۲۰۱۸ء

مذاہب اور ان کے عبادت خانے

سینٹ آف پاکستان کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور کے چیئرمین سینیٹر حافظ حمد اللہ نے گزشتہ روز سینیٹر پروفیسر ساجد میر، سینیٹر ایم حمزہ اور دیگر سینیٹرز کے ایک وفد کے ہمراہ ننکانہ صاحب میں سکھوں کے گوردوارے کا دورہ کیا اور سکھ راہنماؤں کے ساتھ باہمی دلچسپی کے مختلف معاملات پر تبادلۂ خیالات کیا۔ سینٹ کی مذہبی امور کی قائمہ کمیٹی کی تو دستوری ذمہ داری ہے کہ وہ ملک میں رہنے والے تمام غیر مسلموں کے معاملات کی دیکھ بھال کرے، ان سے رابطہ رکھے اور متعلقہ امور میں ان سے مشاورت کا اہتمام کرے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مذاہب اور ان کے عبادت خانے

۱۸ نومبر ۲۰۱۷ء

شیخ الازھر اور پاپائے روم کی ملاقات

الشیخ احمد الطیب عالم اسلام کی محترم علمی شخصیت ہیں جبکہ پوپ فرانسس کیتھولک مسیحی دنیا کے سب سے بڑے مذہبی پیشوا ہیں، اس لیے ان کی باہمی ملاقات جو خبر کے مطابق تاریخ میں پہلی بار ہوئی ہے یقیناًبہت اہمیت کی حامل ہے جس کے دور رس اثرات ہوں گے۔ اور اگر ان کے اتفاق رائے کے مطابق بین المذاہب ہم آہنگی کے لیے عالمی کانفرنس انعقاد پذیر ہوئی تو وہ مذاہب کی تاریخ میں ایک اہم واقعہ ثابت ہوگی۔ بین المذاہب ہم آہنگی کے لیے ایک عرصہ سے بین الاقوامی حلقوں میں کام ہو رہا ہے اور مختلف سطحوں پر اس حوالہ سے کانفرنسوں کے انعقاد کا سلسلہ جاری ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر شیخ الازھر اور پاپائے روم کی ملاقات

جون ۲۰۱۶ء

شیخ الازہر اور پاپائے روم کی ملاقات

روزنامہ انصاف لاہور ۲۵ مئی ۲۰۱۶ء کی ایک خبر کے مطابق جامعۃ الأزہر کے سربراہ الشیخ احمد الطیب نے گزشتہ روز ویٹی کن سٹی میں پاپائے روم پوپ فرانسِس سے ملاقات کی ہے اور دونوں راہنماؤں نے بین المذاہب ہم آہنگی کے لیے عالمی کانفرنس کے انعقاد پر اتفاق کیا ہے۔ الشیخ احمد الطیب عالم اسلام کی محترم علمی شخصیت ہیں جبکہ پوپ فرانسِس کیتھولک مسیحی دنیا کے سب سے بڑے مذہبی پیشوا ہیں، اس لیے ان کی باہمی ملاقات جو خبر کے مطابق تاریخ میں پہلی بار ہوئی ہے یقیناً بہت اہمیت کی حامل ہے جس کے دور رس اثرات ہوں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر شیخ الازہر اور پاپائے روم کی ملاقات

جون ۲۰۱۶ء

سزائے موت کا قانون اور پاپائے روم

روزنامہ جنگ کراچی ۲۲ فروری ۲۰۱۶ء میں شائع ہونے والی ایک خبر ملاحظہ فرمائیے: ’’کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ فرانسس نے کہا ہے کہ موت کی سزا ختم کر دینی چاہیے، تمام حکومتوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ مشترکہ رائے سے موت کی سزا کو ختم کر دیں، کیونکہ اس طرح حکومتیں کسی انسان کی ہلاکت کی مرتکب نہیں ہوں گی۔ ویٹی کن سٹی میں سینٹ پیٹرز اسکوائر میں پوپ نے ہزاروں عقیدت مندوں سے خطاب کرتے ہوئے پوری دنیا بھر کے مسیحیوں کو تلقین کی ہے کہ وہ موت کی سزا کے خاتمہ کے لیے اپنی کوشش شروع کر دیں۔‘‘ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سزائے موت کا قانون اور پاپائے روم

مارچ ۲۰۱۶ء

مسیحی دنیا میں قدیم و جدید کی کشمکش

روزنامہ نوائے وقت لاہور ۲۰ اکتوبر ۲۰۱۴ء کی ایک خبر ملاحظہ فرمائیں: ’’ویٹیکن سٹی (اے پی اے) دو ہفتوں تک جاری رہنے والا کیتھولک مسیحیوں کے سینئر مذہبی اکابرین کا خصوصی اجلاس طلاق اور ہم جنس پرستی کے حق میں فیصلہ نہیں دے پایا، اس صورتحال کو پوپ فرانسِس کے لیے دھچکا قرار دیا گیا ہے۔ ویٹیکن سٹی میں دو ہفتوں تک جاری رہنے والی کیتھولک مشائخ سالانہ کانفرنس (SYNOD) کسی بڑے فیصلے کے بغیر ہی ختم ہو گئی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مسیحی دنیا میں قدیم و جدید کی کشمکش

نومبر ۲۰۱۴ء

ہم جنس پرستی اور انجیل مقدس

روزنامہ پاکستان لاہور میں ۲۱ جنوری کو شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق برطانیہ کی انڈیپنڈس پارٹی کے ایک کونسلر ڈیوڈ سلوسٹر نے کہا ہے کہ برطانیہ میں حالیہ طوفانی سیلاب ہم جنس پرستوں کی شادیوں کے باعث خدائی عذاب کی علامت ہیں، اور وزیر اعظم نے ہم جنس پرستوں کی شادیوں کو قانونی قرار دے کر انجیل مقدس کے فرمان کی خلاف ورزی کی ہے اس لیے حالیہ طوفان اور سیلاب آئے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ہم جنس پرستی اور انجیل مقدس

فروری ۲۰۱۴ء

پاپائے روم اور روایتی مسیحی تعلیمات

سہ روزہ ’’دعوت‘‘ نئی دہلی میں ۴ دسمبر ۲۰۱۲ء کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کیتھولک فرقہ کے موجودہ سربراہ پاپائے روم پوپ بینیڈکٹ نے ۲۰۱۲ء کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت کے حساب سے درست ماننے سے انکار کر دیا ہے اور اپنی تازہ تصنیف میں، جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی سوانح عمری پر مشتمل ہے اور اس کے دس لاکھ نسخے شائع کیے گئے ہیں، کہا ہے کہ رواں سال کو ۲۰۱۲ء کہنا درست نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر پاپائے روم اور روایتی مسیحی تعلیمات

یکم جنوری ۲۰۱۳ء

سیدنا حضرت عیسٰی علیہ السلام اور عیسائی مصنف

روزنامہ ’’اردو نیوز‘‘ جدہ میں شائع ہونے والی ایک خبر ملاحظہ فرمائیے: ’’امریکی ریاست ایوا کی لوتھر یونیورسٹی میں مذاہب اور عقائد کے شعبہ کے سربراہ عیسائی اسکالر ڈاکٹر روبرٹ شیڈنگر نے ایک کتاب تصنیف کر کے امریکی عیسائیوں کو برہم کر دیا ہے۔ کتاب کا عنوان ہے ’’ کیا حضرت عیسٰیؑ مسلمان تھے؟ ‘‘ امریکی اسکالر آسمانی کتابوں کے مسلسل مطالعہ اور دنیا بھر کے علمائے دینیات کی آرا جمع کر کے اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ حضرت عیسٰیؑ صحیح معنوں میں ’’مسلم‘‘ تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سیدنا حضرت عیسٰی علیہ السلام اور عیسائی مصنف

ستمبر ۲۰۱۲ء

کرسمس تقریبات میں مسلمانوں کی شرکت کا مسئلہ

کچھ عرصہ سے کرسمس کی تقریبات میں مسلم راہنماؤں کی شرکت بھی نظر آ رہی ہے جسے مسیحی حضرات کے ساتھ دوستی اور رواداری کے رنگ میں دیکھا جاتا ہے اور خاص طور پر پاکستان میں اسے مسیحی اقلیت کی خوشی میں شرکت سمجھ کر اسے سراہا بھی جاتا ہے۔ لیکن جوں جوں اس کا دائرہ وسیع ہو رہا ہے مذہبی حلقوں میں یہ بات اسی طرح محسوس بھی کی جانے لگی ہے اور مسیحیوں کے مذہبی تہوار میں سرکردہ مسلم راہنماؤں کی اس طرز اور اس درجے کی شرکت پر مذہبی حلقوں کا اعتراض نمایاں طور پر سامنے آرہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر کرسمس تقریبات میں مسلمانوں کی شرکت کا مسئلہ

۲۸ دسمبر ۲۰۱۱ء

مکالمہ بین المذاہب اور اس کے راہنما اصول

جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب وحی کے نزول کے بعد اعلان نبوت کیا اور لوگوں کو توحید اور قرآن کریم کی طرف دعوت دی تو مشرکین کے ردعمل کا پہلا دور یہ تھا کہ انہوں نے طعنہ زنی، الزامات اور افتراءات کے ذریعے اس دعوت کا راستہ روکنے کی کوشش کی۔ جادوگر، مجنوں، کاہن، شاعر اور طرح طرح کے الزامات اور طعنوں کے ذریعے آنحضرتؐ کو خوفزدہ اور ناکام کرنے کی مہم چلائی گئی۔ مگر اس میں کامیابی نہ ہوئی تو پھر نبی کریمؐ اور آپ کے ساتھیوں کو اذیتیں دینے کا سلسلہ شروع کر دیا جو کم وبیش ایک عشرے تک چلتا رہا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مکالمہ بین المذاہب اور اس کے راہنما اصول

۲۲ اگست ۲۰۱۱ء

پاپائے روم کا بے جا غصہ و اضطراب

پاپائے روم پوپ بینی ڈکٹ نے ایک بار پھر پاکستان میں توہین رسالتؐ پر موت کی سزا کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے، انہوں نے کہا ہے کہ ’’اس قانون کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے اور مسیحی اقلیت اس کا نشانہ بن رہی ہے۔‘‘ جہاں تک قانون کے غلط طور پر استعمال ہونے کا تعلق ہے ہم اپنے مختلف مضامین میں یہ بات عرض کر چکے ہیں کہ یہ محض بہانہ ہے، اس لیے کہ ہمارے معاشرے میں قانون کے غلط استعمال کا تعلق صرف اس قانون سے نہیں ہے بلکہ دوسرے بہت سے قوانین کا بھی غلط استعمال ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر پاپائے روم کا بے جا غصہ و اضطراب

فروری ۲۰۱۱ء

بائبل کی پکار ۔ من چہ گویم و طنبورہ من چہ سراید

پاپائے روم پوپ بینی ڈکٹ نے ایک بار پھر حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ توہینِ رسالت کے قانون کو ختم کر دیا جائے کیونکہ یہ ان کے بقول اقلیتوں کے خلاف استعمال ہو رہا ہے اور بطور خاص مسیحی اقلیت اس کا نشانہ بن رہی ہے۔ ہم اس کالم میں یہ بات عرض کر چکے ہیں کہ اول تو اس قانون کے غلط استعمال کی بات اس حوالہ سے محل نظر ہے کہ غلط استعمال کی بات صرف اس قانون کے حوالہ سے کیوں کی جا رہی ہے؟ ملک میں دیگر بہت سے قوانین کا بھی تو غلط استعمال ہو رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر بائبل کی پکار ۔ من چہ گویم و طنبورہ من چہ سراید

۲۱ جنوری ۲۰۱۱ء

توہینِ رسالت کی سزا اور بائبل

بشپ چرچ آف پاکستان جناب ڈاکٹر اعجاز عنایت کے متوازن اور حقیقت پسندانہ خیالات اس حوالے سے حوصلہ افزا ہیں کہ انہوں نے معروضی صورتحال کا بہتر تجزیہ کیا ہے اور اس سازش کو بروقت بھانپ لیا ہے جو پاکستان میں مسلم اکثریت اور مسیحی اقلیت کے درمیان غلط فہمیوں کو فروغ دینے اور اس کے ذریعے لادینیت کے سیکولر ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے مفاد پرست عناصر کی طرف سے مسلسل جاری ہے۔ لیکن کیا پاپائے روم عالمی استعمار کی بولی بولنے کی بجائے بائبل اور پاکستانی مسیحی رہنماؤں کی پکار پر توجہ دینے کے لیے تیار ہوں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر توہینِ رسالت کی سزا اور بائبل

۱۹ جنوری ۲۰۱۱ء

سوسائٹی میں مذہبی اقدار کی واپسی اور پاپائے روم

روزنامہ پاکستان لاہور ۹ نومبر ۲۰۱۰ء کی خبر کے مطابق پاپائے روم پوپ بینی ڈکٹ نے اسپین کی حکومت کی طرف سے ہم جنس پرستوں کو شادی کی قانونی اجازت دینے پر شدید تنقید کی ہے اور روایتی خاندانی نظام کی حمایت کرتے ہوئے اسپین کی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ہم جنس پرستوں کو باہمی شادی کی قانونی اجازت دینے کے قوانین پر نظر ثانی کرے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سوسائٹی میں مذہبی اقدار کی واپسی اور پاپائے روم

دسمبر ۲۰۱۰ء

مذہب کے بارے میں مختلف نقطہ ہائے نظر

مطالعۂ مذاہب کے حوالہ سے گفتگو کرتے ہوئے ہمیں سب سے پہلے اس بات کو دیکھنا ہے کہ ہم جس ماحول اور تناظر میں بات کر رہے ہیں اس میں مذہب اور دین کے بارے میں کیا سمجھا جا رہا ہے اور اس کے حوالہ سے لوگوں کے نظریات و افکار کیا ہیں؟ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ فرماتے ہیں کہ قرآن کریم کا اولین خطاب چونکہ عرب سوسائٹی سے تھا اور ان مذاہب و ادیان کے ساتھ ان کا مکالمہ تھا جس سے اسے سابقہ درپیش تھا اس لیے قرآن کریم نے عام طور پر یہود و نصاریٰ، مشرکین اور صابئین وغیرہ کو سامنے رکھ کر عقائد میں مجادلہ کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مذہب کے بارے میں مختلف نقطہ ہائے نظر

۱۴ اپریل ۲۰۱۰ء

بین المذاہب مکالمہ کی ضرورت / مسلم مسیحی کشمکش کا نقطۂ آغاز

انٹرفیتھ ڈائیلاگ یعنی بین المذاہب مکالمہ اس وقت کے اہم عالمی موضوعات میں سے ہے جس پر دنیا کے مختلف اداروں اور فورموں میں بحث و تمحیص کا سلسلہ جاری ہے۔ اگرچہ ہر جگہ اس کے مقاصد مختلف ہیں لیکن مذاہب کے مابین مشترکات تلاش کرنے اور مذہب کے معاشرتی کردار کی حدود طے کرنے کا معاملہ کسی حد تک قدرِ مشترک کی حیثیت رکھتا ہے اور ہر سطح پر اربابِ فکر و دانش اس سلسلہ میں اظہارِ خیال کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر بین المذاہب مکالمہ کی ضرورت / مسلم مسیحی کشمکش کا نقطۂ آغاز

۹ اپریل ۲۰۱۰ء

حضرت ابراہیمؑ اور مذاہب عالم

حضرت ابراہیمؑ کا بنیادی پیغام توحید ہی ہے لیکن ان کا یہ امتیاز بھی ہے کہ ان کی توحید صرف فکری اور قولی نہیں بلکہ عملی اور فعلی بھی تھی۔ اس لیے کہ انہوں نے بت پرستی کو نہ صرف مسترد کیا بلکہ کھلم کھلا پوری قوم کو بت پرستی ترک کر کے ایک اللہ کی بندگی کرنے کی تلقین کی اور بت پرستی کے خلاف عملی کاروائی بھی کی۔ اور جہاں حضرت ابراہیمؑ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ تمام آسمانی مذاہب ان کی طرف اپنی نسبت کرنے پر فخر کرتے ہیں وہاں یہ بھی ایک تاریخی حقیقت ہے کہ حضرت ابراہیمؑ کی ذات گرامی اور شخصیت کو اسلام کا راستہ روکنے کے لیے بطور شیلٹر بھی استعمال کیا گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت ابراہیمؑ اور مذاہب عالم

۷ دسمبر ۲۰۰۸ء

اقوام متحدہ میں ’’بین المذاہب کانفرنس ‘‘

گزشتہ دنوں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ’’بین المذاہب کانفرنس‘‘ منعقد ہوئی جو دو روز جاری رہی اور اس میں کم و بیش ۷۰ ممالک کے سربراہوں، وزرائے خارجہ، سفیروں اور دیگر حکام نے شرکت کی جن میں امریکی صدر جارج ڈبلیو بش، پاکستانی صدر آصف علی زرداری، برطانوی وزیر اعظم گورڈن براؤن، اسرائیلی صدر شمعون پیریز، افغان صدر حامد کرزئی، اردن کے شاہ عبد اللہ اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بین کی مون بطور خاص قابل ذکر ہیں۔ یہ کانفرنس سعودی عرب کے فرمانروا شاہ عبد اللہ کی تحریک پر ہوئی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اقوام متحدہ میں ’’بین المذاہب کانفرنس ‘‘

دسمبر ۲۰۰۸ء

اللہ تعالیٰ کا نام اور مسیحی ادارے

سہ روزہ ’’دعوت‘‘ نئی دہلی نے ۱۰ جنوری ۲۰۰۸ ء کی اشاعت میں ایک دلچسپ رپورٹ شائع کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ ملائیشیا کی مسیحی آبادی گاڈ (God) کے لیے انگریزی میں تو گاڈ کا لفظ استعمال کرتی ہے لیکن مقامی زبان میں لفظ ’’اللہ‘‘ استعمال کرتی ہے حتٰی کہ کیتھولک مسیحیوں کا ہفت روزہ ’’دی ہیرالڈ‘‘ بھی مقامی زبان کے ایڈیشن میں یہی کرتا ہے۔گزشتہ دنوں ملائیشیا کی حکومت نے لفظ ’’اللہ‘‘ کے استعمال پر اس خیال سے پا بندی لگا دی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اللہ تعالیٰ کا نام اور مسیحی ادارے

فروری ۲۰۰۸ء

شیطان کی پیش قدمی او ر پا پائے روم

روزنامہ ایکسپریس کے کالم نگار جناب عبد اللہ طارق نے ۷ جنوری ۲۰۰۸ کو شائع ہو نے والے اپنے کالم ’’وغیرہ وغیرہ‘‘ میں بتایا ہے کہ رومن کیتھولک چرچ نے شیطان کی پیش قدمی کا مقابلہ کرنے کا اعلان کیا ہے اور اس مقصد کے لیے حکمت عملی وضع کی جاری ہے جس کے تحت سینکڑوں روحانی عامل (Exorcists) ٹرینڈ کیے جائیں گے۔منصوبے کے تحت چرچ کا ہر بشپ اپنے ڈایومسسز میں پادریوں کا ایک گروہ ترتیب دے گا اور ان سب کو ایگزارسزم کی خصوصی مہارت دلوائی جائے گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر شیطان کی پیش قدمی او ر پا پائے روم

فروری ۲۰۰۸ء

سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر کی مذہبی سرگرمیاں / لاہور میں ایک چرچ کا انہدام

عید الاضحیٰ اور کرسمس دونوں گزر گئی ہیں، مسلمان اور مسیحی دنیا بھر میں اپنی اپنی عید سے فارغ ہو کر معمول کی مصروفیات میں مگن ہو گئے ہیں البتہ پاکستان کے مسلمانوں کو عید الاضحیٰ پر جانوروں کی قربانی کے بعد ایک بہت بڑی انسانی قربانی کا سامنا بھی کرنا پڑ گیا ہے جو محترمہ بے نظیر بھٹو اور ان کے جاں نثاروں کی المناک موت کی صورت میں پوری قوم کو سوگوار کر گئی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر کی مذہبی سرگرمیاں / لاہور میں ایک چرچ کا انہدام

۳۱ دسمبر ۲۰۰۷ء

سیدنا حضرت عیسٰی علیہ السلام اور قرآنی تعلیمات

جدہ سے شائع ہونے والے روزنامہ اردو نیوز نے ۲۰ اگست ۲۰۰۷ء کی اشاعت میں خبر دی ہے کہ برطانیہ کا ایک ٹی وی چینل آئی ٹی وی سیدنا حضرت عیسٰی علیہ السلام کے بارے میں ایک خصوصی پروگرام پیش کرنے کا پروگرام بنا رہا ہے جس میں حضرت عیسٰیؑ کو قرآن کریم کی نظر سے دکھانے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس دستاویزی فلم کی بنیادی بات یہ ہے کہ حضرت عیسٰیؑ نہ تو مسیحا تھا اور نہ ہی انہیں مصلوب کیا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سیدنا حضرت عیسٰی علیہ السلام اور قرآنی تعلیمات

اکتوبر ۲۰۰۷ء

بین المذاہب مکالمہ اور دینی مراکز کی ذمہ داری

روزنامہ جنگ لندن ۱۰ مئی ۲۰۰۷ء کی ایک خبر کے مطابق برطانیہ کے وزیر اعظم جناب ٹونی بلیئر ۲۷ جون ۲۰۰۷ء کو وزارت عظمیٰ سے سبکدوش ہونے کے بعد ’’بین المذاہب مکالمہ‘‘ کو فروغ دینے کے لیے لندن میں ایک فاؤنڈیشن قائم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جس کے لیے ابتدائی تیاریاں شروع ہوگئی ہیں۔ خبر میں بتایا گیا ہے کہ مسٹر ٹونی بلیئر کے خیال میں عالمی سطح پر کوئی ادارہ سنجیدگی کے ساتھ مکالمہ بین المذاہب یا انٹر فیتھ ڈائیلاگ کے لیے کام نہیں کر رہا اس لیے انہوں نے یہ پروگرام ترتیب دینے کا ارادہ کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر بین المذاہب مکالمہ اور دینی مراکز کی ذمہ داری

جون ۲۰۰۷ء

بائبل اور ہم جنس پرستی

روزنامہ جنگ لاہور ۳۰ مئی ۲۰۰۶ء کی ایک خبر کے مطابق آکسفورڈ (برطانیہ) کے بشپ رچڑد نے دعویٰ کیا ہے کہ بائبل ہم جنس تعلقات کی (نعوذ باللہ) حمایت کرتی ہے، انہوں نے سنڈے ٹیلیگراف سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بائبل کے عقیدے کے مطابق ہم جنس پرستی پر کوئی ممانعت نہیں ہے، انہوں نے کہا ضرورت اس بات کی ہے کہ اس معاملے کو نئے زاویے سے دیکھا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر بائبل اور ہم جنس پرستی

جولائی ۲۰۰۶ء

’’یوم بشارت‘‘ اور پاکستان میں عیسائی مشنریوں کی سرگرمیاں

مسیحی برادری ۲۳ اکتوبر کو دنیا بھر میں ’’یوم بشارت‘‘ منا رہی ہے جس کا مقصد نسل انسانی کو مسیحیت قبول کرنے کی دعوت کے مشن کے ساتھ وابستگی کو تازہ کرنا اور مشنری تحریک کو اجاگر کرنا ہے۔ لاہور سے شائع ہونے والے مسیحی جریدہ پندرہ روزہ ’’کاتھولک نقیب‘‘ کے ماہِ رواں کے دوسرے شمارے میں بتایا گیا ہے کہ ہر سال کلیسا اکتوبر کا مہینہ مشنری کاموں کو سراہنے اور مشنری تحریکوں کو اجاگر کرنے کے لیے وقف کرتی ہے۔ اسی روایت کے پیش نظر اس سال ۷۹ واں عالمی یوم بشارت ۲۳ اکتوبر کو دنیا بھر میں بڑے جوش و خروش کے ساتھ منایا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ’’یوم بشارت‘‘ اور پاکستان میں عیسائی مشنریوں کی سرگرمیاں

۲۳ اکتوبر ۲۰۰۵ء

آسمانی مذاہب کے درمیان مکالمہ کے لیے قرآنی اصول

مجھے توحید کی اہمیت اور اس پر ہمارے ایمان و عقیدہ کی بنیاد کے حوالہ سے کچھ عرض کرنے کے لیے کہا گیا ہے اور میری اس کمزوری اور مجبوری سے آپ حضرات واقف ہیں کہ کسی بھی موضوع پر بات کرنے سے پہلے معروضی حالات اور عالمی تناظر کو ضرور دیکھتا ہوں اور اسے سامنے رکھتے ہوئے گفتگو کی کوشش کرتا ہوں۔ آج کی دنیا میں مذاہب و ادیان کے درمیان مکالمہ اور ڈائیلاگ کی بات چل رہی ہے اور مختلف مذاہب کے دینی راہنماؤں کی مشترکہ کانفرنسیں ہو رہی ہیں، ابھی اسلام آباد میں ایک کانفرنس ہوئی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر آسمانی مذاہب کے درمیان مکالمہ کے لیے قرآنی اصول

نومبر ۲۰۰۴ء

حضرت عیسٰیؑ کی تصلیب اور موجودہ مسیحی مذہبی قیادت کا مخمصہ

اسرائیل کی حمایت میں اس وقت یہودی اور مسیحی امتوں میں اتحاد ہے اور اسرائیلی ریاست کو تحفظ فراہم کرنے میں مغرب کی مسیحی حکومتیں یہودیوں سے بھی دو ہاتھ آگے دکھائی دے رہی ہیں۔ حالانکہ گزشتہ دو ہزار برس میں یہودیوں اور مسیحیوں کے مابین کھلی عداوت رہی ہے اور مسیحی حکومتوں کے ہاتھوں یہودیوں کا مسلسل قتل عام ہوتا رہا ہے۔ یہودیوں کے نزدیک حضرت عیسٰی علیہ السلام نہ صرف یہ کہ نبی نہیں ہیں بلکہ بغیر باپ کے جنم لینے کی وجہ سے حضرت عیسیٰ اور ان کی والدہ حضرت مریم علیہما السلام دونوں نعوذ باللہ شرمناک الزام کا ہدف چلے آرہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت عیسٰیؑ کی تصلیب اور موجودہ مسیحی مذہبی قیادت کا مخمصہ

۱۱ جون ۲۰۰۴ء

پوپ جان پال کی اپیل

روزنامہ جنگ ۳ مئی ۲۰۰۴ء کی خبر کے مطابق کیتھولک مسیحی فرقہ کے عالمی سربراہ پوپ جان پال نے یورپی یونین سے کہا ہے کہ وہ اپنی مسیحی جڑیں دوبارہ دریافت کرے، پوپ نے یہ بات یورپی یونین میں دس نئے ملکوں کی شمولیت کے موقع پر کہی ہے، اس سے پہلے وہ اصرار کر چکے ہیں کہ یورپی یونین میں عیسائی مذہب کو شامل کیا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر پوپ جان پال کی اپیل

جون ۲۰۰۴ء

’’نئی امریکی بائبل‘‘ اور مسیحی عقائد

گوجرانوالہ سے شائع ہونے والے مسیحی جریدہ ماہنامہ کلام حق کو چرچ آف پاکستان اور پریسٹیرین چرچ آف پاکستان سے شکایت ہے کہ انہوں نے بائبل کا جو انگریزی متن شائع کیا ہے اس میں بہت سی آیات حذف کر دی گئی ہیں۔ یہ شکایت ماہنامہ کلام حق نے فروری ۲۰۰۴ء کے شمارے میں کی ہے اور بتایا ہے کہ چرچ آف پاکستان کی انگریزی بائبل میں چالیس کے لگ بھگ آیات میں ردوبدل کیا گیا ہے، ان میں بعض آیات بالکل حذف کر دی گئی ہیں اور بعض آیات کے اہم جملے نکال دیے گئے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ’’نئی امریکی بائبل‘‘ اور مسیحی عقائد

۱۶ مارچ ۲۰۰۴ء

جارج واشنگٹن اور جارج ڈبلیو بش کے مذہبی رجحانات

امریکی دستور کی پہلی ترمیم میں مذہب کے ریاستی کردار کو مکمل طور پر مسترد کر دیا گیا تھا اور اسی حوالے سے کانگریس کے بعض ارکان صدر بش کی طرف سے مسیحی مشنریوں کے لیے دی جانے والی مالی مراعات کی مخالفت کر رہے ہیں۔ لیکن دوسری طرف یہ تاریخی حقیقت امریکی کانگریس کا منہ چڑا رہی ہے کہ امریکہ کے صدر نے یہ کہہ کرشراب کو ترک نہیں کیا کہ امریکی کانگریس نے ایک موقع پر شراب پر پابندی عائد کر دی تھی بلکہ انہوں نے کہا کہ مذہبی رجحانات کی وجہ سے ان کے دل کی کیفیت بدلی ہے اور انہوں نے شراب نوشی ترک کر دی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جارج واشنگٹن اور جارج ڈبلیو بش کے مذہبی رجحانات

۲۵ جنوری ۲۰۰۴ء

تنزانیہ کے حکمران خاندان کا قبولِ اسلام

مالیر کوٹلہ (بھارت) سے مولانا مفتی فضیل الرحمان ہلال عثمانی کی زیر ادارت شائع ہونے والے دینی جریدہ ماہنامہ دارالسلام نے مئی 2000ء کے شمارہ میں افریقہ کے مسلم اکثریت رکھنے والے ملک تنزانیہ کے سابق صدر جولیس نریرے اور ان کے خاندان کے قبول اسلام کے واقعہ اور اس کے پس منظر پر جناب منظور الحق آف کامٹی کی رپورٹ شائع کی ہے جو انہی کے الفاظ میں قارئین کی خدمت میں پیش کی جا رہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر تنزانیہ کے حکمران خاندان کا قبولِ اسلام

۱۵ جون ۲۰۰۰ء

کرسمس کے موقع پر مسیحی دنیا کے نام ایک پیغام

۲۵ دسمبر کا دن پوری دنیا میں مسیحی امت حضرت عیسٰی علیہ السلام کی ولادت باسعادت کے دن کے طور پر ’’کرسمس‘‘ کے نام سے مناتی ہے۔ اسی مناسبت سے سال بھر کے سب سے چھوٹے دنوں میں سے ہونے کے باوجود اسے ’’بڑا دن‘‘ کہا جاتا ہے اور اسے مسیحی دنیا کی عالمی عید اور قومی تہوار کی حیثیت حاصل ہے۔ معروف مسیحی مصنف ایف ایس خیر اللہ اپنی کتاب ’’قاموس الکتاب‘‘ میں لکھتے ہیں کہ ’’کرسمس یوم ولادت مسیح کے سلسلے میں منایا جاتا ہے، چونکہ مسیحیوں کے لیے یہ ایک اہم اور مقدس دن ہے اس لیے اسے بڑا دن کہا جاتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر کرسمس کے موقع پر مسیحی دنیا کے نام ایک پیغام

۲۵ دسمبر ۱۹۹۹ء

حضرت عیسٰیؑ کی شان میں گستاخی اور عالمی کلیسا

گوجرانوالہ سے شائع ہونے والے مسیحی جریدہ ماہنامہ کلام حق نے نومبر ۱۹۹۹ء کی اشاعت میں عالمی مسیحی کلیسا کے اس طرز عمل پر افسوس کا اظہار کیا ہے کہ اس نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شان میں ایک بدبخت مسیحی کی طرف سے کی جانے والی بدترین گستاخی پر بے حسی کا مظاہرہ کیا ہے۔ اس سلسلہ میں ماہنامہ کلام حق کے مدیر محترم میجر ٹی ناصر نے لکھا ہے کہ ’’گزشتہ دنوں انگلستان کا ایک بدبخت ملحد نام نہاد مسیحی خداوند یسوع مسیح کی شان میں بدترین گستاخی کا مرتکب ہوا، عالمگیر کلیسا نے اس بے ادبی پر اپنے منافق لب سی لیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت عیسٰیؑ کی شان میں گستاخی اور عالمی کلیسا

۱۵ دسمبر ۱۹۹۹ء

چرچ آف انگلینڈ اور دوسری شادی کا حق

مسیحی حلقوں میں طلاق اور اس کے بعد شادی کا تصور ابھی تک مذہبی تعلیمات کے منافی سمجھا جا رہا ہے جس کی اس دور میں سب سے بڑی مثال برطانوی ولی عہد شہزادہ چارلس ہیں۔ چونکہ ان کے اور لیڈی ڈیانا کے درمیان تفریق طلاق کی وجہ سے ہوئی تھی اس لیے دوبارہ شادی کا معاملہ شہزادہ موصوف کے لیے الجھن کا باعث بنا ہوا ہے اور صحافتی حلقوں کی طرف سے اس تاثر کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ اگر شہزادہ چارلس نے دوسری شادی کی تو انہیں چرچ کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑے گا اور یہ مخالفت ان کے تخت و تاج کے استحقاق کے لیے خطرہ بن سکتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر چرچ آف انگلینڈ اور دوسری شادی کا حق

۲۸ ستمبر ۱۹۹۹ء

یہ عقیدہ کا مسئلہ ہے، احتیاط کیجئے!

مؤقر روزنامہ نوائے وقت نے ۱۳ اپریل کی اشاعت میں اسرائیل کی ’’مسلم آزاری اور امریکہ‘‘ کے عنوان کے تحت اداریہ کا اختتام ان جملوں پر کیا ہے: ’’امریکی قیادت کو احساس کرنا چاہیے کہ وہ اس قوم کے لیے دنیا بھر کی نفرت کیوں کما رہی ہے جس نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو سولی چڑھانے سے دریغ نہیں کیا تھا۔ امریکہ کی عیسائی آبادی اور اس کی نمائندہ قیادت یہودیوں سے کس خیر کی توقع کر رہی ہے؟‘‘ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر یہ عقیدہ کا مسئلہ ہے، احتیاط کیجئے!

۲۳ اپریل ۱۹۸۲ء