مذاہبِ عالم

موجودہ دور میں مسلمانوں اور غیر مسلموں کے باہمی تعلقات کار کی نوعیت

آج ہماری گفتگو کا عنوان ہے کہ ایک مسلمان ریاست میں غیر مسلموں کے کیا حقوق و مسائل ہیں اور کسی غیر مسلم ریاست میں رہنے والے مسلمانوں کے معاملات کی نوعیت کیا ہے؟ ہمارے ہاں جب پاکستان، بنگلہ دیش، بھارت اور برما سمیت یہ خطہ، جو برصغیر کہلاتا ہے، متحد تھا اور مسلمانوں کی حکمرانی تھی تو اس کی شرعی حیثیت کے بارے میں فقہی بحث و مباحثہ اس قسم کے عنوانات سے ہوتا تھا کہ یہاں رہنے والے ذمی ہیں یا معاہد ہیں، اور یہاں کی زمینیں عشری ہیں یا خراجی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر موجودہ دور میں مسلمانوں اور غیر مسلموں کے باہمی تعلقات کار کی نوعیت

۳۰ جنوری ۲۰۱۸ء

مذاہب اور ان کے عبادت خانے

سینٹ آف پاکستان کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور کے چیئرمین سینیٹر حافظ حمد اللہ نے گزشتہ روز سینیٹر پروفیسر ساجد میر، سینیٹر ایم حمزہ اور دیگر سینیٹرز کے ایک وفد کے ہمراہ ننکانہ صاحب میں سکھوں کے گوردوارے کا دورہ کیا اور سکھ راہنماؤں کے ساتھ باہمی دلچسپی کے مختلف معاملات پر تبادلۂ خیالات کیا۔ سینٹ کی مذہبی امور کی قائمہ کمیٹی کی تو دستوری ذمہ داری ہے کہ وہ ملک میں رہنے والے تمام غیر مسلموں کے معاملات کی دیکھ بھال کرے، ان سے رابطہ رکھے اور متعلقہ امور میں ان سے مشاورت کا اہتمام کرے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مذاہب اور ان کے عبادت خانے

۱۸ نومبر ۲۰۱۷ء

شیخ الازھر اور پاپائے روم کی ملاقات

الشیخ احمد الطیب عالم اسلام کی محترم علمی شخصیت ہیں جبکہ پوپ فرانسس کیتھولک مسیحی دنیا کے سب سے بڑے مذہبی پیشوا ہیں، اس لیے ان کی باہمی ملاقات جو خبر کے مطابق تاریخ میں پہلی بار ہوئی ہے یقیناًبہت اہمیت کی حامل ہے جس کے دور رس اثرات ہوں گے۔ اور اگر ان کے اتفاق رائے کے مطابق بین المذاہب ہم آہنگی کے لیے عالمی کانفرنس انعقاد پذیر ہوئی تو وہ مذاہب کی تاریخ میں ایک اہم واقعہ ثابت ہوگی۔ بین المذاہب ہم آہنگی کے لیے ایک عرصہ سے بین الاقوامی حلقوں میں کام ہو رہا ہے اور مختلف سطحوں پر اس حوالہ سے کانفرنسوں کے انعقاد کا سلسلہ جاری ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر شیخ الازھر اور پاپائے روم کی ملاقات

جون ۲۰۱۶ء

کرسمس تقریبات میں مسلمانوں کی شرکت کا مسئلہ

کچھ عرصہ سے کرسمس کی تقریبات میں مسلم راہنماؤں کی شرکت بھی نظر آ رہی ہے جسے مسیحی حضرات کے ساتھ دوستی اور رواداری کے رنگ میں دیکھا جاتا ہے اور خاص طور پر پاکستان میں اسے مسیحی اقلیت کی خوشی میں شرکت سمجھ کر اسے سراہا بھی جاتا ہے۔ لیکن جوں جوں اس کا دائرہ وسیع ہو رہا ہے مذہبی حلقوں میں یہ بات اسی طرح محسوس بھی کی جانے لگی ہے اور مسیحیوں کے مذہبی تہوار میں سرکردہ مسلم راہنماؤں کی اس طرز اور اس درجے کی شرکت پر مذہبی حلقوں کا اعتراض نمایاں طور پر سامنے آرہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر کرسمس تقریبات میں مسلمانوں کی شرکت کا مسئلہ

۲۸ دسمبر ۲۰۱۱ء

مکالمہ بین المذاہب اور اس کے راہنما اصول

جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب وحی کے نزول کے بعد اعلان نبوت کیا اور لوگوں کو توحید اور قرآن کریم کی طرف دعوت دی تو مشرکین کے ردعمل کا پہلا دور یہ تھا کہ انہوں نے طعنہ زنی، الزامات اور افتراءات کے ذریعے اس دعوت کا راستہ روکنے کی کوشش کی۔ جادوگر، مجنوں، کاہن، شاعر اور طرح طرح کے الزامات اور طعنوں کے ذریعے آنحضرتؐ کو خوفزدہ اور ناکام کرنے کی مہم چلائی گئی۔ مگر اس میں کامیابی نہ ہوئی تو پھر نبی کریمؐ اور آپ کے ساتھیوں کو اذیتیں دینے کا سلسلہ شروع کر دیا جو کم وبیش ایک عشرے تک چلتا رہا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مکالمہ بین المذاہب اور اس کے راہنما اصول

۲۲ اگست ۲۰۱۱ء

بائبل کی پکار ۔ من چہ گویم و طنبورہ من چہ سراید

پاپائے روم پوپ بینی ڈکٹ نے ایک بار پھر حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ توہینِ رسالت کے قانون کو ختم کر دیا جائے کیونکہ یہ ان کے بقول اقلیتوں کے خلاف استعمال ہو رہا ہے اور بطور خاص مسیحی اقلیت اس کا نشانہ بن رہی ہے۔ ہم اس کالم میں یہ بات عرض کر چکے ہیں کہ اول تو اس قانون کے غلط استعمال کی بات اس حوالہ سے محل نظر ہے کہ غلط استعمال کی بات صرف اس قانون کے حوالہ سے کیوں کی جا رہی ہے؟ ملک میں دیگر بہت سے قوانین کا بھی تو غلط استعمال ہو رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر بائبل کی پکار ۔ من چہ گویم و طنبورہ من چہ سراید

۲۱ جنوری ۲۰۱۱ء

توہینِ رسالت کی سزا اور بائبل

بشپ چرچ آف پاکستان جناب ڈاکٹر اعجاز عنایت کے متوازن اور حقیقت پسندانہ خیالات اس حوالے سے حوصلہ افزا ہیں کہ انہوں نے معروضی صورتحال کا بہتر تجزیہ کیا ہے اور اس سازش کو بروقت بھانپ لیا ہے جو پاکستان میں مسلم اکثریت اور مسیحی اقلیت کے درمیان غلط فہمیوں کو فروغ دینے اور اس کے ذریعے لادینیت کے سیکولر ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے مفاد پرست عناصر کی طرف سے مسلسل جاری ہے۔ لیکن کیا پاپائے روم عالمی استعمار کی بولی بولنے کی بجائے بائبل اور پاکستانی مسیحی رہنماؤں کی پکار پر توجہ دینے کے لیے تیار ہوں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر توہینِ رسالت کی سزا اور بائبل

۱۹ جنوری ۲۰۱۱ء

مذہب کے بارے میں مختلف نقطہ ہائے نظر

مطالعۂ مذاہب کے حوالہ سے گفتگو کرتے ہوئے ہمیں سب سے پہلے اس بات کو دیکھنا ہے کہ ہم جس ماحول اور تناظر میں بات کر رہے ہیں اس میں مذہب اور دین کے بارے میں کیا سمجھا جا رہا ہے اور اس کے حوالہ سے لوگوں کے نظریات و افکار کیا ہیں؟ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ فرماتے ہیں کہ قرآن کریم کا اولین خطاب چونکہ عرب سوسائٹی سے تھا اور ان مذاہب و ادیان کے ساتھ ان کا مکالمہ تھا جس سے اسے سابقہ درپیش تھا اس لیے قرآن کریم نے عام طور پر یہود و نصاریٰ، مشرکین اور صابئین وغیرہ کو سامنے رکھ کر عقائد میں مجادلہ کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مذہب کے بارے میں مختلف نقطہ ہائے نظر

۱۴ اپریل ۲۰۱۰ء

بین المذاہب مکالمہ کی ضرورت / مسلم مسیحی کشمکش کا نقطۂ آغاز

انٹرفیتھ ڈائیلاگ یعنی بین المذاہب مکالمہ اس وقت کے اہم عالمی موضوعات میں سے ہے جس پر دنیا کے مختلف اداروں اور فورموں میں بحث و تمحیص کا سلسلہ جاری ہے۔ اگرچہ ہر جگہ اس کے مقاصد مختلف ہیں لیکن مذاہب کے مابین مشترکات تلاش کرنے اور مذہب کے معاشرتی کردار کی حدود طے کرنے کا معاملہ کسی حد تک قدرِ مشترک کی حیثیت رکھتا ہے اور ہر سطح پر اربابِ فکر و دانش اس سلسلہ میں اظہارِ خیال کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر بین المذاہب مکالمہ کی ضرورت / مسلم مسیحی کشمکش کا نقطۂ آغاز

۹ اپریل ۲۰۱۰ء

حضرت ابراہیمؑ اور مذاہب عالم

حضرت ابراہیمؑ کا بنیادی پیغام توحید ہی ہے لیکن ان کا یہ امتیاز بھی ہے کہ ان کی توحید صرف فکری اور قولی نہیں بلکہ عملی اور فعلی بھی تھی۔ اس لیے کہ انہوں نے بت پرستی کو نہ صرف مسترد کیا بلکہ کھلم کھلا پوری قوم کو بت پرستی ترک کر کے ایک اللہ کی بندگی کرنے کی تلقین کی اور بت پرستی کے خلاف عملی کاروائی بھی کی۔ اور جہاں حضرت ابراہیمؑ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ تمام آسمانی مذاہب ان کی طرف اپنی نسبت کرنے پر فخر کرتے ہیں وہاں یہ بھی ایک تاریخی حقیقت ہے کہ حضرت ابراہیمؑ کی ذات گرامی اور شخصیت کو اسلام کا راستہ روکنے کے لیے بطور شیلٹر بھی استعمال کیا گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت ابراہیمؑ اور مذاہب عالم

۷ دسمبر ۲۰۰۸ء

سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر کی مذہبی سرگرمیاں / لاہور میں ایک چرچ کا انہدام

عید الاضحیٰ اور کرسمس دونوں گزر گئی ہیں، مسلمان اور مسیحی دنیا بھر میں اپنی اپنی عید سے فارغ ہو کر معمول کی مصروفیات میں مگن ہو گئے ہیں البتہ پاکستان کے مسلمانوں کو عید الاضحیٰ پر جانوروں کی قربانی کے بعد ایک بہت بڑی انسانی قربانی کا سامنا بھی کرنا پڑ گیا ہے جو محترمہ بے نظیر بھٹو اور ان کے جاں نثاروں کی المناک موت کی صورت میں پوری قوم کو سوگوار کر گئی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر کی مذہبی سرگرمیاں / لاہور میں ایک چرچ کا انہدام

۳۱ دسمبر ۲۰۰۷ء

’’یوم بشارت‘‘ اور پاکستان میں عیسائی مشنریوں کی سرگرمیاں

مسیحی برادری ۲۳ اکتوبر کو دنیا بھر میں ’’یوم بشارت‘‘ منا رہی ہے جس کا مقصد نسل انسانی کو مسیحیت قبول کرنے کی دعوت کے مشن کے ساتھ وابستگی کو تازہ کرنا اور مشنری تحریک کو اجاگر کرنا ہے۔ لاہور سے شائع ہونے والے مسیحی جریدہ پندرہ روزہ ’’کاتھولک نقیب‘‘ کے ماہِ رواں کے دوسرے شمارے میں بتایا گیا ہے کہ ہر سال کلیسا اکتوبر کا مہینہ مشنری کاموں کو سراہنے اور مشنری تحریکوں کو اجاگر کرنے کے لیے وقف کرتی ہے۔ اسی روایت کے پیش نظر اس سال ۷۹ واں عالمی یوم بشارت ۲۳ اکتوبر کو دنیا بھر میں بڑے جوش و خروش کے ساتھ منایا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ’’یوم بشارت‘‘ اور پاکستان میں عیسائی مشنریوں کی سرگرمیاں

۲۳ اکتوبر ۲۰۰۵ء

حضرت عیسٰیؑ کی تصلیب اور موجودہ مسیحی مذہبی قیادت کا مخمصہ

اسرائیل کی حمایت میں اس وقت یہودی اور مسیحی امتوں میں اتحاد ہے اور اسرائیلی ریاست کو تحفظ فراہم کرنے میں مغرب کی مسیحی حکومتیں یہودیوں سے بھی دو ہاتھ آگے دکھائی دے رہی ہیں۔ حالانکہ گزشتہ دو ہزار برس میں یہودیوں اور مسیحیوں کے مابین کھلی عداوت رہی ہے اور مسیحی حکومتوں کے ہاتھوں یہودیوں کا مسلسل قتل عام ہوتا رہا ہے۔ یہودیوں کے نزدیک حضرت عیسٰی علیہ السلام نہ صرف یہ کہ نبی نہیں ہیں بلکہ بغیر باپ کے جنم لینے کی وجہ سے حضرت عیسیٰ اور ان کی والدہ حضرت مریم علیہما السلام دونوں نعوذ باللہ شرمناک الزام کا ہدف چلے آرہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت عیسٰیؑ کی تصلیب اور موجودہ مسیحی مذہبی قیادت کا مخمصہ

۱۱ جون ۲۰۰۴ء

’’نئی امریکی بائبل‘‘ اور مسیحی عقائد

گوجرانوالہ سے شائع ہونے والے مسیحی جریدہ ماہنامہ کلام حق کو چرچ آف پاکستان اور پریسٹیرین چرچ آف پاکستان سے شکایت ہے کہ انہوں نے بائبل کا جو انگریزی متن شائع کیا ہے اس میں بہت سی آیات حذف کر دی گئی ہیں۔ یہ شکایت ماہنامہ کلام حق نے فروری ۲۰۰۴ء کے شمارے میں کی ہے اور بتایا ہے کہ چرچ آف پاکستان کی انگریزی بائبل میں چالیس کے لگ بھگ آیات میں ردوبدل کیا گیا ہے، ان میں بعض آیات بالکل حذف کر دی گئی ہیں اور بعض آیات کے اہم جملے نکال دیے گئے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ’’نئی امریکی بائبل‘‘ اور مسیحی عقائد

۱۶ مارچ ۲۰۰۴ء

جارج واشنگٹن اور جارج ڈبلیو بش کے مذہبی رجحانات

امریکی دستور کی پہلی ترمیم میں مذہب کے ریاستی کردار کو مکمل طور پر مسترد کر دیا گیا تھا اور اسی حوالے سے کانگریس کے بعض ارکان صدر بش کی طرف سے مسیحی مشنریوں کے لیے دی جانے والی مالی مراعات کی مخالفت کر رہے ہیں۔ لیکن دوسری طرف یہ تاریخی حقیقت امریکی کانگریس کا منہ چڑا رہی ہے کہ امریکہ کے صدر نے یہ کہہ کرشراب کو ترک نہیں کیا کہ امریکی کانگریس نے ایک موقع پر شراب پر پابندی عائد کر دی تھی بلکہ انہوں نے کہا کہ مذہبی رجحانات کی وجہ سے ان کے دل کی کیفیت بدلی ہے اور انہوں نے شراب نوشی ترک کر دی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جارج واشنگٹن اور جارج ڈبلیو بش کے مذہبی رجحانات

۲۵ جنوری ۲۰۰۴ء

تنزانیہ کے حکمران خاندان کا قبولِ اسلام

مالیر کوٹلہ (بھارت) سے مولانا مفتی فضیل الرحمان ہلال عثمانی کی زیر ادارت شائع ہونے والے دینی جریدہ ماہنامہ دارالسلام نے مئی 2000ء کے شمارہ میں افریقہ کے مسلم اکثریت رکھنے والے ملک تنزانیہ کے سابق صدر جولیس نریرے اور ان کے خاندان کے قبول اسلام کے واقعہ اور اس کے پس منظر پر جناب منظور الحق آف کامٹی کی رپورٹ شائع کی ہے جو انہی کے الفاظ میں قارئین کی خدمت میں پیش کی جا رہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر تنزانیہ کے حکمران خاندان کا قبولِ اسلام

۱۵ جون ۲۰۰۰ء

کرسمس کے موقع پر مسیحی دنیا کے نام ایک پیغام

۲۵ دسمبر کا دن پوری دنیا میں مسیحی امت حضرت عیسٰی علیہ السلام کی ولادت باسعادت کے دن کے طور پر ’’کرسمس‘‘ کے نام سے مناتی ہے۔ اسی مناسبت سے سال بھر کے سب سے چھوٹے دنوں میں سے ہونے کے باوجود اسے ’’بڑا دن‘‘ کہا جاتا ہے اور اسے مسیحی دنیا کی عالمی عید اور قومی تہوار کی حیثیت حاصل ہے۔ معروف مسیحی مصنف ایف ایس خیر اللہ اپنی کتاب ’’قاموس الکتاب‘‘ میں لکھتے ہیں کہ ’’کرسمس یوم ولادت مسیح کے سلسلے میں منایا جاتا ہے، چونکہ مسیحیوں کے لیے یہ ایک اہم اور مقدس دن ہے اس لیے اسے بڑا دن کہا جاتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر کرسمس کے موقع پر مسیحی دنیا کے نام ایک پیغام

۲۵ دسمبر ۱۹۹۹ء

حضرت عیسٰیؑ کی شان میں گستاخی اور عالمی کلیسا

گوجرانوالہ سے شائع ہونے والے مسیحی جریدہ ماہنامہ کلام حق نے نومبر 1999ء کی اشاعت میں عالمی مسیحی کلیسا کے اس طرز عمل پر افسوس کا اظہار کیا ہے کہ اس نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شان میں ایک بدبخت مسیحی کی طرف سے کی جانے والی بدترین گستاخی پر بے حسی کا مظاہرہ کیا ہے۔ اس سلسلہ میں ماہنامہ کلام حق کے مدیر محترم میجر ٹی ناصر نے لکھا ہے کہ ’’گزشتہ دنوں انگلستان کا ایک بدبخت ملحد نام نہاد مسیحی خداوند یسوع مسیح کی شان میں بدترین گستاخی کا مرتکب ہوا، عالمگیر کلیسا نے اس بے ادبی پر اپنے منافق لب سی لیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت عیسٰیؑ کی شان میں گستاخی اور عالمی کلیسا

۱۵ دسمبر ۱۹۹۹ء

چرچ آف انگلینڈ اور دوسری شادی کا حق

مسیحی حلقوں میں طلاق اور اس کے بعد شادی کا تصور ابھی تک مذہبی تعلیمات کے منافی سمجھا جا رہا ہے جس کی اس دور میں سب سے بڑی مثال برطانوی ولی عہد شہزادہ چارلس ہیں۔ چونکہ ان کے اور لیڈی ڈیانا کے درمیان تفریق طلاق کی وجہ سے ہوئی تھی اس لیے دوبارہ شادی کا معاملہ شہزادہ موصوف کے لیے الجھن کا باعث بنا ہوا ہے اور صحافتی حلقوں کی طرف سے اس تاثر کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ اگر شہزادہ چارلس نے دوسری شادی کی تو انہیں چرچ کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑے گا اور یہ مخالفت ان کے تخت و تاج کے استحقاق کے لیے خطرہ بن سکتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر چرچ آف انگلینڈ اور دوسری شادی کا حق

۲۸ ستمبر ۱۹۹۹ء