معاشرہ

عدالت عظمیٰ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی خدمت میں!

اسلامی جمہوریہ پاکستان کی عدالت عظمیٰ نے لوکل میڈیا اور کیبل چینلز میں غیر ملکی فلموں اور پروگراموں کی یلغار کا ازخود نوٹس لیا ہے اور چیف جسٹس آف پاکستان جناب جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کا تین رکنی بینچ ان دنوں اس کیس کی سماعت کر رہا ہے۔ گزشتہ روز کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے بینچ نے لوکل میڈیا انڈسٹریز کے حوالہ سے مانیٹرنگ رپورٹ دو دن کے اند رطلب کر لی ہے اور کیبل آپریٹرز ایسوسی ایشن کو بھی اس سلسلہ میں نوٹس جاری کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر عدالت عظمیٰ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی خدمت میں!

۹ جون ۲۰۱۸ء

سوسائٹی اور دینی مدارس کے درمیان ربط کی ضرورت

دینی مدارس اس وقت جس جدوجہد میں مصروف ہیں اور ان کو جس طرح کی مخالفتوں، رکاوٹوں اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اس کے بنیادی اسباب و عوامل کو سامنے رکھنے کی ضرورت ہے۔ دینی مدارس کے اس نظام نے اب سے ڈیڑھ سو برس قبل ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی میں ناکامی کے بعد پیدا ہونے والے اس خلا کو پر کرنے کی کوشش کی تھی جو مغل حکومت کے خاتمہ اور برطانوی حکومت کے استعماری تسلط کے نتیجے میں ہمارے معاشرتی و تعلیمی ماحول میں پیدا ہوگیا تھا۔ درس نظامی کا پرانا نظام مکمل طور پر ختم ہوگیا تھا، دینی مدارس بند ہو گئے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سوسائٹی اور دینی مدارس کے درمیان ربط کی ضرورت

۲۹ مارچ ۲۰۱۶ء

آج کے انسانی معاشرے کے مسائل اور مذہب کا کردار

میں کانفرنس کے معزز شرکاء کو اس بات پر غور کی دعوت دوں گا کہ ان میں سے کون سے مسائل ہیں جو مذہب کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں؟ زیادہ سے زیادہ دہشت گردی اور شدت پسندی کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ ان میں کسی حد تک مذہب کا کردار ہو سکتا ہے۔ لیکن باقی سب مسائل مذہب کی وجہ سے نہیں بلکہ مذہبی تعلیمات سے انحراف کے نتیجے میں وجود میں آئے ہیں۔ اس لیے ہمیں یکطرفہ بات نہیں کرنی چاہیے اور اپنے ایجنڈے کو متوازن اور بیلنس بنانا چاہیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر آج کے انسانی معاشرے کے مسائل اور مذہب کا کردار

۴ دسمبر ۲۰۱۵ء

مسجد میں تقریبِ نکاح

نکاح کی کوئی تقریب مسجد میں ہوتی ہے تو مجھے بہت خوشی ہوتی ہے کہ یہ سنت کے مطابق ہے، اور پھر شادی کے حوالہ سے جو خرافات عام ہوگئی ہیں کم از کم خطبہ اور ایجاب و قبول کے معاملات اس سے ہٹ کر مسجد کے ماحول میں طے پا جاتے ہیں۔ اس لیے ایسی تقریب کے ہر موقع پر خوشی کا اظہار کرتا ہوں اور اپنی گفتگو میں اس کی ترغیب اور حوصلہ افزائی کو بھی شامل کر لیتا ہوں۔ خرافات کا یہ سلسلہ اس قدر وسعت پکڑ چکا ہے کہ کہیں مجبورًا شریک ہونا پڑ جائے تو بہت پریشانی ہوتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مسجد میں تقریبِ نکاح

۲۲ مارچ ۲۰۱۵ء

معاشرے کے خصوصی افراد

اعضا کی صحت بھی بہت بڑی نعمت ہے، لیکن عزم و حوصلہ اور قوت ارادی ان سے بھی بڑی نعمتیں ہیں جنہیں کام میں لا کر جسمانی کمزوریوں پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ انسان بہت کمزور بھی ہے اور انسان بہت طاقت ور بھی ہے۔ اگر اس کے عزم و حوصلہ کا رخ کمزوری کی طرف ہے تو اس سے زیادہ کمزور کوئی نہیں ہے۔ اور اگر اس کی قوت ارادی عزم و ہمت کی طرف متوجہ ہے تو اس سے زیادہ طاقت ور بھی کوئی نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو عزم و حوصلہ کی صورت میں بہت بڑی قوت عطا فرمائی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر معاشرے کے خصوصی افراد

۲ مئی ۲۰۱۴ء

عوامی احتجاج اور ہمارا معاشرتی رویہ

ایک فارسی محاورہ ہے کہ ’’عدو شرے بر انگیزد کہ خیر مادراں باشد‘‘ یعنی بسا اوقات دشمن شر کو ابھارتا ہے اور اس میں ہمارے لیے خیر کا پہلو نکل آتا ہے۔ کچھ اس قسم کی صورتحال مذموم امریکی فلم کے حوالہ سے سامنے آرہی ہے کہ عالم اسلام ایک بار پھر جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حرمت و ناموس کے مسئلہ پر متحد ہوتا نظر آرہا ہے، بلکہ اس بار ایک اور تبدیلی دیکھنے میں آرہی ہے کہ وہ بات جو ہم فقیر کیا کرتے تھے اب ہمارے حکمرانوں کی زبانوں پر آنے لگی ہے کہ توہین رسالت کو عالمی سطح پر جرم قرار دیا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر عوامی احتجاج اور ہمارا معاشرتی رویہ

۲۶ ستمبر ۲۰۱۲ء

رمضان المبارک، تربیت کا مہینہ

رمضان المبارک قرآن کریم اور روزوں کا مہینہ ہے، برکتوں اور رحمتوں کا مہینہ ہے، مغفرت اور نجات کا مہینہ ہے، جو اپنی بہاریں دکھا کر چند دنوں میں رخصت ہونے والا ہے۔ مبارکباد کے مستحق ہیں وہ سعادت مند جنہوں نے ان مبارک ساعات سے فیض حاصل کیا اور اپنے ذخیرۂ آخرت میں اضافہ کر لیا۔ اس کے ساتھ ساتھ رمضان المبارک صبر و مواخاۃ کا مہینہ بھی ہے کہ اس ماہ میں مسلمانوں کو بھوک پیاس پر صبر کر کے اپنے بھوکے پیاسے بھائیوں کی تکالیف کا احساس ہوتا ہے اور یہ احساس ان میں بھوکوں پیاسوں کے لیے ہمدردی اور غم خواری کے جذبات کو ابھارتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر رمضان المبارک، تربیت کا مہینہ

۱۵ اگست ۲۰۱۲ء

علماء کرام اور دیگر طبقات کے درمیان ربط و تعاون کی ضرورت

گزشتہ جمعرات (۲ فروری) کو ایک روز کے لیے ڈیرہ غازی خان جانے کا اتفاق ہوا، نوجوان علماء کرام کی ایک تنظیم کے زیراہتمام سیرت کانفرنس سے خطاب کے علاوہ مدرسہ امداد العلوم شادن لنڈ کی ایک نشست میں حاضری ہوئی اور راجن پور میں حضرت مولانا سیف الرحمان درخواستی کے مدرسہ جامعہ شیخ درخواستی کے سالانہ جلسہ دستار بندی میں شرکت کی سعادت بھی میسر آئی جس میں اس سال قرآن کریم حفظ مکمل کرنے والے بائیس طلبہ کی دستار بندی کی گئی۔ مگر اس سفر میں میرے لیے زیادہ دلچسپی کا باعث ڈیرہ غازی خان کے ایک ہوٹل میں منعقد ہونے والی وہ تقریب تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر علماء کرام اور دیگر طبقات کے درمیان ربط و تعاون کی ضرورت

۹ فروری ۲۰۱۲ء

بین الاقوامی حلال کانفرنس لاہور

مختلف ممالک میں حلال فوڈ پر تحقیقی کام ہو رہا ہے اور غیر مسلم ممالک میں بلکہ غیر مسلم سوسائٹیوں میں بھی حلال فوڈ کی طرف لوگوں کی توجہ اس حوالہ سے مبذول ہو رہی ہے کہ انسانی صحت کے لیے حلال فوڈ زیادہ مفید اور نفع بخش ہے، اس لیے غیر مسلموں کا ایک حلقہ حلال فوڈ میں دلچسپی لینے لگا ہے جس سے اس کی اہمیت میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور اسی نسبت سے اس پر ریسرچ کی ضرورت ہر سطح پر بڑھتی جا رہی ہے۔ یہ سیمینار پاکستانی فوڈ کے صنعتکاروں کو اس سلسلہ میں بریف کرنے کے لیے اور اس نئے رجحان سے استفادہ کے امکانات کا جائزہ لینے کے لیے انعقاد پذیر ہوا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر بین الاقوامی حلال کانفرنس لاہور

۲۲ جنوری ۲۰۱۲ء

طلاق، انتہائی ناپسندیدہ فعل

روزنامہ پاکستان میں ۲۲ اکتوبر کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق ملک میں طلاق کی شرح تشویشناک حد تک بڑھ گئی ہے اور معاشرتی ناہمواری، غیر ملکی ثقافتی یلغار اور ذہنی ہم آہنگی کے فقدان کو اس کی اہم وجوہات شمار کیا جا رہا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ دس سال کے دوران پنجاب کی ماتحت عدالتوں میں صرف طلاق کے ایک لاکھ سے زائد دعوے دائر ہوئے ہیں اور مجموعی طور پر بیس ہزار سے زائد خواتین کو طلاق کی ڈگریاں جاری کی گئی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر طلاق، انتہائی ناپسندیدہ فعل

۱۴ نومبر ۲۰۱۱ء

مسجد، انسانی آبادی کا زیرو پوائنٹ

مسجد کو مسلم سوسائٹی میں دل کی حیثیت حاصل ہے کہ سوسائٹی کی تمام تر دینی و روحانی سرگرمیاں مسجد کے متحرک ہونے پر موقوف ہیں، سوسائٹی کا دینی و روحانی نظام مسجد کے ساتھ وابستہ ہے۔ اور میں عرض کیا کرتا ہوں کہ مسلم سوسائٹی میں مسجد کا مقام دل کا اور مدرسے کا مقام دماغ کا ہے، یہ ہمارے اجتماعی دینی نظام کے اعصابی مراکز ہیں اور انہی کی حرکت پر ہماری سب دینی حرکات وجود میں آتی ہیں۔ قرآن کریم کے ارشاد کے مطابق مسجد کو انسانی آبادی کے زیروپوائنٹ کی حیثیت حاصل ہے کہ روئے زمین پر سب سے پہلا جو گھر تعمیر کیا گیا وہ بیت اللہ ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مسجد، انسانی آبادی کا زیرو پوائنٹ

۲۸ اکتوبر ۲۰۱۱ء

معاشرتی عدل وانصاف میں پولیس کا کردار

ہمارے ڈی آئی جی صاحب باذوق آدمی ہیں، سال میں ایک آدھ بار ہماری آپ حضرات سے ملاقات کی کوئی صورت نکال لیتے ہیں، ہم گھنٹہ بھر کے لیے جمع ہوتے ہیں، بات چیت ہوتی ہے اور کم از کم اتنا ضرور ہو جاتا ہے کہ ہمارا کچھ خوف کم ہو جاتا ہے، اور شاید آپ حضرات کا خوف بھی کچھ کم ہو جاتا ہے۔ وہ اس طرح کہ سال بھر ہم آپ حضرات سے ڈرتے رہتے ہیں جبکہ یہ گھنٹہ پون گھنٹہ ہمیں میسر آجاتا ہے کہ ہم آپ حضرات کو ڈرا سکیں۔ بہرحال اس طرح کی کوئی صورت بن جاتی ہے جس کے لیے میں ڈی آئی جی صاحب کا شکر گزار ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر معاشرتی عدل وانصاف میں پولیس کا کردار

۲۰ فروری ۲۰۱۰ء

شادی و کفالت اور سزا و جزا کا اسلامی تصور

میری تعلیمی سندِ حدیث والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر کے حوالہ سے ہے جو شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنیؒ کے شاگرد ہیں، مگر طالبات کے سامنے بخاری شریف کی روایت میں ایک اور سند کے حوالہ سے پڑھتا ہوں جس میں واسطے کم ہیں اور ایک عظیم محدثہ خاتون بھی اس سند میں شامل ہیں۔ اس سند کے مطابق مجھے مکہ مکرمہ کے ایک معروف شافعی محدث الشیخ ابوالفیض محمد یاسین الفادانیؒ سے مشافہتًا روایت حدیث کی اجازت حاصل ہے اور انہیں الشیخہ امۃ اللہ محدثہ دہلویہؒ سے روایت حدیث کی اجازت حاصل تھی جو معروف محدث شاہ عبد الغنی محدث دہلویؒ کی دختر ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر شادی و کفالت اور سزا و جزا کا اسلامی تصور

۳۰ جولائی ۲۰۰۸ء

گوجرانوالہ کی میراتھن ریس اور ردعمل

گوجرانوالہ میں میراتھن ریس کے موقع پر دینی مدارس کے طلبہ اور متحدہ مجلس عمل کے کارکنوں نے مولانا قاضی حمید اللہ خان ایم این اے کی قیادت میں جس جرأت کا مظاہرہ کیا ہے اس کی صدائے بازگشت پورے ملک میں بلکہ عالمی سطح پر محسوس کی جا رہی ہے اور ملک بھر کے دینی حلقوں کو نئے سرے سے یہ حوصلہ ملا ہے کہ وہ اگر معاشرہ میں منکرات کی روک تھام کے لیے منظم منصوبہ بندی کے ساتھ جرأت مندانہ موقف اور کردار کا مظاہرہ کریں تو یہ راستہ کچھ زیادہ مشکل نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر گوجرانوالہ کی میراتھن ریس اور ردعمل

مئی ۲۰۰۵ء

غربت ختم کرنے کے لیے سفارشات

روزنامہ جنگ لاہور ۱۰ جولائی ۲۰۰۴ء کی ایک خبر کے مطابق پاکستان کے وزیر نجکاری ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے بتایا ہے کہ غربت کے خاتمے اور روزگار کے مواقع بڑھانے کے لیے قائم کردہ وزیر اعظم کی ٹاسک فورس نے اپنی سفارشات پیش کر دی ہیں۔ وزیر موصوف نے ان سفارشات کی تفصیل نہیں بتائی البتہ ان کے اس بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ حکومت ملک میں غربت کے خاتمہ میں دلچسپی رکھتی ہے اور اس کے لیے وزیر اعظم نے ایک ٹاسک فورس قائم کی تھی جس نے اپنی سفارشات پیش کر دی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر غربت ختم کرنے کے لیے سفارشات

اگست ۲۰۰۴ء

جنسی آوارگی کی صدائے بازگشت

روزنامہ جنگ لاہور نے ۲۵ فروری ۲۰۰۴ء کو سی این این کے حوالہ سے یہ خبر شائع کی ہے کہ امریکہ کے صدر جارج ڈبلیو بش نے ایک انٹرویو میں ہم جنس پرستوں کی شادی پر پابندی کی حمایت کی ہے اور کہا ہے کہ ہمیں اس معاملے میں مزید چیلنجز کا سامنا ہوسکتا ہے، انہوں نے امریکی آئین میں ترمیم کے لیے کہا جس سے ہم جنس پرستوں پر پابندی لگائی جائے۔ مکمل تحریر جنسی آوارگی کی صدائے بازگشت

مارچ ۲۰۰۴ء

مسلمانوں کی معاشرتی زندگی میں مساجد کا کردار

نبی اکرمؐ اور خلفاء راشدینؓ کے خطبات جمعہ و عیدین میں یہ تفریق نہیں ہوتی تھی کہ فلاں بات عبادت اور تعلیم سے تعلق رکھتی ہے اس لیے اسے مسجد میں ہونا چاہیے اور فلاں بات سیاست اور حکومت سے متعلقہ ہے اس لیے اسے مسجد سے باہر کیا جانا چاہیے۔ مسلمانوں سے متعلقہ معاملات کا تعلق عبادت سے ہو یا تعلیم سے، سیاست سے ہو یا عدالت سے، معاشرے سے ہو یا تمدن سے، صلح سے ہو یا جنگ سے، تجارت سے ہو یا زراعت سے، مقامی امور سے ہو یا بین الاقوامی معاملات سے، ان سب کا تذکرہ مسجد میں ہوتا تھا اور ان کے بارے میں ہر اہم فیصلہ مسجد میں کیا جاتا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مسلمانوں کی معاشرتی زندگی میں مساجد کا کردار

۹ جون ۲۰۰۳ء

بسنت اور ویلنٹائن ڈے

پاکستان کے مختلف شہروں میں ان دنوں باری باری بسنت منائی جا رہی ہے اور اس بہانے رقص و سرور، فائرنگ اور بدکاری و بے حیائی کو فروغ دینے کے لیے ہر حربہ اختیار کیا جا رہا ہے۔ لاہور میں صدر پاکستان نے خود شریک ہو کر اس رسم بد کی حوصلہ افزائی کی ہے جبکہ ذرائع ابلاغ اسے اس انداز میں اجاگر کرنے میں لگے ہوئے ہیں جیسے اس وقت قوم کی سب سے بڑی ضرورت یہی ہو۔ بسنت میں پتنگ بازی کے ساتھ بے حیائی اور حرام کاری کی جو خرافات شامل ہوگئی ہیں ان کے علاوہ کروڑوں روپے کا نقصان بھی ہر سال ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر بسنت اور ویلنٹائن ڈے

مارچ ۲۰۰۳ء

غیرت کا جذبہ اور اس کی شرعی حدود

حضرت عمرؓ کی اہلیہ ان کے دور خلافت میں فجر اور عشاء کی نماز کے لیے باقاعدگی سے مسجد جایا کرتی تھیں۔ حضرت عمرؓ کو یہ بات اپنی طبعی غیرت کی وجہ سے پسند نہیں تھی مگر منع بھی نہیں کرتے تھے۔ اس کی وجہ حضرت عبد اللہ بن عمرؓ یہ بتاتے ہیں کہ آپؐ کا ارشاد ہے کہ ’’اللہ کی بندیوں کو مسجد میں جانے سے نہ روکا کرو۔‘‘ اس لیے حضرت عمرؓ پسند نہ ہونے کے باوجود اپنی اہلیہ کو مسجد جانے سے نہیں روکتے تھے۔ چنانچہ غیرت کا اظہار بہت اچھی چیز ہے لیکن جو حقوق عورت کو شریعت نے دے رکھے ہیں انہیں غیرت کے نام پر ان سے روکنا درست نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر غیرت کا جذبہ اور اس کی شرعی حدود

۲۷ اپریل ۲۰۰۰ء

شادی اور اس کے سماجی اثرات

شادی کو عام طور پر ایک سماجی ضرورت سمجھا جاتا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ایک طبعی ضرورت ہے اور سماجی ضرورت بھی ہے۔ لیکن اسلام نے اسے صرف ضرورت کے دائرے تک محدود نہیں رکھا بلکہ زندگی کے مقاصد میں شمار کیا ہے اور نیکی اور عبادت قرار دیا ہے جس سے شادی کے بارے میں اسلام کے فلسفہ اور باقی دنیا کی سوچ میں ایک بنیادی فرق سامنے آتا ہے۔ کیونکہ اگر شادی کو محض ایک ضرورت اور مجبوری سمجھا جائے تو پھر یہ ضرورت جہاں پوری ہو اور جس حد تک پوری ہو بس اسی کی کوشش کی جائے گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر شادی اور اس کے سماجی اثرات

۱۵ اپریل ۲۰۰۰ء

’’غیرت‘‘ کے خلاف مہم

لاہور ایم اے او کالج کے ایک سابق پروفیسر نے راقم الحروف کو بتایا کہ ان سے ایک شاگرد نے ’’غیرت‘‘ کا انگریزی ترجمہ دریافت کیا تو تلاش بسیار کے باوجود وہ انگریزی میں غیرت کا مفہوم ادا کرنے والا کوئی لفظ معلوم نہ کر سکے۔ چنانچہ انہوں نے اپنے شاگرد کو یہ کہہ کر مطمئن کرنے کی کوشش کی کہ چونکہ مغرب کی سوسائٹی میں غیرت کا جذبہ سرے سے پایا ہی نہیں جاتا اس لیے ان کے ہاں کوئی لفظ بھی استعمال میں نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مغربی ممالک کے لوگ جب کسی مسلمان کو غیرت کے حوالہ سے کوئی کام کرتا دیکھتے ہیں تو انہیں تعجب ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ’’غیرت‘‘ کے خلاف مہم

۲۳ اگست ۱۹۹۹ء

اسلامی نظام اور ہمارا اجتماعی عمل

آج دنیا بھر میں مسلمان عید کی خوشی کے ساتھ سیدنا ابراہیمؑ کی عظیم قربانی کی یاد تازہ کر رہے ہیں۔ صاحبِ استطاعت حضرات جانور ذبح کریں گے اور اس عزم کا اظہار کریں گے کہ مولائے کریم! آج ہم آپ کی رضا اور خوشی کے لیے جانوروں کی قربانی دے رہے ہیں، کل اگر ضرورت پڑی اور آپ کا حکم ہوا تو اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے سے بھی گریز نہیں کریں گے۔ قربانی دراصل اسی عزم کو تازہ کرنے کا نام ہے اور حضرت ابراہیمؑ کی سنت ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے اپنے بیٹے حضرت اسماعیلؑ کی گردن پر چھری رکھ دی اور اپنی طرف سے انہیں قربان کر دیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اسلامی نظام اور ہمارا اجتماعی عمل

۱۶ اپریل ۱۹۹۹ء

حلال و حرام کا فرق اور عام مسلمان

مرکزی جامع مسجد میں اپنے دفتر میں بیٹھا تھا کہ دو اصحاب تشریف لائے، انہوں نے کہا کہ ہم مسئلہ پوچھنے آئے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ایک دوست نے، جو یورپ کے ایک ملک میں رہتا ہے، لاعلمی میں اس جانور کا گوشت کھا لیا ہے جس کا نام بھی نہیں لینا چاہیے۔ اب اس کا کیا حکم ہے اور اسے اس کی تلافی کے لیے کیا کرنا چاہیے؟ میں نے عرض کیا کہ اگر لاعلمی میں کھایا ہے تو اس کا قصور نہیں ہے، البتہ اس بے احتیاطی پر اسے توبہ استغفار کرنی چاہیے کیونکہ کوئی چیز کھاتے وقت ایک مسلمان کو اس کے بارے میں باخبر ہونا چاہیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حلال و حرام کا فرق اور عام مسلمان

۷ دسمبر ۱۹۹۸ء

تجرد کی زندگی اور اسلام

نکاح کے بارے میں فقہائے کرام نے صراحت کی ہے کہ ایک جوان مسلمان اگر نکاح کی اہلیت رکھتا ہے اور خاندانی اخراجات برداشت کر سکتا ہے تو نکاح کرنا اس کے لیے شرعاً ضروری ہے۔ اور ملت کے کسی بھی طبقہ کے لیے اس بات کی گنجائش نہیں ہے کہ وہ عبادت اور نیکی سمجھ کر نکاح سے گریز کرے، اس لیے کہ یہ فطرت کا تقاضہ ہے اور اسلام نے زندگی کے ہر معاملہ میں فطرت کی تعلیم دی ہے۔ مغرب کی اصل مشکل یہ ہے کہ اس کی مذہبی تعلیمات اور زندگی کے تقاضوں میں اس قدر بعد ہے کہ دونوں کو بیک وقت نباہنا ممکن ہی نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر تجرد کی زندگی اور اسلام

۹ اکتوبر ۱۹۹۶ء

حلال و حرام کی بنیاد ۔ سوسائٹی یا وحیٔ الٰہی

آج فیصلوں کا معیار یہ ہے کہ انسان جو کچھ چاہتا ہے وہ اس کا حق ہے۔ مختلف انسانوں کی خواہشات میں ٹکراؤ کی صورت میں سوسائٹی کی اکثریت جس خواہش کی توثیق کر دے وہ حق ہے، اور جس خواہش کو سوسائٹی کی اکثریت کی تائید حاصل نہ ہو پائے وہ ناجائز اور غلط ہے۔ اس خود ساختہ اصول نے اخلاقی قدروں، مذہبی روایات، اور انسانی فطرت کو جس بری طرح پامال کیا ہے اس کی ایک جھلک یورپ کے ایک بڑے مذہبی ادارے ’’چرچ آف انگلینڈ‘‘ کی ان ہدایات کی صورت میں دیکھی جا سکتی ہے جو بغیر شادی کے اکٹھے رہنے والے جوڑوں کے بارے میں ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حلال و حرام کی بنیاد ۔ سوسائٹی یا وحیٔ الٰہی

۲۹ جولائی ۱۹۹۶ء

بیرون ملک جانے کا جنون ‒ حلال کی کمائی

روزنامہ نوائے وقت لاہور کی ایک خبر کے مطابق وفاقی تحقیقاتی ادارے نے تقریباً ایک درجن ایسی ریکروٹنگ ایجنسیوں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا ہے جو پاکستانیوں کو بوگس ویزوں پر بیرون ملک بھجوانے کا مذموم کاروبار کرتی ہیں۔ ابھی کچھ دنوں قبل حکومت مغربی جرمنی نے ایک خصوصی طیارے کے ذریعے ایک سو چار پاکستانیوں کو واپس بھجوایا تھا جو غیر قانونی طور پر انہی ریکروٹنگ ایجنسیوں کے ذریعے وہاں پہنچے تھے اور یہ واقعہ پاکستان کے لیے بین الاقوامی سطح پر رسوائی کا باعث بنا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر بیرون ملک جانے کا جنون ‒ حلال کی کمائی

۶ جنوری ۱۹۷۸ء

طلبہ کو حلیے درست کرنے کی ہدایت ‒ مجاہد اول کا مجاہدانہ اقدام ‒ خفیہ شراب خانے

ایک اخباری اطلاع کے مطابق گورنر پنجاب کی ہدایت پر صوبائی محکمہ تعلیم نے تعلیمی اداروں میں ہیپی فیشن بال رکھنے اور نامناسب لباس پہننے پر پابندی لگا دی ہے اور اعلان کیا ہے کہ اس ہدایت کی پابندی نہ کرنے والے طلباء کو جرمانوں کی سزا دی جائے گی۔ بدقسمتی سے مغرب کی تقلید کا رجحان ہم پر اس قدر جم چکا ہے کہ وہاں کسی کونے میں کوئی نئی بات شروع ہو، خواہ اس سے انسانی اقدار و روایات ہی کیوں نہ پامال ہوتی ہوں، ہمارا معاشرہ اسے قبول کرنے میں حد سے زیادہ فراخدلی سے کام لیتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر طلبہ کو حلیے درست کرنے کی ہدایت ‒ مجاہد اول کا مجاہدانہ اقدام ‒ خفیہ شراب خانے

۲۵ جون ۱۹۷۱ء