معاشرہ

آج کے انسانی معاشرے کے مسائل اور مذہب کا کردار

میں کانفرنس کے معزز شرکاء کو اس بات پر غور کی دعوت دوں گا کہ ان میں سے کون سے مسائل ہیں جو مذہب کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں؟ زیادہ سے زیادہ دہشت گردی اور شدت پسندی کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ ان میں کسی حد تک مذہب کا کردار ہو سکتا ہے۔ لیکن باقی سب مسائل مذہب کی وجہ سے نہیں بلکہ مذہبی تعلیمات سے انحراف کے نتیجے میں وجود میں آئے ہیں۔ اس لیے ہمیں یکطرفہ بات نہیں کرنی چاہیے اور اپنے ایجنڈے کو متوازن اور بیلنس بنانا چاہیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر آج کے انسانی معاشرے کے مسائل اور مذہب کا کردار

۴ دسمبر ۲۰۱۵ء

نکاح کی تقریب مسجد میں!

نکاح کی کوئی تقریب مسجد میں ہوتی ہے تو مجھے بہت خوشی ہوتی ہے کہ یہ سنت کے مطابق ہے، اور پھر شادی کے حوالہ سے جو خرافات عام ہوگئی ہیں کم از کم خطبہ اور ایجاب و قبول کے معاملات اس سے ہٹ کر مسجد کے ماحول میں طے پا جاتے ہیں۔ اس لیے ایسی تقریب کے ہر موقع پر خوشی کا اظہار کرتا ہوں اور اپنی گفتگو میں اس کی ترغیب اور حوصلہ افزائی کو بھی شامل کر لیتا ہوں۔ خرافات کا یہ سلسلہ اس قدر وسعت پکڑ چکا ہے کہ کہیں مجبورًا شریک ہونا پڑ جائے تو بہت پریشانی ہوتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر نکاح کی تقریب مسجد میں!

۲۲ مارچ ۲۰۱۵ء

معاشرے کے خصوصی افراد

اعضاء کی صحت بھی بہت بڑی نعمت ہے، لیکن عزم و حوصلہ اور قوت ارادی ان سے بھی بڑی نعمتیں ہیں جنہیں کام میں لا کر جسمانی کمزوریوں پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ انسان بہت کمزور بھی ہے اور انسان بہت طاقت ور بھی ہے۔ اگر اس کے عزم و حوصلہ کا رخ کمزوری کی طرف ہے تو اس سے زیادہ کمزور کوئی نہیں ہے۔ اور اگر اس کی قوت ارادی عزم و ہمت کی طرف متوجہ ہے تو اس سے زیادہ طاقت ور بھی کوئی نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو عزم و حوصلہ کی صورت میں بہت بڑی قوت عطا فرمائی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر معاشرے کے خصوصی افراد

۲ مئی ۲۰۱۴ء

رمضان المبارک، تربیت کا مہینہ

رمضان المبارک قرآن کریم اور روزوں کا مہینہ ہے، برکتوں اور رحمتوں کا مہینہ ہے، مغفرت اور نجات کا مہینہ ہے، جو اپنی بہاریں دکھا کر چند دنوں میں رخصت ہونے والا ہے۔ مبارکباد کے مستحق ہیں وہ سعادت مند جنہوں نے ان مبارک ساعات سے فیض حاصل کیا اور اپنے ذخیرۂ آخرت میں اضافہ کر لیا۔ اس کے ساتھ ساتھ رمضان المبارک صبر و مواخاۃ کا مہینہ بھی ہے کہ اس ماہ میں مسلمانوں کو بھوک پیاس پر صبر کر کے اپنے بھوکے پیاسے بھائیوں کی تکالیف کا احساس ہوتا ہے اور یہ احساس ان میں بھوکوں پیاسوں کے لیے ہمدردی اور غم خواری کے جذبات کو ابھارتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر رمضان المبارک، تربیت کا مہینہ

۱۵ اگست ۲۰۱۲ء

بین الاقوامی حلال کانفرنس لاہور

مختلف ممالک میں حلال فوڈ پر تحقیقی کام ہو رہا ہے اور غیر مسلم ممالک میں بلکہ غیر مسلم سوسائٹیوں میں بھی حلال فوڈ کی طرف لوگوں کی توجہ اس حوالہ سے مبذول ہو رہی ہے کہ انسانی صحت کے لیے حلال فوڈ زیادہ مفید اور نفع بخش ہے، اس لیے غیر مسلموں کا ایک حلقہ حلال فوڈ میں دلچسپی لینے لگا ہے جس سے اس کی اہمیت میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور اسی نسبت سے اس پر ریسرچ کی ضرورت ہر سطح پر بڑھتی جا رہی ہے۔ یہ سیمینار پاکستانی فوڈ کے صنعتکاروں کو اس سلسلہ میں بریف کرنے کے لیے اور اس نئے رجحان سے استفادہ کے امکانات کا جائزہ لینے کے لیے انعقاد پذیر ہوا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر بین الاقوامی حلال کانفرنس لاہور

۲۲ جنوری ۲۰۱۲ء

طلاق، انتہائی ناپسندیدہ فعل

روزنامہ پاکستان میں ۲۲ اکتوبر کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق ملک میں طلاق کی شرح تشویشناک حد تک بڑھ گئی ہے اور معاشرتی ناہمواری، غیر ملکی ثقافتی یلغار اور ذہنی ہم آہنگی کے فقدان کو اس کی اہم وجوہات شمار کیا جا رہا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ دس سال کے دوران پنجاب کی ماتحت عدالتوں میں صرف طلاق کے ایک لاکھ سے زائد دعوے دائر ہوئے ہیں اور مجموعی طور پر بیس ہزار سے زائد خواتین کو طلاق کی ڈگریاں جاری کی گئی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر طلاق، انتہائی ناپسندیدہ فعل

۱۴ نومبر ۲۰۱۱ء

مسجد، انسانی آبادی کا زیرو پوائنٹ

مسجد کو مسلم سوسائٹی میں دل کی حیثیت حاصل ہے کہ سوسائٹی کی تمام تر دینی و روحانی سرگرمیاں مسجد کے متحرک ہونے پر موقوف ہیں، سوسائٹی کا دینی و روحانی نظام مسجد کے ساتھ وابستہ ہے۔ اور میں عرض کیا کرتا ہوں کہ مسلم سوسائٹی میں مسجد کا مقام دل کا اور مدرسے کا مقام دماغ کا ہے، یہ ہمارے اجتماعی دینی نظام کے اعصابی مراکز ہیں اور انہی کی حرکت پر ہماری سب دینی حرکات وجود میں آتی ہیں۔ قرآن کریم کے ارشاد کے مطابق مسجد کو انسانی آبادی کے زیروپوائنٹ کی حیثیت حاصل ہے کہ روئے زمین پر سب سے پہلا جو گھر تعمیر کیا گیا وہ بیت اللہ ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مسجد، انسانی آبادی کا زیرو پوائنٹ

۲۸ اکتوبر ۲۰۱۱ء

معاشرتی عدل وانصاف میں پولیس کا کردار

ہمارے ڈی آئی جی صاحب باذوق آدمی ہیں، سال میں ایک آدھ بار ہماری آپ حضرات سے ملاقات کی کوئی صورت نکال لیتے ہیں، ہم گھنٹہ بھر کے لیے جمع ہوتے ہیں، بات چیت ہوتی ہے اور کم از کم اتنا ضرور ہو جاتا ہے کہ ہمارا کچھ خوف کم ہو جاتا ہے، اور شاید آپ حضرات کا خوف بھی کچھ کم ہو جاتا ہے۔ وہ اس طرح کہ سال بھر ہم آپ حضرات سے ڈرتے رہتے ہیں جبکہ یہ گھنٹہ پون گھنٹہ ہمیں میسر آجاتا ہے کہ ہم آپ حضرات کو ڈرا سکیں۔ بہرحال اس طرح کی کوئی صورت بن جاتی ہے جس کے لیے میں ڈی آئی جی صاحب کا شکر گزار ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر معاشرتی عدل وانصاف میں پولیس کا کردار

۲۰ فروری ۲۰۱۰ء

مسلمانوں کی معاشرتی زندگی میں مساجد کا کردار

نبی اکرمؐ اور خلفاء راشدینؓ کے خطبات جمعہ و عیدین میں یہ تفریق نہیں ہوتی تھی کہ فلاں بات عبادت اور تعلیم سے تعلق رکھتی ہے اس لیے اسے مسجد میں ہونا چاہیے اور فلاں بات سیاست اور حکومت سے متعلقہ ہے اس لیے اسے مسجد سے باہر کیا جانا چاہیے۔ مسلمانوں سے متعلقہ معاملات کا تعلق عبادت سے ہو یا تعلیم سے، سیاست سے ہو یا عدالت سے، معاشرے سے ہو یا تمدن سے، صلح سے ہو یا جنگ سے، تجارت سے ہو یا زراعت سے، مقامی امور سے ہو یا بین الاقوامی معاملات سے، ان سب کا تذکرہ مسجد میں ہوتا تھا اور ان کے بارے میں ہر اہم فیصلہ مسجد میں کیا جاتا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مسلمانوں کی معاشرتی زندگی میں مساجد کا کردار

۹ جون ۲۰۰۳ء

غیرت کا جذبہ اور اس کی شرعی حدود

حضرت عمرؓ کی اہلیہ ان کے دور خلافت میں فجر اور عشاء کی نماز کے لیے باقاعدگی سے مسجد جایا کرتی تھیں۔ حضرت عمرؓ کو یہ بات اپنی طبعی غیرت کی وجہ سے پسند نہیں تھی مگر منع بھی نہیں کرتے تھے۔ اس کی وجہ حضرت عبد اللہ بن عمرؓ یہ بتاتے ہیں کہ آپؐ کا ارشاد ہے کہ ’’اللہ کی بندیوں کو مسجد میں جانے سے نہ روکا کرو۔‘‘ اس لیے حضرت عمرؓ پسند نہ ہونے کے باوجود اپنی اہلیہ کو مسجد جانے سے نہیں روکتے تھے۔ چنانچہ غیرت کا اظہار بہت اچھی چیز ہے لیکن جو حقوق عورت کو شریعت نے دے رکھے ہیں انہیں غیرت کے نام پر ان سے روکنا درست نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر غیرت کا جذبہ اور اس کی شرعی حدود

۲۷ اپریل ۲۰۰۰ء

شادی اور اس کے سماجی اثرات

شادی کو عام طور پر ایک سماجی ضرورت سمجھا جاتا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ایک طبعی ضرورت ہے اور سماجی ضرورت بھی ہے۔ لیکن اسلام نے اسے صرف ضرورت کے دائرے تک محدود نہیں رکھا بلکہ زندگی کے مقاصد میں شمار کیا ہے اور نیکی اور عبادت قرار دیا ہے جس سے شادی کے بارے میں اسلام کے فلسفہ اور باقی دنیا کی سوچ میں ایک بنیادی فرق سامنے آتا ہے۔ کیونکہ اگر شادی کو محض ایک ضرورت اور مجبوری سمجھا جائے تو پھر یہ ضرورت جہاں پوری ہو اور جس حد تک پوری ہو بس اسی کی کوشش کی جائے گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر شادی اور اس کے سماجی اثرات

۱۵ اپریل ۲۰۰۰ء

’’غیرت‘‘ کے خلاف مہم

لاہور ایم اے او کالج کے ایک سابق پروفیسر نے راقم الحروف کو بتایا کہ ان سے ایک شاگرد نے ’’غیرت‘‘ کا انگریزی ترجمہ دریافت کیا تو تلاش بسیار کے باوجود وہ انگریزی میں غیرت کا مفہوم ادا کرنے والا کوئی لفظ معلوم نہ کر سکے۔ چنانچہ انہوں نے اپنے شاگرد کو یہ کہہ کر مطمئن کرنے کی کوشش کی کہ چونکہ مغرب کی سوسائٹی میں غیرت کا جذبہ سرے سے پایا ہی نہیں جاتا اس لیے ان کے ہاں کوئی لفظ بھی استعمال میں نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مغربی ممالک کے لوگ جب کسی مسلمان کو غیرت کے حوالہ سے کوئی کام کرتا دیکھتے ہیں تو انہیں تعجب ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ’’غیرت‘‘ کے خلاف مہم

۲۳ اگست ۱۹۹۹ء

اسلامی نظام اور ہمارا اجتماعی عمل

آج دنیا بھر میں مسلمان عید کی خوشی کے ساتھ سیدنا ابراہیمؑ کی عظیم قربانی کی یاد تازہ کر رہے ہیں۔ صاحبِ استطاعت حضرات جانور ذبح کریں گے اور اس عزم کا اظہار کریں گے کہ مولائے کریم! آج ہم آپ کی رضا اور خوشی کے لیے جانوروں کی قربانی دے رہے ہیں، کل اگر ضرورت پڑی اور آپ کا حکم ہوا تو اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے سے بھی گریز نہیں کریں گے۔ قربانی دراصل اسی عزم کو تازہ کرنے کا نام ہے اور حضرت ابراہیمؑ کی سنت ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے اپنے بیٹے حضرت اسماعیلؑ کی گردن پر چھری رکھ دی اور اپنی طرف سے انہیں قربان کر دیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اسلامی نظام اور ہمارا اجتماعی عمل

۱۶ اپریل ۱۹۹۹ء

حلال و حرام کا فرق اور عام مسلمان

مرکزی جامع مسجد میں اپنے دفتر میں بیٹھا تھا کہ دو اصحاب تشریف لائے، انہوں نے کہا کہ ہم مسئلہ پوچھنے آئے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ایک دوست نے، جو یورپ کے ایک ملک میں رہتا ہے، لاعلمی میں اس جانور کا گوشت کھا لیا ہے جس کا نام بھی نہیں لینا چاہیے۔ اب اس کا کیا حکم ہے اور اسے اس کی تلافی کے لیے کیا کرنا چاہیے؟ میں نے عرض کیا کہ اگر لاعلمی میں کھایا ہے تو اس کا قصور نہیں ہے، البتہ اس بے احتیاطی پر اسے توبہ استغفار کرنی چاہیے کیونکہ کوئی چیز کھاتے وقت ایک مسلمان کو اس کے بارے میں باخبر ہونا چاہیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حلال و حرام کا فرق اور عام مسلمان

۷ دسمبر ۱۹۹۸ء

تجرد کی زندگی اور اسلام

نکاح کے بارے میں فقہائے کرام نے صراحت کی ہے کہ ایک جوان مسلمان اگر نکاح کی اہلیت رکھتا ہے اور خاندانی اخراجات برداشت کر سکتا ہے تو نکاح کرنا اس کے لیے شرعاً ضروری ہے۔ اور ملت کے کسی بھی طبقہ کے لیے اس بات کی گنجائش نہیں ہے کہ وہ عبادت اور نیکی سمجھ کر نکاح سے گریز کرے، اس لیے کہ یہ فطرت کا تقاضہ ہے اور اسلام نے زندگی کے ہر معاملہ میں فطرت کی تعلیم دی ہے۔ مغرب کی اصل مشکل یہ ہے کہ اس کی مذہبی تعلیمات اور زندگی کے تقاضوں میں اس قدر بعد ہے کہ دونوں کو بیک وقت نباہنا ممکن ہی نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر تجرد کی زندگی اور اسلام

۹ اکتوبر ۱۹۹۶ء

حلال و حرام کی بنیاد ۔ سوسائٹی یا وحیٔ الٰہی

آج فیصلوں کا معیار یہ ہے کہ انسان جو کچھ چاہتا ہے وہ اس کا حق ہے۔ مختلف انسانوں کی خواہشات میں ٹکراؤ کی صورت میں سوسائٹی کی اکثریت جس خواہش کی توثیق کر دے وہ حق ہے، اور جس خواہش کو سوسائٹی کی اکثریت کی تائید حاصل نہ ہو پائے وہ ناجائز اور غلط ہے۔ اس خود ساختہ اصول نے اخلاقی قدروں، مذہبی روایات، اور انسانی فطرت کو جس بری طرح پامال کیا ہے اس کی ایک جھلک یورپ کے ایک بڑے مذہبی ادارے ’’چرچ آف انگلینڈ‘‘ کی ان ہدایات کی صورت میں دیکھی جا سکتی ہے جو بغیر شادی کے اکٹھے رہنے والے جوڑوں کے بارے میں ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حلال و حرام کی بنیاد ۔ سوسائٹی یا وحیٔ الٰہی

۲۹ جولائی ۱۹۹۶ء