پاکستان ۔ ملکی حالات

انتخابی اصلاحات بل میں ترامیم اور قوم کے شکوک و شبہات

انتخابی اصلاحات کے بل میں قادیانیوں کے حوالہ سے سامنے آنے والی خفیہ ترامیم کے بارے میں قومی اسمبلی میں نیا ترمیمی بل طے ہو جانے اور حکومتی حلقوں کی طرف سے متعدد وضاحتوں کے باوجود مطلع صاف نہیں ہو رہا اور شکوک و شبہات کا ماحول بدستور موجود ہے۔ اس سلسلہ میں یہ تاثر بھی سامنے لایا جا رہا ہے کہ کیا اس قسم کی فضا قائم کرنے کا مقصد کسی اور خفیہ کام سے توجہ ہٹانا تو نہیں ہے کیونکہ ماضی میں متعدد بار ایسا ہو چکا ہے کہ قوم کو ایک طرف الجھا کر پس منظر میں دوسرے کام سر انجام دیے جاتے رہے ۔ ۔ ۔

۲۴ اکتوبر ۲۰۱۷ء

سانحۂ مستونگ

اضاخیل پشاور کے ’’صد سالہ عالمی اجتماع‘‘ کے بعد سے اس بات کا خدشہ اور خطرہ مسلسل محسوس ہو رہا تھا کہ کچھ نہ کچھ ہوگا۔ صد سالہ اجتماع کی بھرپور کامیابی اور اس میں دیے جانے والے واضح پیغام نے دنیا کو ایک بار پھر بتا دیا ہے کہ شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ کا قافلہ دینی و قومی تحریکات کے لیے عدم تشدد پر مبنی پر امن جدوجہد کی پالیسی پر نہ صرف قائم ہے بلکہ آئندہ کے لیے اس نے اس کا تسلسل قائم رکھنے کا عزم نو بھی کر لیا ہے۔ اس لیے خیال تھا کہ تشدد کو اوڑھنا بچھونا بنانے والوں کے لیے اس کو ہضم کرنا مشکل ہوگا اور وہ اپنے غصے کا کہیں نہ کہیں اظہار ضرور کریں گے ۔ ۔ ۔

۱۴ مئی ۲۰۱۷ء

پرانا ریلوے اسٹیشن گوجرانوالہ کی مسجد کا معاملہ

وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق صاحب کی خدمت میں یکم اگست 2016ء کو رجسٹرڈ ڈاک سے میں نے ایک عریضہ ارسال کیا تھا جس کا مضمون یہ ہے۔ ’’گوجرانوالہ شہر میں پرانے ریلوے اسٹیشن کو گرا کر نئی عمارت تعمیر کی جا رہی ہے۔ اس سلسلہ میں آنجناب کو توجہ دلائی جا رہی ہے کہ ریلوے اسٹیشن میں گزشتہ تین عشروں سے ایک مسجد موجود ہے جس میں اردگرد بازار اور مارکیٹوں کے سینکڑوں لوگ پنج وقتہ نماز اور جمعۃ المبارک جماعت کے ساتھ ادا کرتے ہیں اور یہ مسجد اب بھی بارونق و آباد ہے ۔ ۔ ۔

۲۲ نومبر ۲۰۱۶ء

غیر ملکی این جی اوز کے خلاف کاروائی!

بلاشبہ ساری این جی اوز ایسی نہیں ہیں اور بہت سی ملکی اور غیر ملکی این جی اوز موجود ہیں جو انسانی فلاح و بہبود، معاشرتی ترقی، سماجی اصلاح اور خدمت خلق کے مختلف دائروں میں مثبت اور مفید خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔ لیکن جب سے استعماری قوتوں نے سماجی بہبود اور خدمت انسانیت کے مقدس عنوانات کو اپنے سیاسی اور استعماری مقاصد کے لیے ذریعہ بنانے کی ریت ڈالی ہے، ’’این جی او‘‘ کی اصطلاح ہی جاسوسی، تہذیبی خلفشار، اور سیاسی افراتفری کے فروغ کا عنوان بن کر رہ گئی ہے ۔ ۔ ۔

۱۷ جون ۲۰۱۵ء

سنی شیعہ کشمکش ۔ خواہشات اور حقائق

کسی شخص کو کینسر ہو جائے تو اس کے اسباب کا جائزہ لینا ضروری ہوتا ہے اور اسے بے حوصلہ ہونے سے بچانے کے لیے اسے اس کے مرض سے آگاہ نہ کرنا بھی بسا اوقات حکمت عملی کا تقاضہ بن جاتا ہے، لیکن علاج تو بہرحال کینسر کا ہی ہوتا ہے اور موجود و میسر حالات و اسباب کے دائرہ میں ہوتا ہے۔ سنّی شیعہ کشمکش اور تصادم کو ہم عالم اسلام کے اجتماعی وجود کے لیے کینسر سے کم نہیں سمجھتے، لیکن المیہ یہ ہے کہ یہ کینسر نہ صرف موجود ہے بلکہ مسلسل آگے بڑھ رہا ہے ۔ ۔ ۔

۱۵ اپریل ۲۰۱۵ء

دہشت گردی اور فوجی عدالتیں

ماضی میں قائم ہونے والی فوجی عدالتوں اور احتسابی اداروں کے بارے میں ایک دوسرے سے یہی شکایت چلی آرہی ہے کہ انہیں ایک دوسرے کے خلاف سیاسی انتقام کے لیے استعمال کیا گیا ہے اور بہت سے معاملات میں سے یہ شکایت صرف الزام کی حد تک محدود نہیں ہے۔ اس لیے دہشت گردی کی روک تھام کے لیے کیے جانے والے اقدامات بلا تفریق ہونے چاہئیں اور ان میں سے کسی مسلک، جماعت اور دینی یا سیاسی حلقے کے خلاف انتقامی کاروائی اور کسی کے حق میں یا کسی کے خلاف جانبداری کا تاثر نہیں ملنا چاہیے ۔ ۔ ۔

فروری ۲۰۱۵ء

قومی و مذہبی خود مختاری کی بحالی

سیکولر حلقوں کی یہ محنت دستور پاکستان کی اسلامی دفعات کو کمزور کرنے کے حوالہ سے بھی ہے، اور جو قوانین شرعی حوالہ سے موجود ہیں ان پر عملدرآمد میں ہر سطح پر رکاوٹیں کھڑی کرنے کے حوالہ سے بھی ہے۔ اس منصوبہ بندی کا مقابلہ اور پاکستان کے اسلامی تشخص کی حفاظت بلکہ نفاذِ اسلام کی عملی پیش رفت وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ جبکہ دوسرا اہم ترین مسئلہ قومی خود مختاری کی بحالی کا ہے کہ ہمارے قومی معاملات میں مغربی اور علاقائی حکومتوں کی مداخلت بڑھتے بڑھتے اب تسلط کے درجہ تک جا پہنچی ہیں ۔ ۔ ۔

۱۸ نومبر ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

ٹارگٹ کلنگ کا عذاب

شیخ القرآن حضرت مولانا غلام اللہ خانؒ کے پوتے اور مولانا اشرف علی کے فرزند مولانا مفتی امان اللہ کی المناک شہادت نے پچھلے زخم پھر سے تازہ کر دیے ہیں۔ دارالعلوم تعلیم القرآن کے المناک سانحہ کو ایک سال بھی نہیں گزرا کہ دارالعلوم کے نائب مہتمم سفاک قاتلوں کی گولیوں کا نشانہ بن گئے ہیں، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ چند روز قبل جامعہ بنوریہ کراچی کے مہتمم مولانا مفتی محمد نعیم کے داماد مولانا مسعود بیگ اور کراچی یونیورسٹی کے شعبہ اسلامیات کے سربراہ ڈاکٹر شکیل اوج دہشت گردی کی بھینٹ چڑھے ہیں ۔ ۔ ۔

۲۳ ستمبر ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

گوجرانوالہ میں قادیانی مسئلہ

گوجرانوالہ شہر کے حیدری روڈ پر رمضان المبارک کی ۲۹ (انتیسویں) شب کو رونما ہونے والے سانحہ کے بارے میں ملک کے مختلف حصوں سے احباب تفصیلات دریافت کر رہے ہیں اور ملکی و بین الاقوامی پریس میں طرح طرح کی خبریں سامنے آرہی ہیں۔ اس لیے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ وہاں کے ذمہ دار حضرات کی طرف سے ملنے والی اطلاعات کی روشنی میں میسر معلومات سے قارئین کو آگاہ کر دیا جائے۔ حیدری روڈ پر قادیانیوں کے پندرہ بیس خاندان ایک عرصہ سے رہائش پذیر ہیں اور اپنی سرگرمیوں میں مصروف رہتے ہیں ۔ ۔ ۔

۲ اگست ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

دہشت گردی کے خلاف قومی مہم

طبیب کسی بھی طریق علاج سے تعلق رکھتا ہو، مریض کا علاج شروع کرنے سے پہلے دو باتیں ضرور چیک کرتا ہے۔ ایک یہ کہ اسے بیماری کیا ہے اور دوسری یہ کہ اس بیماری کا سبب کیا ہے۔ بیماری اور اس کے سبب کا تعین کیے بغیر کوئی معالج کسی مریض کے علاج کا آغاز نہیں کرتا۔ پھر وہ صرف بیماری کا علاج نہیں کرتا بلکہ سبب کے سدّباب کا بھی اہتمام کرتا ہے۔ بسا اوقات سبب سے پیچھا چھڑانے کو بیماری کے علاج سے بھی مقدم کرتا ہے، اس لیے کہ جب تک سبب کا خاتمہ نہ ہو کسی بیماری کے علاج کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہو پاتی ۔ ۔ ۔

۲۲ جولائی ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

مفتی محمد عیسیٰ خان گورمانی کے داماد کا اغوا

مولانا مفتی محمد عیسیٰ خان گورمانی ایک محقق اور نکتہ رس مفتی کے طور پر ملک بھر میں تعارف رکھتے ہیں۔ گزشتہ روز ان کے ساتھ ایک سانحہ پیش آیا ہے جس کی وجہ سے یہ سطور تحریر کرنے کی ضرورت پیش آئی ہے، وہ یہ کہ رات کے پچھلے پہر خفیہ اداروں کے اہل کاروں نے مولانا حافظ احمد اللہ گورمانی کے گھر میں دروازے توڑ کر گھس جانے کے بعد خوف و ہراس کی فضا قائم کی اور مفتی صاحب محترم کے داماد مولانا حافظ محمد آصف کو اٹھا کر لے گئے جن کے بارے میں مسلسل رابطوں کے باوجود ابھی تک کچھ معلوم نہیں ہو رہا ۔ ۔ ۔

۲۵ اپریل ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

’’شہید کون‘‘ کی بحث

جس طرح امریکہ نے ڈرون حملہ کے ذریعہ حکیم اللہ محسود کو قتل کر کے یہ بات ایک بار پھر واضح کر دی ہے کہ وہ حکومت پاکستان اور تحریک طالبان پاکستان کے درمیان مذاکرات کی کسی کوشش کو کامیاب نہیں دیکھنا چاہتا، اسی طرح پاکستانی میڈیا کے بعض سرکردہ لوگوں نے بھی اپنی اس پوزیشن کا رہا سہا ابہام دور کر دیا ہے کہ ان کی ترجیحات میں سسپنس پیدا کرنے اور ذہنی و فکری خلفشار فروغ دینے کو سب باتوں پر فوقیت حاصل ہے۔ حتیٰ کہ ملک و قوم کے مجموعی مفاد کو بھی وہ سب کچھ کر گزرنے کے بعد ہی دیکھنے کے عادی ہوگئے ہیں ۔ ۔ ۔

دسمبر ۲۰۱۳ء

سانحۂ پشاور اور قومی احتجاج

سانحہ پشاور پر احتجاج و اضطراب کا سلسلہ جاری ہے اور مسیحی کمیونٹی کے خلاف کی جانے والی اس المناک کاروائی کے خلاف ردِ عمل قومی احتجاج کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے جو ایک خوش آئند امر ہے۔ گزشتہ شب جیو ٹی وی کے پروگرام کیپیٹل ٹاک میں حامد میر صاحب کے ساتھ شرکت کا موقع ملا تو میں نے بشپ آف پشاور سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے عرض کیا کہ یہ صرف مسیحی کمیونٹی کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ایک قومی سانحہ کی حیثیت رکھتا ہے اور اس ظلم و تشدد پر پوری قوم آپ کے ساتھ شریکِ غم ہے ۔ ۔ ۔

۲۶ ستمبر ۲۰۱۳ء

مدرسہ انوار العلوم کے طلبہ کی گرفتاری

پولیس حکام نے کہا کہ پچھلے دنوں چلاس میں شہید ہونے والے ایس پی ہلال خان شہیدؒ اور ان کے دیگر رفقاء کے قتل کے کیس کی تفتیش کے سلسلہ میں انہیں مدرسہ انوار العلوم کے کچھ طلبہ پر شک ہے اس لیے چلاس اور گلگت سے تعلق رکھنے والے طلبہ کو وہ تفتیش کے لیے ساتھ لے جانا چاہتے ہیں۔ اس پر گلگت وغیرہ سے تعلق رکھنے والے طلبہ کو الگ کر دیا گیا اور وہ اس علاقہ کے 22 طلبہ کو یہ کہہ کر اپنے ساتھ لے گئے کہ ان میں سے جو طلبہ ملوث پائے گئے انہیں متعلقہ پولیس کے حوالہ کر دیا جائے گا ۔ ۔ ۔

۱۶ ستمبر ۲۰۱۳ء

سانحۂ لال مسجد سے متعلق عدالتی کمیشن کی رپورٹ

لال مسجد کے سانحہ کے بارے میں عدالتی کمیشن کی رپورٹ منظر عام پر آنے کے بعد یہ بات ایک بار پھر واضح ہوگئی ہے کہ جامعہ حفصہؓ اور لال مسجد کے خلاف خونی آپریشن کی ذمہ داری بہرحال جنرل (ر) پرویز مشرف پر عائد ہوتی ہے جو اس وقت ملک کے صدر تھے اور انہی کے حکم پر یہ المناک خونریز کاروائی ہوئی تھی جس کے نتیجے میں بہت سے دیگر افراد کے ساتھ حضرت مولانا محمد عبد اللہ شہیدؒ کی اہلیہ محترمہؒ اور ان کے فرزند غازی عبد الرشیدؒ جام شہادت نوش کر گئے تھے اور پورا ملک صدمہ اور رنج و غم میں ڈوب گیا تھا ۔ ۔ ۔

۱۷ جولائی ۲۰۱۳ء

ملالہ یوسف زئی پر حملہ

ہمارا ماتھا اسی وقت ٹھنک گیا تھا جب ہم نے دیکھا کہ ملالہ جس حملے میں زخمی ہوئی ہیں، اسی حملے میں ان کے ساتھ اسی سکول کی دو اور طالبات شازیہ اور کائنات بھی زخمی ہوئی ہیں۔ لیکن کوریج اور پروٹوکول دونوں حوالوں سے شازیہ اور کائنات اس سلوک کی مستحق قرار نہیں پائیں جو ان کی ایک زخمی ساتھی کو ملا۔ حالانکہ وہ دونوں بھی سوات کی رہنے والی تھیں، اسی سکول کی طالبات تھیں، قوم کی بچیاں تھیں، ایک ہی حملہ میں ملالہ کے ساتھ زخمی ہوئی تھیں اور ان کے جسم سے خارج ہونے والا خون بھی سرخ رنگ کا ہی تھا ۔ ۔ ۔

نومبر ۲۰۱۲ء

حالات حاضرہ ۔ ہوش مندانہ حکمت عملی کی ضرورت

اہلِ فکر و دانش کے باہم مل بیٹھنے کی ضرورت ہے، اس طرزِ عمل پر نظر ثانی کی ضرورت ہے، پورے خطے کی مجموعی صورتحال کا گہرائی کے ساتھ جائزہ لینے کی ضرورت ہے، اس سلسلے میں مختلف ممالک میں کام کرنے والوں کے ساتھ رابطہ و مشاورت کی ضرورت ہے، عالمی استعماری قوتیں اس کشمکش کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کرنے کے لیے جس طرح مستعد و متحرک ہیں اسے سمجھنے کی ضرورت ہے، اور جذباتیت و سطحیت سے ہٹ کر مضبوط علمی و فکری اساس پر جدوجہد کی نئی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے ۔ ۔ ۔

اگست ۲۰۱۲ء

قادیانی مسئلے کو ری اوپن کرنے کی تمہیدات؟

لاہور کے سانحہ کے ذمہ دار عناصر جو بھی ہیں انھوں نے ملک، دین اور قوم تینوں کو نقصان پہنچایا ہے۔ اگر خدا نخواستہ کسی انتہا پسند تنظیم نے اس کی پلاننگ کی ہے تو یہ قادیانیوں کے ساتھ نمٹنے کا انتہائی غلط طریق کار ہے۔ اور اگر یہ کارروائی پس پردہ خفیہ ہاتھوں کی کارستانی ہے تو ملک کو نقصان پہنچانے اور پاکستان کے داخلی معاملات میں بیرونی مداخلت کا دائرہ کار وسیع کرنے کی کسی سازش کاحصہ ہے۔ اس بات کا فیصلہ کرنا قانون اور عدالت کا کام ہے کہ اس افسوس ناک واقعہ کے عوامل واسباب کیا ہیں اور یہ کن لوگوں کی کارروائی ہے ۔ ۔ ۔

جولائی ۲۰۱۰ء

حالات حاضرہ ۔ علمائے دیوبند کا اجتماعی موقف

ہمارے ملک کے بہترین وسائل ان عوامی امنگوں کو دور کرنے اور ان کے اسباب کا ازالہ کرنے کی بجائے امریکہ کی مسلط کی ہوئی جنگ میں امریکی مفادات کے تحفظ کے لیے خرچ ہو رہے ہیں۔ جبکہ امریکہ کی طرف سے ہماری سرحدوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی کر کے ان ڈرون حملوں کا سلسلہ برابر جاری ہے جن میں ہمارے بے گناہ شہریوں، عورتوں او ر بچوں کی بہت بڑی تعداد شہید ہو کر بستیاں اجڑ چکی ہیں۔ اور یہ بات واضح ہے کہ امریکہ نے اپنی بالادستی قائم کرنے اور عالم اسلام کے وسائل پر قبضہ کرنے اور اسلام اور امت مسلمہ کے تہذیب و تمدن کو تباہ کرنے کی کاروائیوں میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔ ۔ ۔

مئی ۲۰۱۰ء

دہشت گردی کے خلاف جنگ اور علماء

علماء کرام سے ملک کے بعض حلقوں کا یہ مسلسل مطالبہ ہے کہ وہ خود کش حملوں کے خلاف اجتماعی فتویٰ جاری کریں اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حکومتی پالیسی کی حمایت کا دو ٹوک اعلان کریں، لیکن موجودہ صورت حال میں یہ بات بہت مشکل ہے کہ علماء کرام حکومت کی پالیسیوں کی آنکھیں بند کر کے حمایت کریں اور نہ ہی حکومت کو اس کی توقع کرنی چاہیے، اس لیے کہ جو بات جس حد تک درست ہوگی، اس کی ضرور حمایت کی جائے گی، لیکن جو بات درست نہیں ہوگی، اس کی حمایت نہیں کی جائے گی ۔ ۔ ۔

جنوری ۲۰۱۰ء

’’دہشت گردی‘‘ کے خلاف جنگ اور پارلیمنٹ کی متفقہ قرارداد

ملک میں امن وامان کی صورت حال کے حوالے سے اس وقت سب سے بڑا مسئلہ’’ دہشت گردی اور اس کے خلاف جنگ‘‘ کے عنوان سے سرفہرست ہے اور اس جنگ کا پھیلاؤ جوں جوں بڑھتا جا رہا ہے، عوام کے اضطراب میں اضافے کے ساتھ ساتھ قومی خود مختاری اور ملکی سا لمیت کے بارے میں سوالات میں بھی شدت پیدا ہو رہی ہے۔ یہ ’’دہشت گردی ‘‘ کیا ہے اور اس کے خلاف جنگ کے اہداف ومقاصد کیا ہیں ۔ ۔ ۔

نومبر ۲۰۰۸ء

مالاکنڈ ڈویژن میں شرعی عدالت

ہمیں مولانا صوفی محمد اور مولانا فضل اللہ کی تحریکوں کے طریق کار سے اتفاق نہیں ہے اور ہم اس ملک میں نفاذ اسلام کے لیے مسلح جدوجہد کے بارے میں تحفظات رکھتے ہیں۔ لیکن ہمیں ان کے اس موقف سے اتفاق ہے کہ باقی پاکستان میں اسلامی قوانین کانفاذ جب بھی عمل میں آئے، مگر ان کی سا بقہ ریاست سوات کی حدود میں جہاں پاکستان کے ساتھ اس کے الحاق سے پہلے تک شرعی قوانین اور قاضی عدالتیں موجود تھیں، کم از کم وہاں تو حسب سا بق شرعی عدالتوں کی عمل داری قائم کر دی جائے ۔ ۔ ۔

فروری ۲۰۰۸ء

متاثرین زلزلہ اور ہماری مذہبی واخلاقی ذمہ داری

جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت مبارکہ یہ تھی کہ ایسے مواقع پر وہ اللہ تعالیٰ کے حضور پریشانی کا اظہار فرماتے اور کثرت سے استغفار کرتے تھے، اس لیے ہمارے لیے بھی اسوۂ نبوی یہی ہے کہ توبہ واستغفار کا اہتمام کریں اور اپنے اعمال وکردار پر نگاہ کرتے ہوئے ان کی اصلاح کی کوشش کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ اور استغفار کو اجتماعی طور پر اپنا معمول بنائیں۔ زلزلہ سے متاثر ہونے والے بھائیوں کی مدد ہماری دینی، اخلاقی اور قومی ذمہ داری ہے جس کے لیے ہمیں تمام ممکن ذرائع اختیار کرنے چاہئیں اور ان کی بحالی و آبادی ۔ ۔ ۔

نومبر ۲۰۰۵ء

سنی شیعہ کشیدگی: فریقین ہوش کے ناخن لیں

سنی شیعہ مسلح کشمکش میں بیرونی عوامل کی کارفرمائی سے انکار نہیں اور ہم اس کی کئی بار اپنی معروضات میں نشان دہی کر چکے ہیں، لیکن بنیادی طور پر یہ مسئلہ اہل سنت اور اہل تشیع کی محاذ آرائی کا ہے اور خارجی عوامل کے لیے بھی آلہ کار اور ایندھن کا کام ہر دو طرف کے جذباتی نوجوان سرانجام دیتے ہیں۔ اس لیے دیگر عوامل ومحرکات سے سردست صرف نظر کرتے ہوئے اہل سنت اور اہل تشیع کے رہنماؤں، بالخصوص جذباتی نوجوانوں سے دو گزارشات کرنے کو جی چاہ رہا ہے ۔ ۔ ۔

نومبر ۲۰۰۴ء

مولانا محمد اعظم طارق کی بھوک ہڑتال

عربی ادب کی کتابوں میں کہاوت بیان کی جاتی ہے کہ ایک لڑکا نہر میں ڈبکیاں کھا رہا تھا اور مدد کے لیے چیخ و پکار کر رہا تھا کہ کوئی اسے آکر ڈوبنے سے بچا لے۔ ایک شخص نے نہر کے کنارے سے گزرتے ہوئے اسے دیکھا اور وہیں کھڑے ہو کر اسے ملامت کرنے لگا کہ اگر تجھے تیرنا نہیں آتا تھا تو نہر میں چھلانگ کیوں لگائی تھی؟ یہ بے وقوفی تم نے کیوں کی؟ نہر میں اترتے ہوئے تم نے کیوں نہ سوچا کہ یہ کتنی گہری ہے؟ ۔ ۔ ۔

۷ اگست ۲۰۰۲ء

پروفیسر حافظ محمد سعید کی گمشدگی اور حکومتی ذمہ داری

مولانا اعظم طارق کی بھوک ہڑتال کا مسئلہ ابھی حل نہیں ہوا کہ پروفیسر حافظ محمد سعید کی گمشدگی کا مسئلہ کھڑا ہوگیا ہے اور اس کی پیچیدگی اور سنگینی میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ پروفیسر حافظ سعید کا تعلق اہل حدیث مکتب فکر سے ہے، انہوں نے ’’لشکر طیبہ‘‘ کے نام سے مجاہدین کی جماعت بنائی جس نے بہت جلد مجاہدین کی تنظیموں میں نمایاں مقام حاصل کر لیا۔ وہ مقبوضہ کشمیر میں کشمیری مجاہدین کی حمایت کے لیے شروع سے سرگرم عمل رہے جبکہ افغانستان میں طالبان حکومت کی حمایت اور امریکی عزائم کی مذمت و مخالفت میں پروفیسر حافظ محمد سعید ہمیشہ پیش پیش رہے ۔ ۔ ۔

۶ اگست ۲۰۰۲ء

مولانا محمد اعظم طارق کی نظر بندی

انسدادِ دہشت گردی کی عدالت سے مولانا محمد اعظم طارق کی ضمانت منظور ہوجانے کے باوجود انہیں حکومت پنجاب نے مزید تین ماہ کے لیے نظربندی کے عنوان سے زیرحراست رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ این این آئی کی ایک رپورٹ کے مطابق مولانا محمد اعظم طارق کو حکومتی حلقوں کی طرف سے یہ پیشکش کی گئی ہے کہ اگر وہ جلاوطنی قبول کر لیں تو انہیں رہا کیا جا سکتا ہے ورنہ حکومت اس بات پر مجبور ہے کہ انہیں مسلسل زیرحراست رکھے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مولانا موصوف نے یہ پیشکش قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے ۔ ۔ ۔

۲۱ جولائی ۲۰۰۲ء

دستور کی اسلامی دفعات اور سرکاری وضاحت

وزارت قانون کے ترجمان کی مذکورہ وضاحت کے اس جملہ کو دوبارہ دیکھ لیں کہ ’’اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کی دفعات معطل ہونے کے باوجود پاکستان کو ہر ممکن طور پر اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کے مطابق ہی چلایا جائے گا۔‘‘ اس جملہ میں ہمیں دو باتیں کھٹک رہی ہیں: ایک بات دستور معطل ہونے یا دستور کی دفعات معطل ہونے میں اٹکی ہوئی ہے۔ اگر دستور معطل ہوا ہے تو اس کی اسلامی دفعات کیسے باقی ہیں اور اگر دستور کی دفعات معطل ہوئی ہیں تو معطل ہونے والی اور بحال رہنے والی دستوری دفعات کی تفصیل کہاں ہے؟ دوسری بات ’’ہر ممکن طور پر’’ کا جملہ ہے ۔ ۔ ۔

۱۲ مارچ ۲۰۰۰ء

اسلامی جمہوریہ پاکستان یا صرف پاکستان؟

بارہ اکتوبر ۱۹۹۹ء کو چیف آف آرمی اسٹاف جنرل پرویز مشرف کی طرف سے چیف ایگزیکٹو کی حیثیت سے ملک کا نظم و نسق سنبھالنے اور ۱۹۷۳ء کا دستور معطل کرنے کے اعلان کے بعد ملک کے دینی حلقے مسلسل ایک تشویش سے دوچار ہیں اور مختلف حوالوں سے اس کا اظہار ہو رہا ہے کہ دستور کی معطلی کے بعد دستور کی اسلامی دفعات بالخصوص قرارداد مقاصد اور عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ سے متعلقہ شقوں کی کیا حیثیت باقی رہ گئی ہے؟ ۔ ۔ ۔

۱۷ فروری ۲۰۰۰ء

حکیم محمد سعید شہیدؒ اور مولانا محمد عبد اللہ شہیدؒ

گزشتہ روز ایک قومی اخبار میں کے پی آئی کے حوالہ سے وفاقی وزیرداخلہ چودھری شجاعت حسین کا یہ اعلان نظر سے گزرا کہ اسلام آباد کی مرکزی جامع مسجد کے سابق خطیب مولانا محمد عبد اللہ شہیدؒ کے قاتلوں کی گرفتاری یا نشاندہی پر حکومت کی طرف سے پانچ لاکھ روپے بطور انعام دیے جائیں گے۔ یہ پڑھ کر بے حد تعجب ہوا کہ حکومت کو دو ماہ بعد مولانا عبدا للہ شہیدؒ اچانک کیسے یاد آگئے؟ شہیدِ پاکستان حکیم محمد سعیدؒ اور مولانا عبد اللہؒ ایک ہی روز دہشت گردوں کا نشانہ بنے تھے، دونوں پاکستان کے محب وطن شہری اور شریف انسان تھے اور اپنی اپنی خدمات کے دائروں میں دونوں ممتاز حیثیت کے مالک تھے ۔ ۔ ۔

۳۰ دسمبر ۱۹۹۸ء

توہین رسالت کا قانون اور مسلم مسیحی یکجہتی

لاہور کے بشپ کیتھ لیزلی نے ڈاکٹر جان جوزف کے قتل کے خدشات کی نشاندہی کرنے کے علاوہ یہ بات بھی کہی کہ انبیاء کرامؑ کی توہین پر موت کی سزا صرف اسلام کا قانون نہیں ہے بلکہ بائبل کا حکم بھی یہی ہے، اس لیے اس قانون پر مسلمانوں اور مسیحیوں میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ البتہ وہ اتنا ضرور چاہیں گے کہ قانون کے نفاذ کے طریق کار کو ازسرِنو ایسے مرتب کیا جائے کہ کسی شخص کو اپنے کسی ذاتی مخالف کے خلاف اتنا بڑا الزام لگا کر اسے عدالتوں میں گھسیٹنے کی آزادی حاصل نہ ہو ۔ ۔ ۔

۲۴ مئی ۱۹۹۸ء

سنی شیعہ کشیدگی کی آڑ میں!

یہ امر واقعہ ہے کہ سوسائٹی کے ایسے غنڈہ عناصر کی اچھی خاصی تعداد نے، جن کا پیشہ ہی غنڈہ گردی ہے، ان دونوں کیمپوں کو پناہ گاہ بنا لیا ہے اور ان کی چھتریوں تلے اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل میں انہیں بدستور آسانی محسوس ہو رہی ہے۔ ان کے علاوہ ذاتی انتقام اور خاندانی جھگڑوں کے لیے بھی اس ’’شیلٹر‘‘ کو استعمال کیا گیا ہے۔ ان سب عوامل نے مل کر فرقہ واریت کو ایک مہیب دیو کی شکل دے ڈالی ہے جسے قابو میں لانے کی کوئی تدبیر کارگر نہیں ہو رہی ۔ ۔ ۔

۳۰ مارچ ۱۹۹۸ء

کھاریاں فائرنگ کیس ۔ ارباب حل و عقد کی خدمت میں عرضداشت

مقدمہ کی تفتیش میں گرفتار شدگان کو انصاف کے معروف تقاضوں سے محروم رکھنے کے لیے مبینہ طور پر گورنر پنجاب انتظامیہ و پولیس پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ اس صورتحال کا فوری طور پر نوٹس لیا جائے۔ اس سلسلہ میں میری تجویز یہ ہے کہ ہائی کورٹ کے کسی جج کے ذریعے اس کیس کی کھلی تحقیقات کرائی جائے اور گورنر پنجاب کے خلاف جہلم کے شہریوں کے الزامات کی غیر جانبدارانہ انکوائری کے ذریعے اصل حقائق کو منظر عام پر لا کر انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں ۔ ۔ ۔

اپریل ۱۹۹۵ء

قادیانیوں کی تازہ مہم اور حکومت کی ذمہ داری / گلگت کو صوبہ بنانے کا منصوبہ

آئی جی پنجاب کی پریس کانفرنس میں مولانا محمد اسلم قریشی کی اچانک برآمدگی کے ڈرامہ کے ساتھ ہی ملک بھر میں مرزا طاہر احمد کے اس کتابچہ کی وسیع پیمانے پر تقسیم و اشاعت کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے جس میں قادیانی جماعت کے سربراہ نے دنیا بھر کے مسلمانوں کو ’’مباہلہ‘‘ کا چیلنج دے کر بظاہر اپنی پاک دامنی اور سچائی کا ثبوت دینے کی کوشش کی ہے۔ مباہلہ کا یہ چیلنج لندن سے رجسٹرڈ ڈاک کے ذریعے مدیر ترجمان اسلام لاہور کو بھی موصول ہوا ہے، اس کا مفصل جواب آئندہ شمارہ میں دیا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔

۵ اگست ۱۹۸۸ء

مولانا محمد اسلم قریشی کی بازیابی

جہاں تک مولانا محمد اسلم قریشی کی سلامتی اور واپسی کا تعلق ہے اس پر ہر طبقہ کی طرف سے اطمینان کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ ان کی زندگی کے بارے میں جو خدشات مسلسل باعث اضطراب بنے ہوئے تھے وہ دور ہوگئے ہیں مگر آئی جی پولیس کی موجودگی میں پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران انہوں نے ازخود روپوش ہونے، اپنے بارے میں عوامی تحریک کا علم ہونے کے باوجود واپس نہ آنے، ایران کی فوج میں بھرتی ہونے اور اچانک واپس آنے کی جو کہانی بیان کی ہے اسے ملک کے دینی و عوامی حلقوں میں بے یقینی اور شکوک و شبہات کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔

جولائی ۱۹۸۸ء ۔ جلد ۳۱ شمارہ ۲۸ و ۲۹

گلگت کے فسادات اور حکومت کی ذمہ داری

گلگت میں رمضان المبارک کے آخر میں سنی شیعہ کشیدگی میں جو اچانک اضافہ ہوا تھا وہ بالآخر خونریز فسادات پر منتج ہوا اور سینکڑوں افراد کی جانیں ان فسادات کی نذر ہوگئیں۔ سینکڑوں جانوں کی بھینٹ وصول کرنے والے ان فرقہ وارانہ فسادات کے اسباب کیا ہیں اور کون عناصر ان کے ذمہ دار ہیں؟ اس کا جائزہ لینے کے لیے متحدہ سنی محاذ کا ایک وفد اس ہفتہ کے دوران گلگت جا رہا ہے اور اس سلسلہ میں حتمی بات اس وفد کی رپورٹ کے بعد ہی کی جا سکتی ہے۔ تاہم اب تک موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق واقعات کی ترتیب کچھ اس طرح بنتی ہے ۔ ۔ ۔

جون ۱۹۸۸ء ۔ جلد ۳۱ شمارہ ۲۲

اوجڑی کیمپ راولپنڈی کا سانحہ

۱۰ اپریل کو راولپنڈی میں اوجڑی کیمپ کے اسلحہ کے ڈپو میں آگ لگنے سے راولپنڈی اور اسلام آباد کے شہریوں پر جو قیامت ٹوٹی ہے اس سے پورا ملک نہ صرف سوگوار ہے بلکہ رنج و الم اور اضطراب کی ٹیسیں رہ رہ کر اسلامیانِ پاکستان کے دلوں میں اٹھ رہی ہیں۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ ۔ ۔

۲۲ اپریل ۱۹۸۸ء

قادیانی سرگرمیاں اور سرکاری تفتیشی ادارے

سراغرسانی اور تفتیش کے سرکاری اداروں کا کام صرف سیاست دانوں اور علماء کا پیچھا کرنا نہیں بلکہ وطن دشمن عناصر کی سرگرمیوں کا تعاقب کرنا اور ان کو بے نقاب کر کے ملک و قوم کو ان سے بچانا بھی ان اداروں کی ذمہ داری میں شامل ہے۔ حکومت پاکستان کا فرض ہے کہ وہ مندرجہ بالا سنگین امور کے بارے میں صحیح صورتحال کی وضاحت کر کے عوام کو مطمئن کرے ۔ ۔ ۔

۱۱ دسمبر ۱۹۸۷ء

زندہ باد افغان مجاہدین / اسلم قریشی کیس اور برطانوی حکومت

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ایک بار پھر افغانستان سے روسی افواج کی مکمل واپسی کا مطالبہ کیا ہے اور اس دفعہ یہ مطالبہ پہلے سے زیادہ اکثریت کے ساتھ کیا گیا ہے جو یقیناً افغان مجاہدین کی عظیم اصولی اور اخلاقی کامیابی ہے۔ روسی حکومت اور کابل کی کٹھ پتلی انتظامیہ نے کچھ عرصہ سے جنگ بندی کی یکطرفہ پیشکش اور قومی افغان مصالحت کے عنوان سے سیاسی حربے اختیار کر کے دنیا کو یہ باور کرانے کی کوشش شروع کر رکھی تھی کہ روس اپنی افواج واپس بلانے کے لیے تیار ہے لیکن افغان مجاہدین قومی مصالحت کی طرف پیش رفت نہ کر کے روسی افواج کی واپسی میں تاخیر کا باعث بن رہے ہیں ۔ ۔ ۔

۲۰ نومبر ۱۹۸۷ء

فرقہ ورانہ تخریب کاری اور حکومتی رویہ

امورِ داخلہ کے وزیر مملکت راجہ نادر پرویز نے روزنامہ جنگ لاہور کو انٹرویو دیتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ ’’حکومت کے علم میں لایا گیا ہے کہ تخریب کاروں کے ایک گروہ نے ۱۲ ربیع الاول کے موقع پر ملک میں وسیع پیمانے پر فساد بپا کرنے کا منصوبہ بنا رکھا ہے۔‘‘ (روزنامہ جنگ لاہور ۔ ۳۰ اکتوبر ۱۹۸۷ء) ۔ ملک کے مختلف حصوں میں تسلسل کے ساتھ ہونے والے بم دھماکوں کے پس منظر میں وفاقی وزیر مملکت کا یہ خدشہ اگرچہ کچھ زیادہ خلافِ قیاس نہیں ہے لیکن سوال یہ ہے کہ خود حکومت کا رویہ اس سلسلہ میں کیا ہے؟

۶ نومبر ۱۹۸۷ء

بنوری ٹاؤن کا المیہ

گزشتہ ہفتہ کراچی میں اہلِ تشیع کے چہلم کے جلوس کے موقع پر جو کچھ ہوا اس پر پورے ملک میں افسوس اور اضطراب کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ بالخصوص بنوری ٹاؤن کی جامع مسجد اور جامعۃ العلوم الاسلامیہ جیسے عظیم دینی و علمی ادارے پر پولیس اور فوج کی کارروائی سے ایک نوجوان کی شہادت، نصف درجن کے قریب نوجوانوں کے زخمی ہونے اور مسجد کے قالین جل جانے کے سانحہ نے اس کرب و اضطراب کو دوچند کر دیا ہے ۔ ۔ ۔

۳۰ اکتوبر ۱۹۸۷ء

کرم ایجنسی کے افسوسناک واقعات

کراچی میں بموں کے افسوسناک دھماکوں میں سینکڑوں بے گناہ شہریوں کی المناک شہادت کے بعد شمال مغربی سرحد پر واقع قبائلی علاقہ کرم ایجنسی میں ہونے والے اضطراب انگیز سانحہ نے پوری قوم کے دلوں کو کرب و اضطراب کی ناقابل برداشت کیفیت سے دوچار کر دیا ہے اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ بیرونی لابیاں پاکستان کی نظریاتی اور جغرافیائی وحدت کو پارہ پارہ کرنے کے لیے پوری قوت کے ساتھ مصروفِ عمل ہیں ۔ ۔ ۔

۱۴ اگست ۱۹۸۷ء

اور اب کراچی؟

ملک کے امن و امان اور شہریوں کی جان و مال کو تحفظ کے احساس سے یکسر محروم کر دینے والے ان دھماکوں کے پسِ منظر کے بارے میں مختلف باتیں کہی جا رہی ہیں۔ پاکستان کی افغان پالیسی سے لے کر ملک میں نئے مارشل لاء کی راہ ہموار کرنے کی تیاری تک کی باتیں اس ضمن میں سامنے آرہی ہیں مگر ان تمام قیاس آرائیوں سے قطع نظر سب سے زیادہ غور طلب بات یہ ہے کہ آخر ہمارے حکمرانوں کی ذمہ داری اس سلسلہ میں کیا ہے؟ ۔ ۔ ۔

۲۴ جولائی ۱۹۸۷ء

مجددِ زمان کا فتنہ / اسرائیل کی تازہ جارحیت / اصلاحی کمیٹیاں

کچھ دنوں سے اخبارات میں ’’سحر‘‘ نامی ایک پندرہ روزہ کے اشتہارات شائع ہو رہے ہیں جن میں بعض قومی قائدین کی موت اور لاہور سمیت کچھ شہروں کی تباہی کی پیش گوئیوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اب تک ہم اسے مزاحیہ قسم کا کوئی جریدہ سمجھتے رہے ہیں جو اس قسم کی حرکات سے مارکیٹ میں اپنی جگہ بنانے کی کوششوں میں مصروف ہے مگر آج ہی ایک بزرگ کے پاس ’’سحر‘‘ کا تازہ شمارہ دیکھ کر اس کا کچھ دیر مطالعہ کیا تو احساس ہوا کہ یہ کوئی مزاحیہ یا بلیک میلر قسم کا جریدہ نہیں بلکہ ایک مستقل فتنہ کی آبیاری کوشش ہے ۔ ۔ ۔

۲۴ مارچ ۱۹۷۸ء

مولانا ابوالکلام آزادؒ پر الزام / نوائے وقت کا طرز عمل/ گھر بیٹھے تنخواہ

لاہور کے مؤقر ہفت روزہ ’’اسلامی جمہوریہ‘‘ میں شائع ہونے والی ایک ہندو مصنف ایم او متھائی کی کتاب آج کل صحافتی حلقوں میں زیربحث ہے جس میں مولانا ابوالکلام آزادؒ پر شراب نوشی اور شراب کے نشے میں ’’انڈیا ونز فریڈم‘‘ لکھنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ مولانا ابوالکلام آزادؒ کے کردار کے بارے میں کوئی منفی بات کہی گئی ہے ورنہ اس سے قبل مولانا آزادؒ کے سیاسی نظریات و افکار اور طرزعمل سے شدید ترین اختلاف رکھنے والوں نے بھی ان کی علم و ذہانت او پختگی کردار کا اعتراف کیا ہے ۔ ۔ ۔

۱۷ مارچ ۱۹۷۸ء

سوہدرہ ڈکیتی کیس/ ریل کار اور بس کا تصادم / قومی تعلیمی پالیسی / ایک نئی ملکۂ ترنم

چوہدری محمد رمضان نے سوہدرہ ڈکیتی کیس کے مدعی نیاز علی پر تشدد کر کے اصل واقعات چھپانے پر مجبور کرنے کے الزام میں سی آئی اے سٹاف گوجرانوالہ کے انسپکٹر محمد اسلم جوڑا سمیت پولیس کے ۶۸ افسروں اور اہل کاروں کو لائن حاضر کر دیا ہے۔ سوہدرہ ڈکیتی کیس کے سلسلہ میں ڈی آئی جی پولیس کا یہ اقدام اس لحاظ سے مستحسن اور اطمینان بخش ہے کہ کیس کی انکوائری صحیح رخ پر آگے بڑھتی ہوئی نظر آتی ہے، اور بعض ناعاقبت اندیش پولیس آفیسرز نے تحقیقات کو غلط رخ پر لے جا کر معاملہ کو گول کرنے کی جو مذموم کوشش کی تھی وہ بحمد اللہ ناکام ہوگئی ہے ۔ ۔ ۔

۱۰ مارچ ۱۹۷۸ء

متحدہ عرب امارات کا نیا فیصلہ / اسٹامپ پیپروں کی کمی / ڈپو ہولڈروں کی گرفتاری / دیہات میں اطباء کا تعین

رائٹر کی ایک خبر کے مطابق متحدہ عرب امارات کی حکومت نے حصول روزگار کے لیے آنے والے محنت کشوں کے لیے جو نیا قانون بنایا ہے اس کی رو سے ان تمام افراد کو ملک بدر کر دیا جائے گا جن کے پاسپورٹوں پر لکھے ہوئے پیشے اور ملازمت کے ویزوں میں درج شدہ پیشوں میں مطابقت نہیں ہوگی۔ کچھ عرصہ سے حصول روزگار کے لیے ملک سے باہر جانے کے رجحان نے جو وسعت اور ہمہ گیری پیدا کی ہے اس کے پیش نظر مذکورہ بالا ضابطہ کا اثر سب سے زیادہ شاید پاکستانیوں پر پڑے ۔ ۔ ۔

۱۰ مارچ ۱۹۷۸ء

کراچی کا فساد / ریڈیو اور ٹیلی ویژن / حنیف رامےصاحب کی نئی تجویز / پاور لومز کی صنعت

جناب رسالتمآب صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت کے مقدس دن کراچی میں جو کچھ ہوا وہ انتہائی افسوسناک ہے اور ہر شہری ان افراد کے غم میں رنجیدہ ہے جو شر پسند عناصر کی غنڈہ گردی کا شکار ہوگئے۔ تا دمِ تحریر سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق اسے فرقہ وارانہ فساد کا نام دیا گیا ہے مگر قائد جمعیۃ حضرت مولانا مفتی محمود کا یہ ارشاد بالکل بجا ہے کہ حالیہ تحریک اور انتخابی مہم میں مختلف مکاتب فکر کی طرف سے باہمی اتحاد و اتفاق اور اعتماد و رواداری کا جو مثالی مظاہرہ دیکھنے میں آیا ہے اس کے پیش نظر کسی اشتعال کے بغیر فرقہ وارانہ فساد کی بات کچھ قرین قیاس معلوم نہیں ہوتی ۔ ۔ ۔

۳ مارچ ۱۹۷۸ء

عدالتوں میں اسلامی فقہ کے ماہرین / ایٹمی پلانٹ او رامریکہ / ملتان میں مزدوروں پر فائرنگ / قبائلی علاقوں سے انصاف

مارشل لاء حکومت کی طرف سے سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کو غیر اسلامی قوانین کی منسوخی کے اختیارات تفویض کیے جانے کے اعلان کے بعد یہ سوال انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ اعلیٰ عدالتوں میں ججوں کے ساتھ اسلامی فقہ کے ماہرین کا تقرر بھی ضروری ہے تاکہ وہ عدالتوں کو ان قوانین کی طرف توجہ دلا سکیں جو اسلام کے منافی ہیں اور قرآن و سنت کے مطابق ان میں ترامیم اور تبدیلیوں کے سلسلہ میں ججوں کا ہاتھ بٹا سکیں۔ پاکستان قومی اتحاد کے سربراہ حضرت مولانا مفتی محمود صاحب نے بھی ایک بیان میں حکومت کی توجہ اس طرف مبذول کرائی ہے ۔ ۔ ۔

۱۴ جنوری ۱۹۷۸ء

دکانداروں کا قصور؟ / بدحواسی یا کچھ اور؟ / بیرون ملک جانے کا جنون / حلال کی کمائی

پولیس ان دنوں اپنی کارکردگی دکھلانے کے لیے چھوٹے دکانداروں اور پرچون فروشوں کے خلاف دھڑادھڑ کاروائیوں میں مصروف ہے اور روزنامہ اخبارات میں ملاوٹ اور گراں فروشی کے الزامات میں مختلف مقامات سے ان دکانداروں کی گرفتاریوں اور سزاؤں کی خبریں شائع ہو رہی ہیں۔ ملاوٹ اور گراں فروشی کے خلاف کارروائی ضروری ہے اور مستحسن بھی، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ان دونوں چیزوں کی ذمہ داری پرچون فروشوں اور چھوٹے دکانداروں پر ہی عائد ہوتی ہے؟ ہمارے خیال میں اس پر نظر ثانی کی ضرورت ہے ۔ ۔ ۔

۶ جنوری ۱۹۷۸ء

علامہ شبیر احمدؒ عثمانی / افسر شاہی کے کرشمے / اخباری کاغذ کا بحران / پیپلز پارٹی کی مہم

حکومت ہر سال تحریک پاکستان کے راہنماؤں کے ایامِ ولادت اور برسیوں پر ان کی خدمات کو منظرِ عام پر لانے کا اہتمام کرتی ہے اور اخبارات و جرائد ان مواقع پر خصوصی اشاعتوں کا اہتمام کرتے ہیں۔ یومِ ولادت یا برسی منانے کی شرعی پوزیشن سے قطع نظر دورِ حاضر کی ایک روایت اور حکومت و اخبارات کی اخلاقی ذمہ داری کے نقطۂ نظر سے یہ شکوہ بجا ہے کہ تحریک پاکستان کے سربرآوردہ قائد شیخ الاسلام علامہ شبیر احمدؒ عثمانی کی اٹھائیسویں برسی کے موقع پر نہ تو ریڈیو اور ٹی وی نے کوئی پروگرام نشر کیا اور نہ قومی اخبارات و جرائد نے ان پر کوئی خصوصی اشاعت حتیٰ کہ مضمون تک شائع کیا ۔ ۔ ۔

۳۰ دسمبر ۱۹۷۷ء

مذاکرات کس بات پر؟ / گولی کی زبان / زندہ باد مولانا محمد زکریا / آئین کا تقاضہ / گھر کا بھیدی

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین جناب ذوالفقار علی بھٹو بار بار اس بات کو دہرا رہے ہیں کہ وہ قومی اتحاد کے ساتھ مذاکرات کے لیے ہر وقت تیار ہیں اور باہمی تنازعات کو بات چیت کے ذریعے طے کرنے کے خواہشمند ہیں۔ مذاکرات اور بات چیت کی دعوت بظاہر بڑی خوشنما ہے لیکن سوال یہ ہے کہ مذاکرات کس مسئلہ پر ہوں گے؟ قومی اتحاد اور پیپلز پارٹی کے درمیان اصل مابہ النزاع مسئلہ قومی اسمبلی کے انتخابات کا ہے جو سات مارچ کو منعقد ہوئے اور جن میں اس قدر وسیع پیمانے پر دھاندلیاں ہوئیں ۔ ۔ ۔

۱۵ اپریل ۱۹۷۷ء

خان محمد حنیف خان کا ارشاد / مذہب سے چڑ کیوں؟ / الیکشن او رخان عبد القیوم خان

روزنامہ جنگ راولپنڈی ۲۹ نومبر ۱۹۷۶ء کے مطابق وفاقی وزیر اطلاعات خان محمد حنیف خان صاحب نے ہری پور میں پارٹی ورکرز سے خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ: ’’جمعیۃ علماء اسلام نے اپنے دورِ اقتدار میں شریعت کے نفاذ کے لیے کوئی مثبت اقدام نہیں کیا۔‘‘ معلوم نہیں صوبہ سرحد میں جمعیۃ علماء اسلام اور نیشنل عوامی پارٹی کی دس ماہ کی حکومت کے دوران خان صاحب موصوف ملک سے باہر تھے یا بستر استراحت پر محوِ خواب تھے ۔ ۔ ۔

۱۷ دسمبر ۱۹۷۶ء

کچھ آزاد کشمیر کے بارے میں

راقم الحروف نے علاقہ کے دین دار مسلمانوں خصوصاً علماء کرام کو اس طرف متوجہ کیا کہ انہیں عملی سیاست کو شجر ممنوعہ سمجھنے کی بجائے اسے اپنانا چاہیے۔ کیونکہ ظلم و جبر کے نظام کی مخالفت اور دین حق کے اعلاء و اجراء کی جدوجہد کرنا علماء کرام کا دینی و ملی فرض ہے اور علماء کرام ہی کی سیاسی قیادت عوام کے مسائل کو مخلصانہ طور پر حل کر سکتی ہے۔ دراصل آزادکشمیر کے علماء کرام نے شروع ہی سے سیاسی مسائل میں عوام کی نمائندگی و رہنمائی کی ہے اور ان کی ایک تنظیم ’’جمعیۃ علماء آزاد کشمیر‘‘ کے نام سے تیس سال سے سیاسی و مذہبی میدان میں سرگرم عمل ہے ۔ ۔ ۔

۴ جولائی ۱۹۷۵ء

۱۹۷۱ء کے ہنگامی حالات، آخر کب تک؟

پارلیمنٹ نے گزشتہ روز مشترکہ اجلاس میں حزب اختلاف کے واک آؤٹ کے بعد ہنگامی حالات میں مزید چھ ماہ کی توسیع کی قرارداد منظور کر لی۔ اس سے قبل قائد حزب اختلاف خان عبد الولی خان نے قرارداد کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ہنگامی حالات کو باقی رکھنے کا اقدام عوام کے ساتھ سخت ناانصافی ہے۔ خان صاحب نے کہا کہ ۱۹۷۱ء میں پاک بھارت جنگ کی بناء پر ملک میں ہنگامی صورتحال کا اعلان ہوا تھا اور یہ صورتحال اب تک برقرار رکھی جا رہی ہے۔ حالانکہ حکومت نے بھارت کے ساتھ شملہ معاہدہ کے تحت حالات کو معمول پر لانے کی راہ اختیار کر لی ہے ۔ ۔ ۔

۳۰ اگست ۱۹۷۴ء

مسئلہ قادیانیت ۔ وزیراعظم بھٹو کا اعلان اور تشدد کی صورتحال

وزیراعظم جناب ذوالفقار علی بھٹو نے کوئٹہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ قادیانی مسئلہ کے حل میں تاخیر ملک و قوم کے مفاد میں نہیں ہے اس لیے میں قومی اسمبلی کے ارکان سے کہوں گا کہ وہ سات ستمبر تک اس مسئلہ کا کوئی حل طے کر لیں۔ اس بات سے قطع نظر کہ ۷ ستمبر تک مہلت بھی تاخیر کے زمرے میں آتی ہے یا نہیں، ہمیں بھٹو صاحب کے اس ارشاد سے سو فیصد اتفاق ہے کہ اس مسئلہ کے حل میں تاخیر ملک و قوم کے مفاد میں نہیں ہے ۔ ۔ ۔

۹ اگست ۱۹۷۴ء

جنرل یحییٰ خان کی حراست کا خاتمہ

وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو صوبہ سرحد کے شمالی علاقوں میں خان عبد الولی خان پر الزامات کے تیر برسانے میں مصروف تھے کہ وزیرداخلہ مسٹر عبد القیوم خان نے قومی اسمبلی میں اعلان کر دیا کہ سابق صدر یحییٰ خان اب حکومت کی حراست میں نہیں ہیں۔ یحییٰ خان نے ایوب خان کے دستبردار ہونے پر پاکستان کا نظم و نسق سنبھالا تھا اور سقوط مشرقی پاکستان کے المناک سانحہ پر ان کے اقتدار کا سروج غروب ہوگیا تھا۔ ان کے دورِ اقتدار میں ملک اپنی تاریخ کے سب سے بڑے بحران کا شکار ہوا ۔ ۔ ۔

۲۶ جولائی ۱۹۷۴ء

ہفت روزہ نصرت کا شمارہ / سرحد و بلوچستان کے عوام

ہفت روزہ ’’نصرت‘‘ لاہور جو کبھی وزیر اعلیٰ پنجاب جناب محمد حنیف رامے کی زیرادارت سوشلزم کی منادی کیا کرتا تھا، آج کل رامے صاحب کی سرکاری مصروفیات کے باعث ایک اور صاحب کی ادارت میں عریانی کو سندِ جواز فراہم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ ’’نصرت‘‘ کے ۱۲ مئی کے شمارہ میں سیدنا حضرت آدم و حوا علیہم السلام کی بالکل عریاں تصاویر کی اشاعت اور ایک غیر معروف مسلم ریاست عجمان کی ڈاک ٹکٹوں کے حوالے سے عریانی کے جواز پر بحث اس قدر حیا سوز ہے کہ ارباب ’’نصرت‘‘ کی شرم و حیا کا ماتم کرنے کو جی چاہتا ہے ۔ ۔ ۔

۳۱ مئی ۱۹۷۴ء

بلوچستان امن و انصاف مانگتا ہے

بلوچستان نیشنل عوامی پارٹی کے راہنما جناب احمد نواز بگتی گزشتہ روز لاہور تشریف لائے اور پارٹی ورکروں کے اجتماع سے خطاب کے علاوہ ایک مقامی روزنامہ کو انٹرویو بھی دیا جس میں انہوں نے بلوچستان کے سیاسی حل کے بارے میں وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی طرف سے متوقع اعلان، بلوچستان کی سیاسی صورتحال اور مسئلہ بلوچستان کے صحیح حل کے سلسلہ میں چند فکر انگیز باتیں کی ہیں۔ بلوچستان کی نازک صورتحال اور وزیراعظم بھٹو کے متوقع اعلان کے پیش نظر بگتی صاحب کے ان خیالات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اس لیے ان کے خطاب اور انٹرویو کے اہم نکات درج ذیل ہیں ۔ ۔ ۔

۵ اپریل ۱۹۷۴ء

بلوچستان کی صورتحال، میاں محمد حسن شاہ کی باتیں

مارچ کا قصہ ہے کہ راقم الحروف کو علامہ محمد احمد صاحب لدھیانوی جنرل سیکرٹری متحدہ جمہوری محاذ گوجرانوالہ، قاری محمد یوسف عثمانی صاحب نائب امیر جمعیۃ شہر گوجرانوالہ، اور ڈاکٹر غلام محمد صاحب مبلغ جمعیۃ ضلع گوجرانوالہ کی معیت میں جمعیۃ کے علاقائی تربیتی کنونشن کے لیے فیصلز ہوٹل جی ٹی روڈ گوجرانوالہ کے ہال کی بکنگ کی غرض سے ہوٹل جانے کا اتفاق ہوا۔ ہوٹل کے صدر دروازے پر سیاہ رنگ کی کار اور اس پر قومی پرچم دیکھ کر خیال ہوا کہ شاید اندر کوئی عوامی وزیر ہوٹل کو شرف قدوم سے نوازنے تشریف لائے ہیں ۔ ۔ ۔

۱۵ مارچ ۱۹۷۴ء

بلوچستان، ایک لمحہ فکریہ

گورنر بلوچستان خان احمد یار خان نے فرمایا ہے کہ وزیراعظم بھٹو بے پناہ مصروفیات کے باعث وعدہ کے مطابق ۲۵ فروری کو بلوچستان کی صورتحال کے بارے میں کسی فیصلہ کا اعلان نہیں کر سکے، اب وہ یکم اپریل تک یہ اعلان کر دیں گے۔ گورنر نے یہ بھی کہا ہے کہ نیشنل عوامی پارٹی کے لیڈروں کے خلاف مقدمات سابق گورنر اکبر بگتی کی سفارش پر قائم کیے گئے تھے۔ ادھر سابق گورنر اکبر بگتی نے کہا ہے کہ نیپ لیڈروں کے خلاف جھوٹے مقدمات قائم کیے گئے تھے تاکہ ان کی نشستیں خالی قرار دے کر ان کی جگہ پیپلز پارٹی کے ارکان کو صوبائی اسمبلی کے لیے ’’منتخب‘‘ کرایا جا سکے ۔ ۔ ۔

۱۵ مارچ ۱۹۷۴ء

کیا بلوچستان یونہی جلتا رہے گا؟

بلوچستان پاکستان کا وہ بدقسمت خطہ ہے جہاں کے عوام کو فرنگی سے آزادی ملنے کے بعد بھی سنگینوں کے منحوس سائے سے نجات نہیں مل سکی اور قیام پاکستان کے چھبیس سال بعد بھی وہ اپنے حقوق، آزادی اور تحفظ کی جنگ میں مصروف ہیں۔ اس بدنصیب خطہ کو رسمی آزادی ملنے کے ربع صدی بعد سیاسی حقوق ملے اور وہاں کے عوام کو یہ حق دیا گیا کہ وہ اپنی قیادت اور حکومت آزادی کے ساتھ اپنے ووٹوں کے ذریعہ منتخب کر سکتے ہیں۔ مگر جب بلوچستان کے عوام نے رائے دہی کا جمہوری حق استعمال کیا اور اپنے نمائندے منتخب کیے ۔ ۔ ۔

۱۴ دسمبر ۱۹۷۳ء

چوہدری ظہور الٰہی کے خلاف اسلحہ اسکینڈل

بلوچستان کی صوبائی حکومت نے متحدہ جمہوری محاذ کے راہنما اور قومی اسمبلی کے رکن چوہدری ظہور الٰہی کو اس الزام میں گرفتار کر لیا ہے کہ وہ بلوچستان میں شر پسندوں کو اسلحہ سپلائی کر رہے ہیں۔ اور ان کے ایک معتمد چوہدری محمد شریف کو بلوچستان میں اسلحہ لے جاتے ہوئے پکڑ لیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ جام غلام قادر کے بیان کے مطابق چوہدری محمد شفیع کو کوہلو سے بالا ڈھکہ (بلوچستان) اسلحہ لے جاتے ہوئے گرفتار کیا گیا (امروز ۱۷ نومبر ۱۹۷۳ء)۔ مگر چوہدری صاحب کے فرزند محمد اکرم نے لاہور میں پریس کانفرنس سے گفتگو کرتے ہوئے اس بات کو غلط قرار دیا ۔ ۔ ۔

۱۶ نومبر ۱۹۷۳ء

بلوچستان کی صورتحال اور قادیانیوں کی سرگرمیاں

بلوچستان اپنے جغرافیائی محل وقوع اور دیگر گوناگوں خصوصیات کے باعث کافی عرصہ سے اندرونی و بیرونی سازشوں کی مذموم مساعی کی آماجگاہ بنا ہوا ہے اور آج بھی سازشی قوتیں تمام وسائل کے ساتھ بلوچستان کے امن کو اپنے مقصد کی بھینٹ چڑھانے کے لیے سرگرم عمل ہیں۔ ۱۹۵۲ء کی بات ہے، قادیانی گروہ کے سربراہ مرزا بشیر الدین محمود نے بلوچستان کو قادیانی علاقہ قرار دینے کے منصوبے کا اعلان کیا تھا اور ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت کے محرکات میں یہ منصوبہ بھی شامل تھا ۔ ۔ ۔

۲۷ جولائی ۱۹۷۳ء

اور اب بناسپتی گھی!

اشیاء خوردنی کی کمر توڑ گرانی انتہائی تشویشناک صورت اختیار کر چکی ہے۔ غریب عوام بلکہ متوسط طبقہ بھی اس مہنگائی کے سامنے بے بس ہو چکا ہے اور اس سے نجات کی کوئی صورت دکھائی نہیں دے رہی۔ بازار سے جس چیز کا بھاؤ پوچھو اس کا نرخ آسمان سے باتیں کر رہا ہے اور ہر شخص پریشان ہے کہ آخر گرانی کا یہ ڈنڈا کب تک قوم کی پیٹھ پر برستا رہے گا۔ پہلے چینی غریب عوام کے اعصاب پر سوار رہی اور ابھی تک یہ مسئلہ طے نہیں ہو سکا۔ ستم ظریفی کی انتہا دیکھیے کہ جب ہم باہر سے چینی منگواتے تھے تو سستی تھی ۔ ۔ ۔

۱۳ جولائی ۱۹۷۳ء

لاٹھی گولی کی سرکار نہیں چلے گی

ملتان اور لاہور میں متحدہ جمہوری محاذ کے عام جلسوں کو ناکام بنانے کے لیے جو حربے اختیار کیے گئے وہ تشدد اور فسطائیت کی دنیا میں نئے نہیں۔ قافلۂ جمہوریت کو اس سے قبل بھی امتحان و آزمائش کے اس موڑ سے بارہا گزرنا پڑا اور اب بھی یہ راہ متحدہ جمہوری محاذ کے رہنماؤں کے لیے جانی پہچانی گزرگاہ ہے۔ دراصل لیاقت باغ کے خونی المیہ کے بعد سے ہی یہ بات واضح ہو گئی تھی کہ حکمران طبقہ نے اصول، شرافت اور جمہوری عمل کی بساط لپیٹ دی ہے اور اب وہ اپنے اقتدار کے تحفظ کے لیے عوام کو اعتماد میں لے کر سیاسی جنگ لڑنے کی بجائے بندوق کی نالی پر بھروسہ کرے گا ۔ ۔ ۔

۸ جون ۱۹۷۳ء

نظریہ پاکستان کے محافظ / جامع مسجدچنیوٹ پر پولیس یلغار / مہنگائی

صوبہ سرحد میں غیر جمہوری طور پر اقلیتی گروپ کو اقتدار کی کرسی پر بٹھا دیا گیا تو یار لوگوں نے کہا کہ اب صوبہ میں نظریہ پاکستان کے علمبرداروں کی حکومت قائم ہوگئی ہے، ملک اور نظریہ پاکستان کو اب کوئی خطرہ نہیں رہا۔ مگر نظریہ پاکستان کے ان علمبرداروں نے کرسی پر بیٹھتے ہی جو احکامات جاری کیے ان میں: قومی لباس کو سرکاری لباس قرار دینے کے بارہ میں مولانا مفتی محمود کے تاریخی فیصلہ کی تنسیخ، سکولوں میں قرآن کریم کی تعلیم کے لیے اساتذہ مقرر کرنے کے فیصلہ کی واپسی، اور ہوٹلوں میں شراب کے پرمٹ جاری کرنے اور شراب کے بار کھولنے کے فیصلے نمایاں حیثیت رکھتے ہیں ۔ ۔ ۔

۲۵ مئی ۱۹۷۳ء

واپڈا میں غبن / چینی کا بحران / صوبہ سرحد کے اسکولوں میں قاری/ مفرور ملزموں کی گرفتاری

صوبائی وزیر اعلیٰ ملک معراج خالد نے قلعہ سوبھاسنگھ ضلع سیالکوٹ میں ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ واپڈا کے ریکارڈ میں ستائیس کروڑ روپے کے غبن کا انکشاف ہوا ہے، یہ رقم قومی کاموں پر لگانے کی بجائے خردبرد کر لی گئی ہے اور اس سلسلہ میں تحقیقات جاری ہیں۔ یہ انکشاف کوئی نیا نہیں، اس سے قبل بھی واپڈا اور دیگر قومی اداروں میں اس قسم کے غبن ظاہر ہوتے رہے ہیں اور ہر بار بڑے شدومد کے ساتھ تحقیقات کا بھی اعلان کیا جاتا رہا ہے مگر اس کے بعد کچھ بھی نہیں ہوا ۔ ۔ ۔

۱۸ دسمبر ۱۹۷۲ء

پنجاب میں زمینوں کی تقسیم / طلباء کے حلیے / مجاہد اول کا مجاہدانہ اقدام / شراب خانہ خراب

پنجاب میں سرکاری زمینوں کی تقسیم کا کام شروع ہو گیا ہے اور ہر جگہ پر اس سلسلہ میں کمیٹیاں مقرر کر دی گئی ہیں جو اس سلسلہ میں حکومت کا ہاتھ بٹائیں گی اور اراضی کی تقسیم کی نگرانی کریں گی۔ ہر کمیٹی دس افراد پر مشتمل ہے جس میں زمینداروں، کاشتکاروں، ائمہ مساجد اور اسکول ماسٹروں کو نمائندگی دی گئی ہے۔ پنجاب گورنمنٹ کا یہ اقدام انقلابی اور ہدیۂ صد ہزار تبریک و تحسین کا مستحق ہے کہ اس نے بے زمین کاشتکاروں میں سرکاری اراضی کی تقسیم کا فیصلہ کر کے ایک دیرینہ عوامی مطالبہ اور خواہش کی تکمیل کی طرف جرأت مندانہ قدم بڑھایا ہے ۔ ۔ ۔

۲۵ جون ۱۹۷۱ء

مزارعین سے سیاسی انتقام / سامان تعیش کی درآمد / غیر منصفانہ اقتصادی نظام / پولیس تشدد / اساتذہ کی خالی آسامیاں

حالیہ انتخابات میں ناکامی کے بعد بڑے بڑے جاگیرداروں اور زمینداروں نے مزارعین کے خلاف انتقامی کارروائیوں کا وسیع سلسلہ شروع کر دیا تھا۔ اس ظلم و ستم کو روکنے کے لیے پنجاب کی حکومت نے اور غالباً سندھ کی حکومت نے بھی کچھ اقدامات کیے ہیں، لیکن صوبہ سرحد میں غریب مزارعین کو ظالم خوانین کے پنجہ سے نجات دلانے اور ان شکست خوردہ خوانین کے انتقام سے بچانے کا کوئی انتظام نہیں کیا گیا جن کا سلسلہ ظلم و ستم اور جابرانہ تسلط بہت سخت اور ناقابل برداشت ہے ۔ ۔ ۔

۲۸ مئی ۱۹۷۱ء

اساتذہ کی حق تلفی / سکولوں کی بوسیدہ عمارتیں / ناقص چاولوں کی سپلائی / نبوت کا دعویدار / قمار بازی

پنجاب ٹیچرز ایسوسی ایشن کی ضلع میانوالی شاخ نے ایک قرارداد میں انکشاف کیا ہے کہ حالیہ انتخابات میں جن محکموں کے ملازمین کو ڈیوٹی پر لگایا گیا ہے ان میں سب کو ان کی ڈیوٹیوں کے معاوضے وصول ہو چکے ہیں لیکن اساتذہ ابھی تک اس حق سے محروم ہیں۔ یہ بات انتہائی نامناسب اور افسوسناک ہے، اساتذہ کو ان کی تدریسی خدمات کے پہلے ہی کون سے لمبے چوڑے معاوضے ملتے ہیں جو ان کی اضافی ڈیوٹیز کے معاوضوں کو بھی روک لیا گیا ہے۔ عام انتخابات کو مکمل ہوئے تین ماہ سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے اور معاوضوں میں اتنی تاخیر بلاشبہ اساتذہ کی حق تلفی ہے ۔ ۔ ۔

۱۴ مئی ۱۹۷۱ء