پاکستان ۔ ملکی حالات

بجٹ کے بارے میں علماء کرام اور تاجر راہنماؤں کے تاثرات

گوجرانوالہ میں علماء کرام نے حسب روایت تاجر برادری کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے لیے اجتماعات کا اہتمام کیا ہے۔ ہمارے ہاں گزشتہ ایک صدی سے معمول چلا آرہا ہے کہ کوئی قومی، دینی یا شہری مسئلہ ہو علماء کرام، وکلاء اور تاجر راہنما باہمی مشاورت کا اہتمام کرتے ہیں اور کوشش ہوتی ہے کہ شہریوں کو مشترکہ موقف اور راہنمائی فراہم کی جائے۔ مکمل تحریر بجٹ کے بارے میں علماء کرام اور تاجر راہنماؤں کے تاثرات

۱۳ جولائی ۲۰۱۹ء

پولیس کی محکمانہ کارکردگی عدالت عظمٰی کے ایک محترم جج کی نظر میں

سپریم کورٹ آف پاکستان کے جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے ہیں کہ پورے ملک میں پولیس کا نظام فلاپ ہو چکا ہے، ملک میں پولیس نام کی کو کئی چیز نہیں ہے، پولیس آخر کیا کر رہی ہے جو تنخواہ دی جائے؟ انہوں نے یہ ریمارکس پنجاب کے ٹریفک وارڈنز کی تنخواہوں سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران دیے۔ اس کیس کی تفصیلات سے قطع نظر یہ بات ملک کے ہر باشعور شہری کے لیے قابل توجہ ہے کہ سپریم کورٹ کے ایک محترم جج کو یہ بات آخر کیوں کہنا پڑی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر پولیس کی محکمانہ کارکردگی عدالت عظمٰی کے ایک محترم جج کی نظر میں

۲۴ جون ۲۰۱۹ء

مجھے ڈر لگ رہا ہے…!

آج کچھ ایسے مسائل پر ہلکا پھلکا تبصرہ پیش خدمت ہے جو عام مجلسوں میں زیر بحث رہتے ہیں اور ان پر طرح طرح کے خدشات و تحفظات کا اظہار دیکھنے میں آتا ہے۔ (۱) وزیر اعظم عمران خان کی پالیسیوں کے بارے میں اکثر بات ہوتی ہے جس کے بارے میں میرا خیال یہ ہے کہ وہ ذاتی طور پر قومی مسائل کے حوالہ سے کچھ کرنا چاہ رہے ہیں جس کے لیے وہ مخلص بھی دکھائی دیتے ہیں اور ہر طرح سے ہاتھ پاؤں بھی مار رہے ہیں، ان کے اہداف کے صحیح یا غلط ہونے کی بات اپنی جگہ مگر ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مجھے ڈر لگ رہا ہے…!

۲۱ جون ۲۰۱۹ء

موجودہ ملکی صورتحال میں پاکستان شریعت کونسل کا موقف

عام انتخابات کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا فداء الرحمان درخواستی نے مرکزی مجلس شورٰی کا اجلاس ۲ اگست کو مسجد امن باغبانپورہ لاہور میں طلب کیا جس میں بعض دیگر ہم خیال دینی راہنماؤں کو بھی خاص طور پر دعوت دی گئی تاکہ ان کی رائے اور مشاورت سے استفادہ کیا جا سکے۔ ان میں سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی راہنما مولانا اللہ وسایا اور مولانا عزیز الرحمان ثانی، جمعیۃ علماء اسلام پاکستان (س) کے سیکرٹری جنرل مولانا عبد الرؤف فاروقی، اور مجلس احرار اسلام کے راہنما قاری محمد قاسم احرار نے شرکت کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر موجودہ ملکی صورتحال میں پاکستان شریعت کونسل کا موقف

۴ اگست ۲۰۱۸ء

میاں محمد نواز شریف کو سزا کا ایک توجہ طلب پہلو

میاں نواز شریف کو ان کی بیٹی اور داماد سمیت جو سزا سنائی گئی ہے اس پر ایک عرصہ تک تبصروں کا سلسلہ جاری رہے گا۔ اب سے اٹھارہ برس قبل جب میاں صاحب موصوف کو طیارہ سازش کیس میں سزا سنائی گئی تھی تو اس وقت کے حالات کی روشنی میں ایک کالم میں اس پر ہم نے تبصرہ کیا تھا جو ۱۱ اپریل ۲۰۰۰ء کو روزنامہ اوصاف اسلام آباد میں شائع ہوا تھا، اسے دوبارہ قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر میاں محمد نواز شریف کو سزا کا ایک توجہ طلب پہلو

۸ جولائی ۲۰۱۸ء

مسئلہ ختم نبوت: ترامیم کا خفیہ ہاتھ بے نقاب کیا جائے

اسلام آباد میں ’’تحریک لبیک یا رسول اللہؐ‘‘ کا دھرنا تا دمِ تحریر جاری ہے، گزشتہ روز ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اسلام آباد نے رات بارہ بجے تک فیض آباد چوک کو خالی کرنے کا حتمی نوٹس دے دیا تھا اور بعض اطلاعات کے مطابق دھرنے والوں کے انکار کی صورت میں فورسز کی کارروائی کسی بھی وقت متوقع ہے۔ اللہ تعالیٰ ملک و قوم کو کسی نئی آزمائش سے محفوظ رکھیں، آمین یا رب العالمین۔ گزشتہ روز ’’درسِ قرآن ڈاٹ کام چینل‘‘ پر ایک نشری گفتگو میں اس سلسلہ میں راقم الحروف نے کچھ گزارشات پیش کی ہیں جن کا کچھ حصہ قارئین کی نذر کیا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مسئلہ ختم نبوت: ترامیم کا خفیہ ہاتھ بے نقاب کیا جائے

۲۶ نومبر ۲۰۱۷ء

مسئلہ ختم نبوت: حالیہ قانونی بحران اور مکمل انصاف کا مطالبہ

اسلام آباد میں تحفظ ختم نبوت کے سلسلہ میں تحریک لبیک یا رسول اللہؐ کا دھرنا گزشتہ دو ہفتوں سے مسلسل جاری ہے اور حکومت دھرنے والوں کے مطالبات کو منظور کیے بغیر دھرنا ختم کرانے کے تمام حربوں میں ابھی تک ناکام ہے جبکہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے حکومت کو دھرنا ہر حالت میں ختم کرانے کے لیے جمعرات تک کی مہلت دی ہے۔ دھرنے کے مختلف مراحل کے مشاہدہ بلکہ ایک لحاظ سے ذاتی شرکت کے حوالہ سے کچھ گزارشات گزشتہ ایک کالم میں کر چکا ہوں - - - مکمل تحریر مسئلہ ختم نبوت: حالیہ قانونی بحران اور مکمل انصاف کا مطالبہ

۲۲ نومبر ۲۰۱۷ء

انتخابی اصلاحات بل میں ترامیم اور قوم کے شکوک و شبہات

انتخابی اصلاحات کے بل میں قادیانیوں کے حوالہ سے سامنے آنے والی خفیہ ترامیم کے بارے میں قومی اسمبلی میں نیا ترمیمی بل طے ہو جانے اور حکومتی حلقوں کی طرف سے متعدد وضاحتوں کے باوجود مطلع صاف نہیں ہو رہا اور شکوک و شبہات کا ماحول بدستور موجود ہے۔ اس سلسلہ میں یہ تاثر بھی سامنے لایا جا رہا ہے کہ کیا اس قسم کی فضا قائم کرنے کا مقصد کسی اور خفیہ کام سے توجہ ہٹانا تو نہیں ہے کیونکہ ماضی میں متعدد بار ایسا ہو چکا ہے کہ قوم کو ایک طرف الجھا کر پس منظر میں دوسرے کام سر انجام دیے جاتے رہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر انتخابی اصلاحات بل میں ترامیم اور قوم کے شکوک و شبہات

۲۴ اکتوبر ۲۰۱۷ء

سانحۂ مستونگ

اضاخیل پشاور کے ’’صد سالہ عالمی اجتماع‘‘ کے بعد سے اس بات کا خدشہ اور خطرہ مسلسل محسوس ہو رہا تھا کہ کچھ نہ کچھ ہوگا۔ صد سالہ اجتماع کی بھرپور کامیابی اور اس میں دیے جانے والے واضح پیغام نے دنیا کو ایک بار پھر بتا دیا ہے کہ شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ کا قافلہ دینی و قومی تحریکات کے لیے عدم تشدد پر مبنی پر امن جدوجہد کی پالیسی پر نہ صرف قائم ہے بلکہ آئندہ کے لیے اس نے اس کا تسلسل قائم رکھنے کا عزم نو بھی کر لیا ہے۔ اس لیے خیال تھا کہ تشدد کو اوڑھنا بچھونا بنانے والوں کے لیے اس کو ہضم کرنا مشکل ہوگا اور وہ اپنے غصے کا کہیں نہ کہیں اظہار ضرور کریں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سانحۂ مستونگ

۱۴ مئی ۲۰۱۷ء

پرانا ریلوے اسٹیشن گوجرانوالہ کی مسجد کا معاملہ

وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق صاحب کی خدمت میں یکم اگست 2016ء کو رجسٹرڈ ڈاک سے میں نے ایک عریضہ ارسال کیا تھا جس کا مضمون یہ ہے۔ ’’گوجرانوالہ شہر میں پرانے ریلوے اسٹیشن کو گرا کر نئی عمارت تعمیر کی جا رہی ہے۔ اس سلسلہ میں آنجناب کو توجہ دلائی جا رہی ہے کہ ریلوے اسٹیشن میں گزشتہ تین عشروں سے ایک مسجد موجود ہے جس میں اردگرد بازار اور مارکیٹوں کے سینکڑوں لوگ پنج وقتہ نماز اور جمعۃ المبارک جماعت کے ساتھ ادا کرتے ہیں اور یہ مسجد اب بھی بارونق و آباد ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر پرانا ریلوے اسٹیشن گوجرانوالہ کی مسجد کا معاملہ

۲۲ نومبر ۲۰۱۶ء

غیر ملکی این جی اوز کے خلاف کاروائی!

بلاشبہ ساری این جی اوز ایسی نہیں ہیں اور بہت سی ملکی اور غیر ملکی این جی اوز موجود ہیں جو انسانی فلاح و بہبود، معاشرتی ترقی، سماجی اصلاح اور خدمت خلق کے مختلف دائروں میں مثبت اور مفید خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔ لیکن جب سے استعماری قوتوں نے سماجی بہبود اور خدمت انسانیت کے مقدس عنوانات کو اپنے سیاسی اور استعماری مقاصد کے لیے ذریعہ بنانے کی ریت ڈالی ہے، ’’این جی او‘‘ کی اصطلاح ہی جاسوسی، تہذیبی خلفشار، اور سیاسی افراتفری کے فروغ کا عنوان بن کر رہ گئی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر غیر ملکی این جی اوز کے خلاف کاروائی!

۱۷ جون ۲۰۱۵ء

سنی شیعہ کشمکش ۔ خواہشات اور حقائق

کسی شخص کو کینسر ہو جائے تو اس کے اسباب کا جائزہ لینا ضروری ہوتا ہے اور اسے بے حوصلہ ہونے سے بچانے کے لیے اسے اس کے مرض سے آگاہ نہ کرنا بھی بسا اوقات حکمت عملی کا تقاضہ بن جاتا ہے، لیکن علاج تو بہرحال کینسر کا ہی ہوتا ہے اور موجود و میسر حالات و اسباب کے دائرہ میں ہوتا ہے۔ سنّی شیعہ کشمکش اور تصادم کو ہم عالم اسلام کے اجتماعی وجود کے لیے کینسر سے کم نہیں سمجھتے، لیکن المیہ یہ ہے کہ یہ کینسر نہ صرف موجود ہے بلکہ مسلسل آگے بڑھ رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سنی شیعہ کشمکش ۔ خواہشات اور حقائق

۱۵ اپریل ۲۰۱۵ء

دہشت گردی اور فوجی عدالتیں

ماضی میں قائم ہونے والی فوجی عدالتوں اور احتسابی اداروں کے بارے میں ایک دوسرے سے یہی شکایت چلی آرہی ہے کہ انہیں ایک دوسرے کے خلاف سیاسی انتقام کے لیے استعمال کیا گیا ہے اور بہت سے معاملات میں سے یہ شکایت صرف الزام کی حد تک محدود نہیں ہے۔ اس لیے دہشت گردی کی روک تھام کے لیے کیے جانے والے اقدامات بلا تفریق ہونے چاہئیں اور ان میں سے کسی مسلک، جماعت اور دینی یا سیاسی حلقے کے خلاف انتقامی کاروائی اور کسی کے حق میں یا کسی کے خلاف جانبداری کا تاثر نہیں ملنا چاہیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دہشت گردی اور فوجی عدالتیں

فروری ۲۰۱۵ء

آرمی پبلک اسکول پشاور کا سانحہ

16 دسمبر کے سانحۂ پشاور نے پوری قوم کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور پاکستان کی سیاسی و دینی جماعتیں اپنے تمام تر اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے دہشت گردی بلکہ درندگی کے خلاف متحد ہوگئی ہیں۔ ملک کے اخبارات اور میڈیا کے بہت سے مراکز نے اس دن سانحہ سقوط ڈھاکہ اور اس کے اسباب و اثرات کے حوالہ سے مضامین اور پروگراموں کا اہتمام کیا تھا، مگر پشاور کے اس المناک سانحہ نے قوم کے غم کو ہلکا کرنے کی بجائے ایک اور قومی سانحہ کے صدمہ سے اسے دو چار کر دیا ہے، انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر آرمی پبلک اسکول پشاور کا سانحہ

۲۰ دسمبر ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

قومی و مذہبی خود مختاری کی بحالی

سیکولر حلقوں کی یہ محنت دستور پاکستان کی اسلامی دفعات کو کمزور کرنے کے حوالہ سے بھی ہے، اور جو قوانین شرعی حوالہ سے موجود ہیں ان پر عملدرآمد میں ہر سطح پر رکاوٹیں کھڑی کرنے کے حوالہ سے بھی ہے۔ اس منصوبہ بندی کا مقابلہ اور پاکستان کے اسلامی تشخص کی حفاظت بلکہ نفاذِ اسلام کی عملی پیش رفت وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ جبکہ دوسرا اہم ترین مسئلہ قومی خود مختاری کی بحالی کا ہے کہ ہمارے قومی معاملات میں مغربی اور علاقائی حکومتوں کی مداخلت بڑھتے بڑھتے اب تسلط کے درجہ تک جا پہنچی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قومی و مذہبی خود مختاری کی بحالی

۱۸ نومبر ۲۰۱۴ء

کوٹ رادھا کش کا سانحہ

اگر قرآن کریم کی توہین کا الزام درست تھا تو بھی اس سے نمٹنے کا یہ طریق کار کسی طرح بھی جائز نہیں تھا۔ کسی تحقیق کے بغیر مسجد کے لاؤڈ اسپیکر پر اعلان غلط تھا، پھر لوگوں کے ہجوم کی صورت میں اشتعال کے ماحول میں از خود تشدد کرنا درست نہیں تھا۔ اس پر پولیس کو حرکت میں آنا چاہیے تھا اور علاقہ کے معززین کو مداخلت کر کے معاملہ کو آگے بڑھنے سے روکنا چاہیے تھا۔ اس کے بعد نذر آتش کر دینا تو ظلم و زیادتی کی انتہا ہے، اور یہ واقعہ اسلام اور پاکستان دونوں کی بدنامی کا باعث بنا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر کوٹ رادھا کش کا سانحہ

۱۶ نومبر ۲۰۱۴ء

دار العلوم تعلیم قرآن راولپنڈی کا سانحہ اور مستقبل کے خدشات

گزشتہ ماہ کے آخری روز میں میرپور آزاد کشمیر میں تھا جہاں جامعہ اسلامیہ کا سالانہ جلسہ دستار بندی تھا، مولانا عبدالخالق پیرزادہ، مولانا سید عبد الخبیر آزاد، مولانا قاضی محمد رویس خان ایوبی، مولانا حق نواز اور حاجی بوستان صاحب کے ہمراہ میں نے بھی اس سعادت میں حصہ لیا۔ گزشتہ سال دورۂ حدیث سے فراغت حاصل کرنے والے فضلاء اور قرآن کریم مکمل کرنے والے حفاظ کی دستار بندی کی گئی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دار العلوم تعلیم قرآن راولپنڈی کا سانحہ اور مستقبل کے خدشات

نومبر ۲۰۱۴ء

آنے والے خطرناک حالات اور ہمارا طرز عمل

شیخ القرآن حضرت مولانا غلام اللہ خانؒ کے پوتے اور مولانا اشرف علی کے فرزند مولانا مفتی امان اللہ کی المناک شہادت نے پچھلے زخم پھر سے تازہ کر دیے ہیں۔ دارالعلوم تعلیم القرآن کے المناک سانحہ کو ایک سال بھی نہیں گزرا کہ دارالعلوم کے نائب مہتمم سفاک قاتلوں کی گولیوں کا نشانہ بن گئے ہیں، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ چند روز قبل جامعہ بنوریہ کراچی کے مہتمم مولانا مفتی محمد نعیم کے داماد مولانا مسعود بیگ اور کراچی یونیورسٹی کے شعبہ اسلامیات کے سربراہ ڈاکٹر شکیل اوج دہشت گردی کی بھینٹ چڑھے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر آنے والے خطرناک حالات اور ہمارا طرز عمل

۲۴ ستمبر ۲۰۱۴ء

نظام کی تبدیلی ایک ناگزیر قومی ضرورت

قادری صاحب کا کہنا ہے کہ ملک کا موجودہ نظام عوام کے مسائل حل کرنے میں ناکام ہو چکا ہے، اسے مکمل طور پر تبدیل کر کے انقلاب لایا جائے جو کہ موجودہ حکومت کے ہوتے ہوئے ممکن نہیں ہے، اس لیے موجودہ حکومت پوری کی پوری مستعفی ہو جائے۔ جبکہ عمران خان صاحب یہ کہتے ہیں کہ انتخابی نظام دھاندلیوں کے سدّباب میں ناکام رہا ہے اور گزشتہ الیکشن میں وسیع پیمانے پر دھاندلی ہوئی ہے اس لیے وزیر اعظم مستعفی ہو جائیں اور الیکشن کے پورے نظام پر نظر ثانی کی جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر نظام کی تبدیلی ایک ناگزیر قومی ضرورت

ستمبر ۲۰۱۴ء

گوجرانوالہ میں قادیانی مسئلہ

گوجرانوالہ شہر کے حیدری روڈ پر رمضان المبارک کی ۲۹ (انتیسویں) شب کو رونما ہونے والے سانحہ کے بارے میں ملک کے مختلف حصوں سے احباب تفصیلات دریافت کر رہے ہیں اور ملکی و بین الاقوامی پریس میں طرح طرح کی خبریں سامنے آرہی ہیں۔ اس لیے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ وہاں کے ذمہ دار حضرات کی طرف سے ملنے والی اطلاعات کی روشنی میں میسر معلومات سے قارئین کو آگاہ کر دیا جائے۔ حیدری روڈ پر قادیانیوں کے پندرہ بیس خاندان ایک عرصہ سے رہائش پذیر ہیں اور اپنی سرگرمیوں میں مصروف رہتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر گوجرانوالہ میں قادیانی مسئلہ

۲ اگست ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

دہشت گردی کے خلاف قومی مہم

طبیب کسی بھی طریق علاج سے تعلق رکھتا ہو، مریض کا علاج شروع کرنے سے پہلے دو باتیں ضرور چیک کرتا ہے۔ ایک یہ کہ اسے بیماری کیا ہے اور دوسری یہ کہ اس بیماری کا سبب کیا ہے۔ بیماری اور اس کے سبب کا تعین کیے بغیر کوئی معالج کسی مریض کے علاج کا آغاز نہیں کرتا۔ پھر وہ صرف بیماری کا علاج نہیں کرتا بلکہ سبب کے سدّباب کا بھی اہتمام کرتا ہے۔ بسا اوقات سبب سے پیچھا چھڑانے کو بیماری کے علاج سے بھی مقدم کرتا ہے، اس لیے کہ جب تک سبب کا خاتمہ نہ ہو کسی بیماری کے علاج کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہو پاتی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دہشت گردی کے خلاف قومی مہم

۲۲ جولائی ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

طلاق کی بڑھتی ہوئی شرح اور تربیتی کورسز / وراثت کے کیس کا ۹۰ سال کے بعد فیصلہ

روزنامہ پاکستان لاہور ۲۰ مئی ۲۰۱۴ء کی ایک خبر کے مطابق سعودی عرب نے ملک میں طلاق کی تیزی سے بڑھتی ہوئی شرح پر قابو پانے کے لیے تربیتی کورسز کا اہتمام کیا ہے جن میں لوگوں کو خاندانی طور پر بہتر زندگی گزارنے اور طلاق سے بچنے کی تربیت دی جائے گی۔ خبر کے مطابق اس قسم کے کورسز کا اہتمام ملائیشیا میں بھی کیا گیا ہے۔ اسلام نے خاندانی زندگی کے جو اصول و ضوابط اور احکام و قوانین بیان کیے ہیں ان کی روشنی میں طلاق ’’ابغض المباحات‘‘ ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر طلاق کی بڑھتی ہوئی شرح اور تربیتی کورسز / وراثت کے کیس کا ۹۰ سال کے بعد فیصلہ

جون ۲۰۱۴ء

مفتی محمد عیسیٰ خان گورمانی کے داماد کا اغوا

مولانا مفتی محمد عیسیٰ خان گورمانی ایک محقق اور نکتہ رس مفتی کے طور پر ملک بھر میں تعارف رکھتے ہیں۔ گزشتہ روز ان کے ساتھ ایک سانحہ پیش آیا ہے جس کی وجہ سے یہ سطور تحریر کرنے کی ضرورت پیش آئی ہے، وہ یہ کہ رات کے پچھلے پہر خفیہ اداروں کے اہل کاروں نے مولانا حافظ احمد اللہ گورمانی کے گھر میں دروازے توڑ کر گھس جانے کے بعد خوف و ہراس کی فضا قائم کی اور مفتی صاحب محترم کے داماد مولانا حافظ محمد آصف کو اٹھا کر لے گئے جن کے بارے میں مسلسل رابطوں کے باوجود ابھی تک کچھ معلوم نہیں ہو رہا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مفتی محمد عیسیٰ خان گورمانی کے داماد کا اغوا

۲۵ اپریل ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

عربی زبان اور سرکاری سکول

روزنامہ اسلام لاہور میں ۲۰ مارچ کو شائع ہونے والی ایک خبر میں بتایا گیا ہے کہ وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف خان نے کہا ہے کہ حکومت نے عربی کی تعلیم کو میٹرک تک لازمی کرنے کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے اور اسے جلد نصاب میں شامل کر لیا جائے گا۔ انہوں نے اسلام آباد میں سعودی عرب کے سفیر الشیخ عبد العزیز بن ابراہیم الغدیر کی رہائش گا ہ پر قرآن کریم حفظ کرنے والے طلبہ میں انعامات تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب قریبی دوست ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر عربی زبان اور سرکاری سکول

اپریل ۲۰۱۴ء

اردو کے پیپر میں ایک افسوسناک سوال

گریڈ ۸ کے ۲۰۱۴ء کے امتحانات میں ’’اردو‘‘ کا پرچہ اس وقت ہمارے سامنے ہے جس کے ایک سوال کی طرف ہم حکومت اور قارئین کو توجہ دلانا چاہتے ہیں۔ سوال ملاحظہ فرمائیے: ’’مندرجہ ذیل اشعار کو غور سے پڑھیں اور سوالات نمبر ۳۵ ، ۳۶، ۳۷، ۳۸، ۳۹ اور ۴۰ کے درست جوابات منتخب کریں۔ ایک دن حضرت عمر فاروق ؓ نے منبر پر کہا۔ میں تمہیں حکم جو کچھ دوں تو کرو گے منظور؟ ایک نے اٹھ کے کہا یہ کہ نہ مانیں گے کبھی۔ کہ تیرے عدل میں ہم کو نظر آتا ہے فتور ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اردو کے پیپر میں ایک افسوسناک سوال

مارچ ۲۰۱۴ء

تمام مکاتبِ فکر کے علماء کرام کی حکومت اور پاکستانی طالبان سے اپیل

اجتماع میں تیس سے زائد دینی تنظیموں کے دو سو سے زائد نمائندگان نے شرکت کی اور پاکستان شریعت کونسل کے دیگر رفقاء کے ہمراہ راقم الحروف نے بھی کچھ معروضات پیش کیں۔ کانفرنس کے کم و بیش سبھی شرکاء اس بات پر متفق تھے کہ حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کی کامیابی کے لیے دونوں فریقوں کو سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہیے کیونکہ ملک میں امن کے قیام کے لیے یہ مذاکرات انتہائی اہمیت کے حامل ہیں اور وطن عزیز کے امن اور سلامتی کے ساتھ ساتھ بیرونی سازشوں کی روک تھام کے لیے بھی ان مذاکرات کی کامیابی ضروری ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر تمام مکاتبِ فکر کے علماء کرام کی حکومت اور پاکستانی طالبان سے اپیل

مارچ ۲۰۱۴ء

دارالعلوم تعلیم القرآن راولپنڈی کا المناک سانحہ

ملک کے معروف تعلیمی ادارہ دارالعلوم تعلیم القرآن (راجہ بازار، راولپنڈی) میں ۱۰ محرم الحرام کو جو المناک سانحہ پیش آیا اس پر ہر صاحبِ درد شخص کا دل تڑپ اٹھا ہے اور کرب و اضطراب نے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ شیخ القرآن حضرت مولانا غلام اللہ خانؒ کا قائم کردہ یہ دینی مرکز پون صدی سے تعلیمی و دعوتی خدمات سر انجام دینے میں مصروف ہے اور ہزاروں علماء کرام نے یہاں سے تعلیم حاصل کی ہے۔ عاشوراء کے دن نماز جمعۃ المبارک کے وقت وہاں ماتمی جلوس کے گزرنے پر جو قیامت بپا ہوئی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دارالعلوم تعلیم القرآن راولپنڈی کا المناک سانحہ

دسمبر ۲۰۱۳ء

’’شہید کون‘‘ کی بحث

جس طرح امریکہ نے ڈرون حملہ کے ذریعہ حکیم اللہ محسود کو قتل کر کے یہ بات ایک بار پھر واضح کر دی ہے کہ وہ حکومت پاکستان اور تحریک طالبان پاکستان کے درمیان مذاکرات کی کسی کوشش کو کامیاب نہیں دیکھنا چاہتا، اسی طرح پاکستانی میڈیا کے بعض سرکردہ لوگوں نے بھی اپنی اس پوزیشن کا رہا سہا ابہام دور کر دیا ہے کہ ان کی ترجیحات میں سسپنس پیدا کرنے اور ذہنی و فکری خلفشار فروغ دینے کو سب باتوں پر فوقیت حاصل ہے۔ حتیٰ کہ ملک و قوم کے مجموعی مفاد کو بھی وہ سب کچھ کر گزرنے کے بعد ہی دیکھنے کے عادی ہوگئے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ’’شہید کون‘‘ کی بحث

دسمبر ۲۰۱۳ء

راولپنڈی کا سانحہ ۲۰۱۳ء

دارالعلوم تعلیم القرآن راجہ بازار راولپنڈی ملک کے اہم ترین علمی اداروں اور دینی مراکز میں سے ہے۔ شیخ القرآن حضرت مولانا غلام اللہ خان رحمہ اللہ تعالیٰ کا صدقہ جاریہ اور ان کی یادگار ہے۔ اس کے بارے میں موبائل فون کے پے در پے اضطراب انگیز پیغامات لمحہ بہ لمحہ پریشانی اور رنج و غم میں اضافہ کرتے چلے جا رہے تھے، جبکہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر طوفان بپا کر دینے والا میڈیا حیرت انگیز طور پر خاموش تھا۔ راولپنڈی اور اسلام آباد کی فون سروس معطل تھی اور کوئی قابل اعتماد ذریعہ میسر نہیں آرہا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر راولپنڈی کا سانحہ ۲۰۱۳ء

۱۹ نومبر ۲۰۱۳ء

پشاور کا المناک سانحہ

۲۲ ستمبر کو پشاور کے ایک چرچ میں دو خودکش دھماکوں کے دوران ۸۰ کے لگ بھگ افراد کے جاں بحق اور سینکڑوں شہریوں کے زخمی ہونے پر ملک بھر میں شدید غم و غصہ اور رنج و غم کا اظہار کیا جا رہا ہے اور قوم کے تمام طبقات کی طرف سے اس کی مذمت اور احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ یہ اتوار کا دن تھا اور مسیحی برادری کے حضرات اپنی عبادت میں مصروف تھے کہ اچانک خودکش حملوں کے باعث کہرام مچ گیا اور ہر طرف لاشوں اور زخمیوں کے بکھرنے سے پوری قوم غم و اندوہ کا شکار ہو گئی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر پشاور کا المناک سانحہ

اکتوبر ۲۰۱۳ء

گوجرانوالہ کے دو دینی مدارس کے خلاف پولیس ایکشن

گزشتہ دنوں گوجرانوالہ کے دو دینی مدرسوں مدرسہ انوار العلوم اور مدرسہ مظاہر العلوم کے خلاف پولیس ایکشن سے ملک بھر کے دینی حلقوں میں تشویش و اضطراب کی لہر دوڑ گئی ہے۔ بات صرف اتنی تھی کہ رمضان المبارک کے دوران چلاس ضلع دیامر میں ایک حملہ کے دوران ڈسٹرکٹ پولیس افسر ہلال خان اور ان کے رفقاء جاں بحق ہوئے، ہلال خان گوجرانوالہ میں بھی خدمات سر انجام دے چکے ہیں اور اچھے پولیس افسروں میں ان کا شمار ہوتا تھا، ان کی شہادت پر خود ہمیں بھی بہت دکھ ہوا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر گوجرانوالہ کے دو دینی مدارس کے خلاف پولیس ایکشن

اکتوبر ۲۰۱۳ء

سانحۂ پشاور اور قومی احتجاج

سانحہ پشاور پر احتجاج و اضطراب کا سلسلہ جاری ہے اور مسیحی کمیونٹی کے خلاف کی جانے والی اس المناک کاروائی کے خلاف ردِ عمل قومی احتجاج کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے جو ایک خوش آئند امر ہے۔ گزشتہ شب جیو ٹی وی کے پروگرام کیپیٹل ٹاک میں حامد میر صاحب کے ساتھ شرکت کا موقع ملا تو میں نے بشپ آف پشاور سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے عرض کیا کہ یہ صرف مسیحی کمیونٹی کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ایک قومی سانحہ کی حیثیت رکھتا ہے اور اس ظلم و تشدد پر پوری قوم آپ کے ساتھ شریکِ غم ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سانحۂ پشاور اور قومی احتجاج

۲۶ ستمبر ۲۰۱۳ء

مدرسہ انوار العلوم کے طلبہ کی گرفتاری

پولیس حکام نے کہا کہ پچھلے دنوں چلاس میں شہید ہونے والے ایس پی ہلال خان شہیدؒ اور ان کے دیگر رفقاء کے قتل کے کیس کی تفتیش کے سلسلہ میں انہیں مدرسہ انوار العلوم کے کچھ طلبہ پر شک ہے اس لیے چلاس اور گلگت سے تعلق رکھنے والے طلبہ کو وہ تفتیش کے لیے ساتھ لے جانا چاہتے ہیں۔ اس پر گلگت وغیرہ سے تعلق رکھنے والے طلبہ کو الگ کر دیا گیا اور وہ اس علاقہ کے 22 طلبہ کو یہ کہہ کر اپنے ساتھ لے گئے کہ ان میں سے جو طلبہ ملوث پائے گئے انہیں متعلقہ پولیس کے حوالہ کر دیا جائے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مدرسہ انوار العلوم کے طلبہ کی گرفتاری

۱۶ ستمبر ۲۰۱۳ء

لال مسجد کا سانحہ اور جنرل (ر) پرویزمشرف

اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس نور الحق قریشی نے غازی عبد الرشید شہیدؒ کے فرزند ہارون الرشید کی درخواست پر اسلام آباد کی پولیس کو حکم دیا ہے کہ جامعہ حفصہؓ کے المناک سانحہ میں فوجی آپریشن کے نتیجہ میں جاں بحق ہونے والے غازی عبد الرشید شہید ؒ،ان کی والدہ محترمہ ؒ اور دیگر شہداء کے قتل کا کیس جنرل (ر) پرویز مشرف کے خلاف درج کیا جائے کیونکہ لال مسجد کے بارے میں عدالتی انکوائری کمیشن کی رپورٹ کے مطابق اس فوجی آپریشن کی ذمہ داری ان پر عائد ہوتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر لال مسجد کا سانحہ اور جنرل (ر) پرویزمشرف

اگست ۲۰۱۳ء

سانحۂ لال مسجد سے متعلق عدالتی کمیشن کی رپورٹ

لال مسجد کے سانحہ کے بارے میں عدالتی کمیشن کی رپورٹ منظر عام پر آنے کے بعد یہ بات ایک بار پھر واضح ہوگئی ہے کہ جامعہ حفصہؓ اور لال مسجد کے خلاف خونی آپریشن کی ذمہ داری بہرحال جنرل (ر) پرویز مشرف پر عائد ہوتی ہے جو اس وقت ملک کے صدر تھے اور انہی کے حکم پر یہ المناک خونریز کاروائی ہوئی تھی جس کے نتیجے میں بہت سے دیگر افراد کے ساتھ حضرت مولانا محمد عبد اللہ شہیدؒ کی اہلیہ محترمہؒ اور ان کے فرزند غازی عبد الرشیدؒ جام شہادت نوش کر گئے تھے اور پورا ملک صدمہ اور رنج و غم میں ڈوب گیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سانحۂ لال مسجد سے متعلق عدالتی کمیشن کی رپورٹ

۱۷ جولائی ۲۰۱۳ء

بم دھماکوں کے پس پردہ کیا کچھ ہے؟

روزنامہ پاکستان لاہور میں شائع ہونے والی ایک خبر ملاحظہ فرمائیے: ’’وارث پورہ سے ملحقہ بلال ٹاؤن گلی نمبر ۷ میں بم دھماکے میں ملوث تین میں سے ۲ ملزمان کو پولیس نے مختلف مقامات پر چھاپے مار کر گرفتار کر لیا جبکہ تیسرا ملزم ذیشان عرف ببلو مسیح بم دھماکہ میں شدید زخمی ہونے کے بعد دم توڑ گیا تھا۔ سی پی او رفعت مختار راجہ ایس ایس پی آپریشنز گوہر نفیس نے پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ گزشتہ روز منگل کی رات ۹ بجے کے قریب بم دھماکہ کے ملزموں کو گرفتار کر لیا گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر بم دھماکوں کے پس پردہ کیا کچھ ہے؟

جون ۲۰۱۳ء

جنرل (ر) پرویز مشرف کی واپسی

سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف گزشتہ روز کراچی واپس پہنچ گئے ہیں اور عام انتخابات میں حصہ لینے کا عزم رکھتے ہیں۔ ملک میں ان کی آمد پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے مگر ان کا کہنا ہے کہ وہ عالمی قوتوں اور حکومت پاکستان سے اپنے تحفظ کی گارنٹی لے کر وطن واپس آئے ہیں اور عام انتخابات میں اہم کردار ادا کریں گے۔ عام انتخابات میں حصہ لینا ملک کے ہر شہری کا حق ہے اور یہ فیصلہ کرنا ووٹروں کا کام ہے کہ وہ کسے اپنی نمائندگی کے لیے چنتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جنرل (ر) پرویز مشرف کی واپسی

اپریل ۲۰۱۳ء

جھوٹے مقدمات کا گھناؤنا کاروبار

روزنامہ جنگ لاہور میں ۲۳ جنوری ۲۰۱۳ء کو شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق گوجرانوالہ کے ڈسٹرکٹ میڈیکل آفیسر ڈاکٹر نثار احمد نے کہا ہے کہ: ’’مخالفین کو پھنسانے کے لیے ناک اور انگلی کی ہڈی ٹوٹنے کی ۸۰ فیصد ضربات خودساختہ ہوتی ہیں اور خود ہڈیاں توڑ کر مخالفین کے خلاف مقدمات درج کروانے کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے، ہسپتالوں میں خودساختہ ضربات لگانے اور ہڈیاں توڑنے کے ماہر افراد کے ایجنٹ دندناتے پھر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جھوٹے مقدمات کا گھناؤنا کاروبار

فروری ۲۰۱۳ء

کراچی کے دو بڑے جامعات کے خلاف کاروائیاں

رمضان المبارک کے دوران جامعہ دار العلوم کورنگی کراچی پر رینجرز کے چھاپے اور تلاشی کے افسوسناک واقعات پر ہم نے عرض کیا تھا کہ یہ معمولی واقعہ نہیں ہے اور بالادست قوتیں اس قسم کی کاروائیاں کر کے دینی مدارس کو خوف و ہراس کا شکار بنا نے کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم کی طرف نئی نسل کی روز افزوں رغبت کو روکنے کی خواہاں ہیں۔ لیکن ہمیں افسوس ہے کہ اس پر ملک بھر میں جس ردعمل کے اظہار کی توقع کی جا رہی تھی وہ سامنے نہیں آیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر کراچی کے دو بڑے جامعات کے خلاف کاروائیاں

دسمبر ۲۰۱۲ء

ملالہ یوسف زئی پر حملہ

ہمارا ماتھا اسی وقت ٹھنک گیا تھا جب ہم نے دیکھا کہ ملالہ جس حملے میں زخمی ہوئی ہیں، اسی حملے میں ان کے ساتھ اسی سکول کی دو اور طالبات شازیہ اور کائنات بھی زخمی ہوئی ہیں۔ لیکن کوریج اور پروٹوکول دونوں حوالوں سے شازیہ اور کائنات اس سلوک کی مستحق قرار نہیں پائیں جو ان کی ایک زخمی ساتھی کو ملا۔ حالانکہ وہ دونوں بھی سوات کی رہنے والی تھیں، اسی سکول کی طالبات تھیں، قوم کی بچیاں تھیں، ایک ہی حملہ میں ملالہ کے ساتھ زخمی ہوئی تھیں اور ان کے جسم سے خارج ہونے والا خون بھی سرخ رنگ کا ہی تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ملالہ یوسف زئی پر حملہ

نومبر ۲۰۱۲ء

گوجرانوالہ: تعمیراتی کام اور لوگوں کے تحفظات

گوجرانوالہ شہر میں مین روڈ پر اقبال ہائی اسکول سے شیرانوالہ باغ تک اوورہیڈ برج کی تعمیر کے مجوزہ منصوبے پر کام کے آغاز کی تیاری ہو رہی ہے اور اس کے ساتھ ہی عوامی حلقوں میں اس منصوبے کے مثبت اور منفی پہلوؤں پر بحث و مباحثے کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا ہے۔ آج کے اخبارات میں منصوبے کے بارے میں ڈی سی او جناب محمد امین چودھری کی زیرصدارت ہونے والے اجلاس کے فیصلوں کی کچھ تفصیلات شائع ہوئی ہیں اور اس پر بعض تاجر رہنماؤں کی طرف سے ہنگامی پریس کانفرنس میں بیان کیے گئے ردعمل کا تذکرہ بھی خبروں میں موجود ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر گوجرانوالہ: تعمیراتی کام اور لوگوں کے تحفظات

۴ ستمبر ۲۰۱۲ء

جامعہ دار العلوم کراچی کا محاصرہ اور سرچ آپریشن

گزشتہ جمعۃ المبارک کے روز رینجرز اور پولیس نے جامعہ دار العلوم کورنگی کراچی کا محاصرہ کر کے تین گھنٹے تک سرچ آپریشن کیا اور کچھ بھی برآمد نہ ہونے پر فورسز واپس چلی گئیں۔ جامعہ دار العلوم کراچی ملک کے بڑے تعلیمی اداروں میں سے ہے جس کی تعلیمی و تحقیقی سر گرمیوں اور خدمات کا دائرہ عالمی سطح تک پھیلا ہوا ہے اور خاص طور پر افتاء میں اسے نہ صرف پاکستان بلکہ پورے جنوبی ایشیا میں مرجع کی حیثیت حاصل ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جامعہ دار العلوم کراچی کا محاصرہ اور سرچ آپریشن

ستمبر ۲۰۱۲ء

سنجیدہ اور ہوش مندانہ حکمت عملی کی ضرورت

اہلِ فکر و دانش کے باہم مل بیٹھنے کی ضرورت ہے، اس طرزِ عمل پر نظر ثانی کی ضرورت ہے، پورے خطے کی مجموعی صورتحال کا گہرائی کے ساتھ جائزہ لینے کی ضرورت ہے، اس سلسلے میں مختلف ممالک میں کام کرنے والوں کے ساتھ رابطہ و مشاورت کی ضرورت ہے، عالمی استعماری قوتیں اس کشمکش کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کرنے کے لیے جس طرح مستعد و متحرک ہیں اسے سمجھنے کی ضرورت ہے، اور جذباتیت و سطحیت سے ہٹ کر مضبوط علمی و فکری اساس پر جدوجہد کی نئی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سنجیدہ اور ہوش مندانہ حکمت عملی کی ضرورت

اگست ۲۰۱۲ء

لڑکیوں کا مبینہ قتل اور این جی اوز

گزشتہ دنوں کوہستان ہزارہ میں رقص و سرور کی کسی محفل میں پانچ لڑکیوں کے قتل کی ایک خبر عام ہوئی اور اس پر بنائی گئی ویڈیو کو مختلف حلقوں میں وسیع پیمانے پر پھیلایا گیا جس کا سپریم کورٹ آف پاکستان نے نوٹس لیا۔ روزنامہ اسلام لاہور کی خبر کے مطابق سپریم کورٹ نے لڑکیوں کے قتل کی خبر کو جھوٹی خبر قرار دے کر اس کیس کو نمٹا دیا ہے۔ اس سلسلہ میں جسٹس منیرہ عباسی نے اپنی رپورٹ میں عدالت عظمٰی کو بتایا کہ لڑکیاں زندہ ہیں اور قتل کی خبر جھوٹی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر لڑکیوں کا مبینہ قتل اور این جی اوز

جولائی ۲۰۱۲ء

اسلام آباد میں امریکی سفارت خانہ اور قادیانی

ملک کے ممتاز صحافی اور کالم نویس جناب خوشنود علی خان نے اپنے ایک حالیہ کالم میں انکشاف کیا ہے کہ اسلام آباد میں وسیع تر اراضی پر تعمیر ہونے والے نئے امریکی سفارت خانہ کی تعمیر و منصوبہ بندی کا کام قادیانیوں کے حوالہ کر دیا گیا ہے اور کم و بیش دو سو قادیانیوں پر مشتمل عملہ اس منصوبہ میں مصروف عمل ہے۔ اسلام آباد میں نئے امریکی سفارت خانے کی تعمیر کی جو تفصیلات اخبارات کے ذریعے سامنے آئی ہیں ان پر بجائے خود عوامی حلقوں کی طرف سے تحفظات کا اظہار ہو رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اسلام آباد میں امریکی سفارت خانہ اور قادیانی

جون ۲۰۱۲ء

علماء کرام کی شہادت، استعمار کی سازش!

گزشتہ دو روز سے مولانا محمد اسلم شیخوپوری کی المناک شہادتؒ پر تعزیتی پروگراموں کا سلسلہ جاری ہے۔ جامعہ نصرۃ العلوم میں طلبہ کے اجتماع میں راقم الحروف نے مولانا شہیدؒ کی دینی و تعلیمی خدمات کا مختصر تذکرہ کیا، انہیں خراج عقیدت پیش کیا گیا، ایصال ثواب کے لیے قرآن خوانی ہوئی اور ان کے لیے دعائے مغفرت کی گئی۔ ۱۵ مئی کو دارالعلوم گجرات میں جمعیۃ علماء اہل السنۃ کے زیر اہتمام ایک تعزیتی نشست ہوئی جس میں علماء کرام کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر علماء کرام کی شہادت، استعمار کی سازش!

۱۸ مئی ۲۰۱۲ء

نو مسلم خواتین کے مسائل اور تحفظات

روزنامہ پاکستان لاہور ۱۸ مارچ ۲۰۱۲ء کی ایک خبر کے مطابق نو مسلم خواتین کے حقوق اور مسائل کے حوالہ سے کام کرنے والے ادارہ ’’شرکت گاہ‘‘ کی ڈائریکٹر کمیونیکیشن فوزیہ وقار اور عورت فاؤنڈیشن لاہور ریجن کی نسرین زہرہ اور ممتاز نے کہا ہے کہ: ’’پاکستان میں مذہب تبدیل کرنے والی خواتین کو مکمل تحفظ اور حقوق حاصل نہیں ہو سکے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر نو مسلم خواتین کے مسائل اور تحفظات

اپریل ۲۰۱۲ء

میمو کمیشن اور منصور اعجاز

ان دنوں میمو کمیشن کا اجلاس جاری ہے اور ویڈیو کانفرنس کے ذریعہ منصور اعجاز لندن سے اپنا بیان ریکارڈ کرا رہے ہیں جن کا کہنا ہے کہ امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی نے پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کو انتہا پسندوں سے محفوظ رکھنے کے لیے امریکہ سے امداد طلب کی تھی اور پاکستان کے آرمی چیف کو ان کے منصب سے الگ کرانے کی تحریک کی تھی۔ میمو کمیشن کی کاروائی جاری ہے اس لیے ہم ان امور کے بارے میں کچھ عرض کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر میمو کمیشن اور منصور اعجاز

مارچ ۲۰۱۲ء

کرپشن کے خلاف مہم اور اصل ضرورت

گزشتہ روز (۲۱ ستمبر ۲۰۱۱ء ) گوجرانوالہ کے مختلف طبقات کے سرکردہ لوگوں نے کرپشن کے خلاف ایک ’’واک‘‘ کا اہتمام کیا جس میں سرکردہ سیاستدان حضرات، تاجر راہنماؤں، وکلاء، ڈاکٹر صاحبان، علماء کرام و تعلیمی اداروں کے سربراہوں، سرکاری افسران، صحافیوں، اساتذہ، خواتین، طلبہ اور شہریوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس واک کا اہتمام گوجرانوالہ تھنکرز فورم نے ڈی آئی جی پولیس (ویلفیئر) ذوالفقار احمد چیمہ کی سرکردگی میں کیا اور یہ حضرات پیدل مارچ کرتے ہوئے جنرل بس اسٹینڈ سے ماڈل ٹاؤن کی مکرم مسجد تک گئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر کرپشن کے خلاف مہم اور اصل ضرورت

اکتوبر ۲۰۱۱ء

پاکستان میں کرپشن کی حکمرانی

ہفت روزہ ’’پاکستان پوسٹ‘‘ (ہیوسٹن، امریکہ) نے ۱۴ جولائی ۲۰۱۱ء کے شمارے میں یہ خبر شائع کی ہے کہ عالمی ادارہ ’’ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل‘‘ نے ایک حالیہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ پاکستان میں گزشتہ تین سال کے دوران کرپشن میں چار سو گنا اضافہ ہوا ہے اور اس سے قومی خزانہ کو تین ہزار ارب روپے کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان کے حکومتی اداروں میں کرپشن اپنے عروج پر ہے اور وزراء اور اعلیٰ سیاسی شخصیات کی کرپشن کی کہانیاں زبان زد عوام ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر پاکستان میں کرپشن کی حکمرانی

اگست ۲۰۱۱ء

اسلامی نظام اور پاکستانی عوام کے جذبات

سہ روزہ ’’دعوت‘‘ نئی دہلی نے ۵ جون ۲۰۱۱ء کے شمارے میں ایک رپورٹ شائع کی ہے جس کے مطابق انٹرنیشنل سروے ایجنسی ’’گیلپ انٹرنیشنل‘‘ نے حال ہی میں اسلامی نظام کے بارے میں پاکستانی عوام کے خیالات و جذبات معلوم کرنے کے لیے سروے کا اہتمام کیا جس کے نتیجہ میں پاکستان کے ۶۷ فیصد عوام نے ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ کی خواہش کی ہے، ۲۰ فیصد لوگوں نے کسی رائے کا اظہار نہیں کیا، جبکہ ۱۳ فیصد کی رائے یہ ہے کہ اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اسلامی نظام اور پاکستانی عوام کے جذبات

جولائی ۲۰۰۷ء

مولانا فضل الرحمان پر حملے ، استعمار کی سازش!

جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمان کو نشانہ بنانے کے لیے مسلسل دو خودکش حملے ملک بھر کے دینی کارکنوں اور محب وطن عناصر کے لیے باعث تشویش و اضطراب ہیں اور ان حملوں میں دو درجن کے لگ بھگ افراد کی المناک شہادت پر سینے میں دل رکھنے والا ہر شخص غمزدہ ہے۔ ابھی تھوڑی دیر قبل فون پر میں نے مولانا موصوف سے اس سانحہ پر تعزیت کرتے ہوئے ان کی خیریت دریافت کی ہے اور شہداء کی مغفرت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے ساتھ ساتھ مولانا فضل الرحمان کی حفاظت کے لیے بارگاہ ایزدی میں دعا کی ہے، اللہ تعالٰی قبول فرمائیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا فضل الرحمان پر حملے ، استعمار کی سازش!

۲ اپریل ۲۰۱۱ء

گوجرانوالہ میں مدارس پر چھاپے اور علماء کرام کی گرفتاریاں

چند روز قبل گوجرانوالہ میں ریل بازار کی پولیس چوکی میں علی الصبح بم دھماکے کے بعد مقامی پولیس نے دینی مدارس پر چھاپوں اور علماء کرام و دینی کارکنوں کی گرفتاریوں کا جو سلسلہ شروع کر رکھا ہے وہ انتہائی افسوسناک ہے اور اس پر مسلسل احتجاج کیا جا رہا ہے۔ پولیس کی بھاری نفری نے جلیل ٹاؤن میں واقع دارالعلوم گوجرانوالہ کا محاصرہ کر لیا جو کم و بیش چار گھنٹے جاری رہا، اس دوران طلبہ کے کمروں اور اساتذہ کی رہائش گاہوں کی لیڈی پولیس اور سراغرساں کتوں کے ذریعہ تفصیلی تلاشی کی گئی۔ مکمل تحریر گوجرانوالہ میں مدارس پر چھاپے اور علماء کرام کی گرفتاریاں

اپریل ۲۰۱۱ء

قومی پالیسیوں کا رخ متعین کیا جائے

گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قتل کو مختلف پہلوؤں اور زاویوں سے دیکھا جا رہا ہے اور اس پر متنوع قسم کے تبصرے سامنے آرہے ہیں، اس قتل کو افسوسناک قرار دینے والے بھی موجود ہیں اور اس پر خوشی اور مسرت کا اظہار کرنے والے بھی کم نہیں ہیں، مگر یہ بات ایک حقیقت ہے کہ اس واقعہ نے صورتحال بالکل بدل ڈالی ہے اور نہ صرف قومی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی پالیسیوں اور اندازوں میں ہلچل کی کیفیت دکھائی دے رہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قومی پالیسیوں کا رخ متعین کیا جائے

فروری ۲۰۱۱ء

’’دشمن مرے تے خوشی نہ کریے، سجناں وی مرجانا ہو‘‘

میں الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں اپنے معمول کے کاموں میں مصروف تھا کہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنما جناب عثمان عمر ہاشمی نے فون پر اطلاع دی کہ ٹی وی چینلز پر بریکنگ نیوز کے عنوان سے پٹی چل رہی ہے کہ گورنر پنجاب سلمان تاثیر کو اسلام آباد میں ان کے اپنے ہی ایک محافظ نے قتل کر دیا ہے۔ میں نے انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھا اور خبر کی تفصیلات معلوم کرنے میں مصروف ہوگیا۔ اگلے روز صبح جامعہ نصرۃ العلوم میں ترجمہ قرآن کریم کی کلاس کے بعد طلبہ نے گورنر پنجاب کے قتل پر میرا تاثر معلوم کرنا چاہا تو میں نے پنجابی کا ایک مصرعہ پڑھنے پر اکتفا کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ’’دشمن مرے تے خوشی نہ کریے، سجناں وی مرجانا ہو‘‘

۹ جنوری ۲۰۱۱ء

سیلاب کی تباہ کاری اور بیرون ملک پاکستانی کمیونٹی کی تشویش

دینی مدارس میں شعبان اور رمضان المبارک کے دوران تعطیلات ہوتی ہیں اور میرے پاس اسی دوران بیرونی سفر کی گنجائش ہوتی ہے۔ بیرون ملک بھی سرگرمیاں وہی ہوتی ہیں جو ملک میں باقی سارا سال رہتی ہیں۔ دینی مدارس کے پروگراموں میں حاضری، تعلیمی مشاورت کی مجالس میں شرکت اور مساجد میں جمعۃ المبارک کے خطبات اور دروس وغیرہ۔ البتہ حاضری کا دائرہ کچھ وسیع ہو جاتا ہے کہ پاکستانی کمیونٹی کے ساتھ انڈیا اور بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے وہ حضرات بھی اس میں شامل ہو جاتے ہیں جو اردو بولتے اور سمجھتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سیلاب کی تباہ کاری اور بیرون ملک پاکستانی کمیونٹی کی تشویش

۲۵ اگست ۲۰۱۰ء

قادیانی مسئلے کو ری اوپن کرنے کی تمہیدات؟

لاہور کے سانحہ کے ذمہ دار عناصر جو بھی ہیں انھوں نے ملک، دین اور قوم تینوں کو نقصان پہنچایا ہے۔ اگر خدا نخواستہ کسی انتہا پسند تنظیم نے اس کی پلاننگ کی ہے تو یہ قادیانیوں کے ساتھ نمٹنے کا انتہائی غلط طریق کار ہے۔ اور اگر یہ کارروائی پس پردہ خفیہ ہاتھوں کی کارستانی ہے تو ملک کو نقصان پہنچانے اور پاکستان کے داخلی معاملات میں بیرونی مداخلت کا دائرہ کار وسیع کرنے کی کسی سازش کاحصہ ہے۔ اس بات کا فیصلہ کرنا قانون اور عدالت کا کام ہے کہ اس افسوس ناک واقعہ کے عوامل واسباب کیا ہیں اور یہ کن لوگوں کی کارروائی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قادیانی مسئلے کو ری اوپن کرنے کی تمہیدات؟

جولائی ۲۰۱۰ء

قادیانیوں کے متعلق دستوری فیصلے کو ری اوپن کرنے کی کوشش

سانحہ لاہور کے بعد میڈیا پر مختلف اطراف سے قادیانیت کے حوالہ سے ہونے والی بحث کے نئے راؤنڈ نے ملک بھر کے دینی حلقوں کو چونکا دیا ہے اور میاں محمد نواز شریف کے ایک بیان نے انہیں مزید حیرت سے دوچار کر دیا ہے۔ اگر یہ بحث و مباحثہ سانحہ لاہور اور قادیانی مراکز پر مسلح حملوں کے سیاق و سباق تک محدود رہتا اور ان حملوں کے اسباب و عوامل اور محرکات و نتائج کے حوالے سے گفتگو آگے بڑھتی تو شاید یہ صورتحال پیدا نہ ہوتی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قادیانیوں کے متعلق دستوری فیصلے کو ری اوپن کرنے کی کوشش

۱۲ جون ۲۰۱۰ء

قادیانی عبادت گاہوں پر حملے اور گستاخانہ خاکوں کے خلاف احتجاجی ریلیاں

۲۸ مئی کو گوجرانوالہ کے عوام، دینی حلقوں اور تاجر برادری نے حرمتِ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مسئلہ پر جس یکجہتی کا اظہار کیا اس کے بارے میں کچھ عرض کرنے سے پہلے اسی روز لاہور میں جو افسوسناک واقعات ہوئے پہلے ان کے حوالے سے کچھ گزارش کرنا زیادہ ضروری سمجھتا ہوں۔ لاہور میں جمعہ کے روز قادیانیوں کی عبادت گاہوں پر مسلح حملوں اور اس کے نتیجے میں مبینہ طور پر ایک سو افراد کے جاں بحق ہونے پر ملک کے ہر باشعور شہری نے افسوس کا اظہار کیا ہے۔ یہ کام جس نے بھی کیا ہے ملک، قوم اور دین تینوں کو نقصان پہنچایا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قادیانی عبادت گاہوں پر حملے اور گستاخانہ خاکوں کے خلاف احتجاجی ریلیاں

۴ جون ۲۰۱۰ء

حالات حاضرہ ۔ علمائے دیوبند کا اجتماعی موقف

ہمارے ملک کے بہترین وسائل ان عوامی امنگوں کو دور کرنے اور ان کے اسباب کا ازالہ کرنے کی بجائے امریکہ کی مسلط کی ہوئی جنگ میں امریکی مفادات کے تحفظ کے لیے خرچ ہو رہے ہیں۔ جبکہ امریکہ کی طرف سے ہماری سرحدوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی کر کے ان ڈرون حملوں کا سلسلہ برابر جاری ہے جن میں ہمارے بے گناہ شہریوں، عورتوں او ر بچوں کی بہت بڑی تعداد شہید ہو کر بستیاں اجڑ چکی ہیں۔ اور یہ بات واضح ہے کہ امریکہ نے اپنی بالادستی قائم کرنے اور عالم اسلام کے وسائل پر قبضہ کرنے اور اسلام اور امت مسلمہ کے تہذیب و تمدن کو تباہ کرنے کی کاروائیوں میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حالات حاضرہ ۔ علمائے دیوبند کا اجتماعی موقف

مئی ۲۰۱۰ء

فیصل آباد میں فرقہ وارانہ دہشت گردی

اس سال بارہ ربیع الاول کو فیصل آباد میں جس افسوسناک فرقہ وارانہ دہشت گردی کا مظاہرہ کیا گیا ہے اس نے ملک بھر کے سنجیدہ مذہبی اور قومی حلقوں کو پریشان اور مضطرب کر کے رکھ دیا ہے اور کوئی صاحب شعور اس کی وجہ سمجھ نہیں پا رہا کہ آخر ایسا کیوں کیا گیا ہے؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر فیصل آباد میں فرقہ وارانہ دہشت گردی

اپریل ۲۰۱۰ء

دہشت گردی کے خلاف جنگ اور علماء

علماء کرام سے ملک کے بعض حلقوں کا یہ مسلسل مطالبہ ہے کہ وہ خود کش حملوں کے خلاف اجتماعی فتویٰ جاری کریں اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حکومتی پالیسی کی حمایت کا دو ٹوک اعلان کریں، لیکن موجودہ صورت حال میں یہ بات بہت مشکل ہے کہ علماء کرام حکومت کی پالیسیوں کی آنکھیں بند کر کے حمایت کریں اور نہ ہی حکومت کو اس کی توقع کرنی چاہیے، اس لیے کہ جو بات جس حد تک درست ہوگی، اس کی ضرور حمایت کی جائے گی، لیکن جو بات درست نہیں ہوگی، اس کی حمایت نہیں کی جائے گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دہشت گردی کے خلاف جنگ اور علماء

جنوری ۲۰۱۰ء

خودکش حملے اور حکومتی پالیسیاں

ان دنوں خودکش حملوں کے خلاف علماء کرام کے اجتماعی فتویٰ کے لیے سر کاری حلقوں کی طرف سے کوششیں جاری ہیں، وفاقی وزیر داخلہ کراچی کا دورہ کر چکے ہیں اور وفاقی وزارت مذہبی امور نے اسلام آباد میں سر کردہ علماء کرام کا ایک اجلاس منعقد کیا ہے مگر مطلوبہ مقاصد حاصل نہیں ہو سکے۔ ۱۳ دسمبر ۲۰۰۹ء کو پنجاب کے وزیر اعلیٰ جناب محمد شہباز شریف نے صوبائی اتحاد بین المسلمین کمیٹی اجلاس لاہور میں طلب کیا تھا جو دراصل محرم الحرام کے دوران امن و امان سے متعلقہ مسائل و امور کا جائزہ لینے کے لیے منعقد ہوا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر خودکش حملے اور حکومتی پالیسیاں

جنوری ۲۰۱۰ء

موجودہ حالات اور جنرل حمید گل

دو روز قبل جنرل (ر) حمید گل صاحب نے فون پر مجھے کہا کہ ۸ دسمبر کو راولپنڈی میں کچھ حضرات کو ملک کی موجودہ صورتحال کے حوالہ سے جمع ہونے کی دعوت دی گئی ہے جس میں آپ کی آمد بھی ضروری ہے۔ میرا خیال تھا کہ کوئی محدود سطح کا مشاورتی اجلاس ہوگا لیکن میں جب ۳ بجے کے لگ بھگ راولپنڈی صدر کے فلیش مین ہوٹل کے مین ہال میں داخل ہوا تو وہاں ایک اچھے خاصے قومی سیمینار کا سماں تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر موجودہ حالات اور جنرل حمید گل

۱۰ دسمبر ۲۰۰۹ء

خونی انقلاب، معاشی انصاف اور جعلی نظام

روزنامہ پاکستان لاہور ۱۹ ستمبر ۲۰۰۹ء کی ایک خبر کے مطابق پنجاب کے وزیر اعلیٰ میاں شہباز شریف نے ایوان کارکنان میں یوم پاکستان کے سلسلہ میں منعقد ہونے والی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ خونی انقلاب ہر گھر کے دروازے پر دستک دے رہا ہے اگر حکمرانوں نے عوام کے لیے روٹی، تعلیم، معاشی و معاشرتی انصاف کا انتظام نہ کیا تو عوام اس جعلی نظام کو زمین بوس کر دیں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر خونی انقلاب، معاشی انصاف اور جعلی نظام

اکتوبر ۲۰۰۹ء

سوات آپریشن کے متاثرین کی امداد اور دینی مدارس

گزشتہ دنوں ایک روز کے لیے کراچی جانے کا اتفاق ہوا اور جامعہ دار العلوم کورنگی، جامعہ اسلامیہ کلفٹن اور جامعہ انوار القرآن آدم ٹاؤن کی مختلف علمی نشستوں میں شرکت کے ساتھ ساتھ کراچی کے مختلف دینی اداروں کی طرف سے سوات آپریشن کے متاثرین کی امداد کی سر گرمیوں کے بارے میں معلومات بھی حاصل کیں اور بے حد خوشی ہوئی کہ ہمارے بڑے دینی مدارس اپنے مظلوم اور متاثر بھائیوں کی امداد اور بحالی کے لیے پوری دلچسپی کے ساتھ سر گرم عمل ہیں، مجھے بتایا گیا کہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سوات آپریشن کے متاثرین کی امداد اور دینی مدارس

اگست ۲۰۰۹ء

سوات کے حالات، قومی کمیشن قائم کیا جائے

سوات اور دیگر ملحقہ علاقوں میں آپریشن جاری ہے، آبادی کا وسیع پیمانے پر انخلا ایک مستقل مسئلہ ہے اور ہزاروں خاندان کیمپوں میں کسمپرسی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں، سینکڑوں افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جن میں پر امن شہریوں کی ایک بڑی تعداد شامل ہے۔ بظاہر پاک فوج اس خطہ میں حکومتی رٹ قائم کرنے اور مبینہ دہشت گردوں کا صفایا کرنے کے لیے یہ وسیع فوجی آپریشن کر رہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سوات کے حالات، قومی کمیشن قائم کیا جائے

جولائی ۲۰۰۹ء

سوات میں نفاذ شریعت اور سیکولر حلقوں کی جھنجھلاہٹ

مالاکنڈ ڈویژن میں نظام عدل ریگولیشن کے نفاذ کے معاہدہ نے دنیا بھر کے سیکولر حلقوں میں بے چینی کی لہر پیدا کر دی ہے اور ہر سطح پر اس پر جھنجھلاہٹ کا اظہار مسلسل جاری ہے۔ حالانکہ یہ سادہ سی بات ہے کہ سوات اور مالاکنڈ ڈویژن کے لوگوں کا ایک مدت سے مطالبہ تھا کہ انہیں شرعی عدالتوں کا نظام فراہم کیا جائے، کیونکہ پاکستان کے ساتھ ریاست سوات کے الحاق سے قبل وہاں شرعی عدالتوں کا جو نظام موجود تھا اس میں انہیں جلد اور سستے انصاف کی سہولت حاصل تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سوات میں نفاذ شریعت اور سیکولر حلقوں کی جھنجھلاہٹ

مارچ ۲۰۰۹ء

قادیانیوں کے بارے میں پارلیمنٹ کی کاروائی

روزنامہ پاکستان لاہور ۱۷ جنوری ۲۰۰۹ء کی خبر کے مطابق سینٹ آف پاکستان کے جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے رکن پروفیسر محمد ابراہیم نے قومی اسمبلی کی اسپیکر محترمہ ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کے نام ایک خط میں ان سے مطالبہ کیا ہے کہ ۱۹۷۴ء میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے سے پہلے پارلیمنٹ میں مسلسل کئی روز تک اس مسئلہ پر جو مباحثہ ہوا تھا اور اس کے نتیجے میں پاکستان کی منتخب پارلیمنٹ میں قادیانیوں کو آئینی طور پر غیر مسلم اقلیت کا درجہ دینے کا تاریخی فیصلہ کیا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قادیانیوں کے بارے میں پارلیمنٹ کی کاروائی

فروری ۲۰۰۹ء

’’دہشت گردی‘‘ کے خلاف جنگ اور پارلیمنٹ کی متفقہ قرارداد

ملک میں امن وامان کی صورت حال کے حوالے سے اس وقت سب سے بڑا مسئلہ’’ دہشت گردی اور اس کے خلاف جنگ‘‘ کے عنوان سے سرفہرست ہے اور اس جنگ کا پھیلاؤ جوں جوں بڑھتا جا رہا ہے، عوام کے اضطراب میں اضافے کے ساتھ ساتھ قومی خود مختاری اور ملکی سا لمیت کے بارے میں سوالات میں بھی شدت پیدا ہو رہی ہے۔ یہ ’’دہشت گردی ‘‘ کیا ہے اور اس کے خلاف جنگ کے اہداف ومقاصد کیا ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ’’دہشت گردی‘‘ کے خلاف جنگ اور پارلیمنٹ کی متفقہ قرارداد

نومبر ۲۰۰۸ء

قادیانیوں کی ارتدادی سرگرمیاں اور انڈونیشیا کی حکومت کا فیصلہ

مرزا غلام احمد قادیانی کی وفات کو ایک سو سال مکمل ہونے پر جہاں قادیانی جماعت دنیا بھر میں صد سالہ تقریبات کا اہتمام کر رہی ہے وہاں پاکستان میں اس کی سر گرمیوں میں اضافے کی خبریں بھی منظر عام پر آ رہی ہیں۔ گزشتہ دنوں پنجاب میڈیکل کالج فیصل آباد میں قادیانی اسٹوڈنٹس کی ایسی سر گرمیوں کا نوٹس لیا گیا ہے جو طلبہ اور طالبات میں قادیانیت کے پر چار کے لیے کی جا رہی تھیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قادیانیوں کی ارتدادی سرگرمیاں اور انڈونیشیا کی حکومت کا فیصلہ

جولائی ۲۰۰۸ء

لال مسجد علماء ایکشن کمیٹی کا قیام اور دینی جماعتوں کی ذمہ داری

اسلام آباد اور راولپنڈی کے علماء کرام نے لال مسجد اور جامعہ حفصہؓ کے سانحہ کے سلسلہ میں رائے عامہ کو منظم و بیدار کرنے کے لیے ’’لال مسجدعلماء ایکشن کمیٹی ‘‘ کے نام سے فورم قائم کر کے ۶ جولائی کو لال مسجد میں جلسہ کرنے اور وہاں سے احتجاجی مہم شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ جبکہ وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی مرکزی مجلس عاملہ نے اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے ’’لال مسجد علماء ایکشن کمیٹی‘‘ کو مکمل تعاون کا یقین دلایا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر لال مسجد علماء ایکشن کمیٹی کا قیام اور دینی جماعتوں کی ذمہ داری

جولائی ۲۰۰۸ء

لال مسجد و جامعہ حفصہ کے حل طلب معاملات

لال مسجد کے سانحہ کو ایک برس ہونے والا ہے مگر اس سے متعلقہ مسائل ابھی تک جوں کے توں ہیں اور بظاہر ان کے جلد طے ہونے کی کوئی صورت نظر نہیں آرہی۔ لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے خلاف وحشیانہ آپریشن اور اس کے نتیجے میں سینکڑوں معصوم بچیوں اور دیگر افراد کی مظلومانہ شہادت کے ذمہ داروں کی نشاندہی، جامعہ فریدیہ کی مسلسل بندش، جامعہ حفصہ کی دوبارہ تعمیر، مولانا عبد العزیز کی رہائی، اور اس سلسلہ میں درج کیے جانے والے مقدمات کے بارے میں حکومتی پالیسی جیسے اہم مسائل کے بارے میں آج بھی صورتحال وہی ہے جو اب سے گیارہ ماہ قبل تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر لال مسجد و جامعہ حفصہ کے حل طلب معاملات

۱۹ جون ۲۰۰۸ء

اسلامی احکام و قوانین کے دفاع کی جنگ لڑنا ہوگی

۳۰ اپریل کو لندن پہنچا ہوں، دو ہفتے قیام رہے گا ۱۳ مئی کو ورلڈ اسلامک فورم کا سالانہ اجلاس ہے اور ۱۵ مئی کو واپس گوجرانوالہ کے لیے روانہ ہو جاؤں گا، ان شاء اللہ تعالیٰ۔ مختلف طبقات کے احباب سے ملاقاتیں ہو رہی ہیں اور بہت سے مسائل گفتگو کا حصہ ہیں مگر جو دوست بھی ملتا ہے اس کا پہلا سوال جج صاحبان کی بحالی کے بارے میں ہوتا ہے، دوسرا جامعہ حفصہ کے بارے میں اور پھر اس کے بعد دوسرے مسائل کا تذکرہ شروع ہو جاتا ہے۔ عدلیہ کی خودمختاری اور معزز جج صاحبان کے بارے میں پاکستان کی طرح یہاں بھی پریشانی کی عمومی فضا پائی جاتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اسلامی احکام و قوانین کے دفاع کی جنگ لڑنا ہوگی

۱۰ مئی ۲۰۰۸ء

مالاکنڈ ڈویژن میں شرعی عدالت

ہمیں مولانا صوفی محمد اور مولانا فضل اللہ کی تحریکوں کے طریق کار سے اتفاق نہیں ہے اور ہم اس ملک میں نفاذ اسلام کے لیے مسلح جدوجہد کے بارے میں تحفظات رکھتے ہیں۔ لیکن ہمیں ان کے اس موقف سے اتفاق ہے کہ باقی پاکستان میں اسلامی قوانین کانفاذ جب بھی عمل میں آئے، مگر ان کی سا بقہ ریاست سوات کی حدود میں جہاں پاکستان کے ساتھ اس کے الحاق سے پہلے تک شرعی قوانین اور قاضی عدالتیں موجود تھیں، کم از کم وہاں تو حسب سا بق شرعی عدالتوں کی عمل داری قائم کر دی جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مالاکنڈ ڈویژن میں شرعی عدالت

فروری ۲۰۰۸ء

لاہور میں ایک چرچ کا انہدام

۱۸ دسمبر ۲۰۰۷ء کو روزنامہ ڈان میں شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق لاہور چرچ کونسل کے سیکرٹری جناب مشتاق سجیل بھٹی نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا ہے کہ گارڈن ٹاؤن لاہور کے ابوبکر بلاک میں ۱۹۶۳ء سے قائم ایک چرچ کو، جو ’’چرچ آف کرائسٹ‘‘ کے نام سے مسیحیت کی مذہبی سرگرمیوں کا مرکز تھا، ایک بااثر قبضہ گروپ نے ۱۱ دسمبر کو اس پر زبردستی قبضہ کرنے کے بعد ۱۶ دسمبر کو مسمار کر دیا ہے اور اسے ایک کمرشل پلاٹ کی شکل دے دی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر لاہور میں ایک چرچ کا انہدام

جنوری ۲۰۰۸ء

اغوا کی وارداتیں اور پولیس کا کردار

بہاولپور کے ایک نوجوان عالم دین مولانا مفتی محمد یوسف کو اغوا ہوئے آج نواں روز ہے اور ان کی رہائی کے لیے آٹھ لاکھ روپے تاوان کا مطالبہ کیا جا رہا ہے مگر ہمارا حکومتی نظام ہے کہ ابھی تک اس سلسلہ میں کچھ نہیں کر پا رہا۔ مفتی محمد یوسف دارالعلوم مدینہ (ماڈل ٹاؤن، بہاولپور) کے استاذ ہیں اور دارالعلوم کی طرف سے شائع ہونے والے ماہنامہ جریدہ ’’المصطفٰیؐ‘‘ کے مدیر ہیں۔ وہ ایک غریب خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، ان کے والد صاحب بہاولپور میں ہی حفظ قرآن کریم کا ایک مدرسہ چلا رہے ہیں اور اس پوزیشن میں نہیں ہیں کہ اتنی بڑی رقم ادا کر سکیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اغوا کی وارداتیں اور پولیس کا کردار

۲۷ دسمبر ۲۰۰۷ء

منشیات کا فروغ اور حکومت کی ذمہ داری

روزنامہ جنگ راولپنڈی ۲۵ نومبر ۲۰۰۷ء کی ایک خبر کے مطابق پاکستان میں منشیات کے استعمال میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور اس پر قابو پانے کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہو رہی۔ خبر میں بتایا گیا ہے کہ افغانستان میں افیون کاشت میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے اور اس سال ۴۰ میٹرک ٹن پیداوار ریکارڈ کی گئی ہے۔ یہ افیون ہیروئن کی شکل میں قبائلی سرداروں اور پیشہ ور اسمگلروں کے ذریعے پاکستان میں سپلائی ہوتی ہے اور پھر دنیا کے مختلف ممالک میں سپلائی ہونے کے ساتھ ساتھ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر منشیات کا فروغ اور حکومت کی ذمہ داری

دسمبر ۲۰۰۷ء

لال مسجد کا سانحہ اور اقوام متحدہ

لال مسجد اور جامعہ حفصہؓ کے خلاف حکومت کے وحشیانہ آپریشن کے بعد اس کی صدائے بازگشت پوری دنیا میں سنائی دے رہی ہے اور مختلف اداروں میں اس کے اسباب و عوامل اور نتائج و عواقب پر بحث جاری ہے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان اپنے سو موٹو نوٹس اور وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی طرف سے دائر کردہ رٹ کو غازی عبدالرشید شہیدؒ کے اہل خاندان کی طرف سے دی گئی درخواستوں کے ساتھ جمع کرتے ہوئے اس کیس کو آگے بڑھا رہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر لال مسجد کا سانحہ اور اقوام متحدہ

نومبر ۲۰۰۷ء

سانحہ لال مسجد کے اثرات اور دینی وسیاسی حلقوں کی ذمہ داری

سانحہ لال مسجد کے اثرات و نتائج جوں جوں سامنے آرہے ہیں ان کے اسباب و عوامل پر بحث و تمحیص کا سلسلہ وسیع ہوتا جا رہا ہے اور مختلف پہلوؤں پر اظہار خیال کا سلسلہ جاری ہے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے اس کا از خود نوٹس لیتے ہوئے کاروائی کا آغاز لال مسجد کے خلاف آپریشن کے دوران ہی کر دیا تھا، جبکہ وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے صدر حضرت مولانا سلیم اللہ خان اور سیکرٹری جنرل مولانا قاری محمد حنیف جالندھری کی طرف سے عدالت عظمیٰ میں رٹ دائر کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سانحہ لال مسجد کے اثرات اور دینی وسیاسی حلقوں کی ذمہ داری

ستمبر ۲۰۰۷ء

لال مسجد کا سانحہ اور ہماری ذمہ داریاں

لال مسجد اور جامعہ حفصہؓ کے سانحے نے پوری قوم کو غم اور صدمہ سے دو چار کر دیا ہے اور جس شخص کے سینے میں بھی گوشت کا دل ہے وہ اس المیہ پر مضطرب اور بے چین ہے۔ ۱۰ جولائی کی صبح کو عین اس وقت جبکہ حکومت اور غازی عبدالرشید شہیدؒ کے درمیان مذاکرات ایک مثبت نتیجے پر پہنچ چکے تھے، ان مذاکرات کو ملک کی مقتدر شخصیت نے ویٹو کر دیا اور پھر مذاکرات کا سلسلہ ختم ہوتے ہی جس بے دردی اور سنگدلی کے ساتھ لال مسجد اور جامعہ حفصہؓ کے اندر موجود افراد بالخصوص طالبات اور بچوں کو مسلح آپریشن کا نشانہ بنایا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر لال مسجد کا سانحہ اور ہماری ذمہ داریاں

اگست ۲۰۰۷ء

اسلام آباد کے مساج پارلر اور لال مسجد

لال مسجد اسلام آباد کی انتظامیہ نے گزشتہ دنوں اسلام آباد کے ایک مساج پارلر پر چھاپہ مارا اور وہاں کام کرنے والی لڑکیوں اور کارکنوں کو یرغمال بنا کر لال مسجد میں لے آئے جن میں چین کے باشندے بھی تھے۔ اس پر اسلام آباد کی انتظامیہ نے لال مسجد کی انتظامیہ سے بات چیت کی اور اسلام آباد میں چین کے سفیر محترم بھی حرکت میں آئے جس پر لال مسجد کی انتظامیہ نے اسلام آباد کی انتظامیہ کے اس وعدہ پر ان یرغمالیوں کو رہا کر دیا ہے کہ اسلام آباد میں ان مساج پارلروں کو بند کر دیا جائے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اسلام آباد کے مساج پارلر اور لال مسجد

جولائی ۲۰۰۷ء

دو لڑکیوں کی باہمی شادی کا افسوسناک واقعہ

ان دنوں اخبارات میں فیصل آباد سے تعلق رکھنے والی دو لڑکیوں کا تذکرہ چل رہا ہے جنہوں نے آپس میں شادی رچا لی ہے، شہزینہ اور نازیہ نامی دو لڑکیوں نے ایک دوسرے کی محبت میں باہمی شادی کا فیصلہ کیا۔ ان میں سے ایک نے لڑکا بننے کے لیے آپریشن کرایا جس سے اس کے چہرے پر داڑھی وغیرہ کے آثار نمودار ہوئے اور دونوں نے آپس میں شادی کر لی لیکن بعد میں پتہ چلا کہ داڑھی نمودار ہونے کے باوجود وہ ابھی تک لڑکی ہے تو خاندان کی طرف سے بات عدالت تک جا پہنچی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دو لڑکیوں کی باہمی شادی کا افسوسناک واقعہ

جون ۲۰۰۷ء

الرشید ٹرسٹ اور الاختر ٹرسٹ پر پابندی

حکومت نے الرشید ٹرسٹ اور الاختر ٹرسٹ کو خلاف قانون قرار دے کر ان کی سرگرمیوں پر پابندی لگا دی ہے اور ملک بھر میں ان کے دفاتر سربہ مہر کر دیے ہیں۔ اس اقدام کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ اقوام متحدہ کی ایک قرار داد کی رو سے یہ ضروری ہوگیا تھا اس لیے یہ کاروائی عمل میں لائی گئی ہے۔ الرشید ٹرسٹ اور الاختر ٹرسٹ ہمارے ملک کی دو بڑی دینی شخصیات حضرت مولانا مفتی رشید احمد لدھیانویؒ اور حضرت مولانا حکیم محمد اخترؒ کے قائم کردہ رفاہی ادارے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر الرشید ٹرسٹ اور الاختر ٹرسٹ پر پابندی

مارچ ۲۰۰۷ء

گوجرانوالہ میں خاتون صوبائی وزیر کا قتل

گزشتہ دنوں گوجرانوالہ سے تعلق رکھنے والی خاتون صوبائی وزیر مسز ظل ہما عثمان کو کھلی کچہری کے دوران گولی مار کر قتل کر دیا گیا، انا للہ و انا الیہ راجعون۔ قاتل گوجرانوالہ کا شہری ہے جو اس سے قبل بھی متعدد خواتین کو بدکاری کے الزام کے حوالہ سے قتل کر چکا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اس نے خاتون صوبائی وزیر کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے قتل کیا ہے کیونکہ وہ بے پردہ پھرتی تھیں اور اس کے ساتھ ساتھ وہ عورت کی حکمرانی کو بھی شرعاً جائز نہیں سمجھتا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر گوجرانوالہ میں خاتون صوبائی وزیر کا قتل

مارچ ۲۰۰۷ء

جامعہ حفصہ للبنات اسلام آباد کو گرانے کا نوٹس

روزنامہ ایکسپریس گوجرانوالہ ۲۲ جنوری ۲۰۰۷ء کی ایک خبر کے مطابق دینی مدارس کے وفاقوں کے اتحاد نے وفاقی وزیر مذہبی امور جناب اعجاز الحق کے ساتھ مذاکرات سے معذرت کر لی ہے اور اس امر پر احتجاج کیا ہے کہ حکومت ایک طرف تو دینی مدارس کی قیادت کے ساتھ مذاکرات کی بات کر رہی ہے اور دوسری طرف دینی مدارس پر دباؤ اور ان کے گرد گھیرا تنگ کرنے کے لیے سختی کے ساتھ اقدامات کیے جا رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جامعہ حفصہ للبنات اسلام آباد کو گرانے کا نوٹس

فروری ۲۰۰۷ء

حکومت پنجاب کا مستحسن اقدام

روزنامہ اسلام لاہور ۱۸ نومبر ۲۰۰۵ء کی رپورٹ کے مطابق حکومت پنجاب نے گوجرانوالہ میں متحدہ مجلس عمل کے ممبر قومی اسمبلی مولانا قاضی حمید اللہ خان اور ان کے رفقاء کے خلاف میراتھن ریس کو روکنے کے لیے مظاہرہ کرنے کے الزام میں درج مقدمہ واپس لے لیا ہے جس پر انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج طارق افتخار نے قاضی صاحب موصوف اور ان کے ۹۶ رفقاء کو باعزت بری کر دیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حکومت پنجاب کا مستحسن اقدام

دسمبر ۲۰۰۵ء

زلزلہ سے متاثرہ مساجد و مدارس، اصحاب خیر کی خصوصی توجہ کے مستحق

عید الفطر کے بعد مجھے تین چار روز کے لیے زلزلہ زدہ علاقے میں جانے کا موقع ملا، پاکستان شریعت کونسل کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات مولانا قاری جمیل الرحمن اختر ہمراہ تھے، ہم نے راولاکوٹ، ہاڑی گہل، تھب، ارجہ، جگلڑی، ملوٹ، دھیرکوٹ، جھالہ، باغ، مظفر آباد ، گڑھی حبیب اللہ، بالا کوٹ اور مانسہرہ میں زلزلہ کی تباہ کاری کے مناظر دیکھے، متاثرین سے ملاقاتیں کیں، کچھ سامان اور نقدی ہمارے پاس تھی جو زیادہ مستحقین میں تقسیم کی، امدادی گروپوں کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر زلزلہ سے متاثرہ مساجد و مدارس، اصحاب خیر کی خصوصی توجہ کے مستحق

دسمبر ۲۰۰۵ء

زلزلہ کی تباہ کاریاں ۔ چند توجہ طلب امور

۸ اکتوبر کے زلزلہ کی شدت اور سنگینی کا اس بات سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اتنا عرصہ گزر جانے اور ملکی و عالمی سطح پر تمام ممکنہ اور میسر وسائل استعمال کیے جانے کے باوجود نہ تو نقصانات کا پورے طور پر تخمینہ لگایا جا سکا ہے، نہ تمام متاثرہ علاقوں تک رسائی ممکن ہو سکی ہے اور نہ ہی ملبہ میں دب جانے والے انسانوں کو زندہ یا مردہ وہاں سے نکال لینے کی کوئی صورت قابل عمل دکھائی دے رہی ہے۔ امدادی کاروائیاں جاری ہیں اور عالمی برادری، مسلم امہ اور پاکستانی قوم کی بھرپور نمائندگی ان امدادی کاروائیوں میں نظر آرہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر زلزلہ کی تباہ کاریاں ۔ چند توجہ طلب امور

نومبر ۲۰۰۵ء

متاثرین زلزلہ اور ہماری مذہبی واخلاقی ذمہ داری

جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت مبارکہ یہ تھی کہ ایسے مواقع پر وہ اللہ تعالیٰ کے حضور پریشانی کا اظہار فرماتے اور کثرت سے استغفار کرتے تھے، اس لیے ہمارے لیے بھی اسوۂ نبوی یہی ہے کہ توبہ واستغفار کا اہتمام کریں اور اپنے اعمال وکردار پر نگاہ کرتے ہوئے ان کی اصلاح کی کوشش کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ اور استغفار کو اجتماعی طور پر اپنا معمول بنائیں۔ زلزلہ سے متاثر ہونے والے بھائیوں کی مدد ہماری دینی، اخلاقی اور قومی ذمہ داری ہے جس کے لیے ہمیں تمام ممکن ذرائع اختیار کرنے چاہئیں اور ان کی بحالی و آبادی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر متاثرین زلزلہ اور ہماری مذہبی واخلاقی ذمہ داری

نومبر ۲۰۰۵ء

گوجرانوالہ بچاؤ تحریک: چند گزارشات

چند ماہ قبل کچھ دوست گوجرانوالہ کے شہریوں کو درپیش مسائل کے حوالے سے جناب ایس اے حمید کی رہائش گاہ پر جمع ہوئے تو اس بات پر مشورہ ہوا کہ شہریوں کی مشکلات اور مسائل کے حل کے لیے ایک ایسا فورم تشکیل دیاجائے جو سیاسی گروہ بندی، برادری ازم اور انتخابی جھمیلوں سے الگ تھلک رہتے ہوئے خالصتاً شہری بنیادوں پر لوگوں کی مشکلات و مسائل کے حل کے لیے کوشش کر سکے۔ اس کا ذکر اس کالم میں اس سے قبل بھی کرچکاہوں۔ اس موقع پر یہ طے ہو گیا کہ یہ فورم سیاسی گروہ بندیوں، فرقہ وارانہ ترجیحات، انتخابی کشمکش اور برادری ازم سے ہٹ کر ہوگا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر گوجرانوالہ بچاؤ تحریک: چند گزارشات

۲ اگست ۲۰۰۵ء

عازمین عمرہ کی پریشانی

روزنامہ جنگ لاہور ۱۷ نومبر ۲۰۰۴ء کی رپورٹ کے مطابق عمرہ کے لیے حجاز مقدس جانے والے ہزاروں پاکستانی واپسی کی سیٹیں کنفرم نہ ہونے کی وجہ سے سخت پریشانی کا شکار ہیں، رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ لاہور، اسلام آباد اور کراچی سے عمرہ پر جانے والے ہزاروں افراد تاحال جدہ ایئرپورٹ اور پی آئی اے کے دفتر کے باہر بے یار و مددگار بیٹھے ہیں جن کے لیے نہ تو جہاز میں واپسی کی سیٹ ہے اور نہ ہی انہیں بکنگ کے لیے پی آئی اے کے جدہ آفس میں داخل ہونے دیا جاتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر عازمین عمرہ کی پریشانی

دسمبر ۲۰۰۴ء

سنی شیعہ کشیدگی: فریقین ہوش کے ناخن لیں

سنی شیعہ مسلح کشمکش میں بیرونی عوامل کی کارفرمائی سے انکار نہیں اور ہم اس کی کئی بار اپنی معروضات میں نشان دہی کر چکے ہیں، لیکن بنیادی طور پر یہ مسئلہ اہل سنت اور اہل تشیع کی محاذ آرائی کا ہے اور خارجی عوامل کے لیے بھی آلہ کار اور ایندھن کا کام ہر دو طرف کے جذباتی نوجوان سرانجام دیتے ہیں۔ اس لیے دیگر عوامل ومحرکات سے سردست صرف نظر کرتے ہوئے اہل سنت اور اہل تشیع کے رہنماؤں، بالخصوص جذباتی نوجوانوں سے دو گزارشات کرنے کو جی چاہ رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سنی شیعہ کشیدگی: فریقین ہوش کے ناخن لیں

نومبر ۲۰۰۴ء

چنیوٹ مسجد تنازع ۔ وزیراعلیٰ پنجاب کا قابل تحسین اقدام

۷ ستمبر کو ملک کا ’’یوم فضائیہ‘‘ تھا کہ اس روز پاکستان ایئرفورس کے شاہینوں نے ۱۹۶۵ء کی جنگ میں بھارتی فضائیہ کا غرور توڑا تھا اور خود سے کئی گنا بڑی ایئرفورس کے مقابلہ میں فضا میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا تھا۔ جبکہ یہی دن ’’یوم ختم نبوت‘‘ بھی ہے کہ اس دن ۱۹۷۴ء میں پاکستان کی منتخب پارلیمنٹ نے ایک متفقہ دستوری ترمیم کے ذریعے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے کر ملک کی نظریاتی سرحدوں کے تحفظ کی طرف ایک اہم قدم بڑھایا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر چنیوٹ مسجد تنازع ۔ وزیراعلیٰ پنجاب کا قابل تحسین اقدام

۱۵ ستمبر ۲۰۰۴ء

چناب نگر کی مسجد کا تنازعہ۔ وزیر اعلیٰ نوٹس لیں

قادیانی ہیڈ کوارٹر چناب نگر میں مسجد کے تنازعہ پر قادیانیوں اور مسلمانوں کے درمیان کشیدگی مسلسل بڑھتی جا رہی ہے، اس سلسلہ میں ادارہ مرکزیہ دعوت و ارشاد چنیوٹ کی طرف سے موصولہ رپورٹ کے مطابق یہ ہے کہ چناب نگر کی مرکزی سڑک پر پولیس چوکی کافی عرصہ سے موجود تھی جس میں مسلمانوں کی ایک پختہ مسجد بھی بنائی گئی تھی، قادیانیوں کی کوشش رہی ہے کہ وہ پولیس چوکی اور مسجد قادیانیوں کی تحویل میں دے دی جائے جسے مسمار کرکے وہ اسے جامعہ احمدیہ میں شامل کرنا چاہتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر چناب نگر کی مسجد کا تنازعہ۔ وزیر اعلیٰ نوٹس لیں

اگست ۲۰۰۴ء

آغا خان بورڈ کی سرگرمیاں

روزنامہ اوصاف ملتان ۲۷ مئی ۲۰۰۴ء کی رپورٹ کے مطابق حکومت پاکستان نے دو سال قبل جاری ہونے والے آغا خان بورڈ آرڈیننس کو ملک بھر میں تعلیمی سال سے نافذ کر دیا ہے اور اس کی کاپیاں ملک بھر کے ۲۳ تعلیمی بورڈز کو بھجوا دی گئی ہیں۔ اس آرڈیننس کے تحت ملک بھر میں آغا خان ایجوکیشن بورڈ کو پرائمری سے لے کر انٹرمیڈیٹ تک طلبہ اور طالبات کے امتحانات لینے اور انہیں اسناد جاری کرنے کی اجازت ہوگی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر آغا خان بورڈ کی سرگرمیاں

جولائی ۲۰۰۴ء

حدود آرڈیننس اور توہین رسالتؐ کا قانون

صدر جنرل پرویز مشرف نے گزشتہ دنوں اسلام آباد میں انسانی حقوق کے حوالہ سے ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ حدود آرڈیننس اور توہین رسالتؐ پر موت کی سزا کے قانون پر نظرثانی کے حق میں ہیں اور اس مقصد کے لیے انسانی حقوق کا ایک قومی کمیشن قائم کیا جا رہا ہے جو پاکستان میں انسانی حقوق پر عملدرآمد کی صورتحال کا جائزہ لے گا اور بہتری کے لیے اقدامات تجویز کرے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حدود آرڈیننس اور توہین رسالتؐ کا قانون

جون ۲۰۰۴ء

خدمات علمائے دیوبند کانفرنس

آزاد کشمیر کے شہر باغ میں یکم و دو مئی کو جمعیۃ علماء اسلام آل جموں و کشمیر کے زیر اہتمام دو روزہ ’’خدمات علماء دیوبند کانفرنس‘‘ منعقد ہو رہی ہے جس کے لیے تیاریاں جاری ہیں اور نہ صرف آزاد جموں و کشمیر کے طول و عرض سے بلکہ پاکستان کے مختلف علاقوں سے بھی کشمیری علماء کرام اور کارکنوں کی ایک بڑی تعداد اس میں شریک ہو رہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر خدمات علمائے دیوبند کانفرنس

مئی ۲۰۰۴ء

دینی مدارس کی اصلاح و امداد کا مسئلہ

دینی مدارس کی اصلاح کے نام سے حکومتی پروگرام کا آغاز ہوگیا ہے جس کے تحت اربوں روپے کی مالی امداد کا سلسلہ شروع ہے اور حکومت نے دینی مدارس کے وفاقوں کو نظر انداز کرتے ہوئے براہ راست دینی مدارس کی مالی امداد کے پروگرام کا آغاز کر دیا ہے جس کا مقصد اس کے سوا کچھ نہیں ہوسکتا کہ تمام مکاتب فکر کے دینی مدارس کے وفاق جو پوری وحدت اور ہم آہنگی کے ساتھ دینی مدارس کے آزادانہ نظام میں سرکاری مداخلت کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں انہیں غیر مؤثر کر دیا جائے اور اصلاح اور امداد کے نام سے دینی مدارس کے ساتھ براہ راست رابطہ کرکے انہیں سرکاری پروگرام میں شریک کیا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دینی مدارس کی اصلاح و امداد کا مسئلہ

مارچ ۲۰۰۴ء

حدود آرڈیننس کے خلاف خواتین کا مظاہرہ

گزشتہ دنوں اسلام آباد میں تیس کے قریب این جی اوز کی خواتین نے پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے مظاہرہ کیا اور حدود آرڈیننس کے ساتھ ساتھ عورتوں کے بارے میں تمام امتیازی قوانین کو ختم کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ اس سے قبل جسٹس ماجدہ رضوی کی سربراہی میں خواتین کمیشن کی طرف سے حدود آرڈیننس کی منسوخی کی سفارش سامنے آچکی ہے جس کی حمایت میں اس مظاہرہ کا اہتمام کیا گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حدود آرڈیننس کے خلاف خواتین کا مظاہرہ

اکتوبر ۲۰۰۳ء

زائد از ضرورت مکانات اور اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارش

اسلامی نظریاتی کونسل کی ایک سفارش حال ہی میں قومی اخبارات کے ذریعہ منظر عام پر آئی ہے جس میں حکومت سے کہا گیا ہے کہ مکانات کی تعمیر میں ضروریات کے حوالہ سے درجہ بندی کی جائے اور زائد از ضرورت مکان کی تعمیر پر پابندی عائد کی جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر زائد از ضرورت مکانات اور اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارش

ستمبر ۲۰۰۳ء

الرشید ٹرسٹ ۔ حکومت سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ قبول کرے

سندھ ہائیکورٹ کے ڈویژن بینچ نے ’’الرشید ٹرسٹ‘‘ کے فنڈز منجمد کرنے کے بارے میں اسٹیٹ بینک کے حکم کو کالعدم قرار دے دیا ہے اور ملک بھر میں اسے انصاف کی فتح قرار دیتے ہوئے اس پر خوشی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ الرشید ٹرسٹ ۱۱ ستمبر ۲۰۰۱ء کے سانحہ کے بعد اس وقت امریکی دباؤ کی زد میں آگیا تھا جب امریکہ نے عالم اسلام کی جہادی تحریکوں کو دہشت گرد قرار دے کر انہیں کچلنے کا اعلان کیا تھا اور اس کے ساتھ ہی مسلم دنیا کے سینکڑوں رفاہی ادارے صرف اس لیے اس دباؤ کے دائرے میں آگئے تھے کہ ان کی رفاہی سرگرمیاں اسلام اور دینی تعلیمات کے حوالے سے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر الرشید ٹرسٹ ۔ حکومت سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ قبول کرے

۹ اگست ۲۰۰۳ء

مولانا اعظم طارق کا شریعت بل اور مسیحی اقلیت

ملت اسلامیہ پاکستان کے سربراہ مولانا محمد اعظم طارق نے قومی اسمبلی میں ’’شریعت بل‘‘ پیش کر رکھا ہے جس میں قرآن و سنت کو ملک کا سپریم لاء قرار دینے اور قرآن و سنت کے خلاف ملک میں رائج تمام قوانین ختم کرنے کی بات کی گئی ہے۔ اس شریعت بل کا مسودہ ان نصف درجن کے لگ بھگ شریعت بلوں سے ملتا جلتا ہے جو مختلف اوقات میں قومی اسمبلی اور سینٹ میں پیش ہوئے، ان پر سالہا سال تک بحث ہوئی اور ان ایوانوں میں منظور بھی ہوئے لیکن اس کے بعد پھر طاق نسیاں کی نذر ہوگئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا اعظم طارق کا شریعت بل اور مسیحی اقلیت

اگست ۲۰۰۳ء

صوبہ سرحد میں نفاذ شریعت کے اقدامات

روزنامہ اوصاف اسلام آباد ۲۱ اپریل ۲۰۰۳ء کے مطابق صوبہ سرحد کی اسمبلی میں نفاذ شریعت ایکٹ پیش کیا جا رہا ہے جو صوبہ سرحد کے مشہور عالم دین مولانا مفتی غلام الرحمن کی سربراہی میں نفاذ شریعت کونسل کی سفارشات کی روشنی میں مرتب کیا گیا ہے اور حسبہ ایکٹ اور مصالحتی کمیٹی ایکٹ کی صورت میں ایوان میں پیش کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے، ان کے تحت مندرجہ ذیل اقدامات تجویز کیے گئے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر صوبہ سرحد میں نفاذ شریعت کے اقدامات

مئی ۲۰۰۳ء

شمالی علاقہ جات کے مسلمانوں کی حالت زار

روزنامہ اوصاف اسلام آباد نے ۱۱ مارچ ۲۰۰۳ء کو اے، پی، پی کے حوالہ سے خبر دی ہے کہ پاکستان کے شمالی علاقہ جات کے ضلع دیامر میں ایک بار پھر زلزلے کے جھٹکے محسوس ہوئے ہیں اور تازہ جھٹکوں میں درجنوں مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔ دیامر شمالی علاقہ جات کا ضلع ہے جس میں اہل سنت کی اکثریت ہے جبکہ شمالی علاقہ جات کے دوسرے اضلاع میں مجموعی طور پر اہل تشیع، آغا خانی اور نور بخشی فرقوں کو اکثریت حاصل ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر شمالی علاقہ جات کے مسلمانوں کی حالت زار

اپریل ۲۰۰۳ء

ضلع دیامر کے زلزلے اور شمالی علاقہ جات کی سیاسی و مذہبی حیثیت

اوصاف نے گیارہ مارچ کو اے پی پی کے حوالہ سے شمالی علاقہ جات کے ضلع دیامر میں زلزلے کے نئے جھٹکوں اور ان سے درجنوں مکانات کے مسمار ہونے کی جو خبر دی ہے اس سے ماہرین ارضی کے ان خدشات کی تصدیق ہوگئی ہے کہ اس خطہ میں زلزلوں کا جو سلسلہ گزشتہ سال نومبر میں شروع ہوا تھا وہ ابھی ختم نہیں ہوا اور زیر زمین آتش فشاں لاوے کی مسلسل حرکت کی وجہ سے مزید زلزلوں کا خطرہ موجود ہے جو بہت زیادہ تباہ کن بھی ثابت ہو سکتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ضلع دیامر کے زلزلے اور شمالی علاقہ جات کی سیاسی و مذہبی حیثیت

۱۸ مارچ ۲۰۰۳ء

صوبہ سرحد کی گلوکاراؤں کا احتجاج

روزنامہ جنگ لاہور نے ۱۷ فروری ۲۰۰۳ء کو اے ایف پی کے حوالہ سے پشاور سے خبر دی ہے کہ مختلف رقاصاؤں اور گلوکاراؤں نے صوبہ سرحد میں گانے اور ڈانس پر پابندی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس پابندی سے جسم فروشی کو فروغ حاصل ہو رہا ہے۔ ۳۰ سالہ گلوکارہ مہ جبین نے کہا کہ مجلس عمل کی حکومت قائم ہونے کے بعد اس پابندی نے اسے بارہ سال کے بعد دوبارہ جسم فروشی پر مجبور کردیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر صوبہ سرحد کی گلوکاراؤں کا احتجاج

مارچ ۲۰۰۳ء

سرحد کی صوبائی حکومت کے اعلانات

روزنامہ نوائے وقت لاہور ۲۲ جنوری ۲۰۰۳ء کی خبر کے مطابق صوبہ سرحد کے وزیر اعلیٰ اکرم خان درانی کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ صوبے کے سرکاری سکولوں میں میٹرک تک تعلیم مفت دی جائے گی۔ اجلاس میں دیگر کئی اہم فیصلوں کے علاوہ یہ بھی طے کیا گیا ہے کہ صوبہ میں اردو سرکاری زبان ہوگی اور صوبائی سطح پر تمام پیشہ وارانہ اور مقابلے کے دیگر امتحانات اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں ہوا کریں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سرحد کی صوبائی حکومت کے اعلانات

فروری ۲۰۰۳ء

مولانا محمد اعظم طارق کی بھوک ہڑتال

عربی ادب کی کتابوں میں کہاوت بیان کی جاتی ہے کہ ایک لڑکا نہر میں ڈبکیاں کھا رہا تھا اور مدد کے لیے چیخ و پکار کر رہا تھا کہ کوئی اسے آکر ڈوبنے سے بچا لے۔ ایک شخص نے نہر کے کنارے سے گزرتے ہوئے اسے دیکھا اور وہیں کھڑے ہو کر اسے ملامت کرنے لگا کہ اگر تجھے تیرنا نہیں آتا تھا تو نہر میں چھلانگ کیوں لگائی تھی؟ یہ بے وقوفی تم نے کیوں کی؟ نہر میں اترتے ہوئے تم نے کیوں نہ سوچا کہ یہ کتنی گہری ہے؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا محمد اعظم طارق کی بھوک ہڑتال

۷ اگست ۲۰۰۲ء

پروفیسر حافظ محمد سعید کی گمشدگی اور حکومتی ذمہ داری

مولانا اعظم طارق کی بھوک ہڑتال کا مسئلہ ابھی حل نہیں ہوا کہ پروفیسر حافظ محمد سعید کی گمشدگی کا مسئلہ کھڑا ہوگیا ہے اور اس کی پیچیدگی اور سنگینی میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ پروفیسر حافظ سعید کا تعلق اہل حدیث مکتب فکر سے ہے، انہوں نے ’’لشکر طیبہ‘‘ کے نام سے مجاہدین کی جماعت بنائی جس نے بہت جلد مجاہدین کی تنظیموں میں نمایاں مقام حاصل کر لیا۔ وہ مقبوضہ کشمیر میں کشمیری مجاہدین کی حمایت کے لیے شروع سے سرگرم عمل رہے جبکہ افغانستان میں طالبان حکومت کی حمایت اور امریکی عزائم کی مذمت و مخالفت میں پروفیسر حافظ محمد سعید ہمیشہ پیش پیش رہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر پروفیسر حافظ محمد سعید کی گمشدگی اور حکومتی ذمہ داری

۶ اگست ۲۰۰۲ء

مولانا محمد اعظم طارق کی نظر بندی

انسدادِ دہشت گردی کی عدالت سے مولانا محمد اعظم طارق کی ضمانت منظور ہوجانے کے باوجود انہیں حکومت پنجاب نے مزید تین ماہ کے لیے نظربندی کے عنوان سے زیرحراست رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ این این آئی کی ایک رپورٹ کے مطابق مولانا محمد اعظم طارق کو حکومتی حلقوں کی طرف سے یہ پیشکش کی گئی ہے کہ اگر وہ جلاوطنی قبول کر لیں تو انہیں رہا کیا جا سکتا ہے ورنہ حکومت اس بات پر مجبور ہے کہ انہیں مسلسل زیرحراست رکھے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مولانا موصوف نے یہ پیشکش قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا محمد اعظم طارق کی نظر بندی

۲۱ جولائی ۲۰۰۲ء

مسئلہ کشمیر: تاریخی پس منظر، موجودہ صورتحال اور صدر مشرف کا دورۂ بھارت

صدارت کا منصب سنبھالنے کے بعد جنرل پرویز مشرف ماہِ رواں کے دوران بھارت کے دورے پر جا رہے ہیں جہاں وہ انڈیا کے وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی سے پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازعات اور تعلقات پر بات چیت کریں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ گفتگو میں سرفہرست کشمیر کا مسئلہ ہوگا اور انہیں توقع ہے کہ وہ اس مسئلہ کا کوئی قابل قبول حل تلاش کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مسئلہ کشمیر: تاریخی پس منظر، موجودہ صورتحال اور صدر مشرف کا دورۂ بھارت

جولائی ۲۰۰۱ء

جنرل پرویز مشرف اور ان کے وزراء

چیف ایگزیکٹو جنرل پرویز مشرف نے گزشتہ دنوں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ آئین کی اسلامی دفعات کو ختم نہیں کیا جا رہا اور توہین رسالتؐ کی سزا کے قانون میں بھی کوئی ترمیم نہیں کی جا رہی۔ جبکہ دینی جماعتوں نے پشاور میں مولانا شاہ احمد نورانی کی زیر صدارت منعقد ہونے والے سربراہی اجلاس میں حکومت سے ایک بار پھر مطالبہ کیا ہے کہ آئین کی اسلامی دفعات کو عبوری آئین میں شامل کرنے کے ساتھ ساتھ وفاقی شرعی عدالت کے فیصلوں پر عملدرآمد ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جنرل پرویز مشرف اور ان کے وزراء

۲ جون ۲۰۰۰ء

دستور کی اسلامی دفعات اور ڈاکٹر محمود احمد غازی کی وضاحت

وزارت قانون کے ترجمان کی مذکورہ وضاحت کے اس جملہ کو دوبارہ دیکھ لیں کہ ’’اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کی دفعات معطل ہونے کے باوجود پاکستان کو ہر ممکن طور پر اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کے مطابق ہی چلایا جائے گا۔‘‘ اس جملہ میں ہمیں دو باتیں کھٹک رہی ہیں: ایک بات دستور معطل ہونے یا دستور کی دفعات معطل ہونے میں اٹکی ہوئی ہے۔ اگر دستور معطل ہوا ہے تو اس کی اسلامی دفعات کیسے باقی ہیں اور اگر دستور کی دفعات معطل ہوئی ہیں تو معطل ہونے والی اور بحال رہنے والی دستوری دفعات کی تفصیل کہاں ہے؟ دوسری بات ’’ہر ممکن طور پر’’ کا جملہ ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دستور کی اسلامی دفعات اور ڈاکٹر محمود احمد غازی کی وضاحت

۱۲ مارچ ۲۰۰۰ء

اسلامی جمہوریہ پاکستان یا صرف پاکستان؟

بارہ اکتوبر ۱۹۹۹ء کو چیف آف آرمی اسٹاف جنرل پرویز مشرف کی طرف سے چیف ایگزیکٹو کی حیثیت سے ملک کا نظم و نسق سنبھالنے اور ۱۹۷۳ء کا دستور معطل کرنے کے اعلان کے بعد ملک کے دینی حلقے مسلسل ایک تشویش سے دوچار ہیں اور مختلف حوالوں سے اس کا اظہار ہو رہا ہے کہ دستور کی معطلی کے بعد دستور کی اسلامی دفعات بالخصوص قرارداد مقاصد اور عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ سے متعلقہ شقوں کی کیا حیثیت باقی رہ گئی ہے؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اسلامی جمہوریہ پاکستان یا صرف پاکستان؟

۱۷ فروری ۲۰۰۰ء

چیچنیا کے مشیر سلیم خان کی گرفتاری

چیچنیا کے سابق صدر اور موجودہ حکومت کے مشیر سلیم خان کی اسلام آباد میں گرفتاری کی خبر پڑھی تو سناٹے میں آگیا۔ میں توقع کر رہا تھا کہ سلیم خان اسلام آباد پہنچیں گے تو انہیں ایک مجاہد اور مجاہدوں کے غیور نمائندہ کے طور پر پروٹوکول دیا جائے گا، جہاد کشمیر اور جہاد افغانستان میں مجاہدین کی پشت پناہی کرنے والے ادارے جہادِ چیچنیا کے سرکاری سفیر سے وہاں کے حالات معلوم کر کے انہیں تعاون کا یقین دلائیں گے، اور روسی جارحیت کا دلیرانہ سامنا کرنے والے غیور مسلمانوں کی پشت پر ہاتھ رکھیں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر چیچنیا کے مشیر سلیم خان کی گرفتاری

۶ فروری ۲۰۰۰ء

مسلم خاتون کا آئیڈیل!

روزنامہ جنگ لندن نے ۱۸ اگست ۱۹۹۹ء کی اشاعت میں مسلم لیگ برطانیہ کی شعبہ خواتین کی ایک راہنما بیگم عشرت اشرف کا بیان شائع کیا ہے جس میں انہوں نے اس بات پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے کہ پاکستان کی وزیر مملکت بیگم تہمینہ دولتانہ نے واشنگٹن میں پاکستان کے یوم آزادی کے موقع پر پاکستانی سفارت خانہ کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسرائیل کی سابق خاتون وزیراعظم مسز گولڈ امیئر کو اپنا آئیڈیل قرار دیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مسلم خاتون کا آئیڈیل!

۱۶ اگست ۱۹۹۹ء

حکیم محمد سعید شہیدؒ اور مولانا محمد عبد اللہ شہیدؒ

گزشتہ روز ایک قومی اخبار میں کے پی آئی کے حوالہ سے وفاقی وزیرداخلہ چودھری شجاعت حسین کا یہ اعلان نظر سے گزرا کہ اسلام آباد کی مرکزی جامع مسجد کے سابق خطیب مولانا محمد عبد اللہ شہیدؒ کے قاتلوں کی گرفتاری یا نشاندہی پر حکومت کی طرف سے پانچ لاکھ روپے بطور انعام دیے جائیں گے۔ یہ پڑھ کر بے حد تعجب ہوا کہ حکومت کو دو ماہ بعد مولانا عبدا للہ شہیدؒ اچانک کیسے یاد آگئے؟ شہیدِ پاکستان حکیم محمد سعیدؒ اور مولانا عبد اللہؒ ایک ہی روز دہشت گردوں کا نشانہ بنے تھے، دونوں پاکستان کے محب وطن شہری اور شریف انسان تھے اور اپنی اپنی خدمات کے دائروں میں دونوں ممتاز حیثیت کے مالک تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حکیم محمد سعید شہیدؒ اور مولانا محمد عبد اللہ شہیدؒ

۳۰ دسمبر ۱۹۹۸ء

چکوال پولیس، مدنی مسجد اور جنرل (ر) عبد المجید ملک

گزشتہ دنوں دارالعلوم حنفیہ چکوال میں سلسلہ نقشبندیہ حبیبیہ کے سالانہ روحانی اجتماع میں پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا فداء الرحمان درخواستی کے ہمراہ شرکت کا موقع ملا تو اس موقع پر تھوڑی دیر کے لیے ہم مدنی مسجد میں بھی گئے جو ان دنوں چکوال پولیس کے ایک آپریشن کی وجہ سے خاصی شہرت اختیار کر گئی ہے۔ اسلام آباد کے علماء مولانا عبد الخالق، مولانا قاری میاں محمد نقشبندی اور مولانا محمد رمضان علوی بھی ہمارے ساتھ تھے۔ ہم نے مدنی مسجد میں عشاء کی نماز ادا کی، چکوال پولیس کی ’’فتوحات‘‘ کا معائنہ کیا اور وہاں موجود احباب سے حالات معلوم کیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر چکوال پولیس، مدنی مسجد اور جنرل (ر) عبد المجید ملک

۳۱ اکتوبر ۱۹۹۸ء

توہین رسالت کا قانون اور مسلم مسیحی یکجہتی

لاہور کے بشپ کیتھ لیزلی نے ڈاکٹر جان جوزف کے قتل کے خدشات کی نشاندہی کرنے کے علاوہ یہ بات بھی کہی کہ انبیاء کرامؑ کی توہین پر موت کی سزا صرف اسلام کا قانون نہیں ہے بلکہ بائبل کا حکم بھی یہی ہے، اس لیے اس قانون پر مسلمانوں اور مسیحیوں میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ البتہ وہ اتنا ضرور چاہیں گے کہ قانون کے نفاذ کے طریق کار کو ازسرِنو ایسے مرتب کیا جائے کہ کسی شخص کو اپنے کسی ذاتی مخالف کے خلاف اتنا بڑا الزام لگا کر اسے عدالتوں میں گھسیٹنے کی آزادی حاصل نہ ہو ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر توہین رسالت کا قانون اور مسلم مسیحی یکجہتی

۲۴ مئی ۱۹۹۸ء

سنی شیعہ کشیدگی کی آڑ میں!

یہ امر واقعہ ہے کہ سوسائٹی کے ایسے غنڈہ عناصر کی اچھی خاصی تعداد نے، جن کا پیشہ ہی غنڈہ گردی ہے، ان دونوں کیمپوں کو پناہ گاہ بنا لیا ہے اور ان کی چھتریوں تلے اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل میں انہیں بدستور آسانی محسوس ہو رہی ہے۔ ان کے علاوہ ذاتی انتقام اور خاندانی جھگڑوں کے لیے بھی اس ’’شیلٹر‘‘ کو استعمال کیا گیا ہے۔ ان سب عوامل نے مل کر فرقہ واریت کو ایک مہیب دیو کی شکل دے ڈالی ہے جسے قابو میں لانے کی کوئی تدبیر کارگر نہیں ہو رہی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سنی شیعہ کشیدگی کی آڑ میں!

۳۰ مارچ ۱۹۹۸ء

کھاریاں فائرنگ کیس ۔ ارباب حل و عقد کی خدمت میں عرضداشت

مقدمہ کی تفتیش میں گرفتار شدگان کو انصاف کے معروف تقاضوں سے محروم رکھنے کے لیے مبینہ طور پر گورنر پنجاب انتظامیہ و پولیس پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ اس صورتحال کا فوری طور پر نوٹس لیا جائے۔ اس سلسلہ میں میری تجویز یہ ہے کہ ہائی کورٹ کے کسی جج کے ذریعے اس کیس کی کھلی تحقیقات کرائی جائے اور گورنر پنجاب کے خلاف جہلم کے شہریوں کے الزامات کی غیر جانبدارانہ انکوائری کے ذریعے اصل حقائق کو منظر عام پر لا کر انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر کھاریاں فائرنگ کیس ۔ ارباب حل و عقد کی خدمت میں عرضداشت

اپریل ۱۹۹۵ء

پیپلز پارٹی اپنے اصل پر

پیپلز پارٹی کی وفاقی حکومت نے برسراقتدار آنے کے بعد گزشتہ چار ماہ سے بھی کم عرصہ کے دوران اپنی پالیسیوں کو جس رخ پر چلانے کی کوشش کی ہے اس سے اس کے عزائم کھل کر سامنے آگئے ہیں۔ اور ان سیاسی عناصر کی خوش فہمیاں اب ہوا میں تحلیل ہو رہی ہیں جنہوں نے گزشتہ دس سالہ دور میں پی پی پی کی سیاسی رفاقت کا راستہ اس خیال سے اپنا لیا تھا کہ وہ اس پارٹی کو شاید اپنا مزاج اور فکر تبدیل کرنے پر آمادہ کر سکیں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر پیپلز پارٹی اپنے اصل پر

۱۷ مارچ ۱۹۸۹ء

سیاسی تخریب کاریاں اور نگران حکومتیں ‒ ڈیرہ اسماعیل خان کے سنگین حالات

حکمران طبقہ کو سیاست کا شوق ضرور پورا کرنا چاہیے اور ’’ادھار کی وزارتوں‘‘ سے خوب لطف اٹھانا چاہیے مگر عارضی سہاروں کے چھننے کے خوف سے اس طرح کی کارروائیاں کروانا ملک میں نفرت کے جذبات ابھارنے کا باعث بنتی ہیں۔ ان حالات میں جبکہ سیاسی فضا میں شکوک و شبہات، ابہام اور غیر یقینی کیفیت مسلط ہے، نگران حکمرانوں کو صرف نگران ہی رہنا چاہیے اور سیاسی راہنماؤں کو بھی اپنا فرض پہچاننا چاہیے۔ حالات کو جس رخ پر لے جایا جا رہا ہے یہ کسی بھی ملک و ملت کے مفاد میں نہیں ہو سکتے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سیاسی تخریب کاریاں اور نگران حکومتیں ‒ ڈیرہ اسماعیل خان کے سنگین حالات

۸ اکتوبر ۱۹۸۸ء

قادیانیوں کی تازہ مہم اور حکومت کی ذمہ داری ‒ گلگت کو صوبہ بنانے کا منصوبہ

آئی جی پنجاب کی پریس کانفرنس میں مولانا محمد اسلم قریشی کی اچانک برآمدگی کے ڈرامہ کے ساتھ ہی ملک بھر میں مرزا طاہر احمد کے اس کتابچہ کی وسیع پیمانے پر تقسیم و اشاعت کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے جس میں قادیانی جماعت کے سربراہ نے دنیا بھر کے مسلمانوں کو ’’مباہلہ‘‘ کا چیلنج دے کر بظاہر اپنی پاک دامنی اور سچائی کا ثبوت دینے کی کوشش کی ہے۔ مباہلہ کا یہ چیلنج لندن سے رجسٹرڈ ڈاک کے ذریعے مدیر ترجمان اسلام لاہور کو بھی موصول ہوا ہے، اس کا مفصل جواب آئندہ شمارہ میں دیا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قادیانیوں کی تازہ مہم اور حکومت کی ذمہ داری ‒ گلگت کو صوبہ بنانے کا منصوبہ

۵ اگست ۱۹۸۸ء

مولانا محمد اسلم قریشی کی بازیابی

جہاں تک مولانا محمد اسلم قریشی کی سلامتی اور واپسی کا تعلق ہے اس پر ہر طبقہ کی طرف سے اطمینان کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ ان کی زندگی کے بارے میں جو خدشات مسلسل باعث اضطراب بنے ہوئے تھے وہ دور ہوگئے ہیں مگر آئی جی پولیس کی موجودگی میں پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران انہوں نے ازخود روپوش ہونے، اپنے بارے میں عوامی تحریک کا علم ہونے کے باوجود واپس نہ آنے، ایران کی فوج میں بھرتی ہونے اور اچانک واپس آنے کی جو کہانی بیان کی ہے اسے ملک کے دینی و عوامی حلقوں میں بے یقینی اور شکوک و شبہات کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا محمد اسلم قریشی کی بازیابی

جولائی ۱۹۸۸ء ۔ جلد ۳۱ شمارہ ۲۸ و ۲۹

گلگت کے فسادات اور حکومت کی ذمہ داری

گلگت میں رمضان المبارک کے آخر میں سنی شیعہ کشیدگی میں جو اچانک اضافہ ہوا تھا وہ بالآخر خونریز فسادات پر منتج ہوا اور سینکڑوں افراد کی جانیں ان فسادات کی نذر ہوگئیں۔ سینکڑوں جانوں کی بھینٹ وصول کرنے والے ان فرقہ وارانہ فسادات کے اسباب کیا ہیں اور کون عناصر ان کے ذمہ دار ہیں؟ اس کا جائزہ لینے کے لیے متحدہ سنی محاذ کا ایک وفد اس ہفتہ کے دوران گلگت جا رہا ہے اور اس سلسلہ میں حتمی بات اس وفد کی رپورٹ کے بعد ہی کی جا سکتی ہے۔ تاہم اب تک موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق واقعات کی ترتیب کچھ اس طرح بنتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر گلگت کے فسادات اور حکومت کی ذمہ داری

جون ۱۹۸۸ء ۔ جلد ۳۱ شمارہ ۲۲

اوجڑی کیمپ راولپنڈی کا سانحہ

۱۰ اپریل کو راولپنڈی میں اوجڑی کیمپ کے اسلحہ کے ڈپو میں آگ لگنے سے راولپنڈی اور اسلام آباد کے شہریوں پر جو قیامت ٹوٹی ہے اس سے پورا ملک نہ صرف سوگوار ہے بلکہ رنج و الم اور اضطراب کی ٹیسیں رہ رہ کر اسلامیانِ پاکستان کے دلوں میں اٹھ رہی ہیں۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اوجڑی کیمپ راولپنڈی کا سانحہ

۲۲ اپریل ۱۹۸۸ء

قادیانی سرگرمیاں اور سرکاری تفتیشی ادارے

سراغرسانی اور تفتیش کے سرکاری اداروں کا کام صرف سیاست دانوں اور علماء کا پیچھا کرنا نہیں بلکہ وطن دشمن عناصر کی سرگرمیوں کا تعاقب کرنا اور ان کو بے نقاب کر کے ملک و قوم کو ان سے بچانا بھی ان اداروں کی ذمہ داری میں شامل ہے۔ حکومت پاکستان کا فرض ہے کہ وہ مندرجہ بالا سنگین امور کے بارے میں صحیح صورتحال کی وضاحت کر کے عوام کو مطمئن کرے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قادیانی سرگرمیاں اور سرکاری تفتیشی ادارے

۱۱ دسمبر ۱۹۸۷ء

اسلم قریشی کیس اور برطانوی حکومت

ہفت روزہ ختم نبوت کراچی کے تازہ شمارہ (نمبر ۲۱/۶) میں گزشتہ ماہ صدیق آباد (ربوہ) میں منقعد ہونے والی سالانہ ختم نبوت کانفرنس کی رپورٹ شائع ہوئی ہے جس میں دوسرے روز کی کارروائی کے ضمن میں راقم الحروف کی تقریر کے حوالے سے یہ کہا گیا ہے کہ راقم الحروف نے برطانوی وزیراعظم مسز تھیچر سے ملاقات کر کے انہیں اسلم قریشی کیس کے سلسلہ میں برطانوی حکومت کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی ہے۔ مکمل تحریر اسلم قریشی کیس اور برطانوی حکومت

۲۰ نومبر ۱۹۸۷ء

فرقہ ورانہ تخریب کاری اور حکومتی رویہ

امورِ داخلہ کے وزیر مملکت راجہ نادر پرویز نے روزنامہ جنگ لاہور کو انٹرویو دیتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ ’’حکومت کے علم میں لایا گیا ہے کہ تخریب کاروں کے ایک گروہ نے ۱۲ ربیع الاول کے موقع پر ملک میں وسیع پیمانے پر فساد بپا کرنے کا منصوبہ بنا رکھا ہے۔‘‘ (روزنامہ جنگ لاہور ۔ ۳۰ اکتوبر ۱۹۸۷ء) ۔ ملک کے مختلف حصوں میں تسلسل کے ساتھ ہونے والے بم دھماکوں کے پس منظر میں وفاقی وزیر مملکت کا یہ خدشہ اگرچہ کچھ زیادہ خلافِ قیاس نہیں ہے لیکن سوال یہ ہے کہ خود حکومت کا رویہ اس سلسلہ میں کیا ہے؟ مکمل تحریر فرقہ ورانہ تخریب کاری اور حکومتی رویہ

۶ نومبر ۱۹۸۷ء

بنوری ٹاؤن کا المیہ

گزشتہ ہفتہ کراچی میں اہلِ تشیع کے چہلم کے جلوس کے موقع پر جو کچھ ہوا اس پر پورے ملک میں افسوس اور اضطراب کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ بالخصوص بنوری ٹاؤن کی جامع مسجد اور جامعۃ العلوم الاسلامیہ جیسے عظیم دینی و علمی ادارے پر پولیس اور فوج کی کارروائی سے ایک نوجوان کی شہادت، نصف درجن کے قریب نوجوانوں کے زخمی ہونے اور مسجد کے قالین جل جانے کے سانحہ نے اس کرب و اضطراب کو دوچند کر دیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر بنوری ٹاؤن کا المیہ

۳۰ اکتوبر ۱۹۸۷ء

کرم ایجنسی کے افسوسناک واقعات

کراچی میں بموں کے افسوسناک دھماکوں میں سینکڑوں بے گناہ شہریوں کی المناک شہادت کے بعد شمال مغربی سرحد پر واقع قبائلی علاقہ کرم ایجنسی میں ہونے والے اضطراب انگیز سانحہ نے پوری قوم کے دلوں کو کرب و اضطراب کی ناقابل برداشت کیفیت سے دوچار کر دیا ہے اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ بیرونی لابیاں پاکستان کی نظریاتی اور جغرافیائی وحدت کو پارہ پارہ کرنے کے لیے پوری قوت کے ساتھ مصروفِ عمل ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر کرم ایجنسی کے افسوسناک واقعات

۱۴ اگست ۱۹۸۷ء

اور اب کراچی؟

ملک کے امن و امان اور شہریوں کی جان و مال کو تحفظ کے احساس سے یکسر محروم کر دینے والے ان دھماکوں کے پسِ منظر کے بارے میں مختلف باتیں کہی جا رہی ہیں۔ پاکستان کی افغان پالیسی سے لے کر ملک میں نئے مارشل لاء کی راہ ہموار کرنے کی تیاری تک کی باتیں اس ضمن میں سامنے آرہی ہیں مگر ان تمام قیاس آرائیوں سے قطع نظر سب سے زیادہ غور طلب بات یہ ہے کہ آخر ہمارے حکمرانوں کی ذمہ داری اس سلسلہ میں کیا ہے؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اور اب کراچی؟

۲۴ جولائی ۱۹۸۷ء

راولپنڈی میں تخریب کاری کی نئی واردات

لاہور کی اہل حدیث کانفرنس میں بم کے دھماکے سے علامہ احسان الٰہی ظہیر مرحوم سمیت دس افراد کی شہادت اور ایک سو کے قریب زخمی ہونے کی افسوسناک واردات کے مجرموں کو بے نقاب کرنے میں ابھی پنجاب پولیس کامیاب نہیں ہو پائی تھی کہ ۹ اپریل کو راولپنڈی میں تخریب کاری کی ایک اور افسوسناک واردات نے ۱۵ شہریوں کی جان لے لی ہے جبکہ ستر افراد زخمی ہوئے ہیں، انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر راولپنڈی میں تخریب کاری کی نئی واردات

۱۷ اپریل ۱۹۸۷ء

صحافت اور ذمہ داری ‒ بسوں کے کرایوں میں اضافہ

صدر جنرل محمد ضیاء الحق نے آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی کے سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں ذمہ دارانہ صحافت پر کوئی پابندی نہیں ہے اور نہ ہی مستقبل میں کوئی پابندی عائد کرنے کا ارادہ ہے۔ اخبارات کو چاہیے کہ وہ ایک عظیم مشن اور سماجی خدمت کے جذبے کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کریں اور اپنے پیشہ وارانہ مفادات کا لحاظ رکھتے ہوئے عوام کی مثبت خطوط پر رہنمائی کریں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر صحافت اور ذمہ داری ‒ بسوں کے کرایوں میں اضافہ

۹ اپریل ۱۹۸۲ء

اساتذہ کے بعد ڈاکٹرز کی ہڑتال

اساتذہ کی طرح ڈاکٹر بھی معاشرہ کا ایک اہم حصہ ہیں۔ اساتذہ پر قوم کی ذہنی صحت کا معیار قائم رکھنے کی ذمہ داری ہے جبکہ ڈاکٹر جسمانی صحت کو برقرار رکھنے کی ذمہ داری قبول کیے ہوئے ہیں اور دونوں کے کام چھوڑ دینے کے نتائج کی سنگینی یکساں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اساتذہ کے بعد ڈاکٹرز کی ہڑتال

۲ اپریل ۱۹۸۲ء

اساتذہ کی ہڑتال

پنجاب بھر میں ہزاروں اساتذہ نے اپنے مطالبات منوانے کے لیے کچھ دنوں سے ہڑتال کر رکھی ہے اور تا دمِ تحریر حکومت اور اساتذہ کے درمیان مذاکرات کامیابی کی طرف بڑھتے نظر نہیں آرہے۔ اساتذہ قوم کا وہ اہم طبقہ ہیں جن پر نئی نسل کی تعلیم و تربیت کی ذمہ داری ہے لیکن ان اہم ذمہ داریوں کو سرانجام دینے والے یہ اساتذہ ان مراعات اور سہولتوں سے یکسر محروم ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اساتذہ کی ہڑتال

۲۶ مارچ ۱۹۸۲ء

قرآن کریم کی بے حرمتی کا افسوسناک واقعہ ‒ قادیانی اور آئین

گزشتہ دنوں سرکاری ذرائع سے یہ خبر قومی اخبارات میں شائع ہوئی ہے کہ تخریب کاروں کے خلاف پولیس کی مہم کے دوران قرآنِ کریم کی بے حرمتی کا یہ افسوسناک سانحہ سامنے آیا ہے کہ کچھ بدبخت عناصر نے قرآن کریم کے نسخوں کو اندر سے کاٹ کر ان میں بارود بھرا اور پھر ان نسخوں کو بعض اہم شخصیات کو پیش کرنے کا پروگرام بنایا۔ اس ضمن میں اخبارات اور ٹیلی ویژن کے ذریعے قرآن کریم کے کٹے ہوئے نسخے کی نمائش بھی کی گئی ہے اور ملک کے طول و عرض میں اس المناک واقعہ پر احتجاج اور غم و غصہ کے اظہار کا سلسلہ جاری ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قرآن کریم کی بے حرمتی کا افسوسناک واقعہ ‒ قادیانی اور آئین

۵ مارچ ۱۹۸۲ء

عائلی قوانین کا مسئلہ ‒ جلیل القدر پیغمبرؑ کے خلاف ہرزہ سرائی

بعض اخباری خبروں کے مطابق وفاقی مجلس شوریٰ کی بعض خواتین ارکان نے صدر جنرل محمد ضیاء الحق سے مطالبہ کیا ہے کہ عائلی قوانین کے سلسلہ میں اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کو قبول نہ کیا جائے اور صدر نے خواتین کے اس مطالبہ کو پذیرائی بھی بخشی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر عائلی قوانین کا مسئلہ ‒ جلیل القدر پیغمبرؑ کے خلاف ہرزہ سرائی

۲۹ جنوری ۱۹۸۲ء

اصلاحی کمیٹیاں ‒ بھوک ہڑتال

اس وقت ملک میں محلہ وار اور دیہہ وار اصلاحی کمیٹیوں کی تشکیل کا کام زوروں پر ہے اور ہر ضلع میں انتظامیہ ایسے افراد کی فہرستوں کو آخری شکل دینے میں مصروف ہے جن پر مشتمل اصلاحی کمیٹیاں اصلاحِ احوال و نظام کا کاروبار سنبھالنے والی ہیں۔ کمیٹیوں کے قیام میں جس قدر اہتمام سے کام لیا جا رہا ہے اس سے یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں ہے کہ حکومت لوکل سطح پر لوگوں کے مسائل کا حل اور مفاد عامہ سے متعلق امور کی نگرانی ان کمیٹیوں کے سپرد کرنا چاہتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اصلاحی کمیٹیاں ‒ بھوک ہڑتال

۲۴ مارچ ۱۹۷۸ء

’’مجدد زماں‘‘ کا فتنہ

کچھ دنوں سے اخبارات میں ’’سحر‘‘ نامی ایک پندرہ روزہ کے اشتہارات شائع ہو رہے ہیں جن میں بعض قومی قائدین کی موت اور لاہور سمیت کچھ شہروں کی تباہی کی پیش گوئیوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اب تک ہم اسے مزاحیہ قسم کا کوئی جریدہ سمجھتے رہے ہیں جو اس قسم کی حرکات سے مارکیٹ میں اپنی جگہ بنانے کی کوششوں میں مصروف ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ’’مجدد زماں‘‘ کا فتنہ

۲۴ مارچ ۱۹۷۸ء

سوہدرہ ڈکیتی کیس اور ڈی آئی جی کا مستحسن اقدام

چوہدری محمد رمضان نے سوہدرہ ڈکیتی کیس کے مدعی نیاز علی پر تشدد کر کے اصل واقعات چھپانے پر مجبور کرنے کے الزام میں سی آئی اے سٹاف گوجرانوالہ کے انسپکٹر محمد اسلم جوڑا سمیت پولیس کے ۶۸ افسروں اور اہل کاروں کو لائن حاضر کر دیا ہے۔ سوہدرہ ڈکیتی کیس کے سلسلہ میں ڈی آئی جی پولیس کا یہ اقدام اس لحاظ سے مستحسن اور اطمینان بخش ہے کہ کیس کی انکوائری صحیح رخ پر آگے بڑھتی ہوئی نظر آتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سوہدرہ ڈکیتی کیس اور ڈی آئی جی کا مستحسن اقدام

۱۰ مارچ ۱۹۷۸ء

کراچی کا فساد ‒ ریڈیو اور ٹیلی ویژن ‒ پاور لومز کی صنعت

جناب رسالتمآبؐ کی ولادت باسعادت کے مقدس دن کراچی میں جو کچھ ہوا وہ انتہائی افسوسناک ہے اور ہر شہری ان افراد کے غم میں رنجیدہ ہے جو شر پسند عناصر کی غنڈہ گردی کا شکار ہوگئے۔ تا دمِ تحریر سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق اسے فرقہ وارانہ فساد کا نام دیا گیا ہے مگر قائد جمعیۃ حضرت مولانا مفتی محمود کا یہ ارشاد بالکل بجا ہے کہ حالیہ تحریک اور انتخابی مہم میں مختلف مکاتب فکر کی طرف سے باہمی اتحاد و اتفاق اور اعتماد و رواداری کا جو مثالی مظاہرہ دیکھنے میں آیا ہے اس کے پیش نظر کسی اشتعال کے بغیر فرقہ وارانہ فساد کی بات کچھ قرین قیاس معلوم نہیں ہوتی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر کراچی کا فساد ‒ ریڈیو اور ٹیلی ویژن ‒ پاور لومز کی صنعت

۳ مارچ ۱۹۷۸ء

دکانداروں کا قصور؟ ‒ بدحواسی یا کچھ اور؟

پولیس ان دنوں اپنی کارکردگی دکھلانے کے لیے چھوٹے دکانداروں اور پرچون فروشوں کے خلاف دھڑادھڑ کاروائیوں میں مصروف ہے اور روزنامہ اخبارات میں ملاوٹ اور گراں فروشی کے الزامات میں مختلف مقامات سے ان دکانداروں کی گرفتاریوں اور سزاؤں کی خبریں شائع ہو رہی ہیں۔ ملاوٹ اور گراں فروشی کے خلاف کارروائی ضروری ہے اور مستحسن بھی، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ان دونوں چیزوں کی ذمہ داری پرچون فروشوں اور چھوٹے دکانداروں پر ہی عائد ہوتی ہے؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دکانداروں کا قصور؟ ‒ بدحواسی یا کچھ اور؟

۶ جنوری ۱۹۷۸ء

علامہ شبیر احمدؒ عثمانی ‒ افسر شاہی کے کرشمے ‒ اخباری کاغذ کا بحران ‒ پیپلز پارٹی کی مہم

حکومت ہر سال تحریک پاکستان کے راہنماؤں کے ایامِ ولادت اور برسیوں پر ان کی خدمات کو منظرِ عام پر لانے کا اہتمام کرتی ہے اور اخبارات و جرائد ان مواقع پر خصوصی اشاعتوں کا اہتمام کرتے ہیں۔ یومِ ولادت یا برسی منانے کی شرعی پوزیشن سے قطع نظر دورِ حاضر کی ایک روایت اور حکومت و اخبارات کی اخلاقی ذمہ داری کے نقطۂ نظر سے یہ شکوہ بجا ہے کہ تحریک پاکستان کے سربرآوردہ قائد شیخ الاسلام علامہ شبیر احمدؒ عثمانی کی اٹھائیسویں برسی کے موقع پر نہ تو ریڈیو اور ٹی وی نے کوئی پروگرام نشر کیا اور نہ قومی اخبارات و جرائد نے ان پر کوئی خصوصی اشاعت حتیٰ کہ مضمون تک شائع کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر علامہ شبیر احمدؒ عثمانی ‒ افسر شاہی کے کرشمے ‒ اخباری کاغذ کا بحران ‒ پیپلز پارٹی کی مہم

۳۰ دسمبر ۱۹۷۷ء

خانہ جنگی کی سازش؟

پیپلز پارٹی کے چیئرمین جناب ذوالفقار علی بھٹو نے ۱۴ اپریل کو لاہور گورنر ہاؤس میں پارٹی کے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے ان سے جو کچھ کہا اس کا نتیجہ سامنے آنے میں کچھ زیادہ دیر نہیں لگی۔ اسی روز گورنر ہاؤس سے نکل کر پی پی پی ورکرز نے جلوس نکالا، مختلف بازاروں میں گھوم کر دوکانیں بند کرانے کی ناکام کوشش کی اور پھر داتا دربار کا رخ کیا جہاں سے قومی اتحاد کا عظیم الشان جلوس مارچ کرنے والا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر خانہ جنگی کی سازش؟

۲۲ اپریل ۱۹۷۷ء

بھٹو صاحب! مذاکرات کس بات پر؟

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین جناب ذوالفقار علی بھٹو بار بار اس بات کو دہرا رہے ہیں کہ وہ قومی اتحاد کے ساتھ مذاکرات کے لیے ہر وقت تیار ہیں اور باہمی تنازعات کو بات چیت کے ذریعے طے کرنے کے خواہشمند ہیں۔ مذاکرات اور بات چیت کی دعوت بظاہر بڑی خوشنما ہے لیکن سوال یہ ہے کہ مذاکرات کس مسئلہ پر ہوں گے؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر بھٹو صاحب! مذاکرات کس بات پر؟

۱۵ اپریل ۱۹۷۷ء

شیعہ سنی فسادات کون کرانا چاہتا ہے؟

جدید ڈپلومیسی کی ایک تکنیک یہ بھی ہے کہ جو غلط کام خود کرنا چاہو اسے اپنے مخالف کی طرف منسوب کر کے اس قدر پراپیگنڈا کرو کہ عوام کی نظروں میں اس کارِ بد کی ذمہ داری سے خود بچ سکو اور مخالفین کو بدنام کرنے کا ایک بڑا بہانہ ہاتھ آئے۔ حکمران گروہ دراصل اسی تکنیک کو اختیار کر کے اپوزیشن رہنماؤں کی مسلسل کردار کشی میں مصروف ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر شیعہ سنی فسادات کون کرانا چاہتا ہے؟

۳ دسمبر ۱۹۷۶ء

کچھ آزاد کشمیر کے بارے میں

راقم الحروف نے علاقہ کے دین دار مسلمانوں خصوصاً علماء کرام کو اس طرف متوجہ کیا کہ انہیں عملی سیاست کو شجر ممنوعہ سمجھنے کی بجائے اسے اپنانا چاہیے۔ کیونکہ ظلم و جبر کے نظام کی مخالفت اور دین حق کے اعلاء و اجراء کی جدوجہد کرنا علماء کرام کا دینی و ملی فرض ہے اور علماء کرام ہی کی سیاسی قیادت عوام کے مسائل کو مخلصانہ طور پر حل کر سکتی ہے۔ دراصل آزادکشمیر کے علماء کرام نے شروع ہی سے سیاسی مسائل میں عوام کی نمائندگی و رہنمائی کی ہے اور ان کی ایک تنظیم ’’جمعیۃ علماء آزاد کشمیر‘‘ کے نام سے تیس سال سے سیاسی و مذہبی میدان میں سرگرم عمل ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر کچھ آزاد کشمیر کے بارے میں

۴ جولائی ۱۹۷۵ء

کیا قادیانی مسئلہ حل ہو چکا ہے؟

جناب ذوالفقار علی بھٹو نے سرگودھا کے جلسہ عام میں ارشاد فرمایا ہے کہ قادیانی مسئلہ حل ہو چکا ہے اور اس سلسلہ میں اب کچھ کرنا بھی باقی نہیں رہا۔ قائد جمعیۃ علماء اسلام حضرت مولانا مفتی محمود مدظلہ نے ایک اخباری بیان میں اس دعویٰ کی تردید فرماتے ہوئے کہا ہے کہ اصولی طور پر قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے سوا ابھی تک کوئی عملی کاروائی نہیں کی گئی اور حکومت اس مسئلہ میں مسلسل ٹال مٹول کر رہی ہے۔ ۷ ستمبر ۱۹۷۴ء کے بعد سے اب تک کی صورتحال پر غور کیا جائے تو بھٹو صاحب کے اس بے جان دعوے کو جھٹلائے بغیر کوئی چارہ کار نہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر کیا قادیانی مسئلہ حل ہو چکا ہے؟

۱۹۷۵ء (غالباً)

۱۹۷۱ء کے ہنگامی حالات، آخر کب تک؟

پارلیمنٹ نے گزشتہ روز مشترکہ اجلاس میں حزب اختلاف کے واک آؤٹ کے بعد ہنگامی حالات میں مزید چھ ماہ کی توسیع کی قرارداد منظور کر لی۔ اس سے قبل قائد حزب اختلاف خان عبد الولی خان نے قرارداد کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ہنگامی حالات کو باقی رکھنے کا اقدام عوام کے ساتھ سخت ناانصافی ہے۔ خان صاحب نے کہا کہ ۱۹۷۱ء میں پاک بھارت جنگ کی بناء پر ملک میں ہنگامی صورتحال کا اعلان ہوا تھا اور یہ صورتحال اب تک برقرار رکھی جا رہی ہے۔ حالانکہ حکومت نے بھارت کے ساتھ شملہ معاہدہ کے تحت حالات کو معمول پر لانے کی راہ اختیار کر لی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ۱۹۷۱ء کے ہنگامی حالات، آخر کب تک؟

۳۰ اگست ۱۹۷۴ء

جناب وزیر اعظم! تشدد سے مسئلہ حل نہیں ہوگا

وزیراعظم جناب ذوالفقار علی بھٹو نے کوئٹہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ قادیانی مسئلہ کے حل میں تاخیر ملک و قوم کے مفاد میں نہیں ہے اس لیے میں قومی اسمبلی کے ارکان سے کہوں گا کہ وہ سات ستمبر تک اس مسئلہ کا کوئی حل طے کر لیں۔ اس بات سے قطع نظر کہ ۷ ستمبر تک مہلت بھی تاخیر کے زمرے میں آتی ہے یا نہیں، ہمیں بھٹو صاحب کے اس ارشاد سے سو فیصد اتفاق ہے کہ اس مسئلہ کے حل میں تاخیر ملک و قوم کے مفاد میں نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جناب وزیر اعظم! تشدد سے مسئلہ حل نہیں ہوگا

۹ اگست ۱۹۷۴ء

اور جنرل یحیٰی خان؟

وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو صوبہ سرحد کے شمالی علاقوں میں خان عبد الولی خان پر الزامات کے تیر برسانے میں مصروف تھے کہ وزیرداخلہ مسٹر عبد القیوم خان نے قومی اسمبلی میں اعلان کر دیا کہ سابق صدر یحییٰ خان اب حکومت کی حراست میں نہیں ہیں۔ یحییٰ خان نے ایوب خان کے دستبردار ہونے پر پاکستان کا نظم و نسق سنبھالا تھا اور سقوط مشرقی پاکستان کے المناک سانحہ پر ان کے اقتدار کا سروج غروب ہوگیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اور جنرل یحیٰی خان؟

۲۶ جولائی ۱۹۷۴ء

ولی خان، مسٹر بھٹو اور افغانستان

وزیراعظم جناب ذوالفقار علی بھٹو نے گزشتہ دنوں صوبہ سرحد کے شمالی علاقوں کا دورہ کرتے ہوئے اپنی تقاریر میں پاکستان کی سرحدوں پر افغانستان اور بھارت کی افواج کے اجتماع کے انکشاف کے ساتھ ساتھ قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کے قائد جناب عبد الولی خان کے خلاف بھی غم و غصہ کا اظہار فرمایا ہے۔ اگرچہ اس سلسلہ میں انہوں نے کوئی نئی بات کرنے کی بجائے وہی باتیں دہرائی ہیں جو وہ اور ان کے پیشرو حکمران اس سے قبل متعدد بار کہہ چکے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ولی خان، مسٹر بھٹو اور افغانستان

۲۶ جولائی ۱۹۷۴ء

ہفت روزہ نصرت کا شمارہ ‒ سرحد و بلوچستان کے عوام

ہفت روزہ ’’نصرت‘‘ لاہور جو کبھی وزیر اعلیٰ پنجاب جناب محمد حنیف رامے کی زیرادارت سوشلزم کی منادی کیا کرتا تھا، آج کل رامے صاحب کی سرکاری مصروفیات کے باعث ایک اور صاحب کی ادارت میں عریانی کو سندِ جواز فراہم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ ’’نصرت‘‘ کے ۱۲ مئی کے شمارہ میں سیدنا حضرت آدم و حوا علیہم السلام کی بالکل عریاں تصاویر کی اشاعت اور ایک غیر معروف مسلم ریاست عجمان کی ڈاک ٹکٹوں کے حوالے سے عریانی کے جواز پر بحث اس قدر حیا سوز ہے کہ ارباب ’’نصرت‘‘ کی شرم و حیا کا ماتم کرنے کو جی چاہتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ہفت روزہ نصرت کا شمارہ ‒ سرحد و بلوچستان کے عوام

۳۱ مئی ۱۹۷۴ء

بلوچستان امن و انصاف مانگتا ہے

بلوچستان نیشنل عوامی پارٹی کے راہنما جناب احمد نواز بگتی گزشتہ روز لاہور تشریف لائے اور پارٹی ورکروں کے اجتماع سے خطاب کے علاوہ ایک مقامی روزنامہ کو انٹرویو بھی دیا جس میں انہوں نے بلوچستان کے سیاسی حل کے بارے میں وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی طرف سے متوقع اعلان، بلوچستان کی سیاسی صورتحال اور مسئلہ بلوچستان کے صحیح حل کے سلسلہ میں چند فکر انگیز باتیں کی ہیں۔ بلوچستان کی نازک صورتحال اور وزیراعظم بھٹو کے متوقع اعلان کے پیش نظر بگتی صاحب کے ان خیالات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اس لیے ان کے خطاب اور انٹرویو کے اہم نکات درج ذیل ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر بلوچستان امن و انصاف مانگتا ہے

۵ اپریل ۱۹۷۴ء

بلوچستان کی صورتحال، میاں محمد حسن شاہ کی باتیں

مارچ کا قصہ ہے کہ راقم الحروف کو علامہ محمد احمد صاحب لدھیانوی جنرل سیکرٹری متحدہ جمہوری محاذ گوجرانوالہ، قاری محمد یوسف عثمانی صاحب نائب امیر جمعیۃ شہر گوجرانوالہ، اور ڈاکٹر غلام محمد صاحب مبلغ جمعیۃ ضلع گوجرانوالہ کی معیت میں جمعیۃ کے علاقائی تربیتی کنونشن کے لیے فیصلز ہوٹل جی ٹی روڈ گوجرانوالہ کے ہال کی بکنگ کی غرض سے ہوٹل جانے کا اتفاق ہوا۔ ہوٹل کے صدر دروازے پر سیاہ رنگ کی کار اور اس پر قومی پرچم دیکھ کر خیال ہوا کہ شاید اندر کوئی عوامی وزیر ہوٹل کو شرف قدوم سے نوازنے تشریف لائے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر بلوچستان کی صورتحال، میاں محمد حسن شاہ کی باتیں

۱۵ مارچ ۱۹۷۴ء

بلوچستان، ایک لمحہ فکریہ

گورنر بلوچستان خان احمد یار خان نے فرمایا ہے کہ وزیراعظم بھٹو بے پناہ مصروفیات کے باعث وعدہ کے مطابق ۲۵ فروری کو بلوچستان کی صورتحال کے بارے میں کسی فیصلہ کا اعلان نہیں کر سکے، اب وہ یکم اپریل تک یہ اعلان کر دیں گے۔ گورنر نے یہ بھی کہا ہے کہ نیشنل عوامی پارٹی کے لیڈروں کے خلاف مقدمات سابق گورنر اکبر بگتی کی سفارش پر قائم کیے گئے تھے۔ ادھر سابق گورنر اکبر بگتی نے کہا ہے کہ نیپ لیڈروں کے خلاف جھوٹے مقدمات قائم کیے گئے تھے تاکہ ان کی نشستیں خالی قرار دے کر ان کی جگہ پیپلز پارٹی کے ارکان کو صوبائی اسمبلی کے لیے ’’منتخب‘‘ کرایا جا سکے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر بلوچستان، ایک لمحہ فکریہ

۱۵ مارچ ۱۹۷۴ء

کیا بلوچستان یونہی جلتا رہے گا؟

بلوچستان پاکستان کا وہ بدقسمت خطہ ہے جہاں کے عوام کو فرنگی سے آزادی ملنے کے بعد بھی سنگینوں کے منحوس سائے سے نجات نہیں مل سکی اور قیام پاکستان کے چھبیس سال بعد بھی وہ اپنے حقوق، آزادی اور تحفظ کی جنگ میں مصروف ہیں۔ اس بدنصیب خطہ کو رسمی آزادی ملنے کے ربع صدی بعد سیاسی حقوق ملے اور وہاں کے عوام کو یہ حق دیا گیا کہ وہ اپنی قیادت اور حکومت آزادی کے ساتھ اپنے ووٹوں کے ذریعہ منتخب کر سکتے ہیں۔ مگر جب بلوچستان کے عوام نے رائے دہی کا جمہوری حق استعمال کیا اور اپنے نمائندے منتخب کیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر کیا بلوچستان یونہی جلتا رہے گا؟

۱۴ دسمبر ۱۹۷۳ء

چوہدری ظہور الٰہی کے خلاف اسلحہ اسکینڈل

بلوچستان کی صوبائی حکومت نے متحدہ جمہوری محاذ کے راہنما اور قومی اسمبلی کے رکن چوہدری ظہور الٰہی کو اس الزام میں گرفتار کر لیا ہے کہ وہ بلوچستان میں شر پسندوں کو اسلحہ سپلائی کر رہے ہیں۔ اور ان کے ایک معتمد چوہدری محمد شریف کو بلوچستان میں اسلحہ لے جاتے ہوئے پکڑ لیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ جام غلام قادر کے بیان کے مطابق چوہدری محمد شفیع کو کوہلو سے بالا ڈھکہ (بلوچستان) اسلحہ لے جاتے ہوئے گرفتار کیا گیا (امروز ۱۷ نومبر ۱۹۷۳ء)۔ مگر چوہدری صاحب کے فرزند محمد اکرم نے لاہور میں پریس کانفرنس سے گفتگو کرتے ہوئے اس بات کو غلط قرار دیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر چوہدری ظہور الٰہی کے خلاف اسلحہ اسکینڈل

۱۶ نومبر ۱۹۷۳ء

بلوچستان کی صورتحال اور قادیانیوں کی سرگرمیاں

بلوچستان اپنے جغرافیائی محل وقوع اور دیگر گوناگوں خصوصیات کے باعث کافی عرصہ سے اندرونی و بیرونی سازشوں کی مذموم مساعی کی آماجگاہ بنا ہوا ہے اور آج بھی سازشی قوتیں تمام وسائل کے ساتھ بلوچستان کے امن کو اپنے مقصد کی بھینٹ چڑھانے کے لیے سرگرم عمل ہیں۔ ۱۹۵۲ء کی بات ہے، قادیانی گروہ کے سربراہ مرزا بشیر الدین محمود نے بلوچستان کو قادیانی علاقہ قرار دینے کے منصوبے کا اعلان کیا تھا اور ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت کے محرکات میں یہ منصوبہ بھی شامل تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر بلوچستان کی صورتحال اور قادیانیوں کی سرگرمیاں

۲۷ جولائی ۱۹۷۳ء

اور اب بناسپتی گھی!

اشیاء خوردنی کی کمر توڑ گرانی انتہائی تشویشناک صورت اختیار کر چکی ہے۔ غریب عوام بلکہ متوسط طبقہ بھی اس مہنگائی کے سامنے بے بس ہو چکا ہے اور اس سے نجات کی کوئی صورت دکھائی نہیں دے رہی۔ بازار سے جس چیز کا بھاؤ پوچھو اس کا نرخ آسمان سے باتیں کر رہا ہے اور ہر شخص پریشان ہے کہ آخر گرانی کا یہ ڈنڈا کب تک قوم کی پیٹھ پر برستا رہے گا۔ پہلے چینی غریب عوام کے اعصاب پر سوار رہی اور ابھی تک یہ مسئلہ طے نہیں ہو سکا۔ ستم ظریفی کی انتہا دیکھیے کہ جب ہم باہر سے چینی منگواتے تھے تو سستی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اور اب بناسپتی گھی!

۱۳ جولائی ۱۹۷۳ء

لاٹھی گولی کی سرکار نہیں چلے گی

ملتان اور لاہور میں متحدہ جمہوری محاذ کے عام جلسوں کو ناکام بنانے کے لیے جو حربے اختیار کیے گئے وہ تشدد اور فسطائیت کی دنیا میں نئے نہیں۔ قافلۂ جمہوریت کو اس سے قبل بھی امتحان و آزمائش کے اس موڑ سے بارہا گزرنا پڑا اور اب بھی یہ راہ متحدہ جمہوری محاذ کے رہنماؤں کے لیے جانی پہچانی گزرگاہ ہے۔ دراصل لیاقت باغ کے خونی المیہ کے بعد سے ہی یہ بات واضح ہو گئی تھی کہ حکمران طبقہ نے اصول، شرافت اور جمہوری عمل کی بساط لپیٹ دی ہے اور اب وہ اپنے اقتدار کے تحفظ کے لیے عوام کو اعتماد میں لے کر سیاسی جنگ لڑنے کی بجائے بندوق کی نالی پر بھروسہ کرے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر لاٹھی گولی کی سرکار نہیں چلے گی

۸ جون ۱۹۷۳ء

نظریہ پاکستان کے محافظ ‒ جامع مسجدچنیوٹ پر پولیس یلغار ‒ اشیاء صرف کی گرانی

صوبہ سرحد میں غیر جمہوری طور پر اقلیتی گروپ کو اقتدار کی کرسی پر بٹھا دیا گیا تو یار لوگوں نے کہا کہ اب صوبہ میں نظریہ پاکستان کے علمبرداروں کی حکومت قائم ہوگئی ہے، ملک اور نظریہ پاکستان کو اب کوئی خطرہ نہیں رہا۔ مگر نظریہ پاکستان کے ان علمبرداروں نے کرسی پر بیٹھتے ہی جو احکامات جاری کیے ان میں: قومی لباس کو سرکاری لباس قرار دینے کے بارہ میں مولانا مفتی محمود کے تاریخی فیصلہ کی تنسیخ، سکولوں میں قرآن کریم کی تعلیم کے لیے اساتذہ مقرر کرنے کے فیصلہ کی واپسی، اور ہوٹلوں میں شراب کے پرمٹ جاری کرنے اور شراب کے بار کھولنے کے فیصلے نمایاں حیثیت رکھتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر نظریہ پاکستان کے محافظ ‒ جامع مسجدچنیوٹ پر پولیس یلغار ‒ اشیاء صرف کی گرانی

۲۵ مئی ۱۹۷۳ء

واپڈا میں غبن ‒ چینی کا بحران ‒ صوبہ سرحد کے اسکولوں میں قاری‒ مفرور ملزموں کی گرفتاری

صوبائی وزیر اعلیٰ ملک معراج خالد نے قلعہ سوبھاسنگھ ضلع سیالکوٹ میں ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ واپڈا کے ریکارڈ میں ستائیس کروڑ روپے کے غبن کا انکشاف ہوا ہے، یہ رقم قومی کاموں پر لگانے کی بجائے خردبرد کر لی گئی ہے اور اس سلسلہ میں تحقیقات جاری ہیں۔ یہ انکشاف کوئی نیا نہیں، اس سے قبل بھی واپڈا اور دیگر قومی اداروں میں اس قسم کے غبن ظاہر ہوتے رہے ہیں اور ہر بار بڑے شدومد کے ساتھ تحقیقات کا بھی اعلان کیا جاتا رہا ہے مگر اس کے بعد کچھ بھی نہیں ہوا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر واپڈا میں غبن ‒ چینی کا بحران ‒ صوبہ سرحد کے اسکولوں میں قاری‒ مفرور ملزموں کی گرفتاری

۱۸ دسمبر ۱۹۷۲ء

مزارعین سے انتقام ‒ سامان تعیش ‒ غیر منصفانہ نظام ‒ پولیس تشدد ‒ اساتذہ کی آسامیاں

حالیہ انتخابات میں ناکامی کے بعد بڑے بڑے جاگیرداروں اور زمینداروں نے مزارعین کے خلاف انتقامی کارروائیوں کا وسیع سلسلہ شروع کر دیا تھا۔ اس ظلم و ستم کو روکنے کے لیے پنجاب کی حکومت نے اور غالباً سندھ کی حکومت نے بھی کچھ اقدامات کیے ہیں، لیکن صوبہ سرحد میں غریب مزارعین کو ظالم خوانین کے پنجہ سے نجات دلانے اور ان شکست خوردہ خوانین کے انتقام سے بچانے کا کوئی انتظام نہیں کیا گیا جن کا سلسلہ ظلم و ستم اور جابرانہ تسلط بہت سخت اور ناقابل برداشت ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مزارعین سے انتقام ‒ سامان تعیش ‒ غیر منصفانہ نظام ‒ پولیس تشدد ‒ اساتذہ کی آسامیاں

۲۸ مئی ۱۹۷۱ء

اساتذہ کی حق تلفی ‒ سکولوں کی عمارتیں ‒ ناقص چاول ‒ نبوت کا دعویدار ‒ قمار بازی

پنجاب ٹیچرز ایسوسی ایشن کی ضلع میانوالی شاخ نے ایک قرارداد میں انکشاف کیا ہے کہ حالیہ انتخابات میں جن محکموں کے ملازمین کو ڈیوٹی پر لگایا گیا ہے ان میں سب کو ان کی ڈیوٹیوں کے معاوضے وصول ہو چکے ہیں لیکن اساتذہ ابھی تک اس حق سے محروم ہیں۔ یہ بات انتہائی نامناسب اور افسوسناک ہے، اساتذہ کو ان کی تدریسی خدمات کے پہلے ہی کون سے لمبے چوڑے معاوضے ملتے ہیں جو ان کی اضافی ڈیوٹیز کے معاوضوں کو بھی روک لیا گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اساتذہ کی حق تلفی ‒ سکولوں کی عمارتیں ‒ ناقص چاول ‒ نبوت کا دعویدار ‒ قمار بازی

۱۴ مئی ۱۹۷۱ء