نقد و نظر

’’اسلام کو کیا خطرہ ہو سکتا ہے؟‘‘

یہ بات اس حد تک درست ہے کہ اسلام کی حفاظت اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لے رکھی ہے اور اس دین نے قیامت تک باقی اور محفوظ رہنا ہے۔ اور یہ بات بھی ہمارے عقیدے و ایمان کا حصہ ہے کہ قرآن کریم مکمل اور محفوظ حالت میں رہتی دنیا تک موجود رہے گا اور اس کی تعبیر و تشریح میں جناب نبی اکرمؐ کی حدیث و سنت کا تسلسل بھی قائم رہے گا۔ حتیٰ کہ اسلامی سوسائٹی کی عملی اور آئیڈیل شکل بھی صحابہ کرامؓ کی معاشرتی زندگی کی صورت میں تاریخ کے ریکارڈ کا بدستور حصہ رہے گی۔ لیکن کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام اور دین کو کسی حوالہ سے کوئی خطرہ درپیش نہیں ہوگا؟ ۔ ۔ ۔

۲۹ مارچ ۲۰۱۷ء

خلیفہ کی اصطلاح اور غامدی صاحب کا موقف

محترم جاوید احمد غامدی صاحب نے اپنے ایک تازہ مضمون میں انکشاف فرمایا ہے کہ ’’خلیفہ‘‘ کوئی شرعی اصطلاح نہیں ہے بلکہ بعد میں مسلمانوں نے اپنے نظام حکمرانی کے لیے یہ اصطلاح اختیار کر لی تھی۔ ان کا یہ بھی ارشاد ہے کہ غزالیؒ ، ابن خلدونؒ ، رازیؒ ، ماوردیؒ اور ابن حزمؒ کے بنانے سے دینی اصطلاحات نہیں بنتیں بلکہ اللہ اور اس کے رسول کے بنانے سے بنتی ہیں۔ یہ بات اپنی جگہ بحث طلب ہے کہ اگر کوئی دینی اصطلاح مذکورہ بالا بزرگوں سے نہیں بنتیں تو خود غامدی صاحب کی ان اصطلاحات کی کیا حیثیت باقی رہ جاتی ہے ۔ ۔ ۔

۶ مارچ ۲۰۱۵ء

اسلام اور ریاست ۔ غامدی صاحب کے حالیہ مضمون کا جائزہ

غامدی صاحب اور ان کے حلقہ سے مباحثہ و مکالمہ کے لیے مسائل و احکام سے پہلے ان کے اصول و مسلمات کو زیر بحث لانے کی ضرورت ہے۔ اور یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ امت کے اجماعی تعامل اور جمہور اہل علم کے مسلمات کو کراس کر کے اصول و مسلمات کی ’’ری کنسٹرکشن‘‘ وقت کا ضیاع اور بے جا تکلف ہونے کے ساتھ استشراق کے عنوان سے مغرب کی اس علمی و فکری تحریک کی آبیاری کا باعث بھی بنتی ہے جو وہ تین صدیوں سے اسلام کے ساتھ امت مسلمہ کے اجتماعی اور معاشرتی تعلق کو کمزور کرنے کے لیے جاری رکھے ہوئے ہے ۔ ۔ ۔

۷، ۸، ۹ فروری ۲۰۱۵ء

الشریعہ اور ہائیڈ پارک

ہمارے انتہائی مہربان اور فاضل دوست پروفیسر ڈاکٹر محمد امین صاحب کی زیر ادارت لاہور سے شائع ہونے والے اہم علمی و فکری جریدہ ماہنامہ ’’البرہان‘‘ کے ستمبر ۲۰۱۳ء کے شمارے میں جامعہ ہمدرد کراچی کے ایک فاضل بزرگ جناب فصیح احمد کا مضمون ’’تار عنکبوت‘‘ کے عنوان سے شائع ہوا ہے جس میں انہوں نے مولانا وحید الدین خان کے بعض افکار کا ناقدانہ جائزہ لیا ہے اور اس میں ’’الشریعہ‘‘ کی پالیسی کے حوالہ سے بھی کچھ ارشاد فرمایا ہے جو درج ذیل ہے:

نومبر ۲۰۱۳ء

اختلاف رائے کے دائرے، حدود اور آداب

ہمارا عمومی مزاج یہ بن گیا ہے کہ کسی اختلاف کی اصل سطح اور دائرہ کو پیش نظر رکھے بغیر ہر اختلاف میں ایک ہی طرح کا طرز عمل اختیار کر لیا جاتا ہے جس سے اختلافات اکثر اوقات تنازعات کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ اس لیے میں مذہبی اختلافات کی مختلف سطحوں اور دائروں کے بارے میں اپنے طالب علمانہ مطالعہ کی روشنی میں کچھ امور کا ذکر کرنا مناسب سمجھتا ہوں ۔ ۔ ۔

اگست ۲۰۱۳ء

ڈاکٹر امین صاحب کے خیالات

محترم ڈاکٹر محمد امین صاحب نے ’’البرہان‘‘ کے حالیہ شمارے میں ’’الشریعہ‘‘ اور ’’ضرب مومن‘‘ کے مباحثے کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ ڈاکٹر صاحب لکھتے ہیں: ’’ہم سے ایک قاری نے سوال کیا ہے کہ عبد القادر الجزائری کے حوالے سے جو بحث ماہنامہ ’الشریعہ‘ گوجرانوالہ اور ’ضرب مومن‘ میں جاری ہے، ا س کے بارے میں ہماری رائے کیا ہے؟ مختصراً عرض ہے کہ مفتی ابولبابہ صاحب کا موقف صحیح ہے، لیکن ان کا اسلوبِ اظہار روایتی اور جذباتی ہے ۔ ۔ ۔

اگست ۲۰۱۳ء

بعض مسائل کے حوالے سے امام اہل سنتؒ کا موقف

برادر عزیز مولانا عبد القدوس خان قارن سلمہ نے ایک خط میں، جو ’الشریعہ‘ کے اسی شمارے میں شامل اشاعت ہے، اس طرف توجہ دلائی ہے کہ گزشتہ شمارے کے ’کلمہ حق‘ میں عید کی نماز سے پہلے تقریر، ہوائی جہاز میں نماز اور نمازِ تراویح کے بعد اجتماعی دعا کے حوالے حضرت والد محترم نور اللہ مرقدہ کے موقف کی درست ترجمانی نہیں کی گئی۔ اس حوالے سے میری گزارشات حسب ذیل ہیں:

جولائی ۲۰۱۳ء

الشریعہ بنام ضرب مومن

مولانا مفتی ابو لبابہ شاہ منصور نے کچھ عرصہ سے ’’ضرب مومن‘‘ اور ’’اسلام‘‘ میں ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ گوجرانوالہ کے خلاف باقاعدہ مورچہ قائم کر رکھا ہے اور وہ خوب ’’داد شجاعت‘‘ پا رہے ہیں۔ ہم نے دینی وعلمی مسائل پر اختلافات کی حدود کے اندر باہمی مکالمہ کی ضرورت کا ایک عرصے سے احساس دلانا شروع کر رکھا ہے اور اس میں بحمد اللہ تعالیٰ ہمیں اس حد تک کامیابی ضرور حاصل ہوئی ہے کہ باہمی بحث ومباحثہ کا دائرہ وسیع ہونے لگا ہے ۔ ۔ ۔

جون ۲۰۱۳ء

نجم سیٹھی اور اسلامی نظریہ سے وفادای کا حلف

نجم سیٹھی کا نام نگران وزیر اعلیٰ کے لیے کچھ اس طرح غیر متوقع طور پر سامنے آیا اور بظاہر ایک پلاننگ کے ساتھ طے بھی پا گیا کہ ہم لوگ سوچتے ہی رہ گئے، ورنہ اس پر اسی لہجے میں بات ہو سکتی تھی جس طرح ملک کے نگران وزیر اعظم اور پھر پنجاب کے نگران وزیر اعلیٰ کے لیے محترمہ عاصمہ جہانگیر کا نام سامنے آنے پر دینی حلقوں کی طرف سے بروقت سامنے آگئی تھی اور موثر ثابت ہوئی تھی۔ اس لیے کہ محترمہ عاصمہ جہانگیر اور نجم سیٹھی اپنے افکار و نظریات اور سیاسی کردار کے حوالہ سے ایک ہی کیمپ اور گروپ سے تعلق رکھتے ہیں ۔ ۔ ۔

۵ اپریل ۲۰۱۳ء

فاروق ستار کے مغالطے

ایم کیو ایم کے رہنماجناب فاروق ستار نے اس کنونشن میں جو کچھ ارشاد فرمایا ہے اس کے بارے میں ہم اپنے تحفظات کا اظہار ضروری سمجھتے ہیں۔ مذکورہ رپورٹ کے مطابق (۱) ان کا کہنا یہ ہے کہ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح سے تعلق رکھتا ہے، بیت اللہ محسود جیسے دہشت گردوں سے نہیں۔ یہ ملک سب کا ہے اور یہاں کوئی اکثریت اقلیت نہیں۔ (۲) اس کے ساتھ ہی انہوں نے صدر اور وزیراعظم کے لیے مسلمان ہونے کی شرط ختم کرنے کا مطالبہ کر دیا اور کہا کہ صدر اور وزیراعظم کا انتخاب اقلیتوں میں سے بھی ہونا چاہیے ۔ ۔ ۔

۱۲ مارچ ۲۰۱۲ء

بیگم نسیم ولی خان کی یاد دہانی کے لیے

محترمہ بیگم نسیم ولی خان نے ایک خصوصی انٹرویو میں یہ بات فرمائی ہے کہ پاکستان اسلام کے نام پر نہیں بلکہ جمہوریت کے نام پر بنا تھا اور خفیہ اداروں نے مذہبی جنونیت کو تقویت دی ہے۔ محترمہ بیگم نسیم ولی خان ملکی سیاست میں اہم مقام اور کردار رکھتی ہیں اور میرے لیے اس وجہ سے بھی قابل احترام ہیں کہ میں نے 1977ء کی تحریک نظام مصطفیٰ میں ان کی قیادت میں ایک کارکن کے طور پر کام کیا ہے۔ چونکہ محترمہ اور ان کا خاندان تحریک پاکستان کا حصہ نہیں تھے اس لیے اس حوالے سے ان سے کچھ گزارش کرنا شاید مناسب نہ ہو مگر دو حوالے انہیں ضرور یاد دلانا چاہتا ہوں ۔ ۔ ۔

۲۶ جنوری ۲۰۱۲ء

رائے کی اہلیت اور بحث ومباحثہ کی آزادی

مولانا حافظ زاہد حسین رشیدی ہمارے فاضل دوست ہیں اور مخدومنا المکرم حضرت مولانا قاضی مظہر حسین صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاندانی تعلق کے باعث وہ ہمارے لیے قابل احترام بھی ہیں۔ ہمارے ایک اور فاضل دوست مولانا حافظ عبد الوحید اشرفی کی زیر ادارت شائع ہونے والے جریدہ ماہنامہ ’’فقاہت‘‘ لاہور کے دسمبر ۲۰۱۱ء کے شمارے میں، جو احناف کی ترجمانی کرنے والا ایک سنجیدہ فکری وعلمی جریدہ ہے، مولانا حافظ زاہد حسین رشیدی نے اپنے ایک مضمون میں ’’الشریعہ‘‘ کی کھلے علمی مباحثہ کی پالیسی کوموضوع بنایا ہے ۔ ۔ ۔

جنوری ۲۰۱۲ء

آزادانہ بحث ومباحثہ اور ماہنامہ الشریعہ کی پالیسی

محترم ڈاکٹر محمد امین صاحب ہمارے قابل احترام دوست ہیں، تعلیمی نظام کی اصلاح کے لیے ایک عرصے سے سرگرم عمل ہیں، ’’ملی مجلس شرعی‘‘ کی تشکیل میں ان کا اہم کردار ہے اور دینی حمیت کو بیدار رکھنے کے لیے مسلسل تگ ودو کرتے رہتے ہیں۔ انھوں نے اپنے موقر جریدہ ’’البرہان‘‘ کا اکتوبر ۲۰۱۱ء کا شمارہ جناب جاوید احمد غامدی کے افکار وخیالات پر نقد وجرح کے لیے مخصوص کیا ہے اور اس ضمن میں راقم الحروف، ماہنامہ ’الشریعہ‘ اور عزیزم عمار خان ناصر سلمہ پر بھی کرم فرمائی کی ہے جس پر میں ان کا شکر گزار ہوں ۔ ۔ ۔

دسمبر ۲۰۱۱ء

حامد میر کی سیاسی چاند ماری

مجھے اندازہ نہیں تھا کہ حامد میر صاحب اس حد تک بھی جا سکتے ہیں کہ ایک ریٹائرڈ بریگیڈیئر کی یادداشتوں کا سہارا لے کر حضرت مولانا عبید اللہ انورؒ جیسے درویش صفت بزرگ پر ایک سیاسی تحریک میں غیر ملکی حکومتوں کے ساتھ ساز باز کا الزام عائد کر دیں گے۔ حامد میر صاحب سینئر صحافی اور کالم نگار ہیں، مطالعہ وتحقیق اور تجزیہ کی دنیا کے آدمی ہیں، البتہ مطالعہ وتحقیق کو کسی بھی موقع پر اپنے ڈھب پر ڈھال لینے کی صلاحیت سے بہرہ ور ہیں، اسی لیے جب وہ کوئی بات خود سے کہنا چاہتے ہیں تو انھیں کوئی نہ کوئی حوالہ مل جاتا ہے ۔ ۔ ۔

مئی ۲۰۱۱ء

ارباب علم ودانش کی عدالت میں ماہنامہ الشریعہ کا مقدمہ

وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے آرگن ماہنامہ ’’وفاق المدارس‘‘ کا شکر گزار ہوں کہ اس کے گزشتہ شمارے میں ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ کی عمومی پالیسی پر نقد وتبصرہ کرتے ہوئے کچھ ایسے امور کی طرف توجہ دلائی گئی ہے جن کی وضاحت کے لیے قلم اٹھانا ضروری ہو گیا ہے۔ چنانچہ ’’وفاق المدارس‘‘ کے تفصیلی تبصرہ کے جواب کے طور پر نہیں، بلکہ توجہ دلانے پر شکریہ ادا کرتے ہوئے اہم امور کی وضاحت کے لیے یا ’’ارباب علم ودانش کی عدالت میں ’الشریعہ‘ کامقدمہ‘‘ کے طورپر کچھ معروضات پیش کر رہا ہوں ۔ ۔ ۔

مئی ۲۰۰۹ء

حدیث وسنت ۔ غامدی صاحب کا موقف

اگر صرف اتنی سی بات ہے تو اصطلاحات و تعبیرات کے اس فرق میں یہ پہلو ضرور ملحوظ خاطر رہنا چاہیے کہ نئی اصطلاح اور جداگانہ تعبیر سے کیا نئی نسل کے ذہن میں کوئی کنفیو ژن تو پیدا نہیں ہو رہا ہے۔ کیونکہ اس وقت ہماری نئی نسل مختلف اطراف سے پھیلائے جانے والے کنفیوژنز کی زد میں ہیں، اسے اس ماحول سے نکالنا ایک مستقل دینی ضرورت کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ ایسے ماحول میں سنجیدہ اہل علم کو نئی نسل کی ذہنی اور فکری الجھنوں میں اضافہ کرنے کی بجائے ان میں کمی کرنے کا اسلوب اختیار کرنا چاہیے ۔ ۔ ۔

اپریل ۲۰۰۹ء

خودکش حملہ ۔ ڈاکٹر محمد فاروق خان کے ارشادات

خود کش حملہ ایک جنگی ہتھیار ہے جو مظلوم قومیں ہمیشہ سے استعمال کرتی آرہی ہیں۔ یہ ہتھیار جاپانیوں نے بھی استعمال کیا تھا، جنگ عظیم میں برطانیہ نے بھی استعما ل کیا تھا، اور ۱۹۶۵ء کی جنگ میں پاک فوج نے بھی چونڈہ کے محاذ پر استعمال کیا تھا۔ دوسرے جنگی ہتھیاروں کی طرح یہ بھی میدان جنگ میں استعمال ہو تو جائز ہے، لیکن پرامن ماحول میں ا س کا استعمال ناجائز ہوگا ۔ ۔ ۔

فروری ۲۰۰۹ء

غامدی صاحب کے تصور سنت کے حوالہ سے بحث ومکالمہ

مجھے اس امر پر اصرارنہیں ہے کہ غامدی صاحب کی عبارات سے سنت کا جو مفہوم میں نے سمجھا ہے، وہی غامدی صاحب کی مراد بھی ہے۔ اور اسی لیے میں نے ان سے وضاحت کی درخواست کی ہے، لیکن یہ وضاحت غامدی صاحب کو خود کرنی چاہیے۔ ان سے ہٹ کر کسی اور دوست کی وضاحت ہمارے لیے قابل قبول نہیں ہے۔ اگر محترم جاوید غامدی صاحب بذات خود اس بحث میں شریک ہوتے ہیں تو ہم اس کا خیر مقدم کریں گے اور ان کے پورے احترام کے ساتھ اس بحث کو آگے بڑھائیں گے ۔ ۔ ۔

فروری ۲۰۰۹ء

غامدی صاحب کا تصور سنت

محترم جاوید احمد غامدی صاحب کے تصور سنت کے بارے میں ’الشریعہ‘ کے صفحات میں ایک عرصے سے بحث جاری ہے اور دونوں طرف سے مختلف اصحاب قلم اس سلسلے میں اپنے خیالات پیش کر رہے ہیں۔ راقم الحروف نے بھی بعض مضامین میں اس کا تذکرہ کیا تھا اور یہ عرض کیا تھا کہ غامدی صاحب نے سنت نبوی کے بارے میں جو انوکھا تصور پیش کیا ہے، اس کے جزوی پہلووں پر گفتگو کے ساتھ ساتھ اس کی اصولی حیثیت کے بارے میں بھی بحث ومکالمہ ضروری ہے تاکہ وہ جس تصور سنت سے آج کی نسل کو متعارف کرانا چاہتے ہیں ۔ ۔ ۔

جون ۲۰۰۸ء

محترم جاوید غامدی اور ڈاکٹر محمد طفیل ہاشمی کی توضیحات

حدود آرڈیننس ہوں یا کوئی بھی مسئلہ اور قانون، مسلمات کے دائرے میں رہتے ہوئے بحث و مباحثہ ہمارے نزدیک نہ صرف یہ کہ جائز ہے بلکہ وقت کا ایک ناگزیر تقاضا اور ضرورت بھی ہے جس کی طرف ہم روایتی علمی حلقوں کو مسلسل توجہ دلاتے رہتے ہیں، اور مختلف حوالوں سے بعض دوستوں کی ناراضی کا خطرہ مول لیتے ہوئے بھی اس کے لیے سرگرم عمل رہتے ہیں۔ البتہ اس کے ساتھ ہم پورے شعور کے ساتھ اس بات کی بھی کوشش کرتے ہیں کہ ہماری زبان اور قلم سے کوئی ایسا جملہ نہ نکلنے پائے جو اسلامی تعلیمات کی نفی کرنے والوں ۔ ۔ ۔

ستمبر ۲۰۰۶ء

توہین رسالت کا قانون اور فرحت اللہ بابر کے سوالات

یہ بات درست ہے کہ عام آدمی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جا سکتی اور کسی مولوی صاحب کا لوگوں کو اشتعال دلا کر کسی کے قتل پر آمادہ کرنا اس سے بھی زیادہ سنگین جرم ہوجاتا ہے۔ لیکن اگر اس کے ساتھ عام مسلمانوں کے جذبات کے خلاف بین الاقوامی اداروں کی مہم، مغربی ممالک کی طرف سے گستاخان رسولؐ کی پشت پناہی، اور ملک کے عدالتی نظام پر بے اعتمادی کے عوامل کو بھی پیش نظر رکھا جائے تو صرف قانون کو ہاتھ میں لینے والوں کو تنہا مجرم قرار دینا کسی طرح بھی قرین انصاف نہیں ہوگا ۔ ۔ ۔

۲ اگست ۲۰۰۲ء

مسئلہ کشمیر اور برطانوی خارجہ جیک اسٹرا کا چٹکلا

جب تقسیم پنجاب کے وقت برطانوی حکمرانوں کا مفاد اس میں تھا تو قادیانیوں نے ریڈ کلف کمیشن کے سامنے اپنا کیس مسلمانوں سے الگ پیش کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کی تھی اور اسی کے نتیجے میں کشمیر کے خوفناک تنازع نے جنم لیا تھا جو آج نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے خطرہ بنا ہوا ہے۔ اس لیے برطانوی وزیر خارجہ جیک اسٹرا کشمیر کا تنازع کھڑا کرنے میں برطانوی کردار کو تسلیم کریں یا نہیں اور اس پر معذرت کی ضرورت محسوس کریں یا نہیں، لیکن وہ خود کو بچہ قرار دے کر تاریخی حقائق لوگوں کی نگاہوں سے اوجھل نہیں کر سکتے ۔ ۔ ۔

۱۶ جولائی ۲۰۰۲ء

یہ جنگ فراڈ ہے ۔ برطانوی صحافی جان پلجر کا تجزیہ

امریکہ گیارہ ستمبر کے واقعات کا ذمہ دار اسامہ بن لادن کو ٹھہرانے کے ثبوت پیش کرنے کی پوزیشن میں ہے یا نہیں مگر یہ بات دن بدن واضح ہوتی جا رہی ہے کہ خود مغرب کی رائے عامہ امریکہ کے اس دعویٰ کو کسی واضح دلیل کے بغیر قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہے اور عام آدمی حتیٰ کہ بچوں پر بھی یہ حقیقت کھلتی جا رہی ہے کہ اصل قصہ کچھ اور ہے اور امریکہ اپنے اصل اہداف پر پردہ ڈالنے کے لیے اسامہ بن لادن اور طالبان کا نام استعمال کر رہا ہے ۔ ۔ ۔

۷ نومبر ۲۰۰۱ء

غامدی صاحب سے مباحثہ ۔ ایک غلط فہمی کا ازالہ

ایک صاحب علم دوست نے سوال کیا کہ علمی تفردات میں مولانا ابوالکلام آزادؒ اور مولانا عبید اللہ سندھیؒ بھی مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ سے پیچھے نہیں ہیں۔ لیکن اس کی وجہ کیا ہے کہ ان کے تفردات علماء کے حلقہ میں اس شدت کے ساتھ موضوع بحث نہیں بنے جس شدت کے ساتھ مولانا مودودیؒ کے افکار کو نشانہ بنایا گیا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ مولانا سندھیؒ اور مولانا ابوالکلام آزادؒ کے علمی تفردات پر ان کے شاگردوں اور معتقدین نے دفاع اور ہر حال میں انہیں صحیح ثابت کرنے کی وہ روش اختیار نہیں کی ۔ ۔ ۔

۵ اپریل ۲۰۰۱ء

معز امجد صاحب کے استدلالات پر ایک نظر

جاوید غامدی صاحب کے ایک اور شاگرد جناب معز امجد نے روزنامہ پاکستان میں انہی امور پر تفصیل کے ساتھ اظہار خیال کیا اور اسے غامدی صاحب کی زیرادارت شائع ہونے والے ماہنامہ اشراق لاہور میں بھی میرے مذکورہ بالا مضمون کے ساتھ شائع کیا گیا۔ زیر نظر مضمون میں معز امجد کے اس مضمون کی بعض باتوں پر اظہار خیال کرنا چاہتا ہوں لیکن چونکہ سابقہ مضامین مختلف اخبارات میں شائع ہونے کی وجہ سے بیشتر قارئین کے سامنے پوری بحث نہیں ہوگی اس لیے اس کا مختصر خلاصہ ساتھ پیش کر رہا ہوں ۔ ۔ ۔

۱۵، ۱۶، ۱۷ مارچ ۲۰۰۱ء

علماء اور عملی سیاست

خورشید ندیم صاحب کے تجزیہ کے دوسرے حصے یعنی پاکستان میں علماء کے سیاسی کردار کے حوالے سے ان کی رائے سے ہمیں اتفاق نہیں ہے۔ انہوں نے عملی سیاست میں علماء کرام کے فریق بننے کے جو نقصانات گنوائے ہیں وہ ہمارے سامنے بھی ہیں اور ان میں سے بعض باتوں سے ہمیں اتفاق ہے۔ لیکن ان کا یہ کہنا سمجھ سے بالاتر ہے کہ عملی سیاست میں حصہ لے کر علماء کرام ’’دعوت کے منصب‘‘ سے معزول ہوگئے ہیں۔ کیونکہ ہماری نصف صدی کی تاریخ میں بھی ماضی کی طرح یہ دونوں دائرے الگ رہے ہیں اور آج بھی الگ ہیں ۔ ۔ ۔

۱۶ فروری ۲۰۰۱ء

رجم کی شرعی حیثیت اور غامدی صاحب

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مسلمانوں کے ایک سے زیادہ کیس آئے جن میں آپؐ نے زنا کے شادی شدہ مرتکب حضرات کو سنگسار کرنے کی سزا دی۔ پھر خلفائے راشدینؓ کے زمانہ میں اس سزا کا تسلسل باقی رہا۔ بخاری شریف کی روایت کے مطابق امیر المومنین حضرت عمرؓ نے خطبہ جمعہ میں اس بات کا اعلان کیا کہ کتاب اللہ کی رو سے شادی شدہ مرد یا عورت کے لیے زنا کی سزا رجم کرنا ہی ہے اور کوئی شخص اس کے بارے میں کسی شک و شبہ کا شکار نہ ہو ۔ ۔ ۔

۱۵ فروری ۲۰۰۱ء

غامدی صاحب اور خبر واحد

جاوید غامدی صاحب اور خورشید ندیم صاحب کے نزدیک کسی ایک سنت کے ثبوت کے لیے تو صحابہ کرامؓ اور امت کا اجتماعی تعامل ضروری ہے، لیکن اسی سنت کے مفہوم کے تعین، روایت کے طریق کار، قبولیت کے معیار، اور صحت و ضعف کے قواعد و اصول کے بارے میں امت کے چودہ سو سالہ اجتماعی تعامل اور جمہور محدثین و فقہاء کا طرز عمل ان کے نزدیک کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ وہ امت کے جمہور اہل علم کے طے کردہ اس معیار کو قبول کرنے کی بجائے اپنے ’’جداگانہ اصولوں‘‘ کو حتمی معیار کے طور پر پیش کرنے پر مصر ہیں ۔ ۔ ۔

۱۴ فروری ۲۰۰۱ء

غامدی صاحب کے ارشادات پر ایک نظر

جاوید احمد غامدی صاحب ہمارے محترم اور بزرگ دوست ہیں، صاحب علم ہیں، عربی ادب پر گہری نظر رکھتے ہیں، وسیع المطالعہ دانشور ہیں، اور قرآن فہمی میں حضرت مولانا حمید الدین رحمہ اللہ تعالیٰ کے مکتب کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان دنوں قومی اخبارات میں غامدی صاحب اور ان کے شاگرد رشید جناب خورشید احمد ندیم کے بعض مضامین اور بیانات کے حوالے سے ان کے کچھ تفردات سامنے آرہے ہیں جن سے مختلف حلقوں میں الجھن پیدا ہو رہی ہے۔ اور بعض دوستوں نے اس سلسلہ میں ہم سے اظہار رائے کے لیے رابطہ بھی کیا ہے ۔ ۔ ۔

۱۴، ۱۶، ۱۷ جنوری ۲۰۰۱ء

محترمہ ہیلری کلنٹن ! کچھ غصہ اور دکھائیے

نیویارک ٹائمز کی 26 اکتوبر 2000ء کو شائع کردہ ایک خبر کے مطابق امریکی خاتون اول ہیلری کلنٹن نے دو مسلمان تنظیموں کی طرف سے انتخابی مہم کے لیے دی جانے والی رقوم واپس کرنے کا اعلان کیا ہے۔ خبر میں بتایا گیا ہے کہ ہیلری کلنٹن نے ان مسلمان تنظیموں کے عہدے داروں کے اسرائیل مخالف نظریات کی وجہ سے ایسا کیا ہے۔ امریکہ میں مسلمان خاصی تعداد میں آباد ہیں اور ان کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے بلکہ بعض رپورٹوں کے مطابق مسلمانوں کی تعداد امریکہ میں یہودیوں کے برابر ہوگئی ہے ۔ ۔ ۔

۱۵ نومبر ۲۰۰۰ء

قرآنی اصول اور جناب معین قریشی

حسب منشاء نئے احکام و قوانین وضع کرنے کی یہی خواہش فقہائے اربعہ حضرت امام ابوحنیفہؒ ، حضرت امام مالکؒ ، حضرت امام شافعیؒ ، اور حضرت امام احمد بن حنبلؒ کے فقہی اجتہادات کے حوالہ سے تعامل امت سے انحراف کی راہ ہموار کرتی ہے۔ اسی خواہش کی کوکھ سے اجماع صحابہؓ کی اہمیت سے انکار جنم لیتا ہے۔ یہی خواہش سنت نبویؐ کو غیر ضروری قرار دینے پر اکساتی ہے۔ اور یہی تقاضا قرآن کریم کے ظاہری احکام کو چودہ سو سالہ پرانے دور کی ضرورت قرار دینے اور اس کی روح کے مطابق نئے احکام و قوانین تشکیل دینے پر آمادہ کرتا ہے ۔ ۔ ۔

۱۷ اکتوبر ۲۰۰۰ء

نو آبادیاتی ماحول میں ملا اور مسٹر کا کردار

1857ء کی جنگ آزادی کے بعد جنوبی ایشیاء میں مسلمانوں کی نشاۃ ثانیہ کے حوالہ سے ہمارے جدید پڑھے لکھے اور دانشور کہلانے والے حضرات نے خود یہ کہہ کر ملا کو پیچھے دھکیل دیا تھا کہ معاشرے کی اجتماعی قیادت اس کا کام نہیں ہے، بس وہ آرام سے گھر بیٹھے جبکہ یہ کام اب ہم کریں گے۔ چنانچہ ملا نے اپنے بھائیوں کی یہ بات مانتے ہوئے ان کے لیے میدان کھلا چھوڑ کر اپنے ذمہ یہ کام لے لیا تھا کہ امت کے اجتماعی کام آپ سنبھالیں، ہم قرآن و سنت کی تعلیمات اور علوم کو باقی رکھنے اور امت کی اگلی نسلوں تک پہنچانے کا فریضہ سر انجام دیں گے ۔ ۔ ۔

۱۱ اگست ۲۰۰۰ء

جمعہ کی چھٹی کا مسئلہ، اسلامی ریاست کی اصطلاح ۔ راجہ صاحب کے خیالات

راجہ انور صاحب نے اپنے مضمون میں جمعہ کی چھٹی کا ذکر کیا ہے، میثاق مدینہ کا حوالہ دیا ہے، کسی مسلم مملکت کو ’’اسلامی‘‘ قرار دینے پر اعتراض کیا ہے، اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قائم کردہ ریاست کو ’’دولۃ العربیۃ‘‘ کے طور پر پیش کرنے کی کوشش فرمائی ہے۔ اس لیے ان امور کے بارے میں کچھ معروضات پیش کرنا چاہتا ہوں۔ جمعہ کی چھٹی کے بارے میں راجہ صاحب کا ارشاد یہ ہے کہ اس پر بلاوجہ زور دیا جا رہا ہے حالانکہ اسلامی تاریخ میں اس کا کوئی ثبوت نہیں ملتا ۔ ۔ ۔

۲۵ و ۲۸ جولائی ۲۰۰۰ء

اسلامی نظام پر تھیاکریسی ہونے کا الزام!

یہ بزرگ اگر تھیاکریسی کی بنیاد رکھنے والے ہوتے تو آسانی کے ساتھ کہہ سکتے تھے کہ ہم خدا کے نمائندے ہیں اور ہماری بات حرف آخر ہے، اس لیے ہمارے کسی فیصلہ پر اعتراض نہیں ہو سکتا۔ لیکن انہوں نے قرآن و سنت کو اپنی رائے کے تابع کرنے کی بجائے خود کو اصولوں کے سامنے کھڑا کر کے یہ بتا دیا کہ اسلام میں تھیاکریسی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ یہ روایت اور طریق کار صرف حضرات خلفاء راشدینؓ کے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ آج بھی اسلام کے اصول یہی ہیں اور ان کی پابندی سے کوئی طبقہ یا شخصیت مستثنیٰ نہیں ہے ۔ ۔ ۔

۲۱ جولائی ۲۰۰۰ء

کیا نجات کے لیے ایمان اور نسبت کافی ہے؟

ہمارے جدید تعلیم یافتہ دانشوروں کی ایک مجبوری یہ ہے کہ اسلامی تعلیمات و احکام اور اسلامی تاریخ تک ان کی رسائی براہ راست نہیں بلکہ انگلش لٹریچر کے ذریعہ ہے۔ اور انگلش لٹریچر بھی وہ جو مسیحی اور یہودی مستشرقین کے گروہ نے اپنے مخصوص ذہنی ماحول اور تاریخی پس منظر میں پیش کیا ہے۔ مستشرقین کی تحقیقی کاوشوں اور جانگسل محنت سے انکار نہیں مگر اس کے اعتراف کے باوجود ان کے پیش کردہ لٹریچر کو ان کے ذہنی رجحانات اور فکری پس منظر سے الگ نہیں کیا جا سکتا ۔ ۔ ۔

۲۰ جولائی ۲۰۰۰ء

قیام پاکستان کی پہلی اینٹ کس نے رکھی؟

ڈاکٹر خٹک صاحب کے مراسلہ سے اندازہ ہوا کہ عام طور پر پائی جانے والی اس غلط فہمی کے بارے میں بھی کچھ عرض کرنا ضروری ہے کہ قیام پاکستان کی پہلی اینٹ سر سید احمد خان مرحوم نے رکھی تھی۔ یہ بات اتنے تواتر کے ساتھ کہی جانے لگی ہے بلکہ ہمارے سکولوں اور کالجوں میں پڑھائی جا رہی ہے کہ اس سے اختلاف کو ابتداء میں بہت عجیب سمجھا جائے گا مگر تاریخی تناظر پر منصفانہ نظر ڈالی جائے تو اس کی حقیقت ایک مغالطہ کے سوا کچھ نہیں ہے۔ اس حوالہ سے سب سے پہلے ہمیں اس امر کا جائزہ لینا ہوگا کہ قیام پاکستان کا مقصد کیا ہے؟ ۔ ۔ ۔

۱۳ جولائی ۲۰۰۰ء

شہدائے بالاکوٹ کا جہاد ۔ راجہ صاحب کی رائے

محترم راجہ انور صاحب نے تحریک آزادی، مجاہدین اور سید احمد شہیدؒ کے حوالہ سے پھر قلم اٹھایا ہے اور مختلف پہلوؤں پر اپنی معلومات اور تاثرات و خیالات کو قارئین کے سامنے رکھا ہے۔ راجہ صاحب کو ہم صاحب قلم، صاحب مطالعہ اور صاحب رائے دانشور سمجھتے ہیں اور انہیں تاریخی واقعات کا جائزہ لینے اور ان کے بارے میں اپنی رائے پیش کرنے کا پورا پورا حق حاصل ہے۔ لیکن کسی واقعہ یا تحریک کے بارے میں ایسا تاثر دینا کہ اس سے اس واقعہ یا تاریخ کا مجموعی تناظر ہی الٹ دیا جائے، تحقیق اور تجزیہ نگاری کے مسلمہ اسلوب اور معیار سے مطابقت نہیں رکھتا ۔ ۔ ۔

۵ جولائی ۲۰۰۰ء

کیا اسلام کو کوئی خطرہ نہیں ہے؟

محترمہ سرفراز اقبال صاحبہ کو اس بات پر بہت کوفت ہوئی ہے کہ وزیر داخلہ جناب معین الدین حیدر نے اپنے حالیہ متنازعہ انٹرویو کے بارے میں مولویوں کی بیان بازی سے متاثر ہو کر صفائی دینے کی طرز اختیار کی ہے۔ محترمہ کا خیال ہے کہ مولوی کو اتنی اہمیت نہیں دینی چاہیے اور حکمرانوں کو جو بات ان کی سمجھ میں آئے کر گزرنی چاہیے۔ ان کا یہ بھی ارشاد ہے، بلکہ ارشادات کا عنوان ہے کہ ’’اسلام کو کسی سے کوئی خطرہ نہیں ہے‘‘ اس لیے کسی کو اسلام کے غم میں دبلا ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔ ۔ ۔

۲۶ جون ۲۰۰۰ء

مولانا احمد رضا خان بریلویؒ اور خلافت عثمانیہ

مجھے عباسی صاحب موصوف کے اس ارشاد سے سو فیصد اتفاق ہے کہ مولانا احمد رضا خان بریلویؒ سلطنت اور خلافت میں فرق کرتے تھے اور ترکی کے عثمانی حکمرانوں کو مسلم سلاطین کے طور پر تسلیم کرتے تھے مگر انہیں خلیفہ اور امیر المومنین نہیں سمجھتے تھے۔ اور مولانا احمد رضا خانؒ نے خلافت عثمانیہ کے خلاف بغاوت کرنے والے شریف مکہ حسین بن علی کی حمایت کی تھی۔ مگر عباسی صاحب کی اس بات سے مجھے اتفاق نہیں ہے کہ خود عثمانی حکمرانوں نے بھی خلافت کا دعویٰ نہیں کیا تھا ۔ ۔ ۔

۱۲ جون ۲۰۰۰ء

صوفیائے کرام اور مجاہدین ۔ راجہ صاحب کا ایک مغالطہ

راجہ صاحب نے صوفیاء کرام اور مجاہدین کے الگ الگ راستوں کی نشاندہی کی ہے اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ مجاہدین کی طرح تلوار لہرا کر اسلام کا نعرہ لگانے کی بجائے صوفیاء کرام کی طرح خاموشی، محبت اور رواداری کے ساتھ اسلام کی دعوت دینا زیادہ مؤثر ہے۔ لیکن راجہ صاحب یہ تاریخی حقیقت نظر انداز کر گئے ہیں کہ صوفیاء کرام اور مجاہدین کا راستہ کبھی ایک دوسرے سے متضاد اور مختلف نہیں رہا، دونوں ایک دوسرے کے کام میں ہمیشہ معاون و مددگار رہے ہیں۔ میں اپنے اس دعویٰ کے ثبوت میں ہندوستان پر ہونے والے تین بڑے عسکری حملوں کا حوالہ دینا چاہوں گا ۔ ۔ ۔

۱۶ مئی ۲۰۰۰ء

جہاد کے حوالے سے راجہ صاحب کی الجھن

راجہ صاحب نے لکھا ہے کہ ’’جہاں مسلم ریاست اپنا وجود یا اپنا اقتدار اعلیٰ کھو دے وہاں عوامی حمایت (اجتہاد) کے ذریعے مسلح تحریک آزادی (یعنی جہاد) کا آغاز تو کسی حد تک قابل فہم معاملہ ہے لیکن جہاں مسلم ریاست مکمل طور پر اپنا وجود رکھتی ہو اور اس کا اقتدار اعلیٰ بھی کلیتاً اس کے پاس ہو وہاں جہاد کا اعلان کون کرے گا؟‘‘ گویا اس طرح راجہ صاحب محترم نے متحدہ ہندوستان میں برطانوی سامراج کے خلاف مسلمانوں کے جہاد آزادی اور روسی استعمار کے خلاف افغان عوام کے جہاد میں فرق ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے ۔ ۔ ۔

۱۵ مئی ۲۰۰۰ء

علماء دیوبند اور سر سید احمد خان مرحوم ۔ راجہ صاحب کی غلط فہمی

راجہ انور صاحب محترم نے جنگ آزادی میں علماء دیوبند کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے یہ شکایت کی ہے کہ علماء دیوبند نے جدید سائنسی علوم کو استعماری سازش قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا تھا۔ اور پھر انہوں نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ اسی وجہ سے علماء کے مقابلہ میں سرسید احمد خان مرحوم کی سوچ کو کامیابی ہوئی ہے اور زندگی کی دوڑ میں علماء دیوبند پیچھے رہ گئے ہیں۔ میرے خیال میں یہ شکایت اور نتیجہ دونوں تاریخی طور پر درست نہیں ہیں۔ شکایت اس لیے کہ علماء دیوبند یا کسی بھی طبقہ کے سنجیدہ علماء نے سائنسی علوم کو کبھی استعماری سازش قرار نہیں دیا اور نہ ہی ان کی مخالفت کی ہے ۔ ۔ ۔

۱۴ مئی ۲۰۰۰ء

عقائد اور نظریات میں بنیادی فرق

(۱) عقائد: جن کی بنیاد وحی الٰہی اور نص قطعی پر ہے اور ان میں کمی بیشی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ (۲) عقائد کی تعبیر و تشریح: جن کی بنیاد میسر معلومات اور دائرہ تحقیق پر ہے اور اس معاملہ میں اہل علم کی رائے آپس میں مختلف ہو سکتی ہے۔ (۳) افکار و نظریات: جن کی بنیاد انسان کی فکر و نظر پر ہے اور ان میں ہر وقت حرکت قائم رہتی ہے۔ کسی بھی شخص کی فکر یا نظریہ کبھی حرف آخر نہیں ہوتا اور شعور و آگہی کے دائرہ میں وسعت کے ساتھ افکار و نظریات میں ارتقاء کا سلسلہ بھی کسی تعطل کے بغیر جاری رہتا ہے ۔ ۔ ۔

۱۳ مئی ۲۰۰۰ء

مذہبی طبقات کا طرز مباحثہ ۔ راجہ صاحب کا تاثر

راجہ صاحب کے ساتھ اس گفتگو میں بنیادی طور پر دو نکات زیر بحث ہیں۔ ایک ’’مذہبی کج بحثی‘‘ کے حوالہ سے کہ راجہ صاحب کو شکایت ہے کہ مذہبی لوگوں میں برداشت اور دوسرے فریق کی رائے کے احترام کا مادہ کم ہوتا ہے جس سے مذہبی جھگڑے جنم لیتے ہیں اور مذہبی بحث و مباحثہ افہام و تفہیم کے ماحول کا باعث بننے کی بجائے تنازعات کی شدت میں اضافے کا سبب بن جاتا ہے۔ مجھے راجہ صاحب کی رائے سے اتفاق ہے لیکن ایک استثناء کے ساتھ کہ سب اہل دین اور اصحاب علم کے بارے میں یہ تاثر قائم کر لینا درست نہیں ہے ۔ ۔ ۔

۱۲ مئی ۲۰۰۰ء

راجہ صاحب کی خدمت میں

جہاں تک اختلاف رائے کا تعلق ہے میں اس کا حق ہر صاحب الرائے کے لیے تسلیم کرتا ہوں، پھر وہی حق اپنے لیے کسی رو رعایت کے بغیر مانگتا ہوں اور اسے بے جھجھک استعمال بھی کرتا ہوں۔ راجہ صاحب محترم کو یہ غلط فہمی ہے کہ اہل دین کج بحث ہوتے ہیں اور کسی منطق اور استدلال کے بغیر محض تقدس اور احترام کے زور پر اپنی بات منوانے کے درپے ہو جاتے ہیں۔ ممکن ہے ان کا واسطہ کبھی کسی کج بحث سے پڑ گیا ہو، ورنہ جہاں تک دین کے اصولوں کا تعلق ہے ان کی بنیاد ہمیشہ استدلال اور جائز حدود میں اختلاف رائے کے احترام پر رہی ہے ۔ ۔ ۔

یکم اپریل ۲۰۰۰ء

محراب و منبر کے وارث محنت مزدوری کیوں نہیں کرتے؟

محترم راجہ انور صاحب کو شکایت ہے کہ محراب و منبر کے وارث محنت مزدوری کیوں نہیں کرتے؟ ان کی بڑی تعداد محنت مزدوری یا نوکری اور تجارت سے اپنا پیٹ کیوں نہیں پالتی؟ ان میں سے اکثر چندے اور قربانی کی کھالیں جمع کرنے کی بجائے جنگل سے لکڑیاں کاٹ کر یا وزن اٹھا کر اپنی روزی کیوں نہیں کماتے؟ یہ شکایت نئی نہیں بہت پرانی ہے اور جب سے مسجد اور مدرسہ نے ایک ریاستی ادارے کی حیثیت سے محروم ہو کر پرائیویٹ ادارے کی حیثیت اختیار کی ہے اور اسے اپنا وجود برقرار رکھنے اور نظام چلانے کے لیے صدقہ، زکوٰۃ، قربانی کی کھالوں اور عوامی چندے کا سہارا لینا پڑا ہے ۔ ۔ ۔

۱۰ مارچ ۲۰۰۰ء

مرزا طاہر احمد کی خوش فہمی

دستور پاکستان میں 1974ء کے دوران زبردست عوامی تحریک کے نتیجے میں ایک ترمیم کی گئی تھی جس کے تحت مرزا غلام احمد قادیانی کے پیروکار دونوں گروہوں (قادیانی اور لاہوری) کو آئینی طور پر غیر مسلم قرار دے کر انہیں ملک کی دیگر غیر مسلم اقلیتوں کے ساتھ شمار کیا گیا تھا۔ کیونکہ مرزا غلام احمد قادیانی نے نبی ہونے کا دعویٰ کر کے ایک نئے مذہب کی بنیاد رکھی تھی جس کی بنیاد پر دنیا بھر کے تمام مسلم اداروں اور مکاتب فکر نے انہیں متفقہ طور پر دائرہ اسلام سے خارج قرار دے دیا تھا۔ مفکر پاکستان علامہ محمد اقبالؒ نے یہ تجویز پیش کی تھی کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے کر ۔ ۔ ۔

۹ نومبر ۱۹۹۹ء

میاں محمد شہباز شریف ۔ خدیو پنجاب؟

ہم میاں شہباز شریف سے با ادب یہ گزارش کرنا چاہیں گے کہ وہ جو کردار ادا کرنا چاہیں بڑے شوق سے کریں، انہیں ہر رول ادا کرنے کا حق حاصل ہے۔ لیکن تاریخ میں ہر کردار کے لیے ایک مخصوص باب ہوتا ہے، اس کا مطالعہ بھی کر لیں۔ اور بطور خاص ’’خدیو مصر‘‘ اسماعیل پاشا کے حالات زندگی کا مطالعہ کریں ۔ ۔ ۔ خدیو مصر کی پالیسیوں کے نتیجہ میں تو برطانیہ کی فوجیں مصر پر قابض ہوئی تھیں، لیکن خدیو پنجاب کے منصوبوں میں یہ کردار کس ملک کی فوج کے لیے تجویز کیا گیا ہے؟ میاں صاحب خود ہی وضاحت فرمادیں تو ان کا بے حد کرم ہوگا ۔ ۔ ۔

۱۰ اکتوبر ۱۹۹۹ء

بھارت کی عظمت اور نجم سیٹھی کا خطاب

نجم سیٹھی کو یہ بھی پریشانی ہے کہ اسلام کی تعبیر میں جماعت اسلامی، جمعیۃ علماء اسلام اور سپاہ صحابہ میں کس کی اجارہ داری ہوگی؟ مگر وہ اس حقیقت سے جان بوجھ کر لوگوں کی توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اسلام کی دستوری تعبیر اور قانون سازی کے حوالہ سے نہ صرف ان مذکورہ جماعتوں میں بلکہ پاکستان کے کم و بیش سبھی دینی حلقوں میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ اور وہ اپنے اتفاق رائے کا اظہار علماء کے 22 دستوری نکات، 1973ء کے دستور، اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات، اور وفاقی شرعی عدالتوں کے فیصلوں کی صورت میں کئی بار کر چکے ہیں ۔ ۔ ۔

۲۰ مئی ۱۹۹۹ء

سنی شیعہ کشیدگی اور ظفر حسین نقوی

نقوی صاحب نے اپنے مضمون میں فرمایا ہے کہ اہل تشیع قرآن پاک پر ایمان رکھتے ہیں، صحابہ کرامؓ کا احترام کرتے ہیں، سب اہل سنت کو مسلمان سمجھتے ہیں، اور اہل سنت کی مساجد کے تقدس کے قائل ہیں اس لیے انہیں اس بات کا ملزم گرداننا درست نہیں ہے کہ ان کے طرز عمل کی وجہ سے کشیدگی پیدا ہوتی ہے۔ نقوی صاحب محترم سے گزارش ہے کہ راقم الحروف نے اپنے مضمون میں ان میں سے کسی بات پر بھی بحث نہیں کی اور نہ ہی کسی پر دلائل دیے ہیں جس پر نقوی صاحب کو اپنی پوزیشن کی وضاحت اور اس کے لیے دلائل پیش کرنے کی ضرورت پیش آئی ہو ۔ ۔ ۔

۴ مئی ۱۹۹۹ء

جمہوریت، ووٹ اور اسلام

محمد مشتاق احمد سے عرض ہے کہ امیر المومنین حضرت عمرؓ بن الخطاب ایک اسلامی حکومت کی تشکیل کے لیے مسلمانوں کی عمومی مشاورت کو ضروری قرار دے رہے ہیں جس کا دائرہ انہوں نے اس خطبہ میں ’’الناس‘‘ اور ’’المسلمون‘‘ بیان فرمایا ہے۔ جبکہ آج کے دور میں عام لوگوں اور مسلمانوں کی عمومی رائے معلوم کرنے کا طریقہ ’’ووٹ‘‘ ہی ہے۔ اس کے علاوہ کوئی اور طریقہ ان کے ذہن میں ہو تو وہ ارشاد فرما دیں۔ مگر طریقہ ایسا ہو کہ حکومت کی تشکیل اور حاکم کے انتخاب میں ’’الناس‘‘ اور ’’المسلمون‘‘ کی رائے کا فی الواقع اظہار ہوتا ہو ۔ ۔ ۔

۷ مارچ ۱۹۹۹ء

وکلاء کرام ! خدا کے لیے سنجیدگی اختیار کریں

ہم وکلاء کرام کے اس حق کے مخالف نہیں ہیں کہ وہ شریعت بل کے متن پر ناقدانہ نظر ڈالیں اور انہیں فکری یا عملی طور پر اس میں کوئی خامی نظر آئے تو اس کی نشاندہی کریں۔ لیکن خدا شاہد ہے کہ ہمیں ہائی کورٹ کے وکلاء سے اس غیر سنجیدہ رویہ کی توقع ہرگز نہیں تھی کہ وہ شریعت بل کا مطالعہ کیے بغیر اس کے خلاف لنگر لنگوٹ کس لیں گے۔ ملک میں قانون دان طبقہ کا اپنا ایک مقام ہے اور بالخصوص ہائی کورٹ کے وکلاء سے قوم ایک سنجیدہ طرز عمل کی توقع رکھتی ہے ۔ ۔ ۔

۲۹ جون ۱۹۹۰ء

ایم آر ڈی کے بیس نکات اور مولانا فضل الرحمان

روزنامہ جنگ لاہور ۹ جون ۱۹۸۸ء میں صفحۂ اول پر شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق ایم آر ڈی (موومنٹ فار ریسٹوریشن آف ڈیموکریسی) کے راہنما مولانا فضل الرحمان نے کوئٹہ میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایم آر ڈی کے کنوینر مسٹر معراج محمد خان نے ایم آر ڈی کے پروگرام پر مشتمل جن ۲۰ نکات کا اعلان کیا ہے ان کے ساتھ ایک ۲۱ واں نکتہ بھی طے پایا تھا جو ان نکات سے حذف کر دیا گیا ہے اور وہ نکتہ اسلامی نظام کے بارے میں تھا ۔ ۔ ۔

جون ۱۹۸۸ء

روزنامہ نوائے وقت اپنی روش پر نظر ثانی کرے

روزنامہ نوائے وقت لاہور نے ڈاکٹر جاوید اقبال اور سردار محمد عبد القیوم خان کی ناروے کی تقاریر کے حوالے سے جس افسوسناک بحث کا آغاز کیا تھا اس کا سلسلہ دراز ہوتا جا رہا ہے اور نوئے وقت اس بحث کو بلاوجہ طول دے کر اس مطالبہ پر اصرار کر رہا ہے کہ سردار محمد عبد القیوم خان اپنی ناروے کی تقریر میں علامہ محمد اقبالؒ کی مبینہ توہین پر معافی مانگیں۔ جبکہ سردار صاحب کا موقف یہ ہے کہ انہوں نے علامہ محمد اقبالؒ کی توہین نہیں کی بلکہ علامہ اقبالؒ کے نام سے غلط نظریات اور گمراہ کن خیالات پیش کرنے والوں کو ہدف تنقید بنایا ہے اور اس پر وہ کسی معذرت کے لیے تیار نہیں ہیں ۔ ۔ ۔

جنوری ۱۹۸۸ء ۔ جلد ۳۱ شمارہ ۳

ایم آر ڈی اور علماء حق

ایم آر ڈی کے کراچی کے حالیہ اجلاس نے ان حلقوں کی خوش فہمی کو ختم کر دیا ہے جو یہ آس لگائے بیٹھے تھے کہ تحریک بحالیٔ جمہوریت کے نام سے متضاد نظریات رکھنے والی سیاسی جماعتوں کا یہ گٹھ جوڑ انتخابی اتحاد میں تبدیل ہو کر آئندہ انتخابات میں کوئی مؤثر کردار ادا کر سکے گا۔ جبکہ کراچی کے اجلاس کے بعد ایم آر ڈی میں شامل جماعتوں کی ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی نے یہ بات اور زیادہ واضح کر دی ہے کہ یہ اتحاد اپنی طبعی عمر پوری کر چکا ہے اور اب اس میں مزید آگے چلنے کی سکت باقی نہیں رہی ہے ۔ ۔ ۔

دسمبر ۱۹۸۷ء ۔ جلد ۳۰ شمارہ ۴۸

وفاقی وزیر مذہبی امور حاجی سیف اللہ خان کا ارشاد

مذہبی امور کے وفاقی وزیر حاجی سیف اللہ خان نے گزشتہ روز لاہور میں دارالعلوم حزب الاحناف کے سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’پاکستان میں شریعت کے نفاذ کا نہیں بلکہ اس پر عملدرآمد کا مسئلہ ہے کیونکہ شریعت کا نفاذ اس روز سے شروع ہو گیا تھا جب یہ آیت نازل ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کو مکمل کر دیا ہے۔ اس دن کے بعد سے آج تک ہر مسلمان کا کام یہ ہے کہ قرآن و سنت کے مطابق کام کرے اور دوسروں کو بھی تلقین کرے۔‘‘ (روزنامہ نوائے وقت، لاہور ۔ ۱۹ جون ۱۹۸۷ء) ۔ ۔ ۔

جون ۱۹۸۷ء ۔ جلد ۲۵ شمارہ ۳۰

اسلام پر رحم کیجئے

یوں محسوس ہوتا ہے کہ ’’چچا سام‘‘ ایک بار پھر اسلام اور سوشلزم کے نام سے پاکستانی قوم کی باہمی کشتی دیکھنے کا خواہشمند ہے کیونکہ پچھلی بار جمعیۃ علماء اسلام کے ارباب بصیرت نے کباب میں ہڈی ڈال دی تھی اور ان کی بروقت مداخلت کی وجہ سے اسلام اور سوشلزم کا دنگل دیکھنے کی خواہش چچا سام پوری نہیں کر سکا تھا۔ وہ دن بھی عجیب تھے، ایک طرف سرمایہ داروں، جاگیرداروں اور مفاد پرستوں کا طبقہ ’’اسلام پسندی‘‘ کا لیبل لگا کر اپنے مفادات اور اغراض کے تحفظ کی جدوجہد میں مصروف تھا ۔ ۔ ۔

۲۶ ستمبر ۱۹۷۵

خان عبد الولی خان، ذوالفقار علی بھٹو اور افغانستان

وزیراعظم جناب ذوالفقار علی بھٹو نے گزشتہ دنوں صوبہ سرحد کے شمالی علاقوں کا دورہ کرتے ہوئے اپنی تقاریر میں پاکستان کی سرحدوں پر افغانستان اور بھارت کی افواج کے اجتماع کے انکشاف کے ساتھ ساتھ قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کے قائد جناب عبد الولی خان کے خلاف بھی غم و غصہ کا اظہار فرمایا ہے۔ اگرچہ اس سلسلہ میں انہوں نے کوئی نئی بات کرنے کی بجائے وہی باتیں دہرائی ہیں جو وہ اور ان کے پیشرو حکمران اس سے قبل متعدد بار کہہ چکے ہیں، لیکن موجودہ ملکی و بین الاقوامی صورتحال کے پیش نظر بھٹو صاحب کی یہ نئی مہم اپنے ’’مالہ و ما علیہ‘‘ پر غوروخوض کی دعوت دیتی ہے ۔ ۔ ۔

۲۶ جولائی ۱۹۷۴ء

مسئلہ ارتداد اور الحاج ممتاز احمد فاروقی کا موقف

قائد جمعیۃ علماء اسلام حضرت مولانا مفتی محمود صاحب نے ۲ فروری ۱۹۷۳ء کو ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر اپنی نشری تقریر اور انٹرویو میں مستقل آئین کے مسودہ کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے اس امر کی طرف بھی توجہ دلائی تھی کہ مسودہ آئین میں مسلمان کو مرتد ہونے کی اجازت دی گئی ہے، حالانکہ اسلام میں کسی بھی مسلمان کو اسلام چھوڑنے کا حق نہیں ہے اور مرتد کی شرعی سزا قتل ہے۔ اس پر محترم الحاج ممتاز احمد فاروقی نے نوائے وقت (۱۳ فروری) میں مطبوعہ ایک مضمون میں مفتی صاحب کے اس موقف پر اعتراض کیا ہے ۔ ۔ ۔

یکم مارچ ۱۹۷۳ء

گوجرانوالہ کے اخبار نویس دوستوں سے

اخبار نویسی اور رپورٹنگ کا بنیادی تقاضا یہ ہے کہ عوام کے احساسات و جذبات کی ترجمانی کی جائے اور ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کے نظریات و خیالات کو بلاکم و کاس عوام کے سامنے پیش کیا جائے۔ لیکن معلوم نہیں ہمارے ہاں اخبار نویسی کا معیار کیا سمجھ لیا گیا ہے کہ جو چیز مخصوص گروہی اغراض کے مطابق ہو اسے قومی پریس میں جگہ دے دی جاتی ہے اور جس چیز کو اخبار نویسوں کی گروہی اغراض گوارا نہ کرتی ہوں وہ خود کتنی ہی اہمیت کی حامل ہو، ردی کی ٹوکری میں پھینک دی جاتی ہے ۔ ۔ ۔

۴ اکتوبر ۱۹۶۸ء