اراکان کے مسلمانوں کی داد رسی میں بنگلہ دیش کا موقف

روہنگیا مسلمانوں کی مظلومیت اور بے بسی آہستہ آہستہ عالمی رائے عامہ اور بین الاقوامی اداروں کی توجہ حاصل کر رہی ہے اور ان کی داد رسی و حمایت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل، امریکی اور برطانوی وزرائے خارجہ، ہیومن رائٹس واچ کمیشن، ایمنسٹی انٹرنیشنل اور دیگر عالمی اداروں اور شخصیات کی زبانوں پر اب میانمار میں کٹنے جلنے والے مسلمانوں کے حق میں کلمۂ خیر بلا جھجھک آنے لگا ہے۔ جبکہ ہمیں سب سے زیادہ اطمینان اس سلسلہ میں بنگلہ دیش کی پیش رفت سے حاصل ہوا ہے اس لیے کہ اس مسئلہ پر فطری طور ترتیب اور راستہ یہی بنتا ہے ۔ ۔ ۔

۲۰ ستمبر ۲۰۱۷ء

’’ہوئے تم دوست جس کے دشمن اس کا آسماں کیوں ہو؟‘‘

نیویارک سے شائع ہونے والے اردو جریدے ہفت روزہ ’’نیویارک عوام‘‘ نے ستمبر ۲۰۰۷ء کے پہلے شمارے میں امریکی فوج کے چیف آف اسٹاف جنرل ارج کیسی کی ایک تقریر کی رپورٹ شائع کی تھی جس میں انہوں نے نیشنل گارڈ ایسوسی ایشن کی ایک سو انتیسویں کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ ’’انتہا پسند مسلمانوں کے خلاف شروع کی گئی نظریاتی جنگ کئی عشروں تک جاری رہ سکتی ہے اور یہ جنگ اس وقت تک نہیں جیتی جا سکتی جب تک اعتدال پسند مسلمان انتہا پسند مسلمانوں پر بالادستی حاصل نہ کر لیں۔‘‘ ۔ ۔ ۔

۲۹ نومبر ۲۰۰۷ء

ڈاکٹر روون ولیمز کا بیان اور اسلامی شرعی قوانین

برطانیہ میں پروٹسٹنٹ فرقے کے سربراہ آرچ بشپ آف کنٹربری ڈاکٹر روون ولیمز کا یہ بیان عالمی سطح پر موضوع بحث بنا ہوا ہے کہ برطانیہ میں رہنے والے مسلمانوں کو خاندانی معاملات اور مالیاتی مسائل میں اپنے شرعی قوانین پر عمل کا حق ملنا چاہیے اور اس مقصد کے لیے اسلامی شرعی قوانین کو ملک کے قانونی نظام کا حصہ بنایا جانا چاہیے۔ اس سلسلہ میں جو تفصیلات مختلف اخبارات کے ذریعے سامنے آئی ہیں ان کے مطابق ڈاکٹر روون کا کہنا ہے کہ نکاح و طلاق اور وراثت وغیرہ جیسے خاندانی معاملات میں اسلام کے شرعی احکام پر عمل کرنا مسلمانوں کا حق ہے ۔ ۔ ۔

۷ مارچ ۲۰۰۸ء

مولانا منظور احمد چنیوٹی کا عرب ممالک کا دورہ

جمعیۃ علماء اسلام کے راہنما مولانا منظور احمد چنیوٹی خوش قسمت ہیں کہ عقیدۂ ختم نبوت کے ساتھ والہانہ عقیدت کے باعث انہیں عرب ممالک میں اس مشن کی خدمت اور حرمین شریفین کی بار بار زیارت کا موقع ملتا رہتا ہے اور اس ضمن میں ان کی خدمات وقیع ہیں۔ جن دنوں پاکستان میں تحریک ختم نبوت جاری تھی مولانا موصوف سعودی عرب میں تھے اور تحریک کے عالمی سفیر کے طور پر اس محاذ پر کام کر رہے تھے جس کی اجمالی رپورٹ قارئین ترجمان اسلام میں پڑھ چکے ہیں ۔ ۔ ۔

۲۵ اپریل ۱۹۷۵ء

متحدہ جمہوری محاذ کی دو سالہ جدوجہد

متحدہ جمہوری محاذ کے باعزم رہنما ہدیۂ تبریک کے مستحق ہیں کہ اس دور میں بھی جمہوری اقدار کی سربلندی اور ملکی سالمیت کے تحفظ کی جدوجہد میں مصروف ہیں جبکہ حکمران پارٹی اپنے اقتدار کو مضبوط اور شخصی آمریت کو مستحکم کرنے کی خاطر تمام سیاسی، اخلاقی اور جمہوری حدود و قیود کو خیرباد کہہ چکی ہے۔ محب وطن سیاسی رہنماؤں کے خلاف سرکاری ذرائع ابلاغ کا مکروہ پراپیگنڈا اور پولیس و فیڈرل فورس کے وحشیانہ مظالم ہٹلر اور مسولینی کی روح کو بھی شرما رہے ہیں ۔ ۔ ۔

۶ جون ۱۹۷۷ء

آزادیٔ مساجد و مدارس اور علماء کا موقف

وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے ناظم اعلیٰ مولانا مفتی محمود ایم این اے نے ۱۰ نومبر ۱۹۷۶ء کو راولپنڈی میں وفاق کی مجلس شوریٰ اور دیگر مکاتیب فکر کے ذمہ دار علماء کرام کا ایک مشترکہ کنونشن طلب کیا ہے جس میں مساجد و مدارس کی آزادی و خودمختاری کو بعض سرکاری اقدامات سے درپیش خطرات کا جائزہ لیا جائے گا اور ان خطرات کے سدباب کے لیے مشترکہ لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ اس موقع پر مناسب معلوم ہوتا ہے کہ مساجد و مدارس کی آزادی و خودمختاری کے بارے میں علماء کرام کے موقف پر ایک سرسری نگاہ ڈال لی جائے ۔ ۔ ۔

۱۹ نومبر ۱۹۷۶ء

کل جماعتی آزادیٔ مساجد و مدارس کنونشن

وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے ناظم اعلیٰ حضرت مولانا مفتی محمود ایم این اے کی دعوت پر آزادیٔ مساجد و مدارس کے سوال پر غور و خوض کے لیے مختلف مکاتب فکر کے علماء کرام کا ایک بھرپور کنونشن ۱۰ نومبر ۱۹۷۶ء کو صبح ۱۰ بجے جامعہ حنفیہ عثمانیہ ورکشاپی محلہ راولپنڈی میں وفاق المدارس کے نائب صدر حضرت مولانا عبد الحق ایم این اے اکوڑہ خٹک کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ کنونشن میں ملک کے چاروں صوبوں سے دیوبندی، بریلوی اور اہل حدیث مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے ایک سو کے قریب مندوبین نے شرکت کی ۔ ۔ ۔

۱۹ نومبر ۱۹۷۶ء

خان محمد حنیف خان کا ارشاد / مذہب سے چڑ کیوں؟ / الیکشن او رخان عبد القیوم خان

روزنامہ جنگ راولپنڈی ۲۹ نومبر ۱۹۷۶ء کے مطابق وفاقی وزیر اطلاعات خان محمد حنیف خان صاحب نے ہری پور میں پارٹی ورکرز سے خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ: ’’جمعیۃ علماء اسلام نے اپنے دورِ اقتدار میں شریعت کے نفاذ کے لیے کوئی مثبت اقدام نہیں کیا۔‘‘ معلوم نہیں صوبہ سرحد میں جمعیۃ علماء اسلام اور نیشنل عوامی پارٹی کی دس ماہ کی حکومت کے دوران خان صاحب موصوف ملک سے باہر تھے یا بستر استراحت پر محوِ خواب تھے ۔ ۔ ۔

۱۷ دسمبر ۱۹۷۶ء

سیاسی جماعتوں کی تعداد میں کمی کی تجویز

اگر ہمارے ہاں سیاسی عمل تسلسل کے ساتھ آزادانہ طور پر جاری رہتا تو تین چار عام انتخابات کے بعد ملک گیر سطح پر عوام سے منظم رابطہ رکھنے والی تین چار سیاسی جماعتیں خود بخود سامنے آجاتیں اور بے عمل و غیر منظم سیاسی گروپ عملی سیاست سے ’’ناک آؤٹ‘‘ ہو جاتے۔ لیکن بد قسمتی سے ایسا نہیں ہوا اور چند عہدہ داروں، منشور، دستور، ایک آدھ دفتر اور سیاسی بیانات کی کاغذی دیواروں پر قائم ہونے والی بے شمار پارٹیاں ’’برساتی کھمبیوں‘‘ کی طرح نمودار ہوتی چلی گئیں جس کا عملی نتیجہ یہ ہے کہ قومی درد رکھنے والے سیاسی کارکنوں کی ایک بڑی تعداد سیاسی گروپوں میں بٹ کر رہ گئی ہے ۔ ۔ ۔

۷ اپریل ۱۹۷۸ء

پہلا ٹیسٹ ٹیوب بچہ

اے ایف پی کے مطابق دنیا کا سب سے پہلا ٹیسٹ ٹیوب بچہ جولائی میں جنوبی انگلستان کے شہر اولڈم میں پیدا ہوگا۔ تفصیلات کے مطابق انسانی بیضے کی رحم مادر سے باہر پرورش کا یہ تجربہ دو ڈاکٹروں نے انجام دیا ہے جس سے یوں معلوم ہوتا ہے کہ جانوروں کی مصنوعی نسل کشی کا کامیاب تجربہ کرنے والا انسانی ذہن اب نسل انسانی کو مصنوعی نسل کشی کے تجربات سے گزارنے کے درپے ہے اور یہ بات انسانی ذہن کی بوالعجبی کا ایک عجیب و غریب نمونہ ہے ۔ ۔ ۔

۲۸ اپریل ۱۹۷۸ء

برمی مسلمانوں پر مظالم

بعض اخباری اطلاعات کے مطابق برما میں مسلمانوں پر عرصۂ حیات ایک بار پھر تنگ کر دیا گیا ہے اور انہیں وحشیانہ مظالم کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ رابطہ عالم اسلامی کے تین کونسلروں نے برمی حکومت کے نام ایک عرضداشت میں مطالبہ کیا ہے کہ برمی مسلمانوں کا قتل عام فورًا بند کیا جائے ۔ ۔ ۔

۲۸ اپریل ۱۹۷۸ء

ہزارہ میں انسدادِ سود پر چند اجتماعات

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ’’یمحق اللہ الربوا ویربی الصدقات‘‘ اللہ تعالیٰ سود کے ذریعہ رقم کو بے برکت اور ڈی ویلیو کر دیتے ہیں جبکہ صدقہ کی صورت میں رقم کی قدروقیمت میں اضافہ ہوتا ہے۔ بے برکتی کی مختلف صورتیں ہو سکتی ہیں: مثلاً مال کسی نقصان میں ضائع ہو جائے، بے مقصد کاموں پر خرچ ہو جائے، یا وہ کام جو کم مال خرچ کرنے سے ہو سکتے ہوں ان پر زیادہ مال خرچ ہو جائے وغیرہ۔ یوں سمجھ لیں کہ بے برکتی ہماری مصنوعی کرنسی کی طرح ہے کہ گنتی بڑھتی جاتی ہے مگر افادیت اور قدر مسلسل کم ہوتی چلی جاتی ہے ۔ ۔ ۔

۱۵ ستمبر ۲۰۱۷ء

اسلام وکالت کا مخالف نہیں

پشاور ہائی کورٹ کے صدر جناب لطیف آفریدی اور بعض دیگر سرکردہ وکلاء کو مبینہ طور پر القاعدہ اور طالبان کی طرف سے دھمکی آمیز خطوط موصول ہوئے ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ ’’وکالت یہودیوں کا پیشہ ہے، چھوڑ دو ورنہ مار دیں گے‘‘۔ اس پر رد عمل کے اظہار کے طور پر خبر میں بتایا گیا ہے کہ وکالت کا پیشہ یہودیوں کی میراث نہیں ہے اور اسلام میں وکالت کا پیشہ جائز ہے۔ یہ خبر یا خط عین اس وقت منظر عام پر آیا ہے جب ملک بھر کے وکلاء دستور کی بالادستی اور اعلیٰ عدالتوں کے معزول کیے جانے والے ججوں کی بحالی کے لیے تحریک کو منظم کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔

۲۶ جنوری ۲۰۰۸ء

آراکان کا مختصر تاریخی پس منظر

میانمر (برما) کے صوبہ اراکان کے مہاجر مسلمانوں کی ایک رفاہی تنظیم جمعیۃ خالد بن ولید الخیریہ کے علماء کا ایک وفد ان دنوں پاکستان کے مختلف شہروں میں اپنے مسلمان بھائیوں کو مظلوم اراکانی مہاجر مسلمانوں کی حالت زار کی طرف توجہ دلانے کے لیے سرگرم عمل ہے۔ اراکان مسلم اکثریت کی پٹی ہے جہاں کے مسلمان ایک عرصہ سے ریاستی جبر کا شکار ہو کر اپنے بنیادی انسانی حقوق سے محروم ہیں لیکن کوئی بین الاقوامی ادارہ حتیٰ کہ مسلم حکومتیں بھی رسمی لیپاپوتی سے ہٹ کر ان کے مسائل کے حل کی طرف توجہ دینے کے لیے تیار نہیں ۔ ۔ ۔

۱۲ ستمبر ۲۰۰۹ء

برطانیہ کے نومسلم مورس عبد اللہ سے ملاقات

میں اس وقت اسکاٹ لینڈ کے دارالحکومت ایڈنبرا کے قریب ایک بستی ڈنز میں اپنے بھانجے ڈاکٹر سبیل رضوان کے گھر میں بیٹھا یہ سطور لکھ رہا ہوں۔ اس سے قبل دو روز میں نے گلاسگو میں گزارے اور مختلف احباب سے ملاقات کے علاوہ دو تین اجتماعات سے خطاب بھی کیا۔ ۶ اپریل کی شب ڈاکٹر رضوان مجھے گلاسگو سے لے کر گھر پہنچے تو رات کے دو بج چکے تھے اور میرا پروگرام یہ تھا کہ ظہر تک کا وقت ان کے پاس گزار کر واپس گلاسگو جاؤں گا تاکہ شام نو بجے برمنگھم کے لیے فلائٹ پکڑ سکوں جس کے لیے میں نے سیٹ بک کروا رکھی تھی ۔ ۔ ۔

۲۴ مئی ۲۰۰۸ء

آراکان اور کشمیر میں مماثلت

میانمار (برما) کی حکمران پارٹی کی سربراہ آنگ سان سوچی نے بھارتی خبر رساں ایجنسی اے این آئی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت اور میانمار کو ایک جیسے مسائل کا سامنا ہے کہ روہنگیا (آراکان) اور کشمیر کے تنازعات ملتے جلتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جس طرح بھارت کو کشمیر میں دہشت گردی کا سامنا ہے اسی طرح ہمیں بھی روہنگیا میں مسلمانوں کی طرف سے دہشت گردی کا معاملہ درپیش ہے۔ آنگ سان سوچی نے تو یہ بات بھارتی حکمرانوں کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لیے کی ہے جو ایک مفروضہ سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتی ۔ ۔ ۔

۱۲ ستمبر ۲۰۱۷ء

مسئلہ قادیانیت، دینی جماعتوں کے مطالبات

۹ جون کو مدرسہ قاسم العلوم اندرون شیرانوالہ گیٹ لاہور میں علماء کرام، مشائخ عظام اور سیاسی راہنماؤں کے مشترکہ کنونشن میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ (۱) قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے، (۲) کلیدی آسامیوں سے قادیانیوں کو الگ کیا جائے، (۳) ربوہ کو کھلا شہر قرار دے کر مسلمانوں کو وہاں بسنے کی جازت دی جائے، (۴) واقعہ ربوہ کے سلسلہ میں مرزا ناصر احمد اور دیگر ذمہ دار افراد کو فی الفور گرفتار کیا جائے۔ کنونشن میں ان مطالبات کے لیے پر امن تحریک چلانے کی غرض سے ’’آل پارٹیز ختم نبوت ایکشن کمیٹی‘‘ کے قیام کا بھی فیصلہ کیا گیا ۔ ۔ ۔

۱۴ جون ۱۹۷۴ء

علامہ شبیر احمدؒ عثمانی / افسر شاہی کے کرشمے / اخباری کاغذ کا بحران / پیپلز پارٹی کی مہم

حکومت ہر سال تحریک پاکستان کے راہنماؤں کے ایامِ ولادت اور برسیوں پر ان کی خدمات کو منظرِ عام پر لانے کا اہتمام کرتی ہے اور اخبارات و جرائد ان مواقع پر خصوصی اشاعتوں کا اہتمام کرتے ہیں۔ یومِ ولادت یا برسی منانے کی شرعی پوزیشن سے قطع نظر دورِ حاضر کی ایک روایت اور حکومت و اخبارات کی اخلاقی ذمہ داری کے نقطۂ نظر سے یہ شکوہ بجا ہے کہ تحریک پاکستان کے سربرآوردہ قائد شیخ الاسلام علامہ شبیر احمدؒ عثمانی کی اٹھائیسویں برسی کے موقع پر نہ تو ریڈیو اور ٹی وی نے کوئی پروگرام نشر کیا اور نہ قومی اخبارات و جرائد نے ان پر کوئی خصوصی اشاعت حتیٰ کہ مضمون تک شائع کیا ۔ ۔ ۔

۳۰ دسمبر ۱۹۷۷ء

قافلۂ امام ولی اللہ دہلویؒ

تحریک آزادیٔ ہند میں کانگریس اور مسلم لیگ سمیت دوسری جماعتیں ایک عرصہ تک صرف داخلی خودمختاری اور آئینی مراعات کے مطالبات پر اکتفا کیے ہوئے تھیں لیکن بہت جلد ان کو جمعیۃ علماء ہند کی طرح مکمل آزادی کے اسٹیج پر آنا پڑا ۔۔۔ اور پھر جب پاکستان کے قیام کی تحریک چلی تو اگرچہ ولی اللہی پارٹی کے سرکردہ ارکان قیام پاکستان کے مخالف تھے اور جمعیۃ علماء ہند نے کھلم کھلا اس کی مخالفت کی تھی، لیکن اس فیصلہ سے اختلاف کر کے تحریک پاکستان کے کیمپ میں شامل ہونے والے عظیم راہنما علامہ شبیر احمدؒ عثمانی بھی ولی اللہی گروہ سے ہی تعلق رکھتے تھے ۔ ۔ ۔

۲۸ فروری ۱۹۷۵ء

کراچی کا فساد / ریڈیو اور ٹیلی ویژن / حنیف رامےصاحب کی نئی تجویز / پاور لومز کی صنعت

جناب رسالتمآب صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت کے مقدس دن کراچی میں جو کچھ ہوا وہ انتہائی افسوسناک ہے اور ہر شہری ان افراد کے غم میں رنجیدہ ہے جو شر پسند عناصر کی غنڈہ گردی کا شکار ہوگئے۔ تا دمِ تحریر سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق اسے فرقہ وارانہ فساد کا نام دیا گیا ہے مگر قائد جمعیۃ حضرت مولانا مفتی محمود کا یہ ارشاد بالکل بجا ہے کہ حالیہ تحریک اور انتخابی مہم میں مختلف مکاتب فکر کی طرف سے باہمی اتحاد و اتفاق اور اعتماد و رواداری کا جو مثالی مظاہرہ دیکھنے میں آیا ہے اس کے پیش نظر کسی اشتعال کے بغیر فرقہ وارانہ فساد کی بات کچھ قرین قیاس معلوم نہیں ہوتی ۔ ۔ ۔

۳ مارچ ۱۹۷۸ء

جنرل محمد ضیاء الحق کا عزم اور سول انتظامیہ

چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر جنرل محمد ضیاء الحق نے راولپنڈی میں قومی سیرت کانفرنس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’حکومت اسلامی نظام کی ترویج کے ضمن میں ذمہ داریوں سے بحسن و خوبی عہدہ برآ ہوگی اور اس راہ میں رکاوٹیں پیدا کرنے والوں کے خلاف سختی سے نمٹا جائے گا۔‘‘ (نوائے وقت، لاہور ۔ ۲۲ فروری ۱۹۷۸ء) ۔ ۔ ۔

۳ مارچ ۱۹۷۸ء

مولانا ابوالکلام آزادؒ پر الزام / نوائے وقت کا طرز عمل/ گھر بیٹھے تنخواہ

لاہور کے مؤقر ہفت روزہ ’’اسلامی جمہوریہ‘‘ میں شائع ہونے والی ایک ہندو مصنف ایم او متھائی کی کتاب آج کل صحافتی حلقوں میں زیربحث ہے جس میں مولانا ابوالکلام آزادؒ پر شراب نوشی اور شراب کے نشے میں ’’انڈیا ونز فریڈم‘‘ لکھنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ مولانا ابوالکلام آزادؒ کے کردار کے بارے میں کوئی منفی بات کہی گئی ہے ورنہ اس سے قبل مولانا آزادؒ کے سیاسی نظریات و افکار اور طرزعمل سے شدید ترین اختلاف رکھنے والوں نے بھی ان کی علم و ذہانت او پختگی کردار کا اعتراف کیا ہے ۔ ۔ ۔

۱۷ مارچ ۱۹۷۸ء

شہنشاہیت کے خلاف ایرانی عوام کی جدوجہد

برادر پڑوسی ملک ایران کے عوام ایک عرصہ سے شہنشاہیت کے خاتمہ کے لیے نبرد آزما ہیں، ان کی پرجوش تحریک کی قیادت علامہ آیت اللہ خمینی اور علامہ آیت اللہ شریعت سدار جیسے متصلب شیعہ راہنماؤں کے ہاتھ میں ہے اور اس تحریک میں علماء و طلباء کے علاوہ خواتین، مزدور، ملازمین اور دوسرے طبقے بھی سرگرم دکھائی دیتے ہیں۔ ہزاروں ایرانی اس وقت تک اس جدوجہد میں اپنی جانوں پر کھیل چکے ہیں اور تحریک کی شدت کا یہ عالم ہے کہ شاہ ایران کی قائم کردہ متعدد حکومتیں فوجی طاقت کے بھرپور استعمال کے باوجود صورتحال پر قابو پانے میں ناکامی کے بعد دستبردار ہو چکی ہیں۔ مگر تحریک کی شدت میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے اور یوں محسوس

۱۵ دسمبر ۱۹۷۸ء

کشمیر کا مسئلہ، بھارتی وزیرخارجہ اٹل بہاری باجپائی کی دھمکی

بھارتی وزیرخارجہ مسٹر اٹل بہاری باجپائی نے پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کو دھمکی دی ہے کہ وہ کشمیر کے بارے میں فضول باتیں کرنے سے باز رہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کشمیر کے حق خود ارادیت کی بات کر کے آگ سے کھیل رہا ہے۔ اور یہ بھی ارشاد فرمایا کہ اقوام متحدہ نوآبادیوں کی فہرست سے کشمیر کا نام خارج کر دے ۔ ۔ ۔

۱۵ دسمبر ۱۹۷۸ء

پاکستان، امریکی مفاد کی کڑی؟

جہاں تک امریکہ کی فوجی امداد کی بحالی کا تعلق ہے، اگر امریکہ پاکستان کی امداد بحال کر دے تو اس سے پاکستان کو دفاعی ضروریات پوری کرنے اور برصغیر میں طاقت کا توازن برقرار رکھنے میں یقیناً مدد ملے گی۔ لیکن اس امداد کے پس منظر میں ڈاکٹر کیسنجر کے ریمارکس کے پیش نظر ہم اس خدشہ کا اظہار کیے بغیر نہیں رہ سکتے کہ شاید ایک بار پھر پاکستان کی خارجہ پالیسیوں کے گرد استعماری زنجیروں کا حلقہ تنگ کیا جا رہا ہے اور امریکہ کی طرف سے فوجی امداد کی یہ بحالی اس سلسلہ کی ایک کڑی ہے ۔ ۔ ۔

۴ اکتوبر ۱۹۷۴ء

پارلیمنٹ کا فیصلہ اور قادیانیوں کے عزائم

قادیانیت کے سلسلہ میں پارلیمنٹ کے فیصلہ کو ایک ماہ گزر چکا ہے لیکن ابھی تک نہ تو اس فیصلہ کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ضروری اقدامات کا آغاز ہوا ہے اور نہ ہی قادیانی گروہ نے اس فیصلہ کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ مرزا ناصر احمد نے گزشتہ دنوں ربوہ میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے آئین میں واضح ممانعت کے باوجود اپنے دادا کی نبوت کا پرچار جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے اور ’’خدا کی بشارتوں‘‘ کے حوالے سے کہا ہے کہ میں جنوری تک اس فیصلہ کے بارے میں کوئی ردعمل ظاہر نہیں کروں گا ۔ ۔ ۔

۱۸ اکتوبر ۱۹۷۴ء

حضرت مولانا مفتی محمودؒ کی وفات پر تعزیتی قرارداد

مجلس شوریٰ کے اجلاس میں قائد محترم حضرت مولانا مفتی محمود نور اللہ مرقدہ کو شاندار خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔ شرکائے اجلاس نے پرنم آنکھوں اور مضطرب دلوں کے ساتھ قائد مرحوم کے مشن پر کاربند رہنے کا عزم کرتے ہوئے ان کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی اور اس موقع پر انتہائی رقت انگیز فضا میں مندرجہ ذیل قرارداد کے ذریعہ حضرت مفتی اعظم رحمہ اللہ تعالیٰ کی دینی، سیاسی اور علمی خدمات پر انہیں خراج عقیدت پیش کیا گیا ۔ ۔ ۔

۱۹ دسمبر ۱۹۸۰ء

علماء کا سیاست میں حصہ لینا کیوں ضروری ہے؟

آج کل ایک گمراہ کن غلطی عام طور پر ہمارے معاشرہ میں پائی جاتی ہے کہ علماء اسلام کو ملکی سیاست میں حصہ نہیں لینا چاہیے بلکہ مساجد میں بھی صرف نماز، روزہ اور حج وغیرہ عبادات و اخلاقیات ہی کی بات کرنی چاہیے۔ اس کے علاوہ ملکی معاملات پر گفتگو کرنا اور عام لوگوں کے سیاسی مسائل میں دلچسپی لینا علماء کے لیے غیر ضروری بلکہ نامناسب ہے۔ یہ غلط فہمی سامراج اور اس کے آلۂ کار افراد نے اتنے منظم طریقہ سے پھیلائی ہے کہ آج سامراجی نظام اس غلط فہمی کے سہارے مساجد و مدارس دینیہ میں سیاسیات کے تذکرہ کو روکنے کے لیے قانونی اقدامات کی طرف بڑھنے کی کوشش کر رہا ہے ۔ ۔ ۔

۴ جولائی ۱۹۷۵ء

قربانی کی کھالوں کا مسئلہ

عید الاضحیٰ گزر گئی ہے اور دیگر قومی شعبوں کی طرح اکثر و بیشتر دینی مدارس بھی اپنی چھٹیاں گزار کر تعلیمی سرگرمیوں میں مصروف ہوگئے ہیں۔ عید الاضحیٰ پر دینی مدارس کی ایک مصروفیت یہ ہوتی ہے کہ ملک کے دیگر رفاہی اداروں کے ساتھ وہ بھی قربانی کی کھالیں جمع کرتے ہیں جو ان کی آمدنی کا ایک اہم ذریعہ ہوتی ہیں، اس لیے کہ سوسائٹی کے دیگر مستحقین کی طرح دینی مدارس کے مسافر اور نادار طلبہ بھی زکوٰۃ و صدقات اور قربانی کی کھالوں کا اہم مصرف ہیں۔ اور معاشرہ میں دینی تعلیم کے فروغ کے خواہاں مسلمان اس مد میں ان سے بھرپور تعاون کرتے ہیں ۔ ۔ ۔

۹ ستمبر ۲۰۱۷ء

گولڑہ شریف اور بگھار شریف

عید الاضحیٰ سے قبل چھٹیوں کے دو دن اسلام آباد میں گزرے۔ 28 اگست کو مولانا سمیع الحق کی طلب کردہ آل پارٹیز کانفرنس میں حاضری کا وعدہ تھا، جامعہ نصرۃ العلوم میں اسباق پڑھا کر ظہر تک جامعہ رحمانیہ ماڈل ٹاؤن ھمک اسلام آباد پہنچا اور نمازِ ظہر کے بعد مسجد میں قربانی کی اہمیت کے حوالہ سے ایک نشست میں گفتگو کی۔ پھر مولانا حافظ سید علی محی الدین کے ہمراہ آل پارٹیز کانفرنس میں شریک ہوا جس کی مختصر رپورٹ گزشتہ کالم میں ذکر کر چکا ہوں ۔ ۔ ۔

۸ ستمبر ۲۰۱۷ء

Pages