قادیانیوں کے بارے میں نیا صدارتی حکم

صدر جنرل محمد ضیاء الحق نے ایک صدارتی حکم کے ذریعے ۱۹۷۳ء کے آئین سے ۳۳۴ دفعات کے حذف کیے جانے سے متعلق صدارتی آرڈیننس سے قادیانیوں کے متعلقہ دفعہ کو مستثنیٰ قرار دے دیا ہے۔ اور قائم مقام وفاقی وزیر قانون راجہ ظفر الحق نے وفاقی کونسل میں ایک سوال کے جواب میں کہا ہے کہ اس نئے حکم کے ذریعے اس سلسلہ میں پیدا ہونے والے شکوک و شبہات کا ازالہ کر دیا گیا ہے اور اب ۱۹۷۳ء کے آئین کے تحت قادیانی بدستور غیر مسلم رہیں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قادیانیوں کے بارے میں نیا صدارتی حکم

۳۰ اپریل ۱۹۸۲ء

برطانیہ میں حافظ الحدیث سیمینار

پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا فداء الرحمان درخواستی ان دنوں برطانیہ میں ہیں اور مختلف شہروں میں منعقد ہونے والے دینی و روحانی اجتماعات میں شریک ہو رہے ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے لندن میں بنگلہ دیش کے بزرگ عالم دین شیخ الحدیث حضرت مولانا عزیز الحقؒ کی تعزیت کے لیے منعقدہ سیمینار میں شرکت کی جن کا گزشتہ دنوں انتقال ہوگیا ہے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ بنگلہ دیش میں حافظ الحدیث حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستیؒ کے شاگردوں اور معتقدین کا ایک وسیع حلقہ ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر برطانیہ میں حافظ الحدیث سیمینار

۱۲ اکتوبر ۲۰۱۲ء

اسلامی ثقافت، جمہوریت، نجی ملکیت اور اجتہاد

سوال: کیا یہ درست ہے کہ اسلامک کلچر نام کی کوئی چیز سرے سے موجود نہیں ہے کیونکہ مسلمان جہاں بھی گئے انہوں نے وہیں کا کلچر اپنا لیا؟ جواب: اس سلسلہ میں سب سے پہلے غور طلب امر یہ ہے کہ کلچر کہتے کس کو ہیں؟ عام طور پر کلچر کے بارے میں جو کچھ کہا جاتا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ کلچر کسی قوم کی انفرادی و اجتماعی زندگی میں رچ بس جانے والی ان روایات اور اعمال سے عبارت ہوتا ہے جن سے اس قوم کا تشخص اور امتیاز دوسری اقوام سے ظاہر ہو ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اسلامی ثقافت، جمہوریت، نجی ملکیت اور اجتہاد

۱۸ نومبر ۱۹۸۳ء

کیا ریاست و حکومت کا قیام شرعی فریضہ نہیں ہے؟

قرآنِ کریم کا اسلوب کسی مسئلہ کے بارے میں سارے معاملات یکجا ذکر کرنے کا نہیں ہے بلکہ کسی ایک موضوع یا مسئلہ کے حوالہ سے مختلف مقامات پر متنوع لہجوں میں متفرق ارشادات ملتے ہیں۔ جس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ قرآن کریم مسلسل تئیس سال تک تھوڑا تھوڑا نازل ہوتا رہا ہے اور موقع محل کے مطابق اس کے ارشادات میں اجمال و تفصیل اور اسالیب کا تنوع پایا جاتا ہے۔ اسی لیے تفسیرِ قرآن کریم میں ہمیں پہلا اصول یہ پڑھایا جاتا ہے ’’یفسر بعضہ بعضًا‘‘ کہ قران کریم کا ایک حصہ دوسرے حصے کی تفسیر و تشریح کرتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر کیا ریاست و حکومت کا قیام شرعی فریضہ نہیں ہے؟

۱۶ جنوری ۲۰۱۸ء

دورۂ کراچی اور چند تعزیتیں

یکم جنوری سے پانچ جنوری تک کراچی میں رہا اور ’’مجلس علمی‘‘ میں علماء کرام اور اساتذہ کے اجتماع میں ’’فکری مرعوبیت اور اس کے سدباب‘‘ کے حوالے سے گفتگو کے بعد سبیل مسجد (گورو مندر چورنگی) کے خطیب مولانا محمد طیب کشمیری سے ملاقات کی جو میرے طالب علمی کے دور کے ساتھی ہیں اور جامعہ نصرۃ العلوم کے فاضل ہیں۔ وہاں سے مولانا جمیل الرحمان فاروقی اور ڈاکٹر سید عزیز الرحمان کے ہمراہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے دفتر اور مسجد باب الرحمت میں حاضری دی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دورۂ کراچی اور چند تعزیتیں

۱۰ جنوری ۲۰۱۲ء

انسانی اجتماعیت کے جدید تقاضے اور اسلام کا عادلانہ نظام

لاہور ہائی کورٹ کے شریعت بینچ میں ریٹائرڈ جسٹس جناب بدیع الزمان کیکاؤس کی طرف سے انتخاب و سیاست کے مروجہ قوانین کو چیلنج کیے جانے کے بعد سے علمی و فکری حلقوں میں اس بحث نے سنجیدگی اور شدت اختیار کر لی ہے کہ آج کے دور میں اسلام کے نظامِ عدل و انصاف کو نافذ کرنے کے لیے عملی اقدامات اور ترجیحات کی کیا صورت ہوگی؟ اور موجودہ دور نے انسان کی اجتماعی زندگی کے لیے جن تقاضوں اور ضروریات کو جنم دیا ہے اسلام کا دائرۂ توسعات انہیں کس حد تک اپنے اندر سمونے کے لیے تیار ہے؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر انسانی اجتماعیت کے جدید تقاضے اور اسلام کا عادلانہ نظام

۲۱ دسمبر ۱۹۷۹ء

لاہور ہائیکورٹ کے شریعت بینچ میں مولانا زاہد الراشدی کی درخواست

بسم اللہ الرحمان الرحیم۔ بعدالت شریعت بینچ عدالت عالیہ پنجاب لاہور۔ بمقدمہ ریٹائرڈ جسٹس بدیع الزمان کیکاؤس۔ بنام سرکار بعنوان خلافِ اسلام قرار دیے جانے والے پولیٹیکل پارٹیز ایکٹ وغیرہ۔ جناب والا! درخواست دہندہ نے ۴ نومبر ۱۹۷۹ء کو شریعت بینچ میں جناب حافظ محمد یوسف ایڈووکیٹ کے ذریعے درخواست کی تھی کہ مذکورہ بالا مقدمہ کے سلسلہ میں قرآن و سنت کی روشنی میں درخواست دہندہ کچھ ضروری معروضات بینچ کے روبرو پیش کرنا چاہتا ہے۔ شریعت بینچ کی طرف سے درخواست دہندہ کو ہدایت کی گئی کہ یہ معروضات تحریری طور پر بینچ کے روبرو پیش کی جائیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر لاہور ہائیکورٹ کے شریعت بینچ میں مولانا زاہد الراشدی کی درخواست

۱۴ دسمبر ۱۹۷۹ء

مسجد، انسانی آبادی کا زیرو پوائنٹ

مسجد کو مسلم سوسائٹی میں دل کی حیثیت حاصل ہے کہ سوسائٹی کی تمام تر دینی و روحانی سرگرمیاں مسجد کے متحرک ہونے پر موقوف ہیں، سوسائٹی کا دینی و روحانی نظام مسجد کے ساتھ وابستہ ہے۔ اور میں عرض کیا کرتا ہوں کہ مسلم سوسائٹی میں مسجد کا مقام دل کا اور مدرسے کا مقام دماغ کا ہے، یہ ہمارے اجتماعی دینی نظام کے اعصابی مراکز ہیں اور انہی کی حرکت پر ہماری سب دینی حرکات وجود میں آتی ہیں۔ قرآن کریم کے ارشاد کے مطابق مسجد کو انسانی آبادی کے زیروپوائنٹ کی حیثیت حاصل ہے کہ روئے زمین پر سب سے پہلا جو گھر تعمیر کیا گیا وہ بیت اللہ ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مسجد، انسانی آبادی کا زیرو پوائنٹ

۲۸ اکتوبر ۲۰۱۱ء

تحریک ریشمی رومال اور گوجرانوالہ۔ ایک وضاحت

شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندی کی تحریک ریشمی رومال میں گوجرانوالہ کے کردار کے بارے میں گزشتہ ایک کالم میں کچھ معروضات پیش کر چکا ہوں۔ اس سلسلہ میں ہمارے اہل حدیث دوست مولانا حافظ ابرار احمد ظہیر نے ایک فروگزاشت کی طرف توجہ دلائی ہے جس پر ان کا شکر گزار ہوں۔ ان کا کہنا ہے کہ جس ’’قاضی کوٹ‘‘ کا ذکر اس تحریک کے سلسلہ میں ریکارڈ میں آتا ہے وہ گوجرانوالہ سے قلعہ دیدار سنگھ جاتے ہوئے راستہ میں آنے والا قاضی کوٹ نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر تحریک ریشمی رومال اور گوجرانوالہ۔ ایک وضاحت

۱۷ جنوری ۲۰۱۲ء

آل پارٹیز دفاعِ پاکستان کانفرنس لاہور

پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا فداء الرحمان درخواستی اور ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا قاری جمیل الرحمان اختر کے ہمراہ مجھے بھی ۱۸ دسمبر کو مینارِ پاکستان کے گراؤنڈ میں ’’دفاعِ پاکستان کونسل‘‘ کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی ’’دفاعِ پاکستان کانفرنس‘‘ میں شرکت کا موقع ملا۔ مولانا سمیع الحق کی سربراہی میں دفاع پاکستان کونسل اپنی تشکیل نو کے بعد کچھ عرصہ سے متحرک ہے اور مختلف شہروں میں اجتماعات منعقد مکمل تحریر آل پارٹیز دفاعِ پاکستان کانفرنس لاہور

۲۲ دسمبر ۲۰۱۱ء

کرسمس تقریبات میں مسلمانوں کی شرکت کا مسئلہ

کچھ عرصہ سے کرسمس کی تقریبات میں مسلم راہنماؤں کی شرکت بھی نظر آ رہی ہے جسے مسیحی حضرات کے ساتھ دوستی اور رواداری کے رنگ میں دیکھا جاتا ہے اور خاص طور پر پاکستان میں اسے مسیحی اقلیت کی خوشی میں شرکت سمجھ کر اسے سراہا بھی جاتا ہے۔ لیکن جوں جوں اس کا دائرہ وسیع ہو رہا ہے مذہبی حلقوں میں یہ بات اسی طرح محسوس بھی کی جانے لگی ہے اور مسیحیوں کے مذہبی تہوار میں سرکردہ مسلم راہنماؤں کی اس طرز اور اس درجے کی شرکت پر مذہبی حلقوں کا اعتراض نمایاں طور پر سامنے آرہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر کرسمس تقریبات میں مسلمانوں کی شرکت کا مسئلہ

۲۸ دسمبر ۲۰۱۱ء

فلسطین میں یہودیوں کی آباد کاری / قصور کی معصوم بچی کا المیہ

بعض مضامین میں ہم نے ذکر کیا ہے کہ خلافت عثمانیہ کے خاتمہ کے بعد جب فلسطین پر برطانیہ نے قبضہ کر لیا تو اس نے یہودیوں کے ساتھ اپنے وعدہ ’’اعلان بالفور‘‘ کے مطابق دنیا بھر کے یہودیوں کو اجازت دے دی تھی کہ وہ فلسطین میں آکر زمینیں خرید سکتے ہیں اور آباد ہو سکتے ہیں۔ یہ اجازت خلافت عثمانیہ نے یہودیوں کے عالمی وفد کی باقاعدہ درخواست کے باوجود نہیں دی تھی جس کی پاداش میں خلافت عثمانیہ کے خاتمہ کے لیے یہودیوں نے یورپ کی مسیحی طاقتوں سے اتحاد کر لیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر فلسطین میں یہودیوں کی آباد کاری / قصور کی معصوم بچی کا المیہ

۱۳ جنوری ۲۰۱۸ء

مکالمہ بین المذاہب اور اس کے راہنما اصول

جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب وحی کے نزول کے بعد اعلان نبوت کیا اور لوگوں کو توحید اور قرآن کریم کی طرف دعوت دی تو مشرکین کے ردعمل کا پہلا دور یہ تھا کہ انہوں نے طعنہ زنی، الزامات اور افتراءات کے ذریعے اس دعوت کا راستہ روکنے کی کوشش کی۔ جادوگر، مجنوں، کاہن، شاعر اور طرح طرح کے الزامات اور طعنوں کے ذریعے آنحضرتؐ کو خوفزدہ اور ناکام کرنے کی مہم چلائی گئی۔ مگر اس میں کامیابی نہ ہوئی تو پھر نبی کریمؐ اور آپ کے ساتھیوں کو اذیتیں دینے کا سلسلہ شروع کر دیا جو کم وبیش ایک عشرے تک چلتا رہا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مکالمہ بین المذاہب اور اس کے راہنما اصول

۲۲ اگست ۲۰۱۱ء

کراچی کے حالات اور مولانا مفتی تقی عثمانی

لندن میں ورلڈ اسلامک فورم کے چیئرمین مولانا محمد عیسیٰ منصوری سے فون پر رابطہ ہوا تو انہوں نے دریافت کیا کہ کیا مولانا مفتی تقی عثمانی کراچی سے ہجرت کر کے بیرون ملک چلے گئے ہیں؟ میں نے تعجب اور حیرت سے پوچھا کہ آپ کو کس نے کہا ہے؟ فرمانے لگے کہ ایک معروف کالم نویس نے اپنے کالم میں اس کا ذکر کیا ہے۔ میں نے عرض کیا کہ میرے لیے یہ خبر نئی ہے اور مجھے اس کے بارے میں کچھ معلوم نہیں، تحقیق کر کے ہی بتا سکتا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر کراچی کے حالات اور مولانا مفتی تقی عثمانی

۳ ستمبر ۲۰۱۱ء

سالانہ ختم نبوت کانفرنس ۲۰۱۱ء ۔ تین اہم گزارشات

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت تمام دینی حلقوں کی طرف سے شکریہ اور مبارکباد کی مستحق ہے کہ اس نے چناب نگر (سابق ربوہ) میں سالانہ ختم نبوت کانفرنس کی روایت تسلسل کے ساتھ قائم رکھی ہوئی ہے جس میں ملک بھر سے ہزاروں مسلمان اور سینکڑوں علماء کرام شریک ہو کر تحریک ختم نبوت کے جذبے کو تازہ کرتے ہیں، اور مختلف مکاتب فکر اور دینی جماعتوں کے سرکردہ راہنما تحفظ ختم نبوت کے حوالے سے تازہ ترین حالات کی روشنی میں امت مسلمہ کی راہنمائی کرتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سالانہ ختم نبوت کانفرنس ۲۰۱۱ء ۔ تین اہم گزارشات

۱۷ اکتوبر ۲۰۱۱ء

حرمین شریفین سے دارالعلوم دیوبند تک

حرمین شریفین کے امام محترم معالی الدکتور الشیخ عبد الرحمان السدیس حفظہ اللہ تعالیٰ ان دنوں بھارت کے دورے پر ہیں۔ انہوں نے بہت سے دیگر پروگراموں میں شریک ہونے کے علاوہ جمعۃ المبارک کا خطبہ دارالعلوم دیوبند کی جامع مسجد الرشید میں دیا اور دہلی میں جمعیۃ علماء ہند کی کانفرنس سے خطاب کیا۔ شیخ السدیس کو حرمین شریفین کا امام محترم ہونے کے ساتھ ساتھ قرآن کریم کی پرسوز تلاوت کے حوالے سے بھی پورے عالم اسلام میں محبوبیت کا مقام حاصل ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حرمین شریفین سے دارالعلوم دیوبند تک

۳۱ مارچ ۲۰۱۱ء

تحفظِ ختم نبوت کی جدوجہد اور ’’احتسابِ قادیانیت‘‘

گزشتہ روز عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی راہنما مولانا اللہ وسایا نے جمعیۃ علماء اسلام (ف) پنجاب کے امیر مولانا رشید احمد لدھیانوی اور عالمی مجلس کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات مولانا عزیز الرحمان ثانی کے ہمراہ غریب خانے پر قدم رنجہ فرمایا۔ وہ ان دنوں ۱۵ دسمبر کو اسلام آباد میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی آل پارٹیز تحفظ ناموس رسالت کانفرنس کے سلسلہ میں رابطہ مہم پر ہیں اور مختلف دینی جماعتوں کے راہنماؤں کے ساتھ ملاقاتیں کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر تحفظِ ختم نبوت کی جدوجہد اور ’’احتسابِ قادیانیت‘‘

۱۳ دسمبر ۲۰۱۰ء

مولانا طارق جمیل ’’نائن زیرو‘‘ میں

مولانا طارق جمیل کو نائن زیرو میں دیکھ کر بہت خوشی ہوئی۔ میں آج صبح (۳۱ جولائی) نیویارک کے علاقہ لانگ آئی لینڈ میں مولانا عبد الرزاق عزیز کے ہاں تھا، وہ ایک عرصہ کراچی میں رہے ہیں، شیرشاہ کی جامع مسجد طور میں خطابت کے فرائض سرانجام دیتے رہے ہیں اور جمعیۃ علماء اسلام کے سرگرم راہنماؤں میں ان کا شمار ہوتا تھا۔ ناشتے کے بعد برونکس روانگی سے قبل انہوں نے مجھے کہا کہ جانے سے قبل ایک نظر خبروں پر ڈال لیتے ہیں۔ خبروں میں دیکھا کہ مولانا طارق جمیل ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو پہنچے ہوئے ہیں اور کراچی والوں کو محبت کا پیغام دے رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا طارق جمیل ’’نائن زیرو‘‘ میں

۲ اگست ۲۰۱۱ء

قادیانی گروہ کی عالمی سرگرمیاں اور ہمارا مطلوبہ لائحہ عمل

امریکہ میں قادیانی گروہ کی سرگرمیوں کے بارے میں گزشتہ کالم میں مختصرًا کچھ عرض کر چکا ہوں مگر اس پر قدرے تفصیل کے ساتھ غور و فکر اور سوچ بچار کی ضرورت ہے، اس لیے کہ نہ صرف امریکہ بلکہ دنیا کے مختلف ممالک میں قادیانی سرگرمیوں کا دائرہ وسعت پکڑتا جا رہا ہے حتیٰ کہ آبادی کے لحاظ سے دنیا کے سب سے بڑے مسلمان ملک انڈونیشیا میں بھی ان دنوں مسلم قادیانی کشمکش زوروں پر ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قادیانی گروہ کی عالمی سرگرمیاں اور ہمارا مطلوبہ لائحہ عمل

۱۷ اگست ۲۰۱۱ء

جہلم اور راولپنڈی کا تعزیتی سفر

گزشتہ روز (۶ جنوری) راولپنڈی ڈویژن کے ایک تعزیتی سفر کا اتفاق ہوگیا، حضرت مولانا عبد اللطیف جہلمی قدس اللہ سرہ العزیز کے برادر خورد اور میرے پرانے بزرگ دوست مولانا حکیم مختار احمد الحسینیؒ کا پچھلے دنوں انتقال ہوگیا ہے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وہ ایک دور میں متحرک فکری اور نظریاتی راہنماؤں میں شمار ہوتے تھے اور ان کے ساتھ میری پرجوش رفاقت رہی ہے۔ انہوں نے کچھ عرصہ جامعہ نصرۃ العلوم میں بھی تعلیم حاصل کی ہے۔ ان کا نام آج کے نوجوان علماء اور کارکنوں کے لیے اجنبی ہوگا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جہلم اور راولپنڈی کا تعزیتی سفر

۱۰ جنوری ۲۰۱۸ء

جمعیۃ علماء اسلام کی رکن سازی کا خصوصی عشرہ: چند گزارشات

رکن سازی کا کام شروع ہوئے چار ماہ کے قریب عرصہ ہو چکا ہے اور گزشتہ سالوں کی بہ نسبت اس دفعہ رکن سازی کی رفتار اور اس سلسلہ میں ہونے والا کام بہت بہتر ہے۔ البتہ قومی سیاست میں قائد جمعیۃ مولانا مفتی محمود کے روشن کردار، تحریک نظامِ مصطفٰیؐ میں جمعیۃ علماء اسلام کے راہنماؤں اور کارکنوں کی بے مثال قربانیوں اور سیاسی امور میں جمعیۃ علماء اسلام کے متوازن اور متحرک کردار کے باعث جمعیۃ کے سیاسی وقار اور مقبولیت میں جو اضافہ ہوا ہے اس کے پیش نظر رکن سازی کے سلسلہ میں ہونے والا کام اور پیش رفت قطعاً غیر تسلی بخش ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جمعیۃ علماء اسلام کی رکن سازی کا خصوصی عشرہ: چند گزارشات

۲ مارچ ۱۹۷۹ء

آسیہ مسیح کیس: سیکولر لابی کی دیدہ دلیری اور دینی قوتوں کا امتحان

آسیہ مسیح کا کیس توہینِ رسالت کے سابقہ درجنوں کیسوں سے مختلف نہیں ہے اور نہ ہی اس پر سیکولر حلقوں کا ردعمل اور ان کی سرگرمیاں غیر متوقع ہیں۔ البتہ دینی حلقوں کی بیداری اور ان کے ردعمل کی کیفیت بہرحال پہلے جیسی نہیں ہے اور اہل دین کے لیے اصل لمحۂ فکریہ یہی ہے۔ ایک مسیحی خاتون نے مبینہ طور پر توہینِ رسالتؐ کا ارتکاب کیا، اس کے خلاف مقدمہ درج ہوا، عدالت میں کیس چلا اور تمام ضروری عدالتی مراحل سے گزرنے کے بعد مجاز عدالت نے اسے موت کی سزا سنا دی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر آسیہ مسیح کیس: سیکولر لابی کی دیدہ دلیری اور دینی قوتوں کا امتحان

۲۶ نومبر ۲۰۱۰ء

پارٹی سسٹم کی بنیاد پر الیکشن کی تجویز

صدرِ پاکستان جنرل محمد ضیاء الحق نے ایک غیر ملکی جریدہ ’’امپیکٹ انٹرنیشنل‘‘ کو دیے گئے ایک حالیہ انٹرویو میں افراد کی بجائے جماعتوں کو ووٹ دینے کے سلسلہ میں اظہارِ خیال کیا ہے اور کہا ہے کہ ’’وہ اس نظام کے حق میں ہیں لیکن جب انہوں نے یہ تجویز سیاستدانوں کو پیش کی تو ان کے پاؤں کے نیچے سے زمین کھسکنے لگی۔‘‘ ہمارے خیال میں اس تجویز پر سیاستدانوں کے پاؤں کے نیچے سے زمین کھسکنے کی کوئی وجہ نہیں ہے کیونکہ خود سیاستدان بارہا پارٹی سسٹم کی بنیاد پر انتخابات کرانے کا مطالبہ کر چکے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر پارٹی سسٹم کی بنیاد پر الیکشن کی تجویز

۲۶ جنوری ۱۹۷۹ء

اسلامی نظام کو مؤثر بنانے کے لیے مل جل کر کام کرنا ہوگا

جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کی رکن سازی ملک بھر میں چار ماہ سے جاری ہے جو پروگرام کے مطابق آخر مارچ تک جاری رہے گی اور اس کے بعد عہدہ داروں کے مرحلہ وار انتخابات کا سلسلہ شروع کیا جائے گا۔ گزشتہ ادوار کی بہ نسبت اس دفعہ جمعیۃ کی رکن سازی میں عوام کی دلچسپی بہت زیادہ اور حوصلہ افزا ہے جس کی سب سے بڑی وجہ قومی سیاست میں قائد جمعیۃ مولانا مفتی محمود کا کردار، تحریک نظام مصطفٰیؐ میں جمعیۃ علماء اسلام کے راہنماؤں اور کارکنوں کی قربانیاں، اور جمعیۃ علماء اسلام کی متوازن اور متحرک سیاسی جدوجہد ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اسلامی نظام کو مؤثر بنانے کے لیے مل جل کر کام کرنا ہوگا

۲ مارچ ۱۹۷۹ء

تحریک ختم نبوت رابطہ کمیٹی کا اجلاس

متحدہ تحریک ختم نبوت رابطہ کمیٹی کے زیراہتمام ۸ جون کو دفتر احرار لاہور میں پیر جی سید عطاء المہیمن شاہ بخاری کی زیرصدارت مختلف مکاتب فکر کے سرکردہ علماء کرام اور راہنماؤں کا مشترکہ اجلاس ہوا جو نمائندگی کے لحاظ سے بھرپور تھا اور اس میں لاہور میں قادیانی مراکز پر ہونے والے مسلح حملوں سے پیدا شدہ صورتحال کے ساتھ ساتھ میڈیا میں قادیانی مسئلہ کے بارے میں بحث و مباحثہ اور میاں نواز شریف کے حالیہ بیان سمیت مختلف امور کا جائزہ لیا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر تحریک ختم نبوت رابطہ کمیٹی کا اجلاس

۱۰ جون ۲۰۱۰ء

مولانا قاضی بشیر احمد کشمیریؒ، مولانا قاضی عبد الحلیم کلاچویؒ اور قاری سعید احمدؒ

حضرت مولانا خواجہ خان محمدؒ کی وفات کے بعد ایک محفل میں ذکر چل پڑا کہ اب ہمارے ملک میں اس کھیپ کے بزرگوں میں سے کون کون موجود ہیں؟ میں نے عرض کیا کہ میری معلومات کے مطابق مولانا محمد یوسف خان آف پلندری آزاد کشمیر اور حضرت مولانا قاضی عبد الکریم کلاچوی اس کھیپ کے آخری دو بزرگ ہیں جو ہمارے لیے برکات اور دعاؤں کا سہارا ہیں۔ ان کے ساتھ حضرت مولانا سلیم اللہ خان، حضرت مولانا عبید اللہ اشرفی، حضرت مولانا ڈاکٹر عبد الرزاق سکندر، حضرت مولانا صوفی محمد سرور اور حضرت مولانا قاضی عبد اللطیف آف کلاچی کو بھی میں اسی کھیپ کا حصہ سمجھتا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا قاضی بشیر احمد کشمیریؒ، مولانا قاضی عبد الحلیم کلاچویؒ اور قاری سعید احمدؒ

۲۲ مئی ۲۰۱۰ء

مولانا عبد القیوم حقانی اور جامعہ ابوہریرہؓ

بعض کام اس قدر اچانک اور غیر متوقع طور پر ہو جاتے ہیں کہ یوں محسوس ہونے لگتا ہے کہ اس میں ہمارے ارادے کا کوئی دخل نہیں تھا اور کسی نے طے شدہ منصوبے کے تحت وہ کام کروا دیا ہے۔ ۲۱ اکتوبر کو حسن ابدال میں پاکستان شریعت کونسل کی مرکزی مجلسِ شوریٰ کا اجلاس تھا، میرا پروگرام تھا کہ ۲۰ اکتوبر کو رات راولپنڈی یا ٹیکسلا میں گزاروں گا اور ۲۱ اکتوبر کو صبح اجلاس کے لیے مرکز حافظ الحدیث حسن ابدال پہنچ جاؤں گا۔ دو روز قبل نوشہرہ سے مولانا عبد القیوم حقانی کا فون آیا کہ آپ حسن ابدال آرہے ہیں تو رات کو ان کے مدرسے جامعہ ابوہریرہ آجائیں، صبح اکٹھے حسن ابدال چلیں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا عبد القیوم حقانی اور جامعہ ابوہریرہؓ

یکم نومبر ۲۰۱۰ء

نظامِ مصطفٰیؐ کا نفاذ اور ہماری ذمہ داریاں

کم و بیش دو صدیوں پر محیط مسلسل جدوجہد اور ملتِ اسلامیہ کی پشت ہا پشت کی طویل قربانیوں کے بعد جب امسال ۱۲ ربیع الاول کو صدرِ پاکستان جنرل محمد ضیاء الحق نے ملک میں چند اسلامی قوانین کے نفاذ کا اعلان کیا تو ہر محبِ وطن شہری نے اطمینان کا سانس لیا کہ بدیر سہی لیکن بالآخر ہم نے اپنا رخ صحیح منزل کی طرف کر لیا ہے، اب اگر ہم سست روی سے چلے تب بھی کم از کم یہ اطمینان تو ہوگا کہ قوم کی اجتماعی گاڑی کا رخ اس کی اصل منزل کی طرف ہے اور اسے دوسری طرف پھیرا نہیں جا سکتا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر نظامِ مصطفٰیؐ کا نفاذ اور ہماری ذمہ داریاں

۲۸ جولائی ۱۹۷۹ء

دورِ حاضر کی اہم دینی ضروریات: ایک بیٹی کا خط

میں آپ کا کالم روزنامہ اسلام میں بہت شوق سے پڑھتی ہوں، اللہ پاک نے آپ کو وسیع الظرفی، حقیقت پسندی، جدید حالات کا فہم، مغربی ذہنیت کا ادراک، قدیم مسائل کو جدید حالات پر منطبق کرنا، بے تکلف قوتِ تحریر، طبعیت میں اکابر والی سادگی، سلف صالحین کے اصل مزاج کو باقی رکھتے ہوئے جدید حالات کے تقاضوں کو پورا کرنے کی لگن، جدید طبقات سے قریبی روابط، مغربی دنیا کو بار بار قریب سے دیکھنے اور سمجھنے کے مواقع، معاصر اہل علم کا اعتماد، تفسیرِ قرآن و علومِ حدیث سے طبعی مناسبت عطا فرمائی ہے۔ اللہم زد فزد ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دورِ حاضر کی اہم دینی ضروریات: ایک بیٹی کا خط

۱۵ مئی ۲۰۱۰ء

کچھ نسبتوں کے بارے میں

ان دنوں ملک کے بہت سے دیگر دینی مدارس کی طرح جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں بھی ششماہی امتحان کی تعطیلات ہیں۔ میرا معمول سالہا سال سے یہ تعطیلات برطانیہ میں گزارنے کا رہا ہے لیکن اس بار ویزا کے حصول میں تاخیر کے باعث یہ سفر نہ ہو سکا اور میں اس وقت کراچی میں بیٹھا ہوں۔ اتوار کا دن اسلام آباد میں گزرا، اڈل ٹاؤن ہمک میں ہمارے ایک عزیز فاضل مولانا سید علی محی الدین اپنے بزرگوں کی دینی و روحانی میراث سنبھالے بیٹھے ہیں اور ذوق و حوصلہ کے ساتھ خدمات سرانجام دے رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر کچھ نسبتوں کے بارے میں

۲۲ اپریل ۲۰۱۰ء

Pages