دینی مدارس اور ورلڈ سولائزیشن وار

پچھلے دنوں پاکستان کے مختلف شہروں میں دینی مدارس کے سالانہ اجتماعات سے خطاب کا موقع ملا اور عام طور پر دینی مدارس کے جداگانہ تشخص اور کردار کے حوالے سے عام ذہنوں میں پائے جانے والے شکوک و شبہات اور سوالات کا جائزہ لیا گیا۔ ان میں جامعہ عبد اللہ بن مسعودؓ خانپور، جامعہ مفتاح العلوم سرگودھا، دارالعلوم ربانیہ ٹوبہ ٹیک سنگھ، مدرسہ اسلامیہ محمودیہ سرگودھا، جامعہ رشیدیہ ساہیوال، جامعہ عثمانیہ شورکوٹ، مکمل تحریر دینی مدارس اور ورلڈ سولائزیشن وار

۱۵ اکتوبر ۲۰۰۲ء

قرآن کریم کا ایجنڈا اور سماج کی مزاحمت

قرآن کریم کے نزول کا بڑا مقصد انسانی سماج کی تبدیلی تھا اور اس نے تئیس سال کے مختصر سے عرصہ میں جزیرۃ العرب کے سماج کو یکسر تبدیل کر کے دنیا کو آسمانی تعلیمات و ہدایات پر مبنی ایک مثالی معاشرہ کا عملی نمونہ دکھا دیا جبکہ اس معاشرتی انقلاب نے دیکھتے ہی دیکھتے دنیا کے ایک بڑے حصے کو اپنے دائرے میں سمو لیا۔ اس حوالہ سے دو پہلوؤں پر گفتگو کرنا چاہتا ہوں۔ ایک یہ کہ انسانی سماج کی تبدیلی کے اس ایجنڈے پر اس وقت کے سماج کا ردعمل کیا تھا اور دوسرا یہ کہ قرآن کریم نے انسانی معاشرہ کو کن تبدیلیوں سے روشناس کرایا؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قرآن کریم کا ایجنڈا اور سماج کی مزاحمت

۲۲ مئی ۲۰۱۸ء

عالم اسلام پر طاری سکوتِ مرگ اور بائیں بازو کی بیداری

عراق پر امریکہ کے ممکنہ حملے کے حوالہ سے عالم اسلام پر جو ’’سکوتِ مرگ‘‘ طاری ہے اس کے احساس میں گزشتہ ہفتے دنیا کے سینکڑوں شہروں میں ہونے والے بھرپور مظاہروں نے اضافہ کر دیا ہے اور ہر باشعور مسلمان یہ سوچ رہا ہے کہ یہ کام جو ہمارے کرنے کا تھا وہ بھی کافروں نے ہی کر دکھایا ہے۔ محترم قاضی حسین احمد نے یہ فرما کر دل کو تسلی دینے کی کوشش کی ہے کہ یہ مظاہرے مسلمانوں کے ردعمل کی سختی کو کم کرنے کے لیے بھی ہو سکتے ہیں۔ مگر ہم پورا زور لگانے کے باوجود اپنے دل و دماغ کو ان کے ارشاد گرامی کے ساتھ اتفاق پر آمادہ نہیں کر سکے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر عالم اسلام پر طاری سکوتِ مرگ اور بائیں بازو کی بیداری

۲۵ فروری ۲۰۰۳ء

عام انتخابات میں متحدہ مجلس عمل کی کامیابی

عام انتخابات کے نتائج نے ایک دنیا کو حیران و ششدر کر دیا ہے اور ان کے بارے میں سب کے اندازے غلط ثابت ہوئے ہیں۔ خود میرا اندازہ یہ تھا بلکہ برطانیہ آمد کے بعد اکثر دوست مجھ سے پوچھتے رہے تو میں ان سے یہی کہتا تھا کہ متحدہ مجلس عمل بیس کے لگ بھگ سیٹیں قومی اسمبلی میں حاصل کر پائے گی، اور اگر اسمبلی میں مجلس عمل کی قیادت اسی طرح اکٹھی رہی جس طرح اس الیکشن کیمپین میں اس نے یکجہتی کا اظہار کیا ہے اور اگلے انتخابات تک یہ اتحاد قائم رہا تو مجلس عمل کے ملک گیر سطح پر الیکشن جیتنے کی توقع بھی کی جا سکتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر عام انتخابات میں متحدہ مجلس عمل کی کامیابی

۱۶ اکتوبر ۲۰۰۲ء

حالات حاضرہ اور پاکستان شریعت کونسل کا موقف

متحدہ مجلس عمل نے مینار پاکستان پارک میں پرہجوم جلسہ عام منعقد کر کے اپنی انتخابی مہم کا آغاز کیا تو میں اس میں شریک تھا بلکہ مولانا فضل الرحمان اور جناب سراج الحق کے خطابات میں نے اسٹیج پر ان کے پیچھے بیٹھ کر سنے اور اس بات پر اطمینان حاصل ہوا کہ دینی جماعتوں کے اس اتحاد کا جوش و خروش، عزم و حوصلہ اور اس کے ساتھ عوامی اعتماد کی بھرپور لہر اس کے روشن مستقبل کی غمازی کر رہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حالات حاضرہ اور پاکستان شریعت کونسل کا موقف

۱۷ مئی ۲۰۱۸ء

حضرت سعد بن ابی وقاصؓ سے منسوب آبدوز

پاک بحریہ نے ملکی وسائل سے تیار ہونے والی پہلی آبدوز سمندر میں اتار دی ہے اور دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس میں پاکستان کے سمندری دفاع کو تقویت حاصل ہوگی اور بھارت کے لیے بحری کارروائیاں کرنا اب پہلے کی طرح آسان نہیں رہے گا۔ اس آبدوز کو صحابیٔ رسول حضرت سعد بن ابی وقاصؓ سے منسوب کر کے اس کا نام ’’سعد‘‘ رکھا گیا ہے۔ حضرت سعد بن ابی وقاصؓ معروف صحابیٔ رسول ہیں، عشرہ مبشرہ میں سے ہیں، بڑے جرنیلوں میں سے ہیں، فاتح ایران ہیں اور اپنے دور کے بڑے تیر اندازوں میں ان کا شمار ہوتا تھا - - - مکمل تحریر حضرت سعد بن ابی وقاصؓ سے منسوب آبدوز

۲ ستمبر ۲۰۰۲ء

جی ایٹ کا اصل ایجنڈا

دنیا کے آٹھ بڑے ترقی یافتہ ممالک کے گروپ جی ایٹ کا سربراہی اجلاس گزشتہ روز کینیڈا میں ختم ہوگیا۔ اس اجلاس میں روس کے صدر نے بھی شرکت کی اور روس کو جی ایٹ کی رکنیت دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس میں دنیا میں دہشت گردی کے خاتمہ کے لیے بیس ارب ڈالر جبکہ غریب ترین ممالک کی امداد کے لیے ایک ارب ڈالر دینے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ جنوبی ایشیا میں کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان سے کہا گیا ہے کہ وہ ملک کے اندر دہشت گردی کے مراکز کو ختم کر کے کشمیر میں در اندازی کا سلسلہ مستقل طور پر روکنے کا اہتمام کرے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جی ایٹ کا اصل ایجنڈا

۳ جولائی ۲۰۰۲ء

سیرت نبویؐ کی روشنی میں جہاد کا مفہوم۔ چند مزید گزارشات

شیخ زائد اسلامک سنٹر پنجاب یونیورسٹی لاہور کی سالانہ سیرت کانفرنس میں ’’سیرت نبویؐ کی روشنی میں جہاد کا مفہوم‘‘ کے عنوان سے راقم الحروف کی گزارشات قارئین کی نظر سے گزر چکی ہیں۔ اس کانفرنس میں مولانا حافظ صلاح الدین یوسف، ڈاکٹر سرفراز احمد نعیمی اور دیگر علماء کرام نے بھی خطاب کیا جبکہ مہمان خصوصی اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر ایس ایم زمان تھے جنہوں نے اپنے اختتامی خطاب میں راقم الحروف کی معروضات کو سیرت النبیؐ کے صحیح رخ پر مطالعہ کی کوشش قرار دیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سیرت نبویؐ کی روشنی میں جہاد کا مفہوم۔ چند مزید گزارشات

۲۹ مئی ۲۰۰۲ء

دینی مدارس کے بارے میں حکومتی پالیسیوں کا تسلسل

صدر جنرل پرویز مشرف نے گزشتہ روز اسلام آباد میں علماء کرام کے دو گروپوں سے ملاقات کے دوران اس امر کی یقین دہانی کرائی ہے کہ حکومت دینی مدارس میں مداخلت کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی اور نہ ہی انہیں بند کیا جا رہا ہے البتہ ہم دینی مدارس کو جدید ترین نظام تعلیم کے دھارے میں شامل کرنا چاہتے ہیں جس کے لیے ضروری ہے کہ ان کے موجودہ نصاب میں تبدیلی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ غلط فہمی ہے کہ حکومت دینی مدارس کے خلاف ایکشن لے رہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دینی مدارس کے بارے میں حکومتی پالیسیوں کا تسلسل

۲ جنوری ۲۰۰۲ء

عالم اسلام کی صورتحال اور صدر جنرل پرویز مشرف کا دورۂ امریکہ

صدر جنرل پرویز مشرف ان سطور کی اشاعت تک امریکہ کے دورے پر روانہ ہو چکے ہوں گے۔ وہ صدر امریکہ جارج ڈبلیو بش کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کر رہے ہیں اور ان کا سرکاری دورہ ۱۲ فروری سے ۱۴ فروری تک ہوگا جس کے دوران وہ صدر بش سے تفصیلی مذاکرات بھی کریں گے جبکہ اس سے قبل وہ امریکہ پہنچنے کے بعد غیر سرکاری مصروفیات بھگتائیں گے۔ صدر پرویز مشرف کے اس دورہ کو عالمی حلقوں میں خاصی اہمیت دی جا رہی ہے اور امریکی سفارت کاروں نے اس بات کا عندیہ دیا ہے کہ اس موقع پر پاکستان کی امداد کا کوئی بڑا پیکیج دیا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر عالم اسلام کی صورتحال اور صدر جنرل پرویز مشرف کا دورۂ امریکہ

فروری ۲۰۰۲ء

جدید سائنسی ترقی سے محرومی اور گورنر پنجاب کا شکوہ

گورنر پنجاب لیفٹیننٹ جنرل (ر) خالد مقبول نے رمضان المبارک کے دوران لاہور کے تین دینی مراکز کا دورہ کیا اور علماء و طلبہ کے سامنے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ وہ جامعہ اشرفیہ مسلم ٹاؤن، جامعہ نظامیہ لوہاری گیٹ اور جامعہ عثمانیہ ماڈل ٹاؤن تشریف لے گئے، اساتذہ، طلبہ اور مسجد کے نمازیوں سے ملاقات کی اور ان سے مختلف امور پر بات چیت کی۔ اس سے قبل وفاقی وزیر داخلہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) معین الدین حیدر نے کراچی میں دارالعلوم کورنگی کا دورہ کیا اور اساتذہ و طلبہ سے بعض امور پر گفتگو کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جدید سائنسی ترقی سے محرومی اور گورنر پنجاب کا شکوہ

۲۸ دسمبر ۲۰۰۱ء

ترکی، سیکولرازم اور یورپی یونین

ایک قومی روزنامہ نے لاہور کی اشاعت میں ۲۳ نومبر کو انقرہ سے اے ایف پی کے حوالہ سے یہ خبر شائع کی ہے کہ ترک پارلیمنٹ نے ایک بل منظور کیا ہے جس کی رو سے مردوں کی عورتوں پر بالادستی ختم کرتے ہوئے عورتوں کو زیادہ حقوق دے دیے گئے ہیں۔ خبر کے مطابق ان اقدامات کا مقصد یورپی یونین کا رکن بننے کی ضرورت پوری کرنا ہے۔ خانگی قوانین میں اہم ترمیم یہ کی گئی ہے کہ: خاندان کا سربراہ خاوند نہیں ہوگا لہٰذا عائلی معاملات میں دونوں کی حیثیت برابر ہوگی، شادی کے دوران کمائے گئے تمام اثاثے میاں بیوی کی مشترکہ ملکیت ہوں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ترکی، سیکولرازم اور یورپی یونین

۶ دسمبر ۲۰۰۱ء

کیا پاکستان کو ٹوٹ جانا چاہیے؟

جگہ اور دوست کا نام تو نہیں بتا سکوں گا مگر یہ زیادہ دیر کی بات نہیں ہے کہ دوران سفر کسی جگہ ایک دوست سے ملاقات ہوئی تو اس نے سلام و جواب اور پرسش احوال کے بعد پہلا سوال یہ کیا کہ سنائیے مولانا! پاکستان کب ٹوٹ رہا ہے؟ میں نے حیرانی سے پوچھا کہ آپ کو اس سے کیا دلچسپی ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہمارے بزرگوں نے اس کی مخالفت کی تھی اس لیے یہ زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتا۔ میں نے عرض کیا کہ میرے حضور اس ملک کی خیر منائیے اور اس کا بھلا سوچیے کہ یہ جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کی آخری پناہ گاہ ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر کیا پاکستان کو ٹوٹ جانا چاہیے؟

۲ ستمبر ۲۰۰۱ء

’’الرشید ٹرسٹ‘‘ کا جرأت مندانہ فیصلہ

ایک قومی روزنامہ نے لندن کے اخبار ٹیلی گراف کے حوالہ سے یہ رپورٹ شائع کی ہے کہ برطانوی وزیرخارجہ جیک سٹرا نے پاکستان کے وزیر خارجہ جناب عبد الستار سے اپنی حالیہ گفتگو میں خبردار کیا ہے کہ پاکستان طالبان کے ساتھ فاصلہ قائم رکھے ورنہ وہ عالمی برادری سے دور ہوتا چلا جائے گا۔ یہ انتباہ ایسے موقع پر کیا گیا ہے جب کہ اقوام متحدہ نے کابل میں بے سہارا افغان عوام کو خوراک مہیا کرنے کے لیے قائم کی گئی ۱۵۵ بیکریاں (تنور) بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ’’الرشید ٹرسٹ‘‘ کا جرأت مندانہ فیصلہ

۲۲ جون ۲۰۰۱ء

سودی نظام کے خاتمہ کی جدوجہد ۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ اور یونائیٹڈ بینک کی اپیل

گزشتہ اتوار کو جامعہ انوار القرآن کراچی میں پاکستان شریعت کونسل کے زیر اہتمام منعقدہ ’’علماء کنونشن‘‘ میں شرکت کے لیے گیا تو اس موقع پر دارالعلوم کراچی کے سربراہ حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی سے غیر سودی مالیاتی نظام کے سلسلہ میں تفصیلی گفتگو کا موقع ملا۔ مفتی صاحب اس کمیشن کے واحد عالم دین رکن ہیں جو سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلہ کی روشنی میں غیر سودی مالیاتی نظام کے مسودہ کی تیاری کے لیے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے سابق گورنر جناب ایم آئی حنفی کی سربراہی میں قائم کیا گیا ہے اور جس نے مسودہ قانون مرتب کر کے حکومت کے سپرد کر دیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سودی نظام کے خاتمہ کی جدوجہد ۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ اور یونائیٹڈ بینک کی اپیل

۲۷ مئی ۲۰۰۱ء

نصابی کتابوں کی اشاعت بین الاقوامی اداروں کے سپرد کرنے کا حکومتی فیصلہ

نصابی کتابوں کی تیاری، طباعت اور تقسیم کا نظام بین الاقوامی اداروں کے سپرد کرنے کے حکومتی فیصلہ نے قومی حلقوں میں تشویش کی ایک نئی لہر پیدا کر دی ہے اور پنجاب پبلشرز اینڈ بک سیلرز ایسوسی ایشن کے عہدہ داروں نے گزشتہ دنوں لاہور میں ایک تقریب کے دوران اپنے خدشات کا اظہار کیا ہے جن پر سنجیدگی سے توجہ دینا ضروری ہے۔ ایسوسی ایشن کے صدر مسٹر زبیر سعید کے مطابق وفاقی کابینہ کی طرف سے صوبائی ٹیکسٹ بک بورڈوں کو ڈی ریگولیٹ کرنے کے احکامات صادر کر دیے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر نصابی کتابوں کی اشاعت بین الاقوامی اداروں کے سپرد کرنے کا حکومتی فیصلہ

یکم مئی ۲۰۰۱ء

جہاد کشمیر اور بعض حلقوں کے تحفظات

پشاور کی ’’خدمات دارالعلوم دیوبند کانفرنس‘‘ میں جمعیۃ علماء ہند کے سربراہ مولانا سید اسعد مدنی کی شمولیت کے حوالہ سے اخبارات میں بعض امور پر گفتگو کا سلسلہ چل نکلا ہے اور مختلف مضامین اور کالموں میں ملے جلے خیالات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ مجھے یہ بات اسی وقت کھٹک گئی تھی جب اس کانفرنس میں مولانا سید اسعد مدنی کی شرکت کا اعلان ہوا تھا اور میں نے بعض دوستوں سے اس کا اظہار بھی کر دیا تھا کہ اس سے مسائل پیدا ہوں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جہاد کشمیر اور بعض حلقوں کے تحفظات

۲۳ اپریل ۲۰۰۱ء

جناب حکمت یار کا انتخابی فارمولا

حزب اسلامی افغانستان کے سربراہ انجینئر گلبدین حکمت یار نے گزشتہ روز تہران میں پاکستانی رہنماؤں محترم قاضی حسین احمد، جناب وسیم احمد سجاد اور جناب الٰہی بخش سومرو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ امارت اسلامی افغانستان کی طالبان حکومت کے سربراہ امیر المؤمنین ملا محمد عمر اگر الیکشن میں منتخب ہو جائیں تو وہ انہیں امیر المؤمنین تسلیم کر لیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے ملا محمد عمر کو ایک خط میں فارمولا پیش کیا ہے کہ وہ اپنی سربراہی میں عبوری حکومت قائم کریں جس میں تمام گروپوں کو نمائندگی دی جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جناب حکمت یار کا انتخابی فارمولا

۳۰ اپریل ۲۰۰۱ء

گوجرانوالہ، پہلوانوں اور خوش خوراکوں کا شہر

گوجرانوالہ پہلوانوں اور خوش خوراکوں کا شہر مشہور ہے، اس شہر کے پہلوانوں نے کسی دور میں نہ صرف برصغیر میں بلکہ بین الاقوامی سطح پر اپنے فن کا لوہا منوایا ہے لیکن اب یہ بات قصہ پارینہ بن کر رہ گئی ہے اور بڑے بڑے پہلوانوں کے روایتی اکھاڑے ماضی کا حصہ بن گئے ہیں۔ اکا دکا اکھاڑوں میں اب بھی پہلوانی زور ہوتا ہے اور گوجرانوالہ کے بعض پہلوان ملکی اور بین الاقوامی دنگلوں میں شریک ہوتے ہیں مگر اس کی حیثیت اب ماضی کی یاد کو تازہ رکھنے کی ہوگئی ہے۔ البتہ خوش خوراکی کی رسم ابھی باقی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر گوجرانوالہ، پہلوانوں اور خوش خوراکوں کا شہر

۱۳ مارچ ۲۰۰۱ء

سنی و شیعہ رہنماؤں سے ایک دردمندانہ گزارش

شیخ حق نواز کی پھانسی کے بعد جھنگ، ہنگو اور شیخوپورہ میں فرقہ وارانہ تشدد کے جو المناک واقعات رونما ہوئے ہیں اور بیسیوں بے گناہ شہریوں کی افسوسناک ہلاکت پر منتج ہوئے ہیں انہوں نے اس سوال کی شدت اور سنگینی میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہےکہ آخر اس عمل کو کب اور کہاں بریک لگے گی؟ عید کے دن مجھے اپنے علاقہ کے پولیس افسران کی ایڈوائس پر اپنے تیس سال سے چلے آنے والے معمول کو بدل کر ایک متعین راستے پر پیدل عید گاہ جانے کی بجائے راستہ بدل کر اور سواری پر نماز عید پڑھانے کے لیے جانا پڑا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سنی و شیعہ رہنماؤں سے ایک دردمندانہ گزارش

۱۲ مارچ ۲۰۰۱ء

قرآن کریم کی تعلیم اور ریاستی تعلیمی نظام

اپریل کو گکھڑ میں والد گرامی حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کی مسجد میں جمعہ پڑھانے اور ان کے قائم کردہ مدرسہ معارف اسلامیہ اکادمی کے شعبہ تجوید و قراءت اور شعبہ حفظ و ناظرہ کی تعلیم مکمل کرنے والے قراء اور حفاظ کی دستار بندی کرانے کی سعادت حاصل ہوئی، اس موقع پر کی جانے والی گزارشات کا خلاصہ نذر قارئین ہے۔ بعد الحمد والصلوٰۃ۔ میں نے جو آیت کریمہ آپ کے سامنے تلاوت کی ہے اس میں اللہ رب العزت نے نسل انسانی اور امت محمدیہ علیٰ صاحبہا التحیۃ والسلام پر اپنے اس عظیم احسان کا ذکر کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قرآن کریم کی تعلیم اور ریاستی تعلیمی نظام

یکم و ۲ مئی ۲۰۱۸ء

حق نواز کی پھانسی اور مذہبی انتہا پسندی

لاہور میں ایران کے خانہ فرہنگ کے ڈائریکٹر آقائے صادق گنجی کے قتل کے جرم میں سپریم کورٹ کے فیصلہ کے مطابق جھنگ کے مذہبی کارکن حق نواز کو میانوالی جیل میں پھانسی دے دی گئی ہے اور اسے اس کی وصیت کے مطابق جامعہ محمودیہ جھنگ میں سپاہ صحابہؓ پاکستان کے بانی مولانا حق نواز شہیدؒ کے پہلو میں سپرد خاک کر دیا گیا ہے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ اس پھانسی کو رکوانے کے لیے سپاہ صحابہؓ کے راہنماؤں نے ہر ممکن کوشش کی اور بعض دیگر دینی حلقوں نے بھی اس سلسلہ میں ان سے تعاون کیا لیکن ایسی کوئی کوشش کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوئی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حق نواز کی پھانسی اور مذہبی انتہا پسندی

۶ مارچ ۲۰۰۱ء

درسگاہِ نبویؐ کا ایک طالب علم

ادارہ علوم اسلامی بھارہ کہو اسلام آباد کے منتظم مولانا فیض الرحمان عثمانی نے فون پر یہ خوش خبری سنائی کہ ان کے ادارہ کے دو طلبہ نے میٹرک کے امتحان میں اسلام آباد ثانوی تعلیمی بورڈ کے نتائج کے مطابق دوسری اور تیسری پوزیشن حاصل کی ہے تو بے حد خوشی ہوئی مگر چونکہ دوسرے روز مجھے ایک دو ضروری اجلاسوں کے لیے اسلام آباد جانا تھا اس لیے فون پر مبارکباد دینے کی بجائے اس مقصد کے لیے خود ادارہ علوم اسلامی میں حاضری کا وعدہ کر لیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر درسگاہِ نبویؐ کا ایک طالب علم

۱۶ جولائی ۲۰۰۰ء

خلیج عرب میں امریکہ کی نئی مہم

امریکہ بہادر آج کل پھر اس کوشش میں ہے کہ خلیج میں کسی بہانے عراق کو اشتعال دلا کر اس سے کوئی ایسی حرکت سرزد کرا دی جائے جس کے نتیجے میں امریکہ اور اس کے حواریوں کی افواج کو وہاں مزید کچھ عرصہ تک موجود رکھنے کی راہ ہموار کی جا سکے اور عربوں کو اس بات پر آمادہ کر لیا جائے کہ وہ خلیج میں بعض عرب ممالک کے تحفظ و دفاع کے لیے امریکی افواج کی موجودگی کی مدت کی توسیع قبول کر لیں اور اس معاہدہ کی ازسرنو تجدید کر دیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر خلیج عرب میں امریکہ کی نئی مہم

۱۰ مارچ ۲۰۰۱ء

میاں محمد شریف کے لیے ایک قابل غور نکتہ

طیارہ سازش کیس کا فیصلہ میں نے دینہ ضلع جہلم میں سنا۔ دینہ کے عالم دین مولانا محمد حسین ایک عرصہ سے انگلینڈ میں مقیم ہیں، ان کے بیٹے امین الرشید نے حرکۃ الجہاد الاسلامی کے ساتھ میدان جنگ میں شہادت پائی ہے اور انہوں نے اس کی یاد میں دینہ میں جامعہ امینیہ اسلامیہ کے نام سے دینی درسگاہ تعمیر کرنے کا پروگرام بنایا ہے۔ تین کنال جگہ میں طالبات کی دینی تعلیم کا مدرسہ قائم کیا جائے گا۔ ۶ اپریل کو اس کے سنگ بنیاد کی تقریب تھی جس میں مجھے بھی شرکت کی دعوت دی گئی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر میاں محمد شریف کے لیے ایک قابل غور نکتہ

۱۱ اپریل ۲۰۰۰ء

مذہب اور ریاست: مغربی اور مسلم تاریخ کے تین بنیادی فرق

محترمہ بے نظیر بھٹو نے گزشتہ دنوں آکسفورڈ یونیورسٹی میں ایک مباحثہ میں مسلمان مقرر کے طور پر خطاب کرتے ہوئے جو کچھ کہا ہے وہ اگرچہ ان کی طرف سے کوئی نئی بات نہیں اور اس سے قبل بھی وہ متعدد مواقع پر ’’نیو سوشل کنٹریکٹ‘‘ کے عنوان سے یہ سب کچھ کہہ چکی ہیں لیکن اسلام اور مغرب کے درمیان روز افزوں اور تیزی سے بڑھتی ہوئی کشمکش کے حالیہ تناظر میں اس کی اہمیت پہلے سے بڑھ گئی ہے۔ مباحثہ کا عنوان تھا کہ ’’اس ایوان کی رائے میں اسلام اور مغرب کے درمیان بقائے باہم ممکن نہیں‘‘ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مذہب اور ریاست: مغربی اور مسلم تاریخ کے تین بنیادی فرق

۲۹ اپریل ۲۰۰۰ء

جنرل پرویز مشرف اور ان کے وزراء

چیف ایگزیکٹو جنرل پرویز مشرف نے گزشتہ دنوں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ آئین کی اسلامی دفعات کو ختم نہیں کیا جا رہا اور توہین رسالتؐ کی سزا کے قانون میں بھی کوئی ترمیم نہیں کی جا رہی۔ جبکہ دینی جماعتوں نے پشاور میں مولانا شاہ احمد نورانی کی زیر صدارت منعقد ہونے والے سربراہی اجلاس میں حکومت سے ایک بار پھر مطالبہ کیا ہے کہ آئین کی اسلامی دفعات کو عبوری آئین میں شامل کرنے کے ساتھ ساتھ وفاقی شرعی عدالت کے فیصلوں پر عملدرآمد ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جنرل پرویز مشرف اور ان کے وزراء

۲ جون ۲۰۰۰ء

مولانا فضل الرحمان کی گوجرانوالہ آمد

گزشتہ جمعۃ المبارک کو جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمان اور پیر طریقت حضرت مولانا حافظ ناصر الدین خاکوانی گوجرانوالہ تشریف لائے اور جامعہ نصرۃ العلوم کی مسجد نور میں خطبۂ جمعہ ارشاد فرمایا۔ اس موقع پر جامعہ نصرۃ العلوم کے دورہ حدیث، شعبہ تجوید اور درجہ حفظ کے فضلاء کی دستار بندی کا سالانہ پروگرام تھا، دونوں حضرات نے جمعۃ المبارک کے اجتماع سے خطاب کیا اور فضلاء کی دستار بندی کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا فضل الرحمان کی گوجرانوالہ آمد

۲۷ اپریل ۲۰۱۸ء

امریکی نائب وزیر خارجہ کا دورۂ پاکستان

جنوبی ایشیا کے لیے امریکہ کی نائب وزیرخارجہ محترمہ کرسٹینا روکا ان دنوں جنوبی ایشیا کے دورے پر ہیں اور جس وقت یہ سطور تحریر کی جا رہی ہیں وہ اسلام آباد میں پاکستانی حکام سے مذاکرات میں مصروف ہیں۔ جبکہ امارت اسلامی افغانستان کے سفیر محترم ملا عبد السلام ضعیف سے بھی ان کی ملاقات ہونے والی ہے۔ اس منصب پر فائز ہونے کے بعد کرسٹینا روکا کا یہ پہلا دورۂ پاکستان ہے اور اخباری اطلاعات کے مطابق ان کے ایجنڈے میں (۱) پاکستان میں جمہوریت کی بحالی، بنیاد پرستی اور دہشت گردی کی روک تھام ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر امریکی نائب وزیر خارجہ کا دورۂ پاکستان

اگست ۲۰۰۱ء

مسئلہ کشمیر: تاریخی پس منظر، موجودہ صورتحال اور صدر مشرف کا دورۂ بھارت

صدارت کا منصب سنبھالنے کے بعد جنرل پرویز مشرف ماہِ رواں کے دوران بھارت کے دورے پر جا رہے ہیں جہاں وہ انڈیا کے وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی سے پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازعات اور تعلقات پر بات چیت کریں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ گفتگو میں سرفہرست کشمیر کا مسئلہ ہوگا اور انہیں توقع ہے کہ وہ اس مسئلہ کا کوئی قابل قبول حل تلاش کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مسئلہ کشمیر: تاریخی پس منظر، موجودہ صورتحال اور صدر مشرف کا دورۂ بھارت

جولائی ۲۰۰۱ء

Pages