نفاذ اسلام

نفاذ اسلام کی جدوجہد اور اسلامی نظریاتی کونسل کے مسودات

میں نے عرض کیا کہ نفاذ شریعت کے حوالہ سے پاکستان کے علماء کرام اور دینی حلقوں کا ہوم ورک اور فائل ورک اس قدر مکمل اور جامع ہے کہ دنیا کے کسی بھی حصہ میں نفاذ اسلام کے لیے پیش رفت ہو تو ہمارا یہ ہوم ورک اس کے لیے بنیادی اور اصولی راہنمائی فراہم کر سکتا ہے۔ حتیٰ کہ طالبان کے دور حکومت میں مجھے قندھار جانے کا اتفاق ہوا تو میں نے ان کے ذمہ داران کے سامنے تجویز رکھی کہ وہ اس سلسلہ میں پاکستان میں اب تک ہونے والے ہوم ورک سے استفادہ کریں اور اسے سامنے رکھ کر افغانستان کے ماحول اور ضروریات کے دائرے میں اسلامائزیشن کی طرف پیش رفت کریں ۔ ۔ ۔

۸ نومبر ۲۰۱۶ء

نفاذ شریعت کے لیے علماء اور وکلاء کی مشترکہ جدوجہد کی ضرورت

زمینی حقیقت یہ ہے کہ مولوی دینی علوم اور شریعت کے قوانین کا علم تو رکھتا ہے مگر مروجہ قوانین اور قانونی نظام کا علم اس کے پاس نہیں ہے۔ جبکہ وکیل مروجہ قوانین اور قانونی نظام کا علم و تجربہ تو رکھتا ہے مگر شریعت کے قوانین و احکام اس کے علم کے دائرہ میں شامل نہیں ہیں۔ اس لیے یہ ضروری ہوگیا تھا کہ مولوی اور وکیل دونوں مل کر اس ذمہ داری کو قبول کریں اور اس کے لیے کام کریں لیکن ایسا نہیں ہوا۔ جس کی وجہ سے ملک میں دستور اور قانون و شریعت میں سے کسی کی حکمرانی ابھی تک عملاً قائم نہیں ہو سکی ۔ ۔ ۔

۸ مئی ۲۰۱۶ء

دستور پاکستان کی اسلامی بنیادیں

جنوری 1953ء میں انہی اکابر علماء کرام کا اجلاس دوبارہ کراچی میں ہوا تھا اور اس میں تمام مکاتب فکر کے اکابر علماء کرام نے مجلس دستور ساز کے تجویز کردہ بنیادی اصولوں پر تبصرہ کرتے ہوئے ان کے بارے میں متفقہ سفارشات پیش کی تھیں۔ یہ سفارشات شاید دوبارہ منظر عام پر نہیں آسکیں۔ یہ دستاویز پاکستان کی دستور سازی کی تاریخ میں انتہائی اہمیت کی حامل ہے اور ہم اسے اسلامی نظریاتی کونسل کے سیکرٹری ڈاکٹر حافظ اکرام الحق کے شکریہ کے ساتھ قارئین کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔

۲۰ جون ۲۰۱۵ء

نفاذ شریعت کی جدوجہد اور حاجی محمد بوستان کا مکتوب

طالبان کے ساتھ مذاکرات کی جو فضا بن رہی ہے اس نے اسلام، ملک اور امن کے بہی خواہوں کے دلوں میں امید کی ایک نئی کرن روشن کر دی ہے، وزیر اعظم پاکستان اور تحریک طالبان کی طرف سے مذاکراتی ٹیموں کی نامزدگی دونوں فریقوں کی سنجیدگی کی غمازی کرتی ہے۔ خصوصًا طالبان کی طرف سے ایک متوازن گروپ کے اعلان نے خوشگوار ماحول کی توقع پیدا کر دی ہے جس پر دونوں فریق مبارک باد اور شکریہ کے مستحق ہیں۔ ہم ان مذاکرات میں مثبت پیش رفت اور ان کی کامیابی کے لیے بارگاہ ایزدی میں دعا گو ہیں ۔ ۔ ۔

۵ فروری ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

نفاذ اسلام کے لیے مسلح جدوجہد کا راستہ

دستور پاکستان کے بارے میں یہ کہنا کہ یہ شریعت اسلامیہ سے متصادم ہے، دستور پاکستان سے ناواقفیت کی علامت ہے۔ اس لیے کہ دستور پاکستان کی بنیاد عوام کی حاکمیت اعلیٰ کے مغربی جمہوری تصور پر نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی حاکمیت اعلیٰ کے اسلامی تصور پر ہے جس پر دستور کی بہت سی دفعات شاہد و ناطق ہیں۔ دستور پر عمل نہ ہونا یا اس بارے میں رولنگ کلاس کی دوغلی پالیسی ضرور ایک اہم مسئلہ ہے لیکن اس سے دستور کی اسلامی حیثیت پر کوئی اثر نہیں پڑتا ۔ ۔ ۔

نومبر ۲۰۱۳ء

انتخابی سیاست اور نفاذ اسلام

نفاذ اسلام کے لیے بین الاقوامی اور ملکی اسٹیبلیشمنٹ کے منافقانہ کردار اور دوغلے رویے کے خلاف شدید عوامی مزاحمت درکار ہے۔ البتہ یہ مزاحمت اسلحہ اور ہتھیار کی بجائے اسٹریٹ پاور، سول سوسائٹی، پر امن عوامی تحریک، اور منظم احتجاجی قوت کے ذریعہ ہونی چاہیے۔ اس سے ہٹ کر صرف انتخابات اور نارمل سیاسی جدوجہد پر اکتفاء کرتے چلے جانا محض خوش فہمی بلکہ خود فریبی کہلائے گا اور اس فریب کے دائرے سے ہماری دینی جماعتیں جس قدر جلد باہر نکل آئیں وہ ان کے لیے اور ملک و قوم کے لیے بہتر ہوگا ۔ ۔ ۔

۱۶ اکتوبر ۲۰۱۳ء

نفاذ اسلام کے سلسلے میں فکری کنفیوژن اور اعتدال کی راہ

ڈاکٹر محمد الظواہری نے ایک ہی سانس میں اتنی باتیں کہہ دی ہیں کہ ان سب کو ایک دوسرے سے الگ کرنا اور ہر ایک پر تبصرہ کرنا مشکل سا ہو گیا ہے، لیکن اس سے اتنی بات ضرور واضح ہو جاتی ہے کہ نفاذ اسلام، جہاد اور جمہوریت کے حوالے سے اس طرح کی کنفیوژن کم وبیش پورے عالم اسلام میں یکساں طور پر پائی جاتی ہے او رنفاذ اسلام کے خواہاں دینی حلقے ہر مسلم ملک میں اسی قسم کی ذہنی وفکری کشمکش سے دوچار ہیں جو ڈاکٹر محمد الظواہری کے مذکورہ بالا بیان کے بین السطور جھلک رہی ہے ۔ ۔ ۔

دسمبر ۲۰۱۲ء

نفاذ اسلام کی تحریکوں کا طریق کار

مسلم ممالک میں نفاذِ اسلام کی تحریکوں کو ایک عرصے سے اس صورت حال کا سامنا ہے کہ جو تحریکیں عسکری انداز میں ہتھیار اٹھا کر نفاذِ شریعت کا پروگرام رکھتی ہیں، انہیں نہ صرف اپنے ملک کی فوجی قوت کا سامنا ہے بلکہ عالمی سطح پر انہیں دہشت گرد قرار دے کر ان کے خلاف کردار کشی کی مہم چلائی جاتی ہے اور ایک طرح سے پوری دنیا ان کے خلاف یک آواز ہو جاتی ہے۔ جبکہ دوسری طرف وہ تحریکیں ہیں جو سیاسی انداز میں نفاذِ اسلام کے مقصد کی طرف آگے بڑھتی ہیں، جمہوری راستہ اختیار کرتی ہیں، رائے عامہ اور ووٹ کو ذریعہ بناتی ہیں ۔ ۔ ۔

اگست ۲۰۱۲ء

پاکستان میں نفاذ شریعت کی متفقہ دستاویزات

نفاذ اسلام کی دستوری جدوجہد کے سلسلے میں 1947ء میں قرارداد مقاصد منظور کی گئی۔ 1951ء میں تمام مسالک کے علماء نے کراچی میں جمع ہو کر متفقہ طور پر 22 دستوری نکات مرتب کیے۔ اور 24 ستمبر 2011ء کو ’’ملی مجلس شرعی پاکستان‘‘ کے پلیٹ فارم پر تمام مذہبی و سیاسی جماعتوں کے سرکردہ قائدین نے لاہور میں اکٹھے ہو کر نفاذ شریعت کے حوالہ سے دینی حلقوں کا متفقہ موقف دہرایا اور اس موقع پر 22 نکاتی دستوری خاکے کی آج کے حالات کے تقاضوں کے مطابق تشریح و توضیح کی جسے ملی مجلس شرعی پاکستان کے نائب صدر مولانا زاہد الراشدی نے قومی پریس کے لیے جاری کیا ۔ ۔ ۔

۱۱ اکتوبر ۲۰۱۱ء

شریعت کے متعلق معذرت خواہانہ رویہ

امریکہ سمیت بہت سے سیکولر ممالک کی پالیسیوں کے تسلسل نے یہ واضح کر دیا ہے کہ اس ’’مذہبی آزادی‘‘ اور ’’ریاست کی عدم مداخلت‘‘ کے پیچھے اصل مقصد اسلامی ثقافت و روایات کے عالمی سطح پر دوبارہ اظہار کو روکنا ہے۔ اس لیے یہ عدم مداخلت دھیرے دھیرے اسلامی روایات کے خلاف مداخلت کا رخ اختیار کرتی جا رہی ہے، اور امریکہ کے صدارتی انتخابات میں ’’اسلامی شرعی قوانین‘‘ کے حوالے سے جس منفی مہم کا خدشہ ڈاکٹر طارق رمضان نے ظاہر کیا ہے، وہ بھی اسی پس منظر میں ہے ۔ ۔ ۔

اگست ۲۰۱۱ء

نفاذ شریعت کی جدوجہد: ایک علمی مباحثہ کی ضرورت

یہ سوال قیام پاکستان کے فوراً بعد اٹھ کھڑا ہوا تھا کہ اسلام کے نام پر قائم ہونے والی ایک نئی نظریاتی ریاست کا دستوری ڈھانچہ کیا ہوگا اور اس کی تشکیل میں مختلف مذہبی مکاتب فکر کے باہمی اختلافات کا کس حد تک عمل دخل ہوگا؟ چنانچہ اسی ضرورت کو سامنے رکھتے ہوئے تمام مکاتب فکر کے ۳۱ سرکردہ علماء کرام نے ۲۲ متفقہ دستوری نکات قوم کے سامنے پیش کیے تھے تاکہ پاکستان کے دستوری ڈھانچے اور قانونی نظام کے بارے میں دینی حلقوں کا متفقہ موقف سامنے آ جائے اور یہ بات بھی واضح ہو جائے کہ ۔ ۔ ۔

دسمبر ۲۰۱۰ء

مالاکنڈ ڈویژن میں شرعی نظام عدل ریگولیشن کا نفاذ

مالاکنڈ ڈویژن میں یہ مطالبہ گزشتہ دو عشروں سے جاری تھا کہ وہاں مروجہ عدالتی سسٹم کی بجائے شرعی عدالتوں کا نظام قائم کیا جائے اور اس کے لیے مولانا صوفی محمد کی سربراہی میں ’’تحریک نفاذ شریعت محمدی‘‘ نے ایک عوامی تحریک منظم کر رکھی تھی جس کے نتیجے میں ایک مرحلے میں کم وبیش تیس ہزار کے لگ بھگ مسلح افراد مینگورہ کی سڑکوں پر کئی دنوں تک دھرنا دیے بیٹھے رہے تھے اور ان کا مطالبہ یہ تھا کہ انھیں شرعی عدالتی نظام فراہم کیا جائے جہاں قاضی حضرات قرآن وسنت کے مطابق ان کے مقدمات کے فیصلے کریں ۔ ۔ ۔

مارچ ۲۰۰۹ء

مالاکنڈ ڈویژن میں شرعی عدالت

ہمیں مولانا صوفی محمد اور مولانا فضل اللہ کی تحریکوں کے طریق کار سے اتفاق نہیں ہے اور ہم اس ملک میں نفاذ اسلام کے لیے مسلح جدوجہد کے بارے میں تحفظات رکھتے ہیں۔ لیکن ہمیں ان کے اس موقف سے اتفاق ہے کہ باقی پاکستان میں اسلامی قوانین کانفاذ جب بھی عمل میں آئے، مگر ان کی سا بقہ ریاست سوات کی حدود میں جہاں پاکستان کے ساتھ اس کے الحاق سے پہلے تک شرعی قوانین اور قاضی عدالتیں موجود تھیں، کم از کم وہاں تو حسب سا بق شرعی عدالتوں کی عمل داری قائم کر دی جائے ۔ ۔ ۔

فروری ۲۰۰۸ء

شریعت بل کا نفاذ ۔ کیا سرحد اسمبلی نے جرم کیا ہے؟

سوال یہ ہے کہ سرحد حکومت نے کون سا جرم کیا ہے کہ اس کے خلاف یہ سارے عناصر صف آراہ ہو گئے ہیں۔ صوبائی اسمبلی نے شریعت بل کے نام سے جو مسودہ قانون منظور کیا ہے وہ ملک کے دستور اور صوبائی حکومت کے دائرہ اختیار کے اندر رہتے ہوئے کیا ہے۔ اس میں کسی غیر متعلقہ بات کو نہیں چھیڑا گیا اور صرف یہ کہا گیا ہے کہ جو معاملات صوبائی حکومت کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں ان سے متعلقہ قوانین کو قرآن سنت کے مطابق ڈھالا جائے گا اور ان کی تعبیر و تشریح کے لیے صوبہ کی تمام عدالتیں قرآن و سنت کی پابند ہوں گی ۔ ۔ ۔

۷ جون ۲۰۰۳ء

صوبہ سرحد میں شرعی قوانین کے نفاذ میں درپیش مشکلات

صوبہ سرحد میں متحدہ مجلس عمل کی حکومت نے اسلامی اصلاحات کے عمل کا آغاز کر دیا ہے اور وزیر اعلیٰ محمد اکرم خان درانی نے گزشتہ روز صوبائی کابینہ کے طویل اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا ہے کہ مولانا مفتی غلام الرحمان کی سربراہی میں جو نفاذ شریعت کونسل صوبہ میں نفاذ اسلام کے سلسلہ میں سفارشات اور تجاویز مرتب کرنے کے لیے قائم کی گئی تھی اس نے اپنی رپورٹ پیش کر دی ہے، اور اس رپورٹ کی روشنی میں سرحد اسمبلی میں شریعت ایکٹ لایا جا رہا ہے جس میں صوبائی دائرہ اختیار کی حدود میں تمام اسلامی قوانین اور اقدامات کو شامل کیا جائے گا ۔ ۔ ۔

۳۰ مارچ ۲۰۰۳ء

پاکستان میں نفاذ اسلام کی ترجیحات

بد قسمتی سے پاکستان بننے کے بعد سے اب تک نفاذ اسلام کے علمی و فکری تقاضوں اور عصری مسائل کے اسلامی تناظر میں تجزیہ و حل کے لیے غیر سرکاری سطح پر کوئی اجتماعی کام منظم نہیں ہو سکا۔ اگرچہ اس حوالہ سے شخصی حوالوں سے اچھا خاصا کام سامنے آیا ہے مگر شخصی فکر اور عقیدت کے دائروں میں محدود ہونے کی وجہ سے قوم کی اجتماعی زندگی میں اس کے خاطر خواہ ثمرات مرتب نہیں ہو سکے اور نفاذ اسلام کے محاذ پر علمی و فکری ہوم ورک کا خلا بدستور ارباب علم و دانش کو کھٹک رہا ہے ۔ ۔ ۔

فروری ۲۰۰۳ء

پاکستان ۔ اسلامی نظام سے دوری کیوں؟

قائد اعظم محمد علی جناح مرحوم نے مہاتما گاندھی کے نام ایک مکتوب میں لکھا تھا کہ قرآن مسلمان کا ضابطۂ حیات ہے، اس میں مذہبی اور مجلسی، دیوانی اور فوجداری، عسکری اور تعزیری، معاشی اور معاشرتی غرض کہ سب شعبوں کے احکام موجود ہیں۔ مذہبی رسوم سے لے کر روزانہ امور حیات تک، روح کی نجات سے لے کر جسم کی صحت تک، جماعت کے حقوق سے لے کر فرد کے حقوق و فرائض تک، اخلاق سے لے کر انسدادِ جرم تک، زندگی میں جزا و سزا سے لے کر عقبیٰ کی جزا و سزا تک ہر ایک فعل، قول اور حرکت پر مکمل احکام کا مجموعہ موجود ہے ۔ ۔ ۔

۱۳ اگست ۲۰۰۲ء

’’ناداں یہ سمجھتا ہے کہ اسلام ہے آزاد‘‘

اقبالؒ نے کسی دور میں مسجد و خانقاہ کی چار دیواری میں محدود رہنے والے اور معاشرتی زندگی سے لاتعلق اور بے پروا ہوجانے والے ملا کے بارے میں کہا تھا کہ ’’ملا کو جو ہے ہند میں سجدے کی اجازت، ناداں یہ سمجھتا ہے کہ اسلام ہے آزاد‘‘۔ انقلابِ زمانہ کا کرشمہ دیکھیے کہ اب ’’نادانی‘‘ کا یہ منصب ملا سے چھن کر جسٹس کی گود میں چلا گیا ہے۔ کچھ عرصہ سے ملک میں مغرب اور ہند کی ثقافتی یلغار، نئی نسل کو بے راہ روی کی دلدل میں دھکیلنے والے ثقافتی پروگراموں اور اسلام کی معاشرتی اقدار کی مسلسل پامالی کے حوالے سے ہمارے بعض جج صاحبان کے جو فیصلے سامنے آرہے ہیں ۔ ۔ ۔

۷ مئی ۲۰۰۱ء

دور غلامی کی عبوری تعبیرات اور آج کا نفاذ اسلام

دور غلامی میں بعض بنیادی مسائل میں ہمارے فقہاء نے وقتی اور عبوری طور پر ایسی صورتیں نکالی تھیں جن کا جواز بس اسی دور میں ہو سکتا تھا۔ آزادی اور اقتدار کے دور میں اسلامی احکام کی وہ صورتیں کسی طرح بھی قابل قبول نہیں ہو سکتیں۔ مثال کے طور پر نماز اور زکوٰۃ کے دو بنیادی احکام کو سامنے رکھ لیجیے جو اسلام کے احکام میں سب سے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں اور جنہیں سوسائٹی میں عملی طور پر لاگو اور نافذ کرنے کی ذمہ داری کو قرآن نے اسلامی حکومت کے فرائض میں بیان کیا ہے ۔ ۔ ۔

۲ دسمبر ۱۹۹۸ء

قبائلی علاقہ جات ۔ نفاذ شریعت کی تجربہ گاہ؟

پاکستان کی شمالی مغربی سرحد کے ساتھ ساتھ آزاد قبائل کو ایک عرصہ سے یہ منفرد حیثیت حاصل ہے کہ ان کا نظام اور کلچر باقی ملک کے لوگوں سے مختلف ہے۔ فرنگی حکمرانوں کے دور میں یہ ’’آزاد علاقہ‘‘ کہلاتا تھا اور افغانستان اور روس سے فاصلہ قائم رکھنے کے لیے ’’بفر زون‘‘ کا کام دیتا تھا۔ جبکہ قیام پاکستان کے بعد بھی اس کی اس حیثیت میں کوئی نمایاں تبدیلی نہیں آئی اور پاکستان کا حصہ ہونے کے باوجود اس خطہ کا انتظامی اور عدالتی نظام ملک کے دیگر حصوں سے جداگانہ ہے ۔ ۔ ۔

۹ نومبر ۱۹۹۸ء

مختلف شعبہ ہائے زندگی پر نفاذ اسلام کے اثرات

قرآن و سنت کو دستوری طور پر ملک کا سپریم لاء قرار دینے کی صورت میں بعض حلقوں کو یہ خدشہ ہے کہ اگر اس پر عملدرآمد ہوا تو ملک کا پورا نظام تبدیل ہو جائے گا۔ چنانچہ ایک دانشور نے اس کا اظہار ایک بڑے خطرے کی صورت میں کیا ہے جس کے جواب میں ہم نے عرض کیا کہ قرآن و سنت کی بالادستی یا شریعت کے نفاذ سے نظام ہی کی تبدیلی تو مقصود ہے۔ ورنہ اگر نظام جوں کا توں رہنا ہے تو پھر اسلام اور شریعت کی بات کرنے یا سرے سے پاکستان کے نام سے الگ ملک کے قیام ہی کی کوئی ضرورت نہیں تھی ۔ ۔ ۔

۳ نومبر ۱۹۹۸ء

شریعت بل کی دفعہ ۳ کے بارے میں علماء کرام کے ارشادات

کیا فرماتے ہیں مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی قومی اسمبلی نے ’’شریعت بل‘‘ کے عنوان سے حال ہی میں ایک مسودہ قانون کی منظوری دی ہے جس کی دفعہ ۳ میں شریعت اسلامیہ کی بالادستی کو ان الفاظ کے ساتھ تسلیم کیا گیا ہے کہ ’’شریعت یعنی اسلام کے احکام جو قرآن و سنت میں بیان کیے گئے ہیں، پاکستان کا بالادست قانون (سپریم لاء) ہوں گے بشرطیکہ سیاسی نظام اور حکومت کی موجودہ شکل متاثر نہ ہو۔‘‘ وضاحت طلب امر یہ ہے کہ کیا کسی مسلم شخص یا ادارہ کے لیے شرعی احکام کی بالادستی کو مشروط طور پر قبول کرنے کی گنجائش ہے؟ ۔ ۔ ۔

اپریل ۱۹۹۶ء

مالاکنڈ ڈویژن میں تحریک نفاذِ شریعتِ محمدیؐ ۔ مقاصد اور جدوجہد

1975ء میں دیر میں جنگلات کی رائلٹی کے حوالہ سے ایک عوامی تحریک ابھری تو اس کے مطالبات میں عدالتی نظام کی تبدیلی کا پرجوش مطالبہ بھی شامل ہوگیا۔ لوگوں کا کہنا تھا کہ ہمیں پہلے والا عدالتی نظام واپس کیا جائے جس میں مقدمات کے فیصلے جلدی اور شریعت کے مطابق ہوتے تھے۔ اس وقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو مرحوم نے اس مطالبے کو اس حد تک تو منظور کر لیا کہ پاکستان کا مروجہ عدالتی نظام مالاکنڈ ڈویژن میں معطل کر دیا مگر سابقہ عدالتی نظام بحال کرنے کی بجائے ایک نیا عدالتی نظام فاٹا ریگولیشن کے نام سے رائج کر دیا ۔ ۔ ۔

۲۲ اگست ۱۹۹۵ء

مالاکنڈ ڈویژن میں نفاذ شریعت کی جدوجہد ۔ پس منظر، نتائج اور تقاضے

سوات ہمارے آباء و اجداد کا وطن ہے جہاں سے ہمارے بڑے کسی دور میں نقل مکانی کر کے ہزارہ کے وسطی ضلع مانسہرہ کے مختلف اطراف میں آباد ہوگئے تھے۔ اسی وجہ سے ہمارا تعارف سواتی قوم کے طور پر ہوتا ہے اور عم مکرم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید خان کے نام کے ساتھ سواتی کی نسبت مستقل طور پر شامل رہتی ہے۔ مگر مجھے زندگی میں اس سے قبل کبھی سوات جانے کا اتفاق نہیں ہوا تھا۔ گزشتہ دنوں مالاکنڈ ڈویژن میں نفاذ شریعت کی جدوجہد کے حوالے سے اس خطہ کے حالات کا براہ راست جائزہ لینے کا داعیہ پیدا ہوا تو دو تین روز کے لیے سوات جانے کا پروگرام بن گیا ۔ ۔ ۔

جنوری ۱۹۹۵ء

مالاکنڈ ڈویژن میں نفاذ شریعت کی جدوجہد اور دینی جماعتوں کی سردمہری

نفاذ شریعت کا مطالبہ کرنے والوں کے طریق کار سے اختلاف کی گنجائش کے باوجود اس جدوجہد کی حمایت اور پشت پناہی ملک کی دینی قوتوں کی ذمہ داری ہے۔ اس حوالہ سے ملک کی دینی جماعتوں اور نفاذ شریعت کی دعوے دار قوتوں کا کردار قطعی طور پر غیر تسلی بخش رہا ہے، وہ ذہنی تحفظات کے خول میں بند رہیں اور اخباری بیانات کے ذریعہ اس ’’جہاد‘‘ میں شرکت کر کے مطمئن ہوگئیں کہ انہوں نے اپنا فرض ادا کر دیا ہے۔ اس طرز عمل نے عوام کی مایوسی میں اضافہ کیا ہے جو ہمارے نزدیک بہت بڑا نقصان ہے ۔ ۔ ۔

دسمبر ۱۹۹۴ء

ملکی سیاست اور مذہبی جماعتوں کا مخمصہ

صورت حال یہ ہے کہ قومی سیاست کی ریت دینی رہنماؤں کی مٹھی سے مسلسل پھسلتی جا رہی ہے اور قومی سیاست میں بے وقعت ہونے کے اثرات معاشرہ میں ان کے دینی وقار و مقام کو بھی لپیٹ میں لیتے جا رہے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس صورت حال کا ٹھنڈے دل و دماغ کے ساتھ سنجیدہ تجزیہ کیا جائے اور ان اسباب و عوامل کا سراغ لگایا جائے جو ملکی سیاست میں مذہبی جماعتوں کی ناکامی کا باعث بنے ہیں۔ تاکہ ان کی روشنی میں دینی سیاسی جماعتیں اپنے مستقبل کو حال سے بہتر بنانے کی منصوبہ بندی کر سکیں ۔ ۔ ۔

۱۵ جنوری ۱۹۹۲ء

شریعت بل پر مختلف حلقوں کے اعتراضات

پارلیمنٹ کے ایوان بالا سینٹ آف پاکستان نے ۱۳ مئی ۱۹۹۰ء کو ’’نفاذِ شریعت ایکٹ ۱۹۹۰ء‘‘ کے عنوان سے ایک نئے مسودہ قانون کی متفقہ طور پر منظوری دے دی ہے۔ یہ مسودہ قانون اسی ’’شریعت بل‘‘ کی ترمیم شدہ شکل ہے جو سینٹ کے دو معزز ارکان مولانا سمیع الحق اور مولانا قاضی عبد اللطیف نے ۱۹۸۵ء کے دوران سینٹ کے سامنے پیش کیا تھا اور اس پر ایوان کے اندر اور باہر مسلسل پانچ برس تک بحث و تمحیص کا سلسلہ جاری رہا۔ سینٹ آف پاکستان نے شریعت بل کے مسودہ پر نظر ثانی کے لیے وقتاً فوقتاً مختلف کمیٹیاں تشکیل دیں ۔ ۔ ۔

جولائی ۱۹۹۰ء

تحریک نفاذ فقہ جعفریہ ۔ نفاذ اسلام کی جدوجہد میں معاون یا رکاوٹ؟

ایرانی انقلاب کے بعد ’’تحریک نفاذ فقہ جعفریہ‘‘ کی بنیاد رکھ دی گئی اور مطالبہ یہ ہوا کہ پرسنل لاء میں نہیں بلکہ پورے قانونی نظام میں فقہ جعفریہ کو متوازی قانون کے طور پر نافذ کیا جائے۔ اس مطالبہ کے لیے تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے دو گروپ کام کر رہے ہیں اور دونوں خود کو انقلاب ایران کا نمائندہ قرار دیتے ہیں۔ دونوں گروپوں نے اس بنیاد پر سینٹ میں زیر بحث ’’شریعت بل‘‘ کی مخالفت کی۔ اور تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے میدان عمل میں آنے کا منطقی اور نظریاتی نتیجہ یہ سامنے آیا کہ شریعت اسلامیہ کی بالادستی اور نفاذ کا مطالبہ فرقہ وارانہ مطالبہ قرار دے دیا گیا ۔ ۔ ۔

فروری ۱۹۹۰ء

’’شریعت بل‘‘ اور تحریک نفاذ فقہ جعفریہ

روزنامہ جنگ لاہور ۱۹ جولائی کی اشاعت کے مطابق سینٹ کی خصوصی کمیٹی نے ’’شریعت بل‘‘ کے مسودہ کی منظوری دے دی ہے اور اب اسے چند روز میں سینٹ کے سامنے آخری منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔ یہ شریعت بل قائد جمعیۃ مولانا سمیع الحق اور مولانا قاضی عبد اللطیف نے سینٹ میں پیش کیا تھا جس پر سینٹ کی قائم کردہ خصوصی کمیٹی نے غور کیا اور مختلف مکاتب فکر کے سرکردہ راہنماؤں سے تبادلۂ خیالات کے بعد مناسب ترامیم کے ساتھ اس کے مسودہ کی منظوری دے دی ہے ۔ ۔ ۔

۲۸ جولائی ۱۹۸۹ء

یہودی لابی کا اسلام

لاہور کے روزنامہ ’’آوازِ خلق‘‘ نے ۱۴ اپریل ۱۹۸۹ء کی اشاعت میں مغربی جرمنی کے ایک جریدہ کے لیے پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن محترمہ بے نظیر بھٹو کے تفصیلی انٹرویو کا ترجمہ شائع کیا ہے جس میں انہوں نے اپنی پالیسیوں کا دوٹوک انداز میں اظہار کیا ہے۔ اس انٹرویو کے مطابق محترمہ بے نظیر بھٹو نے چور کا ہاتھ کاٹنے اور کوڑے مارنے کی سزاؤں کے بارے میں کہا ہے کہ ظالمانہ اور وحشیانہ قوانین کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں ۔ ۔ ۔

۵ مئی ۱۹۸۹ء

نفاذِ شریعت کی جدوجہد فیصلہ کن موڑ پر

متحدہ شریعت محاذ پاکستان کی مرکزی مجلس شوریٰ کا ایک اہم اجلاس ۷ جون ۱۹۸۷ء کو محاذ کے مرکزی دفتر واقع گڑھی شاہو لاہور میں صبح دس بجے منعقد ہو رہا ہے جس میں ۲۷ رمضان المبارک تک ’’شریعت بل‘‘ منظور نہ ہونے کی وجہ سے متحدہ شریعت محاذ پاکستان کے پہلے سے اعلان شدہ پروگرام کے مطابق حکومت کے خلاف ’’راست اقدام‘‘ کی تحریک کا عملی طریقِ کار طے کیا جائے گا۔ اس سے قبل ۶ جون کو جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کی مرکزی مجلس شوریٰ کا اجلاس منعقد ہو رہا ہے اور اس اجلاس میں زیربحث آنے والے امور میں بھی اہم ترین مسئلہ راست اقدام کی تحریک کا ہے ۔ ۔ ۔

۵ جون ۱۹۸۷ء

عدالتِ شرعیہ کا کنونشن

گزشتہ ہفتہ لاہور کے دینی و سیاسی حلقوں میں خاصی گہماگہمی رہی، حکیم الاسلام مولانا قاری محمد طیب صاحب دامت برکاتہم مہتمم دارالعلوم دیوبند کی تشریف آوری اور ماہنامہ الرشید کے ’’دارالعلوم دیوبند نمبر‘‘ کی افتتاحی تقریب سے اس گہماگہمی کا آغاز ہوا۔ اور جمعیۃ علماء اسلام کی مجلس شوریٰ کے دو روزہ اجلاس اور شرعی عدالتوں کے دو روزہ کنونشن کے بعد قائد جمعیۃ مولانا مفتی محمود کی پریس کانفرنس تک یہ سرگرمیاں جاری رہیں۔ جمعیۃ علماء اسلام کے زیراہتمام شرعی عدالتوں کے قاضیوں کا دو روزہ کنونشن گزشتہ روز مدرسہ قاسم العلوم شیرانوالہ گیٹ لاہور میں منعقد ہوا ۔ ۔ ۔

۹ اپریل ۱۹۷۶ء

عدالتِ شرعیہ کے لیے طریق کار

واضح رہے کہ اہل اسلام و اہل دین، جو اپنے تنازعات اور جھگڑوں کو اسلامی اور شرعی نقطۂ نظر سے طے کرانا چاہتے ہیں، ہر دو فریق اپنی مرضی سے عدالت شرعیہ کو حکم اور ثالت تسلیم کریں گے۔ اور تحریری طور پر حسب ضابطہ ثالثی نامہ شرعی عدالت میں پیش کریں گے جس میں یہ ذکر ہوگا کہ شریعت کا فیصلہ ہمیں بہرصورت منظور رہے گا۔ اس کے بعد شرعی عدالتیں ان تنازعات و مقدمات کو فیصلہ کے لیے قبول کریں گی۔ عدالت شرعیہ کا وجود صرف عامۃ المسلمین کے باہمی اختلافات اور تنازعات کے ختم کرنے کے لیے قائم کیا گیا ہے ۔ ۔ ۔

۹ اپریل ۱۹۷۶ء

شرعی عدالتیں اور نوائے وقت

روزنامہ نوائے وقت لاہور کے مراسلات کے کالم میں چونیاں کے محترم نور احمد کا ایک مراسلہ شائع ہوا ہے جس میں انہوں نے جمعیۃ علماء اسلام کی طرف سے شرعی عدالتوں کے قیام کے فیصلے کو حسن نیت او رخلوص پر مبنی قرار دیتے ہوئے دو وجوہ سے اسے ناقابل عمل اور سادہ لوحی کا شکار ہونے کے مترادف قرار دیا۔ ان کا ارشاد ہے کہ (۱) کوئی حکومت وقت اپنے مقابلے میں متوازی نظام کو قطعاً برداشت نہیں کر سکتی خواہ وہ نظام صحیح ہی کیوں نہ ہو۔ (۲) جمعیۃ علماء اسلام کے پاس کوئی ایسی قوت نہیں کہ وہ شرعی عدالت کے فیصلوں پر عملدرآمد کرا سکے ۔ ۔ ۔

۱۶ جنوری ۱۹۷۶ء

آئین شریعت کے لیے تئیس سالہ جدوجہد کا جائزہ

یہ بات اتنی مرتبہ دہرائی جا چکی ہے کہ رفتہ رفتہ مفہوم و مطلب کے لباس سے عاری ہو کر روز مرہ کے تکیہ کلام کی حیثیت اختیار کرتی جا رہی ہے۔ اگر شریعت کے نفاذ کا تعلق اس حقیقت کے لفظی تکرار کے ساتھ ہوتا تو پاکستان اس وقت دنیا کی مثالی اور معیاری اسلامی سلطنت کا روپ دھار چکا ہوتا۔ لیکن کہیں نعروں اور جملوں کے بار بار تکرار سے بھی کسی قوم کی تقدیر بدلتی ہے؟ بدقسمتی سے ہمارے یہاں تئیس سالوں سے نعروں اور لفظوں کے بے مقصد تکرار کا یہ کھیل پوری منصوبہ بندی کے ساتھ کھیلا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔

۲۱ اگست ۱۹۷۰ء