پاکستانی طالبان

دہشت گردی کے خلاف قومی مہم

طبیب کسی بھی طریق علاج سے تعلق رکھتا ہو، مریض کا علاج شروع کرنے سے پہلے دو باتیں ضرور چیک کرتا ہے۔ ایک یہ کہ اسے بیماری کیا ہے اور دوسری یہ کہ اس بیماری کا سبب کیا ہے۔ بیماری اور اس کے سبب کا تعین کیے بغیر کوئی معالج کسی مریض کے علاج کا آغاز نہیں کرتا۔ پھر وہ صرف بیماری کا علاج نہیں کرتا بلکہ سبب کے سدّباب کا بھی اہتمام کرتا ہے۔ بسا اوقات سبب سے پیچھا چھڑانے کو بیماری کے علاج سے بھی مقدم کرتا ہے، اس لیے کہ جب تک سبب کا خاتمہ نہ ہو کسی بیماری کے علاج کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہو پاتی ۔ ۔ ۔

۲۲ جولائی ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

دستور کی بالادستی اور قومی خودمختاری کا مسئلہ

اسلامی نظریاتی کونسل 1973ء میں دستور کے نفاذ کے بعد قائم ہوئی تھی جس کے ذمہ یہ بات تھی کہ وہ ملک کے تمام قوانین کا جائزہ لے کر خلاف اسلام قوانین کی نشاندہی کرے اور ان کو قرآن و سنت کے مطابق ڈھالنے کے لیے تجاویز مرتب کرے۔ اسلامی نظریاتی کونسل نے ملک میں رائج سات سو سے زیادہ غیر شرعی قوانین کی نشاندہی کر کے انہیں اسلام کے مطابق بنانے کے لیے تجاویز مرتب کر کے حکومت کے حوالے کر رکھی ہیں۔ سارا کام مکمل ہو جانے کے باوجود اب تک قانون سازی کیوں نہیں ہوئی ۔ ۔ ۔

۲۸ فروری ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

دستور پاکستان ۔ اسلامی یا غیر اسلامی؟

پاکستان پیپلز پارٹی کے سرپرست اعلیٰ بلاول بھٹو کا کہنا ہے کہ دستور پاکستان کی کوئی شق غیر اسلامی نہیں ہے جبکہ کالعدم تحریک طالبان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد کہہ رہے ہیں کہ آئین کی کوئی شق اسلامی نہیں ہے۔ ہمارے خیال میں یہ دونوں موقف انتہا پسندانہ ہیں اور اصل بات ان دونوں کے درمیان درمیان ہے۔ اول تو کسی چیز کو اسلامی یا غیر اسلامی قرار دینے کی اتھارٹی نہ بلاول بھٹو ہیں اور نہ ہی شاہد اللہ شاہد ہیں، بلکہ اس کی اتھارٹی ملک کے جمہور علماء کرام ہیں ۔ ۔ ۔

۲۳ فروری ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

دستور کی بالادستی اور حکومتی رویہ

دستور کے حوالہ سے اہلِ دین کا مسئلہ یہ نہیں ہے کہ دستور اسلامی ہے یا نہیں، بلکہ اصل مسئلہ بیوروکریسی اور اسٹیبلشمنٹ کا منافقانہ رویہ ہے جس نے دستور کی اسلامی دفعات کو عملاً معطل رکھا ہوا ہے۔ اس مسئلہ کا حل یہ نہیں ہے کہ سرے سے دستور سے انکار کر دیا جائے بلکہ یہ ہے کہ تمام اہل دین متحد ہو کر ایک زبردست عوامی تحریک کے ذریعہ اسٹیبلشمنٹ کو اپنا رویہ تبدیل کرنے اور دستور کی اسلامی دفعات پر عمل درآمد پر آمادہ کریں۔ شریعت کے نفاذ کے خواہاں حلقے اگر اس کا اہتمام کر سکیں تو نفاذِ شریعت کی منزل زیادہ دور نہیں ہے ۔ ۔ ۔

۱۰ فروری ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

نفاذ شریعت کی جدوجہد اور حاجی محمد بوستان کا مکتوب

طالبان کے ساتھ مذاکرات کی جو فضا بن رہی ہے اس نے اسلام، ملک اور امن کے بہی خواہوں کے دلوں میں امید کی ایک نئی کرن روشن کر دی ہے، وزیر اعظم پاکستان اور تحریک طالبان کی طرف سے مذاکراتی ٹیموں کی نامزدگی دونوں فریقوں کی سنجیدگی کی غمازی کرتی ہے۔ خصوصًا طالبان کی طرف سے ایک متوازن گروپ کے اعلان نے خوشگوار ماحول کی توقع پیدا کر دی ہے جس پر دونوں فریق مبارک باد اور شکریہ کے مستحق ہیں۔ ہم ان مذاکرات میں مثبت پیش رفت اور ان کی کامیابی کے لیے بارگاہ ایزدی میں دعا گو ہیں ۔ ۔ ۔

۵ فروری ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

نفاذ شریعت کی پر امن جدوجہد اور مولانا سمیع الحق

اگلے روز نئے سال کے پہلے دن کی اخبار میں یہ خبر پڑھ کر اس امید کے بر آنے کی کچھ آس لگ گئی ہے کہ وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے جمعیۃ علماء اسلام (س) پاکستان کے امیر مولانا سمیع الحق سے تفصیلی ملاقات کر کے طالبان کے ساتھ مجوّزہ مذاکرات کے بارے میں ان سے گفتگو کی ہے اور انہیں یہ ذمہ داری سونپی ہے کہ وہ پاکستانی طالبان کے ساتھ حکومت کے مذاکرات کا ماحول پیدا کرنے کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں اور مذاکرات کی طرف پیش رفت میں کردار ادا کریں ۔ ۔ ۔

۴ جنوری ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

’’شہید کون‘‘ کی بحث

جس طرح امریکہ نے ڈرون حملہ کے ذریعہ حکیم اللہ محسود کو قتل کر کے یہ بات ایک بار پھر واضح کر دی ہے کہ وہ حکومت پاکستان اور تحریک طالبان پاکستان کے درمیان مذاکرات کی کسی کوشش کو کامیاب نہیں دیکھنا چاہتا، اسی طرح پاکستانی میڈیا کے بعض سرکردہ لوگوں نے بھی اپنی اس پوزیشن کا رہا سہا ابہام دور کر دیا ہے کہ ان کی ترجیحات میں سسپنس پیدا کرنے اور ذہنی و فکری خلفشار فروغ دینے کو سب باتوں پر فوقیت حاصل ہے۔ حتیٰ کہ ملک و قوم کے مجموعی مفاد کو بھی وہ سب کچھ کر گزرنے کے بعد ہی دیکھنے کے عادی ہوگئے ہیں ۔ ۔ ۔

دسمبر ۲۰۱۳ء

نفاذ اسلام کے لیے مسلح جدوجہد کا راستہ

دستور پاکستان کے بارے میں یہ کہنا کہ یہ شریعت اسلامیہ سے متصادم ہے، دستور پاکستان سے ناواقفیت کی علامت ہے۔ اس لیے کہ دستور پاکستان کی بنیاد عوام کی حاکمیت اعلیٰ کے مغربی جمہوری تصور پر نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی حاکمیت اعلیٰ کے اسلامی تصور پر ہے جس پر دستور کی بہت سی دفعات شاہد و ناطق ہیں۔ دستور پر عمل نہ ہونا یا اس بارے میں رولنگ کلاس کی دوغلی پالیسی ضرور ایک اہم مسئلہ ہے لیکن اس سے دستور کی اسلامی حیثیت پر کوئی اثر نہیں پڑتا ۔ ۔ ۔

نومبر ۲۰۱۳ء

تحریک طالبان اور دستور پاکستان

دستور پاکستان کے بارے میں یہ کہنا کہ یہ شریعت اسلامیہ سے متصادم ہے، دستور پاکستان سے ناواقفیت کی علامت ہے۔ اس لیے کہ دستور پاکستان کی بنیاد عوام کی حاکمیت اعلیٰ کے مغربی جمہوری تصور پر نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی حاکمیت اعلیٰ کے اسلامی تصور پر ہے جس پر دستور کی بہت سی دفعات شاہد و ناطق ہیں۔ دستور پر عمل نہ ہونا یا اس بارے میں رولنگ کلاس کی دوغلی پالیسی ضرور ایک اہم مسئلہ ہے لیکن اس سے دستور کی اسلامی حیثیت پر کوئی اثر نہیں پڑتا ۔ ۔ ۔

۵ اکتوبر ۲۰۱۳ء

حالات حاضرہ ۔ پاکستان شریعت کونسل کا اجلاس

پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا فداء الرحمن درخواستی نے اہم امور کا جائزہ لینے کے لیے ایک مشاورتی اجلاس 12 ستمبر کو طلب کیا جو مرکز حافظ الحدیث درخواستیؒ حسن ابدال میں ان کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس سے صدرِ اجلاس اور راقم الحروف کے علاوہ مولانا قاضی محمد رویس ایوبی، مولانا قاری جمیل الرحمن اختر، مفتی محمد سیف الدین گلگتی، صلاح الدین فاروقی، ڈاکٹر شاہ نواز اعوان، حافظ سید علی محی الدین، مولانا سید حبیب اللہ شاہ حقانی اور دیگر حضرات نے خطاب کیا ۔ ۔ ۔

۱۸ ستمبر ۲۰۱۳ء

افغان طالبان اور پاکستانی طالبان ۔ مقاصد و اہداف

افغان طالبان نے جہاد افغانستان کے نظریاتی مقاصد کے حصول اور افغانستان کے اسلامی نظریاتی تشخص کے تحفظ کے لیے میدان میں قدم رکھا اور کامیابی حاصل کی جسے القاعدہ کی آڑ میں امریکہ اور نیٹو کی فوجوں نے عسکری یلغار کے ذریعہ ختم کر دیا ۔ ۔ ۔ مگر پاکستانی طالبان کا دائرہ اس سے مختلف ہے، انہوں نے پاکستان میں نفاذ شریعت کے لیے ہتھیار اٹھائے اور ان کا آغاز حکومت پاکستان کے ساتھ نفاذ شریعت کے ایسے معاہدات سے ہوا تھا جو ملک کے دستوری فریم ورک کے اندر تھے، مگر ان سے کیے گئے وعدوں کو عمدًا توڑ دیا گیا ۔ ۔ ۔

مارچ ۲۰۱۳ء

ملالہ یوسف زئی پر حملہ

ہمارا ماتھا اسی وقت ٹھنک گیا تھا جب ہم نے دیکھا کہ ملالہ جس حملے میں زخمی ہوئی ہیں، اسی حملے میں ان کے ساتھ اسی سکول کی دو اور طالبات شازیہ اور کائنات بھی زخمی ہوئی ہیں۔ لیکن کوریج اور پروٹوکول دونوں حوالوں سے شازیہ اور کائنات اس سلوک کی مستحق قرار نہیں پائیں جو ان کی ایک زخمی ساتھی کو ملا۔ حالانکہ وہ دونوں بھی سوات کی رہنے والی تھیں، اسی سکول کی طالبات تھیں، قوم کی بچیاں تھیں، ایک ہی حملہ میں ملالہ کے ساتھ زخمی ہوئی تھیں اور ان کے جسم سے خارج ہونے والا خون بھی سرخ رنگ کا ہی تھا ۔ ۔ ۔

نومبر ۲۰۱۲ء

مذہبی طبقات، دہشت گردی، پاکستانی طالبان

جو دینی جماعتیں اور افراد پر امن طور پر اور سیاسی و جمہوری جدوجہد کے ذریعے کام کر رہی ہیں، وہ بھی انھی دینی مدارس کے تعلیم یافتہ ہیں۔ اور جو لاکھوں علماء کرام، مدرسین اور خطبا و ائمہ ملک بھر میں امن و سلامتی کے ماحول میں دینی خدمات کی انجام دہی میں مصروف ہیں انھوں نے بھی انھی مدارس میں تعلیم پائی ہے، یہ حضرات نہ صرف پاکستان میں بلکہ دنیا بھر میں پر امن طور پر تعلیمی اور دعوتی خدمات بجا لا رہے ہیں۔ جبکہ وہ لوگ جو مسلح جدوجہد کا راستہ اختیار کیے ہوئے ہیں، ان کا تناسب آٹے میں نمک کا بھی نہیں ہے ۔ ۔ ۔

نومبر ۲۰۰۹ء

مالاکنڈ ڈویژن میں شرعی نظام عدل ریگولیشن کا نفاذ

مالاکنڈ ڈویژن میں یہ مطالبہ گزشتہ دو عشروں سے جاری تھا کہ وہاں مروجہ عدالتی سسٹم کی بجائے شرعی عدالتوں کا نظام قائم کیا جائے اور اس کے لیے مولانا صوفی محمد کی سربراہی میں ’’تحریک نفاذ شریعت محمدی‘‘ نے ایک عوامی تحریک منظم کر رکھی تھی جس کے نتیجے میں ایک مرحلے میں کم وبیش تیس ہزار کے لگ بھگ مسلح افراد مینگورہ کی سڑکوں پر کئی دنوں تک دھرنا دیے بیٹھے رہے تھے اور ان کا مطالبہ یہ تھا کہ انھیں شرعی عدالتی نظام فراہم کیا جائے جہاں قاضی حضرات قرآن وسنت کے مطابق ان کے مقدمات کے فیصلے کریں ۔ ۔ ۔

مارچ ۲۰۰۹ء

’’دہشت گردی‘‘ کے خلاف جنگ اور پارلیمنٹ کی متفقہ قرارداد

ملک میں امن وامان کی صورت حال کے حوالے سے اس وقت سب سے بڑا مسئلہ’’ دہشت گردی اور اس کے خلاف جنگ‘‘ کے عنوان سے سرفہرست ہے اور اس جنگ کا پھیلاؤ جوں جوں بڑھتا جا رہا ہے، عوام کے اضطراب میں اضافے کے ساتھ ساتھ قومی خود مختاری اور ملکی سا لمیت کے بارے میں سوالات میں بھی شدت پیدا ہو رہی ہے۔ یہ ’’دہشت گردی ‘‘ کیا ہے اور اس کے خلاف جنگ کے اہداف ومقاصد کیا ہیں ۔ ۔ ۔

نومبر ۲۰۰۸ء