فلسطین

امت مسلمہ کے مسائل اور عالمی قوتوں کی ’’اصول پرستی‘‘

آج کی ایک خبر کے مطابق امریکی کانگریس کے ایک سو پینتیس (۱۳۵) ارکان نے ایک پٹیشن پر دستخط کیے ہیں جس میں امریکی وزیرخارجہ مائیک پومیو کے فلسطین میں یہودی بستیوں کی حمایت پر مبنی بیان کی شدید مذمت کی گئی ہے، اور کہا گیا ہے کہ امریکی حکومت کا موقف فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان امن مساعی کو مزید پیچیدہ بنا دے گا۔ مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق امریکی ارکان کانگریس کی طرف سے تیار کردہ پٹیشن میں وزیرخارجہ مائیک پومیو سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ غرب اردن میں یہودی آباد کاری کی حمایت سے متعلق اپنا بیان واپس لیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۷ نومبر ۲۰۱۹ء

مسئلہ فلسطین اور او آئی سی کا کردار

غزہ میں حماس اور اسرائیل کے درمیان تین دن کی عارضی جنگ بندی ہو چکی ہے اور اسرائیلی درندگی کا مسلسل نشانہ بننے والے فلسطینیوں نے وقتی طور پر کچھ سکون کا سانس لیا ہے۔ تین دن کے بعد کیا ہوگا، اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتے ہیں۔ لیکن اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی ) کے سیکرٹری جنرل عیاض امین مدنی کے اس بیان کے بعد اس کے بارے میں اندازہ لگانا کچھ مشکل نہیں ہے کہ ’’او آئی سی ایک سیاسی تنظیم ہے، مذہبی نہیں۔ ہم ممبر ممالک کے درمیان تحقیق، تجارت اور دیگر شعبوں میں کام کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۷ اگست ۲۰۱۴ء

فلسطینی عوام، عالمی ضمیر اور مسلمان حکمران

فلسطینی عوام ایک بار پھر صہیونی جارحیت کی زد میں ہیں۔ غزہ میں اسرائیل کی فضائی اور زمینی کاروائیوں نے سینکڑوں فلسطینیوں کو خون میں نہلا دیا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ اسرائیل غزہ کے غیور اور مظلوم فلسطینی مسلمانوں کی آزادی کی اور تشخص کو مکمل طور پر پامال کر دینے پر تل گیا ہے اور اسے حسب سابق مغربی قوتوں کی پشت پناہی حاصل ہے۔ ان فلسطینی عوام کا واحد قصور یہ ہے کہ وہ فلسطین کے باشندے ہیں، وہ اپنے اس حق سے دستبردار ہونے کے لیے کسی صورت تیار نہیں ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ جولائی ۲۰۱۴ء

فلسطینی عوام کی مظلومیت اور مسلم حکمرانوں کی خاموشی

روزنامہ پاکستان ۲۰ جنوری ۲۰۰۹ء میں شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق مقبوضہ بیت المقدس میں یہودی ربی موردافے الیاہو نے فتویٰ جاری کیا ہے کہ فلسطینی عورتوں اور بچوں کا قتل عام جائز ہے اور ایسا اقدام کرنے والوں کو مجرم تصور نہ کیا جائے بلکہ اگر دس لاکھ فلسطینی بھی قتل ہو جائیں تو پرواہ نہ کی جائے۔مڈل ایسٹ اسٹڈی سنٹر کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ غزہ کی پٹی میں جو کاروائی ہو رہی ہے وہ یہودی ربی کے بقول یہودیوں کی ان تعلیمات کے مطابق ہے جن میں کہا گیا ہے کہ دشمنوں کو اجتماعی سزا دی جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۰۹ء

مسئلہ فلسطین اور مغربی ممالک کا کردار

امریکہ اور اس کی قیادت میں مغربی حکمران مشرق وسطیٰ میں صرف ایسا امن چاہتے ہیں جس میں اسرائیل کے اب تک کے تمام اقدامات اور اس کے موجودہ کردار کو جائز تسلیم کر لیا جائے اور اس کی بالادستی کے سامنے سر تسلیم خم کرتے ہوئے فلسطینی عوام خود کو اس کے رحم و کرم پر چھوڑ دیں۔ اور اسرائیل جو کچھ بھی کرے فلسطینی عوام اس کے خلاف کسی بھی قسم کی مزاحمت سے ہمیشہ کے لیے دست برداری کا اعلان کر دیں۔ اگر صدر بش فلسطینیوں کو امن وسلامتی کے اسی نکتے پر لانا چاہتے ہیں تو ایسا ہونا ممکن نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۰۸ء

فلسطین کی حمایت میں روس، عرب اور یورپی ممالک کا متوقع اتحاد

ایک قومی اخبار کی رپورٹ کے مطابق فلسطین کی حمایت میں روس، عرب اور یورپی ممالک کا اتحاد وجود میں آنے والا ہے، جبکہ فلسطین پر امریکہ اور اسرائیل کے خلاف روس اور یورپی یونین کے بعض ملکوں کے درمیان خفیہ اتحاد ہو گیا ہے۔ ان یورپی ممالک نے روس کو یقین دلایا ہے کہ وہ فلسطین کی حمایت پر امریکہ اور اسرائیل کے خلاف اسٹینڈ لیں گے۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ روس نے اسلامی و یورپی ملکوں کے سربراہوں سے رابطے کیے ہیں اور اسرائیلی مظالم رکوانے کے لیے اپنی کوششیں تیز کر دی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۸ جولائی ۲۰۰۲ء

کشمیر اور فلسطین ۔ عالمی طاقتوں کی ترجیحات

یہ وہی صورتحال ہے جو فلسطین میں اس سے قبل ہم دیکھ چکے ہیں کہ جناب یاسر عرفات کو عسکری زندگی سے نکال کر مذاکرات کی میز پر لانے کے بعد اس بات پر مسلسل مجبور کیا جا رہا ہے کہ جو فلسطینی لوگ مذاکرات کے عمل کو قبول نہ کرتے ہوئے عسکری کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں انہیں عسکری کارروائیوں سے باز رکھنے یا ان کے باز نہ آنے کی صورت میں انہیں کچلنے اور ان کی عسکری صلاحیت کو مفلوج کرنے کے لیے بھی یاسر عرفات کردار ادا کریں، بلکہ اس مقصد کے لیے اسرائیل کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ جون ۲۰۰۲ء

مسئلہ فلسطین کا تاریخی پس منظر اور عالم اسلام کا اصولی موقف

سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ عبد اللہ کی اس تجویز پر دنیا بھر میں بحث و تمحیص کا سلسلہ جاری ہے کہ اگر اسرائیل عربوں کے مقبوضہ علاقے خالی کر دے تو سعودی عرب اسے تسلیم کرنے کے لیے تیار ہے۔ شہزادہ عبد اللہ کی پیشکش عرب اسرائیل سیاست میں ایک اہم پیشرفت ہے کیونکہ اگر اسرائیل کے مقبوضہ عرب علاقوں کو خالی کرنے کی صورت میں سعودی عرب اسرائیل کے وجود کو تسلیم کر لیتا ہے تو دنیا کے باقی مسلم ممالک سے اسرائیل کو تسلیم کرانے میں کوئی رکاوٹ نہیں رہے گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۸ مارچ ۲۰۰۲ء

فلسطین میں یہودیوں کی آبادکاری اور خلافتِ عثمانیہ

عالمی یہودی تحریک کے نمائندہ لارنس اولیفینٹ نے پیشکش کی کہ اگر یہودیوں کو فلسطین میں آباد کاری کی سہولت فراہم کر دی جائے تو اس کے عوض یہودی سرمایہ کار سلطنت عثمانیہ کی تمام مشکلات میں ہاتھ بٹانے کے لیے تیار ہیں۔ سلطان عبد الحمید مرحوم نے کہا کہ یورپی ملکوں سے نکالے جانے والے یہودیوں کو سلطنت عثمانیہ کے کسی بھی حصہ میں آباد ہونے کی اجازت دینے کے لیے تیار ہیں، مگر فلسطین میں چونکہ یہودی ریاست قائم کرنے کا منصوبہ ان کے ذہنوں میں ہے اس لیے اس خطہ میں کسی یہودی کو آباد ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۶ نومبر ۱۹۹۹ء