پولیس

ایماندار افسران کی تلاش

آج ایک قومی اخبار کے گوجرانوالہ ایڈیشن میں مقامی صفحہ کی اس بڑی سرخی نے بار بار اپنی طرف متوجہ کیا کہ ’’ایماندار ایس ایچ اوز کی تلاش، ریجن بھر کے پولیس انسپکٹروں کے کوائف طلب‘‘۔ ہمارے موجودہ معاشرتی ماحول میں یہ کوئی بہت بڑی خبر نہیں ہے کیونکہ صرف پولیس نہیں بلکہ کم و بیش ہر شعبہ اور ادارہ میں اسی قسم کی صورتحال کا سامنا ہے کہ ایماندار افراد تلاش کرنا پڑتے ہیں۔ اس پر اسلامی تاریخ کے دو حوالے ذہن میں آگئے ہیں اور جی چاہتا ہے کہ انہیں قارئین کی خدمت میں پیش کر دیا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ایماندار افسران کی تلاش

۲۸ اکتوبر ۲۰۱۷ء

معاشرتی عدل وانصاف میں پولیس کا کردار

ہمارے ڈی آئی جی صاحب باذوق آدمی ہیں، سال میں ایک آدھ بار ہماری آپ حضرات سے ملاقات کی کوئی صورت نکال لیتے ہیں، ہم گھنٹہ بھر کے لیے جمع ہوتے ہیں، بات چیت ہوتی ہے اور کم از کم اتنا ضرور ہو جاتا ہے کہ ہمارا کچھ خوف کم ہو جاتا ہے، اور شاید آپ حضرات کا خوف بھی کچھ کم ہو جاتا ہے۔ وہ اس طرح کہ سال بھر ہم آپ حضرات سے ڈرتے رہتے ہیں جبکہ یہ گھنٹہ پون گھنٹہ ہمیں میسر آجاتا ہے کہ ہم آپ حضرات کو ڈرا سکیں۔ بہرحال اس طرح کی کوئی صورت بن جاتی ہے جس کے لیے میں ڈی آئی جی صاحب کا شکر گزار ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر معاشرتی عدل وانصاف میں پولیس کا کردار

۲۰ فروری ۲۰۱۰ء

نظام کی ناکامی کا فطری ردعمل

حاجی محمد سرور نے خود اپنی جان اور عزت دونوں کو خطرے میں ڈال کر ہماری غفلت اور کوتاہیوں کو بے نقاب کیا ہے اور مروجہ سسٹم کی ناکامی پر مہر تصدیق ثبت کر دی ہے۔ حاجی محمد سرور اپنے اعتراف کے مطابق چار قتلوں کا مجرم ہے اور اسے قانون ہاتھ میں لینے کی سزا ضرور ملنی چاہئے لیکن اس کے ساتھ وہ مروجہ نظام کی فرسودگی اور ناکامی کا عنوان بن کر سامنے آیا ہے اور حوالات کی سلاخوں کے پیچھے سے اس سسٹم کے ذمہ داروں اور شریک طبقات کا منہ چڑا رہا ہے۔ کیا اس کے اس چیلنج کا سامنا کرنے کا ہم میں سے کسی طبقہ یا شخص میں حوصلہ ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر نظام کی ناکامی کا فطری ردعمل

۱۹ جنوری ۲۰۰۳ء

وزیراعظم کا استقبال اور غریب عوام کی درگت

یہ واقعات نئے نہیں ہیں، جب بھی حکمرانوں کو کسی حوالہ سے بڑے ہجوم اور اجتماع کی ضرورت پڑتی ہے اس کے لیے اسی طرح کے حربے اختیار کیے جاتے ہیں۔ اس سے حکمرانوں کی وقتی سیاسی ضرورتیں تو پوری ہو جاتی ہیں، انتظامی افسران اور ممبران اسمبلی کو شاباش مل جاتی ہے اور کچھ لوگوں کی انا کو نفسیاتی تسکین بھی حاصل ہو جاتی ہے، مگر غریب عوام کی جو درگت بنتی ہے اس کا اندازہ انہی لوگوں کو ہو سکتا ہے جو عوام میں رہتے ہیں اور انہی کے ساتھ میسر سفر کے ذرائع اختیار کرنے پر مجبور ہوتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر وزیراعظم کا استقبال اور غریب عوام کی درگت

یکم دسمبر ۱۹۹۸ء

جیلوں کے نظام میں اصلاح کی ضرورت

اس دفعہ بحمد اللہ تعالیٰ جیل کی اندرونی زندگی کا جائزہ لینے اور جرم و سزا کے ماحول میں بسنے والے انسانوں کا مطالعہ کرنے کا کافی موقع ملا اور بالآخر تین ماہ اٹھارہ دن جیل میں گزارنے کے بعد ۲۸ اکتوبر ۱۹۷۶ء کو اپنی انتیسویں سالگرہ کے دن ضمانت پر جیل سے رہا ہوا۔ اس دوران جیل کے اندر کی زندگی کو جس طرح دیکھا اور اس کے بارے میں جو کچھ محسوس کیا اس کی داستان تو بہت طویل ہے لیکن چند اہم امور کی طرف حکومت وقت اور رائے عامہ کو توجہ دلانا ضروری سمجھتا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جیلوں کے نظام میں اصلاح کی ضرورت

۱۲ نومبر ۱۹۷۶ء

پولیس کی کارکردگی / اساتذہ کی حق تلفی / سکولوں کی بوسیدہ عمارتیں / ناقص چاولوں کی سپلائی / نبوت کا دعویدار / قمار بازی

پنجاب پولیس کے افسر اعلیٰ جناب انور آفریدی نے ایک پریس کانفرنس میں پولیس کی کارکردگی پر روشنی ڈالتے ہوئے بعض خامیوں کے ضمن میں پولیس کمیشن کی سفارشات کا ذکر کیا ہے اور اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ محکمانہ کارکردگی کو بہتر بنانے کی پوری کوشش کی جائے گی۔ جہاں تک پولیس کی کارکردگی پر لوگوں کے شبہات اور اعتراضات کا تعلق ہے انہیں یکسر جھٹلایا نہیں جا سکتا۔ بعض باتیں یقیناً ایسی ہیں جو پولیس کے کردار کو عوام کی نظروں میں مشکوک بنا دیتی ہیں اور خصوصاً کچھ آفیسرز کا رعونت آمیز رویہ، جس کا اعتراف خود جناب آفریدی نے بھی کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر پولیس کی کارکردگی / اساتذہ کی حق تلفی / سکولوں کی بوسیدہ عمارتیں / ناقص چاولوں کی سپلائی / نبوت کا دعویدار / قمار بازی

۱۴ مئی ۱۹۷۱ء