معروف

امت مسلمہ کے مسائل اور عالمی قوتوں کی ’’اصول پرستی‘‘

آج کی ایک خبر کے مطابق امریکی کانگریس کے ایک سو پینتیس (۱۳۵) ارکان نے ایک پٹیشن پر دستخط کیے ہیں جس میں امریکی وزیرخارجہ مائیک پومیو کے فلسطین میں یہودی بستیوں کی حمایت پر مبنی بیان کی شدید مذمت کی گئی ہے، اور کہا گیا ہے کہ امریکی حکومت کا موقف فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان امن مساعی کو مزید پیچیدہ بنا دے گا۔ مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق امریکی ارکان کانگریس کی طرف سے تیار کردہ پٹیشن میں وزیرخارجہ مائیک پومیو سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ غرب اردن میں یہودی آباد کاری کی حمایت سے متعلق اپنا بیان واپس لیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر امت مسلمہ کے مسائل اور عالمی قوتوں کی ’’اصول پرستی‘‘

۲۷ نومبر ۲۰۱۹ء

کیا امریکہ مشرق وسطیٰ سے نکلنا چاہتا ہے؟

روزنامہ اسلام لاہور میں ۲۵ اکتوبر ۲۰۱۹ء کو شائع ہونے والی یہ خبر ملاحظہ فرمائیے: ’’امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ کو خون آلود مٹی قرار دیتے ہوئے خطے سے نکلنے کا عہد کیا ہے، وائٹ ہاؤس میں خصوصی خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ مشرق وسطیٰ کی خون آلود مٹی چھوڑ دے گا، امریکی صدر نے مشرق وسطیٰ کے تعلقات کی نوعیت تبدیل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں بہت امریکی سروسز کے ممبران مارے گئے، امریکہ کو اب مزید دنیا کے پولیس مین کے طور پر رہنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر کیا امریکہ مشرق وسطیٰ سے نکلنا چاہتا ہے؟

نومبر ۲۰۱۹ء

اسلام کا نظام خلافت

سوال پیدا ہوا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں اور آپؐ کے بعد کسی نئے نبی کے آنے کا کوئی امکان نہیں ہے تو پھر آپؐ کے بعد سیاسی نظام کس کے ہاتھ میں ہوگا۔ چنانچہ مذکورہ بالا جملہ کے ساتھ ہی جناب نبی اکرمؐ نے فرما دیا کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا وستکون بعدی خلفاء البتہ میرے بعد خلفاء ہوں گے جو اس سیاسی نظام کو سنبھالیں گے۔ اس طرح آپؐ نے خلافت کو امت مسلمہ کے سیاسی نظام کے طور پر بیان فرمایا ہے اور اسلام کے سیاسی نظام کا عنوان ’’خلافت‘‘ ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اسلام کا نظام خلافت

۶ تا ۱۱ جنوری ۲۰۱۳ء

’’چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اٹھا کے چلے‘‘

چیف جسٹس جناب جسٹس افتخار محمد چودھری کی بحالی کی خبر سن کر مجھے یوں لگا جیسے کوئی ڈاکٹر ایمرجنسی آپریشن روم کے دروازے سے باہر جھانک کر مریض کے رشتہ داروں کو یہ خوشخبری دے رہا ہے کہ مریض کی حالت خطرے سے باہر ہو گئی ہے اور اس نے اب سانس لینا شروع کر دیا ہے۔ اس فیصلے کے اعلان سے قبل پوری قوم سکتے کے عالم میں تھی اور کان اسلام آباد کی طرف لگے ہوئے تھے کہ وہاں سے کیا خبر آتی ہے؟ عدالت عظمیٰ کے فل کورٹ نے قوم کا رخ مایوسی سے امید کی طرف پھیر دیا ہے جس پر فل کورٹ کے تمام ارکان پوری قوم کی طرف سے مبارکباد اور شکریہ کے مستحق ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ’’چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اٹھا کے چلے‘‘

۲۶ جولائی ۲۰۰۷ء

نبی اکرمؐ کا خطبہ حجۃ الوداع

خطبۂ حجۃ الوداع جسے کہتے ہیں، یہ حضورؐ کی مختلف ہدایات کا مجموعہ ہے۔ ان میں دو تو بڑے خطبے ہیں۔ ایک خطبہ حضورؐ نے عرفات میں ارشاد فرمایا، یہی خطبہ سنتِ رسولؐ کے طور پر اب بھی ۹ ذی الحجہ کی دوپہر کو عرفات کے میدان میں پڑھا جاتا ہے۔ دوسرا خطبہ وہ ہے جو حضورؐ نے منٰی میں ارشاد فرمایا۔ جبکہ امام قسطلانیؒ نے ’’المواہب اللدنیۃ‘‘ میں حضرت امام شافعیؒ کے حوالہ سے چار خطبات کا ذکر کیا ہے۔ اس موقع پر صحابہ کرامؓ کثیر تعداد میں تھے، انہوں نے نبی کریمؐ سے خطبات سنے، جس کو جو بات یاد رہی اس نے وہ آگے نقل کر دی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر نبی اکرمؐ کا خطبہ حجۃ الوداع

جنوری ۲۰۰۷ء

پاکستان اسٹیل ملز اور عدالت عظمیٰ

۱۹۷۰ء کے عام انتخابات سے پہلے جب ملک میں انتخابی سرگرمیوں کا آغاز ہوا تو وہ میری سیاسی اور خطابتی زندگی کا ابتدائی دور تھا۔ شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندی قدس اللہ سرہ العزیز سے عقیدت زیادہ تھی جو اب بھی ہے، ان کی سیاسی جدوجہد اور سیاسی افکار سے سب سے زیادہ متاثر تھا اور اسی مناسبت سے استعمار دشمنی کی بات کسی طرف سے بھی ہو، اچھی لگتی تھی۔ جمعیت علمائے اسلام کا اجتماعی ذوق بھی یہی تھا (جو اب پس منظر میں چلا گیا ہے)۔ اس حوالے سے لیفٹ کے سیاسی کارکنوں کے ساتھ ہمارا میل جول زیادہ رہتا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر پاکستان اسٹیل ملز اور عدالت عظمیٰ

۲۶ اگست ۲۰۰۶ء

کیا پاک بھارت انضمام ممکن ہے؟

مولانا فضل الرحمن نے دورہ بھارت سے واپسی پر بعض اخبارات میں شائع ہونے والی ان خبروں کی تردید کی ہے کہ انہوں نے پاکستان اور بھارت کو دوبارہ متحد کرنے کے لیے گول میز کانفرنس کی کوئی تجویز پیش کی ہے، انہوں نے کہا کہ وہ ”اکھنڈ بھارت“ کے حامی نہیں ہیں اور نہ ہی اس سلسلہ میں انہوں نے کوئی بات کی ہے۔ مولانا فضل الرحمن کی اس وضاحت کے بعد ہمارے خیال میں اس حوالہ سے گفتگو کو آگے بڑھانے کی گنجائش باقی نہیں رہی، لیکن مسئلہ صرف مولانا فضل الرحمن کا نہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر کیا پاک بھارت انضمام ممکن ہے؟

۲۹ جولائی ۲۰۰۳ء

مولانا طارق جمیل کے مدرسے کا دورہ

مولانا طارق جمیل کو گزشتہ روز ایک نئے روپ میں دیکھا تو دل سے دعا نکلی کہ اللہ تعالیٰ انہیں اس مشن اور پروگرام میں کامیابی اور ثمرات سے بہرہ ور فرمائیں، آمین۔ مولانا موصوف کا تعلق تلمبہ خانیوال کے ایک کھاتے پیتے زمیندار گھرانے سے ہے۔ تبلیغی جماعت سے تعلق قائم ہوا تو اس میں اس رفتار سے آگے بڑھے کہ اسی کے ہو کر رہ گئے۔ مولانا دعوت و تبلیغ کے عمل سے وابستہ ہوئے تو تنہا تھے کہ خاندان میں کوئی اس کار خیر پر شاباش دینے والا نہیں تھا لیکن یہ ان کی استقامت اور جہد مسلسل کا ثمر ہے کہ اب پورا خاندان بلکہ پورا علاقہ اس نیک عمل میں ان کا دست و بازو ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا طارق جمیل کے مدرسے کا دورہ

۲۳ جون ۲۰۰۳ء

تھوڑی دیر امریکہ کی ایک جیل میں

محترم ڈاکٹر محمد اسماعیل میمن صاحب شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا مہاجر مدنی نوراﷲ مرقدہ کے خلفاء میں سے ہیں اور ایک عرصہ سے کینیڈا اور پھر امریکہ میں دینی و تعلیمی خدمات میں مصروف ہیں۔ نیو یارک سٹیٹ میں کینیڈا کی سرحد پر نیا گرا آبشار کے قریب ایک شہر بفیلو میں ’’دارالعلوم المدینہ‘‘ کے نام سے ایک دینی درسگاہ انہوں نے قائم کی ہے اور اپنے لائق فرزندوں اور مخلص رفقاء کی ایک ٹیم کے ہمراہ اس کی بہتری اور ترقی کے لیے سرگرم عمل ہیں۔ نیاگرا آبشار اس سے قبل بھی آچکا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر تھوڑی دیر امریکہ کی ایک جیل میں

۱۱ جون ۲۰۰۳ء

مسلمانوں کی معاشرتی زندگی میں مساجد کا کردار

نبی اکرمؐ اور خلفاء راشدینؓ کے خطبات جمعہ و عیدین میں یہ تفریق نہیں ہوتی تھی کہ فلاں بات عبادت اور تعلیم سے تعلق رکھتی ہے اس لیے اسے مسجد میں ہونا چاہیے اور فلاں بات سیاست اور حکومت سے متعلقہ ہے اس لیے اسے مسجد سے باہر کیا جانا چاہیے۔ مسلمانوں سے متعلقہ معاملات کا تعلق عبادت سے ہو یا تعلیم سے، سیاست سے ہو یا عدالت سے، معاشرے سے ہو یا تمدن سے، صلح سے ہو یا جنگ سے، تجارت سے ہو یا زراعت سے، مقامی امور سے ہو یا بین الاقوامی معاملات سے، ان سب کا تذکرہ مسجد میں ہوتا تھا اور ان کے بارے میں ہر اہم فیصلہ مسجد میں کیا جاتا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مسلمانوں کی معاشرتی زندگی میں مساجد کا کردار

۹ جون ۲۰۰۳ء

صحابہ کرامؓ اور سیرت نبویؐ

جناب نبی اکرمؐ کا تذکرہ کسی حوالہ سے بھی ہو اور ان کی حیات مبارکہ کے کسی بھی پہلو کا تذکرہ کیا جائے یہ اجروثواب، خیروبرکت اور بے پایاں رحمتوں کے نزول کا باعث ہوتا ہے۔ لیکن سیرت نبویؐ کے ساتھ صحابہ کرامؓ کا تعلق کس انداز کا تھا اور حضرات صحابہ کرامؓ کس طرح حضورؐ کی باتوں کو یاد کیا کرتے تھے؟ اس کی چند جھلکیاں آج کی محفل میں پیش کرنے کو جی چاہتا ہے کیونکہ جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ اور سیرت و سنت کے ساتھ مسلمان کا اصل تعلق یہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر صحابہ کرامؓ اور سیرت نبویؐ

۱۵ مئی ۲۰۰۳ء

نوآبادیاتی نظام اور مظلوم عوام کا مستقبل

پہلی اور دوسری جنگ عظیم کے بعد جب بہت سے مسلم ممالک یورپی استعمار کے شکنجے سے آزاد ہوئے، ایشیا اور افریقہ کے ممالک پر برطانیہ، فرانس، ہالینڈ اور پرتگال وغیرہ کی گرفت ڈھیلی پڑنا شروع ہوئی تو ہم اس غلط فہمی کا شکار ہوئے کہ ہم واقعی آزادی سے ہمکنار ہو رہے ہیں، اور اب ہم استعماری قوتوں کے دائرہ اثر و نفوذ سے نجات حاصل کر کے اپنی مرضی کے مطابق اپنا مستقبل طے کر سکیں گے۔ لیکن ہماری یہ غلط فہمی بہت جلد دور ہونا شروع ہوگئی اور کم و بیش نصف صدی کے عرصہ میں ہم پر یہ بات پوری طرح واضح ہوگئی ہے کہ ہمارے ساتھ آزادی کے نام پر دھوکہ ہوا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر نوآبادیاتی نظام اور مظلوم عوام کا مستقبل

۹ مئی ۲۰۰۳ء

قرآن کریم کے نادر اور تاریخی نسخے

۲۲ اپریل کو جب عزیزم حافظ محمد عمار خان ناصر سلمہ کے ہمراہ ادارہ تحقیقات اسلامی کے سیمینار میں شرکت کے لیے عصر سے قبل فیصل مسجد اسلام آباد پہنچا سیمینار کے بارے میں پتہ چلا کہ اس کی آخری نشست مغرب کے بعد علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے آڈیٹوریم میں ہو رہی ہے اس لیے اب وہاں جانا ہوگا۔ البتہ فیصل مسجد کی ایک دیوار پر بینر دیکھنے میں آیا جس کے مطابق اس سے اگلے روز یعنی ۲۳ اپریل کو انٹرنیشنل اسلامی یونیورسٹی کی طرف سے اسی مقام پر قرآن کریم کے نادر نسخوں کی نمائش کا آغاز ہو رہا تھا اور اس کا افتتاح صدر جنرل پرویز مشرف نے کرنا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قرآن کریم کے نادر اور تاریخی نسخے

۲۹ اپریل ۲۰۰۳ء

قادیانی گروہ اور امریکہ کی ریموٹ کنٹرول غلامی کا شکنجہ

پاکستان کے قیام کے بعد جب معروف قادیانی راہنما چودھری ظفر اللہ خان کو وزارت خارجہ کا منصب سونپا گیا تو دینی حلقوں میں اضطراب اور تشویش پیدا ہوئی کہ اس انتخاب کا فائدہ ان عالمی طاقتوں کے سوا کسی کو نہیں ہوگا جن کی نمائندگی قادیانی جماعت کرتی ہے اور ملک کے اندر بھی قادیانی جماعت کے اثر و رسوخ میں مزید اضافہ ہوگا جو دینی حوالوں سے پاکستان کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ چنانچہ ۱۹۵۲ء تک اس کے نتائج اس حد تک سامنے آچکے تھے کہ بیرون ملک پاکستان کے بہت سے سفارت خانے قادیانی مذہب کے فروغ اور ان کے اثر و نفوذ میں اضافے کا ذریعہ بن چکے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قادیانی گروہ اور امریکہ کی ریموٹ کنٹرول غلامی کا شکنجہ

۱۱ اپریل ۲۰۰۳ء

دور جدید میں اجتہاد کی ضرورت اور دائرۂ کار

قرآن وسنت کی نئی تعبیر وتشریح اور جدید فقہ اسلامی کی تدوین کے نعرہ سے تو ہمیں اتفاق نہیں ہے کہ اس سے چودہ سو سالہ اجماعی تعامل سے کٹ جانے کا تصور اجاگر ہوتا ہے مگر فقہ اسلامی پر اجتماعی نظر ثانی کو ہم وقت کی ناگزیر ضرورت سمجھتے ہیں۔ ویسی ہی ضرورت جیسی اورنگزیب عالمگیرؒ کے دور میں محسوس کی گئی اور جس کے نتیجے میں فتاویٰ عالمگیری وجود میں آیا تھا۔ اگر گیارہویں صدی میں فقہ کے سابقہ ذخیرہ پر نظر ثانی اور اس دور کے جدید مسائل کے حل کے لیے مشترکہ علمی کاوش فقہی تسلسل کے منافی نہ تھی تو آج بھی اس کی ضرورت سے انکار نہیں کیا جا سکتا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دور جدید میں اجتہاد کی ضرورت اور دائرۂ کار

اپریل ۲۰۰۳ء

اسامہ بن لادن اور امریکی تحریک آزادی کے جنگجو

ایک معاصر اخبار نے این این آئی کے حوالے سے یہ خبر شائع کی ہے کہ امریکی کانگریس کی ایک خاتون رکن مارکی کیپٹر (Marcy Kaptur) نے اسامہ بن لادن کو دہشت گرد قرار دینے کے موقف سے اختلاف کیا ہے اور کہا ہے کہ اسامہ بن لادن مذہبی طور پر آزادی کی جنگ لڑنے والے انقلابی رہنماؤں کی طرح ہیں جیسا کہ امریکہ میں 1770ء میں ورماؤنٹ ملیشیا نے برطانوی سامراج کے خلاف اسی طرح کی جدوجہد کی تھی۔ مارکی کیپٹر کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ اوہایو ڈسٹرکٹ سے گیارہویں بار کانگریس کی رکن منتخب ہوئی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اسامہ بن لادن اور امریکی تحریک آزادی کے جنگجو

۲۱ مارچ ۲۰۰۳ء

خلافت عثمانیہ کے خاتمہ میں یہودی کردار

روزنامہ نوائے وقت لاہور نے ایک اسرائیلی اخبار کے حوالہ سے خبر دی ہے کہ اسرائیل کے وزیر دفاع جنرل موفاذ نے کہا ہے کہ چند روز تک عراق پر ہمارا قبضہ ہوگا اور ہمارے راستے میں جو بھی رکاوٹ بنے گا اس کا حشر عراق جیسا ہی ہوگا۔ جنرل موفاذ نے خلافت عثمانیہ کا حوالہ بھی دیا ہے کہ عثمانی خلیفہ سلطان عبد الحمید نے ہمیں فلسطین میں جگہ دینے سے انکار کیا تھا جس کی وجہ سے ہم نے نہ صرف ان کی حکومت ختم کر دی بلکہ عثمانی خلافت کا بستر ہی گول کر دیا۔ اب جو اسرائیل کی راہ میں مزاحم ہوگا اسے اسی انجام سے دو چار ہونا پڑے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر خلافت عثمانیہ کے خاتمہ میں یہودی کردار

۱۷ مارچ ۲۰۰۳ء

ڈاکٹر مہاتیر محمد کے افکار پر ایک نظر

ملائیشیا کے وزیراعظم ڈاکٹر مہاتیر محمد نے گزشتہ دنوں کوالالمپور میں غیر وابستہ تحریک کی سربراہی کانفرنس منعقد کر کے اور اس کے بعد اسلامی سربراہ کانفرنس کا ہنگامی اجلاس طلب کر کے جہاں اپنے لیے خطرات میں اضافہ کیا ہے وہاں دنیا بھر کے باضمیر افراد اور خاص طور پر مظلوم مسلمانوں کی یہ کہہ کر توجہ بھی حاصل کر لی ہے کہ مجھے بھی سپرپاور سے خوف محسوس ہوتا ہے اور مجھے بھی یہ خطرہ ہے کہ میری گردن دبوچ لی جائے گی لیکن اس کے باوجود ضمیر بھی آخر کوئی چیز ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ ضمیر کی آواز پر لبیک کہنا اور ظلم کے خلاف آواز بلند کرنا ضروری ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ڈاکٹر مہاتیر محمد کے افکار پر ایک نظر

۸ مارچ ۲۰۰۳ء

بسنت اور ویلنٹائن ڈے

پاکستان کے مختلف شہروں میں ان دنوں باری باری بسنت منائی جا رہی ہے اور اس بہانے رقص و سرور، فائرنگ اور بدکاری و بے حیائی کو فروغ دینے کے لیے ہر حربہ اختیار کیا جا رہا ہے۔ لاہور میں صدر پاکستان نے خود شریک ہو کر اس رسم بد کی حوصلہ افزائی کی ہے جبکہ ذرائع ابلاغ اسے اس انداز میں اجاگر کرنے میں لگے ہوئے ہیں جیسے اس وقت قوم کی سب سے بڑی ضرورت یہی ہو۔ بسنت میں پتنگ بازی کے ساتھ بے حیائی اور حرام کاری کی جو خرافات شامل ہوگئی ہیں ان کے علاوہ کروڑوں روپے کا نقصان بھی ہر سال ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر بسنت اور ویلنٹائن ڈے

مارچ ۲۰۰۳ء

جرمن وزیرخارجہ کے اعلان کا خیرمقدم

سب سے پہلے یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ اس وقت اسلام اور مغرب کے درمیان کشمکش کی جو فضا موجود ہے اور جس کی سنگینی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اس کے اسباب کیا ہیں، اور کیا صرف مذہبی تعلیمات کی وجہ سے یہ تصادم رونما ہوا ہے؟ ہمارے خیال میں اصل صورتحال یہ نہیں ہے اور بنیادی طور پر اس نکتہ کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اصل قصہ یہ ہے کہ مغرب نے مذہب کو ’’آؤٹ آف ڈیٹ‘‘ قرار دے کر کباڑ خانے میں پھینک دیا ہے اور مغرب کے پورے نظام، فکر و فلسفہ اور معاشرت کی بنیاد لا مذہبیت پر بلکہ مذہب کے معاشرتی کردار کی نفی پر ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جرمن وزیرخارجہ کے اعلان کا خیرمقدم

۱۹ فروری ۲۰۰۳ء

سعودی عرب کی مجوزہ سیاسی اصلاحات

جب بھی اسلامی نظام حکومت کی بات ہوتی ہے ایک شخص،گروہ، یا خاندانی آمریت کا تصور ہی ذہنوں میں ابھرتا ہے اور اس حقیقت کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے کہ اسلام کا آئیڈیل نظام مذکورہ حکومتیں نہیں بلکہ خلافت راشدہ کا نظام ہے۔ خاندانی خلافتوں اور طاقت کے بل پر قائم ہونے والی حکومتوں کو مختلف ادوار میں برداشت ضرور کیا گیا ہے جس طرح ہمارے ہاں نظریۂ ضرورت بلکہ نظریۂ مجبوری کے تحت آئین سے ماورا حکومتوں کو برداشت کر لیا جاتا ہے۔ لیکن ایسی حکومتوں کو نہ تو آئیڈیل تسلیم کیا جا سکتا ہے اور نہ اسلامی دستور کی تشکیل میں انہیں بنیاد بنایا جا سکتاہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سعودی عرب کی مجوزہ سیاسی اصلاحات

۱۸ فروری ۲۰۰۳ء

جنوبی ایشیا میں دینی مدارس کے معاشرتی کردار پر ایک سرسری نظر

دینی مدارس کی ان خدمات کی وجہ سے مغربی استعمار انہیں اپنی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ سمجھتا ہے اور ان مدارس کو ختم کرنے یا سرکاری کنٹرول میں لا کر بے اثر بنانے کے لیے وقتاً فوقتاً منصوبے بنتے رہتے ہیں۔ جبکہ یہ دینی مدارس سمجھتے ہیں کہ ان کی مذکورہ بالاخدمات اور کارکردگی کا تسلسل و اثرات صرف اسی صورت میں باقی رہ سکتے ہیں جب وہ سرکاری مداخلت سے آزاد ہوں، مالی طور پر خود مختار ہوں، اور نصاب و نظام کے معاملات خود ان کے اپنے کنٹرول میں ہوں۔ ورنہ ورلڈ اسٹیبلشمنٹ کے زیر اثر ریاستی مشینری کو مداخلت کا موقع دینے سے دینی مدارس کا یہ سارا نظام مجروح ہوگا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جنوبی ایشیا میں دینی مدارس کے معاشرتی کردار پر ایک سرسری نظر

۳ فروری ۲۰۰۳ء

پاکستان میں نفاذ اسلام کی ترجیحات

بد قسمتی سے پاکستان بننے کے بعد سے اب تک نفاذ اسلام کے علمی و فکری تقاضوں اور عصری مسائل کے اسلامی تناظر میں تجزیہ و حل کے لیے غیر سرکاری سطح پر کوئی اجتماعی کام منظم نہیں ہو سکا۔ اگرچہ اس حوالہ سے شخصی حوالوں سے اچھا خاصا کام سامنے آیا ہے مگر شخصی فکر اور عقیدت کے دائروں میں محدود ہونے کی وجہ سے قوم کی اجتماعی زندگی میں اس کے خاطر خواہ ثمرات مرتب نہیں ہو سکے اور نفاذ اسلام کے محاذ پر علمی و فکری ہوم ورک کا خلا بدستور ارباب علم و دانش کو کھٹک رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر پاکستان میں نفاذ اسلام کی ترجیحات

فروری ۲۰۰۳ء

شخصی غلامی کا نیا ایڈیشن

روزنامہ جنگ راولپنڈی نے ۳۱ دسمبر ۲۰۰۲ء کی اشاعت میں امریکی محکمہ خارجہ کی ایک رپورٹ کے حوالہ سے بتایا ہے کہ ہر سال دنیا میں عصمت فروشی اور جبری مشقت کے لیے چالیس سے ساٹھ لاکھ افراد کی خرید و فروخت ہوتی ہے اور تقریباً ہر سال پچاس ہزار افراد کو غیر قانونی طور پر امریکہ سمگل کیا جاتا ہے جن میں زیادہ تر تعداد کمسن بچیوں کی ہوتی ہیں جنہیں زبردستی عصمت فروشی پر مجبور کیا جاتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق دنیا کے لاکھوں انسان بہتر مستقبل کی تلاش میں ۲۱ ویں صدی کے ’’غلامی‘‘ کے تاجروں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر شخصی غلامی کا نیا ایڈیشن

فروری ۲۰۰۳ء

حفاظت قرآن کا تکوینی نظام

کسی کتاب کی بقا اور حفاظت کے ظاہری اسباب چمڑا، تختی، کاغذ،قلم، ڈسک، سی ڈی اور کیسٹ وغیرہ ہیں۔ یہ اسباب موجود ہوں تو کتاب کا وجود بھی ہے اور اگر خدانخواستہ ان اسباب کا وجود باقی نہ رہے تو کسی کتاب کا وجود باقی نہیں رہے گا۔ لیکن قرآن کریم ان تمام اسباب سے بے نیاز ہے کہ ان میں سے ایک سبب بھی باقی نہ رہے تب بھی قرآن کریم پر اس کا رتی بھر اثر نہیں پڑتا۔ اس لیے کہ وہ لاکھوں سینوں میں محفوظ ہے اور اتنی بار پڑھا و سنا جاتا ہے کہ کتاب کے وجود اور بقاء کے ظاہری اسباب کی موجودگی یا غیر موجودگی اس کے لیے ایک جیسی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حفاظت قرآن کا تکوینی نظام

۳۰ نومبر ۲۰۰۲ء

اقلیتوں کے حقوق اور اسلامی روایات

جمیع بن حاضر الباجی نے تحقیقات کے بعد شکایت کو درست پایا تو فیصلہ صادر کر دیا کہ شہر پر قبضہ چونکہ اسلامی احکام کے مطابق نہیں ہوا اس لیے مسلم افواج سمرقند شہر خالی کر دیں۔ چنانچہ قاضی کا فیصلہ نافذ ہوگیا اور اسلامی فوج پندرہ سال قبل فتح کیا ہوا شہر خالی کر کے باہر کھلے میدان میں نکل آئی۔ یہ منظر دیکھ کر شہر کے باشندے حیران و ششدر رہ گئے اور اصول و احکام کی اس پاسداری کو دیکھ کر اس قدر متاثر ہوئے کہ انہوں نے اجتماعی طور پر اسلام قبول کرنے کا فیصلہ کر لیا اور ان کی دعوت پر اسلامی فوج نے پھر شہر میں داخل ہو کر سمرقند کا نظم و نسق سنبھال لیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اقلیتوں کے حقوق اور اسلامی روایات

۱۵ نومبر ۲۰۰۲ء

دور جدید کے فکری تقاضے اور علماء کرام

نوجوان علماء کو اس بات سے بھی باخبر ہونا چاہیے کہ جب یونان،ایران اور ہندوستان کے فلسفوں نے مسلمانوں کے عقائد واعمال میں دراندازی شروع کی، ان کے اثرات ہمارے ہاں پھیلنے لگے اور ان فلسفوں نے ہمارے عقائد کو متاثر کرنا چاہا تو اس وقت کے باشعور علماء اسلام نے ان فلسفوں سے آگاہی حاصل کی، ان پر عبور حاصل کیا اور ان فلسفوں کی زبان اور اصطلاحات استعمال کر کے انہی کے دلائل سے اسلام کی حقانیت کو دنیا کے سامنے پیش کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دور جدید کے فکری تقاضے اور علماء کرام

نومبر ۲۰۰۲ء

یورپی یونین کے مطالبات اور جمہوریہ ترکی

روزنامہ اسلام کے فارن ڈیسک کی رپورٹ کے مطابق یورپی یونین نے ترکی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ملک میں رائج سزائے موت کا قانون ختم کرے اور اپنے تعلیمی نظام، ریڈیو اور ٹی وی کی نشریات میں ترکی زبان کا استعمال ترک کر دے اور اس کی بجائے انگریزی کو ذریعہ تعلیم، ریڈیو اور ٹیلی ویژن کی نشریات کی زبان کے طور پر اختیار کرے۔ یورپی یونین کے اس مطالبہ پر ترکی میں سخت اضطراب پایا جاتا ہے اور ترکی کے نائب وزیراعظم اور نیشنل موومنٹ پارٹی کے سربراہ دولت باصلی نے یورپی یونین کے اس مطالبے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر یورپی یونین کے مطالبات اور جمہوریہ ترکی

۸ ستمبر ۲۰۰۲ء

ملتان، احمد شاہ ابدالی کا شہر

ملتان ایک پرانا اور تاریخی شہر ہے جس کا ذکر قبل از مسیح دور کی تاریخ میں اسی نام سے ملتا ہے اور تاریخ کی بہت سی یادیں اس شہر سے وابستہ ہیں۔ خلافت بنو امیہ کے دور میں جب اسلامی فوجیں ۴۴ھ میں سجستان اور مکران پر قابض ہوئیں تو مسلم کمانڈر ابن المہلبؒ کے بارے میں تذکرہ ملتا ہے کہ وہ آگے بڑھتے ہوئے ملتان تک پہنچا لیکن اس شہر پر قبضہ نہ کر سکا۔ اس کے بعد جب سندھ کے راجہ داہر کے خلاف محمد بن قاسمؒ کی قیادت میں اسلامی فوجوں نے یلغار کی اور سندھ کو فتح کرتے ہوئے محمد بن قاسمؒ نے پیش قدمی جاری رکھی تو ۹۵ھ میں اس نے ملتان کا محاصرہ کر لیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ملتان، احمد شاہ ابدالی کا شہر

۱۱ اگست ۲۰۰۲ء

غیر شرعی رسم و رواج

ہمارے ہاں لڑکی کی پیدائش کو باعث عار سمجھا جاتا ہے اور کئی مائیں اس جرم میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں یا کم از کم طلاق کی مستحق قرار پاتی ہیں کہ ان کی کوکھ سے بیٹے کی بجائے بیٹی نے جنم لیا ہے۔ یہاں عورت کو وراثت کے جائز حق سے جان بوجھ کر محروم کر دیا جاتا ہے، باپ یا خاوند کی وراثت سے اپنا حق وصول کرنے والی خواتین خاندان میں ’’نکو ‘‘ بن کر رہ جاتی ہیں۔ بعض علاقوں میں وراثت اور جائیداد تک عورت کی رسائی کا امکان ختم کرنے کیلئے اسے شادی کے فطری اور جائز حق سے محروم رکھا جاتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر غیر شرعی رسم و رواج

یکم اگست ۲۰۰۲ء

دینی مدارس ۔ پس منظر اور موجودہ کردار

جب تک ریاستی نظام معاشرہ میں دینی تعلیمات کے فروغ، مساجد کے لیے ائمہ کی فراہمی، دینی رہنمائی کے لیے علماء کی تیاری، اور قرآن و سنت کی تعلیم کے لیے اساتذہ مہیا کرنے کی ذمہ داری قبول نہیں کرتا اور اس کے لیے قابل قبول عملی نظام پیش نہیں کرتا اس وقت تک ان مدارس کے قیام و وجود کی ضرورت بہرحال باقی رہے گی۔ ورنہ وہی خلاء پیدا ہو جائے گا جس کو پر کرنے کے لیے مدارس قائم کیے گئے تھے۔ اس خلاء کو پر کرنے کے لیے نہ صرف ان مدارس کا وجود ضروری ہے بلکہ ان کی اس مالیاتی خودمختاری، انتظامی آزادی، اور نصابی تحفظات کا برقرار رکھنا بھی ناگزیر ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دینی مدارس ۔ پس منظر اور موجودہ کردار

۲۴ جولائی ۲۰۰۲ء

جنرل مشرف کی مجوزہ سیاسی اصلاحات

صدر جنرل پرویز مشرف نے ریڈیو اور ٹی وی پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے جن اصلاحات کا اعلان کیا ہے وہ نئی نہیں ہیں بلکہ یہ اس دستوری آنکھ مچولی کا لازمی حصہ بن چکی ہیں جو قیام پاکستان سے لے کر اب تک مسلسل جاری ہے، اور جس میں ہمارے حکمران طبقات باری باری طاقت کو اپنے ہاتھ میں لینے اور پھر اسے کنٹرول میں رکھنے کا تجربہ کرتے آرہے ہیں۔ گورنر جنرل غلام محمد سے اس کھیل کا آغاز ہوا اور اسکندر مرزا، جنرل محمد ایوب خان، جنرل محمد یحییٰ خان، ذوالفقار علی بھٹو اور جنرل ضیاء الحق، بے نظیر بھٹو اور میاں محمد نواز شریف کے ادوار سے گزرتا ہوا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جنرل مشرف کی مجوزہ سیاسی اصلاحات

۱۷ جولائی ۲۰۰۲ء

مسئلہ کشمیر اور برطانوی وزیرخارجہ کا عذرِ لنگ

جب تقسیم پنجاب کے وقت برطانوی حکمرانوں کا مفاد اس میں تھا تو قادیانیوں نے ریڈ کلف کمیشن کے سامنے اپنا کیس مسلمانوں سے الگ پیش کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کی تھی اور اسی کے نتیجے میں کشمیر کے خوفناک تنازع نے جنم لیا تھا جو آج نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے خطرہ بنا ہوا ہے۔ اس لیے برطانوی وزیر خارجہ جیک اسٹرا کشمیر کا تنازع کھڑا کرنے میں برطانوی کردار کو تسلیم کریں یا نہیں اور اس پر معذرت کی ضرورت محسوس کریں یا نہیں، لیکن وہ خود کو بچہ قرار دے کر تاریخی حقائق لوگوں کی نگاہوں سے اوجھل نہیں کر سکتے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مسئلہ کشمیر اور برطانوی وزیرخارجہ کا عذرِ لنگ

۱۶ جولائی ۲۰۰۲ء

مغرب کے تین دعوؤں کی حقیقت

مغرب کا دعویٰ ہے کہ اس نے نسل انسانی کو ایک ایسی تہذیب سے روشناس کرایا ہے جو جدید ترین تہذیب ہے، انسانی سوسائٹی کی خواہشات و ضروریات کو پورا کرتی ہے، اور یہ تہذیب انسانی تمدن کے ارتقاء کے نتیجہ میں ظہور پذیر ہوئی ہے۔ یہ نسل انسانی کے اب تک کے تجربات کا نچوڑ ہے اور اس سے بہتر تہذیب اور کلچر کا اب کوئی امکان باقی نہیں ہے۔ اس لیے یہ انسانی تاریخ کی آخری تہذیب اور فائنل کلچر ہے، اس کے بعد اور کوئی تہذیب نہیں آئے گی اور دنیا کے خاتمے تک اسی تہذیب نے حکمرانی کرنی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مغرب کے تین دعوؤں کی حقیقت

۱۰ جولائی ۲۰۰۲ء

جی ایٹ کا اصل ایجنڈا

دنیا کے آٹھ بڑے ترقی یافتہ ممالک کے گروپ جی ایٹ کا سربراہی اجلاس گزشتہ روز کینیڈا میں ختم ہوگیا۔ اس اجلاس میں روس کے صدر نے بھی شرکت کی اور روس کو جی ایٹ کی رکنیت دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس میں دنیا میں دہشت گردی کے خاتمہ کے لیے بیس ارب ڈالر جبکہ غریب ترین ممالک کی امداد کے لیے ایک ارب ڈالر دینے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ جنوبی ایشیا میں کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان سے کہا گیا ہے کہ وہ ملک کے اندر دہشت گردی کے مراکز کو ختم کر کے کشمیر میں در اندازی کا سلسلہ مستقل طور پر روکنے کا اہتمام کرے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جی ایٹ کا اصل ایجنڈا

۳ جولائی ۲۰۰۲ء

رفاہ عامہ، مغربی فلسفے کی ترویج کا سب سے مؤثر ذریعہ

یہ این جی اوز تعلیم، صحت اور رفاہ عامہ کے دیگر شعبوں میں سرگرم ہوتی ہیں اور اس کی آڑ میں اپنے فکری و تہذیبی ایجنڈے کو آگے بڑھاتی ہیں۔ یہ اس وقت مسلم معاشروں میں شکوک و شبہات پھیلانے، ایمان و یقین کو کمزور کرنے، اور اسلامی احکام و قوانین کے حوالہ سے تذبذب کی فضا قائم کرنے کے لیے مغرب کا سب سے بڑا ہتھیار ہے۔ اس میں ہماری کوتاہی اور غفلت کا زیادہ دخل ہے کیونکہ ہم رفاہ عامہ کے محاذ پر، عوام کی تعلیم و صحت کی بہتری کے محاذ پر، اور ان کے حقوق و مفادات کے محاذ پر سرگرم نہیں ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر رفاہ عامہ، مغربی فلسفے کی ترویج کا سب سے مؤثر ذریعہ

۲ جولائی ۲۰۰۲ء

پاکستان میں سودی نظام ۔ تین پہلوؤں سے

اسلامی جمہوریہ پاکستان میں سودی نظام و قوانین کے ۳۰ جون ۲۰۰۲ء تک خاتمہ کے لیے سپریم کورٹ آف پاکستان کے تاریخی فیصلے پر نظر ثانی کے سلسلے میں یو بی ایل کی اپیل ان دنوں شریعت اپیلٹ بنچ سپریم کورٹ آف پاکستان میں زیر سماعت ہے۔ اس موقع پر دینی و ملی ذمہ داری محسوس کرتے ہوئے ’’پاکستان شریعت کونسل‘‘ کی طرف سے چند گزارشات فریقین کے وکلاء اور اس موضوع سے دلچسپی رکھنے والے دیگر سرکردہ ارباب علم و دانش کی خدمت میں پیش کی جا رہی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر پاکستان میں سودی نظام ۔ تین پہلوؤں سے

۱۶ جون ۲۰۰۲ء

کشمیر اور فلسطین ۔ عالمی طاقتوں کی ترجیحات

یہ وہی صورتحال ہے جو فلسطین میں اس سے قبل ہم دیکھ چکے ہیں کہ جناب یاسر عرفات کو عسکری زندگی سے نکال کر مذاکرات کی میز پر لانے کے بعد اس بات پر مسلسل مجبور کیا جا رہا ہے کہ جو فلسطینی لوگ مذاکرات کے عمل کو قبول نہ کرتے ہوئے عسکری کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں انہیں عسکری کارروائیوں سے باز رکھنے یا ان کے باز نہ آنے کی صورت میں انہیں کچلنے اور ان کی عسکری صلاحیت کو مفلوج کرنے کے لیے بھی یاسر عرفات کردار ادا کریں، بلکہ اس مقصد کے لیے اسرائیل کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر کشمیر اور فلسطین ۔ عالمی طاقتوں کی ترجیحات

۴ جون ۲۰۰۲ء

سیرت نبویؐ کی روشنی میں جہاد کا مفہوم

باطل مذاہب پر حق مذہب کی بالادستی کے لیے عسکری جنگ لڑنے کا آغاز حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا بلکہ جہاد کا یہ عمل آسمانی ادیان میں پہلے سے تسلسل کے ساتھ چلا آ رہا ہے، اور جناب نبی اکرم نے اس حوالے سے تاریخ میں کسی نئے عمل اور اسلوب کا اضافہ کرنے کے بجائے آسمانی مذاہب کی ایک مسلسل روایت کو برقرار رکھا ہے۔ چنانچہ جس طرح قرآن کریم میں جہاد اور مجاہدین کا تذکرہ پایا جاتا ہے، اسی طرح بائبل میں بھی ان مجاہدین اور مذہبی جنگوں کا ذکر موجود ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سیرت نبویؐ کی روشنی میں جہاد کا مفہوم

جون ۲۰۰۲ء

پارلیمنٹ کے لیے اجتہاد کا اختیار

گزشتہ دنوں ملک کے معروف قانون دان جناب عابد حسن منٹو نے ایک قومی اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ اجتہاد کے لیے مولوی کی ضرورت نہیں ہے بلکہ آج کے دور میں اجتہاد کرنا پارلیمنٹ کا کام ہے۔ جبکہ اس سے کچھ دن بعد تنظیم اسلامی پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر اسرار احمد کے ایک خطبہ جمعہ کے حوالے سے ان کا یہ ارشاد سامنے آیا ہے کہ اجتہاد کا کام کلیتاً پارلیمنٹ کے سپرد نہیں کیا جا سکتا۔ یوں یہ بحث ایک بار پھر قومی اخبارات میں شروع ہوتی نظر آرہی ہے کہ آج کے دور میں اجتہاد کا حق کس کو حاصل ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر پارلیمنٹ کے لیے اجتہاد کا اختیار

۲۳ مئی ۲۰۰۲ء

اسرائیل کے قیام کا مقصد اور ’’عرب منصوبہ‘‘

اس سے قبل جب سعودی ولی عہد شہزادہ عبد اللہ کی طرف سے 1967ء کے مقبوضہ علاقے خالی کر دینے کی صورت میں اسرائیل کو تسلیم کرنے کی پیشکش کی گئی تھی تو ہم نے اس کالم میں عرض کیا تھا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ سعودی عرب نے فلسطین کی تقسیم اور اسرائیل کے قیام کے لیے اقوام متحدہ کی اس قرارداد کو تسلیم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے جس سے سعودی عرب کے بانی شاہ عبد العزیز نے امریکی صدر ٹرومین کے نام اپنے 1948ء کے تحریر کردہ خط میں صاف طور پر انکار کر دیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اسرائیل کے قیام کا مقصد اور ’’عرب منصوبہ‘‘

۳ اپریل ۲۰۰۲ء

جمہوریت، مسلم ممالک اور امریکہ

امریکہ مسلم ممالک میں جمہوریت کو فروغ دینے میں ناکامی کا ذمہ دار ہے، بلکہ دنیا میں جمہوریت کے فروغ کی راہ میں امریکہ خود سب سے بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ اور اس کی حتی الوسع یہ کوشش ہے کہ دنیا کے کسی بھی مسلمان ملک میں جہاں کے عام مسلمان اسلام کے ساتھ کمٹ منٹ رکھتے ہیں اور اپنی اجتماعی زندگی میں اسلامی احکام وقوانین کی عمل داری کے واضح رجحان سے بہرہ ور ہیں، وہاں جمہوریت کا راستہ روکا جائے، عوام کو حکومتوں اور ان کی پالیسیوں کی تشکیل سے دور رکھا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جمہوریت، مسلم ممالک اور امریکہ

۴ فروری ۲۰۰۲ء

مسلم ممالک کے نصاب تعلیم اور بل کلنٹن کی ہدایات

جدہ میں اکنامک فورم سے خطاب کرتے ہوئے سابق امریکی صدر بل کلنٹن نے جن خیالات کا اظہار کیا ہے اس کا ایک جملہ ایک قومی اخبار نے یوں نقل کیا ہے: ’’انہوں نے مسلمانوں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے تعلیمی نظام میں عقیدے کی تلقین ختم کریں‘‘۔ اس بارے میں کچھ گزارشات گزشتہ کالم میں پیش کی جا چکی ہیں۔ 22 جنوری 2002ء کو ایک اور قومی اخبار نے جناب کلنٹن کے اس خطاب کی مزید تفصیلات شائع کی ہیں جن کے پیش نظر کچھ مزید معروضات ضروری محسوس ہوتی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مسلم ممالک کے نصاب تعلیم اور بل کلنٹن کی ہدایات

۲۸ جنوری ۲۰۰۲ء

جدید سائنسی ترقی سے محرومی اور گورنر پنجاب کا شکوہ

گورنر پنجاب لیفٹیننٹ جنرل (ر) خالد مقبول نے رمضان المبارک کے دوران لاہور کے تین دینی مراکز کا دورہ کیا اور علماء و طلبہ کے سامنے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ وہ جامعہ اشرفیہ مسلم ٹاؤن، جامعہ نظامیہ لوہاری گیٹ اور جامعہ عثمانیہ ماڈل ٹاؤن تشریف لے گئے، اساتذہ، طلبہ اور مسجد کے نمازیوں سے ملاقات کی اور ان سے مختلف امور پر بات چیت کی۔ اس سے قبل وفاقی وزیر داخلہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) معین الدین حیدر نے کراچی میں دارالعلوم کورنگی کا دورہ کیا اور اساتذہ و طلبہ سے بعض امور پر گفتگو کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جدید سائنسی ترقی سے محرومی اور گورنر پنجاب کا شکوہ

۲۸ دسمبر ۲۰۰۱ء

ترکی، سیکولرازم اور یورپی یونین

ایک قومی روزنامہ نے لاہور کی اشاعت میں ۲۳ نومبر کو انقرہ سے اے ایف پی کے حوالہ سے یہ خبر شائع کی ہے کہ ترک پارلیمنٹ نے ایک بل منظور کیا ہے جس کی رو سے مردوں کی عورتوں پر بالادستی ختم کرتے ہوئے عورتوں کو زیادہ حقوق دے دیے گئے ہیں۔ خبر کے مطابق ان اقدامات کا مقصد یورپی یونین کا رکن بننے کی ضرورت پوری کرنا ہے۔ خانگی قوانین میں اہم ترمیم یہ کی گئی ہے کہ: خاندان کا سربراہ خاوند نہیں ہوگا لہٰذا عائلی معاملات میں دونوں کی حیثیت برابر ہوگی، شادی کے دوران کمائے گئے تمام اثاثے میاں بیوی کی مشترکہ ملکیت ہوں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ترکی، سیکولرازم اور یورپی یونین

۶ دسمبر ۲۰۰۱ء

افغانستان پر امریکی حملے کی معاونت ۔ صدر مشرف کا سیرۃ نبویؐ سے استدلال

صدر صاحب نے افغانستان پر حملہ میں امریکہ کی معاونت کے جواز میں حضورؐ کے اسوۂ حسنہ سے استدلال کیا ہے اور کہا ہے کہ رسالت مآبؐ نے ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں یہودی قبائل کے ساتھ معاہدہ کر کے بدر، احد اور خندق کے معرکوں میں کفار مکہ کو شکست دی اور اس کے بعد حدیبیہ میں کفار مکہ سے معاہدہ کر کے غزوۂ خیبر میں یہودیوں کی شکست کی راہ ہموار کی، اس لیے حکمت اور دانش کے تحت کسی کافر قوم سے وقتی مصالحت کا جواز موجود ہے۔ صدر مشرف کا یہ استدلال درست نہیں ہے، اس لیے کہ جناب نبی اکرمؐ کے دونوں طرف کافر اقوام تھیں اور دونوں دشمن تھیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر افغانستان پر امریکی حملے کی معاونت ۔ صدر مشرف کا سیرۃ نبویؐ سے استدلال

۲۷ ستمبر ۲۰۰۱ء

کیا پاکستان کو ٹوٹ جانا چاہیے؟

جگہ اور دوست کا نام تو نہیں بتا سکوں گا مگر یہ زیادہ دیر کی بات نہیں ہے کہ دوران سفر کسی جگہ ایک دوست سے ملاقات ہوئی تو اس نے سلام و جواب اور پرسش احوال کے بعد پہلا سوال یہ کیا کہ سنائیے مولانا! پاکستان کب ٹوٹ رہا ہے؟ میں نے حیرانی سے پوچھا کہ آپ کو اس سے کیا دلچسپی ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہمارے بزرگوں نے اس کی مخالفت کی تھی اس لیے یہ زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتا۔ میں نے عرض کیا کہ میرے حضور اس ملک کی خیر منائیے اور اس کا بھلا سوچیے کہ یہ جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کی آخری پناہ گاہ ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر کیا پاکستان کو ٹوٹ جانا چاہیے؟

۲ ستمبر ۲۰۰۱ء

آزادیٔ کشمیر اور سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ

شاہ جی نے کہا کہ ’’کشمیر تو آپ اپنے ہاتھ سے دے چکے، اگر فائربندی کی بات نہ ہوتی تو ممکن ہے کوئی بات بن جاتی۔ مگر اب تو میری بات لکھ کر جیب میں ڈال لو کہ فرنگی اور ہندو اب آپ کو کشمیر نہیں دیں گے۔ ہاں اگر کبھی فرنگی کو ضرورت ہو کہ وہ اس مستقل فساد کو ختم کرنا چاہے تو ممکن ہے اس کا کچھ حصہ آپ کے پاس آجائے‘‘۔ شاہ جیؒ کا مطلب یہ تھا کہ جب 1948ء میں کشمیری مجاہدین اور ان کے ساتھ آزاد قبائل کے غیور مسلمان سری نگر اور پونچھ میں داخل ہو رہے تھے اس وقت جنگ جاری رکھنے کی بجائے سیز فائر قبول کر کے ہندوستان کو کشمیر پر مسلح قبضے کا موقع فراہم کیا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر آزادیٔ کشمیر اور سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ

۷ جون ۲۰۰۱ء

’’ناداں یہ سمجھتا ہے کہ اسلام ہے آزاد‘‘

اقبالؒ نے کسی دور میں مسجد و خانقاہ کی چار دیواری میں محدود رہنے والے اور معاشرتی زندگی سے لاتعلق اور بے پروا ہوجانے والے ملا کے بارے میں کہا تھا کہ ’’ملا کو جو ہے ہند میں سجدے کی اجازت، ناداں یہ سمجھتا ہے کہ اسلام ہے آزاد‘‘۔ انقلابِ زمانہ کا کرشمہ دیکھیے کہ اب ’’نادانی‘‘ کا یہ منصب ملا سے چھن کر جسٹس کی گود میں چلا گیا ہے۔ کچھ عرصہ سے ملک میں مغرب اور ہند کی ثقافتی یلغار، نئی نسل کو بے راہ روی کی دلدل میں دھکیلنے والے ثقافتی پروگراموں اور اسلام کی معاشرتی اقدار کی مسلسل پامالی کے حوالے سے ہمارے بعض جج صاحبان کے جو فیصلے سامنے آرہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ’’ناداں یہ سمجھتا ہے کہ اسلام ہے آزاد‘‘

۷ مئی ۲۰۰۱ء

جہاد کشمیر اور بعض حلقوں کے تحفظات

پشاور کی ’’خدمات دارالعلوم دیوبند کانفرنس‘‘ میں جمعیۃ علماء ہند کے سربراہ مولانا سید اسعد مدنی کی شمولیت کے حوالہ سے اخبارات میں بعض امور پر گفتگو کا سلسلہ چل نکلا ہے اور مختلف مضامین اور کالموں میں ملے جلے خیالات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ مجھے یہ بات اسی وقت کھٹک گئی تھی جب اس کانفرنس میں مولانا سید اسعد مدنی کی شرکت کا اعلان ہوا تھا اور میں نے بعض دوستوں سے اس کا اظہار بھی کر دیا تھا کہ اس سے مسائل پیدا ہوں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جہاد کشمیر اور بعض حلقوں کے تحفظات

۲۳ اپریل ۲۰۰۱ء

خوارج اور ان کا طرز استدلال

امت مسلمہ میں جس گروہ نے سب سے پہلے سنت نبویؐ اور تعامل صحابہؓ کو نظر انداز کر کے قرآن کریم کو براہ راست سمجھنے اور اپنے فہم و استدلال کی بنیاد پر قرآن کریم کے احکام و قوانین کے تعین کا راستہ اختیار کیا وہ ’’خوارج‘‘ کا گروہ ہے۔ خوارج کے بارے میں خود جناب نبی اکرمؐ کی پیشگوئی موجود ہے کہ میری امت میں ایک گروہ ایسا آئے گا جو قرآن کریم کی بہت زیادہ تلاوت کرے گا، اس کی نمازیں اور روزے بھی عام مسلمانوں کو تعجب میں ڈالنے والی ہوں گی، لیکن قرآن کریم ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا اور وہ قرآن کریم کے نام پر لوگوں کو گمراہ کریں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر خوارج اور ان کا طرز استدلال

۱۷ تا ۲۱ اپریل ۲۰۰۱ء

علامہ شبیر احمد عثمانی ؒ سے مولانا مفتی محمودؒ تک

جمعیۃ علماء اسلام کا قیام سب سے پہلے 1945ء میں اس وقت عمل میں آیا جب متحدہ ہندوستان میں علماء کی سب سے بڑی تنظیم جمعیۃ العلماء ہند نے تحریک آزادی میں تقسیم وطن اور قیام پاکستان کے سوال پر مسلم لیگ کی بجائے انڈین نیشنل کانگریس کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا، اور قیام پاکستان کو جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کے لیے غیر مفید قرار دیتے ہوئے اس کی مخالفت کا اعلان کیا۔ اس فیصلہ سے اختلاف رکھنے والے علماء نے، جن میں شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانیؒ سر فہرست تھے، جمعیۃ علماء ہند سے علیحدگی اختیار کر لی اور اس کے بعد جمعیۃ علماء اسلام کا قیام عمل میں لایا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر علامہ شبیر احمد عثمانی ؒ سے مولانا مفتی محمودؒ تک

۱۰ اپریل ۲۰۰۱ء

دارالعلوم دیوبند اور جنوبی ایشیا کا مسلم معاشرہ

دارالعلوم دیوبند کے قیام کی بنیادی غرض اس تعلیمی خلاء کو پر کرنا تھا جو درس نظامی کے ہزاروں مدارس کی یکلخت بندش سے پیدا ہوگیا تھا۔ اور یہ شدید خطرہ نظر آنے لگا تھا کہ عوام کی ضرورت کے مطابق حافظ، قاری، امام، خطیب، مفتی اور مدرس فراہم نہ ہونے کی صورت میں جنوبی ایشیا کی لاکھوں مساجد ویران ہو جائیں گی۔ اور اس کے نتیجے میں نئی نسل تک قرآن و سنت کی تعلیم پہنچانے کا کوئی ذریعہ باقی نہیں رہے گا اور اسلامی تہذب و ثقافت کے آثار اس خطہ سے کچھ عرصہ میں ہی ختم ہو کر رہ جائیں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دارالعلوم دیوبند اور جنوبی ایشیا کا مسلم معاشرہ

۹ اپریل ۲۰۰۱ء

غامدی صاحب سے مباحثہ ۔ ایک غلط فہمی کا ازالہ

ایک صاحب علم دوست نے سوال کیا کہ علمی تفردات میں مولانا ابوالکلام آزادؒ اور مولانا عبید اللہ سندھیؒ بھی مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ سے پیچھے نہیں ہیں۔ لیکن اس کی وجہ کیا ہے کہ ان کے تفردات علماء کے حلقہ میں اس شدت کے ساتھ موضوع بحث نہیں بنے جس شدت کے ساتھ مولانا مودودیؒ کے افکار کو نشانہ بنایا گیا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ مولانا سندھیؒ اور مولانا ابوالکلام آزادؒ کے علمی تفردات پر ان کے شاگردوں اور معتقدین نے دفاع اور ہر حال میں انہیں صحیح ثابت کرنے کی وہ روش اختیار نہیں کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر غامدی صاحب سے مباحثہ ۔ ایک غلط فہمی کا ازالہ

۵ اپریل ۲۰۰۱ء

دینی مدارس کا نصاب تعلیم

دینی مدارس میں مروج نصاب تعلیم کو درس نظامی کا نصاب کہا جاتا ہے جو ملا نظام الدین سہالویؒ سے منسوب ہے۔ ملا نظام الدین سہالویؒ المتوفی (۱۱۶۱ھ)حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے معاصرین میں تھے۔ ان کا قدیمی تعلق ہرات (افغانستان) کے معروف بزرگ حضرت شیخ عبد اللہ انصاریؒ سے تھا۔ اس خاندان کے شیخ نظام الدینؒ نامی بزرگ نے یوپی کے قصبہ سہالی میں کسی دور میں درس و تدریس کا سلسلہ شروع کیا تھا اور پھر ان کے خاندان میں یہ سلسلہ نسل درنسل چلتا رہا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دینی مدارس کا نصاب تعلیم

اپریل ۲۰۰۱ء

خلافت عثمانیہ کا خاتمہ ۔ عربوں کا برطانیہ کے ساتھ تعاون

برطانوی استعمار نے خلافت عثمانیہ کے خاتمہ اور عربوں کو خلافت سے بے زار کرنے کے لیے مختلف عرب گروپوں سے سازباز کی تھی اور نہ صرف لارنس آف عریبیہ بلکہ اس قسم کے بہت سے دیگر افراد و اشخاص کے ذریعہ عرب قومیت اور خود عربوں کے داخلی دائرہ میں مختلف علاقائی و طبقاتی عصبیتوں کو ابھارنے کے لیے ایک وسیع نیٹ ورک قائم کر رکھا تھا۔ یہ اسی تگ و دو کا نتیجہ ہے کہ خلافت عثمانیہ کا صدیوں تک حصہ رہنے والی عرب دنیا آج چھوٹے چھوٹے بے حیثیت ممالک میں بٹ کر رہ گئی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر خلافت عثمانیہ کا خاتمہ ۔ عربوں کا برطانیہ کے ساتھ تعاون

۱۸ جنوری ۲۰۰۱ء

غامدی صاحب کے ارشادات پر ایک نظر

جاوید احمد غامدی صاحب ہمارے محترم اور بزرگ دوست ہیں، صاحب علم ہیں، عربی ادب پر گہری نظر رکھتے ہیں، وسیع المطالعہ دانشور ہیں، اور قرآن فہمی میں حضرت مولانا حمید الدین رحمہ اللہ تعالیٰ کے مکتب کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان دنوں قومی اخبارات میں غامدی صاحب اور ان کے شاگرد رشید جناب خورشید احمد ندیم کے بعض مضامین اور بیانات کے حوالے سے ان کے کچھ تفردات سامنے آرہے ہیں جن سے مختلف حلقوں میں الجھن پیدا ہو رہی ہے۔ اور بعض دوستوں نے اس سلسلہ میں ہم سے اظہار رائے کے لیے رابطہ بھی کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر غامدی صاحب کے ارشادات پر ایک نظر

۱۴، ۱۶، ۱۷ جنوری ۲۰۰۱ء

ڈاکٹر مراد ولفرڈ ہوف مین کے خیالات

ڈاکٹر مراد ہوف مین جرمنی کے دفتر خارجہ میں اہم عہدوں پر فائز رہے، نیز مراکش اور الجزائر میں سفیر کے منصب پر فائز رہنے کے علاوہ برسلز میں نیٹو کے ڈائریکٹر انفرمیشن کی حیثیت سے بھی خدمات سر انجام دیتے رہے۔ اسلام قبول کرنے کے بعد انہوں نے مختلف مضامین و مقالات میں اسلام اور مغرب کی تہذیبی کشمکش کا تفصیل سے جائزہ لیا ہے اور اس ثقافتی جنگ کے اسباب و علل کی نشاندہی کرنے کے ساتھ مستقبل کے امکانات کا نقشہ بھی پیش کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ڈاکٹر مراد ولفرڈ ہوف مین کے خیالات

۸ دسمبر ۲۰۰۰ء

مسجد اقصیٰ کی تاریخ

روزنامہ ’’الاہرام‘‘ قاہرہ نے دس اکتوبر ۲۰۰۰ء کی اشاعت میں مسجد اقصیٰ کے بارے میں ایک مخصوص صفحہ پر کچھ رپورٹیں اور مضامین شائع کیے ہیں جن کی روشنی میں مسجد اقصیٰ کی تاریخ قارئین کی خدمت میں پیش کی جا رہی ہے۔ بیت المقدس کی تاریخ تو بہت قدیم ہے اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سفر معراج کی ایک منزل ہونے کے علاوہ مدینہ منورہ ہجرت کے بعد کم و بیش سترہ ماہ تک مسلمانوں کا قبلہ بھی رہا ہے جس کی وجہ سے اسے قبلۂ اول کہا جاتا ہے۔ لیکن مسجد صخرہ کی تاریخ اموی خلیفہ عبد الملک بن مروان کے دور سے شروع ہوتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مسجد اقصیٰ کی تاریخ

۲۹ اکتوبر ۲۰۰۰ء

این جی اوز کے مثبت اور منفی پہلو

وفاقی وزیرداخلہ جناب معین الدین حیدر نے گزشتہ دنوں ’’فاطمید فاؤنڈیشن‘‘ کی ایک تقریب میں گفتگو کرتے ہوئے این جی اوز کے بارے میں کہا ہے کہ ساری این جی اوز ایک جیسی نہیں ہیں اور ان میں کچھ فاطمید جیسی اچھا کام کرنے والی این جی اوز بھی ہیں اس لیے سب این جی اوز کی مخالفت کرنا درست نہیں ہے۔ اس سے قبل حکمران کیمپ کے بعض دیگر حضرات بھی اسی قسم کے خیالات کا اظہار کر چکے ہیں لیکن دوسری طرف دینی جماعتیں بالخصوص مولانا فضل الرحمان نے این جی اوز کی مخالفت میں دن رات ایک کر رکھا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر این جی اوز کے مثبت اور منفی پہلو

۲۴ اکتوبر ۲۰۰۰ء

محبت کی شادیاں اور ہماری اعلیٰ عدالتیں

ہمارے فاضل جج صاحبان اس پورے پراسیس سے آنکھیں بند کرتے ہوئے محبت اور رضامندی کی شادیوں کو جواز کا سرٹیفکیٹ مہیا کرتے چلے جا رہے ہیں۔ اس لیے بڑے ادب کے ساتھ ہائی کورٹس کے جج صاحبان سے یہ سوال کرنے کی جسارت کر رہا ہوں کہ محبت اور رضامندی دونوں کی اہمیت مسلم ہے۔ مگر ہمارے معاشرے میں اس محبت اور رضامندی تک پہنچنے کے جو مراحل مروج ہیں، کیا قرآن و سنت نے ان مراحل کے بارے میں بھی کوئی حکم دیا ہے یا نہیں؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر محبت کی شادیاں اور ہماری اعلیٰ عدالتیں

۵ ستمبر ۲۰۰۰ء

نو آبادیاتی ماحول میں ملا اور مسٹر کا کردار

1857ء کی جنگ آزادی کے بعد جنوبی ایشیاء میں مسلمانوں کی نشاۃ ثانیہ کے حوالہ سے ہمارے جدید پڑھے لکھے اور دانشور کہلانے والے حضرات نے خود یہ کہہ کر ملا کو پیچھے دھکیل دیا تھا کہ معاشرے کی اجتماعی قیادت اس کا کام نہیں ہے، بس وہ آرام سے گھر بیٹھے جبکہ یہ کام اب ہم کریں گے۔ چنانچہ ملا نے اپنے بھائیوں کی یہ بات مانتے ہوئے ان کے لیے میدان کھلا چھوڑ کر اپنے ذمہ یہ کام لے لیا تھا کہ امت کے اجتماعی کام آپ سنبھالیں، ہم قرآن و سنت کی تعلیمات اور علوم کو باقی رکھنے اور امت کی اگلی نسلوں تک پہنچانے کا فریضہ سر انجام دیں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر نو آبادیاتی ماحول میں ملا اور مسٹر کا کردار

۱۱ اگست ۲۰۰۰ء

ملائیت اور تھیاکریسی

یہ بزرگ اگر تھیاکریسی کی بنیاد رکھنے والے ہوتے تو آسانی کے ساتھ کہہ سکتے تھے کہ ہم خدا کے نمائندے ہیں اور ہماری بات حرف آخر ہے، اس لیے ہمارے کسی فیصلہ پر اعتراض نہیں ہو سکتا۔ لیکن انہوں نے قرآن و سنت کو اپنی رائے کے تابع کرنے کی بجائے خود کو اصولوں کے سامنے کھڑا کر کے یہ بتا دیا کہ اسلام میں تھیاکریسی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ یہ روایت اور طریق کار صرف حضرات خلفاء راشدینؓ کے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ آج بھی اسلام کے اصول یہی ہیں اور ان کی پابندی سے کوئی طبقہ یا شخصیت مستثنیٰ نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ملائیت اور تھیاکریسی

۲۱ جولائی ۲۰۰۰ء

مسئلہ کشمیر : عالمی سازشیں، متحرک گروہ اور قابل قبول حل

البتہ مسئلہ کشمیر کے سلسلے میں سازش، مفادات اور خیر خواہی کے عوامل میں فرق معلوم کرنے کے لیے ہمیں کوئی نہ کوئی حد فاصل اور اصول ضرور قائم کر لینا چاہیے اور میرے خیال میں اس سلسلہ میں دو نکتے کسوٹی کا کام دے سکتے ہیں اور انہیں بہرحال پیش نظر رکھنا چاہیے۔ پہلا یہ کہ جموں و کشمیر کی وحدت کا برقرار رہنا اس خطہ کے عوام کا تاریخی حق ہے، اس لیے جو فارمولا یا کوشش کشمیر کی وحدت کو ختم کرنے اور اس خطہ جنت نظیر کو تقسیم کرنے کے حوالہ سے ہو میرے نزدیک وہ کشمیری عوام کے خلاف سازش ہے اور ایسی ہر کوشش کو مسترد کرنا چاہیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مسئلہ کشمیر : عالمی سازشیں، متحرک گروہ اور قابل قبول حل

۲۸ جون ۲۰۰۰ء

غیرت کا جذبہ اور اس کی شرعی حدود

ان دنوں غیرت کے نام پر قتل کی وارداتیں بین الاقوامی اداروں کی رپورٹوں کا خاص موضوع ہیں اور قتل کی ان وارداتوں کے حوالہ سے غیرت کا لفظ اور اس کا مفہوم بھی مسلسل زیر بحث ہے۔ ’’غیرت‘‘ عربی زبان کا لفظ ہے جس کے مفہوم میں اہل زبان دو باتوں کا بطور خاص ذکر کرتے ہیں۔ ایک یہ کہ کوئی ناگوار بات دیکھ کر دل کی کیفیت کا متغیر ہو جانا، اور دوسرا یہ کہ اپنے کسی خاص حق میں غیر کی شرکت کو برداشت نہ کرنا۔ ان دو باتوں کے اجتماع سے پیدا ہونے والے جذبہ کا نام غیرت ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر غیرت کا جذبہ اور اس کی شرعی حدود

۲۷ اپریل ۲۰۰۰ء

عورت کا طلاق کا اختیار

اسلام نے طلاق کا غیر مشروط حق صرف مرد کو دیا ہے کہ وہ جب چاہے عورت کو طلاق دے کر اپنی زوجیت سے الگ کر دے۔ اگرچہ بلاوجہ طلاق کو شریعت میں سخت نفرت کی نگاہ سے دیکھا گیا ہے اور جناب نبی اکرمؐ نے طلاق کو مباح امور میں مبغوض ترین چیز قرار دیا ہے لیکن گناہ اور ناپسندیدہ ہونے کے باوجود مرد کو یہ حق بہرحال حاصل ہے کہ وہ اگر طلاق دے تو اس سے دونوں میں نکاح کا رشتہ ختم ہو جاتا ہے۔ جبکہ عورت کو براہ راست اور غیر مشروط طلاق کا حق اسلام نے نہیں دیا۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اسے اس حوالہ سے کوئی حق ہی سرے سے حاصل نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر عورت کا طلاق کا اختیار

۲۶ جنوری ۲۰۰۰ء

عالم اسلام یا پاکستان میں ایک روز عید کے امکانات

عید الفطر اس سال بھی پاکستان میں ایک دن نہیں منائی جا سکی کیونکہ صوبہ سرحد کے اکثر علاقوں میں باقی ملک سے ایک دن پہلے منائی گئی ہے۔ اس پر مختلف حلقوں میں بحث و تمحیص کا سلسلہ جاری ہے اور ایسا ہر سال ہوتا ہے کہ عید کے چند روز تک بحث و مباحثہ جاری رہتا ہے لیکن اس حوالہ سے کوئی ٹھوس عملی پیش رفت ہوئے بغیر خاموشی طاری ہو جاتی ہے۔ اس سلسلہ میں چند اصولی باتوں کا تذکرہ مناسب معلوم ہوتا ہے جن سے قارئین کو موجودہ صورتحال کا پس منظر سمجھنے میں کچھ آسانی ہوگی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر عالم اسلام یا پاکستان میں ایک روز عید کے امکانات

۱۶ جنوری ۲۰۰۰ء

اکیسویں صدی کا آغاز اور اس کے تقاضے

برطانیہ والوں کے بقول اکیسویں صدی عیسوی کا آغاز ہوگیا ہے اور میں نے بھی نئی صدی کا آغاز برطانیہ میں ہی کیا ہے۔ اگرچہ اکیسویں صدی کے آغاز میں اختلاف ہے کہ ۲۰۰۰ء سے نئی صدی شروع ہوگئی ہے یا ۲۰۰۱ء میں شروع ہوگی۔ چین اور اس کے ساتھ بعض اور حلقوں کا خیال ہے کہ بیسویں صدی ۲۰۰۰ء کا سال مکمل ہونے پر ختم ہوگی اور اس کے بعد ۲۰۰۱ء سے اکیسویں صدی کا آغاز ہوگا اس لیے وہ نئی صدی کی تقریبات اگلے سال منائیں گے۔ مگر برطانیہ نے نئی صدی کا آغاز گزشتہ روز کر دیا ہے اور پورے جوش و خروش کے ساتھ کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اکیسویں صدی کا آغاز اور اس کے تقاضے

۱۲ جنوری ۲۰۰۰ء

قائد اعظم محمد علی جناح اور مصطفٰی کمال اتاترک

مصطفی کمال اتاترک نے اسلامی نظام کو جدید دور کے تقاضوں کے لیے ناکام اور ناکافی قرار دیتے ہوئے ترکی میں شرعی قوانین اور شرعی عدالتوں کا خاتمہ کر دیا اور مغربی قوانین اور نظام مختلف شعبوں میں نافذ کیے۔ جبکہ قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے مغربی نظام کو ناکام قرار دیتے ہوئے اسلامی نظام کو پاکستان کی منزل قرار دیا اور اس کے لیے مسلمانوں کو منظم کیا۔ اور اس طرز فکر و نظریہ اور ہدف و مقصد کے لحاظ سے دونوں لیڈروں کا رخ ایک دوسرے سے بالکل الٹ دکھائی دے رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قائد اعظم محمد علی جناح اور مصطفٰی کمال اتاترک

۲۸ نومبر ۱۹۹۹ء

سلطنت برطانیہ اور آل سعود کے درمیان معاہدہ

تاریخ کا وہ حصہ میری خصوصی دلچسپی کا موضوع ہے جس کا تعلق اب سے دو صدیاں پہلے کی دو عظیم مسلم سلطنتوں خلافت عثمانیہ اور سلطنت مغلیہ کے خلاف یورپی ملکوں کی سازشوں سے ہے۔ اور اس حوالہ سے وقتاً فوقتاً ان کالموں میں کچھ لکھتا بھی رہتا ہوں۔ اسی مناسبت سے مجھے ایک معاہدہ کی تفصیلات کی تلاش تھی جو برطانوی حکومت اور آل سعود کے درمیان ہوا تھا اور جس پر اب تک بدستور عمل ہو رہا ہے ۔ ۔ ۔ یہ معاہدہ قارئین کے سامنے لانا چاہتا ہوں مگر پہلے اس کا تھوڑا سا پس منظر واضح کرنا بھی ضروری ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سلطنت برطانیہ اور آل سعود کے درمیان معاہدہ

۲۴ نومبر ۱۹۹۹ء

دینی شعبوں کی ’’ریکروٹنگ ایجنسی‘‘

میں تبلیغی جماعت کو مسجد و مدرسہ اور دین کے دیگر شعبوں کی ’’ریکروٹنگ ایجنسی‘‘ کہا کرتا ہوں جو عام مسلمانوں کے گھروں میں جا کر اور ایک ایک دروازے پر دستک دے کر انہیں دین کے کام کے لیے بھرتی کرتی ہے اور گھیر گھار کر مسجد میں لے آتی ہے۔ اس کے بعد دین کے مختلف شعبوں کے ذمہ دار حضرات کا کام ہے کہ وہ انہیں سنبھالیں اور ان کی تعلیم و تربیت کا اہتمام کر کے دینی محنت کے کسی نہ کسی کام میں کھپائیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دینی شعبوں کی ’’ریکروٹنگ ایجنسی‘‘

۱۷ نومبر ۱۹۹۹ء

فلسطین میں یہودیوں کی آبادکاری اور خلافتِ عثمانیہ

عالمی یہودی تحریک کے نمائندہ لارنس اولیفینٹ نے پیشکش کی کہ اگر یہودیوں کو فلسطین میں آباد کاری کی سہولت فراہم کر دی جائے تو اس کے عوض یہودی سرمایہ کار سلطنت عثمانیہ کی تمام مشکلات میں ہاتھ بٹانے کے لیے تیار ہیں۔ سلطان عبد الحمید مرحوم نے کہا کہ یورپی ملکوں سے نکالے جانے والے یہودیوں کو سلطنت عثمانیہ کے کسی بھی حصہ میں آباد ہونے کی اجازت دینے کے لیے تیار ہیں، مگر فلسطین میں چونکہ یہودی ریاست قائم کرنے کا منصوبہ ان کے ذہنوں میں ہے اس لیے اس خطہ میں کسی یہودی کو آباد ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر فلسطین میں یہودیوں کی آبادکاری اور خلافتِ عثمانیہ

۱۶ نومبر ۱۹۹۹ء

مصطفیٰ کمال اتاترک اور جدید ترکی

مصطفیٰ کمال اتاترک جدید ترکیہ کے بانی اور معمار ہیں جنہوں نے اب سے پون صدی قبل جمہوریہ ترکیہ کی بنیاد رکھی اور ترکی اس کے بعد سے انہی کے متعین کردہ خطوط پر پوری سختی کے ساتھ گامزن ہے۔ انہوں نے ایک طرف یورپی ملکوں بالخصوص یونان کا مقابلہ کرتے ہوئے ترکی کی داخلی خودمختاری کی حفاظت کی اور بیرونی حملہ آوروں کو نکال کر ترکی کی وحدت کا تحفظ کیا جبکہ دوسری طرف خلافت عثمانیہ کا خاتمہ کر کے ترکی کو عالم اسلام سے بھی الگ کر لیا۔ وہ ترک قوم پرستی کے علمبردار تھے اور انہوں نے اس بنیاد پر ترک قوم کو بیدار کرنے اور ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مصطفیٰ کمال اتاترک اور جدید ترکی

۱۱ نومبر ۱۹۹۹ء

حضرت عمر بن عبد العزیزؒ کا تین نکاتی احتسابی فارمولا

چیف ایگزیکٹو جنرل پرویز مشرف نے ایک بار پھر واضح الفاظ میں اعلان کیا ہے کہ وہ لوٹی ہوئی قومی دولت کی ایک ایک پائی واپس لیں گے اور احتساب مکمل ہونے تک اقتدار سیاست دانوں کے سپرد نہیں کریں گے۔ ان کے اس اعلان پر ملک بھر میں اطمینان کا اظہار کیا گیا ہے اور عام شہری مسلسل دعاگو ہیں کہ اللہ رب العزت جنرل صاحب کو اپنے اس اعلان پر مکمل عملدرآمد کی توفیق سے نوازیں، آمین۔ ہم اس موقع پر جنرل پرویز مشرف صاحب اور ان کے رفقاء کو اسلامی تاریخ کے ایک اہم واقعہ کی طرف توجہ دلانا چاہتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت عمر بن عبد العزیزؒ کا تین نکاتی احتسابی فارمولا

نومبر ۱۹۹۹ء

عوامی جمہوریہ چین کے حکمرانوں سے ایک گزارش

عوامی جمہوریہ چین ہمارا عظیم پڑوسی ملک ہے اور پاکستان کے ان دوستوں میں شمار ہوتا ہے جنہوں نے ہر آڑے وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا۔ مگر گزشتہ ایک ہفتہ کے دوران دو تین خبریں ایسی آئی ہیں جنہوں نے پاک چین تعلقات کے حوالہ سے محب وطن پاکستانیوں کو بے چینی سے دوچار کر دیا ہے۔ ایک خبر تو رائٹر کی جاری کردہ ہے جو لاہور سے شائع ہونے والے ایک قومی اخبار نے 12 اکتوبر کو شائع کی ہے کہ چین کے شورش زدہ صوبے ژنجیانگ (سنکیانگ) میں عدالت نے بم دھماکوں اور ڈکیتیوں کی منصوبہ بندی کرنے پر تین مسلمان علیحدگی پسندوں کو سزائے موت سنا دی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر عوامی جمہوریہ چین کے حکمرانوں سے ایک گزارش

۲۳ اکتوبر ۱۹۹۹ء

قاہرہ پر برطانوی فوج کے قبضے کا پس منظر

نہر سویز کی کھدائی فرانسیسی ماہرین نے کی تھی لیکن حکومت برطانیہ پہل کر گئی اور اس نے یہ حصص خرید لیے۔ مگر نہر سویز کے یہ حصص فروخت کر کے بھی قرضوں کی ادائیگی نہ ہو سکی جس کے نتیجہ میں اسماعیل پاشا نے ۱۸۷۶ء میں سرکاری ہنڈیوں پر لوگوں کو رقوم کی ادائیگی روک دی اور ملک میں خلفشار کی کیفیت پیدا ہوگئی۔ قرض دینے والے یورپی ملکوں نے قرض خواہوں کے مفادات کے تحفظ کے عنوان سے مشترکہ طور پر ایک نگران کمیشن قائم کر لیا جس نے مصر کے مالی معاملات میں مداخلت کر کے دباؤ بڑھانا شروع کر دیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قاہرہ پر برطانوی فوج کے قبضے کا پس منظر

۱۴ اکتوبر ۱۹۹۹ء

قرآن کریم سے ترک تعلق کی مختلف صورتیں

سورۃ الفرقان کی آیت ۳۰ میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کے روز حشر کے میدان میں اللہ تعالیٰ کی عدالت میں جناب نبی کریمؐ کی طرف سے دائر کی جانے والی ایک درخواست کا ذکر فرمایا ہے کہ اس روز جبکہ ظالم و فاسق لوگ اپنی بداعمالیوں پر حسرت اور بے بسی کے ساتھ اپنے ہاتھوں کو دانتوں میں چبائیں گے اور اپنی اس کوتاہی کا حسرت کے ساتھ تذکرہ کریں گے کہ اے کاش! ہم نے رسول اکرمؐ کی راہ اختیار کی ہوتی اور فلاں فلاں کے نقش قدم پر نہ چلے ہوتے۔ اس روز آنحضرتؐ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کریں گے کہ ’’اے میرے رب! میری اس قوم نے قرآن کریم کو مہجور بنا دیا تھا‘‘ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قرآن کریم سے ترک تعلق کی مختلف صورتیں

۱۵ ستمبر ۱۹۹۹ء

’’غیرت‘‘ کے خلاف مہم

لاہور ایم اے او کالج کے ایک سابق پروفیسر نے راقم الحروف کو بتایا کہ ان سے ایک شاگرد نے ’’غیرت‘‘ کا انگریزی ترجمہ دریافت کیا تو تلاش بسیار کے باوجود وہ انگریزی میں غیرت کا مفہوم ادا کرنے والا کوئی لفظ معلوم نہ کر سکے۔ چنانچہ انہوں نے اپنے شاگرد کو یہ کہہ کر مطمئن کرنے کی کوشش کی کہ چونکہ مغرب کی سوسائٹی میں غیرت کا جذبہ سرے سے پایا ہی نہیں جاتا اس لیے ان کے ہاں کوئی لفظ بھی استعمال میں نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مغربی ممالک کے لوگ جب کسی مسلمان کو غیرت کے حوالہ سے کوئی کام کرتا دیکھتے ہیں تو انہیں تعجب ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ’’غیرت‘‘ کے خلاف مہم

۲۳ اگست ۱۹۹۹ء

اسلام میں متعہ کا تصور

آج کی صحبت میں پاکستان لاء کمیشن کی ایک اور تجویز کے حوالہ سے کچھ عرض کرنے کو جی چاہتا ہے جو ’’متعہ‘‘ کے بارے میں ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ طلاق یافتہ عورت کو متعہ کا حق دینے کے سلسلہ میں مختلف فقہی مکاتب فکر کی آرا کا جائزہ لیا جائے اور اس کو عملی شکل دینے کے بارے میں غور کیا جائے۔ ’’متعہ‘‘ کا لفظی معنٰی فائدہ اٹھانے کے ہیں اور قرآن کریم میں احکام کے باب میں یہ لفظ جن الگ الگ معنوں میں استعمال ہوا ہے انہیں فقہاء کرام نے متعۃ الحج، متعۃ النکاح اور متعۃ الطلاق کی تین اصطلاحات کی صورت میں پیش کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اسلام میں متعہ کا تصور

۱۷ جون ۱۹۹۹ء

چائلڈ لیبر اور بنیادی انسانی حقوق

ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم ہمیشہ تصویر کا ایک رخ دیکھتے ہیں اور دوسرا رخ دیکھنے کی زحمت گوارا نہیں کرتے۔ ہمیں یہ تو نظر آتا ہے کہ مغربی ممالک میں بچوں سے محنت مزدوری کا کام لینا ممنوع ہے۔ لیکن یہ دکھائی نہیں دیتا کہ مغرب کی ویلفیئر ریاستیں اپنے شہریوں کی بنیادی ضروریات زندگی کی کفالت کی ذمہ داری بھی اٹھاتی ہیں۔ یہ اصل میں اسلام کا اصول ہے اور خلافت راشدہ کے دور میں بیت المال یعنی قومی خزانے سے ہر شہری کی ضروریات زندگی کی لازمی کفالت کا عملی نمونہ پیش کیا گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر چائلڈ لیبر اور بنیادی انسانی حقوق

۱۴ جون ۱۹۹۹ء

ہمارا طرزِ افتاء اور خاموش ذہنی ارتداد

اس کا نتیجہ یہ ہے کہ دین سے بالکل ناواقف پڑھے لکھے حضرات میں سے اکثر کی خاموش اور بند زبانوں کے پیچھے ان کے ذہنوں میں بے شمار سوالات اور شبہات قطار باندھے کھڑے ہیں۔ اور مجھے یہ کہنے میں بھی کوئی باک نہیں کہ ایک محدود تعداد کے سوا کہ جن حضرات کو شخصی طور پر کسی نیک اور صالح بزرگ سے تعلق نصیب ہوگیا ہے، یا کسی پختہ کار اور صاحب دل عالم دین کی مجلس میں بیٹھنے کی سعادت مل رہی ہے، ان کے علاوہ باقی لوگوں کی غالب اکثریت ’’خاموش ذہنی ارتداد‘‘ یا کم از کم دین کے حوالہ سے ’’عدم اطمینان‘‘ کا شکار ہو چکی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ہمارا طرزِ افتاء اور خاموش ذہنی ارتداد

۱۰ اپریل ۱۹۹۹ء

اجتہاد اور اس کے راہنما اصول

حضرت عمرؓ کا معمول یہ تھا کہ کسی معاملہ میں فیصلہ کرتے وقت اگر قرآن و سنت سے کوئی حکم نہ ملتا تو حضرت ابوبکرٌ کا کوئی فیصلہ معلوم کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ اور اگر ان کا بھی متعلقہ مسئلہ میں کوئی فیصلہ نہ ملتا تو پھر خود فیصلہ صادر کرتے تھے۔ امام بیہقیؒ نے حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ کے نام امیر المومنین حضرت عمرؓ کا یہ خط بھی نقل کیا ہے کہ ’’جس معاملہ میں قرآن و سنت کا کوئی فیصلہ نہ ملے اور دل میں خلجان ہو تو اچھی طرح سوچ سمجھ سے کام لو اور اس جیسے فیصلے تلاش کر کے ان پر قیاس کرو، اور اللہ تعالیٰ کی رضا اور صحیح بات تک پہنچنے کا عزم رکھو۔‘‘ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اجتہاد اور اس کے راہنما اصول

یکم اپریل ۱۹۹۹ء

حق مہر اور عورت کی مظلومیت

تقریب میں ایسوسی ایشن کے صدر کوکب اقبال ایڈووکیٹ کی طرف سے پیش کیے جانے والے مطالبات میں ایک مطالبہ یہ بھی شامل ہے کہ ’’عورت کی طلاق یا مرد کی دوسری شادی کو حق مہر کی ادائیگی کے ساتھ مشروط کیا جائے۔‘‘ یہ مطالبہ پڑھ کر بے ساختہ سر پیٹ لینے کو جی چاہا کہ مہر کے بارے میں اس سطح کے پڑھے لکھے لوگوں کی معلومات کا یہ حال ہے تو ملک کے عام شہری بے چارے کس قطار میں ہیں۔ ہمارے ہاں عام طور پر یہ غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ مہر اس صورت میں واجب الادا ہوتا ہے جب خاوند فوت ہو جائے یا وہ عورت کو طلاق دے دے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حق مہر اور عورت کی مظلومیت

۲۳ مارچ ۱۹۹۹ء

مومن قوم کی بیس اچھی خصلتیں

بنو ازد قبیلے کا ایک وفد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جن میں حضرت سوید بن الحارث ازدیؓ بھی تھے اور وہی اس واقعہ کے راوی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب ہم حضورؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور بات چیت کی تو آپؐ ہمارے طرز گفتگو اور انداز سے خوش ہوئے اور دریافت کیا کہ تم کون لوگ ہو؟ ہم نے عرض کیا کہ یا رسول اللہؐ ہم سب اہل ایمان ہیں۔ آپؐ نے پوچھا کہ ہر دعویٰ پر دلیل کی ضرورت ہوتی ہے، تمہارے اس دعوے کی دلیل کیا ہے؟ ہم نے عرض کیا کہ ہمارے اندر پندرہ خصلتیں موجود ہیں جو ہمارے مومن ہونے کی دلیل ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مومن قوم کی بیس اچھی خصلتیں

۱۲ مارچ ۱۹۹۹ء

جمہوریت، ووٹ اور اسلام

محمد مشتاق احمد سے عرض ہے کہ امیر المومنین حضرت عمرؓ بن الخطاب ایک اسلامی حکومت کی تشکیل کے لیے مسلمانوں کی عمومی مشاورت کو ضروری قرار دے رہے ہیں جس کا دائرہ انہوں نے اس خطبہ میں ’’الناس‘‘ اور ’’المسلمون‘‘ بیان فرمایا ہے۔ جبکہ آج کے دور میں عام لوگوں اور مسلمانوں کی عمومی رائے معلوم کرنے کا طریقہ ’’ووٹ‘‘ ہی ہے۔ اس کے علاوہ کوئی اور طریقہ ان کے ذہن میں ہو تو وہ ارشاد فرما دیں۔ مگر طریقہ ایسا ہو کہ حکومت کی تشکیل اور حاکم کے انتخاب میں ’’الناس‘‘ اور ’’المسلمون‘‘ کی رائے کا فی الواقع اظہار ہوتا ہو ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جمہوریت، ووٹ اور اسلام

۷ مارچ ۱۹۹۹ء

نظام حکومت کی اصلاح کے لیے سعودی علماء کی تجاویز

اس ’’یادداشت‘‘ میں ملک کی داخلی، خارجی، دفاعی، معاشی، انتظامی اور قانونی پالیسیوں پر الگ الگ بحث کرتے ہوئے ان میں خامیوں کی نشاندہی کی گئی ہے اور شرعی نقطۂ نظر سے اصلاحی تجاویز پیش کی گئی ہیں۔ ان سب تجاویز کا احاطہ تو اس مختصر کالم میں ممکن نہیں ہے، البتہ ان میں سے چند تجاویز کا تذکرہ کیا جا رہا ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ الشیخ اسامہ بن لادن اور سعودی عرب کے دیگر علماء اور دانشوروں کا اصل موقف اور مشن کیا ہے جس کے لیے وہ محاذ آرائی، جلا وطنی اور قید و بند کے مراحل سے دوچار ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر نظام حکومت کی اصلاح کے لیے سعودی علماء کی تجاویز

۲۷ فروری ۱۹۹۹ء

اسلام میں سوشل ورک کی اہمیت

سوشل ورک یا انسانی خدمت اور معاشرہ کے غریب و نادار لوگوں کے کام آنا بہت بڑی نیکی ہے اور اسلام نے اس کی تعلیم دی ہے۔ یہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتِ مبارکہ ہے اور آپؐ نے دکھی انسانیت کی خدمت اور نادار لوگوں کا ہاتھ بٹانے کا بڑا اجر و ثواب بیان فرمایا ہے۔ حتیٰ کہ میں عرض کیا کرتا ہوں کہ آقائے نامدارؐ پر وحی نازل ہونے کے بعد آپؐ کا پہلا تعارف ہمارے سامنے اسی حوالہ سے آیا ہے کہ آپؐ نادار اور مستحق لوگوں کی خدمت میں پیش پیش رہتے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اسلام میں سوشل ورک کی اہمیت

۱۶ فروری ۱۹۹۹ء

وکالت کا مروجہ سسٹم اور اسلامی نظام

الجھن یہ ہے کہ وکلاء صاحبان مروجہ عدالتی نظام اور وکالت کے سسٹم کو ’’اسلام‘‘ کا لیبل لگا کر من و عن باقی رکھنا چاہتے ہیں، جبکہ مولانا صوفی محمد دو سو برس پہلے کے عدالتی نظام اور وکالتی سسٹم کو کسی تبدیلی کے بغیر نفاذ اسلام کی بنیاد بنانا چاہتے ہیں۔ یہ دونوں موقف غیر حقیقت پسندانہ ہیں اور صحیح راستہ اسی وقت سامنے آئے گا جب دونوں طبقوں (علماء اور وکلاء) کے مخلص دیندار اور اسلام کی بالادستی پر یقین رکھنے والے سنجیدہ ارباب فہم و دانش سر جوڑ کر بیٹھیں گے اور ایک دوسرے کا موقف سمجھتے ہوئے مل جل کر کوئی قابل قبول لائحہ عمل طے کریں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر وکالت کا مروجہ سسٹم اور اسلامی نظام

۲ فروری ۱۹۹۹ء

اعمال کی سزا و جزا کا اسلامی تصور

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ محترم بزرگو اور دوستو! میں نے آپ کے سامنے سورۃ النساء کی آیت نمبر ۱۲۳ تلاوت کی ہے جس کے بارے میں حضرت عبد اللہ بن عباسؓ کا ارشاد گرامی ہے کہ اس میں اعمال کی سزا اور جزا کے حوالہ سے مشرکین مکہ اور اہل کتاب کے خیالات کا رد کیا گیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے یہ اصول بیان فرمایا ہے کہ اعمال کے بدلے کے بارے میں نہ تو مشرکین کی آرزوئیں پوری ہوں گی اور نہ اہل کتاب کی آرزوؤں کا لحاظ رکھا جائے گا بلکہ جو شخص بھی کوئی برا عمل کرے گا اسے اس کا بدلہ دیا جائے گا اور ہر شخص کو اپنے اعمال کی سزا خود بھگتنا ہوگی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اعمال کی سزا و جزا کا اسلامی تصور

یکم فروری ۱۹۹۹ء

این جی اوز اور انسانی حقوق کے ادارے

یہ این جی اوز یعنی غیر سرکاری تنظیمیں سماجی خدمت، صحت، انسانی حقوق، اور نادار لوگوں کی خدمت کے نام پر ملک بھر میں ہزاروں کی تعداد میں موجود ہیں۔ انہیں عالمی اداروں سے کروڑوں روپے کی امداد ملتی ہے اور وہ ایک وسیع نیٹ ورک میں لاکھوں پاکستانیوں کو شریک کار بنا کر اپنے مقاصد کے لیے مسلسل مصروف کار ہیں۔ یہ تنظیمیں اگر فی الواقع غریب عوام کی فلاح و بہبود کے لیے کام کریں اور نادار عوام کے نام پر حاصل ہونے والے فنڈز ان کی صحت اور بہبود کے لیے صرف کریں تو ان سے کسی کو کیا شکایت ہو سکتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر این جی اوز اور انسانی حقوق کے ادارے

۸ جنوری ۱۹۹۹ء

عبادات اور معاملات میں توازن

اس واقعہ سے جہاں یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ اسلام حقوق اللہ اور حقوق العباد میں توازن قائم رکھنے حکم دیتا ہے اور حقوق اللہ کی ادائیگی کی کوئی ایسی صورت قبول نہیں کرتا جس سے حقوق العباد متاثر ہوتے ہوں۔ وہاں ایک اور بات بھی ذہن میں آتی ہے کہ انسان جب بھی اپنے بارے میں کوئی فیصلہ کرتا ہے تو اس کے سامنے وقتی حالات ہوتے ہیں اور وہ انہی کی روشنی میں معاملات انجام دیتا ہے۔ جبکہ اسلام ایسا کوئی فیصلہ کرنے میں تمام احوال و ظروف کا لحاظ رکھتا ہے جو کہ بسا اوقات انسان کو عجیب محسوس ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر عبادات اور معاملات میں توازن

۴ جنوری ۱۹۹۹ء

امام بخاریؒ اور بخاری شریف

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ حضرات علمائے کرام اور عزیز طلبہ! ختم بخاری شریف کی اس تقریب میں شرکت اور کچھ عرض کرنے کا موقع میرے لیے سعادت کی بات ہے اور اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کچھ گزارشات آپ حضرات کی خدمت میں پیش کرنا چاہوں گا۔ بخاری شریف کی آخری حدیث کے حوالہ سے علمی مباحث تو حضرت ڈاکٹر صاحب مدظلہ آپ کے سامنے رکھیں گے البتہ کتاب کے موضوع اور صاحبِ کتاب کے بارے میں چند معروضات ضروری سمجھتا ہوں۔ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ کچھ مقصد کی باتیں کہننے سننے کی توفیق عطا فرمائیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر امام بخاریؒ اور بخاری شریف

یکم جنوری ۱۹۹۹ء

مسیحی دنیا کو قرآن کریم کی دعوت

تاریخ نے قرآن کریم کی اس پیش گوئی کو اس طرح سچا کر دکھایا کہ آج یہودی اور عیسائی اپنی تمام تر دشمنی اور لڑائیاں بھلا کر باہم شیر و شکم ہوگئے ہیں کہ عیسائی دنیا کے وسائل اور یہودی دماغ مل کر اسلام اور عالم اسلام کے خلاف متحدہ محاذ قائم کیے ہوئے ہیں۔ مگر ان سب باتوں سے قطع نظر جی چاہتا ہے کہ مسیحی برادری کو ان کی اس عید پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے قرآن کریم کی وہ دعوت دہرا دی جائے جس میں مسیحی دنیا بلکہ سب اہل کتاب کو آسمانی تعلیمات کی ’’مشترک اقدار‘‘ کی طرف واپس لوٹ آنے کی دعوت دی گئی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مسیحی دنیا کو قرآن کریم کی دعوت

۳۱ دسمبر ۱۹۹۸ء

حدیث نبویؐ کی ترویج میں مسلم خواتین کی خدمات

مولانا محمد اکرم ندوی انڈیا سے تعلق رکھنے والے ایک محقق عالم دین ہیں جو آکسفورڈ سنٹر فار اسلامک اسٹڈیز میں ایک عرصہ سے علمی و تحقیقی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ ان سے پہلی ملاقات اچانک اور عجیب انداز میں ہوئی۔ پانچ سال قبل کی بات ہے جب راقم الحروف نے لندن جانے کے لیے تاشقند کا راستہ اختیار کیا، ازبک ائیرلائن سفر کا ذریعہ تھی، تاشقند میں چار پانچ روز گزارنے کے بعد جب تاشقند کے بین الاقوامی ہوائی اڈے سے لندن کے لیے روانہ ہوا تو ایئرپورٹ پر اسی قسم کے حالات کا سامنا کرنا پڑا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حدیث نبویؐ کی ترویج میں مسلم خواتین کی خدمات

۹ اکتوبر ۱۹۹۸ء

حضرت عائشہؓ کا علمی مقام

حضرت عائشہؓ قرآن کریم کی بہت بڑی مفسرہ تھیں، حدیث رسولؐ کی ایک بڑی راویہ و شارحہ تھیں، دینی مسائل و احکام کی حکمت و فلسفہ بیان کرنے والی دانشور تھیں، عرب قبائل کی روایات و کلچر و نسب ناموں و تاریخ پر عبور رکھتی تھیں، انہیں ادب و شعر و خطابت پر دسترس حاصل تھی، وہ مجتہد درجے کی مفتیہ تھیں، عوامی مسائل پر رائے دینے والی راہنما تھیں، اور طب و علاج کے بارے میں بھی ضروری معلومات سے بہرہ ور تھیں۔ اور یہ سب کمالات انہوں نے درسگاہ نبویؐ سے سیکھے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت عائشہؓ کا علمی مقام

۱۲ ستمبر ۱۹۹۸ء

’’نیشن آف اسلام‘‘ کا تاریخی پس منظر

ویلس دی فارد 1934ء میں غائب ہوگیا اور ایلیجاہ محمد نے اس کی جگہ سنبھال کر یہ اعلان کیا کہ فارد اصل میں خود اللہ تھے (نعوذ باللہ) جو انسانی شکل میں آئے تھے اور اب ایلیجاہ محمد کو اپنا رسول بنا کر واپس چلے گئے ہیں۔ ایلیجاہ محمد نے کہا کہ وہ خدا کا رسول بلکہ خاتم المرسلین ہے اور اب دنیا کی نجات اس کے ساتھ وابستہ ہے۔ مالکم ایکس شہیدؒ نے بتایا ہے کہ جب وہ ایلیجاہ محمد کے دست راست کے طور پر مختلف اجتماعات میں خطاب کیا کرتے تھے تو خطبہ میں سورہ فاتحہ کے ساتھ یہ کلمہ شہادت پڑھا کرتے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ’’نیشن آف اسلام‘‘ کا تاریخی پس منظر

۲۲ اگست ۱۹۹۸ء

امت کی قیادت اور اس کے عملی و اخلاقی تقاضے

ہم اپنے ایٹمی دھماکوں پر بہت خوش ہیں اور خوش ہونا بھی چاہیے کہ پاکستان نے پہلی مسلم ایٹمی طاقت کی حیثیت حاصل کر کے عالم اسلام کی قیادت کی طرف عملی قدم بڑھایا ہے۔ لیکن قیادت صرف قوت کا نام نہیں ہے بلکہ اس کی اصل اساس علم اور اخلاق پر ہوتی ہے۔ جب تک ہم علم و تحقیق اور اخلاقیات کے تقاضے پورے کرنے کے لیے خود کو تیار نہیں کرتے، صرف ایٹمی قوت کے بل بوتے پر اپنی برتری کا خواب پورا نہیں کر سکتے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر امت کی قیادت اور اس کے عملی و اخلاقی تقاضے

۲۷ جولائی ۱۹۹۸ء

لوئیس فرخان کا اسلام اور صدر قذافی

لوئیس فرخان کا گروپ ’’نیشن آف اسلام‘‘ کے نام سے فارو محمد کے خدا ہونے اور ایلیجاہ محمد کے پیغمبر ہونے کے ساتھ خالص نسل پرستانہ عقائد و روایات کا مسلسل پرچار کر رہا ہے۔ ’’دی فائنل کال‘‘ کے نام سے ایک میگزین لوئیس فرخان کی ادارت میں شائع ہوتا ہے جس میں پابندی کے ساتھ ایلیجاہ محمد کی تصویر کے ساتھ یہ عقیدہ درج ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ 1930ء میں فارو محمد کی شکل میں ظاہر ہوا تھا اور وہی مسیح اور مہدی ہے جس کا عیسائیوں اور مسلمانوں کو انتظار ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر لوئیس فرخان کا اسلام اور صدر قذافی

۲۵ جولائی ۱۹۹۸ء

پاکستان کا ایٹمی دھماکہ اور مستقبل کی پیش بندی

میں ایٹمی دھماکے کے ساتھ بلکہ اس سے بھی زیادہ ایک اور دھماکے پر میاں محمد نواز شریف کو مبارکباد دینا چاہتا ہوں۔ وہ وزیراعظم سیکرٹریٹ کی عالی شان عمارت چھوڑ دینے اور تعیش اور آسائش کا راستہ ترک کر دینے کا دھماکہ ہے جو میرے جیسے نظریاتی کارکن کے لیے ایٹمی دھماکے سے بھی بڑا ہے۔ کیونکہ اگر ہم اس تجربہ میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو نہ صرف عسکری میدان میں بلکہ اقتصادی اور معاشی میدان میں بھی آج کی قوتوں کے سامنے کھڑے ہو سکتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر پاکستان کا ایٹمی دھماکہ اور مستقبل کی پیش بندی

۱۰ جون ۱۹۹۸ء

یوم مئی، محنت کش طبقہ اور قومی بجٹ

امام ابوحنیفہؒ فرماتے ہیں لا رضاء مع الاضطرار کہ مجبوری کی حالت میں رضا کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ یعنی اگر کوئی شخص مجبوری اور اضطرار کی حالت میں اپنے حق سے کم پر راضی ہو جاتا ہے تو اس کی رضا کا شرعًا کوئی اعتبار نہیں ہے اور اسے اس کا وہ حق بھی ملنا چاہیے جس سے وہ مجبوری کی وجہ سے دستبردار ہوگیا ہے۔ اس اصول پر اگر ملازمت کے معاہدوں کو پرکھا جائے تو وہ سارے کنٹریکٹ مشکوک ہو جاتے ہیں جو بے روزگار لوگوں نے فاقے اور بھوک سے بچنے کے لیے مجبورًا سائن کیے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر یوم مئی، محنت کش طبقہ اور قومی بجٹ

۱۱ مئی ۱۹۹۸ء

امت مسلمہ کے مسائل اور امام مسجد نبویؐ کا خطبہ

شیخ حذیفی نے کہا کہ سعودی عرب کو خلیجی ممالک میں کلیدی حیثیت حاصل ہے اس لیے امریکہ اس پر بطور خاص نظریں جمائے ہوئے ہے اور مغربی طاقتیں سعودی عرب کی وحدت و سالمیت کو نقصان پہنچانے اور اس کی اسلامی حیثیت کو ختم کرنے کے درپے ہیں۔ انہوں نے عربوں کے موجودہ المیہ کا پس منظر بیان کرتے ہوئے کہا کہ خلافت عثمانیہ کے خاتمہ کے بعد بڑی طاقتوں نے عربوں کو چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں تبدیل کر دیا اور قومیتوں کے نام پر آپس میں الجھا دیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر امت مسلمہ کے مسائل اور امام مسجد نبویؐ کا خطبہ

۳۰ اپریل ۱۹۹۸ء

مغرب کی بالادستی اور حضرت عمرو بن العاصؓ

مسلم شریف کی روایت ہے کہ حضرت عمرو بن العاصؓ کی مجلس میں ایک روز مستورد قرشیؓ بیٹھے ہوئے تھے جن کا شمار صغار صحابہؓ میں ہوتا ہے۔ مستورد قرشیؓ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ قیامت سے پہلے رومی لوگوں میں کثرت سے پھیل جائیں گے۔ روم اس دور میں عیسائی سلطنت کا پایۂ تخت تھا اور رومیوں سے عام طور پر مغرب کے عیسائی حکمران مراد ہوتے تھے۔ حضرت عمرو بن العاصؓ نے سنا تو چونکے اور پوچھا کہ دیکھو! کیا کہہ رہے ہو؟ مستورد قرشیؓ نے کہا کہ میں وہی کہہ رہا ہوں جو میں نے جناب رسول اللہؐ سے سنا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مغرب کی بالادستی اور حضرت عمرو بن العاصؓ

۱۷ جولائی ۱۹۹۷ء

اسلام اور عورت کا اختیار

عربی ادب کی کہاوت ہے کہ ایک مصور دیوار پر تصویر بنا رہا تھا جس کا منظر یہ تھا کہ ایک انسان کے ہاتھوں میں شیر کی گردن ہے اور وہ اس کا گلا گھونٹ رہا ہے۔ اتنے میں ایک شیر کا وہاں سے گزر ہوا تو وہ رک کر تصویر کو غور سے دیکھنے لگا۔ مصور نے شیر سے پوچھا کہ میاں تصویر کیسی لگی؟ شیر نے جواب دیا کہ بھئی برش تمہارے ہاتھ میں ہے جیسے چاہے منظر کشی کرلو، ہاں اگر برش میرے ہاتھ میں ہوتا تو تصویر کا منظر اس سے یقیناً مختلف ہوتا۔ کچھ اسی قسم کی صورتحال آج عالم اسلام کو مغربی میڈیا کے ہاتھوں درپیش ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اسلام اور عورت کا اختیار

۳۱ جولائی ۱۹۹۶ء

حلال و حرام کی بنیاد ۔ سوسائٹی یا وحیٔ الٰہی

آج فیصلوں کا معیار یہ ہے کہ انسان جو کچھ چاہتا ہے وہ اس کا حق ہے۔ مختلف انسانوں کی خواہشات میں ٹکراؤ کی صورت میں سوسائٹی کی اکثریت جس خواہش کی توثیق کر دے وہ حق ہے، اور جس خواہش کو سوسائٹی کی اکثریت کی تائید حاصل نہ ہو پائے وہ ناجائز اور غلط ہے۔ اس خود ساختہ اصول نے اخلاقی قدروں، مذہبی روایات، اور انسانی فطرت کو جس بری طرح پامال کیا ہے اس کی ایک جھلک یورپ کے ایک بڑے مذہبی ادارے ’’چرچ آف انگلینڈ‘‘ کی ان ہدایات کی صورت میں دیکھی جا سکتی ہے جو بغیر شادی کے اکٹھے رہنے والے جوڑوں کے بارے میں ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حلال و حرام کی بنیاد ۔ سوسائٹی یا وحیٔ الٰہی

۲۹ جولائی ۱۹۹۶ء

اجتماعی اجتہاد کی ضرورت اور اس کے تقاضے

شاہ صاحب موصوف گزشتہ دنوں فقہی کانفرنس میں شرکت کی دعوت دینے کے لیے اپنے معزز رفقاء کے ہمراہ گوجرانوالہ تشریف لائے تو ان کے پاس کانفرنس میں پیش کیے جانے والے مضامین و مقالات کے مجوزہ عنوانات کی فہرست میں سے ایک عنوان کا میں نے خود انتخاب کیا جو فہرست کے مطابق یوں تھا: ’’تقلید و اجتہاد کی حدود کا تعین اور اجتماعی اجتہاد کے تصور کا علمی جائزہ‘‘۔ لیکن جب قلم و کاغذ سنبھالے خیالات کو مجتمع کرنا چاہا تو محسوس ہوا کہ یہ ایک نہیں دو الگ الگ عنوان ہیں اور ہر عنوان اپنی جگہ مستقل گفتگو کا متقاضی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اجتماعی اجتہاد کی ضرورت اور اس کے تقاضے

جولائی ۱۹۹۶ء

نفاذ اسلام اور ہمارا نظام تعلیم

اسلامی جمہوریہ پاکستان کا قیام ایک صحت مند اور مثالی معاشرہ کی تشکیل کے لیے عمل میں لایا گیا تھا اور اس سلسلہ میں قائد اعظم محمد علی جناح مرحوم سمیت بانیان پاکستان کے واضح اعلانات تاریخ کا انمٹ حصہ ہیں جن میں اسلام کے مکمل عادلانہ نظام کے نفاذ اور قرآن و سنت کی بالادستی کو پاکستان کی حقیقی منزل قرار دیا گیا ہے۔ لیکن بدقسمتی کی بات ہے کہ دنیا کے نقشے پر اس نظریاتی ملک کو نمودار ہوئے نصف صدی کا عرصہ گزرنے کو ہے مگر ابھی تک ہم اسلامی نظام کی منزل سے بہت دور ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر نفاذ اسلام اور ہمارا نظام تعلیم

اپریل ۱۹۹۶ء

اقوامِ متحدہ اور عالمِ اسلام

۲۴ اکتوبر ۱۹۹۵ء کو اقوام متحدہ کا پچاسواں یومِ تاسیس منایا جا رہا ہے اور اس موقع پر عالمی سطح پر اقوامِ متحدہ کی پچاس سالہ تقریبات کا اہتمام کیا گیا ہے۔ اقوامِ متحدہ سے قبل بھی عالمی سطح پر اقوام کی ایک مشترکہ تنظیم ’’انجمنِ اقوام‘‘ کے نام سے موجود تھی جس کا مقصد مختلف ملکوں کے درمیان محاذ آرائی اور مسلح تصادم کے امکانات کو روکنا اور بین الاقوامی طور پر رواداری اور مفاہمت کی فضا کو فروغ دینا تھا۔ لیکن انجمن اقوام اس مقصد میں کامیاب نہ ہو سکی اور دوسری جنگ عظیم کی تباہ کاریوں کے بعد ’’اقوام متحدہ‘‘ کے نام سے ایک نئی عالمی تنظیم کا قیام عمل میں لایا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اقوامِ متحدہ اور عالمِ اسلام

نومبر ۱۹۹۵ء

قادیانی امت کے سربراہ مرزا طاہر احمد کے نام کھلا خط

جناب مرزا طاہر احمد صاحب ۔ سربراہ قادیانی جماعت۔ مقیم ٹل فورڈ، لندن۔ السلام علیٰ من اتبع الہدٰی۔ گزارش ہے کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اس سال پھر اپنی سالانہ رپورٹ میں پاکستان میں قادیانی جماعت کے مبینہ انسانی حقوق کی پامالی کا ذکر کیا ہے اور متعدد قادیانیوں کے خلاف درج مقدمات کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے حکومتِ پاکستان کو اس کا ملزم ٹھہرایا ہے۔ میں اس خط کے ذریعے اسی اہم مسئلہ پر آپ سے مخاطب ہو رہا ہوں کیونکہ یہ مسئلہ اس وقت نہ صرف مسلمانوں اور قادیانیوں کے مابین تنازعہ اور کشیدگی میں شدت کا باعث بنا ہوا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قادیانی امت کے سربراہ مرزا طاہر احمد کے نام کھلا خط

ستمبر ۱۹۹۵ء

اقوام متحدہ کا انسانی حقوق کا چارٹر اور اسلامی تعلیمات

مغرب نے انسانی حقوق کے بارے میں اقوام متحدہ کے چارٹر کو مسلمہ معیار کا درجہ دے کر کسی بھی معاملہ میں اس سے الگ رویہ رکھنے والے تیسری دنیا اور عالم اسلام کے ممالک کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دینے کی مہم شروع کر رکھی ہے۔ اور اس سلسلہ میں اسے عالمی ذرائع ابلاغ کے ساتھ ساتھ عالم اسلام اور تیسری دنیا میں اپنی ہم نوا لابیوں کا بھرپور تعاون حاصل ہے۔ جبکہ اس نظریاتی و فکری یلغار میں ملت اسلامیہ کے عقائد و احکام اور روایات و اقدار سب سے زیادہ مغربی دانشوروں، لابیوں اور ذرائع ابلاغ کے حملوں کی زد میں ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اقوام متحدہ کا انسانی حقوق کا چارٹر اور اسلامی تعلیمات

مئی ۱۹۹۵ء

انسانی حقوق کا مغربی تصور سیرت طیبہؐ کی روشنی میں

دراصل مغرب حقوق و فرائض میں توازن قائم رکھنے اور ان کے درمیان حد فاصل قائم کرنے میں ناکام رہا ہے۔ جبکہ جناب رسول اللہؐ نے حقوق اور فرائض کو نہ صرف یکجا ذکر کیا بلکہ ان کے درمیان ایسا حسین توازن قائم کر دیا جو گاڑی کے دو پہیوں کی طرح انسانی زندگی کا یکساں بوجھ اٹھا سکتا ہے اور اسے لے کر کامیابی کے ساتھ آگے بڑھ سکتا ہے۔ مگر مغرب نے حقوق و فرائض کو آپس میں گڈمڈ کر دیا اور ان کے درمیان کوئی خط امتیاز قائم نہ رہنے دیا جس کی وجہ سے انسانی معاشرہ ذہنی انتشار اور فکری انارکی کی آماجگاہ بن کر رہ گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر انسانی حقوق کا مغربی تصور سیرت طیبہؐ کی روشنی میں

فروری مارچ ۱۹۹۵ء

دینی مدارس، بنیاد پرستی اور انسانی حقوق

روزنامہ جنگ لاہور ۴ دسمبر ۱۹۹۴ء کے مطابق گورنر پنجاب چودھری الطاف حسین نے دینی مدارس کی کارکردگی پر کڑی نکتہ چینی کی ہے اور فرقہ وارانہ کردار کے حامل مدارس کی بندش کا عندیہ دیا ہے۔ اسی طرح بعض اخباری اطلاعات کے مطابق وفاقی وزارت داخلہ نے ملک میں نئے دینی مدارس کی رجسٹریشن اور پرانے مدارس کی رجسٹریشن کی تجدید کے لیے وزارت داخلہ سے پیشگی اجازت کی شرط عائد کر دی ہے، اور متعلقہ حکام کو ہدایت کر دی ہے کہ اس اجازت کے بغیر کسی نئے مدرسہ کو رجسٹرڈ نہ کیا جائے اور نہ ہی پہلے سے قائم کسی مدرسہ کی رجسٹریشن کی تجدید کی جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دینی مدارس، بنیاد پرستی اور انسانی حقوق

جنوری ۱۹۹۵ء

سنی شیعہ کشمکش کے اسباب و عوامل

’’تحریک جعفریہؒ پاکستان اور سپاہ صحابہؓ پاکستان کے درمیان کشمکش نے مسلح تصادم کی جو صورت اختیار کر لی ہے، اس سے ملک کا ہر ذی شعور شہری پریشان ہے۔ دونوں جانب سے سینکڑوں افراد اب تک اس مسلح تصادم کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔ اور ارباب اختیار فرقہ واریت کے خاتمہ کے عنوان سے اس کشمکش پر قابو پانے کا بار بار عزم ظاہر کرتے ہیں، مگر اس کی جڑیں معاشرہ میں اس قدر گہرائی تک اتر چکی ہیں کہ بیخ کنی کے لیے ان تک رسائی مشکل سے مشکل تر ہوتی جا رہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سنی شیعہ کشمکش کے اسباب و عوامل

دسمبر ۱۹۹۴ء

اخلاق حسنہ، سیرت نبویؐ کا سب سے نمایاں پہلو

جناب سرور کائناتؐ کی ذات گرامی انسانی تاریخ کی وہ منفرد اور ممتاز ترین شخصیت ہے جس کے حالات زندگی، عادات و اطوار، ارشادات و فرمودات، اور اخلاق حسنہ اس قدر تفصیل کے ساتھ تاریخ کے صفحات پر موجود ہیں کہ آنحضرتؐ کی زندگی ایک کھلی کتاب کے طور پر نسل انسانی کے سامنے ہے اور آپؐ کی معاشرتی و خاندانی حتیٰ کہ شخصی اور پرائیویٹ زندگی کا بھی کوئی پہلو تاریخ کی نگاہوں سے اوجھل نہیں رہا۔ اسے محض اتفاق قرار نہیں دیا جا سکتا کہ انسانی تاریخ اپنے دامن میں جناب رسول اللہؐ کے سوا کسی اور شخصیت کے احوال و اقوال کو اس اہتمام کے ساتھ محفوظ نہیں رکھ سکی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اخلاق حسنہ، سیرت نبویؐ کا سب سے نمایاں پہلو

اکتوبر ۱۹۹۴ء

کیا مولانا عبید اللہ سندھیؒ اشتراکیت سے متاثر ہوگئے تھے؟

مولانا عبید اللہ سندھیؒ بھی نادان دوستوں اور بے رحم ناقدوں کے اس طرز عمل سے محفوظ نہیں رہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ اس منفرد انقلابی مفکر کی وفات کو نصف صدی گزر جانے کے بعد بھی ہم اس کی فکر کو لے کر آگے بڑھنے کی بجائے تاریخ کے صفحات میں اسے تلاش اور دریافت کرنے کے مرحلہ میں ہی رکے ہوئے ہیں- مولانا عبید اللہ سندھیؒ کون تھے؟ برصغیر پاک و ہند و بنگلہ دیش کی تاریخ میں ان کی جدوجہد اور کردار کی حیثیت کیا ہے؟ اور کیا وہ اپنے فکر و فلسفہ میں مغربی سرمایہ داری اور اشتراکیت کی عالمی کشمکش سے متاثر ہو کر فریق بن گئے تھے؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر کیا مولانا عبید اللہ سندھیؒ اشتراکیت سے متاثر ہوگئے تھے؟

ستمبر ۱۹۹۴ء

لاؤڈ اسپیکر اور علماء کرام

ان دنوں پاکستان کی وفاقی حکومت کے ایک مبینہ فیصلہ کے حوالہ سے لاؤڈ اسپیکر دینی حلقوں میں پھر سے موضوع بحث ہے اور لاؤڈ اسپیکر کی آواز کو مساجد کی چار دیواری کے اندر محدود کر دینے کے فیصلہ یا تجویز کو مداخلت فی الدین قرار دے کر اس کی پرجوش مخالفت کی جا رہی ہے۔ ایک دور تھا جب لاؤڈ اسپیکر نیا نیا متعارف ہوا تو مساجد میں اس کے استعمال کے جواز و عدم جواز اور نماز میں لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے سے امام کی آواز مقتدیوں تک پہنچنے کی شرعی حیثیت کی بحث چھڑ گئی تھی۔ ایک مدت تک ہمارے فتاوٰی اور علمی مباحث میں اس کا تذکرہ ہوتا رہا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر لاؤڈ اسپیکر اور علماء کرام

جولائی ۱۹۹۴ء

افغانستان میں عالم اسلام کی آرزوؤں کا خون

جہاد افغانستان کی کامیابی اور کابل میں مجاہدین کی مشترک حکومت کے قیام کے بعد دنیا بھر کی اسلامی تحریکات کو یہ امید تھی کہ اب افغانستان میں ایک نظریاتی اسلامی حکومت قائم ہوگی اور مجاہدین کی جماعتیں اور قائدین مل جل کر افغانستان کی تعمیر نو کے ساتھ ساتھ اسلام کے عادلانہ نظام کا ایک مثالی عملی نمونہ دنیا کے سامنے پیش کریں گے جو دیگر مسلم ممالک میں نفاذ اسلام کی تحریکات کے عزم و حوصلہ میں اضافہ کا باعث ہوگا۔ لیکن اے بسا آرزو کہ خاک شدہ، بعض افغان راہنماؤں کی ناعاقبت اندیشی اور ہوسِ اقتدار نے عالم اسلام کی آرزوؤں کا سربازار خون کر دیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر افغانستان میں عالم اسلام کی آرزوؤں کا خون

فروری مارچ ۱۹۹۴ء

قادیانی مسئلہ اور مغربی ممالک میں مقیم مسلمانوں کی ذمہ داری

قادیانی گروہ کی سرپرست لابیوں اور ویسٹرن میڈیا کی طرف سے قادیانی مسئلہ کے حوالہ سے ایک الزام پاکستان کے مسلمانوں پر، پاکستان کی حکومت پر اور پاکستان کے دستوری اور قانونی ڈھانچے پر پورے شدومد کے ساتھ دنیا بھر میں دہرایا جا رہا ہے کہ پاکستان میں قادیانیوں کے انسانی حقوق پامال کر دیے گئے ہیں، ان کے شہری حقوق معطل ہو گئے ہیں اور قادیانیوں کے ہیومن رائٹس ختم کر دیے گئے ہیں۔ ابھی حال میں اسی ماہ کے آغاز میں برطانیہ میں ٹل فورڈ کے مقام پر قادیانیوں کے سالانہ اجتماع میں بھارتی ہائی کمشنر نے شرکت کی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قادیانی مسئلہ اور مغربی ممالک میں مقیم مسلمانوں کی ذمہ داری

۱۶ اگست ۱۹۹۲ء

افغانستان میں پانچ دن

حرکۃ الجہاد الاسلامی پاکستان کی دعوت پر مجھے ملک کے سرکردہ علماء کرام کے ایک وفد کے ہمراہ ۳۱ مئی سے ۴ جون تک پانچ روز افغانستان کی سرزمین پر گزارنے کا موقع ملا۔ اس سے قبل بھی چودہ سالہ افغان جہاد کے دوران حرکۃ الجہاد الاسلامی اور حرکۃ المجاہدین کی دعوت اور پروگرام کے مطابق ارگون، باڑی، راغبیلی، ژاور اور خوست کے دیگر محاذوں پر کئی بار گیا ہوں لیکن جہاد افغانستان کی کامیابی اور مجاہدین کی باقاعدہ حکومت کے قیام کے بعد یہ میرا پہلا دورۂ افغانستان تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر افغانستان میں پانچ دن

جون ۱۹۹۲ء

ملکی سیاست اور مذہبی جماعتوں کا مخمصہ

صورت حال یہ ہے کہ قومی سیاست کی ریت دینی رہنماؤں کی مٹھی سے مسلسل پھسلتی جا رہی ہے اور قومی سیاست میں بے وقعت ہونے کے اثرات معاشرہ میں ان کے دینی وقار و مقام کو بھی لپیٹ میں لیتے جا رہے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس صورت حال کا ٹھنڈے دل و دماغ کے ساتھ سنجیدہ تجزیہ کیا جائے اور ان اسباب و عوامل کا سراغ لگایا جائے جو ملکی سیاست میں مذہبی جماعتوں کی ناکامی کا باعث بنے ہیں۔ تاکہ ان کی روشنی میں دینی سیاسی جماعتیں اپنے مستقبل کو حال سے بہتر بنانے کی منصوبہ بندی کر سکیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ملکی سیاست اور مذہبی جماعتوں کا مخمصہ

۱۵ جنوری ۱۹۹۲ء

افغانستان کی تقسیم کے عالمی منصوبہ کا آغاز

افغان مجاہدین کی خون میں ڈوبی ہوئی چودہ سالہ طویل جدوجہد بالآخر رنگ لائی جس کے نتیجہ میں افغانستان کے عوام آزادی کی نعمت سے سرفراز ہوئے اور وہاں پر ایک آزاد اسلامی (عبوری) حکومت قائم ہوگئی۔ اس کے ساتھ ہی افغانستان میں اسلامی حکومت کے قیام کے خلاف امریکہ، روس اور دیگر مغربی ممالک کی سازشیں بھی اپنے عروج پر پہنچ گئیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ افغانستان کی جغرافیائی حیثیت کے پیش نظر دنیا بھر کی غیر مسلم استعماری طاقتیں خصوصاً امریکہ بہادر وہاں ایک آزاد اور خالص اسلامی حکومت کے قیام کو کسی صورت بھی برداشت نہیں کر سکتا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر افغانستان کی تقسیم کے عالمی منصوبہ کا آغاز

مئی ۱۹۹۱ء (غالباً) - جلد ۳۴ شمارہ ۲۰

ہمارے دینی مدارس

دینی مدارس کے تعلیمی سال کا آغاز ہو چکا ہے اور ملک بھر کے دینی مدارس کے اساتذہ اور طلبہ سالانہ تعطیلات گزارنے کے بعد اپنے تعلیمی سفر کے نئے مرحلہ کا آغاز ماہِ گزشتہ کے وسط میں کر چکے ہیں۔ ملک کے طول و عرض میں پھیلے ہوئے ان ہزاروں دینی مدارس کا تعلق مختلف مذہبی مکاتبِ فکر سے ہے اور ہر مذہبی مکتب فکر کے دینی ادارے اپنے اپنے مذہبی گروہ کے تشخص و امتیاز کا پرچم اٹھائے نئی نسل کے ایک معتد بہ حصہ کو اپنے نظریاتی حصار اور فقہی دائروں میں جکڑنے کے لیے شب و روز مصروف عمل ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ہمارے دینی مدارس

جولائی و ستمبر ۱۹۹۰ء

’’شریعت بل‘‘ پر مختلف حلقوں کے اعتراضات

پارلیمنٹ کے ایوان بالا سینٹ آف پاکستان نے ۱۳ مئی ۱۹۹۰ء کو ’’نفاذِ شریعت ایکٹ ۱۹۹۰ء‘‘ کے عنوان سے ایک نئے مسودہ قانون کی متفقہ طور پر منظوری دے دی ہے۔ یہ مسودہ قانون اسی ’’شریعت بل‘‘ کی ترمیم شدہ شکل ہے جو سینٹ کے دو معزز ارکان مولانا سمیع الحق اور مولانا قاضی عبد اللطیف نے ۱۹۸۵ء کے دوران سینٹ کے سامنے پیش کیا تھا اور اس پر ایوان کے اندر اور باہر مسلسل پانچ برس تک بحث و تمحیص کا سلسلہ جاری رہا۔ سینٹ آف پاکستان نے شریعت بل کے مسودہ پر نظر ثانی کے لیے وقتاً فوقتاً مختلف کمیٹیاں تشکیل دیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ’’شریعت بل‘‘ پر مختلف حلقوں کے اعتراضات

جولائی ۱۹۹۰ء

پاکستان میں نفاذ اسلام کی جدوجہد اور علماء کرام کی ذمہ داریاں

اسلامی جمہوریہ پاکستان کا قیام ۱۹۴۷ء میں ’’لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ کے اجتماعی ورد کی فضا میں اس مقصد کے لیے عمل میں آیا تھا کہ اس خطہ کے مسلمان الگ قوم کی حیثیت سے اپنے دینی، تہذیبی اور فکری اثاثہ کی بنیاد پر ایک نظریاتی اسلامی ریاست قائم کر سکیں۔ لیکن تینتالیس سال کا عرصہ گزر جانے کے باوجود دستور میں ریاست کو ’’اسلامی جمہوریہ پاکستان‘‘ کا نام دینے اور چند جزوی اقدامات کے سوا اس مقصد کی طرف کوئی عملی پیش رفت نہیں ہو سکی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر پاکستان میں نفاذ اسلام کی جدوجہد اور علماء کرام کی ذمہ داریاں

مئی ۱۹۹۰ء

تحریک پاکستان اور شیخ الاسلام علامہ شبیر احمدؒ عثمانی

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ آج کی یہ تقریب الشبان المسلمون کے زیراہتمام تحریک پاکستان کے عظیم راہنما شیخ الاسلام علامہ شبیر احمدؒ عثمانی کی خدمات اور جدوجہد کے تذکرہ کے لیے منعقد ہو رہی ہے۔ اس سے پہلے پروفیسر محمد عبد الجبار صاحب اور مولانا محمد انذر قاسمی اپنے خیالات کا اظہار کر چکے ہیں جبکہ پروفیسر میاں منظور احمد صاحب جو حضرت علامہ عثمانی کے شاگرد بھی ہیں میرے بعد اظہارِ خیال فرمانے والے ہیں۔ مجھے حکم دیا گیا کہ حضرت مولانا شبیر احمدؒ عثمانی کی جدوجہد اور خدمات کے بارے میں کچھ معروضات پیش کروں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر تحریک پاکستان اور شیخ الاسلام علامہ شبیر احمدؒ عثمانی

اپریل ۱۹۹۰ء

مجھے قرآن میں روحانی سکون ملا، ایک نومسلم کنیڈین خاتون کے تاثرات

گزشتہ روز امریکہ سے ایک نومسلم خاتون ڈاکٹر مجاہدہ کے ہرمینسن گوجرانوالہ تشریف لائیں، ان کا سابقہ نام مارسیا ہے اور امریکی ریاست کیلی فورنیا میں سن ڈیگوسٹیٹ یونیورسٹی کے شعبہ مذہبی امور کی پروفیسر ہیں۔ان کے خاوند ملک محمد علوی ان کے ہمراہ تھے۔ علوی صاحب وزیر آباد ضلع گوجرانوالہ کے رہنے والے ہیں اور پندرہ سال سے امریکہ میں قیام پذیر ہیں۔ ڈاکٹر مجاہدہ پیدائشی طورپر کنیڈین ہیں اور ایک عرصہ سے امریکہ میں رہائش پذیر ہیں۔ موصوفہ نے کم وبیش دس سال قبل اسلام قبول کیا، عربی زبان سیکھی، ار دو اور فارسی سے بھی آشنائی حاصل کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مجھے قرآن میں روحانی سکون ملا، ایک نومسلم کنیڈین خاتون کے تاثرات

مارچ ۱۹۹۰ء

عورت کی حکمرانی کی شرعی حیثیت

مرد اور عورت دونوں نسل انسانی کے ایسے ستون ہیں کہ جن میں سے ایک کو بھی اس کی جگہ سے سرکا دیا جائے تو انسانی معاشرہ کا ڈھانچہ قائم نہیں رہتا۔ اللہ رب العزت نے حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حوا علیہا السلام کو اپنی قدرت خاص سے پیدا فرمایا اور ان دونوں کے ذریعے نسل انسانی کو دنیا میں بڑھا پھیلا کر مرد اور عورت کے درمیان ذمہ داریوں اور فرائض کی فطری تقسیم کر دی، دونوں کا دائرہ کار متعین کر دیا اور دونوں کے باہمی حقوق کو ایک توازن اور تناسب کے ساتھ طے فرما دیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر عورت کی حکمرانی کی شرعی حیثیت

۵ جنوری ۱۹۹۰ء

امریکہ میں مقیم مسلمانوں سے چند ضروری گزارشات

میں مسجد الہدٰی واشنگٹن ڈی سی کی انتظامیہ اور جمعیۃ المسلمین کے ذمہ دار حضرات کا شکر گزار ہوں جنہوں نے آج یہاں اس محفل کا انعقاد کر کے ہمیں اپنی دینی ذمہ داریوں کے بارے میں کچھ کہنے سننے کا موقع فراہم کیا، اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر دیں۔ تفصیلی خطاب تو حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹی کا ہوگا جو قادیانیت کی فتنہ خیزیوں کے بارے میں آپ سے کھل کر بات کریں گے، مجھے مختصر وقت میں آپ دوستوں سے یہاں امریکہ میں مقیم مسلمانوں بالخصوص پاکستانی دوستوں کی ذمہ داریوں کے حوالے سے کچھ گزارشات پیش کرنی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر امریکہ میں مقیم مسلمانوں سے چند ضروری گزارشات

نومبر ۱۹۸۹ء

جہادِ افغانستان فیصلہ کن مرحلہ میں!

افغان عوام کا جہادِ حریت سیاسی اور فوجی دونوں محاذوں پر فیصلہ کن مرحلہ میں داخل ہو گیا ہے۔ یہ جہادِ آزادی جو آج سے آٹھ نو برس پہلے چند سو سرفروشوں کے نعرۂ مستانہ کے ساتھ شروع ہوا تھا، قربانی، ایثار اور جہد و استقلال کے کٹھن مراحل سے گزرتا ہوا آج اس مرحلہ تک پہنچ چکا ہے کہ افغانستان کے اسی فیصد علاقہ پر مجاہدین کا کنٹرول عملاً قائم ہو گیا ہے۔ روس جیسی استعماری قوت اور عالمی طاقت کو افغان مجاہدین کے ہاتھوں ہزیمت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور وہ اب واپسی کے ارادہ کے اظہار کے ساتھ ساتھ اپنے بعد قائم ہونے والی حکومت کے بارے میں تحفظات کی تلاش میں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جہادِ افغانستان فیصلہ کن مرحلہ میں!

۲۵ دسمبر ۱۹۸۷ء

اقبالؒ کے نادان دوستوں سے!

علامہ محمد اقبال مرحوم کو پاکستان کے عوام ایک مخلص قومی مفکر اور راہنما کی حیثیت سے پہچانتے ہیں جس نے برصغیر پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش میں بسنے والے مسلمانوں کے ملی جذبات کو ابھارنے اور ان میں عظمت رفتہ کی بحالی کا احساس اجاگر کرنے کے لیے مسلسل محنت کی اور اس خطۂ زمین کے مسلمانوں کے لیے ایک الگ وطن کا تصور پیش کر کے تحریک پاکستان کی فکری بنیاد رکھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اقبالؒ کے نادان دوستوں سے!

۲۷ نومبر ۱۹۸۷ء

قاہرہ میں پانچ دن ۔ مشاہدات، تاثرات اور محسوسات

بیرونی ممالک میں کام کرنے والے مصریوں کی چوتھی سالانہ کانفرنس گزشتہ روز ختم ہوگئی ہے۔ یہ کانفرنس پانچ روز جاری رہی، اس کے افتتاحی اجلاس سے صدرِ مصر جناب حسنی مبارک نے اور اختتامی اجلاس سے وزیراعظم جناب ڈاکٹر عاطف صدقی نے خطاب کیا۔ اس دوران مختلف وزارتوں اور محکموں کے سربراہوں نے کانفرنس کے شرکاء کے سامنے مصری حکومت کی پالیسیوں پر روشنی ڈالی اور بیرونِ ملک مقیم مصریوں کے نمائندوں نے بھی خطاب کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قاہرہ میں پانچ دن ۔ مشاہدات، تاثرات اور محسوسات

۱۱ ستمبر ۱۹۸۷ء

متحدہ عرب امارات میں مقیم پاکستانیوں کے بعض اہم مسائل

مجھے ۹ اگست سے ۱۷ اگست تک متحدہ عرب امارات کے مختلف حصوں کا دورہ کرنے کا موقع ملا اور اس دوران دوبئی، شارجہ، عجمان اور ابو ظہبی میں متعدد دینی اجتماعات میں شرکت کے علاوہ پاکستانی باشندوں کی مختلف تقریبات میں حاضری کا بھی اتفاق ہوا۔ جمعیۃ اہل السنۃ والجماعۃ متحدہ عرب امارات اس دورہ کی میزبان تھی اور جمعیۃ کی طرف سے دیگر اجتماعات کے علاوہ یوم پاکستان کے موقع پر ۱۴ اگست کو ابوظہبی کی قدیمی جامع مسجد میں سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے موضوع پر جلسۂ عام کا بھی اہتمام کیا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر متحدہ عرب امارات میں مقیم پاکستانیوں کے بعض اہم مسائل

۴ ستمبر ۱۹۸۷ء

علامہ محمد اقبالؒ اور پارلیمنٹ کے لیے تعبیر شریعت کا اختیار

دین کی اجماعی تعبیر جو حضرات صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور سلف صالحین کے چودہ سو سالہ تعامل کی صورت میں چلی آرہی ہے اس تعبیر و تشریح سے ملت اسلامیہ کو ہٹانے اور قرآن و سنت کو جدید تعبیر و تشریح کی سان پر چڑھانے کے لیے استعماری قوتیں اپنے آلۂ کار عناصر کے ذریعے ایک عرصہ سے مسلم معاشرہ میں سرگرمِ عمل ہیں۔ نصف صدی قبل تک بیشتر مسلم ممالک پر سامراجی قوتوں کے غلبہ و استعلاء کے دور میں سامراجی آقاؤں نے مسلسل سازشوں اور محنت کے باوجود جب یہ دیکھا کہ مسلمانوں کو دین کی بنیاد قرآن و سنت سے برگشتہ کرنا ممکن نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر علامہ محمد اقبالؒ اور پارلیمنٹ کے لیے تعبیر شریعت کا اختیار

۲۰ مارچ ۱۹۸۷ء

’’شریعت بل‘‘ پر اعتراضات ایک نظر میں

سینٹ آف پاکستان میں مولانا قاضی عبد اللطیف اور مولانا سمیع الحق کا پیش کردہ پرائیویٹ شریعت بل اس وقت قومی حلقوں میں زیربحث ہے اور اخبارات و جرائد میں اس کی حمایت اور مخالفت میں مسلسل مضامین شائع ہو رہے ہیں۔ زیربحث مضمون میں ان اہم اعتراضات پر ایک نظر ڈالنا مقصود ہے جو اس وقت تک شریعت بل سے اختلاف کے ضمن میں سامنے آئے ہیں۔ ان اعتراضات کو بنیادی طور پر دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ ایک حصہ ان اعتراضات پر مشتمل ہے جو سیاسی بنیاد پر کیے جا رہے ہیں اور ان کے پس منظر میں سیاسی اختلافات کارفرما ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ’’شریعت بل‘‘ پر اعتراضات ایک نظر میں

۱۲ ستمبر ۱۹۸۶ء

محنت کش اور اسلامی نظام

محنت انسانی عظمت کا ایک ایسا عنوان اور اجتماعیت کا ایک ایسا محور ہے جس کے گرد انسانی معاشرہ کی چکی گھومتی ہے اور جس کے بغیر نوع انسانی کی معاشرت اور اجتماعیت کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ کائنات کے خالق و مالک نے انسانی معاشرہ کے لیے جو فطری نظامِ زندگی نازل فرمایا اس میں محنت کی عظمت کا نہ صرف اعتراف کیا گیا ہے بلکہ دینِ خداوندی کو پیش کرنے والے عظیم المرتبت انبیاء علیہم السلام کو ’’محنت کشوں‘‘ کی صف میں کھڑا کر کے خداوندِ عالم نے محنت کو پیغمبری وصف کا درجہ عطا فرمایا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر محنت کش اور اسلامی نظام

یکم اپریل ۱۹۸۳ء

حضرت مولانا مفتی محمودؒ

دل زخمی ہے، جگر فگار اور ذہن حیرت کی وسعتوں میں گم کہ خدایا یہ اچانک بیٹھے بٹھائے کیا ہوگیا ہے۔ موت ایک ناگزیر حقیقت ہے جس سے کسی کو مفر نہیں، جو شخص دنیا میں آیا ہے اس نے جانا ہے۔ جب انبیاء علیہم الصلوات والتسلیمات جیسی ذوات مقدسمہ کو دنیا کی زندگی میں دوام نہ مل سکا تو اور کون ہے جسے موت سے مستثنیٰ قرار دیا جا سکے۔ مولانا مفتی محمودؒ بھی دوسرے انسانوں کی طرح گوشت پوست کے انسان تھے، ان کی ذات لافانی نہ تھی، انہوں نے بھی دنیا سے جانا تھا اور وہ اپنا وقت پورا کر کے خالق و مالک کی بارگاہ میں سرخرو چلے گئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا مفتی محمودؒ

۷ نومبر ۱۹۸۰ء

نظامِ مصطفٰیؐ کا نفاذ اور ہماری ذمہ داریاں

کم و بیش دو صدیوں پر محیط مسلسل جدوجہد اور ملتِ اسلامیہ کی پشت ہا پشت کی طویل قربانیوں کے بعد جب امسال ۱۲ ربیع الاول کو صدرِ پاکستان جنرل محمد ضیاء الحق نے ملک میں چند اسلامی قوانین کے نفاذ کا اعلان کیا تو ہر محبِ وطن شہری نے اطمینان کا سانس لیا کہ بدیر سہی لیکن بالآخر ہم نے اپنا رخ صحیح منزل کی طرف کر لیا ہے، اب اگر ہم سست روی سے چلے تب بھی کم از کم یہ اطمینان تو ہوگا کہ قوم کی اجتماعی گاڑی کا رخ اس کی اصل منزل کی طرف ہے اور اسے دوسری طرف پھیرا نہیں جا سکتا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر نظامِ مصطفٰیؐ کا نفاذ اور ہماری ذمہ داریاں

۲۸ جولائی ۱۹۷۹ء

پارٹی سسٹم کی بنیاد پر الیکشن کی تجویز

صدرِ پاکستان جنرل محمد ضیاء الحق نے ایک غیر ملکی جریدہ ’’امپیکٹ انٹرنیشنل‘‘ کو دیے گئے ایک حالیہ انٹرویو میں افراد کی بجائے جماعتوں کو ووٹ دینے کے سلسلہ میں اظہارِ خیال کیا ہے اور کہا ہے کہ ’’وہ اس نظام کے حق میں ہیں لیکن جب انہوں نے یہ تجویز سیاستدانوں کو پیش کی تو ان کے پاؤں کے نیچے سے زمین کھسکنے لگی۔‘‘ ہمارے خیال میں اس تجویز پر سیاستدانوں کے پاؤں کے نیچے سے زمین کھسکنے کی کوئی وجہ نہیں ہے کیونکہ خود سیاستدان بارہا پارٹی سسٹم کی بنیاد پر انتخابات کرانے کا مطالبہ کر چکے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر پارٹی سسٹم کی بنیاد پر الیکشن کی تجویز

۲۶ جنوری ۱۹۷۹ء

ایرانی عوام کی جدوجہد

برادر پڑوسی ملک ایران کے عوام ایک عرصہ سے شہنشاہیت کے خاتمہ کے لیے نبرد آزما ہیں، ان کی پرجوش تحریک کی قیادت علامہ آیت اللہ خمینی اور علامہ آیت اللہ شریعت سدار جیسے متصلب شیعہ راہنماؤں کے ہاتھ میں ہے اور اس تحریک میں علماء و طلباء کے علاوہ خواتین، مزدور، ملازمین اور دوسرے طبقے بھی سرگرم دکھائی دیتے ہیں۔ ہزاروں ایرانی اس وقت تک اس جدوجہد میں اپنی جانوں پر کھیل چکے ہیں اور تحریک کی شدت کا یہ عالم مکمل تحریر ایرانی عوام کی جدوجہد

۱۵ دسمبر ۱۹۷۸ء

عدالتوں میں اسلامی فقہ کے ماہرین

مارشل لاء حکومت کی طرف سے سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کو غیر اسلامی قوانین کی منسوخی کے اختیارات تفویض کیے جانے کے اعلان کے بعد یہ سوال انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ اعلیٰ عدالتوں میں ججوں کے ساتھ اسلامی فقہ کے ماہرین کا تقرر بھی ضروری ہے تاکہ وہ عدالتوں کو ان قوانین کی طرف توجہ دلا سکیں جو اسلام کے منافی ہیں اور قرآن و سنت کے مطابق ان میں ترامیم اور تبدیلیوں کے سلسلہ میں ججوں کا ہاتھ بٹا سکیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر عدالتوں میں اسلامی فقہ کے ماہرین

۱۴ جنوری ۱۹۷۸ء

جیلوں کے نظام میں اصلاح کی ضرورت

اس دفعہ بحمد اللہ تعالیٰ جیل کی اندرونی زندگی کا جائزہ لینے اور جرم و سزا کے ماحول میں بسنے والے انسانوں کا مطالعہ کرنے کا کافی موقع ملا اور بالآخر تین ماہ اٹھارہ دن جیل میں گزارنے کے بعد ۲۸ اکتوبر ۱۹۷۶ء کو اپنی انتیسویں سالگرہ کے دن ضمانت پر جیل سے رہا ہوا۔ اس دوران جیل کے اندر کی زندگی کو جس طرح دیکھا اور اس کے بارے میں جو کچھ محسوس کیا اس کی داستان تو بہت طویل ہے لیکن چند اہم امور کی طرف حکومت وقت اور رائے عامہ کو توجہ دلانا ضروری سمجھتا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جیلوں کے نظام میں اصلاح کی ضرورت

۱۲ نومبر ۱۹۷۶ء

حضرت امیر معاویہؓ اور ان کی روایت کردہ چند احادیث

امیر المؤمنین حضرت معاویہ بن ابی سفیانؓ ان خوش قسمت ترین افراد میں سے ہیں جنہیں اللہ تبارک و تعالیٰ نے شرف صحابیت کے ساتھ ساتھ عقل و دانش اور فہم و فراست کی وافر دولت سے بھی مالا مال کیا تھا۔ ان کا شمار عرب کے ذہین ترین سیاست دانوں میں ہوتا ہے اور ان کی سیاسی بصیرت بطور مثال پیش کی جاتی ہے۔ حضرت معاویہؓ نہ صرف خود جناب نبی اکرمؐ کے صحابی تھے بلکہ ان کے والد گرامی حضرت ابو سفیانؓ، والدہ محترمہ حضرت ہندہؓ، برادر گرامی حضرت امیر یزیدؓ اور ہمشیرہ محترمہ حضرت ام المؤمنین ام حبیبہؓ کا شمار بھی صحابہ کرامؓ میں ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت امیر معاویہؓ اور ان کی روایت کردہ چند احادیث

۲۹ اکتوبر ۱۹۷۶ء

حضرت شاہ ولی اللہؒ اور ان کی تحریک

حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ نے جب شعور کی آنکھ کھولی تو سلطنتِ مغلیہ کا چراغ ٹمٹمارہاتھا۔ طوائف الملوکی ڈیرہ ڈالے ہوئے تھی اور فرنگی تاجر کمپنیاں دھیرے دھیرے مغل حکمرانوں کی جگہ لینے کے لیے آگے بڑھ رہی تھیں۔ مرہٹے ایک طاقتور سیاسی قوت کی حیثیت اختیار کرتے جارہے تھے اور برصغیر ان کے قبضے میں چلے جانے کا خطر ہ دن بدن بڑھتا جارہا تھا۔ حضرت امام ولی اللہؒ نے فوری حکمت عملی کے طور پر مرہٹوں کی سرکوبی اور ان کے خطر ہ سے نجات حاصل کرنے کے لیے افغانستان کے بادشاہ احمد شاہ ابدالیؒ سے رابطہ قائم کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت شاہ ولی اللہؒ اور ان کی تحریک

۲۴ اکتوبر ۱۹۷۵ء

علماء کا سیاست میں حصہ لینا کیوں ضروری ہے؟

آج کل ایک گمراہ کن غلطی عام طور پر ہمارے معاشرہ میں پائی جاتی ہے کہ علماء اسلام کو ملکی سیاست میں حصہ نہیں لینا چاہیے بلکہ مساجد میں بھی صرف نماز، روزہ اور حج وغیرہ عبادات و اخلاقیات ہی کی بات کرنی چاہیے۔ اس کے علاوہ ملکی معاملات پر گفتگو کرنا اور عام لوگوں کے سیاسی مسائل میں دلچسپی لینا علماء کے لیے غیر ضروری بلکہ نامناسب ہے۔ یہ غلط فہمی سامراج اور اس کے آلۂ کار افراد نے اتنے منظم طریقہ سے پھیلائی ہے کہ آج سامراجی نظام اس غلط فہمی کے سہارے مساجد و مدارس دینیہ میں سیاسیات کے تذکرہ کو روکنے کے لیے قانونی اقدامات کی طرف بڑھنے کی کوشش کر رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر علماء کا سیاست میں حصہ لینا کیوں ضروری ہے؟

۴ جولائی ۱۹۷۵ء

دینی مدارس کا جرم؟

لاہور کے بعض اخبارات میں شائع ہونے والی اس خبر سے ملک بھر کے دینی حلقوں میں غم و غصہ اور احتجاج و اضطراب کی لہر دوڑ گئی ہے کہ حکومت نے تمام دینی مدارس کو قومی تحویل میں لینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس خبر کے مطابق اصولی طور پر اس امر کا فیصلہ ہوچکا ہے اور اب صرف یہ بات فیصلہ طلب ہے کہ قومی تحویل میں لینے کے بعد دینی مدارس کا نظام وفاقی حکومت چلائے گی یا صوبائی حکومتوں کو یہ ذمہ داری قبول کرنا ہوگی؟ خبر میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ابتدائی مرحلہ میں پنجاب کے اڑھائی سو مدرسے قومیائے جائیں گے اور مدارس کو اول دوم اور سوم تین مدارج میں تقسیم کیا جائے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دینی مدارس کا جرم؟

۳۱ جنوری ۱۹۷۵ء

پاکستان، امریکی مفاد کی کڑی؟

جہاں تک امریکہ کی فوجی امداد کی بحالی کا تعلق ہے، اگر امریکہ پاکستان کی امداد بحال کر دے تو اس سے پاکستان کو دفاعی ضروریات پوری کرنے اور برصغیر میں طاقت کا توازن برقرار رکھنے میں یقیناً مدد ملے گی۔ لیکن اس امداد کے پس منظر میں ڈاکٹر کیسنجر کے ریمارکس کے پیش نظر ہم اس خدشہ کا اظہار کیے بغیر نہیں رہ سکتے کہ شاید ایک بار پھر پاکستان کی خارجہ پالیسیوں کے گرد استعماری زنجیروں کا حلقہ تنگ کیا جا رہا ہے اور امریکہ کی طرف سے فوجی امداد کی یہ بحالی اس سلسلہ کی ایک کڑی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر پاکستان، امریکی مفاد کی کڑی؟

۴ اکتوبر ۱۹۷۴ء

قادیانی مسئلہ: وزیراعظم بھٹو کی تقریر پر مولانا مفتی محمود کے ارشادات

مولانا مفتی محمود نے اخباری کانفرنس میں مجلس عمل کے فیصلوں پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ وزیراعظم بھٹو قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے اور اس سلسلہ میں سواد اعظم کے دوسرے مطالبات تسلیم کرنے کے سلسلہ میں سنجیدہ نہیں ہیں، وہ اس مسئلہ کو اسلامی مشاورتی کونسل یا سپریم کورٹ کے سپرد کر کے سرد خانہ میں ڈالنا چاہتے ہیں۔ مجلس عمل کے مطالبات بالکل واضح ہیں، قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے مسئلہ کو قانونی حیثیت دینے کے لیے قومی اسمبلی سے فیصلہ لینا ضروری ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قادیانی مسئلہ: وزیراعظم بھٹو کی تقریر پر مولانا مفتی محمود کے ارشادات

۲۱ جون ۱۹۷۴ء

بھارت کا ایٹمی دھماکہ!

انڈیا نے گزشتہ روز راجستھان کے صحراؤں میں پہلا ایٹمی دھماکہ کیا اور اس طرح امریکہ، روس، برطانیہ، فرانس اور چین کے بعد ایٹمی طاقتوں کی فہرست میں چھٹے ملک کا اضافہ ہوگیا۔ بھارت کے اس ایٹمی دھماکے پر عالمی رائے عامہ کی طرف سے ملے جلے ردعمل کے اظہار کا سلسلہ جاری ہے۔ پاکستان اور دوسرے بہت سے ممالک نے یہ رائے ظاہر کی ہے کہ اس دھماکے سے ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کی جانے والی کوششوں کو نقصان پہنچے گا۔ وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے یہ بھی کہا ہے کہ پاکستان بھارت کے اس اقدام سے مرعوب نہیں ہوگا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر بھارت کا ایٹمی دھماکہ!

۲۴ مئی ۱۹۷۴ء

کشمیر، تاریخ کے آئینے میں

(۱) چودھویں صدی عیسوی کے ربع اول میں کشمیر کے ایک راجہ نے، جس کا نام رینچن یا رام چندر بتایا جاتا ہے، ایک عرب مسافر سید بلبل شاہؒ کی نماز اور تبلیغ سے متاثر ہو کر اسلام قبول کیا، اپنا اسلامی نام صدر الدینؒ رکھا اور سری نگر میں جامع مسجد تعمیر کی۔ اس طرح کشمیر کے اسلامی دور کا آغاز ہوا۔ (۲) پندرہویں صدی کے ربع اول میں کشمیر کو سلطان زین العابدینؒ جیسا نیک دل، رعایا پرور اور علم دوست بادشاہ نصیب ہوا جس نے عدل، تدبر، رحم دلی اور اسلامی اخوت و مساوات کے جذبہ سے ریاست میں اسلام کی بنیادوں کو مستحکم کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر کشمیر، تاریخ کے آئینے میں

۲۴ مئی ۱۹۷۴ء

سنت ابراہیمیؑ کا اصل سبق

حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یہ عظیم سنت ہر سال ہمیں یہ بھولا ہوا سبق یاد دلاتی ہے کہ اگر خدا کی دوستی چاہتے ہو تو ہر چیز کو اس کی رضا پر قربان کر دینے کے لیے تیار رہو۔ اگر دنیاوی اسباب کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ کی خصوصی نصرت کے طلب گار ہو تو ایثار و قربانی اور اطاعت و وفا کی راہوں پر گامزن ہو جاؤ۔ اور اگر اللہ رب العزت کی بے پایاں خصوصی رحمتوں کے متمنی ہو تو اس کے ہر حکم اور ہر اشارہ پر سر تسلیم خم کر دو۔ قربانی محض ایک رسم نہیں کہ جانور خریدا اور ذبح کر دیا۔ یہ عبادت ہے، اس میں ایک عظیم سبق ہے جسے ہم بھول چکے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سنت ابراہیمیؑ کا اصل سبق

۴ اپریل ۱۹۷۴ء

تقسیم ہند کی معقولیت سے انکار

وزیراعظم جناب ذوالفقار علی بھٹو نے گزشتہ روز لاہور میں اخباری نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے یہ عجیب و غریب انکشاف فرمایا ہے کہ ’’پاکستان مذہبی ملک نہیں ہے‘‘ اور یہ کہ ’’کسی ملک کے سیکولر ہونے سے اس کے اسلامی مزاج میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔‘‘ (روزنامہ مشرق لاہور ۔ یکم فروری ۱۹۷۴ء)۔ خدا جانے مذہب کے نام سے بھٹو صاحب کی اس جھجھک کا پس منظر کیا ہے، حالانکہ اس حقیقت سے انکار کی کوئی گنجائش نہیں کہ پاکستان مذہب کے نام پر لا الہ الا اللہ کا نعرہ لگا کر قائم کیا گیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر تقسیم ہند کی معقولیت سے انکار

۸ فروری ۱۹۷۴ء

آئین شریعت کے لیے تئیس سالہ جدوجہد کا جائزہ

یہ بات اتنی مرتبہ دہرائی جا چکی ہے کہ رفتہ رفتہ مفہوم و مطلب کے لباس سے عاری ہو کر روز مرہ کے تکیہ کلام کی حیثیت اختیار کرتی جا رہی ہے۔ اگر شریعت کے نفاذ کا تعلق اس حقیقت کے لفظی تکرار کے ساتھ ہوتا تو پاکستان اس وقت دنیا کی مثالی اور معیاری اسلامی سلطنت کا روپ دھار چکا ہوتا۔ لیکن کہیں نعروں اور جملوں کے بار بار تکرار سے بھی کسی قوم کی تقدیر بدلتی ہے؟ بدقسمتی سے ہمارے یہاں تئیس سالوں سے نعروں اور لفظوں کے بے مقصد تکرار کا یہ کھیل پوری منصوبہ بندی کے ساتھ کھیلا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر آئین شریعت کے لیے تئیس سالہ جدوجہد کا جائزہ

۲۱ اگست ۱۹۷۰ء