معروف

گلوبل سوسائٹی میں دینی تعلیم کی ضروریات

اس وقت کے عمومی حالات کے پیش نظر دینی تعلیم کے معروضی تقاضوں کے حوالے سے جو ضروریات محسوس کی جا رہی ہیں ان کا ایک ہلکا سا خاکہ آپ حضرات کے سامنے پیش کر رہا ہوں، اس خیال سے کہ دینی تعلیم کے نظام سے عملی طور پر وابستہ حضرات ان پر غور فرمائیں اور انہیں اپنی تعلیمی سرگرمیوں میں کسی نہ کسی جگہ ایڈجسٹ کرنے کی عملی صورتیں تلاش کریں، کیونکہ ان ضروریات کو محسوس کرنا اور انہیں پورا کرنے کی عملی شکلیں تلاش کرنا بہرحال ہماری ہی ذمہ داری بنتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر گلوبل سوسائٹی میں دینی تعلیم کی ضروریات

۲۶ جولائی ۲۰۲۰ء

افتاء کے ساتھ مشورہ اور تحکیم بھی ضروری ہے

معاشرے میں شرعی احکام پر عملداری کا رجحان فروغ دینے کے لیے محنت و کاوش کے مختلف دائرے ہیں جن میں بعض تو حکومت و ریاست سے تعلق رکھتے ہیں مگر زیادہ تر کام وہ ہیں جو حکومت و ریاست کے عمل دخل کے بغیر آزادانہ طور پر بھی کیے جا سکتے ہیں، مگر ہمارا عمومی مزاج یہ بن گیا ہے کہ سارے کام حکومت کے کھاتے میں ڈال کر اپنے حصے کا کام بھول جاتے ہیں اور سوسائٹی میں دینی ماحول کے کمزور ہوتے چلے جانے کی ساری ذمہ داری سرکار پر ڈال دیتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر افتاء کے ساتھ مشورہ اور تحکیم بھی ضروری ہے

۹ جولائی ۲۰۲۰ء

مسلمانوں سے قرآن کریم کے چند تقاضے

رمضان المبارک قرآن کریم کا مہینہ ہے جس میں قرآن کریم کی سب سے زیادہ تلاوت کی جاتی ہے، سنا جاتا ہے اور عالم اسلام میں ہر طرف قرآن کریم کی بہار کا سماں ہوتا ہے۔ اللہ تعالٰی کی نازل کردہ یہ آخری کتاب قیامت تک نسل انسانی کی ہدایت اور راہنمائی کا محور و مرکز ہے اور ہر دور میں اس کا یہ فیضان جاری رہتا ہے۔ اس موقع پر قرآن کریم کے چند تقاضوں کی طرف خصوصی توجہ و تذکیر کی ضرورت ہے جو کلام اللہ نے خود ہم سے کیے ہیں، مثلاً: مکمل تحریر مسلمانوں سے قرآن کریم کے چند تقاضے

۵ مئی ۲۰۲۰ء

خود انسان نے کیا ترقی کی ہے؟

میڈیا آج کے دور کی ایک بڑی طاقت ہے جو قوموں اور افراد کی ذہن سازی اور فکر و کردار کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور اس کی کارفرمائی دنیا میں ہر طرف اور ہر سطح پر دکھائی دیتی ہے۔ ذرائع ابلاغ ہر دور میں اہم رہے ہیں اور اسلام نے بھی ان کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے ان کا بھرپور استعمال کیا ہے۔ قرآن کریم نے اپنی تعلیم کا آغاز ہی قلم کے ذکر سے کیا ہے جبکہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور سے خطابت، شعر و شاعری اور ابلاغ کے دیگر ذرائع اسلام کی دعوت و تبلیغ اور دفاع و تحفظ کے لیے مسلسل استعمال ہوتے آ رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر خود انسان نے کیا ترقی کی ہے؟

۱۶ اپریل ۲۰۲۰ء

قوموں کی سرکشی پر عذاب الٰہی

سورۃ یوسف کے آخر میں اللہ تعالٰی نے حضرات انبیاء کرام علیہم السلام اور مختلف اقوام کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ہم نے قرآن کریم میں ماضی کی قوموں کے واقعات کا ذکر اس لیے کیا ہے تاکہ وہ ارباب فہم و دانش کے لیے سبق اور عبرت کا ذریعہ بنیں۔ اس کے ساتھ یہ بھی فرمایا کہ یہ گھڑی ہوئی باتیں نہیں بلکہ پہلی آسمانی کتابوں میں بیان کردہ باتوں کی تصدیق اور وضاحت کرتی ہیں۔ اس پس منظر میں ماضی کی دو قوموں کا تذکرہ موجودہ حالات کے تناظر میں مناسب معلوم ہوتا ہے تاکہ ہمیں ان سے سبق حاصل کرنے اور عبرت پکڑنے کا موقع ملے، آمین یا رب العالمین ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قوموں کی سرکشی پر عذاب الٰہی

۳ اپریل ۲۰۲۰ء

بخاری شریف اور عصر حاضر کی سماجی ضروریات

پہلی بات یہ کہ آج کے عالمی حالات اور فکری مباحث کے تناظر میں حدیث نبویؐ کی حجیت و مقام اور اہمیت و ضرورت کے علاوہ اس کا وہ تعارفی پہلو بھی بطور خاص اجاگر کرنے کی ضرورت ہے جو حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے ’’حجۃ اللہ البالغہ‘‘ میں بیان کیا ہے کہ احادیث نبویہ علی صاحبہا التحیۃ والسلام دین کی کسی بھی بات تک پہنچنے کا واحد ذریعہ ہیں حتٰی کہ قرآن کریم تک رسائی بھی حدیث کے ذریعے ہی حاصل ہوتی ہے۔ مثلاً نزول کے حوالہ سے قرآن کریم کی پہلی پانچ آیات سورۃ العلق کی ہیں جو ہمیں غار حرا کے واقعہ سے ملی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر بخاری شریف اور عصر حاضر کی سماجی ضروریات

۲۹ فروری ۲۰۲۰ء

روہنگیا مسلمان ۔ عالمی عدالت انصاف کا ایک مستحسن فیصلہ

روزنامہ دنیا گوجرانوالہ میں ۲۴ جنوری ۲۰۲۰ء کو شائع ہونے والی خبر ملاحظہ فرمائیں: ’’عالمی عدالت انصاف نے میانمار حکومت کو روہنگیا مسلمانوں کے تحفظ کا حکم دے دیا، نسل کشی کے خلاف ۱۹۴۸ء کے کنونشن کے تحت افریقی ریاست گیمبیا کی درخواست پر اقدامات کی منظوری دیتے ہوئے عالمی کورٹ کے جج عبد القوی احمد یوسف نے درخواست گزار ملک کو مقدمے کی کاروائی مزید آگے بڑھانے کی اجازت دے دی ہے، عدالت نے میانمار کی حکومت کو پابند بنایا کہ وہ مسلمان کمیونٹی کے خلاف اپنی فوج کے ظالمانہ اقدامات روکے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر روہنگیا مسلمان ۔ عالمی عدالت انصاف کا ایک مستحسن فیصلہ

۲ فروری ۲۰۲۰ء

یکساں نصاب تعلیم اور دینی مدارس

دینی مدارس کے وفاقوں کی مشترکہ تنظیم ’’اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ‘‘ کے قائدین کے ساتھ وفاقی وزیر تعلیم کے چند ماہ قبل ہونے والے مبینہ معاہدہ کے بارے میں جن تحفظات کا مختلف سطحوں پر کچھ دنوں سے اظہار ہو رہا ہے اس کے پیش نظر وفاقوں کی قیادت کی طرف سے اپنے موقف کا واضح اظہار اور دینی مدارس کے منتظمین، اساتذہ، طلبہ اور معاونین کو اعتماد میں لینا ضروری ہوگیا تھا، جس کا آغاز پشاور سے ہوا ہے اور امید ہے کہ ملک کے دوسرے علاقوں میں بھی اس کا اہتمام کیا جائے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر یکساں نصاب تعلیم اور دینی مدارس

۱۵ جنوری ۲۰۲۰ء

بین الاقوامی معاہدات اور ہماری ملی ضروریات

جوں جوں بین الاقوامی معاہدات کا حصار تنگ ہوتا جا رہا ہے، ان معاہدات سے آگاہی اور ان پر بحث و تمحیص کی ضرورت بھی بڑھتی جا رہی ہے اور مختلف علمی مراکز میں ان کے حوالہ سے آگاہی و بیداری کا ماحول دیکھنے میں آرہا ہے۔ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کی شریعہ اکادمی ملک بھر کے اصحاب فکر و نظر کے شکریہ اور تبریک کی مستحق ہے کہ وہ اس فکری و علمی مہم کی قیادت میں پیش پیش ہے جس میں پروفیسر ڈاکٹر مشتاق احمد، ڈاکٹر حبیب الرحمان اور ان کے رفقاء کی دلچسپی اور تگ و دو علماء و طلبہ کے لیے حوصلہ افزا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر بین الاقوامی معاہدات اور ہماری ملی ضروریات

۲۰ دسمبر ۲۰۱۹ء

پاپائے روم کی ایک اچھی اپیل کی حمایت

روزنامہ دنیا گوجرانوالہ میں ۲۵ نومبر ۲۰۱۹ء کو شائع ہونے والی یہ خبر ملاحظہ فرمائیے: ’’کیتھولک مسیحی برادری کے روحانی پیشوا پوپ فرانسس نے جاپان کے شہر ناگاساکی میں خطاب کرتے ہوئے عالمی برادری سے ایٹمی ہتھیار تلف کرنے کی اپیل کی ہے۔ پوپ فرانسیس نے ایٹم بم ہائیووسنٹر پارک (وہ مقام جہاں پر ایٹم بم گرایا گیا تھا) خطاب کرتے ہوئے ایٹمی عدم پھیلاؤ کے معاہدوں کے خاتمے پر بھی افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری دنیا میں ایک قابل نفرت تفریق پائی جاتی ہے جس میں خوف اور عدم اعتماد کے ذریعہ تحفظ کے جھوٹے احساس کو فروغ دے کر ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر پاپائے روم کی ایک اچھی اپیل کی حمایت

دسمبر ۲۰۱۹ء

امت مسلمہ کے مسائل اور عالمی قوتوں کی ’’اصول پرستی‘‘

آج کی ایک خبر کے مطابق امریکی کانگریس کے ایک سو پینتیس (۱۳۵) ارکان نے ایک پٹیشن پر دستخط کیے ہیں جس میں امریکی وزیرخارجہ مائیک پومیو کے فلسطین میں یہودی بستیوں کی حمایت پر مبنی بیان کی شدید مذمت کی گئی ہے، اور کہا گیا ہے کہ امریکی حکومت کا موقف فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان امن مساعی کو مزید پیچیدہ بنا دے گا۔ مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق امریکی ارکان کانگریس کی طرف سے تیار کردہ پٹیشن میں وزیرخارجہ مائیک پومیو سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ غرب اردن میں یہودی آباد کاری کی حمایت سے متعلق اپنا بیان واپس لیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر امت مسلمہ کے مسائل اور عالمی قوتوں کی ’’اصول پرستی‘‘

۲۷ نومبر ۲۰۱۹ء

کیا امریکہ مشرق وسطیٰ سے نکلنا چاہتا ہے؟

روزنامہ اسلام لاہور میں ۲۵ اکتوبر ۲۰۱۹ء کو شائع ہونے والی یہ خبر ملاحظہ فرمائیے: ’’امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ کو خون آلود مٹی قرار دیتے ہوئے خطے سے نکلنے کا عہد کیا ہے، وائٹ ہاؤس میں خصوصی خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ مشرق وسطیٰ کی خون آلود مٹی چھوڑ دے گا، امریکی صدر نے مشرق وسطیٰ کے تعلقات کی نوعیت تبدیل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں بہت امریکی سروسز کے ممبران مارے گئے، امریکہ کو اب مزید دنیا کے پولیس مین کے طور پر رہنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر کیا امریکہ مشرق وسطیٰ سے نکلنا چاہتا ہے؟

نومبر ۲۰۱۹ء

بین الاقوامی معاہدات اور اصحاب فکر و دانش کی ذمہ داری

اس وقت صورتحال یہ ہے کہ نہ صرف ہم بلکہ کم و بیش ساری دنیا بین الاقوامی معاہدات کے حصار ہیں، اور جنگ و امن کے ساتھ ساتھ حقوق انسانی اور سولائزیشن کے حوالہ سے بھی بیسیوں معاہدات نے پوری دنیا پر حکمرانی کا سکہ جما رکھا ہے۔ میں یہ عرض کیا کرتا ہوں کہ اس وقت دنیا بھر میں حکومتوں کی حکمرانی کم اور معاہدات کی حکمرانی زیادہ ہے، صرف اس فرق کے ساتھ کہ طاقتور اور امیر ممالک اپنے لیے کوئی نہ کوئی راستہ نکال لیتے ہیں جبکہ غریب اور کمزور اقوام و ممالک کو ان معاہدات کی بہرحال پابندی کرنا پڑتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر بین الاقوامی معاہدات اور اصحاب فکر و دانش کی ذمہ داری

۱۳ اکتوبر ۲۰۱۹ء

تبدیلی کا مثالی فارمولا

ان دنوں ملک و قوم کے نظام اور معاشرتی صورتحال میں بہتری لانے کے دعوے ہر طرف سے کیے جا رہے ہیں، اور حکومت و اپوزیشن کے سب لیڈروں کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد پاکستان کے موجودہ حالات کو بدلنا اور عوام کو ایک بہتر نظام اور سوسائٹی سے روشناس کرانا ہے۔ جبکہ اس کے ساتھ ایک دوسرے پر کرپشن، بدعنوانی اور لوٹ کھسوٹ کے سنگین الزامات بھی مسلسل دہرائے جا رہے ہیں اور ایک عجیب سی صورتحال ملک میں پیدا ہو گئی ہے جس سے عام شہری پریشان ہیں اور انہیں کچھ سمجھ میں نہیں آرہا کہ قومی راہنماؤں میں کس کا رخ کدھر کو ہے؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر تبدیلی کا مثالی فارمولا

ستمبر ۲۰۱۹ء

پاک چین دوستی اور اس کے تقاضے

روزنامہ انصاف لاہور ۲۰ فروری ۲۰۱۸ء کی رپورٹ کے مطابق: ’’چیئرمین سینٹ جناب رضا ربانی نے کہا ہے کہ چینی زبان پاکستان اور چین کے کاروباری شعبہ کے مابین سہولت پیدا کر رہی ہے، پاکستانی زبان اور ثقافت کو مدنظر رکھتے ہوئے چینی زبان کو فروغ ملنا چاہیے۔ جبکہ چینی سفیر پاؤچنگ کا کہنا ہے کہ چینی زبان دونوں ممالک کے درمیان گہرے رابطے کا ذریعہ بن رہی ہے۔ چین خلوص اور وفاداری کے ساتھ معاشی اور دفاعی لحاظ سے مضبوط پاکستان دیکھ رہا ہے، چینی زبان کے فروغ سے ثقافتی روابط بھی مضبوط ہو رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر پاک چین دوستی اور اس کے تقاضے

مارچ ۲۰۱۸ء

بیت المقدس اور مسلم حکمرانوں کا طرزِ عمل

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے امریکی سفارت خانہ کی بیت المقدس میں منتقلی کے اعلان کو بھاری اکثریت کے ساتھ مسترد کر کے اپنے اس موقف کا اعادہ کیا ہے کہ بیت المقدس ابھی تک متنازعہ علاقہ ہے اور اسے اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا فیصلہ بین الاقوامی معاملات اور قوانین کے منافی ہے۔ فلسطین آج سے سو سال قبل خلافت عثمانیہ کا ایک صوبہ تھا، جنگ عظیم میں جرمنی کے ساتھ خلافت عثمانیہ بھی شکست سے دوچار ہو گئی تھی جس کے نتیجے میں جرمنی کے ساتھ ساتھ خلافت عثمانیہ کے بہت سے علاقوں کو بھی فاتح اتحادی فوجوں نے قبضہ میں لے لیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر بیت المقدس اور مسلم حکمرانوں کا طرزِ عمل

جنوری ۲۰۱۸ء

پسند کی شادیاں اور طلاق کی شرح

روزنامہ نوائے وقت لاہور میں ۱۱ نومبر ۲۰۱۷ء کو شائع ہونے والی یہ خبر ملاحظہ فرمائیں: ’’پسند کی شادیاں کرنے والی پندرہ سو لڑکیوں نے شادی کے ایک برس بعد ہی طلاقیں لے لیں۔ قانونی ماہرین نے پسند کی شادیوں کو معاشرے کے لیے بوجھ قرار دے دیا ہے۔ رواں برس میں جنوری سے نومبر تک لاہور کی سول عدالتوں نے دو ہزار خواتین کو طلاق کے سرٹیفکیٹ جاری کیے ہیں جن میں پندرہ سو خواتین پسند کی شادیاں کرنے والی شامل ہیں۔ ان عدالتوں نے یہ سرٹیفکیٹس یکم جنوری سے یکم نومبر کے درمیانی عرصہ کے دوران جاری کیے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر پسند کی شادیاں اور طلاق کی شرح

دسمبر ۲۰۱۷ء

اسلامی اور مغربی تہذیبوں کے درمیان عالمی کشمکش ۔ نیوٹ کنگرچ کے خیالات

روزنامہ دنیا گوجرانوالہ میں ۱۷ جولائی ۲۰۱۶ء کو شائع ہونے والی ایک خبر ملاحظہ فرمائیں: ’’واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی ایوان نمائندگان کے سابق اسپیکر نیوٹ کنگرچ نے کہا ہے کہ جو مسلمان شریعت پر یقین رکھتے ہیں انہیں امریکہ سے نکال دیا جائے۔ اس سے قبل امریکی صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ بھی مسلمانوں کے امریکہ میں داخلے پابندی کا مطالبہ کر چکے ہیں، جبکہ ایوان نمائندگان (کانگریس) کے سابق اسپیکر نیوٹ کنگرچ نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ مغربی تہذیب حالت جنگ میں ہے، شریعت مغربی تہذیب سے مطابقت نہیں رکھتی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اسلامی اور مغربی تہذیبوں کے درمیان عالمی کشمکش ۔ نیوٹ کنگرچ کے خیالات

اگست ۲۰۱۶ء

مذہب و ثقافت کی عالمی کشمکش اور چین کے صدر محترم

روزنامہ انصاف لاہور میں ۲۵ اپریل ۲۰۱۶ء کو شائع ہونے والی ایک خبر ملاحظہ فرمائیے: ’’چینی صدر شی جن پنگ نے ملک کی مذہبی تنظیموں سے کہا ہے کہ وہ اپنی اقدار کو چینی ثقافت اور کمیونسٹ پارٹی سے ہم آہنگ بنائیں، چین کے سرکاری میڈیا کے مطابق انہوں نے یہ بات بیجنگ میں پارٹی کے مذہب کے بارے میں خدوخال بتاتے ہوئے کہی، صدر شی نے اپنی تقریر میں واضح کیا کہ چینی کمیونسٹ پارٹی خدا سے زیادہ اہم ہے، مذہبی تنظیموں پر لازم ہے کہ وہ چینی کمیونسٹ پارٹی کی قیادت سے وابستہ رہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مذہب و ثقافت کی عالمی کشمکش اور چین کے صدر محترم

مئی ۲۰۱۶ء

اسلام کا نظام خلافت

سوال پیدا ہوا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں اور آپؐ کے بعد کسی نئے نبی کے آنے کا کوئی امکان نہیں ہے تو پھر آپؐ کے بعد سیاسی نظام کس کے ہاتھ میں ہوگا۔ چنانچہ مذکورہ بالا جملہ کے ساتھ ہی جناب نبی اکرمؐ نے فرما دیا کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا وستکون بعدی خلفاء البتہ میرے بعد خلفاء ہوں گے جو اس سیاسی نظام کو سنبھالیں گے۔ اس طرح آپؐ نے خلافت کو امت مسلمہ کے سیاسی نظام کے طور پر بیان فرمایا ہے اور اسلام کے سیاسی نظام کا عنوان ’’خلافت‘‘ ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اسلام کا نظام خلافت

۶ تا ۱۱ جنوری ۲۰۱۳ء

شریعت کے نفاذ کی ضرورت کیوں؟

ڈاکٹر نوح فلڈمین (Noha Feldman) امریکہ کی ہاورڈ یونیورسٹی میں شعبہ قانون کے استاد ہیں اور نیویارک ٹائمز کے میگزین سیکشن سے بھی تعلق رکھتے ہیں، شریعت اسلامیہ ان کی اسٹڈی کا خصوصی موضوع ہے اور وہ اس کے بارے میں وقتاً فوقتاً لکھتے رہتے ہیں۔ انہوں نے کچھ عرصہ قبل نیویارک ٹائمز کے میگزین سیکشن میں ?Why Sharia (شریعہ کیوں؟) کے عنوان سے ایک طویل مضمون لکھا جس کے کچھ اقتباسات ٹوکیو کے جناب حسن خان نے دہلی سے شائع ہونے والے سہ روزہ ’’دعوت‘‘ کی ۴ دسمبر کی اشاعت میں اپنے ایک مضمون میں درج کیے ہیں۔ وہ قارئین کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر شریعت کے نفاذ کی ضرورت کیوں؟

۳ فروری ۲۰۱۰ء

گھڑیوں کو ایک گھنٹہ آگے پیچھے کرنے کی برطانوی روایت

کیبنٹ ڈویژن کے ایک نوٹیفکیشن کے مطابق حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ آئندہ اپریل کے پہلے ہفتہ اور اتوار کی درمیانی رات کو ملک بھر میں گھڑیوں کا وقت ایک گھنٹہ آگے کر دیا جائے گا، اور اکتوبر کے پہلے ہفتے اور اتوار کی درمیانی رات کو گھڑیوں کا وقت پھر ایک گھنٹہ پیچھے کر لیا جائے گا۔ نوٹیفکیشن کے مطابق یہ اقدام آزمائشی طور پر ایک سال کے لیے کیا گیا ہے۔ برطانیہ میں بھی ایسا ہوتا ہے جہاں مارچ کے آخری ہفتہ میں گھڑیوں کو ایک گھنٹہ آگے کر کے اکتوبر کے آخری ہفتہ میں پھر ایک گھنٹہ پیچھے کر لیا جاتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر گھڑیوں کو ایک گھنٹہ آگے پیچھے کرنے کی برطانوی روایت

نامعلوم

بلاول بھٹو زرداری سے چند گزارشات

محترمہ بے نظیر بھٹو مرحومہ کی جگہ ان کے بیٹے بلاول بھٹو زرداری کو پاکستان پیپلز پارٹی کا چیئرمین منتخب کر لیا گیا ہے اور ان کی تعلیم و تربیت مکمل کرنے تک ان کے والد جناب آصف علی زرداری کو شریک چیئرمین کی ذمہ داری سونپ دی گئی ہے، جبکہ مخدوم امین فہیم کو آئندہ وزارت عظمی کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ اس طرح پاکستان پیپلز پارٹی کی آئندہ قیادت کے خدوخال کچھ نہ کچھ واضح ہوگئے ہیں۔ چیئرمین شپ کو بھٹو خاندان میں رکھنا ہمارے خطے کی روایتی مجبوری ہے کہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر بلاول بھٹو زرداری سے چند گزارشات

جنوری ۲۰۰۸ء

دینی مدارس اور زندگی کا ایمانی و روحانی پہلو

دینی مدارس کو درپیش فکری چیلنجز بہت سے ہیں جن میں ایک یہ بھی ہے کہ ان مدارس کی آخر الگ سے کیا ضرورت ہے؟ اور جب مسلمان معاشرے میں اسکول، کالج اور یونیورسٹیاں موجود ہیں اور تعلیمی خدمات سرانجام دے رہی ہیں تو اجتماعی دھارے اور مین اسٹریم سے ہٹ کر یہ مدارس الگ کیا کام کر رہے ہیں اور کیوں کر رہے ہیں؟ یہ بہت بڑا سوال ہے جو پوری دنیا میں دہرایا جا رہا ہے اور بار بار دہرایا جا رہا ہے جس کا جواب دینا ضروری ہے اور نئی نسل کو مطمئن کرنا ضروری ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دینی مدارس اور زندگی کا ایمانی و روحانی پہلو

نامعلوم

’’چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اٹھا کے چلے‘‘

چیف جسٹس جناب جسٹس افتخار محمد چودھری کی بحالی کی خبر سن کر مجھے یوں لگا جیسے کوئی ڈاکٹر ایمرجنسی آپریشن روم کے دروازے سے باہر جھانک کر مریض کے رشتہ داروں کو یہ خوشخبری دے رہا ہے کہ مریض کی حالت خطرے سے باہر ہو گئی ہے اور اس نے اب سانس لینا شروع کر دیا ہے۔ اس فیصلے کے اعلان سے قبل پوری قوم سکتے کے عالم میں تھی اور کان اسلام آباد کی طرف لگے ہوئے تھے کہ وہاں سے کیا خبر آتی ہے؟ عدالت عظمیٰ کے فل کورٹ نے قوم کا رخ مایوسی سے امید کی طرف پھیر دیا ہے جس پر فل کورٹ کے تمام ارکان پوری قوم کی طرف سے مبارکباد اور شکریہ کے مستحق ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ’’چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اٹھا کے چلے‘‘

۲۶ جولائی ۲۰۰۷ء

دینی مدارس میں جدید فکر و فلسفہ کی تعلیم

۲۸ اپریل ۲۰۰۷ء کو لاہور میں ممتاز اہل علم و دانش کی ایک مجلس میں حاضری کا موقع ملا۔ اس کا اہتمام جوہر ٹاؤن میں واقع پنجاب قرآن بورڈ کے دفتر میں جامعہ خیر المدارس ملتان کے مہتمم مولانا قاری محمد حنیف جالندھری نے کیا تھا اور ایجنڈا یہ تھا کہ جامعہ خیر المدارس ملتان نے لاہور میں جوہر ٹاؤن کے قریب اپنی ایک شاخ قائم کی ہے جس کے لیے تعمیر کا ایک مرحلہ مکمل ہو چکا ہے اور اس کے لیے تعلیمی پروگرام طے کرنے کی غرض سے قاری صاحب محترم نے ملک کے ممتاز ارباب علم و دانش کو اس مشاورتی نشست میں جمع کیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دینی مدارس میں جدید فکر و فلسفہ کی تعلیم

۴ مئی ۲۰۰۷ء

شرعی عدالتوں کے قیام کا جواز

متحدہ قومی موومنٹ نے گزشتہ دنوں کراچی میں لال مسجد اسلام آباد کے اس اعلان کے خلاف ریلی نکالی ہے جس میں شرعی عدالت کے قیام کا اعلان کیا گیا ہے اور اس طرح الطاف بھائی نے شرعی احکام کی بالادستی اور نفاذ کے خلاف باقاعدہ مہم کا آغاز کر دیا ہے۔ جہاں تک لال مسجد اسلام آباد کی قائم کردہ شرعی عدالت کا تعلق ہے، اس کے خدوخال ابھی تک واضح نہیں ہوئے اور نہ ہی اس کے طریقہ کار اور اس کے حدود عمل کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس لیے اس کے بارے میں حتمی طور پر کچھ کہنا سردست قبل از وقت ہوگا، اس لیے کہ یہ بات اس شرعی عدالت کے قواعد و ضوابط اور حدود کار سے واضح ہوگی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر شرعی عدالتوں کے قیام کا جواز

۲۰ اپریل ۲۰۰۷ء

نظریۂ ضرورت اور ایڈہاک ازم

چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان جناب جسٹس افتخار محمد چوہدری کے معاملہ نے اس قدر حیران و ششدر کر رکھا ہے کہ کئی بار قلم اٹھانے کے باوجود اس کالم کے لیے کچھ نہ لکھ سکا اور یہ زندگی کا پہلا تجربہ ہے۔ روزنامہ پاکستان لاہور میں اپنے ہفتہ وار کالم ”نوائے قلم“ کے لیے ایک مختصر سا مضمون لکھنے کے بعد قلم کو بریک سی لگ گئی اور بمشکل آج ذہن کو آمادہ کر پا رہا ہوں کہ اس کے بارے میں پھر قلم اٹھاؤں اور جو کچھ سامنے آ چکا ہے اس کے بارے میں کچھ معروضات قارئین کی خدمت میں پیش کر دوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر نظریۂ ضرورت اور ایڈہاک ازم

۲۶ مارچ ۲۰۰۷ء

مذہبی انتہا پسندی کے اسباب اور اس کا علاج

برطانیہ کی انتظامیہ کا مسلمانوں کے حوالے سے سب سے بڑا مسئلہ یہاں کے مسلم نوجوانوں کے جذبات اور مبینہ طور پر ان کی انتہا پسندی کو کنٹرول میں رکھنا ہے، تاکہ انتظامی مسائل پیدا نہ ہوں اور اس سلسلے میں مشکلات کم ہوں۔ آج جبکہ میں یہ سطور تحریر کر رہا ہوں، میرے سامنے لندن میں شائع ہونے والا ایک اردو اخبار پڑا ہے جس کی اہم خبر یہ ہے کہ برطانوی حکومت لوکل اتھارٹیز کو پانچ ملین پونڈ اس مقصد کے لیے دے رہی ہے کہ وہ نوجوان مسلمانوں کو انتہا پسندی کی طرف جانے سے روکیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مذہبی انتہا پسندی کے اسباب اور اس کا علاج

۱۰ جنوری ۲۰۰۷ء

نبی اکرمؐ کا خطبہ حجۃ الوداع

خطبۂ حجۃ الوداع جسے کہتے ہیں، یہ حضورؐ کی مختلف ہدایات کا مجموعہ ہے۔ ان میں دو تو بڑے خطبے ہیں۔ ایک خطبہ حضورؐ نے عرفات میں ارشاد فرمایا، یہی خطبہ سنتِ رسولؐ کے طور پر اب بھی ۹ ذی الحجہ کی دوپہر کو عرفات کے میدان میں پڑھا جاتا ہے۔ دوسرا خطبہ وہ ہے جو حضورؐ نے منٰی میں ارشاد فرمایا۔ جبکہ امام قسطلانیؒ نے ’’المواہب اللدنیۃ‘‘ میں حضرت امام شافعیؒ کے حوالہ سے چار خطبات کا ذکر کیا ہے۔ اس موقع پر صحابہ کرامؓ کثیر تعداد میں تھے، انہوں نے نبی کریمؐ سے خطبات سنے، جس کو جو بات یاد رہی اس نے وہ آگے نقل کر دی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر نبی اکرمؐ کا خطبہ حجۃ الوداع

جنوری ۲۰۰۷ء

’’حدود آرڈیننس‘‘ میں ترامیم کا پس منظر

پاکستان میں حدود قوانین کی مخالفت کا سلسلہ ان کے نفاذ کے بعد سے ہی جاری ہے اور ملک کے سیکولر حلقوں کے ساتھ سینکڑوں این جی اوز اور انسانی حقوق کے حوالہ سے کام کرنے والی بیسیوں تنظیمیں اس مقصد کے لیے ربع صدی سے متحرک ہیں۔ ان کی اس مہم کا اصل مقصد تو وہی ہے جو بین الاقوامی حلقوں کا ہے جبکہ ملک کے اندرونی سیکولر حلقوں کی جدوجہد کے اہداف مذکورہ بالا بین الاقوامی اہداف سے مختلف نہیں ہیں، لیکن ان کے اعتراضات میں کچھ داخلی امور بھی ہیں جن میں سے ایک دو کا تذکرہ ضروری معلوم ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ’’حدود آرڈیننس‘‘ میں ترامیم کا پس منظر

۶ دسمبر ۲۰۰۶ء

رؤیت ہلال کا مسئلہ اور سپریم کورٹ کے جج صاحبان کے ریمارکس

رؤیت ہلال کا مسئلہ اس بار پھر تنازع کی صورت اختیار کیے ہوئے ہے، اور اس کی بازگشت سپریم کورٹ کے ایوانوں میں بھی سنائی دینے لگی ہے۔ ۲۳ ستمبر (۲۹ شعبان) کو مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی کے چیئرمین مولانا مفتی منیب الرحمن نے اعلان کیا کہ ملک کے کسی بھی حصے سے چاند دیکھے جانے کی شہادت موصول نہیں ہوئی اس لیے مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا ہے کہ یکم رمضان المبارک ۲۵ ستمبر کو پیر کے روز ہو گی۔ جبکہ صوبہ سرحد کے وزیر مذہبی امور مولانا امان اللہ حقانی کی طرف سے اعلان کیا گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر رؤیت ہلال کا مسئلہ اور سپریم کورٹ کے جج صاحبان کے ریمارکس

۲۲ اکتوبر ۲۰۰۶ء

پاکستان اسٹیل ملز اور عدالت عظمیٰ

۱۹۷۰ء کے عام انتخابات سے پہلے جب ملک میں انتخابی سرگرمیوں کا آغاز ہوا تو وہ میری سیاسی اور خطابتی زندگی کا ابتدائی دور تھا۔ شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندی قدس اللہ سرہ العزیز سے عقیدت زیادہ تھی جو اب بھی ہے، ان کی سیاسی جدوجہد اور سیاسی افکار سے سب سے زیادہ متاثر تھا اور اسی مناسبت سے استعمار دشمنی کی بات کسی طرف سے بھی ہو، اچھی لگتی تھی۔ جمعیت علمائے اسلام کا اجتماعی ذوق بھی یہی تھا (جو اب پس منظر میں چلا گیا ہے)۔ اس حوالے سے لیفٹ کے سیاسی کارکنوں کے ساتھ ہمارا میل جول زیادہ رہتا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر پاکستان اسٹیل ملز اور عدالت عظمیٰ

۲۶ اگست ۲۰۰۶ء

عالمی طاقتوں کا دوغلا طرز عمل

لبنان میں آگ اور خون کا کھیل جاری ہے اور فلسطین و لبنان کے عوام مسلسل اسرائیلی جارحیت کا نشانہ بنے ہوئے ہیں، مگر دنیا بھر کے مسلم حکمرانوں کو جیسے سانپ سونگھ گیا ہے۔ لبنان پر حملے کے لیے اسرائیل نے جس بات کو جواز کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کیا ہے، وہ اس جواز سے مختلف نہیں ہے جو امریکہ نے افغانستان اور عراق پر فوج کشی کے لیے پیش کیا تھا۔ مگر آج تک اس جواز کو ثابت کرنے کے لیے کوئی ایسی دلیل پیش نہیں کی جا سکی جو طاقت کے علاوہ کسی اور پہلو کی بھی نشاندہی کرتی ہو ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر عالمی طاقتوں کا دوغلا طرز عمل

یکم اگست ۲۰۰۶ء

عصر حاضر کے چیلنجز اور دینی جدوجہد کے ۷ دائرے

اس وقت پورے عالم اسلام میں علماء کرام اور دین سے تعلق رکھنے والے حلقے، شخصیات اور ادارے جن دائروں میں کام کر رہے ہیں، اور جو دین کے حوالے سے ان کی تگ و دو کے دائرے ہیں، ان کی معروضی صورتحال پر میں اس وقت آپ حضرات سے گفتگو کرنا چاہتا ہوں، تاکہ یہ بات آپ دوستوں کے سامنے آ جائے کہ کون سے کام ہمارے کرنے کے ہیں؟ ان میں سے کون سے ہو رہے ہیں اور کون سے نہیں ہو رہے ہیں؟ میں نے موجودہ مسلم معاشرے اور عالمی ماحول کو سامنے رکھتے ہوئے دینی جدوجہد کی مختلف سطحوں کو سات دائروں میں تقسیم کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر عصر حاضر کے چیلنجز اور دینی جدوجہد کے ۷ دائرے

۷ جون ۲۰۰۶ء

مسلم سربراہ کانفرنس کا ’’اعلانِ مکہ‘‘

اسلامی سربراہ کانفرنس تنظیم کا غیر معمولی سربراہی اجلاس مکہ مکرمہ میں دو روز جاری رہنے کے بعد ’’اعلانِ مکہ‘‘ کی منظوری کے ساتھ اختتام پذیر ہو گیا ہے۔ کانفرنس میں شریک مسلم سربراہان مملکت نے بیت اللہ شریف کا اکٹھے طواف کیا اور سعودی فرمانروا شاہ عبد اللہ کے ہمراہ بیت اللہ شریف کے اندر بھی گئے۔ اعلانِ مکہ کی جو تفصیلات ایک قومی اخبار کے ذریعے سامنے آئی ہیں ان کے مطابق اس کے اہم نکات یہ ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مسلم سربراہ کانفرنس کا ’’اعلانِ مکہ‘‘

۱۲ دسمبر ۲۰۰۵ء

سنی شیعہ کشمکش کا کارڈ

سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ سعود الفیصل نے عراق کی تازہ ترین صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی پالیسیوں کی وجہ سے عراق بتدریج ایران کے زیر اثر جا رہا ہے اور عراق کے اہل سنت اقلیت میں تبدیل ہوتے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ عراق کے لیے جو دستور تجویز کیا گیا ہے، اس کے بارے میں ہم اپنے تحفظات کا اظہار کر چکے ہیں اور اس سے عراق کی سنی آبادی مطمئن نہیں ہے۔ اس سے قبل عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل جناب عمرو موسی کی طرف سے بھی اس قسم کے خدشات کا اظہار ہوا ہے اور عرب صحافتی حلقوں میں عراقی دستور پر ملے جلے ردعمل کا سلسلہ جاری ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سنی شیعہ کشمکش کا کارڈ

۷ اکتوبر ۲۰۰۵ء

دینی مدارس کی اسناد اور فرقہ وارانہ تعلیم

دینی مدارس کی اسناد کے بارے میں سپریم کورٹ کا فیصلہ اور رجسٹریشن کے حوالے سے صدارتی آرڈیننس بیک وقت سامنے آگئے ہیں اور دین کی تعلیم دینے والی درس گاہیں ایک بار پھر ملک بھر میں گفتگو اور تبصروں کا موضوع بن گئی ہیں۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے اس سے قبل عبوری فیصلے میں دینی مدارس کی اسناد رکھنے والوں کو بلدیاتی الیکشن میں حصہ لینے کی اجازت دے دی تھی مگر الیکشن کے پہلے مرحلے سے صرف دو روز قبل حتمی فیصلہ صادر کر کے یہ قرار دے دیا کہ دینی مدارس کے وفاقوں سے شہادۃ ثانیہ رکھنے والے افراد نے چونکہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دینی مدارس کی اسناد اور فرقہ وارانہ تعلیم

۲۰ اگست ۲۰۰۵ء

دینی مدارس اور برطانوی وزیر اعظم کے خیالات

لندن کے بم دھماکوں کے بعد عالمی حلقوں میں جو ارتعاش پیدا ہوا ہے، اس نے ایک بار پھر دینی مدارس کو بین الاقوامی میڈیا میں گفتگو کا موضوع بنا دیا ہے اور نہ صرف پاکستان میں متعدد دینی مدارس پر چھاپوں کا سلسلہ ازسرنو شروع ہو گیا ہے بلکہ برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر کے ایجنڈے میں بھی دینی مدارس اب پہلے نمبر پر نظر آ رہے ہیں۔ لندن کے بم دھماکوں کی دنیا کے ہر باشعور شخص نے مذمت کی ہے کہ اس طرح کسی ملک کے پراَمن شہریوں کی جانوں سے کھیلنے کا بہرحال کوئی جواز نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دینی مدارس اور برطانوی وزیر اعظم کے خیالات

۲۲ جولائی ۲۰۰۵ء

طالبنائزیشن اور امریکنائزیشن!

سرحد اسمبلی نے دو دن کی بحث کے بعد ’’حسبہ بل‘‘ ۳۴ کے مقابلے میں ۶۸ کی اکثریت سے منظور کر لیا ہے، جبکہ وفاقی حکومت نے اسے دستور میں بنیادی حقوق کے بارے میں دی گئی ضمانت کے منافی قرار دیتے ہوئے سپریم کورٹ میں جانے کا اعلان کر دیا ہے۔ اے پی پی کے مطابق وفاقی وزیر قانون جناب وصی ظفر نے کہا ہے کہ حسبہ بل ملک میں انارکی پھیلانے اور جمہوریت کو ناکام بنانے کا ذریعہ بنا ہے، جسے موجودہ جمہوری حکومت ہرگز کامیاب نہیں ہونے دے گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر طالبنائزیشن اور امریکنائزیشن!

۱۷ جولائی ۲۰۰۵ء

پاکستان میں اجتماعی اجتہاد کی کوششوں پر ایک نظر

۱۹، ۲۰، ۲۱ مارچ کو بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد میں ادارہ تحقیقات اسلامی کے زیراہتمام ’’اجتماعی اجتہاد: تصور، ارتقا اور عملی صورتیں‘‘ کے عنوان پر تین روزہ سیمینار کا انعقاد ہوا جس میں پاکستان کے مختلف مکاتب فکر کے سرکردہ علماء کرام اور اہل دانش کے علاوہ متحدہ عرب امارات سے عرب دنیا کے ممتاز عالم و فقیہہ الاستاذ الدکتور وہبہ الزحیلی اور بھارت سے مولانا خالد سیف اللہ رحمانی، مولانا سید جلال الدین العمری، مولانا سعود عالم قاسمی اور جناب فہیم اختر ندوی نے شرکت کی۔ مجھے بھی شرکت اور گفتگو کی دعوت دی گئی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر پاکستان میں اجتماعی اجتہاد کی کوششوں پر ایک نظر

۳۱ مارچ ۲۰۰۵ء

پاکستانی پاسپورٹ میں مذہب کا خانہ اور سعودی پاسپورٹ کا حوالہ

پاسپورٹ میں مذہب کے خانہ کو ختم کرنے کا معاملہ اس قدر سادہ اور معمولی نہیں ہے کہ اسے اس طرح خاموشی کے ساتھ نمٹا لیا جائے۔ اس لیے کہ اس کے پیچھے ایک سو سال کی جدوجہد ہے اور اس مسئلہ کے قادیانی پس منظر کے حوالے سے یہ معاملہ انتہائی حساس اور نازک ہے جس کا تعلق مسلمانوں کے عقیدہ اور جذبات کے ساتھ ہے۔ پاسپورٹ میں مذہب کے خانے کا اضافہ اب سے ربع صدی قبل قادیانی پس منظر میں ہی کیا گیا تھا جب پاکستان کی منتخب پارلیمنٹ نے جمہوری طریقے سے مکمل بحث و تمحیص ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر پاکستانی پاسپورٹ میں مذہب کا خانہ اور سعودی پاسپورٹ کا حوالہ

۹ مارچ ۲۰۰۵ء

اتاترک کی تقلید سے کچھ حاصل نہیں ہوگا

صدر جنرل پرویز مشرف نے اقتدار سنبھالتے ہی مصطفی کمال اتاترک کو اپنا آئیڈیل قرار دے کر کسی ابہام کے بغیر اپنی پالیسی ترجیحات کا جو دوٹوک اعلان کیا تھا، وہ اس پر بدستور قائم ہیں اور ان کی اب تک کی پالیسیوں اور اعلانات کا تسلسل اس بات کی شہادت دے رہا ہے کہ ان کی زبان پر اقتدار کے پہلے روز مصطفی کمال اتاترک کا نام محض اتفاقی طور پر نہیں آ گیا تھا، بلکہ اس کے پیچھے شعور اور عزائم کا ایک بھرپور پس منظر کارفرما تھا۔ اس لیے دینی اقدار و شعائر اور اسلام کے روایتی ڈھانچے کے حوالے سے وہ وقتاً فوقتاً جو کچھ بھی کہتے ہیں، ہمارے لیے غیر متوقع نہیں ہوتا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اتاترک کی تقلید سے کچھ حاصل نہیں ہوگا

۲۳ دسمبر ۲۰۰۴ء

فہم قرآن کی اہمیت اور اس کے تقاضے

برطانیہ کے حالیہ سفر کے دوران یکم اکتوبر ۲۰۰۴ء کو آکسفورڈ کی مدینہ مسجد میں جمعۃ المبارک کے اجتماع سے خطاب کے موقع پر فہم قرآن کی اہمیت اور اس کے چند ضروری تقاضوں پر کچھ معروضات پیش کرنے کا موقع ملا۔ ان کا خلاصہ قارئین کی دلچسپی کے لیے درج ذیل ہے۔ بعد الحمد والصلوٰۃ! محترم بزرگو اور دوستو! میں نے آپ کے سامنے قرآن کریم کی سورۃ القمر کی ایک آیت تلاوت کی ہے، اس کی روشنی میں کچھ ضروری گزارشات پیش کرنا چاہتا ہوں۔ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ دو باتیں فرمائی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر فہم قرآن کی اہمیت اور اس کے تقاضے

۷ دسمبر ۲۰۰۴ء

عالمی استعمار اور مسلم حکومتوں کا موقف

اگر مسلم حکومتیں ان جہادی تحریکات کے بارے میں امریکی بولی بولنے اور انھیں ریاستی جبر کا نشانہ بنانے کے بجائے صرف یہ اعتماد دلا دیں کہ عالم اسلام کی آزادی، مسلم ممالک کی خود مختاری، اور اسلامی اقدار کی سربلندی کے بارے میں وہ ان کے موقف کو اصولی طور پر درست سمجھتے ہوئے ان کے ہتھیار بکف ہونے کے طریق کار کو غلط قرار دیتی ہیں، اور اگر وہ ہتھیار ڈال دیں تو وہ ان کے اصولی موقف کی حمایت اور ترجمانی کرنے کے لیے تیار ہیں تو بہت سی جہادی تحریکوں کو ہتھیار ڈالنے اور اپنی جدوجہد کو پرامن طریقہ سے آگے بڑھانے پر آمادہ کیا جا سکتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر عالمی استعمار اور مسلم حکومتوں کا موقف

اکتوبر ۲۰۰۴ء

کیا موجودہ عالمی کشمکش تہذیبی نہیں؟

اس وقت مغرب اور عالم اسلام کے درمیان جاری کشمکش کے بارے میں بعض دانشور مسلسل یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ کشمکش اسلام اور مغرب کے درمیان نہیں ہے اور نہ ہی یہ ثقافت و تہذیب کی جنگ ہے بلکہ یہ امن کی خواہشمند دنیا اور تشدد و دہشتگردی کے خوگر افراد و طبقات کے درمیان معرکہ آرائی ہے جس میں امن پسند اقوام دہشت گردوں کو کچل کر عالمی امن کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اس معرکہ آرائی میں مغرب کے اتحادی مسلم حکمرانوں کا موقف بھی یہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر کیا موجودہ عالمی کشمکش تہذیبی نہیں؟

۲۸ ستمبر ۲۰۰۴ء

جہاد، مستشرقین اور مغربی دنیا

جہاد کا مقصد کافروں کو زبردستی اسلام قبول کرانا نہیں بلکہ انہیں اس بات پر آمادہ کرنا ہے کہ وہ بے شک اپنے مذہب پر قائم رہیں، اس پر آزادی کے ساتھ عمل کریں، اور اپنے دائرے میں اس کی تعلیم بھی دیں، لیکن انسانی سوسائٹی پر ’’آسمانی تعلیمات‘‘ کی بالادستی اور فروغ میں رکاوٹ نہ بنیں اور ان کے مقابل نہ ہوں۔ کیونکہ آسمانی تعلیمات کا یہ حق ہے کہ ان کا انسانی آبادی میں کسی روک ٹوک کے بغیر فروغ ہو اور ان کی دعوت وتعلیم کی راہ میں کوئی مزاحم نہ ہو ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جہاد، مستشرقین اور مغربی دنیا

ستمبر ۲۰۰۴ء

دینی مدارس میں تحقیق وتصنیف کی صورت حال

دینی مدارس کی قیادت کو آج کے اس خوفناک چیلنج کا ادراک واحساس کرنا چاہیے جو عالمی تہذیبی کشمکش کے حوالے سے مسلم امہ کو درپیش ہے اور جس میں انسانی حقوق اور گلوبلائزیشن کے عنوان سے مسلمانوں کے عقائد وافکار، تہذیب وثقافت، خاندانی نظام، معاشرتی اقدار اور مسلم ممالک کے اسلامی تشخص کو پامال کر دینے کی منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔ اس کشمکش کے علمی، اعتقادی اور ثقافتی پہلوؤں کو اجاگر کرنا، فکر وفلسفہ اور علم وتحقیق کے جدید ہتھیاروں کے ساتھ اس یلغار کا سامنا کرنا اور مسلمانوں کو اس سیلاب بلا سے محفوظ رکھنے کے لیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دینی مدارس میں تحقیق وتصنیف کی صورت حال

اگست ۲۰۰۴ء

غربت ختم کرنے کے لیے سفارشات

روزنامہ جنگ لاہور ۱۰ جولائی ۲۰۰۴ء کی ایک خبر کے مطابق پاکستان کے وزیر نجکاری ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے بتایا ہے کہ غربت کے خاتمے اور روزگار کے مواقع بڑھانے کے لیے قائم کردہ وزیر اعظم کی ٹاسک فورس نے اپنی سفارشات پیش کر دی ہیں۔ وزیر موصوف نے ان سفارشات کی تفصیل نہیں بتائی البتہ ان کے اس بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ حکومت ملک میں غربت کے خاتمہ میں دلچسپی رکھتی ہے اور اس کے لیے وزیر اعظم نے ایک ٹاسک فورس قائم کی تھی جس نے اپنی سفارشات پیش کر دی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر غربت ختم کرنے کے لیے سفارشات

اگست ۲۰۰۴ء

مغربی کنارے کی متنازعہ باڑ اور اسرائیل کی ہٹ دھرمی

ہیگ کی عالمی عدالت انصاف کے بعد اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے بھی اسرائیل کی جانب سے مغربی کنارے پر تعمیر کی جانے والی متنازعہ باڑ کے خلاف بھاری اکثریت سے قرار داد منظور کر لی ہے۔ اس سے قبل عالمی عدالت انصاف کے ۱۵ میں سے ۱۴ ججوں نے یہ فیصلہ دیا تھا کہ اسرائیل فلسطینی علاقے میں جو دیوار تعمیر کر رہا ہے وہ غیر قانونی ہے اس لیے اسے گروایا جائے۔ عدالت کے فیصلہ میں کہا گیا ہے کہ دیوار کی تعمیر کو فوراً روک دیا جائے اور تعمیر شدہ باڑ کو مسمار کر دیا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مغربی کنارے کی متنازعہ باڑ اور اسرائیل کی ہٹ دھرمی

اگست ۲۰۰۴ء

عالمی عدالت انصاف کا فیصلہ اور اسرائیل کی ہٹ دھرمی

اسرائیل نے عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کو ٹھکرا کر ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ وہ بدستور اپنی ہٹ دھرمی اور ضد پر قائم ہے اور اپنے یکطرفہ ایجنڈے کے بارے میں اپنی مرضی کے خلاف کسی کی بات سننے کے لیے تیار نہیں ہے۔ عالمی عدالت نے فلسطینی علاقے میں باڑ کی تعمیر کے اسرائیلی اقدام کو ناجائز قرار دے دیا ہے لیکن اسرائیل نے اسے ’’حفاظت کے حق‘‘ کے منافی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ اور ’’حفاظت کے حق‘‘ کے نام پر اسے اپنے اس نوعیت کے اقدامات کے لیے مغربی دنیا اور خاص طور پر امریکی قیادت کی مکمل حمایت حاصل ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر عالمی عدالت انصاف کا فیصلہ اور اسرائیل کی ہٹ دھرمی

۱۶ جولائی ۲۰۰۴ء

امریکہ: لورے کیورن کی سیر

میرے سفر کے مقاصد میں گھومنا پھرنا اور تاریخی آثار کو دیکھنا بھی شامل ہوتا ہے۔ قرآن کریم نے اس کی تلقین فرمائی ہے کہ زمین میں گھومو پھرو اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کے آثار کے ساتھ ساتھ قوموں کے عروج و زوال کے اسباب و عوامل اور نشانات کے بارے میں معلومات بھی حاصل کرو۔ واشنگٹن ڈی سی کے علاقے میں دو پاکستانی دوست محمد اشرف خان (آف جوہر آباد) اور جناب ناہن علی (آف سیالکوٹ) اس سلسلہ میں میری معاونت و رفاقت کرتے ہیں۔ گزشتہ سال وہ مجھے آمشوں کے علاقے میں لے گئے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر امریکہ: لورے کیورن کی سیر

۷ جولائی ۲۰۰۴ء

جاہلی اقدار و روایات اور جدید تہذیب

۲۵ جون کو میں نے جمعہ کی نماز واشنگٹن ڈی سی کے علاقے اسپرنگ فیلڈ کی مسجد دارالہدٰی میں پڑھائی اور اس سے قبل خطبہ و بیان کا موقع بھی ملا۔ میں اس سے قبل کئی بار یہاں آچکا ہوں اور ہر بار یہ دیکھ کر خوشی ہوتی ہے کہ نمازیوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ گزشتہ سال یہاں آیا تو معلوم ہوا کہ جمعۃ المبارک کے موقع پر زیادہ رش ہونے کی وجہ سے ایک ایک گھنٹے کے وقفے کے ساتھ تین بار جمعہ کی نماز ادا کی جاتی ہے۔ ایک نماز مسجد میں پڑھی جاتی ہے اور اس کے بعد مسجد کے ساتھ ملحقہ وسیع ہال میں دو بار نماز ادا کی جاتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جاہلی اقدار و روایات اور جدید تہذیب

۴ جولائی ۲۰۰۴ء

اسلام کی صحیح شناخت کا معاملہ

مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ کا اجلاس گزشتہ ہفتہ ترکی کے شہر استنبول میں منعقد ہوا جس میں پاکستان کے وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری نے بھی شرکت کی۔ روزنامہ جنگ لاہور ۱۶ جون ۲۰۰۴ء کی رپورٹ کے مطابق جناب خورشید محمود قصوری نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسلامی سربراہ کانفرنس پر زور دیا ہے کہ وہ غیر ملکی تسلط کے خلاف مسلمانوں کی جدوجہد کے لیے آواز اٹھائے اور بدلتے ہوئے حالات کے مطابق اسلامی کانفرنس کو مؤثر اور متحرک بنایا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اسلام کی صحیح شناخت کا معاملہ

جولائی ۲۰۰۴ء

فہم قرآن کریم کی اہمیت اور اس کے تقاضے

قرآن کریم اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور ہمارے لیے ہے۔ جب یہ بات بطور عقیدہ ہمارے ذہن میں آجاتی ہے تو اس کا لازمی تقاضا یہ ہوتا ہے کہ ہم اپنے لیے اللہ تعالیٰ کے اس پیغام کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ کسی بھی پیغام کا پہلا حق یہی ہوتا ہے کہ اسے پڑھا جائے، سمجھا جائے اور پیغام بھیجنے والے کے مقصد سے آگاہی حاصل کی جائے۔ پیغام کسی دوست کا ہو، دفتری خط ہو، عدالتی سمن ہو، کاروباری لیٹر ہو حتیٰ کہ کسی دشمن کا پیغام بھی ہو تو منطقی طور پر اسے وصول کرنے والے کی پہلی ذمہ داری یہ ہوتی ہے کہ وہ اسے پڑھے اور سمجھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر فہم قرآن کریم کی اہمیت اور اس کے تقاضے

۱۵ جون ۲۰۰۴ء

حضرت عیسٰیؑ کی تصلیب اور موجودہ مسیحی مذہبی قیادت کا مخمصہ

اسرائیل کی حمایت میں اس وقت یہودی اور مسیحی امتوں میں اتحاد ہے اور اسرائیلی ریاست کو تحفظ فراہم کرنے میں مغرب کی مسیحی حکومتیں یہودیوں سے بھی دو ہاتھ آگے دکھائی دے رہی ہیں۔ حالانکہ گزشتہ دو ہزار برس میں یہودیوں اور مسیحیوں کے مابین کھلی عداوت رہی ہے اور مسیحی حکومتوں کے ہاتھوں یہودیوں کا مسلسل قتل عام ہوتا رہا ہے۔ یہودیوں کے نزدیک حضرت عیسٰی علیہ السلام نہ صرف یہ کہ نبی نہیں ہیں بلکہ بغیر باپ کے جنم لینے کی وجہ سے حضرت عیسیٰ اور ان کی والدہ حضرت مریم علیہما السلام دونوں نعوذ باللہ شرمناک الزام کا ہدف چلے آرہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت عیسٰیؑ کی تصلیب اور موجودہ مسیحی مذہبی قیادت کا مخمصہ

۱۱ جون ۲۰۰۴ء

اقوام متحدہ کا انسانی حقوق کا چارٹر اور ہمارے دینی مراکز کی ذمہ داری

اقوام متحدہ کے تحت انسانی حقوق کا کمیشن اور دیگر بہت سے بین الاقوامی ادارے اس چارٹر کے حوالے سے دنیا بھر کی صورت حال کا جائزہ لیتے رہتے ہیں اور ہر سال مختلف رپورٹیں منظر عام پر آتی ہیں جن میں یہ بتایا جاتا ہے کہ دنیا کے کون کون سے ممالک میں ان حقوق کی کس حد تک خلاف ورزی ہو رہی ہے۔ ان رپورٹوں کی بنیاد پر بیشتر ممالک اور عالمی ادارے متعلقہ ملکوں کے بارے میں اپنی پالیسیوں کی ترجیحات قائم کرتے ہیں اور ان کے ساتھ اپنے تعلقات پر نظر ثانی کرتے رہتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اقوام متحدہ کا انسانی حقوق کا چارٹر اور ہمارے دینی مراکز کی ذمہ داری

جون ۲۰۰۴ء

سزائے موت کے خاتمہ کے لیے اقوام متحدہ کی قرارداد

روزنامہ جنگ لاہور ۲۲ اپریل ۲۰۰۴ء کی خبر کے مطابق جنیوا میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے نے سزائے موت کے خلاف قرار داد اکثریت سے منظور کر لی ہے۔ قرار داد کے حق میں ۲۹ ووٹ آئے جبکہ پاکستان، سعودی عرب، امریکہ، جاپان، چین، بھارت اور مسلم ممالک سمیت ۱۹ ممالک نے اس کی مخالفت کی۔ ۵ ممالک بشمول برکینا فاسو، کیوبا، گوئٹے مالا، جنوبی کوریا اور سری لنکا نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سزائے موت کے خاتمہ کے لیے اقوام متحدہ کی قرارداد

جون ۲۰۰۴ء

پوپ جان پال کی اپیل

روزنامہ جنگ ۳ مئی ۲۰۰۴ء کی خبر کے مطابق کیتھولک مسیحی فرقہ کے عالمی سربراہ پوپ جان پال نے یورپی یونین سے کہا ہے کہ وہ اپنی مسیحی جڑیں دوبارہ دریافت کرے، پوپ نے یہ بات یورپی یونین میں دس نئے ملکوں کی شمولیت کے موقع پر کہی ہے، اس سے پہلے وہ اصرار کر چکے ہیں کہ یورپی یونین میں عیسائی مذہب کو شامل کیا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر پوپ جان پال کی اپیل

جون ۲۰۰۴ء

علماء دیوبند کے تاریخی کردار پر ایک نظر

آج آزاد کشمیر کے تاریخی شہر باغ میں آل جموں و کشمیر جمعیۃ علمائے اسلام کے زیر اہتمام دو روزہ ’’خدمات علماء دیوبند کانفرنس‘‘ کا آغاز ہو رہا ہے۔ یہ کانفرنس اکابر علماء دیوبند کی ملی و دینی خدمات پر انہیں خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے منعقد کی جا رہی ہے اور اس کا ایک بڑا مقصد اپنے بزرگوں کی خدمات اور کارناموں کا تذکرہ کر کے ان سے راہنمائی حاصل کرنے کے علاوہ نئی نسل کا ذہنی و فکری رشتہ ان بزرگوں کے ساتھ قائم رکھنا اور آج کے لوگوں کو یہ بتانا ہے کہ آج اگر جنوبی ایشیا میں اسلام کا نام زندہ ہے، دینی تعلیم و ثقافت کی اقدار و روایات کا تسلسل قائم ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر علماء دیوبند کے تاریخی کردار پر ایک نظر

یکم مئی ۲۰۰۴ء

نصاب میں تبدیلی پر اضطراب اور اسماعیلی فرقہ کا تعارف

سکولوں اور کالجوں کے نصابِ تعلیم کے بارے میں متضاد خبریں سامنے آرہی ہیں۔ حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ نصاب میں کوئی جوہری تبدیلی نہیں کی جا رہی، وفاقی وزراء نصاب تعلیم سے اسلامی مواد کو خارج نہ کرنے کی یقین دہانیاں کرا رہے ہیں اور اب وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی نے بھی کہا ہے کہ ہمارا نصاب تعلیم اسلامی ہے اور اس میں اس حوالے سے کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ لیکن دوسری جانب ملک کے تعلیمی حلقے مسلسل حالتِ اضطراب میں ہیں، اساتذہ اور طلبہ کے مختلف فورموں کی طرف سے کہا جا رہا ہے کہ نصاب میں تبدیلیاں کر دی گئی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر نصاب میں تبدیلی پر اضطراب اور اسماعیلی فرقہ کا تعارف

۱۱ اپریل ۲۰۰۴ء

علمی وفکری مباحث اور جذباتی رویہ

کم وبیش پینتیس برس پہلے کی بات ہے۔ میرا طالب علمی کا زمانہ تھا۔ لکھنے پڑھنے کا ذوق پیدا ہو چکا تھا۔ جناب ذو الفقار علی بھٹو مرحوم نے پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھنے کے بعد ’’اسلامی سوشلزم‘‘ کا نعرہ لگا کر ملکی سیاست میں ہلچل پیدا کر دی تھی۔ قومی اخبارات اور دینی جرائد میں اسلام، جمہوریت اور سوشلزم کے حوالے سے گرما گرم بحث جاری تھی اور اسی ضمن میں جاگیرداری نظام، زمینداری سسٹم، مزارعت اور اجارہ پر زمین دینے کے جواز اور عدم جواز پر بہت کچھ لکھا جا رہا تھا۔ اسلامی سوشلزم کے نعرے کی بنیاد پر مسٹر بھٹو مرحوم کے خلاف ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر علمی وفکری مباحث اور جذباتی رویہ

اپریل ۲۰۰۴ء

مدارس اور مغربی حکومتیں

دینی مدارس کے بارے میں مغربی ممالک کی دلچسپی اور سرگرمیوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور مختلف ممالک کے سفارت کار، این جی اوز اور انسانی حقوق کے ادارے دینی اداروں کے ساتھ روابط اور ان کے حوالہ سے معلومات حاصل کرنے کے لیے سرگرم عمل ہیں۔ مالی تعاون اور فنی امداد کی پیشکشیں ہو رہی ہیں، اصلاحات کی باتیں ہو رہی ہیں، مدارس کے جداگانہ تشخص اور کردار پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے، انہیں اجتماعی دھارے میں لانے کے عزائم ظاہر کیے جا رہے ہیں اور انہیں معاشرہ کا ’’کارآمد حصہ‘‘ بنانے کی نوید سنائی جا رہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مدارس اور مغربی حکومتیں

اپریل ۲۰۰۴ء

تعلیمی نصاب میں اصلاحات کی نئی بحث اور SDPI کی رپورٹ

دینی مدارس کے نصاب و نظام میں اصلاح کی بحث ابھی جاری تھی کہ ریاستی تعلیمی نصاب میں اصلاحات و ترامیم کا ’’پنڈوراباکس‘‘ بھی کھول دیا گیا ہے اور مختلف رپورٹوں اور تجاویز کی صورت میں یہ تقاضے شروع ہوگئے ہیں کہ عالمی اور جنوبی ایشیا کی سطحوں میں رونما ہونے والی تبدیلیوں اور تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے ریاستی تعلیمی نظام کی ’’اوورہالنگ‘‘ کی جائے اور نصاب کے اہداف اور مواد، دونوں پر نظر ثانی کرکے اسے ازسرِنو ترتیب دیا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر تعلیمی نصاب میں اصلاحات کی نئی بحث اور SDPI کی رپورٹ

۲۹ مارچ ۲۰۰۴ء

دینی مدارس کے اہداف و مقاصد، مائیکل سیمپل کی گوجرانوالہ آمد

مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے دفتر کی طرف سے مجھے بتایا گیا کہ ۱۸ مارچ جمعرات کو اسلام اباد سے کسی این جی او کا ایک وفد مدرسہ دیکھنے آرہا ہے، آپ کو بھی موجود رہنا چاہیے۔ میرا معمول یہ ہے کہ صبح سات بجے سے گیارہ بجے تک مدرسے میں میرے اسباق ہوتے ہیں اس کے بعد گھر واپس آجاتا ہوں۔ میں نے عرض کیا کہ اگر اس دوران وفد آگیا تو میں شریک ہو جاؤں گا لیکن جب جمعرات کو دس بجے کے لگ بھگ یہ وفد پہنچا تو معلوم ہوا کہ برطانوی ہائی کمیشن کے حضرات ہیں اور ان کے ساتھ ’’انسان‘‘ نامی ایک این جی او کے چند ساتھی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دینی مدارس کے اہداف و مقاصد، مائیکل سیمپل کی گوجرانوالہ آمد

۲۲ مارچ ۲۰۰۴ء

تعلیمی نظام اور بین الاقوامی مطالبات

ملک کا تعلیمی نظام اس وقت سہ طرفہ یلغار کی زد میں ہے اور اعلیٰ سطح پر اس سلسلہ میں جو سرگرمیاں نظر آرہی ہیں یا درپردہ جاری ہیں، ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہمارے تعلیمی نظام و نصاب کا کوئی شعبہ بھی ان تبدیلیوں کے اہداف سے باہر نہیں ہے جو پاکستان کے حوالے سے طے کر لی گئی ہیں اور انہیں روبہ عمل کرنے کے لیے ’’ہوم ورک‘‘ تیزی کے ساتھ مکمل کیا جا رہا ہے۔ ایک طرف دینی مدارس کا نظام و نصاب ہے جس میں اصلاح و ترمیم کے لیے مختلف شعبے سرگرم عمل ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر تعلیمی نظام اور بین الاقوامی مطالبات

۱۹ مارچ ۲۰۰۴ء

’’نئی امریکی بائبل‘‘ اور مسیحی عقائد

گوجرانوالہ سے شائع ہونے والے مسیحی جریدہ ماہنامہ کلام حق کو چرچ آف پاکستان اور پریسٹیرین چرچ آف پاکستان سے شکایت ہے کہ انہوں نے بائبل کا جو انگریزی متن شائع کیا ہے اس میں بہت سی آیات حذف کر دی گئی ہیں۔ یہ شکایت ماہنامہ کلام حق نے فروری ۲۰۰۴ء کے شمارے میں کی ہے اور بتایا ہے کہ چرچ آف پاکستان کی انگریزی بائبل میں چالیس کے لگ بھگ آیات میں ردوبدل کیا گیا ہے، ان میں بعض آیات بالکل حذف کر دی گئی ہیں اور بعض آیات کے اہم جملے نکال دیے گئے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ’’نئی امریکی بائبل‘‘ اور مسیحی عقائد

۱۶ مارچ ۲۰۰۴ء

حکومتی اعلان کے بغیر جہاد کی شرعی حیثیت

اسلام آباد کے ’’علماء کنونشن‘‘ سے جنرل پرویز مشرف کے خطاب پر بحث و تمحیص کا سلسلہ جاری ہے اور قومی اخبارات میں اس کے مختلف پہلوؤں پر اظہار خیال کیا جا رہا ہے۔ اس کنونشن کے لیے اپنی مرضی کے علماء و مشائخ کو جس انداز سے جمع کیا گیا، اس سے ماضی کی حکومتی روایات بھی مدھم پڑ گئیں، کیونکہ ماضی کی حکومتیں ایسے مواقع پر اس بات کا خیال رکھتی تھیں کہ کانفرنس یا کنونشن میں اس کے ہم خیال حضرات ہی کی اکثریت ہو مگر توازن قائم رکھنے کے لیے مخالفانہ نقطۂ نظر رکھنے والے کچھ حضرات کو بھی موقع دیا جاتا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حکومتی اعلان کے بغیر جہاد کی شرعی حیثیت

یکم مارچ ۲۰۰۴ء

عورتوں کے اسلامی حقوق اور ہمارا معاشرہ

ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اس وقت ہمارے معاشرے میں جو تنظیمیں اور ادارے عورتوں کے حقوق کے لیے کام کر رہے ہیں ان کی اکثریت کا ایجنڈا مغربی ثقافت کی عملداری ہے۔ وہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر کی بنیاد پر کام کر رہے ہیں اور اس کی عملداری میں مصروف ہیں، جبکہ ہم اقوام متحدہ کے چارٹر کے بارے میں واضح تحفظات رکھتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے داخلی نظام کے بارے میں، اس کے طرز عمل کے بارے میں، اس کے طریق کار کے بارے میں اور اس کے چارٹر کے بارے میں ہمارے تحفظات ہیں جو دلیل کی بنیاد پر ہیں اور حقائق کے تناظر میں ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر عورتوں کے اسلامی حقوق اور ہمارا معاشرہ

۲۰ فروری ۲۰۰۴ء

ایک بدری صحابی کی ’’ڈی بریفنگ‘‘

فتح مکہ پر بھی ایسا ہوا کہ تیاریاں جاری تھیں اور رازداری کا بھی اہتمام کیا جا رہا تھا کہ ان تیاریوں کی دشمن کو قبل از وقت خبر نہ ہو جائے مگر ایک واقعہ ایسا ہوا جس نے صحابہ کرامؓ کو پریشان کر دیا۔ بخاری شریف کی روایت ہے کہ آنحضرتؐ نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ، حضرت زبیر بن العوام اور حضرت مقداد بن الاسودؓ پر مشتمل ایک مہم بھیجی اور انہیں ہدایت کی کہ مکہ مکرمہ جانے والے راستے پر ’’روضۂ خاخ‘‘ نامی جگہ پر ایک خاتون سفر کرتی ہوئی ملے گی، وہ کسی کا خط لے کر مکہ مکرمہ جا رہی ہے، اس سے وہ خط قابو کر کے میرے پاس لے آؤ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ایک بدری صحابی کی ’’ڈی بریفنگ‘‘

۱۷ فروری ۲۰۰۴ء

مغرب کے سامنے صرف سپر اندازی کا مشورہ کیوں؟

ڈاکٹر عبد القدیر خان کے اعتراف ’’جرم‘‘ اور صدر جنرل پرویز مشرف کی طرف سے ان کے لیے ’’معافی‘‘ کے بعد ایٹمی پھیلاؤ کے حوالے سے قیاس آرائیوں نے جو نیا رخ اختیار کر لیا ہے، اس سے ان حضرات کے خدشات کو تقویت حاصل ہو رہی ہے کہ جس انداز سے اس معاملہ کو ڈیل کیا گیا ہے، اس سے مسئلہ سمٹنے کے بجائے پھیلاؤ کا زیادہ شکار ہو گیا ہے اور اس کا امکان بڑھتا جا رہا ہے کہ ایٹمی پھیلاؤ کے معاملے میں پاکستان کے بعض سائنس دانوں کے مبینہ طور پر ملوث ہونے کا مسئلہ پاکستان کا داخلی معاملہ نہیں سمجھا جائے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مغرب کے سامنے صرف سپر اندازی کا مشورہ کیوں؟

۱۵ فروری ۲۰۰۴ء

ایٹمی سائنسدانوں کی ڈی بریفنگ ۔ چند گزارشات

ایٹمی سائنس دانوں کی ’’ڈی بریفنگ’’ جوں جوں آگے بڑھ رہی ہے، عوام کے اضطراب میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور تناؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ ڈاکٹر عبد القدیر خان اور ان کے رفقاء کے بارے میں یہ کہا جا رہا ہے کہ انہوں نے ایٹمی راز فروخت کیے اور دوسرے ممالک کو ایٹمی طاقت حاصل کرنے میں مدد دی۔ سائنس دانوں کے خفیہ بینک اکاؤنٹس کا تذکرہ ہو رہا ہے، بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کا حوالہ دیا جا رہا ہے، عدالت عالیہ کا دروازہ کھٹکھٹایا جا رہا ہے، جبکہ بعض معزز جج صاحبان کو شکوہ ہے کہ انہیں ضروری معلومات فراہم نہیں کی جا رہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ایٹمی سائنسدانوں کی ڈی بریفنگ ۔ چند گزارشات

۲ فروری ۲۰۰۴ء

جارج واشنگٹن اور جارج ڈبلیو بش کے مذہبی رجحانات

امریکی دستور کی پہلی ترمیم میں مذہب کے ریاستی کردار کو مکمل طور پر مسترد کر دیا گیا تھا اور اسی حوالے سے کانگریس کے بعض ارکان صدر بش کی طرف سے مسیحی مشنریوں کے لیے دی جانے والی مالی مراعات کی مخالفت کر رہے ہیں۔ لیکن دوسری طرف یہ تاریخی حقیقت امریکی کانگریس کا منہ چڑا رہی ہے کہ امریکہ کے صدر نے یہ کہہ کرشراب کو ترک نہیں کیا کہ امریکی کانگریس نے ایک موقع پر شراب پر پابندی عائد کر دی تھی بلکہ انہوں نے کہا کہ مذہبی رجحانات کی وجہ سے ان کے دل کی کیفیت بدلی ہے اور انہوں نے شراب نوشی ترک کر دی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جارج واشنگٹن اور جارج ڈبلیو بش کے مذہبی رجحانات

۲۵ جنوری ۲۰۰۴ء

بنگلہ دیش کے دینی مدارس

بنگلہ دیش میں گیارہ دن قیام کے بعد ۱۰ جنوری کو ہماری واپسی تھی، اس دوران ہم نے ڈھاکہ، چاٹگام، سلہٹ، سونام گنج، ہاٹ ہزاری، ٹیسیا، درگاپور، مدھوپور اور دیگر مقامات پر مختلف دینی اجتماعات میں شرکت کی اور سرکردہ علماء کرام سے ملاقاتیں کیں۔ ہمارے قافلے میں راقم الحروف کے علاوہ لندن سے ورلڈ اسلامک فورم کے چیئرمین مولانا محمد عیسیٰ منصوری، ابراہیم کمیونٹی کالج وائٹ چیپل، لندن کے ڈائریکٹر مولانا مشفق الدین، دارالارقم کالج ایمسٹر (برطانیہ) کے ڈائریکٹر مولانا محمد فاروق، اور دارالارشاد میرپور ڈھاکہ کے ڈائریکٹر مولانا محمد سلمان ندوی شامل تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر بنگلہ دیش کے دینی مدارس

۲۳ جنوری ۲۰۰۴ء

دینی مدارس کا نصاب تعلیم اور شیخ الاسلام حضرت مدنیؒ

بنگلہ دیش کے حالیہ سفر کے دوران سلہٹ کے دینی مدرسہ ’’مدینۃ العلوم دارالسلام‘‘ کی لائبریری میں شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ کا تحریر فرمودہ ایک نصاب تعلیم ملا جو انہوں نے اب سے کم و بیش ستر برس قبل دینی مدارس کے لیے ترتیب دیا تھا۔ پڑھ کر تعجب ہوا کہ جن ضروریات اور تقاضوں کی طرف ہم دینی مدارس کو آج توجہ دلا رہے ہیں، وہ پون صدی قبل حضرت مدنیؒ تفصیل کے ساتھ تحریر فرما چکے ہیں مگر ان امور کو جو توجہ دینی مدارس کی طرف سے حاصل ہونی چاہیے تھی وہ نظر نہیں آرہی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دینی مدارس کا نصاب تعلیم اور شیخ الاسلام حضرت مدنیؒ

۲۲ جنوری ۲۰۰۴ء

فرانس میں اسکارف کا مسئلہ

فرانس میں ان دنوں اسکارف کا مسئلہ قومی مسائل میں سرفہرست حیثیت اختیار کر چکا ہے اور فرانس کے صدر اور وزیر اعظم کے اعلانات کے مطابق اس مقصد کے لیے باقاعدہ قانون سازی کی جا رہی ہے کہ فرانس میں مسلم خواتین کے لیے سر پر اسکارف لینے کو قانوناً ممنوع قرار دے دیا جائے۔ دوسری طرف سینکڑوں مسلم خواتین نے پیرس میں گزشتہ روز مظاہرہ کیا ہے جس میں اسکارف پر مجوزہ پابندی کے خلاف نعرے لگائے گئے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر فرانس میں اسکارف کا مسئلہ

جنوری ۲۰۰۴ء

صدام حسین کا اصل قصور جس کا تذکرہ کہیں نہیں

امریکی ذرائع کے مطابق عراق کے معزول صدر صدام حسین کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور وہ اس وقت اتحادی فوجوں کی تحویل میں ہیں۔ خبروں میں بتایا گیا ہے کہ انہیں تکریت کے علاقہ میں زیر زمین پناہ گاہ سے اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ سوئے ہوئے تھے، ان کے پاس دو رائفلیں اور متعدد دستی بم تھے اور لاکھوں ڈالر بھی ان کے پاس تھے، جبکہ ان کی ڈاڑھی بڑھی ہوئی تھی اور چہرے پر تھکن اور مشقت کے آثار تھے۔ ان کی ڈاڑھی سمیت تصویر اخبارات میں آئی ہے جس سے تاثر ملتا ہے کہ وہ حالت جنگ میں تھے اور آخر وقت تک ہتھیار بکف تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر صدام حسین کا اصل قصور جس کا تذکرہ کہیں نہیں

۱۸ دسمبر ۲۰۰۳ء

قرآن حکیم کے ہم پر حقوق

رمضان المبارک گزرتا جا رہا ہے اور دنیا بھر میں مسلمان اپنے اپنے ذوق اور توفیق کے مطابق اس کی برکتوں سے فیضیاب ہو رہے ہیں۔ یہ قرآن کریم کا مہینہ ہے، اسی لیے اس میں قرآن کریم سب سے زیادہ پڑھا جاتا ہے اور نماز کے بغیر بھی اس کی عام طور پر تلاوت ہوتی ہے۔ سمجھ کر پڑھنے والے بھی اس کے پڑھنے اور سننے کا حظ اٹھا رہے ہیں اور بغیر سمجھے پڑھنے سننے والے بھی اس کی برکات سے محروم نہیں ہیں۔ یہ قرآن کریم کا اعجاز ہے کہ کسی اور کتاب کے حافظ موجود نہیں، مگر اس کے حافظوں کی تعداد دنیا میں اس وقت نوے لاکھ کے لگ بھگ بتائی جاتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قرآن حکیم کے ہم پر حقوق

۷ نومبر ۲۰۰۳ء

رمضان اور اجتہاد

رمضان المبارک ایک بار پھر ہماری زندگی میں آیا ہے اور خاموشی کے ساتھ گزرتا جا رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے قرآن کریم کا مہینہ فرمایا ہے کہ اس میں لوح محفوظ سے قرآن کریم اتارا گیا اور جس رات یہ لوح محفوظ سے منتقل ہوا اس رات کو اللہ تعالیٰ نے ’’شبِ قدر‘‘ قرار دے کر ایک ہزار مہینوں پر بھاری کر دیا۔ قرآن کریم نے اس ماہ میں مسلمانوں پر روزوں کا حکم صادر فرمایا اور کہا کہ روزے رکھنے سے تقوٰی پیدا ہوتا ہے اور روزہ رکھنے والوں میں پرہیزگاری کا ذوق بیدار ہوتا ہے۔ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے صبر و ضبط کا مہینہ قرار دیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر رمضان اور اجتہاد

۵ نومبر ۲۰۰۳ء

بھارت میں خاتون مفتیوں کے پینل کا قیام

’’واشنگٹن پوسٹ‘‘ نے ۵ اکتوبر ۲۰۰۳ء کی اشاعت میں حیدرآباد دکن کے حوالے سے ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ وہاں کے ایک دینی ادارے ’’جامعۃ المومنات‘‘ نے تین عالمہ خواتین کو افتا کا کورس کرانے کے بعد فتویٰ نویسی کی تربیت دی ہے اور ان پر مشتمل خواتین مفتیوں کا ایک پینل بنا دیا ہے جو خواتین سے متعلقہ مسائل کو براہ راست سنتی اور ان کے بارے میں شرعی اصولوں کی روشنی میں فتویٰ جاری کرتی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر بھارت میں خاتون مفتیوں کے پینل کا قیام

نومبر ۲۰۰۳ء

امریکی مسلمانوں کی صورت حال اور مستقبل کی توقعات

امریکہ میں عام مسلمانوں کی سطح پر جو بات میں نے محسوس کی، وہ یہ ہے کہ دینی بیداری میں اضافہ ہو رہا ہے، مساجد ومدارس کی تعداد اور ان میں حاضری کا تناسب بڑھ رہا ہے، بچوں کو دینی تعلیم وتربیت سے آراستہ کرنے کے ساتھ ساتھ خود زیادہ سے زیادہ دینی معلومات حاصل کرنے کا شوق بھی ترقی پذیر ہے۔ ایک بات سے اس صورت حال کا اندازہ کر لیں کہ بارہ تیرہ برس قبل جب میں واشنگٹن آتا تھا تو دار الہدیٰ ایک کرائے کے اپارٹمنٹ میں تھا اور نمازوں میں اکا دکا مسلمان دور دراز سے آیا کرتے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر امریکی مسلمانوں کی صورت حال اور مستقبل کی توقعات

نومبر ۲۰۰۳ء

مسندِ حدیث و فتویٰ اور خواتینِ اسلام

ان دنوں واشنگٹن پوسٹ کی اس رپورٹ کا عام چرچا ہے جس میں حیدرآباد دکن انڈیا کے ایک دینی مدرسہ جامعۃ المومنات کے حوالہ سے بتایا گیا ہے کہ اس مدرسہ کے منتظمین نے اپنی تین خاتون عالمات فاضلات کو فتویٰ نویسی کی تعلیم و تربیت سے بہرہ ور کر کے خواتین کے لیے ان تینوں پر مشتمل مفتی پینل بنا دیا ہے جس سے عورتیں براہ راست رجوع کر کے مسائل دریافت کرتی ہیں اور وہ انہیں متعلقہ مسائل پر فتویٰ دیتی ہیں۔ مجھ سے ایک دوست نے گزشتہ روز دریافت کیا کہ کیا یہ درست ہے اور کیا اس سے قبل بھی اس کی کوئی مثال ملتی ہے؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مسندِ حدیث و فتویٰ اور خواتینِ اسلام

۱۵ اکتوبر ۲۰۰۳ء

مغرب میں مقیم مسلمانوں کے لیے دینی لائحہ عمل ۔ مولانا مفتی رفیع عثمانی کی تجاویز

امریکی ریاست ورجینیا میں وفاقی دارالحکومت واشنگٹن سے متصل علاقہ اسپرنگ فیلڈ میں ’’دارالہدیٰ‘‘ کے نام سے ایک دینی ادارہ ہے جس میں مسجد، قرآنی تعلیم کا مکتب اور طالبات کے لیے اسکول کے شعبے کام کر رہے ہیں۔ مولانا عبد الحمید اصغر کی سربراہی میں ایک ٹیم اس کارخیر میں مصروف ہے۔ موصوف بہاولپور سے تعلق رکھتے ہیں، بنیادی طور پر انجینئر ہیں، لاہور کی انجینئرنگ یونیورسٹی میں استاد رہے ہیں، معروف نقشبندی بزرگ حضرت مولانا حافظ غلام حبیب نقشبندیؒ (آف چکوال) کے خلیفہ مجاز ہیں اور امریکہ آنے کے بعد ایک عرصہ سے دینی خدمات میں سرگرم ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مغرب میں مقیم مسلمانوں کے لیے دینی لائحہ عمل ۔ مولانا مفتی رفیع عثمانی کی تجاویز

۱۰ اکتوبر ۲۰۰۳ء

ڈاکٹر مہاتیر محمد کی فکر انگیز باتیں

ملائیشیا میں اسلامی سربراہ کانفرنس جاری ہے جو ان سطور کی اشاعت تک اختتام پذیر ہو چکی ہوگی۔ اس کانفرنس کا دنیا بھر کے مسلمانوں کو ایک مدت سے انتظار تھا اور ملت اسلامیہ منتظر تھی کہ مسلم ممالک کے حکمران عالم اسلام کی موجودہ صورتحال کے بارے میں مشترکہ طور پر کیا رائے قائم کرتے ہیں اور کیا لائحہ عمل اختیار کرتے ہیں۔ کانفرنس کے فیصلوں اور اعلانات کے حوالہ سے تو ہم اگلے کالم میں کچھ عرض کر سکیں گے البتہ کانفرنس کے میزبان اور ملائیشیا کے وزیراعظم ڈاکٹر مہاتیر محمد نے کانفرنس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جو کچھ کہا ہے اس کے بارے میں چند گزارشات پیش کرنا چاہتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ڈاکٹر مہاتیر محمد کی فکر انگیز باتیں

۱۹ اکتوبر ۲۰۰۳ء

آئی تھنک کا فتنہ

حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی ان دنوں امریکہ آئے ہوئے ہیں اور مختلف شہروں میں دینی اجتماعات سے خطاب کر رہے ہیں۔ گزشتہ تین روز سے واشنگٹن ڈی سی اور اس کے قریب ورجینیا کے علاقہ میں ہیں۔ دارالہدٰی سپرنگ فیلڈ میں انہوں نے مسلمانوں کے ایک بڑے اجتماع سے خطاب کیا اور مختلف مسائل پر لوگوں کے سوالات کے جوابات دیے۔ اس اجتماع کے لیے دارالہدٰی کے ڈائریکٹر مولانا عبد الحمید اصغر نے خاصی محنت کی تھی جس کی وجہ سے ورکنگ ڈے (منگل) ہونے کے باوجود بھرپور اجتماع ہوا اور مفتی صاحب کے خطاب اور سوال و جواب کی نشست تقریباً دو گھنٹے جاری رہی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر آئی تھنک کا فتنہ

۶ اکتوبر ۲۰۰۳ء

مسلم حکمرانوں کو مہاتیر محمد کی تلقین

روزنامہ اسلام لاہور سے ۱۷ ستمبر ۲۰۰۳ء کی خبر کے مطابق ملائیشیا کے وزیر اعظم مہاتیر محمد نے کوالالمپور میں نوجوان مسلمان راہنماؤں کی بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسلمانوں کو جدید ترین ہتھیاروں کی تیاری کے لیے مہارت اور ٹیکنالوجی حاصل کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو مغربی ترقی تک پہنچنا ہوگا تاکہ انہیں اسلام کی تضحیک اور تمسخر اڑانے سے روکا جا سکے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مسلم حکمرانوں کو مہاتیر محمد کی تلقین

اکتوبر ۲۰۰۳ء

کیا خلافت کا نظام ناقابل عمل ہے؟

صدر جنرل پرویز مشرف نے گزشتہ دنوں ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ پاکستان میں کمال اتاترک جیسی اصلاحات نافذ نہیں کی جا سکتی اور نہ ہی خلافت کا نظام قابل عمل ہے ۔جہاں تک مصطفی کمال اتاترک جیسی اصلاحات کے نفاذ کا تعلق ہے اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ان کا نفاذ کسی بھی مسلمان ملک میں ممکن نہیں رہا، اس لیے کہ وہ اصطلاحات خود ترکی میں کامیابی کی منزل حاصل نہیں کر سکیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر کیا خلافت کا نظام ناقابل عمل ہے؟

اکتوبر ۲۰۰۳ء

کیا ہمارے فیصلے ہمیشہ دباؤ کے تحت ہوتے رہیں گے؟

میں اس وقت دارالہدٰی (سپرنگ فیلڈ، ورجینیا، امریکہ) میں ہوں، یہاں مجھے ۱۸ ستمبر کو پہنچنا تھا مگر طوفان کی آمد کے باعث واشنگٹن کے ایئرپورٹس بند کر دیے گئے اور میں لندن سے واشنگٹن براہ راست آنے کی بجائے نیویارک کے راستہ سے ایک دن تاخیر کے ساتھ پہنچا۔ دارالہدٰی نے روزانہ مغرب کے بعد سیرت نبویؐ پر لیکچرز کا اہتمام کر رکھا ہے جو میرے یہاں قیام کے دوران جاری رہیں گے اور اس کے علاوہ چند احباب نے بخاری شریف کی کتاب العلم اور مسلم شریف کی کتاب الفتن کے خصوصی درس کا بھی تقاضا کیا ہے جو آج شام سے ان شاء اللہ العزیز شروع ہو جائے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر کیا ہمارے فیصلے ہمیشہ دباؤ کے تحت ہوتے رہیں گے؟

۲۵ ستمبر ۲۰۰۳ء

عصر حاضر کے چیلنجز اور ہماری ذمہ داریاں

پہلی بات جسے میں ’’بے خبری کا بحران‘‘ سے تعبیر کرتا ہوں، یہ ہے کہ دینی مدارس کے اساتذہ اور طلبہ کی غالب اکثریت آج کے عالمی حالات اور ماحول دونوں سے بے خبر ہے۔ ہمیں نہ دنیا کے جغرافیے کا علم ہے اور نہ تاریخ کا۔ ہمیں یہ معلوم ہی نہیں کہ آج کی دنیا میں کیا ہو رہا ہے، کون کیا کر رہا ہے، کیسے کر رہا ہے اور کیوں کر رہا ہے؟ افراد کی بات نہیں کرتا۔ دوچار فی صد حضرات ضرور اس سے مستثنیٰ ہوں گے لیکن مجموعی صورت حال یہی ہے جو میں نے عرض کی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر عصر حاضر کے چیلنجز اور ہماری ذمہ داریاں

ستمبر ۲۰۰۳ء

بہائی مذہب اور عقیدۂ ختم نبوت

ماہنامہ نصرۃ العلوم کے اگست کے شمارے میں ’’حالات و واقعات‘‘ کے تحت راقم الحروف نے فلسطین کے وزیر اعظم محمود عباس کے بارے میں لکھا تھا کہ ان کا تعلق بین الاقوامی رپورٹوں کے مطابق بہائی مذہب سے ہے جو اسلام سے منحرف گروہ ہے اور قادیانیوں کی طرح ختم نبوت کے عقیدہ کا انکار کرتے ہوئے مرزا بہاء اللہ شیرازی کی نبوت کا قائل ہے ۔ اس پر پشاور سے جناب مہربان اختری صاحب کا خط موصول ہوا ہے جس میں انہوں نے ان دونوں باتوں سے انکار کرتے ہوئے لکھا ہے کہ محمود عباس بہائی نہیں ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر بہائی مذہب اور عقیدۂ ختم نبوت

ستمبر ۲۰۰۳ء

پاکستان میں مروجہ قوانین کی تعبیر و تشریح

لاہور سے شائع ہونے والے مسیحی جریدہ ماہنامہ شاداب نے جولائی ۲۰۰۳ء کے شمارے میں ایک خبر شائع کی ہے جو علمی و دینی حلقوں کی خصوصی توجہ کی مستحق ہے۔ خبر میں بتایا گیا ہے کہ صائمہ نامی ایک مسیحی لڑکی نے گھر سے بھاگ کر ایک مسیحی نوجوان سے شادی کر لی جس پر لڑکی کی ماں نے عدالت میں اس لڑکے کے خلاف اغوا کا کیس درج کرا دیا اور ساتھ ہی یہ موقف اختیار کیا کہ ان کی شادی مسیحی مذہب کے قوانین کے مطابق رسومات کی ادائیگی کے ساتھ نہیں ہوئی اس لیے اسے کالعدم قرار دیا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر پاکستان میں مروجہ قوانین کی تعبیر و تشریح

ستمبر ۲۰۰۳ء

کیا اسرائیل کو تسلیم کر لینا چاہیے؟

اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے بارے میں ڈاکٹر محمد حمید اللہؒ صاحب کے ارشاد کے حوالہ سے آپ کا کالم نظر سے گزرا۔ میری طالب علمانہ رائے میں ڈاکٹر صاحب علیہ الرحمۃ کا ارشاد بالکل بجا ہے کہ قرآن کریم کی جس آیت کریمہ میں یہود و نصاریٰ کے ساتھ ’’ولایت‘‘ کے درجہ کی دوستی سے منع کیا گیا ہے، وہ یہود ونصاریٰ کے ساتھ معمول کے تعلقات میں رکاوٹ نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسیحی ممالک کے ساتھ تعلقات اور معاملات میں ملت اسلامیہ نے کبھی ہچکچاہٹ سے کام نہیں لیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر کیا اسرائیل کو تسلیم کر لینا چاہیے؟

ستمبر ۲۰۰۳ء

دینی مدارس کیلئے حکومتی امداد ۔ مولانا ابوالکلام آزاد اور مولانا مفتی محمودؒ کا موقف

سرکاری سطح پر ’’مدرسہ ایجوکیشن بورڈ‘‘ نے کام شروع کر دیا ہے۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر ایس ایم زمان مدرسہ بورڈ کے چیئرمین ہیں۔ اسلام آباد کے حاجی کیمپ میں اس کا ہیڈ آفس قائم ہو گیا ہے اور ڈاکٹر صاحب محترم کی طرف سے اخبارات میں ایک اشتہار کے ذریعے سے دینی مدارس سے اس بورڈ کے ساتھ الحاق کے لیے درخواستیں طلب کرنے کا اعلان بھی ہو گیا ہے۔ گزشتہ دنوں گوجرانوالہ میں ایک حساس ادارے کے ذمہ دار افسر نے مجھ سے دریافت کیا کہ سرکاری بورڈ کے ساتھ الحاق کے سلسلہ میں آپ کی کیا رائے ہے؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دینی مدارس کیلئے حکومتی امداد ۔ مولانا ابوالکلام آزاد اور مولانا مفتی محمودؒ کا موقف

۲۶ اگست ۲۰۰۳ء

شدت پسندی ۔ شاہ فہد اور مہاتیر محمد کا اختلافِ نظر

دہشت گردی کے حوالے سے دنیا بھر میں بحث جاری ہے اور اس کی کوئی تعریف متعین کیے بغیر عالمی اتحاد کے نام پر طاقتور قومیں ۱۱ ستمبر ۲۰۰۱ء کے بعد سے اس کے خلاف لٹھ لیے پھر رہی ہیں۔ ورلڈ ٹریڈ سنٹر اور پینٹاگون کے سانحات کے بعد جب امریکہ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے عالمی اتحاد بنانے کا اعلان کیا اور افغانستان کو خوفناک بمباری کا نشانہ بنایا تو یہ سوال اسی وقت اٹھ کھڑا ہوا تھا کہ دہشت گردی کہتے کس کو ہیں اور اس کی تعریف کیا ہے؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر شدت پسندی ۔ شاہ فہد اور مہاتیر محمد کا اختلافِ نظر

۱۴ اگست ۲۰۰۳ء

پاکستان اور عالم اسلام کا مستقبل

مولانا فضل الرحمن کی قیادت میں جمعیت علماء اسلام کا وفد بھارت کے دورے سے واپس آگیا ہے، وفد میں جمعیت کے تین دوسرے لیڈر حافظ حسین احمد، مولانا گل نصیب خان، اور مولانا قاضی حمید اللہ خان بھی شامل تھے۔ انہوں نے دارالعلوم دیوبند میں حاضری کے علاوہ جمعیت علماء ہند کے راہنماؤں اور بھارتی وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی سمیت متعدد بھارتی لیڈروں سے ملاقاتیں کیں جن میں انڈین نیشنل کانگریس کی لیڈر سونیا گاندھی بھی شامل ہیں۔ اس دورے کا اصل پس منظر تو یہ ہے کہ کچھ عرصہ قبل پشاور میں جمعیت علماء اسلام کے زیراہتمام منعقد ہونے والی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر پاکستان اور عالم اسلام کا مستقبل

۵ اگست ۲۰۰۳ء

دینی مدارس اور ’’قومی دھارا‘‘

اے پی پی کے مطابق گزشتہ دنوں کوئٹہ میں دینی مدارس کے اساتذہ کی تربیت کے لیے منعقدہ آٹھ روزہ ورکشاپ کے اختتام پر ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم محترمہ زبیدہ جلال نے فرمایا ہے کہ دینی مدارس کو قومی دھارے میں شامل کرنے کی راہ میں کوئی اندرونی یا بیرونی رکاوٹ برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ دینی مدارس میں دنیاوی علوم کے فروغ کا مقصد دینی مدارس کے طلبہ کو ملک اور قوم کا ایک کارآمد شہری بنانا ہے۔ وزیر تعلیم نے اس موقع پر دینی مدارس کے حوالے سے سرکاری پروگرام کی وضاحت کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دینی مدارس اور ’’قومی دھارا‘‘

۴ اگست ۲۰۰۳ء

کیا پاک بھارت انضمام ممکن ہے؟

مولانا فضل الرحمن نے دورہ بھارت سے واپسی پر بعض اخبارات میں شائع ہونے والی ان خبروں کی تردید کی ہے کہ انہوں نے پاکستان اور بھارت کو دوبارہ متحد کرنے کے لیے گول میز کانفرنس کی کوئی تجویز پیش کی ہے، انہوں نے کہا کہ وہ ”اکھنڈ بھارت“ کے حامی نہیں ہیں اور نہ ہی اس سلسلہ میں انہوں نے کوئی بات کی ہے۔ مولانا فضل الرحمن کی اس وضاحت کے بعد ہمارے خیال میں اس حوالہ سے گفتگو کو آگے بڑھانے کی گنجائش باقی نہیں رہی، لیکن مسئلہ صرف مولانا فضل الرحمن کا نہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر کیا پاک بھارت انضمام ممکن ہے؟

۲۹ جولائی ۲۰۰۳ء

پاک فوج صومالیہ کے بعد اب عراق میں

عراق میں پاکستانی فوج بھیجنے کے حوالے سے اخبارات میں بحث و تمحیص کا سلسلہ جاری ہے اور جوں جوں عراق میں امریکی فوجیوں پر حملوں اور ان کی لاشوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے، وہاں پاکستانی فوج بھیجنے کی ضرورت و اہمیت بڑھتی جا رہی ہے۔ اور ہمارے حکمرانوں کے انداز سے لگتا ہے کہ صومالیہ کی طرح عراق میں بھی امریکی فوجیوں کی ڈھال کے طور پر پاک فوج کے جوانوں کو تعینات کرنے کا اصولی فیصلہ ہو چکا ہے اور اب صرف تفصیلات طے ہونے کا انتظار ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر پاک فوج صومالیہ کے بعد اب عراق میں

۱۴ جولائی ۲۰۰۳ء

دینی مدارس کی اسناد: ایک پہلو یہ بھی ہے

میرے والد محترم شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر دامت برکاتہم دارالعلوم دیوبند سے دورہ حدیث کر کے ۱۹۴۳ء میں گکھڑ (ضلع گوجرانوالہ) آئے اور تب سے یہیں ہیں۔ وہ یہ واقعہ خود سناتے ہیں کہ پاکستان بننے کے بعد جب پہلی بار انتخابات کا مرحلہ آیا اور ووٹروں کی فہرستیں مرتب ہوئیں تو ان کا نام ووٹر لسٹ میں نہیں تھا۔ پوچھا گیا تو پتہ چلا کہ چونکہ آپ سرکاری قانون کی رو سے اَن پڑھ (ناخواندہ) ہیں اور انتخابی قواعد کی رو سے ووٹ دینے کے لیے پڑھا لکھا ہونا ضروری ہے، اس لیے آپ کا نام ووٹر لسٹ میں شامل نہیں کیا جا سکتا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دینی مدارس کی اسناد: ایک پہلو یہ بھی ہے

۶ جولائی۲۰۰۳ء

مولانا طارق جمیل کے مدرسے کا دورہ

مولانا طارق جمیل کو گزشتہ روز ایک نئے روپ میں دیکھا تو دل سے دعا نکلی کہ اللہ تعالیٰ انہیں اس مشن اور پروگرام میں کامیابی اور ثمرات سے بہرہ ور فرمائیں، آمین۔ مولانا موصوف کا تعلق تلمبہ خانیوال کے ایک کھاتے پیتے زمیندار گھرانے سے ہے۔ تبلیغی جماعت سے تعلق قائم ہوا تو اس میں اس رفتار سے آگے بڑھے کہ اسی کے ہو کر رہ گئے۔ مولانا دعوت و تبلیغ کے عمل سے وابستہ ہوئے تو تنہا تھے کہ خاندان میں کوئی اس کار خیر پر شاباش دینے والا نہیں تھا لیکن یہ ان کی استقامت اور جہد مسلسل کا ثمر ہے کہ اب پورا خاندان بلکہ پورا علاقہ اس نیک عمل میں ان کا دست و بازو ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا طارق جمیل کے مدرسے کا دورہ

۲۳ جون ۲۰۰۳ء

اسلام کی تعبیر و تشریح اور قائد اعظمؒ

سرحد اسمبلی میں شریعت ایکٹ کی منظوری کے بعد ایک بار پھر ملک بھر میں اسلام کی تعبیر و تشریح کے حوالے سے بحث میں شدت آگئی ہے، اور اس سلسلے میں نئے مضامین اور بیانات منظر عام پر آنا شروع ہو گئے ہیں کہ جن اسلامی احکام اور قوانین کے نفاذ کی بات کی جا رہی ہے، ان کی عملی شکل طے کرنے کا معیار اور طریق کار کیا ہوگا اور ان کی تعبیر و تشریح کا حق کسے حاصل ہوگا؟ چنانچہ اس بارے میں فرزند اقبال جسٹس جاوید اقبال صاحب کا یہ دلچسپ بیان ایک قومی اخبار میں نظر سے گزرا کہ اسلام کی وہی تشریح پاکستان میں قبول کی جائے گی جو قائد اعظم نے کی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اسلام کی تعبیر و تشریح اور قائد اعظمؒ

۲۰ جون ۲۰۰۳ء

تھوڑی دیر امریکہ کی ایک جیل میں

محترم ڈاکٹر محمد اسماعیل میمن صاحب شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا مہاجر مدنی نوراﷲ مرقدہ کے خلفاء میں سے ہیں اور ایک عرصہ سے کینیڈا اور پھر امریکہ میں دینی و تعلیمی خدمات میں مصروف ہیں۔ نیو یارک سٹیٹ میں کینیڈا کی سرحد پر نیا گرا آبشار کے قریب ایک شہر بفیلو میں ’’دارالعلوم المدینہ‘‘ کے نام سے ایک دینی درسگاہ انہوں نے قائم کی ہے اور اپنے لائق فرزندوں اور مخلص رفقاء کی ایک ٹیم کے ہمراہ اس کی بہتری اور ترقی کے لیے سرگرم عمل ہیں۔ نیاگرا آبشار اس سے قبل بھی آچکا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر تھوڑی دیر امریکہ کی ایک جیل میں

۱۱ جون ۲۰۰۳ء

مسلمانوں کی معاشرتی زندگی میں مساجد کا کردار

نبی اکرمؐ اور خلفاء راشدینؓ کے خطبات جمعہ و عیدین میں یہ تفریق نہیں ہوتی تھی کہ فلاں بات عبادت اور تعلیم سے تعلق رکھتی ہے اس لیے اسے مسجد میں ہونا چاہیے اور فلاں بات سیاست اور حکومت سے متعلقہ ہے اس لیے اسے مسجد سے باہر کیا جانا چاہیے۔ مسلمانوں سے متعلقہ معاملات کا تعلق عبادت سے ہو یا تعلیم سے، سیاست سے ہو یا عدالت سے، معاشرے سے ہو یا تمدن سے، صلح سے ہو یا جنگ سے، تجارت سے ہو یا زراعت سے، مقامی امور سے ہو یا بین الاقوامی معاملات سے، ان سب کا تذکرہ مسجد میں ہوتا تھا اور ان کے بارے میں ہر اہم فیصلہ مسجد میں کیا جاتا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مسلمانوں کی معاشرتی زندگی میں مساجد کا کردار

۹ جون ۲۰۰۳ء

صحابہ کرامؓ اور سیرت نبویؐ

جناب نبی اکرمؐ کا تذکرہ کسی حوالہ سے بھی ہو اور ان کی حیات مبارکہ کے کسی بھی پہلو کا تذکرہ کیا جائے یہ اجروثواب، خیروبرکت اور بے پایاں رحمتوں کے نزول کا باعث ہوتا ہے۔ لیکن سیرت نبویؐ کے ساتھ صحابہ کرامؓ کا تعلق کس انداز کا تھا اور حضرات صحابہ کرامؓ کس طرح حضورؐ کی باتوں کو یاد کیا کرتے تھے؟ اس کی چند جھلکیاں آج کی محفل میں پیش کرنے کو جی چاہتا ہے کیونکہ جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ اور سیرت و سنت کے ساتھ مسلمان کا اصل تعلق یہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر صحابہ کرامؓ اور سیرت نبویؐ

۱۵ مئی ۲۰۰۳ء

نوآبادیاتی نظام اور مظلوم عوام کا مستقبل

پہلی اور دوسری جنگ عظیم کے بعد جب بہت سے مسلم ممالک یورپی استعمار کے شکنجے سے آزاد ہوئے، ایشیا اور افریقہ کے ممالک پر برطانیہ، فرانس، ہالینڈ اور پرتگال وغیرہ کی گرفت ڈھیلی پڑنا شروع ہوئی تو ہم اس غلط فہمی کا شکار ہوئے کہ ہم واقعی آزادی سے ہمکنار ہو رہے ہیں، اور اب ہم استعماری قوتوں کے دائرہ اثر و نفوذ سے نجات حاصل کر کے اپنی مرضی کے مطابق اپنا مستقبل طے کر سکیں گے۔ لیکن ہماری یہ غلط فہمی بہت جلد دور ہونا شروع ہوگئی اور کم و بیش نصف صدی کے عرصہ میں ہم پر یہ بات پوری طرح واضح ہوگئی ہے کہ ہمارے ساتھ آزادی کے نام پر دھوکہ ہوا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر نوآبادیاتی نظام اور مظلوم عوام کا مستقبل

۹ مئی ۲۰۰۳ء

قرآن کریم کے نادر اور تاریخی نسخے

۲۲ اپریل کو جب عزیزم حافظ محمد عمار خان ناصر سلمہ کے ہمراہ ادارہ تحقیقات اسلامی کے سیمینار میں شرکت کے لیے عصر سے قبل فیصل مسجد اسلام آباد پہنچا سیمینار کے بارے میں پتہ چلا کہ اس کی آخری نشست مغرب کے بعد علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے آڈیٹوریم میں ہو رہی ہے اس لیے اب وہاں جانا ہوگا۔ البتہ فیصل مسجد کی ایک دیوار پر بینر دیکھنے میں آیا جس کے مطابق اس سے اگلے روز یعنی ۲۳ اپریل کو انٹرنیشنل اسلامی یونیورسٹی کی طرف سے اسی مقام پر قرآن کریم کے نادر نسخوں کی نمائش کا آغاز ہو رہا تھا اور اس کا افتتاح صدر جنرل پرویز مشرف نے کرنا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قرآن کریم کے نادر اور تاریخی نسخے

۲۹ اپریل ۲۰۰۳ء

قادیانی گروہ اور امریکہ کی ریموٹ کنٹرول غلامی کا شکنجہ

پاکستان کے قیام کے بعد جب معروف قادیانی راہنما چودھری ظفر اللہ خان کو وزارت خارجہ کا منصب سونپا گیا تو دینی حلقوں میں اضطراب اور تشویش پیدا ہوئی کہ اس انتخاب کا فائدہ ان عالمی طاقتوں کے سوا کسی کو نہیں ہوگا جن کی نمائندگی قادیانی جماعت کرتی ہے اور ملک کے اندر بھی قادیانی جماعت کے اثر و رسوخ میں مزید اضافہ ہوگا جو دینی حوالوں سے پاکستان کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ چنانچہ ۱۹۵۲ء تک اس کے نتائج اس حد تک سامنے آچکے تھے کہ بیرون ملک پاکستان کے بہت سے سفارت خانے قادیانی مذہب کے فروغ اور ان کے اثر و نفوذ میں اضافے کا ذریعہ بن چکے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قادیانی گروہ اور امریکہ کی ریموٹ کنٹرول غلامی کا شکنجہ

۱۱ اپریل ۲۰۰۳ء

دور جدید میں اجتہاد کی ضرورت اور دائرۂ کار

قرآن وسنت کی نئی تعبیر وتشریح اور جدید فقہ اسلامی کی تدوین کے نعرہ سے تو ہمیں اتفاق نہیں ہے کہ اس سے چودہ سو سالہ اجماعی تعامل سے کٹ جانے کا تصور اجاگر ہوتا ہے مگر فقہ اسلامی پر اجتماعی نظر ثانی کو ہم وقت کی ناگزیر ضرورت سمجھتے ہیں۔ ویسی ہی ضرورت جیسی اورنگزیب عالمگیرؒ کے دور میں محسوس کی گئی اور جس کے نتیجے میں فتاویٰ عالمگیری وجود میں آیا تھا۔ اگر گیارہویں صدی میں فقہ کے سابقہ ذخیرہ پر نظر ثانی اور اس دور کے جدید مسائل کے حل کے لیے مشترکہ علمی کاوش فقہی تسلسل کے منافی نہ تھی تو آج بھی اس کی ضرورت سے انکار نہیں کیا جا سکتا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دور جدید میں اجتہاد کی ضرورت اور دائرۂ کار

اپریل ۲۰۰۳ء

اسامہ بن لادن اور امریکی تحریک آزادی کے جنگجو

ایک معاصر اخبار نے این این آئی کے حوالے سے یہ خبر شائع کی ہے کہ امریکی کانگریس کی ایک خاتون رکن مارکی کیپٹر (Marcy Kaptur) نے اسامہ بن لادن کو دہشت گرد قرار دینے کے موقف سے اختلاف کیا ہے اور کہا ہے کہ اسامہ بن لادن مذہبی طور پر آزادی کی جنگ لڑنے والے انقلابی رہنماؤں کی طرح ہیں جیسا کہ امریکہ میں 1770ء میں ورماؤنٹ ملیشیا نے برطانوی سامراج کے خلاف اسی طرح کی جدوجہد کی تھی۔ مارکی کیپٹر کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ اوہایو ڈسٹرکٹ سے گیارہویں بار کانگریس کی رکن منتخب ہوئی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اسامہ بن لادن اور امریکی تحریک آزادی کے جنگجو

۲۱ مارچ ۲۰۰۳ء

اہل علم کے ’’تفردات‘‘ اور توازن و اعتدال کی راہ

برادر محترم مولانا سعید احمد جلال پوری صاحب زید لطفکم۔ وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ و برکاتہ مزاج گرامی؟ گرامی نامہ موصول ہوا۔ یاد فرمائی کا شکریہ! آپ کا ارشاد بجا ہے اور ہم نے اس نمبر میں ایک مستقل باب ’’نقد و نظر‘‘ کے عنوان سے ڈاکٹر صاحب مرحوم کے تفردات کی نشاندہی کے لیے مخصوص کر رکھا ہے۔ اس سلسلے میں ہم ’’خطبات بہاولپور‘‘ پر کسی علمی نقد کی تلاش میں تھے کہ آپ کا گرامی نامہ موصول ہو گیا اور ہمارا کام آسان ہوگیا۔ اس پر آپ کا بطور خاص شکر گزار ہوں۔ فجزاکم اللہ تعالیٰ احسن الجزاء ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اہل علم کے ’’تفردات‘‘ اور توازن و اعتدال کی راہ

۱۹ مارچ ۲۰۰۳ء

خلافت عثمانیہ کے خاتمہ میں یہودی کردار

روزنامہ نوائے وقت لاہور نے ایک اسرائیلی اخبار کے حوالہ سے خبر دی ہے کہ اسرائیل کے وزیر دفاع جنرل موفاذ نے کہا ہے کہ چند روز تک عراق پر ہمارا قبضہ ہوگا اور ہمارے راستے میں جو بھی رکاوٹ بنے گا اس کا حشر عراق جیسا ہی ہوگا۔ جنرل موفاذ نے خلافت عثمانیہ کا حوالہ بھی دیا ہے کہ عثمانی خلیفہ سلطان عبد الحمید نے ہمیں فلسطین میں جگہ دینے سے انکار کیا تھا جس کی وجہ سے ہم نے نہ صرف ان کی حکومت ختم کر دی بلکہ عثمانی خلافت کا بستر ہی گول کر دیا۔ اب جو اسرائیل کی راہ میں مزاحم ہوگا اسے اسی انجام سے دو چار ہونا پڑے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر خلافت عثمانیہ کے خاتمہ میں یہودی کردار

۱۷ مارچ ۲۰۰۳ء

ڈاکٹر مہاتیر محمد کے افکار پر ایک نظر

ملائیشیا کے وزیراعظم ڈاکٹر مہاتیر محمد نے گزشتہ دنوں کوالالمپور میں غیر وابستہ تحریک کی سربراہی کانفرنس منعقد کر کے اور اس کے بعد اسلامی سربراہ کانفرنس کا ہنگامی اجلاس طلب کر کے جہاں اپنے لیے خطرات میں اضافہ کیا ہے وہاں دنیا بھر کے باضمیر افراد اور خاص طور پر مظلوم مسلمانوں کی یہ کہہ کر توجہ بھی حاصل کر لی ہے کہ مجھے بھی سپرپاور سے خوف محسوس ہوتا ہے اور مجھے بھی یہ خطرہ ہے کہ میری گردن دبوچ لی جائے گی لیکن اس کے باوجود ضمیر بھی آخر کوئی چیز ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ ضمیر کی آواز پر لبیک کہنا اور ظلم کے خلاف آواز بلند کرنا ضروری ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ڈاکٹر مہاتیر محمد کے افکار پر ایک نظر

۸ مارچ ۲۰۰۳ء

بسنت اور ویلنٹائن ڈے

پاکستان کے مختلف شہروں میں ان دنوں باری باری بسنت منائی جا رہی ہے اور اس بہانے رقص و سرور، فائرنگ اور بدکاری و بے حیائی کو فروغ دینے کے لیے ہر حربہ اختیار کیا جا رہا ہے۔ لاہور میں صدر پاکستان نے خود شریک ہو کر اس رسم بد کی حوصلہ افزائی کی ہے جبکہ ذرائع ابلاغ اسے اس انداز میں اجاگر کرنے میں لگے ہوئے ہیں جیسے اس وقت قوم کی سب سے بڑی ضرورت یہی ہو۔ بسنت میں پتنگ بازی کے ساتھ بے حیائی اور حرام کاری کی جو خرافات شامل ہوگئی ہیں ان کے علاوہ کروڑوں روپے کا نقصان بھی ہر سال ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر بسنت اور ویلنٹائن ڈے

مارچ ۲۰۰۳ء

جرمن وزیرخارجہ کے اعلان کا خیرمقدم

سب سے پہلے یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ اس وقت اسلام اور مغرب کے درمیان کشمکش کی جو فضا موجود ہے اور جس کی سنگینی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اس کے اسباب کیا ہیں، اور کیا صرف مذہبی تعلیمات کی وجہ سے یہ تصادم رونما ہوا ہے؟ ہمارے خیال میں اصل صورتحال یہ نہیں ہے اور بنیادی طور پر اس نکتہ کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اصل قصہ یہ ہے کہ مغرب نے مذہب کو ’’آؤٹ آف ڈیٹ‘‘ قرار دے کر کباڑ خانے میں پھینک دیا ہے اور مغرب کے پورے نظام، فکر و فلسفہ اور معاشرت کی بنیاد لا مذہبیت پر بلکہ مذہب کے معاشرتی کردار کی نفی پر ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جرمن وزیرخارجہ کے اعلان کا خیرمقدم

۱۹ فروری ۲۰۰۳ء

سعودی عرب کی مجوزہ سیاسی اصلاحات

جب بھی اسلامی نظام حکومت کی بات ہوتی ہے ایک شخص،گروہ، یا خاندانی آمریت کا تصور ہی ذہنوں میں ابھرتا ہے اور اس حقیقت کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے کہ اسلام کا آئیڈیل نظام مذکورہ حکومتیں نہیں بلکہ خلافت راشدہ کا نظام ہے۔ خاندانی خلافتوں اور طاقت کے بل پر قائم ہونے والی حکومتوں کو مختلف ادوار میں برداشت ضرور کیا گیا ہے جس طرح ہمارے ہاں نظریۂ ضرورت بلکہ نظریۂ مجبوری کے تحت آئین سے ماورا حکومتوں کو برداشت کر لیا جاتا ہے۔ لیکن ایسی حکومتوں کو نہ تو آئیڈیل تسلیم کیا جا سکتا ہے اور نہ اسلامی دستور کی تشکیل میں انہیں بنیاد بنایا جا سکتاہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سعودی عرب کی مجوزہ سیاسی اصلاحات

۱۸ فروری ۲۰۰۳ء

انسانی کلوننگ اسلامی نقطہ نظر سے

کلوننگ کا مسئلہ اس وقت علمی حلقوں میں زیر بحث ہے اور اس کے مختلف پہلوؤں پر دنیا بھر میں بحث و تمحیص کا سلسلہ جاری ہے۔ کلوننگ کے تکنیکی پہلوؤں کے بارے میں کچھ عرض کرنا تو ہمارے لیے ممکن نہیں ہوگا کہ یہ اہل فن کا کام ہے اور ہم اس فن سے نابلد ہیں، البتہ انسانی زندگی اور سوسائٹی پر اس عمل کے اثرات اور اس کے ممکنہ نتائج و ثمرات کے حوالے سے کچھ عرض کرنا ہم ضروری سمجھتے ہیں۔ اس سلسلہ میں پہلی اور بنیادی بات یہ ہے کہ کلوننگ کا عمل کیا ہے یا کم از کم ہم اسے کیا سمجھتے ہیں؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر انسانی کلوننگ اسلامی نقطہ نظر سے

۱۷ تا ۲۰ فروری ۲۰۰۳ء

جنوبی ایشیا میں دینی مدارس کے معاشرتی کردار پر ایک سرسری نظر

دینی مدارس کی ان خدمات کی وجہ سے مغربی استعمار انہیں اپنی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ سمجھتا ہے اور ان مدارس کو ختم کرنے یا سرکاری کنٹرول میں لا کر بے اثر بنانے کے لیے وقتاً فوقتاً منصوبے بنتے رہتے ہیں۔ جبکہ یہ دینی مدارس سمجھتے ہیں کہ ان کی مذکورہ بالاخدمات اور کارکردگی کا تسلسل و اثرات صرف اسی صورت میں باقی رہ سکتے ہیں جب وہ سرکاری مداخلت سے آزاد ہوں، مالی طور پر خود مختار ہوں، اور نصاب و نظام کے معاملات خود ان کے اپنے کنٹرول میں ہوں۔ ورنہ ورلڈ اسٹیبلشمنٹ کے زیر اثر ریاستی مشینری کو مداخلت کا موقع دینے سے دینی مدارس کا یہ سارا نظام مجروح ہوگا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جنوبی ایشیا میں دینی مدارس کے معاشرتی کردار پر ایک سرسری نظر

۳ فروری ۲۰۰۳ء

پاکستان میں نفاذ اسلام کی ترجیحات

بد قسمتی سے پاکستان بننے کے بعد سے اب تک نفاذ اسلام کے علمی و فکری تقاضوں اور عصری مسائل کے اسلامی تناظر میں تجزیہ و حل کے لیے غیر سرکاری سطح پر کوئی اجتماعی کام منظم نہیں ہو سکا۔ اگرچہ اس حوالہ سے شخصی حوالوں سے اچھا خاصا کام سامنے آیا ہے مگر شخصی فکر اور عقیدت کے دائروں میں محدود ہونے کی وجہ سے قوم کی اجتماعی زندگی میں اس کے خاطر خواہ ثمرات مرتب نہیں ہو سکے اور نفاذ اسلام کے محاذ پر علمی و فکری ہوم ورک کا خلا بدستور ارباب علم و دانش کو کھٹک رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر پاکستان میں نفاذ اسلام کی ترجیحات

فروری ۲۰۰۳ء

شخصی غلامی کا نیا ایڈیشن

روزنامہ جنگ راولپنڈی نے ۳۱ دسمبر ۲۰۰۲ء کی اشاعت میں امریکی محکمہ خارجہ کی ایک رپورٹ کے حوالہ سے بتایا ہے کہ ہر سال دنیا میں عصمت فروشی اور جبری مشقت کے لیے چالیس سے ساٹھ لاکھ افراد کی خرید و فروخت ہوتی ہے اور تقریباً ہر سال پچاس ہزار افراد کو غیر قانونی طور پر امریکہ سمگل کیا جاتا ہے جن میں زیادہ تر تعداد کمسن بچیوں کی ہوتی ہیں جنہیں زبردستی عصمت فروشی پر مجبور کیا جاتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق دنیا کے لاکھوں انسان بہتر مستقبل کی تلاش میں ۲۱ ویں صدی کے ’’غلامی‘‘ کے تاجروں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر شخصی غلامی کا نیا ایڈیشن

فروری ۲۰۰۳ء

اسامہ بن لادن اور یاسر عرفات

اے ایف پی کے مطابق فلسطینی لیڈر یاسر عرفات نے ’’سنڈے ٹائمز‘‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے عرب مجاہد اسامہ بن لادن سے کہا ہے کہ وہ فلسطین کا نام استعمال نہ کریں۔ یاسر عرفات فلسطینی لیڈر ہیں اور اسامہ بن لادن کا تعلق سعودی عرب سے ہے، دونوں اپنے اپنے دعویٰ کے مطابق عرب کاز کے لیے جدوجہد میں مصروف ہیں۔ یاسر عرفات کی جدوجہد کا ہدف آزاد فلسطینی ریاست کا قیام ہے اور اسامہ بن لادن کا ٹارگٹ یہ ہے کہ امریکی فوجیں خلیج عرب سے نکل جائیں تاکہ عرب ممالک کی خودمختاری بحال ہو ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اسامہ بن لادن اور یاسر عرفات

۲۷ دسمبر ۲۰۰۲ء

عالمی استعمار اور عرب قومیت

عراق نے اپنے اسلحہ کے ذخائر کے بارے میں دستاویزات اقوام متحدہ کی معائنہ ٹیم کے سپرد کر دی ہیں، اور اقوام متحدہ کے انسپکٹروں کی ٹیم کے سربراہ نے کہہ دیا ہے کہ عراق میں ممنوعہ اسلحہ کی موجودگی کا کوئی ثبوت فراہم نہیں ہوا۔ جبکہ عراق کے صدر صدام حسین نے دس سال قبل کویت پر عراقی حملہ کے حوالہ سے کویت کے عوام سے معافی مانگ لی ہے لیکن اس کے باوجود عراق پر امریکی حملے کے امکانات میں کمی کے کوئی آثار دکھائی نہیں دے رہے، اور امریکی حکمرانوں کے تیور یہ نظر آرہے ہیں کہ وہ بہرصورت عراق پر حملہ کر کے رہیں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر عالمی استعمار اور عرب قومیت

۱۳ دسمبر ۲۰۰۲ء

قرآن کریم کا ایک بڑا اعجاز

سورۃ العنکبوت کی آیت ۴۸ میں اللہ تعالیٰ نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا ہے کہ قرآن کریم کے نزول سے قبل آپ نہ کوئی کتاب پڑھ سکتے تھے اور نہ ہی لکھ سکتے تھے کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو باطل پرست لوگ شک پیدا کر سکتے تھے۔ یعنی اگر جناب رسول اللہ ’’امّی‘‘ نہ ہوتے اور لکھنا پڑھنا جانتے ہوتے تو مخالفین کو یہ کہنے کا موقع مل سکتا تھا کہ پڑھے لکھے آدمی ہیں اور کہیں سے یہ حکمت و دانش کا ذخیرہ مل گیا ہے جسے قرآن کی شکل میں پیش کر کے یہ دعویٰ کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قرآن کریم کا ایک بڑا اعجاز

۱۱ دسمبر ۲۰۰۲ء

متحدہ مجلس عمل سے ہماری توقعات

سوال: پاکستان کے حالیہ عام انتخابات میں متحدہ مجلس عمل کی کامیابی کے بارے میں آپ کے تاثرات کیا ہیں؟ جواب: متحدہ مجلس عمل کو میرے خیال میں دو وجہ سے عوام میں پذیرائی ملی۔ ایک ان کے اتحاد کی وجہ سے کہ پاکستان کی نصف صدی کی تاریخ گواہ ہے کہ دینی حلقوں اور مذہبی مکاتب فکر نے جب بھی متحد ہو کر کسی ملی کاز کے لیے قوم کو آواز دی ہے قوم نے انہیں کبھی مایوس نہیں کیا۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ گزشتہ سال امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے افغانستان میں طالبان کی اسلامی حکومت کو ختم کرنے اور اپنی کٹھ پتلی حکومت مسلط کرنے کے لیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر متحدہ مجلس عمل سے ہماری توقعات

دسمبر ۲۰۰۲ء

حفاظت قرآن کا تکوینی نظام

کسی کتاب کی بقا اور حفاظت کے ظاہری اسباب چمڑا، تختی، کاغذ،قلم، ڈسک، سی ڈی اور کیسٹ وغیرہ ہیں۔ یہ اسباب موجود ہوں تو کتاب کا وجود بھی ہے اور اگر خدانخواستہ ان اسباب کا وجود باقی نہ رہے تو کسی کتاب کا وجود باقی نہیں رہے گا۔ لیکن قرآن کریم ان تمام اسباب سے بے نیاز ہے کہ ان میں سے ایک سبب بھی باقی نہ رہے تب بھی قرآن کریم پر اس کا رتی بھر اثر نہیں پڑتا۔ اس لیے کہ وہ لاکھوں سینوں میں محفوظ ہے اور اتنی بار پڑھا و سنا جاتا ہے کہ کتاب کے وجود اور بقاء کے ظاہری اسباب کی موجودگی یا غیر موجودگی اس کے لیے ایک جیسی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حفاظت قرآن کا تکوینی نظام

۳۰ نومبر ۲۰۰۲ء

عورت کا مقام اور اسلام

اخبارات میں جو رپورٹیں شائع ہوئی ہیں ان میں بطور خاص قابل ذکر باتیں یہ ہیں۔ پنجاب اور سندھ میں غیرت اور کاروکاری کے عنوان پر ہر سال سینکڑوں عورتوں کا قتل ہوتا ہے۔ بھارت میں اولاد نرینہ کی خواہش میں ہزاروں بچیوں کو قتل کر دیا جاتا ہے۔ امریکہ میں اوسطاً روزانہ تین خواتین شوہر یا بوائے فرینڈ کے ہاتھوں قتل ہو جاتی ہیں۔ پاکستان میں ہر سال تقریباً تیس ہزار خواتین حمل اور اس کی پیچیدگیوں کے باعث ہلاک ہو جاتی ہیں۔ دنیا میں اسقاط حمل کے نتیجے میں ہلاک ہونے والی خواتین کی تعداد اوسطاً پانچ لاکھ سالانہ ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر عورت کا مقام اور اسلام

۳۰ نومبر ۲۰۰۲ء

اقلیتوں کے حقوق اور اسلامی روایات

جمیع بن حاضر الباجی نے تحقیقات کے بعد شکایت کو درست پایا تو فیصلہ صادر کر دیا کہ شہر پر قبضہ چونکہ اسلامی احکام کے مطابق نہیں ہوا اس لیے مسلم افواج سمرقند شہر خالی کر دیں۔ چنانچہ قاضی کا فیصلہ نافذ ہوگیا اور اسلامی فوج پندرہ سال قبل فتح کیا ہوا شہر خالی کر کے باہر کھلے میدان میں نکل آئی۔ یہ منظر دیکھ کر شہر کے باشندے حیران و ششدر رہ گئے اور اصول و احکام کی اس پاسداری کو دیکھ کر اس قدر متاثر ہوئے کہ انہوں نے اجتماعی طور پر اسلام قبول کرنے کا فیصلہ کر لیا اور ان کی دعوت پر اسلامی فوج نے پھر شہر میں داخل ہو کر سمرقند کا نظم و نسق سنبھال لیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اقلیتوں کے حقوق اور اسلامی روایات

۱۵ نومبر ۲۰۰۲ء

دور جدید کے فکری تقاضے اور علماء کرام

نوجوان علماء کو اس بات سے بھی باخبر ہونا چاہیے کہ جب یونان،ایران اور ہندوستان کے فلسفوں نے مسلمانوں کے عقائد واعمال میں دراندازی شروع کی، ان کے اثرات ہمارے ہاں پھیلنے لگے اور ان فلسفوں نے ہمارے عقائد کو متاثر کرنا چاہا تو اس وقت کے باشعور علماء اسلام نے ان فلسفوں سے آگاہی حاصل کی، ان پر عبور حاصل کیا اور ان فلسفوں کی زبان اور اصطلاحات استعمال کر کے انہی کے دلائل سے اسلام کی حقانیت کو دنیا کے سامنے پیش کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دور جدید کے فکری تقاضے اور علماء کرام

نومبر ۲۰۰۲ء

مغربی عوام اور حکمران ہم آہنگ نہیں

۲۸ ستمبر ۲۰۰۲ء کو لندن میں عراق پر مجوزہ امریکی حملے کے خلاف عوامی مظاہرہ تھا۔ گزشتہ سال انہی دنوں میں افغانستان پر امریکی حملے کے خلاف بھی لندن میں ایک بڑا مظاہرہ ہوا تھا جس میں شرکت کا مجھے بھی موقع ملا۔ مغربی ممالک میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں ہے جو عراق، فلسطین، کشمیر اور افغانستان کے حوالے سے امریکہ اور برطانیہ کی قیادت کے درمیان قائم عالمی اتحاد کے عزائم کو ان کے اصل پس منظر میں سمجھتے ہیں اور اسے سراسر ظلم قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف آواز بھی بلند کرتے رہتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مغربی عوام اور حکمران ہم آہنگ نہیں

۱۳ اکتوبر ۲۰۰۲ء

یورپی یونین کے مطالبات اور جمہوریہ ترکی

روزنامہ اسلام کے فارن ڈیسک کی رپورٹ کے مطابق یورپی یونین نے ترکی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ملک میں رائج سزائے موت کا قانون ختم کرے اور اپنے تعلیمی نظام، ریڈیو اور ٹی وی کی نشریات میں ترکی زبان کا استعمال ترک کر دے اور اس کی بجائے انگریزی کو ذریعہ تعلیم، ریڈیو اور ٹیلی ویژن کی نشریات کی زبان کے طور پر اختیار کرے۔ یورپی یونین کے اس مطالبہ پر ترکی میں سخت اضطراب پایا جاتا ہے اور ترکی کے نائب وزیراعظم اور نیشنل موومنٹ پارٹی کے سربراہ دولت باصلی نے یورپی یونین کے اس مطالبے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر یورپی یونین کے مطالبات اور جمہوریہ ترکی

۸ ستمبر ۲۰۰۲ء

ملتان، احمد شاہ ابدالی کا شہر

ملتان ایک پرانا اور تاریخی شہر ہے جس کا ذکر قبل از مسیح دور کی تاریخ میں اسی نام سے ملتا ہے اور تاریخ کی بہت سی یادیں اس شہر سے وابستہ ہیں۔ خلافت بنو امیہ کے دور میں جب اسلامی فوجیں ۴۴ھ میں سجستان اور مکران پر قابض ہوئیں تو مسلم کمانڈر ابن المہلبؒ کے بارے میں تذکرہ ملتا ہے کہ وہ آگے بڑھتے ہوئے ملتان تک پہنچا لیکن اس شہر پر قبضہ نہ کر سکا۔ اس کے بعد جب سندھ کے راجہ داہر کے خلاف محمد بن قاسمؒ کی قیادت میں اسلامی فوجوں نے یلغار کی اور سندھ کو فتح کرتے ہوئے محمد بن قاسمؒ نے پیش قدمی جاری رکھی تو ۹۵ھ میں اس نے ملتان کا محاصرہ کر لیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ملتان، احمد شاہ ابدالی کا شہر

۱۱ اگست ۲۰۰۲ء

غیر شرعی رسم و رواج

ہمارے ہاں لڑکی کی پیدائش کو باعث عار سمجھا جاتا ہے اور کئی مائیں اس جرم میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں یا کم از کم طلاق کی مستحق قرار پاتی ہیں کہ ان کی کوکھ سے بیٹے کی بجائے بیٹی نے جنم لیا ہے۔ یہاں عورت کو وراثت کے جائز حق سے جان بوجھ کر محروم کر دیا جاتا ہے، باپ یا خاوند کی وراثت سے اپنا حق وصول کرنے والی خواتین خاندان میں ’’نکو ‘‘ بن کر رہ جاتی ہیں۔ بعض علاقوں میں وراثت اور جائیداد تک عورت کی رسائی کا امکان ختم کرنے کیلئے اسے شادی کے فطری اور جائز حق سے محروم رکھا جاتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر غیر شرعی رسم و رواج

یکم اگست ۲۰۰۲ء

’’پاکستان، ترکی یا الجزائر نہیں ہے‘‘

متحدہ مجلس عمل کے اعلٰی سطحی وفد سے بات چیت کرتے ہوئے صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا ہے کہ پاکستان اسلامی ریاست ہے اور اسلامی رہے گا، اس کے دستور کی بنیاد اسلام پر ہے اس لیے کوئی چاہے بھی تو پاکستان کو سیکولر ریاست نہیں بنا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے دستوری ڈھانچے میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں کی جا رہی اور نہ ہی اس کی اسلامی دفعات سے کوئی تعرض کیا جا رہا ہے۔ صدر نے یہ بھی کہا کہ اگر متحدہ مجلس عمل الیکشن میں کامیابی حاصل کر لیتی ہے تو وہ اسے اقتدار منتقل کر دیں گے کیونکہ پاکستان ترکی یا الجزائر نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ’’پاکستان، ترکی یا الجزائر نہیں ہے‘‘

۲۷ جولائی ۲۰۰۲ء

دینی مدارس ۔ پس منظر اور موجودہ کردار

جب تک ریاستی نظام معاشرہ میں دینی تعلیمات کے فروغ، مساجد کے لیے ائمہ کی فراہمی، دینی رہنمائی کے لیے علماء کی تیاری، اور قرآن و سنت کی تعلیم کے لیے اساتذہ مہیا کرنے کی ذمہ داری قبول نہیں کرتا اور اس کے لیے قابل قبول عملی نظام پیش نہیں کرتا اس وقت تک ان مدارس کے قیام و وجود کی ضرورت بہرحال باقی رہے گی۔ ورنہ وہی خلاء پیدا ہو جائے گا جس کو پر کرنے کے لیے مدارس قائم کیے گئے تھے۔ اس خلاء کو پر کرنے کے لیے نہ صرف ان مدارس کا وجود ضروری ہے بلکہ ان کی اس مالیاتی خودمختاری، انتظامی آزادی، اور نصابی تحفظات کا برقرار رکھنا بھی ناگزیر ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دینی مدارس ۔ پس منظر اور موجودہ کردار

۲۴ جولائی ۲۰۰۲ء

جنرل مشرف کی مجوزہ سیاسی اصلاحات

صدر جنرل پرویز مشرف نے ریڈیو اور ٹی وی پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے جن اصلاحات کا اعلان کیا ہے وہ نئی نہیں ہیں بلکہ یہ اس دستوری آنکھ مچولی کا لازمی حصہ بن چکی ہیں جو قیام پاکستان سے لے کر اب تک مسلسل جاری ہے، اور جس میں ہمارے حکمران طبقات باری باری طاقت کو اپنے ہاتھ میں لینے اور پھر اسے کنٹرول میں رکھنے کا تجربہ کرتے آرہے ہیں۔ گورنر جنرل غلام محمد سے اس کھیل کا آغاز ہوا اور اسکندر مرزا، جنرل محمد ایوب خان، جنرل محمد یحییٰ خان، ذوالفقار علی بھٹو اور جنرل ضیاء الحق، بے نظیر بھٹو اور میاں محمد نواز شریف کے ادوار سے گزرتا ہوا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جنرل مشرف کی مجوزہ سیاسی اصلاحات

۱۷ جولائی ۲۰۰۲ء

مسئلہ کشمیر اور برطانوی وزیرخارجہ کا عذرِ لنگ

جب تقسیم پنجاب کے وقت برطانوی حکمرانوں کا مفاد اس میں تھا تو قادیانیوں نے ریڈ کلف کمیشن کے سامنے اپنا کیس مسلمانوں سے الگ پیش کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کی تھی اور اسی کے نتیجے میں کشمیر کے خوفناک تنازع نے جنم لیا تھا جو آج نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے خطرہ بنا ہوا ہے۔ اس لیے برطانوی وزیر خارجہ جیک اسٹرا کشمیر کا تنازع کھڑا کرنے میں برطانوی کردار کو تسلیم کریں یا نہیں اور اس پر معذرت کی ضرورت محسوس کریں یا نہیں، لیکن وہ خود کو بچہ قرار دے کر تاریخی حقائق لوگوں کی نگاہوں سے اوجھل نہیں کر سکتے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مسئلہ کشمیر اور برطانوی وزیرخارجہ کا عذرِ لنگ

۱۶ جولائی ۲۰۰۲ء

مغرب کے تین دعوؤں کی حقیقت

مغرب کا دعویٰ ہے کہ اس نے نسل انسانی کو ایک ایسی تہذیب سے روشناس کرایا ہے جو جدید ترین تہذیب ہے، انسانی سوسائٹی کی خواہشات و ضروریات کو پورا کرتی ہے، اور یہ تہذیب انسانی تمدن کے ارتقاء کے نتیجہ میں ظہور پذیر ہوئی ہے۔ یہ نسل انسانی کے اب تک کے تجربات کا نچوڑ ہے اور اس سے بہتر تہذیب اور کلچر کا اب کوئی امکان باقی نہیں ہے۔ اس لیے یہ انسانی تاریخ کی آخری تہذیب اور فائنل کلچر ہے، اس کے بعد اور کوئی تہذیب نہیں آئے گی اور دنیا کے خاتمے تک اسی تہذیب نے حکمرانی کرنی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مغرب کے تین دعوؤں کی حقیقت

۱۰ جولائی ۲۰۰۲ء

فلسطین کی حمایت میں روس، عرب اور یورپی ممالک کا متوقع اتحاد

ایک قومی اخبار کی رپورٹ کے مطابق فلسطین کی حمایت میں روس، عرب اور یورپی ممالک کا اتحاد وجود میں آنے والا ہے، جبکہ فلسطین پر امریکہ اور اسرائیل کے خلاف روس اور یورپی یونین کے بعض ملکوں کے درمیان خفیہ اتحاد ہو گیا ہے۔ ان یورپی ممالک نے روس کو یقین دلایا ہے کہ وہ فلسطین کی حمایت پر امریکہ اور اسرائیل کے خلاف اسٹینڈ لیں گے۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ روس نے اسلامی و یورپی ملکوں کے سربراہوں سے رابطے کیے ہیں اور اسرائیلی مظالم رکوانے کے لیے اپنی کوششیں تیز کر دی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر فلسطین کی حمایت میں روس، عرب اور یورپی ممالک کا متوقع اتحاد

۸ جولائی ۲۰۰۲ء

جی ایٹ کا اصل ایجنڈا

دنیا کے آٹھ بڑے ترقی یافتہ ممالک کے گروپ جی ایٹ کا سربراہی اجلاس گزشتہ روز کینیڈا میں ختم ہوگیا۔ اس اجلاس میں روس کے صدر نے بھی شرکت کی اور روس کو جی ایٹ کی رکنیت دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس میں دنیا میں دہشت گردی کے خاتمہ کے لیے بیس ارب ڈالر جبکہ غریب ترین ممالک کی امداد کے لیے ایک ارب ڈالر دینے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ جنوبی ایشیا میں کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان سے کہا گیا ہے کہ وہ ملک کے اندر دہشت گردی کے مراکز کو ختم کر کے کشمیر میں در اندازی کا سلسلہ مستقل طور پر روکنے کا اہتمام کرے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جی ایٹ کا اصل ایجنڈا

۳ جولائی ۲۰۰۲ء

رفاہ عامہ، مغربی فلسفے کی ترویج کا سب سے مؤثر ذریعہ

یہ این جی اوز تعلیم، صحت اور رفاہ عامہ کے دیگر شعبوں میں سرگرم ہوتی ہیں اور اس کی آڑ میں اپنے فکری و تہذیبی ایجنڈے کو آگے بڑھاتی ہیں۔ یہ اس وقت مسلم معاشروں میں شکوک و شبہات پھیلانے، ایمان و یقین کو کمزور کرنے، اور اسلامی احکام و قوانین کے حوالہ سے تذبذب کی فضا قائم کرنے کے لیے مغرب کا سب سے بڑا ہتھیار ہے۔ اس میں ہماری کوتاہی اور غفلت کا زیادہ دخل ہے کیونکہ ہم رفاہ عامہ کے محاذ پر، عوام کی تعلیم و صحت کی بہتری کے محاذ پر، اور ان کے حقوق و مفادات کے محاذ پر سرگرم نہیں ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر رفاہ عامہ، مغربی فلسفے کی ترویج کا سب سے مؤثر ذریعہ

۲ جولائی ۲۰۰۲ء

پاکستان میں سودی نظام ۔ تین پہلوؤں سے

اسلامی جمہوریہ پاکستان میں سودی نظام و قوانین کے ۳۰ جون ۲۰۰۲ء تک خاتمہ کے لیے سپریم کورٹ آف پاکستان کے تاریخی فیصلے پر نظر ثانی کے سلسلے میں یو بی ایل کی اپیل ان دنوں شریعت اپیلٹ بنچ سپریم کورٹ آف پاکستان میں زیر سماعت ہے۔ اس موقع پر دینی و ملی ذمہ داری محسوس کرتے ہوئے ’’پاکستان شریعت کونسل‘‘ کی طرف سے چند گزارشات فریقین کے وکلاء اور اس موضوع سے دلچسپی رکھنے والے دیگر سرکردہ ارباب علم و دانش کی خدمت میں پیش کی جا رہی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر پاکستان میں سودی نظام ۔ تین پہلوؤں سے

۱۶ جون ۲۰۰۲ء

کشمیر اور فلسطین ۔ عالمی طاقتوں کی ترجیحات

یہ وہی صورتحال ہے جو فلسطین میں اس سے قبل ہم دیکھ چکے ہیں کہ جناب یاسر عرفات کو عسکری زندگی سے نکال کر مذاکرات کی میز پر لانے کے بعد اس بات پر مسلسل مجبور کیا جا رہا ہے کہ جو فلسطینی لوگ مذاکرات کے عمل کو قبول نہ کرتے ہوئے عسکری کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں انہیں عسکری کارروائیوں سے باز رکھنے یا ان کے باز نہ آنے کی صورت میں انہیں کچلنے اور ان کی عسکری صلاحیت کو مفلوج کرنے کے لیے بھی یاسر عرفات کردار ادا کریں، بلکہ اس مقصد کے لیے اسرائیل کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر کشمیر اور فلسطین ۔ عالمی طاقتوں کی ترجیحات

۴ جون ۲۰۰۲ء

سیرت نبویؐ کی روشنی میں جہاد کا مفہوم

باطل مذاہب پر حق مذہب کی بالادستی کے لیے عسکری جنگ لڑنے کا آغاز حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا بلکہ جہاد کا یہ عمل آسمانی ادیان میں پہلے سے تسلسل کے ساتھ چلا آ رہا ہے، اور جناب نبی اکرم نے اس حوالے سے تاریخ میں کسی نئے عمل اور اسلوب کا اضافہ کرنے کے بجائے آسمانی مذاہب کی ایک مسلسل روایت کو برقرار رکھا ہے۔ چنانچہ جس طرح قرآن کریم میں جہاد اور مجاہدین کا تذکرہ پایا جاتا ہے، اسی طرح بائبل میں بھی ان مجاہدین اور مذہبی جنگوں کا ذکر موجود ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سیرت نبویؐ کی روشنی میں جہاد کا مفہوم

جون ۲۰۰۲ء

پارلیمنٹ کے لیے اجتہاد کا اختیار

گزشتہ دنوں ملک کے معروف قانون دان جناب عابد حسن منٹو نے ایک قومی اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ اجتہاد کے لیے مولوی کی ضرورت نہیں ہے بلکہ آج کے دور میں اجتہاد کرنا پارلیمنٹ کا کام ہے۔ جبکہ اس سے کچھ دن بعد تنظیم اسلامی پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر اسرار احمد کے ایک خطبہ جمعہ کے حوالے سے ان کا یہ ارشاد سامنے آیا ہے کہ اجتہاد کا کام کلیتاً پارلیمنٹ کے سپرد نہیں کیا جا سکتا۔ یوں یہ بحث ایک بار پھر قومی اخبارات میں شروع ہوتی نظر آرہی ہے کہ آج کے دور میں اجتہاد کا حق کس کو حاصل ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر پارلیمنٹ کے لیے اجتہاد کا اختیار

۲۳ مئی ۲۰۰۲ء

ریفرنڈم کی دلدل

صدر محمد ایوب خان مرحوم کا ریفرنڈم مجھے یاد نہیں ہے میں اس وقت چھوٹا بچہ تھا، البتہ اتنی سرگرمیاں اس دور کی ذہن کی یادداشت کے خانے میں محفوظ ہیں کہ نئے دستور کے لیے حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ کی قیادت میں نظام العلماء پاکستان نے کچھ تجاویز مرتب کی تھیں جنہیں عرضداشت کے طور پر وزارت قانون کو مختلف شہروں سے خطوط کی شکل میں بھجوانے کی مہم جاری تھی اور گکھڑ میں اس پر دستخط کرانے کے لیے میں نے بھی تھوڑا بہت کام کیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ریفرنڈم کی دلدل

۲۶ اپریل ۲۰۰۲ء

جناب صدر! پاکستان ”آئیڈیل ازم“ کے لیے بنا ہے

صدر جنرل پرویز مشرف نے ریڈیو اور ٹی وی پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے بہت کچھ فرمایا ہے اور ریفرنڈم مہم کے لیے جن پبلک جلسوں کا حکومت کی طرف سے اعلان کیا گیا ہے ان میں بھی صدر محترم کچھ فرمائیں گے۔ انہوں نے آئندہ سیاسی نظام کے لیے اپنی ذات کو محور بنانے اور آئینی ترامیم کے حوالہ سے اپنی سوچ کو واحد بنیاد قرار دینے کا اعلان کیا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اپنی روایات کی پاسداری معروضی حالات میں ان کا ”حق“ بنتا ہے کیونکہ پاکستان کے ہر چیف آف آرمی سٹاف کو عملاً ملک میں سب سے بڑے ”پاور بروکر“ کی حیثیت حاصل ہوتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جناب صدر! پاکستان ”آئیڈیل ازم“ کے لیے بنا ہے

۱۲ اپریل ۲۰۰۲ء

اسرائیل کے قیام کا مقصد اور ’’عرب منصوبہ‘‘

اس سے قبل جب سعودی ولی عہد شہزادہ عبد اللہ کی طرف سے 1967ء کے مقبوضہ علاقے خالی کر دینے کی صورت میں اسرائیل کو تسلیم کرنے کی پیشکش کی گئی تھی تو ہم نے اس کالم میں عرض کیا تھا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ سعودی عرب نے فلسطین کی تقسیم اور اسرائیل کے قیام کے لیے اقوام متحدہ کی اس قرارداد کو تسلیم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے جس سے سعودی عرب کے بانی شاہ عبد العزیز نے امریکی صدر ٹرومین کے نام اپنے 1948ء کے تحریر کردہ خط میں صاف طور پر انکار کر دیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اسرائیل کے قیام کا مقصد اور ’’عرب منصوبہ‘‘

۳ اپریل ۲۰۰۲ء

نسلی تعصب ۔ شاہ اردن سے ایک مؤدبانہ سوال

اردن کے فرمانروا شاہ عبد اللہ نے کہا ہے کہ ’’میں اس تعصب کو مسترد کرتا ہوں کہ اسرائیلی بچے کا خون فلسطینی بچے کے خون سے مقدس اور قیمتی ہوتا ہے‘‘۔ شاہ اردن کو یہ بات مشرق وسطیٰ میں فلسطینیوں اور یہودیوں کے درمیان جاری خونی کشمکش کے بارے میں امریکی طرز عمل کی صاف طور پر نظر آنے والی ترجیحات کے حوالے سے کہنا پڑی جس میں فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیل کی فوج کشی کو ’’دفاع کا حق‘‘ اور مظلوم فلسطینیوں کی طرف سے ردعمل اور جوابی کاروائیوں کو ’’دہشت گردی‘‘ قرار دیا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر نسلی تعصب ۔ شاہ اردن سے ایک مؤدبانہ سوال

۲۹ مارچ ۲۰۰۲ء

مسئلہ فلسطین کا تاریخی پس منظر اور عالم اسلام کا اصولی موقف

سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ عبد اللہ کی اس تجویز پر دنیا بھر میں بحث و تمحیص کا سلسلہ جاری ہے کہ اگر اسرائیل عربوں کے مقبوضہ علاقے خالی کر دے تو سعودی عرب اسے تسلیم کرنے کے لیے تیار ہے۔ شہزادہ عبد اللہ کی پیشکش عرب اسرائیل سیاست میں ایک اہم پیشرفت ہے کیونکہ اگر اسرائیل کے مقبوضہ عرب علاقوں کو خالی کرنے کی صورت میں سعودی عرب اسرائیل کے وجود کو تسلیم کر لیتا ہے تو دنیا کے باقی مسلم ممالک سے اسرائیل کو تسلیم کرانے میں کوئی رکاوٹ نہیں رہے گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مسئلہ فلسطین کا تاریخی پس منظر اور عالم اسلام کا اصولی موقف

۸ مارچ ۲۰۰۲ء

جمہوریت، مسلم ممالک اور امریکہ

امریکہ مسلم ممالک میں جمہوریت کو فروغ دینے میں ناکامی کا ذمہ دار ہے، بلکہ دنیا میں جمہوریت کے فروغ کی راہ میں امریکہ خود سب سے بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ اور اس کی حتی الوسع یہ کوشش ہے کہ دنیا کے کسی بھی مسلمان ملک میں جہاں کے عام مسلمان اسلام کے ساتھ کمٹ منٹ رکھتے ہیں اور اپنی اجتماعی زندگی میں اسلامی احکام وقوانین کی عمل داری کے واضح رجحان سے بہرہ ور ہیں، وہاں جمہوریت کا راستہ روکا جائے، عوام کو حکومتوں اور ان کی پالیسیوں کی تشکیل سے دور رکھا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جمہوریت، مسلم ممالک اور امریکہ

۴ فروری ۲۰۰۲ء

مسلم ممالک کے نصاب تعلیم اور بل کلنٹن کی ہدایات

جدہ میں اکنامک فورم سے خطاب کرتے ہوئے سابق امریکی صدر بل کلنٹن نے جن خیالات کا اظہار کیا ہے اس کا ایک جملہ ایک قومی اخبار نے یوں نقل کیا ہے: ’’انہوں نے مسلمانوں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے تعلیمی نظام میں عقیدے کی تلقین ختم کریں‘‘۔ اس بارے میں کچھ گزارشات گزشتہ کالم میں پیش کی جا چکی ہیں۔ 22 جنوری 2002ء کو ایک اور قومی اخبار نے جناب کلنٹن کے اس خطاب کی مزید تفصیلات شائع کی ہیں جن کے پیش نظر کچھ مزید معروضات ضروری محسوس ہوتی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مسلم ممالک کے نصاب تعلیم اور بل کلنٹن کی ہدایات

۲۸ جنوری ۲۰۰۲ء

جدید سائنسی ترقی سے محرومی اور گورنر پنجاب کا شکوہ

گورنر پنجاب لیفٹیننٹ جنرل (ر) خالد مقبول نے رمضان المبارک کے دوران لاہور کے تین دینی مراکز کا دورہ کیا اور علماء و طلبہ کے سامنے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ وہ جامعہ اشرفیہ مسلم ٹاؤن، جامعہ نظامیہ لوہاری گیٹ اور جامعہ عثمانیہ ماڈل ٹاؤن تشریف لے گئے، اساتذہ، طلبہ اور مسجد کے نمازیوں سے ملاقات کی اور ان سے مختلف امور پر بات چیت کی۔ اس سے قبل وفاقی وزیر داخلہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) معین الدین حیدر نے کراچی میں دارالعلوم کورنگی کا دورہ کیا اور اساتذہ و طلبہ سے بعض امور پر گفتگو کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جدید سائنسی ترقی سے محرومی اور گورنر پنجاب کا شکوہ

۲۸ دسمبر ۲۰۰۱ء

ترکی، سیکولرازم اور یورپی یونین

ایک قومی روزنامہ نے لاہور کی اشاعت میں ۲۳ نومبر کو انقرہ سے اے ایف پی کے حوالہ سے یہ خبر شائع کی ہے کہ ترک پارلیمنٹ نے ایک بل منظور کیا ہے جس کی رو سے مردوں کی عورتوں پر بالادستی ختم کرتے ہوئے عورتوں کو زیادہ حقوق دے دیے گئے ہیں۔ خبر کے مطابق ان اقدامات کا مقصد یورپی یونین کا رکن بننے کی ضرورت پوری کرنا ہے۔ خانگی قوانین میں اہم ترمیم یہ کی گئی ہے کہ: خاندان کا سربراہ خاوند نہیں ہوگا لہٰذا عائلی معاملات میں دونوں کی حیثیت برابر ہوگی، شادی کے دوران کمائے گئے تمام اثاثے میاں بیوی کی مشترکہ ملکیت ہوں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ترکی، سیکولرازم اور یورپی یونین

۶ دسمبر ۲۰۰۱ء

نائن الیون کا سانحہ اور مسلمانوں کے لیے لائحہ عمل

مسلم ممالک میں سب سے پہلے ترکی نے سیکولر فلسفہ کو دستوری طور پر قبول کیا تھا اور وہی سب سے زیادہ شدت کے ساتھ اس پر ابھی تک قائم بھی ہے، حتٰی کہ ترکی کا دستور صراحت کے ساتھ قرآن و سنت کی راہنمائی کو مسترد کرتا ہے، لیکن ترکی کے عام مسلمان نے آج تک اس لا مذہبی فلسفہ کو قبول نہیں کیا اور عام ترکی مسلمانوں کو جب بھی موقع ملتا ہے، وہ قرآن و سنت کے ساتھ اپنی کمٹمنٹ کا کھلم کھلا اظہار کر دیتے ہیں۔ یہ بات مغرب کے حکمرانوں کے لیے پریشانی کا باعث بنی ہوئی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر نائن الیون کا سانحہ اور مسلمانوں کے لیے لائحہ عمل

۲۲ اکتوبر ۲۰۰۱ء

افغانستان پر امریکی حملے کی معاونت ۔ صدر مشرف کا سیرۃ نبویؐ سے استدلال

صدر صاحب نے افغانستان پر حملہ میں امریکہ کی معاونت کے جواز میں حضورؐ کے اسوۂ حسنہ سے استدلال کیا ہے اور کہا ہے کہ رسالت مآبؐ نے ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں یہودی قبائل کے ساتھ معاہدہ کر کے بدر، احد اور خندق کے معرکوں میں کفار مکہ کو شکست دی اور اس کے بعد حدیبیہ میں کفار مکہ سے معاہدہ کر کے غزوۂ خیبر میں یہودیوں کی شکست کی راہ ہموار کی، اس لیے حکمت اور دانش کے تحت کسی کافر قوم سے وقتی مصالحت کا جواز موجود ہے۔ صدر مشرف کا یہ استدلال درست نہیں ہے، اس لیے کہ جناب نبی اکرمؐ کے دونوں طرف کافر اقوام تھیں اور دونوں دشمن تھیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر افغانستان پر امریکی حملے کی معاونت ۔ صدر مشرف کا سیرۃ نبویؐ سے استدلال

۲۷ ستمبر ۲۰۰۱ء

کیا پاکستان کو ٹوٹ جانا چاہیے؟

جگہ اور دوست کا نام تو نہیں بتا سکوں گا مگر یہ زیادہ دیر کی بات نہیں ہے کہ دوران سفر کسی جگہ ایک دوست سے ملاقات ہوئی تو اس نے سلام و جواب اور پرسش احوال کے بعد پہلا سوال یہ کیا کہ سنائیے مولانا! پاکستان کب ٹوٹ رہا ہے؟ میں نے حیرانی سے پوچھا کہ آپ کو اس سے کیا دلچسپی ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہمارے بزرگوں نے اس کی مخالفت کی تھی اس لیے یہ زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتا۔ میں نے عرض کیا کہ میرے حضور اس ملک کی خیر منائیے اور اس کا بھلا سوچیے کہ یہ جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کی آخری پناہ گاہ ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر کیا پاکستان کو ٹوٹ جانا چاہیے؟

۲ ستمبر ۲۰۰۱ء

آزادیٔ کشمیر اور سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ

شاہ جی نے کہا کہ ’’کشمیر تو آپ اپنے ہاتھ سے دے چکے، اگر فائربندی کی بات نہ ہوتی تو ممکن ہے کوئی بات بن جاتی۔ مگر اب تو میری بات لکھ کر جیب میں ڈال لو کہ فرنگی اور ہندو اب آپ کو کشمیر نہیں دیں گے۔ ہاں اگر کبھی فرنگی کو ضرورت ہو کہ وہ اس مستقل فساد کو ختم کرنا چاہے تو ممکن ہے اس کا کچھ حصہ آپ کے پاس آجائے‘‘۔ شاہ جیؒ کا مطلب یہ تھا کہ جب 1948ء میں کشمیری مجاہدین اور ان کے ساتھ آزاد قبائل کے غیور مسلمان سری نگر اور پونچھ میں داخل ہو رہے تھے اس وقت جنگ جاری رکھنے کی بجائے سیز فائر قبول کر کے ہندوستان کو کشمیر پر مسلح قبضے کا موقع فراہم کیا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر آزادیٔ کشمیر اور سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ

۷ جون ۲۰۰۱ء

’’ناداں یہ سمجھتا ہے کہ اسلام ہے آزاد‘‘

اقبالؒ نے کسی دور میں مسجد و خانقاہ کی چار دیواری میں محدود رہنے والے اور معاشرتی زندگی سے لاتعلق اور بے پروا ہوجانے والے ملا کے بارے میں کہا تھا کہ ’’ملا کو جو ہے ہند میں سجدے کی اجازت، ناداں یہ سمجھتا ہے کہ اسلام ہے آزاد‘‘۔ انقلابِ زمانہ کا کرشمہ دیکھیے کہ اب ’’نادانی‘‘ کا یہ منصب ملا سے چھن کر جسٹس کی گود میں چلا گیا ہے۔ کچھ عرصہ سے ملک میں مغرب اور ہند کی ثقافتی یلغار، نئی نسل کو بے راہ روی کی دلدل میں دھکیلنے والے ثقافتی پروگراموں اور اسلام کی معاشرتی اقدار کی مسلسل پامالی کے حوالے سے ہمارے بعض جج صاحبان کے جو فیصلے سامنے آرہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ’’ناداں یہ سمجھتا ہے کہ اسلام ہے آزاد‘‘

۷ مئی ۲۰۰۱ء

جہاد کشمیر اور بعض حلقوں کے تحفظات

پشاور کی ’’خدمات دارالعلوم دیوبند کانفرنس‘‘ میں جمعیۃ علماء ہند کے سربراہ مولانا سید اسعد مدنی کی شمولیت کے حوالہ سے اخبارات میں بعض امور پر گفتگو کا سلسلہ چل نکلا ہے اور مختلف مضامین اور کالموں میں ملے جلے خیالات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ مجھے یہ بات اسی وقت کھٹک گئی تھی جب اس کانفرنس میں مولانا سید اسعد مدنی کی شرکت کا اعلان ہوا تھا اور میں نے بعض دوستوں سے اس کا اظہار بھی کر دیا تھا کہ اس سے مسائل پیدا ہوں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جہاد کشمیر اور بعض حلقوں کے تحفظات

۲۳ اپریل ۲۰۰۱ء

خوارج اور ان کا طرز استدلال

امت مسلمہ میں جس گروہ نے سب سے پہلے سنت نبویؐ اور تعامل صحابہؓ کو نظر انداز کر کے قرآن کریم کو براہ راست سمجھنے اور اپنے فہم و استدلال کی بنیاد پر قرآن کریم کے احکام و قوانین کے تعین کا راستہ اختیار کیا وہ ’’خوارج‘‘ کا گروہ ہے۔ خوارج کے بارے میں خود جناب نبی اکرمؐ کی پیشگوئی موجود ہے کہ میری امت میں ایک گروہ ایسا آئے گا جو قرآن کریم کی بہت زیادہ تلاوت کرے گا، اس کی نمازیں اور روزے بھی عام مسلمانوں کو تعجب میں ڈالنے والی ہوں گی، لیکن قرآن کریم ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا اور وہ قرآن کریم کے نام پر لوگوں کو گمراہ کریں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر خوارج اور ان کا طرز استدلال

۱۷ تا ۲۱ اپریل ۲۰۰۱ء

علامہ شبیر احمد عثمانی ؒ سے مولانا مفتی محمودؒ تک

جمعیۃ علماء اسلام کا قیام سب سے پہلے 1945ء میں اس وقت عمل میں آیا جب متحدہ ہندوستان میں علماء کی سب سے بڑی تنظیم جمعیۃ العلماء ہند نے تحریک آزادی میں تقسیم وطن اور قیام پاکستان کے سوال پر مسلم لیگ کی بجائے انڈین نیشنل کانگریس کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا، اور قیام پاکستان کو جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کے لیے غیر مفید قرار دیتے ہوئے اس کی مخالفت کا اعلان کیا۔ اس فیصلہ سے اختلاف رکھنے والے علماء نے، جن میں شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانیؒ سر فہرست تھے، جمعیۃ علماء ہند سے علیحدگی اختیار کر لی اور اس کے بعد جمعیۃ علماء اسلام کا قیام عمل میں لایا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر علامہ شبیر احمد عثمانی ؒ سے مولانا مفتی محمودؒ تک

۱۰ اپریل ۲۰۰۱ء

دارالعلوم دیوبند اور جنوبی ایشیا کا مسلم معاشرہ

دارالعلوم دیوبند کے قیام کی بنیادی غرض اس تعلیمی خلاء کو پر کرنا تھا جو درس نظامی کے ہزاروں مدارس کی یکلخت بندش سے پیدا ہوگیا تھا۔ اور یہ شدید خطرہ نظر آنے لگا تھا کہ عوام کی ضرورت کے مطابق حافظ، قاری، امام، خطیب، مفتی اور مدرس فراہم نہ ہونے کی صورت میں جنوبی ایشیا کی لاکھوں مساجد ویران ہو جائیں گی۔ اور اس کے نتیجے میں نئی نسل تک قرآن و سنت کی تعلیم پہنچانے کا کوئی ذریعہ باقی نہیں رہے گا اور اسلامی تہذب و ثقافت کے آثار اس خطہ سے کچھ عرصہ میں ہی ختم ہو کر رہ جائیں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دارالعلوم دیوبند اور جنوبی ایشیا کا مسلم معاشرہ

۹ اپریل ۲۰۰۱ء

غامدی صاحب سے مباحثہ ۔ ایک غلط فہمی کا ازالہ

ایک صاحب علم دوست نے سوال کیا کہ علمی تفردات میں مولانا ابوالکلام آزادؒ اور مولانا عبید اللہ سندھیؒ بھی مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ سے پیچھے نہیں ہیں۔ لیکن اس کی وجہ کیا ہے کہ ان کے تفردات علماء کے حلقہ میں اس شدت کے ساتھ موضوع بحث نہیں بنے جس شدت کے ساتھ مولانا مودودیؒ کے افکار کو نشانہ بنایا گیا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ مولانا سندھیؒ اور مولانا ابوالکلام آزادؒ کے علمی تفردات پر ان کے شاگردوں اور معتقدین نے دفاع اور ہر حال میں انہیں صحیح ثابت کرنے کی وہ روش اختیار نہیں کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر غامدی صاحب سے مباحثہ ۔ ایک غلط فہمی کا ازالہ

۵ اپریل ۲۰۰۱ء

دینی مدارس کا نصاب تعلیم

دینی مدارس میں مروج نصاب تعلیم کو درس نظامی کا نصاب کہا جاتا ہے جو ملا نظام الدین سہالویؒ سے منسوب ہے۔ ملا نظام الدین سہالویؒ المتوفی (۱۱۶۱ھ)حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے معاصرین میں تھے۔ ان کا قدیمی تعلق ہرات (افغانستان) کے معروف بزرگ حضرت شیخ عبد اللہ انصاریؒ سے تھا۔ اس خاندان کے شیخ نظام الدینؒ نامی بزرگ نے یوپی کے قصبہ سہالی میں کسی دور میں درس و تدریس کا سلسلہ شروع کیا تھا اور پھر ان کے خاندان میں یہ سلسلہ نسل درنسل چلتا رہا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دینی مدارس کا نصاب تعلیم

اپریل ۲۰۰۱ء

خلافت کے لیے قریشی ہونے کی شرط

میں یہ بات ابھی تک نہیں سمجھ پایا کہ اگر محترم محمد مسکین عباسی کو بالآخر یہی تسلیم کرنا تھا کہ مولانا احمد رضا خان بریلوی ترکوں کی حکومت کو ’’شرعی خلافت‘‘ تسلیم نہیں کرتے تھے تو انہیں اتنی لمبی چوڑی بحث میں پڑنے کی ضرورت ہی کیا تھی؟ میں نے ایک مضمون میں یہ تذکرہ کر دیا کہ مولانا احمد رضا خانؒ ترکوں کی خلافت کو نہیں مانتے تھے اور اسی وجہ سے انہوں نے تحریک خلافت سے اتفاق نہیں کیا تھا۔ اس پر محمد مسکین عباسی صاحب نے مجھ سے اس کا حوالہ طلب کیا جس کے جواب میں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر خلافت کے لیے قریشی ہونے کی شرط

۷ فروری ۲۰۰۱ء

خلافت عثمانیہ کا خاتمہ ۔ عربوں کا برطانیہ کے ساتھ تعاون

برطانوی استعمار نے خلافت عثمانیہ کے خاتمہ اور عربوں کو خلافت سے بے زار کرنے کے لیے مختلف عرب گروپوں سے سازباز کی تھی اور نہ صرف لارنس آف عریبیہ بلکہ اس قسم کے بہت سے دیگر افراد و اشخاص کے ذریعہ عرب قومیت اور خود عربوں کے داخلی دائرہ میں مختلف علاقائی و طبقاتی عصبیتوں کو ابھارنے کے لیے ایک وسیع نیٹ ورک قائم کر رکھا تھا۔ یہ اسی تگ و دو کا نتیجہ ہے کہ خلافت عثمانیہ کا صدیوں تک حصہ رہنے والی عرب دنیا آج چھوٹے چھوٹے بے حیثیت ممالک میں بٹ کر رہ گئی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر خلافت عثمانیہ کا خاتمہ ۔ عربوں کا برطانیہ کے ساتھ تعاون

۱۸ جنوری ۲۰۰۱ء

غامدی صاحب کے ارشادات پر ایک نظر

جاوید احمد غامدی صاحب ہمارے محترم اور بزرگ دوست ہیں، صاحب علم ہیں، عربی ادب پر گہری نظر رکھتے ہیں، وسیع المطالعہ دانشور ہیں، اور قرآن فہمی میں حضرت مولانا حمید الدین رحمہ اللہ تعالیٰ کے مکتب کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان دنوں قومی اخبارات میں غامدی صاحب اور ان کے شاگرد رشید جناب خورشید احمد ندیم کے بعض مضامین اور بیانات کے حوالے سے ان کے کچھ تفردات سامنے آرہے ہیں جن سے مختلف حلقوں میں الجھن پیدا ہو رہی ہے۔ اور بعض دوستوں نے اس سلسلہ میں ہم سے اظہار رائے کے لیے رابطہ بھی کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر غامدی صاحب کے ارشادات پر ایک نظر

۱۴، ۱۶، ۱۷ جنوری ۲۰۰۱ء

ڈاکٹر مراد ولفرڈ ہوف مین کے خیالات

ڈاکٹر مراد ہوف مین جرمنی کے دفتر خارجہ میں اہم عہدوں پر فائز رہے، نیز مراکش اور الجزائر میں سفیر کے منصب پر فائز رہنے کے علاوہ برسلز میں نیٹو کے ڈائریکٹر انفرمیشن کی حیثیت سے بھی خدمات سر انجام دیتے رہے۔ اسلام قبول کرنے کے بعد انہوں نے مختلف مضامین و مقالات میں اسلام اور مغرب کی تہذیبی کشمکش کا تفصیل سے جائزہ لیا ہے اور اس ثقافتی جنگ کے اسباب و علل کی نشاندہی کرنے کے ساتھ مستقبل کے امکانات کا نقشہ بھی پیش کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ڈاکٹر مراد ولفرڈ ہوف مین کے خیالات

۸ دسمبر ۲۰۰۰ء

مسجد اقصیٰ کی تاریخ

روزنامہ ’’الاہرام‘‘ قاہرہ نے دس اکتوبر ۲۰۰۰ء کی اشاعت میں مسجد اقصیٰ کے بارے میں ایک مخصوص صفحہ پر کچھ رپورٹیں اور مضامین شائع کیے ہیں جن کی روشنی میں مسجد اقصیٰ کی تاریخ قارئین کی خدمت میں پیش کی جا رہی ہے۔ بیت المقدس کی تاریخ تو بہت قدیم ہے اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سفر معراج کی ایک منزل ہونے کے علاوہ مدینہ منورہ ہجرت کے بعد کم و بیش سترہ ماہ تک مسلمانوں کا قبلہ بھی رہا ہے جس کی وجہ سے اسے قبلۂ اول کہا جاتا ہے۔ لیکن مسجد صخرہ کی تاریخ اموی خلیفہ عبد الملک بن مروان کے دور سے شروع ہوتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مسجد اقصیٰ کی تاریخ

۲۹ اکتوبر ۲۰۰۰ء

این جی اوز کے مثبت اور منفی پہلو

وفاقی وزیرداخلہ جناب معین الدین حیدر نے گزشتہ دنوں ’’فاطمید فاؤنڈیشن‘‘ کی ایک تقریب میں گفتگو کرتے ہوئے این جی اوز کے بارے میں کہا ہے کہ ساری این جی اوز ایک جیسی نہیں ہیں اور ان میں کچھ فاطمید جیسی اچھا کام کرنے والی این جی اوز بھی ہیں اس لیے سب این جی اوز کی مخالفت کرنا درست نہیں ہے۔ اس سے قبل حکمران کیمپ کے بعض دیگر حضرات بھی اسی قسم کے خیالات کا اظہار کر چکے ہیں لیکن دوسری طرف دینی جماعتیں بالخصوص مولانا فضل الرحمان نے این جی اوز کی مخالفت میں دن رات ایک کر رکھا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر این جی اوز کے مثبت اور منفی پہلو

۲۴ اکتوبر ۲۰۰۰ء

محبت کی شادیاں اور ہماری اعلیٰ عدالتیں

ہمارے فاضل جج صاحبان اس پورے پراسیس سے آنکھیں بند کرتے ہوئے محبت اور رضامندی کی شادیوں کو جواز کا سرٹیفکیٹ مہیا کرتے چلے جا رہے ہیں۔ اس لیے بڑے ادب کے ساتھ ہائی کورٹس کے جج صاحبان سے یہ سوال کرنے کی جسارت کر رہا ہوں کہ محبت اور رضامندی دونوں کی اہمیت مسلم ہے۔ مگر ہمارے معاشرے میں اس محبت اور رضامندی تک پہنچنے کے جو مراحل مروج ہیں، کیا قرآن و سنت نے ان مراحل کے بارے میں بھی کوئی حکم دیا ہے یا نہیں؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر محبت کی شادیاں اور ہماری اعلیٰ عدالتیں

۵ ستمبر ۲۰۰۰ء

نو آبادیاتی ماحول میں ملا اور مسٹر کا کردار

1857ء کی جنگ آزادی کے بعد جنوبی ایشیاء میں مسلمانوں کی نشاۃ ثانیہ کے حوالہ سے ہمارے جدید پڑھے لکھے اور دانشور کہلانے والے حضرات نے خود یہ کہہ کر ملا کو پیچھے دھکیل دیا تھا کہ معاشرے کی اجتماعی قیادت اس کا کام نہیں ہے، بس وہ آرام سے گھر بیٹھے جبکہ یہ کام اب ہم کریں گے۔ چنانچہ ملا نے اپنے بھائیوں کی یہ بات مانتے ہوئے ان کے لیے میدان کھلا چھوڑ کر اپنے ذمہ یہ کام لے لیا تھا کہ امت کے اجتماعی کام آپ سنبھالیں، ہم قرآن و سنت کی تعلیمات اور علوم کو باقی رکھنے اور امت کی اگلی نسلوں تک پہنچانے کا فریضہ سر انجام دیں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر نو آبادیاتی ماحول میں ملا اور مسٹر کا کردار

۱۱ اگست ۲۰۰۰ء

ملائیت اور تھیاکریسی

یہ بزرگ اگر تھیاکریسی کی بنیاد رکھنے والے ہوتے تو آسانی کے ساتھ کہہ سکتے تھے کہ ہم خدا کے نمائندے ہیں اور ہماری بات حرف آخر ہے، اس لیے ہمارے کسی فیصلہ پر اعتراض نہیں ہو سکتا۔ لیکن انہوں نے قرآن و سنت کو اپنی رائے کے تابع کرنے کی بجائے خود کو اصولوں کے سامنے کھڑا کر کے یہ بتا دیا کہ اسلام میں تھیاکریسی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ یہ روایت اور طریق کار صرف حضرات خلفاء راشدینؓ کے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ آج بھی اسلام کے اصول یہی ہیں اور ان کی پابندی سے کوئی طبقہ یا شخصیت مستثنیٰ نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ملائیت اور تھیاکریسی

۲۱ جولائی ۲۰۰۰ء

مسئلہ کشمیر : عالمی سازشیں، متحرک گروہ اور قابل قبول حل

البتہ مسئلہ کشمیر کے سلسلے میں سازش، مفادات اور خیر خواہی کے عوامل میں فرق معلوم کرنے کے لیے ہمیں کوئی نہ کوئی حد فاصل اور اصول ضرور قائم کر لینا چاہیے اور میرے خیال میں اس سلسلہ میں دو نکتے کسوٹی کا کام دے سکتے ہیں اور انہیں بہرحال پیش نظر رکھنا چاہیے۔ پہلا یہ کہ جموں و کشمیر کی وحدت کا برقرار رہنا اس خطہ کے عوام کا تاریخی حق ہے، اس لیے جو فارمولا یا کوشش کشمیر کی وحدت کو ختم کرنے اور اس خطہ جنت نظیر کو تقسیم کرنے کے حوالہ سے ہو میرے نزدیک وہ کشمیری عوام کے خلاف سازش ہے اور ایسی ہر کوشش کو مسترد کرنا چاہیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مسئلہ کشمیر : عالمی سازشیں، متحرک گروہ اور قابل قبول حل

۲۸ جون ۲۰۰۰ء

غیرت کا جذبہ اور اس کی شرعی حدود

ان دنوں غیرت کے نام پر قتل کی وارداتیں بین الاقوامی اداروں کی رپورٹوں کا خاص موضوع ہیں اور قتل کی ان وارداتوں کے حوالہ سے غیرت کا لفظ اور اس کا مفہوم بھی مسلسل زیر بحث ہے۔ ’’غیرت‘‘ عربی زبان کا لفظ ہے جس کے مفہوم میں اہل زبان دو باتوں کا بطور خاص ذکر کرتے ہیں۔ ایک یہ کہ کوئی ناگوار بات دیکھ کر دل کی کیفیت کا متغیر ہو جانا، اور دوسرا یہ کہ اپنے کسی خاص حق میں غیر کی شرکت کو برداشت نہ کرنا۔ ان دو باتوں کے اجتماع سے پیدا ہونے والے جذبہ کا نام غیرت ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر غیرت کا جذبہ اور اس کی شرعی حدود

۲۷ اپریل ۲۰۰۰ء

عورت کا طلاق کا اختیار

اسلام نے طلاق کا غیر مشروط حق صرف مرد کو دیا ہے کہ وہ جب چاہے عورت کو طلاق دے کر اپنی زوجیت سے الگ کر دے۔ اگرچہ بلاوجہ طلاق کو شریعت میں سخت نفرت کی نگاہ سے دیکھا گیا ہے اور جناب نبی اکرمؐ نے طلاق کو مباح امور میں مبغوض ترین چیز قرار دیا ہے لیکن گناہ اور ناپسندیدہ ہونے کے باوجود مرد کو یہ حق بہرحال حاصل ہے کہ وہ اگر طلاق دے تو اس سے دونوں میں نکاح کا رشتہ ختم ہو جاتا ہے۔ جبکہ عورت کو براہ راست اور غیر مشروط طلاق کا حق اسلام نے نہیں دیا۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اسے اس حوالہ سے کوئی حق ہی سرے سے حاصل نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر عورت کا طلاق کا اختیار

۲۶ جنوری ۲۰۰۰ء

عالم اسلام یا پاکستان میں ایک روز عید کے امکانات

عید الفطر اس سال بھی پاکستان میں ایک دن نہیں منائی جا سکی کیونکہ صوبہ سرحد کے اکثر علاقوں میں باقی ملک سے ایک دن پہلے منائی گئی ہے۔ اس پر مختلف حلقوں میں بحث و تمحیص کا سلسلہ جاری ہے اور ایسا ہر سال ہوتا ہے کہ عید کے چند روز تک بحث و مباحثہ جاری رہتا ہے لیکن اس حوالہ سے کوئی ٹھوس عملی پیش رفت ہوئے بغیر خاموشی طاری ہو جاتی ہے۔ اس سلسلہ میں چند اصولی باتوں کا تذکرہ مناسب معلوم ہوتا ہے جن سے قارئین کو موجودہ صورتحال کا پس منظر سمجھنے میں کچھ آسانی ہوگی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر عالم اسلام یا پاکستان میں ایک روز عید کے امکانات

۱۶ جنوری ۲۰۰۰ء

اکیسویں صدی کا آغاز اور اس کے تقاضے

برطانیہ والوں کے بقول اکیسویں صدی عیسوی کا آغاز ہوگیا ہے اور میں نے بھی نئی صدی کا آغاز برطانیہ میں ہی کیا ہے۔ اگرچہ اکیسویں صدی کے آغاز میں اختلاف ہے کہ ۲۰۰۰ء سے نئی صدی شروع ہوگئی ہے یا ۲۰۰۱ء میں شروع ہوگی۔ چین اور اس کے ساتھ بعض اور حلقوں کا خیال ہے کہ بیسویں صدی ۲۰۰۰ء کا سال مکمل ہونے پر ختم ہوگی اور اس کے بعد ۲۰۰۱ء سے اکیسویں صدی کا آغاز ہوگا اس لیے وہ نئی صدی کی تقریبات اگلے سال منائیں گے۔ مگر برطانیہ نے نئی صدی کا آغاز گزشتہ روز کر دیا ہے اور پورے جوش و خروش کے ساتھ کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اکیسویں صدی کا آغاز اور اس کے تقاضے

۱۲ جنوری ۲۰۰۰ء

قائد اعظم محمد علی جناح اور مصطفٰی کمال اتاترک

مصطفی کمال اتاترک نے اسلامی نظام کو جدید دور کے تقاضوں کے لیے ناکام اور ناکافی قرار دیتے ہوئے ترکی میں شرعی قوانین اور شرعی عدالتوں کا خاتمہ کر دیا اور مغربی قوانین اور نظام مختلف شعبوں میں نافذ کیے۔ جبکہ قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے مغربی نظام کو ناکام قرار دیتے ہوئے اسلامی نظام کو پاکستان کی منزل قرار دیا اور اس کے لیے مسلمانوں کو منظم کیا۔ اور اس طرز فکر و نظریہ اور ہدف و مقصد کے لحاظ سے دونوں لیڈروں کا رخ ایک دوسرے سے بالکل الٹ دکھائی دے رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قائد اعظم محمد علی جناح اور مصطفٰی کمال اتاترک

۲۸ نومبر ۱۹۹۹ء

سلطنت برطانیہ اور آل سعود کے درمیان معاہدہ

تاریخ کا وہ حصہ میری خصوصی دلچسپی کا موضوع ہے جس کا تعلق اب سے دو صدیاں پہلے کی دو عظیم مسلم سلطنتوں خلافت عثمانیہ اور سلطنت مغلیہ کے خلاف یورپی ملکوں کی سازشوں سے ہے۔ اور اس حوالہ سے وقتاً فوقتاً ان کالموں میں کچھ لکھتا بھی رہتا ہوں۔ اسی مناسبت سے مجھے ایک معاہدہ کی تفصیلات کی تلاش تھی جو برطانوی حکومت اور آل سعود کے درمیان ہوا تھا اور جس پر اب تک بدستور عمل ہو رہا ہے ۔ ۔ ۔ یہ معاہدہ قارئین کے سامنے لانا چاہتا ہوں مگر پہلے اس کا تھوڑا سا پس منظر واضح کرنا بھی ضروری ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سلطنت برطانیہ اور آل سعود کے درمیان معاہدہ

۲۴ نومبر ۱۹۹۹ء

دینی شعبوں کی ’’ریکروٹنگ ایجنسی‘‘

میں تبلیغی جماعت کو مسجد و مدرسہ اور دین کے دیگر شعبوں کی ’’ریکروٹنگ ایجنسی‘‘ کہا کرتا ہوں جو عام مسلمانوں کے گھروں میں جا کر اور ایک ایک دروازے پر دستک دے کر انہیں دین کے کام کے لیے بھرتی کرتی ہے اور گھیر گھار کر مسجد میں لے آتی ہے۔ اس کے بعد دین کے مختلف شعبوں کے ذمہ دار حضرات کا کام ہے کہ وہ انہیں سنبھالیں اور ان کی تعلیم و تربیت کا اہتمام کر کے دینی محنت کے کسی نہ کسی کام میں کھپائیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دینی شعبوں کی ’’ریکروٹنگ ایجنسی‘‘

۱۷ نومبر ۱۹۹۹ء

فلسطین میں یہودیوں کی آبادکاری اور خلافتِ عثمانیہ

عالمی یہودی تحریک کے نمائندہ لارنس اولیفینٹ نے پیشکش کی کہ اگر یہودیوں کو فلسطین میں آباد کاری کی سہولت فراہم کر دی جائے تو اس کے عوض یہودی سرمایہ کار سلطنت عثمانیہ کی تمام مشکلات میں ہاتھ بٹانے کے لیے تیار ہیں۔ سلطان عبد الحمید مرحوم نے کہا کہ یورپی ملکوں سے نکالے جانے والے یہودیوں کو سلطنت عثمانیہ کے کسی بھی حصہ میں آباد ہونے کی اجازت دینے کے لیے تیار ہیں، مگر فلسطین میں چونکہ یہودی ریاست قائم کرنے کا منصوبہ ان کے ذہنوں میں ہے اس لیے اس خطہ میں کسی یہودی کو آباد ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر فلسطین میں یہودیوں کی آبادکاری اور خلافتِ عثمانیہ

۱۶ نومبر ۱۹۹۹ء

مصطفیٰ کمال اتاترک اور جدید ترکی

مصطفیٰ کمال اتاترک جدید ترکیہ کے بانی اور معمار ہیں جنہوں نے اب سے پون صدی قبل جمہوریہ ترکیہ کی بنیاد رکھی اور ترکی اس کے بعد سے انہی کے متعین کردہ خطوط پر پوری سختی کے ساتھ گامزن ہے۔ انہوں نے ایک طرف یورپی ملکوں بالخصوص یونان کا مقابلہ کرتے ہوئے ترکی کی داخلی خودمختاری کی حفاظت کی اور بیرونی حملہ آوروں کو نکال کر ترکی کی وحدت کا تحفظ کیا جبکہ دوسری طرف خلافت عثمانیہ کا خاتمہ کر کے ترکی کو عالم اسلام سے بھی الگ کر لیا۔ وہ ترک قوم پرستی کے علمبردار تھے اور انہوں نے اس بنیاد پر ترک قوم کو بیدار کرنے اور ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مصطفیٰ کمال اتاترک اور جدید ترکی

۱۱ نومبر ۱۹۹۹ء

حضرت عمر بن عبد العزیزؒ کا تین نکاتی احتسابی فارمولا

چیف ایگزیکٹو جنرل پرویز مشرف نے ایک بار پھر واضح الفاظ میں اعلان کیا ہے کہ وہ لوٹی ہوئی قومی دولت کی ایک ایک پائی واپس لیں گے اور احتساب مکمل ہونے تک اقتدار سیاست دانوں کے سپرد نہیں کریں گے۔ ان کے اس اعلان پر ملک بھر میں اطمینان کا اظہار کیا گیا ہے اور عام شہری مسلسل دعاگو ہیں کہ اللہ رب العزت جنرل صاحب کو اپنے اس اعلان پر مکمل عملدرآمد کی توفیق سے نوازیں، آمین۔ ہم اس موقع پر جنرل پرویز مشرف صاحب اور ان کے رفقاء کو اسلامی تاریخ کے ایک اہم واقعہ کی طرف توجہ دلانا چاہتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت عمر بن عبد العزیزؒ کا تین نکاتی احتسابی فارمولا

نومبر ۱۹۹۹ء

عوامی جمہوریہ چین کے حکمرانوں سے ایک گزارش

عوامی جمہوریہ چین ہمارا عظیم پڑوسی ملک ہے اور پاکستان کے ان دوستوں میں شمار ہوتا ہے جنہوں نے ہر آڑے وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا۔ مگر گزشتہ ایک ہفتہ کے دوران دو تین خبریں ایسی آئی ہیں جنہوں نے پاک چین تعلقات کے حوالہ سے محب وطن پاکستانیوں کو بے چینی سے دوچار کر دیا ہے۔ ایک خبر تو رائٹر کی جاری کردہ ہے جو لاہور سے شائع ہونے والے ایک قومی اخبار نے 12 اکتوبر کو شائع کی ہے کہ چین کے شورش زدہ صوبے ژنجیانگ (سنکیانگ) میں عدالت نے بم دھماکوں اور ڈکیتیوں کی منصوبہ بندی کرنے پر تین مسلمان علیحدگی پسندوں کو سزائے موت سنا دی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر عوامی جمہوریہ چین کے حکمرانوں سے ایک گزارش

۲۳ اکتوبر ۱۹۹۹ء

جنرل مشرف کے لیے تین نکاتی ایجنڈا

پاک فوج کے سربراہ جنرل پرویز مشرف نے آئین معطل کر کے ایمرجنسی نافذ کر دی ہے اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے چیف ایگزیکٹو کا منصب سنبھال لیا ہے۔ اس کے پس منظر میں واقعات کا ایک پورا تسلسل ہے جو قارئین کے سامنے ہے اور ان میں سے کسی بات کو دہرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ عام حلقوں میں اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ ملک کسی بڑے بحران سے بچ گیا ہے۔ نواز شریف کے سیاسی مخالفین خوشیاں منا رہے ہیں اور ان کے سیاسی ہمدرد افسوس کا اظہار کر رہے ہیں، جبکہ ہمارے نزدیک اب تک کی صورتحال میں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جنرل مشرف کے لیے تین نکاتی ایجنڈا

۱۹ اکتوبر ۱۹۹۹ء

قاہرہ پر برطانوی فوج کے قبضے کا پس منظر

نہر سویز کی کھدائی فرانسیسی ماہرین نے کی تھی لیکن حکومت برطانیہ پہل کر گئی اور اس نے یہ حصص خرید لیے۔ مگر نہر سویز کے یہ حصص فروخت کر کے بھی قرضوں کی ادائیگی نہ ہو سکی جس کے نتیجہ میں اسماعیل پاشا نے ۱۸۷۶ء میں سرکاری ہنڈیوں پر لوگوں کو رقوم کی ادائیگی روک دی اور ملک میں خلفشار کی کیفیت پیدا ہوگئی۔ قرض دینے والے یورپی ملکوں نے قرض خواہوں کے مفادات کے تحفظ کے عنوان سے مشترکہ طور پر ایک نگران کمیشن قائم کر لیا جس نے مصر کے مالی معاملات میں مداخلت کر کے دباؤ بڑھانا شروع کر دیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قاہرہ پر برطانوی فوج کے قبضے کا پس منظر

۱۴ اکتوبر ۱۹۹۹ء

قرآن کریم سے ترک تعلق کی مختلف صورتیں

سورۃ الفرقان کی آیت ۳۰ میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کے روز حشر کے میدان میں اللہ تعالیٰ کی عدالت میں جناب نبی کریمؐ کی طرف سے دائر کی جانے والی ایک درخواست کا ذکر فرمایا ہے کہ اس روز جبکہ ظالم و فاسق لوگ اپنی بداعمالیوں پر حسرت اور بے بسی کے ساتھ اپنے ہاتھوں کو دانتوں میں چبائیں گے اور اپنی اس کوتاہی کا حسرت کے ساتھ تذکرہ کریں گے کہ اے کاش! ہم نے رسول اکرمؐ کی راہ اختیار کی ہوتی اور فلاں فلاں کے نقش قدم پر نہ چلے ہوتے۔ اس روز آنحضرتؐ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کریں گے کہ ’’اے میرے رب! میری اس قوم نے قرآن کریم کو مہجور بنا دیا تھا‘‘ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قرآن کریم سے ترک تعلق کی مختلف صورتیں

۱۵ ستمبر ۱۹۹۹ء

’’غیرت‘‘ کے خلاف مہم

لاہور ایم اے او کالج کے ایک سابق پروفیسر نے راقم الحروف کو بتایا کہ ان سے ایک شاگرد نے ’’غیرت‘‘ کا انگریزی ترجمہ دریافت کیا تو تلاش بسیار کے باوجود وہ انگریزی میں غیرت کا مفہوم ادا کرنے والا کوئی لفظ معلوم نہ کر سکے۔ چنانچہ انہوں نے اپنے شاگرد کو یہ کہہ کر مطمئن کرنے کی کوشش کی کہ چونکہ مغرب کی سوسائٹی میں غیرت کا جذبہ سرے سے پایا ہی نہیں جاتا اس لیے ان کے ہاں کوئی لفظ بھی استعمال میں نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مغربی ممالک کے لوگ جب کسی مسلمان کو غیرت کے حوالہ سے کوئی کام کرتا دیکھتے ہیں تو انہیں تعجب ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ’’غیرت‘‘ کے خلاف مہم

۲۳ اگست ۱۹۹۹ء

اسلام میں متعہ کا تصور

آج کی صحبت میں پاکستان لاء کمیشن کی ایک اور تجویز کے حوالہ سے کچھ عرض کرنے کو جی چاہتا ہے جو ’’متعہ‘‘ کے بارے میں ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ طلاق یافتہ عورت کو متعہ کا حق دینے کے سلسلہ میں مختلف فقہی مکاتب فکر کی آرا کا جائزہ لیا جائے اور اس کو عملی شکل دینے کے بارے میں غور کیا جائے۔ ’’متعہ‘‘ کا لفظی معنٰی فائدہ اٹھانے کے ہیں اور قرآن کریم میں احکام کے باب میں یہ لفظ جن الگ الگ معنوں میں استعمال ہوا ہے انہیں فقہاء کرام نے متعۃ الحج، متعۃ النکاح اور متعۃ الطلاق کی تین اصطلاحات کی صورت میں پیش کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اسلام میں متعہ کا تصور

۱۷ جون ۱۹۹۹ء

چائلڈ لیبر اور بنیادی انسانی حقوق

ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم ہمیشہ تصویر کا ایک رخ دیکھتے ہیں اور دوسرا رخ دیکھنے کی زحمت گوارا نہیں کرتے۔ ہمیں یہ تو نظر آتا ہے کہ مغربی ممالک میں بچوں سے محنت مزدوری کا کام لینا ممنوع ہے۔ لیکن یہ دکھائی نہیں دیتا کہ مغرب کی ویلفیئر ریاستیں اپنے شہریوں کی بنیادی ضروریات زندگی کی کفالت کی ذمہ داری بھی اٹھاتی ہیں۔ یہ اصل میں اسلام کا اصول ہے اور خلافت راشدہ کے دور میں بیت المال یعنی قومی خزانے سے ہر شہری کی ضروریات زندگی کی لازمی کفالت کا عملی نمونہ پیش کیا گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر چائلڈ لیبر اور بنیادی انسانی حقوق

۱۴ جون ۱۹۹۹ء

قرآن فہمی میں حدیث و سنت کی اہمیت

بھیرہ کی جامع مسجد اور بگوی خاندان ہماری علمی و دینی تاریخ کا ایک اہم حصہ ہیں۔ دہلی کی ولی اللہی درسگاہ سے لے کر بادشاہی مسجد لاہور کی خطابت اور بھیرہ میں حزب الانصار کی تعلیمی و اصلاحی سرگرمیوں تک ایک پوری تاریخ ہے جس کا احاطہ ایک یا دو مضمون نہیں کر سکتے۔ اس دینی مرکز اور علمی خاندان کی سب سے اہم خصوصیت وہ توازن اور اعتدال ہے جو اہل سنت اور حنفی مکتب کے دو بڑے گروہوں دیوبندی اور بریلوی کے درمیان اختلافات کی شدت کے دور میں بھی دونوں کے سرکردہ حضرات کو یکجا کرنے کے اہتمام سے ظاہر ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قرآن فہمی میں حدیث و سنت کی اہمیت

۲۵ اپریل ۱۹۹۹ء

ہمارا طرزِ افتاء اور خاموش ذہنی ارتداد

اس کا نتیجہ یہ ہے کہ دین سے بالکل ناواقف پڑھے لکھے حضرات میں سے اکثر کی خاموش اور بند زبانوں کے پیچھے ان کے ذہنوں میں بے شمار سوالات اور شبہات قطار باندھے کھڑے ہیں۔ اور مجھے یہ کہنے میں بھی کوئی باک نہیں کہ ایک محدود تعداد کے سوا کہ جن حضرات کو شخصی طور پر کسی نیک اور صالح بزرگ سے تعلق نصیب ہوگیا ہے، یا کسی پختہ کار اور صاحب دل عالم دین کی مجلس میں بیٹھنے کی سعادت مل رہی ہے، ان کے علاوہ باقی لوگوں کی غالب اکثریت ’’خاموش ذہنی ارتداد‘‘ یا کم از کم دین کے حوالہ سے ’’عدم اطمینان‘‘ کا شکار ہو چکی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ہمارا طرزِ افتاء اور خاموش ذہنی ارتداد

۱۰ اپریل ۱۹۹۹ء

اجتہاد اور اس کے راہنما اصول

حضرت عمرؓ کا معمول یہ تھا کہ کسی معاملہ میں فیصلہ کرتے وقت اگر قرآن و سنت سے کوئی حکم نہ ملتا تو حضرت ابوبکرٌ کا کوئی فیصلہ معلوم کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ اور اگر ان کا بھی متعلقہ مسئلہ میں کوئی فیصلہ نہ ملتا تو پھر خود فیصلہ صادر کرتے تھے۔ امام بیہقیؒ نے حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ کے نام امیر المومنین حضرت عمرؓ کا یہ خط بھی نقل کیا ہے کہ ’’جس معاملہ میں قرآن و سنت کا کوئی فیصلہ نہ ملے اور دل میں خلجان ہو تو اچھی طرح سوچ سمجھ سے کام لو اور اس جیسے فیصلے تلاش کر کے ان پر قیاس کرو، اور اللہ تعالیٰ کی رضا اور صحیح بات تک پہنچنے کا عزم رکھو۔‘‘ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اجتہاد اور اس کے راہنما اصول

یکم اپریل ۱۹۹۹ء

حق مہر اور عورت کی مظلومیت

تقریب میں ایسوسی ایشن کے صدر کوکب اقبال ایڈووکیٹ کی طرف سے پیش کیے جانے والے مطالبات میں ایک مطالبہ یہ بھی شامل ہے کہ ’’عورت کی طلاق یا مرد کی دوسری شادی کو حق مہر کی ادائیگی کے ساتھ مشروط کیا جائے۔‘‘ یہ مطالبہ پڑھ کر بے ساختہ سر پیٹ لینے کو جی چاہا کہ مہر کے بارے میں اس سطح کے پڑھے لکھے لوگوں کی معلومات کا یہ حال ہے تو ملک کے عام شہری بے چارے کس قطار میں ہیں۔ ہمارے ہاں عام طور پر یہ غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ مہر اس صورت میں واجب الادا ہوتا ہے جب خاوند فوت ہو جائے یا وہ عورت کو طلاق دے دے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حق مہر اور عورت کی مظلومیت

۲۳ مارچ ۱۹۹۹ء

مومن قوم کی بیس اچھی خصلتیں

بنو ازد قبیلے کا ایک وفد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جن میں حضرت سوید بن الحارث ازدیؓ بھی تھے اور وہی اس واقعہ کے راوی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب ہم حضورؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور بات چیت کی تو آپؐ ہمارے طرز گفتگو اور انداز سے خوش ہوئے اور دریافت کیا کہ تم کون لوگ ہو؟ ہم نے عرض کیا کہ یا رسول اللہؐ ہم سب اہل ایمان ہیں۔ آپؐ نے پوچھا کہ ہر دعویٰ پر دلیل کی ضرورت ہوتی ہے، تمہارے اس دعوے کی دلیل کیا ہے؟ ہم نے عرض کیا کہ ہمارے اندر پندرہ خصلتیں موجود ہیں جو ہمارے مومن ہونے کی دلیل ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مومن قوم کی بیس اچھی خصلتیں

۱۲ مارچ ۱۹۹۹ء

جمہوریت، ووٹ اور اسلام

محمد مشتاق احمد سے عرض ہے کہ امیر المومنین حضرت عمرؓ بن الخطاب ایک اسلامی حکومت کی تشکیل کے لیے مسلمانوں کی عمومی مشاورت کو ضروری قرار دے رہے ہیں جس کا دائرہ انہوں نے اس خطبہ میں ’’الناس‘‘ اور ’’المسلمون‘‘ بیان فرمایا ہے۔ جبکہ آج کے دور میں عام لوگوں اور مسلمانوں کی عمومی رائے معلوم کرنے کا طریقہ ’’ووٹ‘‘ ہی ہے۔ اس کے علاوہ کوئی اور طریقہ ان کے ذہن میں ہو تو وہ ارشاد فرما دیں۔ مگر طریقہ ایسا ہو کہ حکومت کی تشکیل اور حاکم کے انتخاب میں ’’الناس‘‘ اور ’’المسلمون‘‘ کی رائے کا فی الواقع اظہار ہوتا ہو ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جمہوریت، ووٹ اور اسلام

۷ مارچ ۱۹۹۹ء

نظام حکومت کی اصلاح کے لیے سعودی علماء کی تجاویز

اس ’’یادداشت‘‘ میں ملک کی داخلی، خارجی، دفاعی، معاشی، انتظامی اور قانونی پالیسیوں پر الگ الگ بحث کرتے ہوئے ان میں خامیوں کی نشاندہی کی گئی ہے اور شرعی نقطۂ نظر سے اصلاحی تجاویز پیش کی گئی ہیں۔ ان سب تجاویز کا احاطہ تو اس مختصر کالم میں ممکن نہیں ہے، البتہ ان میں سے چند تجاویز کا تذکرہ کیا جا رہا ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ الشیخ اسامہ بن لادن اور سعودی عرب کے دیگر علماء اور دانشوروں کا اصل موقف اور مشن کیا ہے جس کے لیے وہ محاذ آرائی، جلا وطنی اور قید و بند کے مراحل سے دوچار ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر نظام حکومت کی اصلاح کے لیے سعودی علماء کی تجاویز

۲۷ فروری ۱۹۹۹ء

اسلام میں سوشل ورک کی اہمیت

سوشل ورک یا انسانی خدمت اور معاشرہ کے غریب و نادار لوگوں کے کام آنا بہت بڑی نیکی ہے اور اسلام نے اس کی تعلیم دی ہے۔ یہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتِ مبارکہ ہے اور آپؐ نے دکھی انسانیت کی خدمت اور نادار لوگوں کا ہاتھ بٹانے کا بڑا اجر و ثواب بیان فرمایا ہے۔ حتیٰ کہ میں عرض کیا کرتا ہوں کہ آقائے نامدارؐ پر وحی نازل ہونے کے بعد آپؐ کا پہلا تعارف ہمارے سامنے اسی حوالہ سے آیا ہے کہ آپؐ نادار اور مستحق لوگوں کی خدمت میں پیش پیش رہتے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اسلام میں سوشل ورک کی اہمیت

۱۶ فروری ۱۹۹۹ء

وکالت کا مروجہ سسٹم اور اسلامی نظام

الجھن یہ ہے کہ وکلاء صاحبان مروجہ عدالتی نظام اور وکالت کے سسٹم کو ’’اسلام‘‘ کا لیبل لگا کر من و عن باقی رکھنا چاہتے ہیں، جبکہ مولانا صوفی محمد دو سو برس پہلے کے عدالتی نظام اور وکالتی سسٹم کو کسی تبدیلی کے بغیر نفاذ اسلام کی بنیاد بنانا چاہتے ہیں۔ یہ دونوں موقف غیر حقیقت پسندانہ ہیں اور صحیح راستہ اسی وقت سامنے آئے گا جب دونوں طبقوں (علماء اور وکلاء) کے مخلص دیندار اور اسلام کی بالادستی پر یقین رکھنے والے سنجیدہ ارباب فہم و دانش سر جوڑ کر بیٹھیں گے اور ایک دوسرے کا موقف سمجھتے ہوئے مل جل کر کوئی قابل قبول لائحہ عمل طے کریں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر وکالت کا مروجہ سسٹم اور اسلامی نظام

۲ فروری ۱۹۹۹ء

اعمال کی سزا و جزا کا اسلامی تصور

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ محترم بزرگو اور دوستو! میں نے آپ کے سامنے سورۃ النساء کی آیت نمبر ۱۲۳ تلاوت کی ہے جس کے بارے میں حضرت عبد اللہ بن عباسؓ کا ارشاد گرامی ہے کہ اس میں اعمال کی سزا اور جزا کے حوالہ سے مشرکین مکہ اور اہل کتاب کے خیالات کا رد کیا گیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے یہ اصول بیان فرمایا ہے کہ اعمال کے بدلے کے بارے میں نہ تو مشرکین کی آرزوئیں پوری ہوں گی اور نہ اہل کتاب کی آرزوؤں کا لحاظ رکھا جائے گا بلکہ جو شخص بھی کوئی برا عمل کرے گا اسے اس کا بدلہ دیا جائے گا اور ہر شخص کو اپنے اعمال کی سزا خود بھگتنا ہوگی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اعمال کی سزا و جزا کا اسلامی تصور

یکم فروری ۱۹۹۹ء

این جی اوز اور انسانی حقوق کے ادارے

یہ این جی اوز یعنی غیر سرکاری تنظیمیں سماجی خدمت، صحت، انسانی حقوق، اور نادار لوگوں کی خدمت کے نام پر ملک بھر میں ہزاروں کی تعداد میں موجود ہیں۔ انہیں عالمی اداروں سے کروڑوں روپے کی امداد ملتی ہے اور وہ ایک وسیع نیٹ ورک میں لاکھوں پاکستانیوں کو شریک کار بنا کر اپنے مقاصد کے لیے مسلسل مصروف کار ہیں۔ یہ تنظیمیں اگر فی الواقع غریب عوام کی فلاح و بہبود کے لیے کام کریں اور نادار عوام کے نام پر حاصل ہونے والے فنڈز ان کی صحت اور بہبود کے لیے صرف کریں تو ان سے کسی کو کیا شکایت ہو سکتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر این جی اوز اور انسانی حقوق کے ادارے

۸ جنوری ۱۹۹۹ء

عبادات اور معاملات میں توازن

اس واقعہ سے جہاں یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ اسلام حقوق اللہ اور حقوق العباد میں توازن قائم رکھنے حکم دیتا ہے اور حقوق اللہ کی ادائیگی کی کوئی ایسی صورت قبول نہیں کرتا جس سے حقوق العباد متاثر ہوتے ہوں۔ وہاں ایک اور بات بھی ذہن میں آتی ہے کہ انسان جب بھی اپنے بارے میں کوئی فیصلہ کرتا ہے تو اس کے سامنے وقتی حالات ہوتے ہیں اور وہ انہی کی روشنی میں معاملات انجام دیتا ہے۔ جبکہ اسلام ایسا کوئی فیصلہ کرنے میں تمام احوال و ظروف کا لحاظ رکھتا ہے جو کہ بسا اوقات انسان کو عجیب محسوس ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر عبادات اور معاملات میں توازن

۴ جنوری ۱۹۹۹ء

امام بخاریؒ اور بخاری شریف

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ حضرات علمائے کرام اور عزیز طلبہ! ختم بخاری شریف کی اس تقریب میں شرکت اور کچھ عرض کرنے کا موقع میرے لیے سعادت کی بات ہے اور اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کچھ گزارشات آپ حضرات کی خدمت میں پیش کرنا چاہوں گا۔ بخاری شریف کی آخری حدیث کے حوالہ سے علمی مباحث تو حضرت ڈاکٹر صاحب مدظلہ آپ کے سامنے رکھیں گے البتہ کتاب کے موضوع اور صاحبِ کتاب کے بارے میں چند معروضات ضروری سمجھتا ہوں۔ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ کچھ مقصد کی باتیں کہننے سننے کی توفیق عطا فرمائیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر امام بخاریؒ اور بخاری شریف

یکم جنوری ۱۹۹۹ء

مسیحی دنیا کو قرآن کریم کی دعوت

تاریخ نے قرآن کریم کی اس پیش گوئی کو اس طرح سچا کر دکھایا کہ آج یہودی اور عیسائی اپنی تمام تر دشمنی اور لڑائیاں بھلا کر باہم شیر و شکم ہوگئے ہیں کہ عیسائی دنیا کے وسائل اور یہودی دماغ مل کر اسلام اور عالم اسلام کے خلاف متحدہ محاذ قائم کیے ہوئے ہیں۔ مگر ان سب باتوں سے قطع نظر جی چاہتا ہے کہ مسیحی برادری کو ان کی اس عید پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے قرآن کریم کی وہ دعوت دہرا دی جائے جس میں مسیحی دنیا بلکہ سب اہل کتاب کو آسمانی تعلیمات کی ’’مشترک اقدار‘‘ کی طرف واپس لوٹ آنے کی دعوت دی گئی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مسیحی دنیا کو قرآن کریم کی دعوت

۳۱ دسمبر ۱۹۹۸ء

حدیث نبویؐ کی ترویج میں مسلم خواتین کی خدمات

مولانا محمد اکرم ندوی انڈیا سے تعلق رکھنے والے ایک محقق عالم دین ہیں جو آکسفورڈ سنٹر فار اسلامک اسٹڈیز میں ایک عرصہ سے علمی و تحقیقی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ ان سے پہلی ملاقات اچانک اور عجیب انداز میں ہوئی۔ پانچ سال قبل کی بات ہے جب راقم الحروف نے لندن جانے کے لیے تاشقند کا راستہ اختیار کیا، ازبک ائیرلائن سفر کا ذریعہ تھی، تاشقند میں چار پانچ روز گزارنے کے بعد جب تاشقند کے بین الاقوامی ہوائی اڈے سے لندن کے لیے روانہ ہوا تو ایئرپورٹ پر اسی قسم کے حالات کا سامنا کرنا پڑا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حدیث نبویؐ کی ترویج میں مسلم خواتین کی خدمات

۹ اکتوبر ۱۹۹۸ء

حضرت عائشہؓ کا علمی مقام

حضرت عائشہؓ قرآن کریم کی بہت بڑی مفسرہ تھیں، حدیث رسولؐ کی ایک بڑی راویہ و شارحہ تھیں، دینی مسائل و احکام کی حکمت و فلسفہ بیان کرنے والی دانشور تھیں، عرب قبائل کی روایات و کلچر و نسب ناموں و تاریخ پر عبور رکھتی تھیں، انہیں ادب و شعر و خطابت پر دسترس حاصل تھی، وہ مجتہد درجے کی مفتیہ تھیں، عوامی مسائل پر رائے دینے والی راہنما تھیں، اور طب و علاج کے بارے میں بھی ضروری معلومات سے بہرہ ور تھیں۔ اور یہ سب کمالات انہوں نے درسگاہ نبویؐ سے سیکھے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت عائشہؓ کا علمی مقام

۱۲ ستمبر ۱۹۹۸ء

’’نیشن آف اسلام‘‘ کا تاریخی پس منظر

ویلس دی فارد 1934ء میں غائب ہوگیا اور ایلیجاہ محمد نے اس کی جگہ سنبھال کر یہ اعلان کیا کہ فارد اصل میں خود اللہ تھے (نعوذ باللہ) جو انسانی شکل میں آئے تھے اور اب ایلیجاہ محمد کو اپنا رسول بنا کر واپس چلے گئے ہیں۔ ایلیجاہ محمد نے کہا کہ وہ خدا کا رسول بلکہ خاتم المرسلین ہے اور اب دنیا کی نجات اس کے ساتھ وابستہ ہے۔ مالکم ایکس شہیدؒ نے بتایا ہے کہ جب وہ ایلیجاہ محمد کے دست راست کے طور پر مختلف اجتماعات میں خطاب کیا کرتے تھے تو خطبہ میں سورہ فاتحہ کے ساتھ یہ کلمہ شہادت پڑھا کرتے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ’’نیشن آف اسلام‘‘ کا تاریخی پس منظر

۲۲ اگست ۱۹۹۸ء

امت کی قیادت اور اس کے عملی و اخلاقی تقاضے

ہم اپنے ایٹمی دھماکوں پر بہت خوش ہیں اور خوش ہونا بھی چاہیے کہ پاکستان نے پہلی مسلم ایٹمی طاقت کی حیثیت حاصل کر کے عالم اسلام کی قیادت کی طرف عملی قدم بڑھایا ہے۔ لیکن قیادت صرف قوت کا نام نہیں ہے بلکہ اس کی اصل اساس علم اور اخلاق پر ہوتی ہے۔ جب تک ہم علم و تحقیق اور اخلاقیات کے تقاضے پورے کرنے کے لیے خود کو تیار نہیں کرتے، صرف ایٹمی قوت کے بل بوتے پر اپنی برتری کا خواب پورا نہیں کر سکتے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر امت کی قیادت اور اس کے عملی و اخلاقی تقاضے

۲۷ جولائی ۱۹۹۸ء

لوئیس فرخان کا اسلام اور صدر قذافی

لوئیس فرخان کا گروپ ’’نیشن آف اسلام‘‘ کے نام سے فارو محمد کے خدا ہونے اور ایلیجاہ محمد کے پیغمبر ہونے کے ساتھ خالص نسل پرستانہ عقائد و روایات کا مسلسل پرچار کر رہا ہے۔ ’’دی فائنل کال‘‘ کے نام سے ایک میگزین لوئیس فرخان کی ادارت میں شائع ہوتا ہے جس میں پابندی کے ساتھ ایلیجاہ محمد کی تصویر کے ساتھ یہ عقیدہ درج ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ 1930ء میں فارو محمد کی شکل میں ظاہر ہوا تھا اور وہی مسیح اور مہدی ہے جس کا عیسائیوں اور مسلمانوں کو انتظار ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر لوئیس فرخان کا اسلام اور صدر قذافی

۲۵ جولائی ۱۹۹۸ء

پاکستان کا ایٹمی دھماکہ اور مستقبل کی پیش بندی

میں ایٹمی دھماکے کے ساتھ بلکہ اس سے بھی زیادہ ایک اور دھماکے پر میاں محمد نواز شریف کو مبارکباد دینا چاہتا ہوں۔ وہ وزیراعظم سیکرٹریٹ کی عالی شان عمارت چھوڑ دینے اور تعیش اور آسائش کا راستہ ترک کر دینے کا دھماکہ ہے جو میرے جیسے نظریاتی کارکن کے لیے ایٹمی دھماکے سے بھی بڑا ہے۔ کیونکہ اگر ہم اس تجربہ میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو نہ صرف عسکری میدان میں بلکہ اقتصادی اور معاشی میدان میں بھی آج کی قوتوں کے سامنے کھڑے ہو سکتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر پاکستان کا ایٹمی دھماکہ اور مستقبل کی پیش بندی

۱۰ جون ۱۹۹۸ء

یوم مئی، محنت کش طبقہ اور قومی بجٹ

امام ابوحنیفہؒ فرماتے ہیں لا رضاء مع الاضطرار کہ مجبوری کی حالت میں رضا کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ یعنی اگر کوئی شخص مجبوری اور اضطرار کی حالت میں اپنے حق سے کم پر راضی ہو جاتا ہے تو اس کی رضا کا شرعًا کوئی اعتبار نہیں ہے اور اسے اس کا وہ حق بھی ملنا چاہیے جس سے وہ مجبوری کی وجہ سے دستبردار ہوگیا ہے۔ اس اصول پر اگر ملازمت کے معاہدوں کو پرکھا جائے تو وہ سارے کنٹریکٹ مشکوک ہو جاتے ہیں جو بے روزگار لوگوں نے فاقے اور بھوک سے بچنے کے لیے مجبورًا سائن کیے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر یوم مئی، محنت کش طبقہ اور قومی بجٹ

۱۱ مئی ۱۹۹۸ء

’’یہ موقف تو بدلنا ہی پڑے گا‘‘

راقم الحروف نے مندرجہ بالا عنوان کے تحت چند روز قبل قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا طاہر احمد کے ایک بیان پر گرفت کی تھی جس میں انہوں نے حالیہ مردم شماری میں قادیانی جماعت کے بعض افراد کے اندراج کے حوالہ سے کچھ علماء کرام کے اس بیان کو جھٹلایا تھا کہ مردم شماری میں اپنے نام درج کرانے والے قادیانیوں نے خود کو غیر مسلم تسلیم کر لیا ہے۔ اس کے جواب میں طاہر احمد بھٹی صاحب کا ایک مضمون ’’مولانا! آپ کی دعوت سر آنکھوں پر مگر……’’ کے عنوان سے روزنامہ اوصاف میں شائع ہوا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ’’یہ موقف تو بدلنا ہی پڑے گا‘‘

۵ مئی ۱۹۹۸ء

امت مسلمہ کے مسائل اور امام مسجد نبویؐ کا خطبہ

شیخ حذیفی نے کہا کہ سعودی عرب کو خلیجی ممالک میں کلیدی حیثیت حاصل ہے اس لیے امریکہ اس پر بطور خاص نظریں جمائے ہوئے ہے اور مغربی طاقتیں سعودی عرب کی وحدت و سالمیت کو نقصان پہنچانے اور اس کی اسلامی حیثیت کو ختم کرنے کے درپے ہیں۔ انہوں نے عربوں کے موجودہ المیہ کا پس منظر بیان کرتے ہوئے کہا کہ خلافت عثمانیہ کے خاتمہ کے بعد بڑی طاقتوں نے عربوں کو چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں تبدیل کر دیا اور قومیتوں کے نام پر آپس میں الجھا دیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر امت مسلمہ کے مسائل اور امام مسجد نبویؐ کا خطبہ

۳۰ اپریل ۱۹۹۸ء

مسلمان اور مسیحی مذہبی راہنماؤں کے درمیان مکالمہ کی ضرورت

ایک عرصہ سے دل میں یہ خواہش پرورش پاتی چلی آ رہی ہے کہ مغرب آسمانی تعلیمات اور مذہبی احکامات و اقدار سے بغاوت کے جو تلخ نتائج بھگت رہا ہے اور اب ان میں ہم مشرق والوں کو بھی شریک کرنے کے درپے ہے، ان کے بارے میں سنجیدہ مسیحی مذہبی راہنماؤں سے گفتگو کی جائے اور اگر مذہب گریز رجحانات کو روکنے کے لیے کسی درجے میں مشترکہ کوششوں کی کوئی راہ نکل سکتی ہو تو اس کے لیے پیشرفت کی جائے۔ پاکستان کے مسیحی راہنماؤں میں آنجہانی جسٹس اے آر کارنیلیس اور آنجہانی جوشوا فضل دین کے بعد کوئی ایسا مسیحی راہنما نظر نہیں آیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مسلمان اور مسیحی مذہبی راہنماؤں کے درمیان مکالمہ کی ضرورت

۵ اگست ۱۹۹۷ء

مغرب کی بالادستی اور حضرت عمرو بن العاصؓ

مسلم شریف کی روایت ہے کہ حضرت عمرو بن العاصؓ کی مجلس میں ایک روز مستورد قرشیؓ بیٹھے ہوئے تھے جن کا شمار صغار صحابہؓ میں ہوتا ہے۔ مستورد قرشیؓ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ قیامت سے پہلے رومی لوگوں میں کثرت سے پھیل جائیں گے۔ روم اس دور میں عیسائی سلطنت کا پایۂ تخت تھا اور رومیوں سے عام طور پر مغرب کے عیسائی حکمران مراد ہوتے تھے۔ حضرت عمرو بن العاصؓ نے سنا تو چونکے اور پوچھا کہ دیکھو! کیا کہہ رہے ہو؟ مستورد قرشیؓ نے کہا کہ میں وہی کہہ رہا ہوں جو میں نے جناب رسول اللہؐ سے سنا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مغرب کی بالادستی اور حضرت عمرو بن العاصؓ

۱۷ جولائی ۱۹۹۷ء

”گینگ ریپ“ پر سزائے موت اور علماء کرام

گزشتہ دنوں قومی اسمبلی نے ’’گینگ ریپ‘‘ پر سزائے موت کا قانون منظور کیا تو اس پر بعض سرکردہ علماء کرام نے یہ اعتراض کر دیا کہ سزائے موت کا یہ قانون شرعی اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتا اس لیے اسے عجلت میں منظور نہ کیا جائے اور اس پر سرکردہ علمائے کرام سے رائے لی جائے۔ ’’اجتماعی آبروریزی‘‘ کے واقعات کچھ عرصہ سے جس کثرت کے ساتھ رونما ہو رہے ہیں اس کی روک تھام کے لیے قومی اسمبلی کو اس قانون کی ضرورت محسوس ہوئی ہے اور وزیر اعظم میاں نواز شریف نے اجتماعی آبروریزی کے حیاسوز واقعات کی روک تھام کے سلسلہ میں اپنے وعدہ کی تکمیل کے لیے یہ قانون منظور کرایا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ”گینگ ریپ“ پر سزائے موت اور علماء کرام

۱۸ اپریل ۱۹۹۷ء

اسلام اور عورت کا اختیار

عربی ادب کی کہاوت ہے کہ ایک مصور دیوار پر تصویر بنا رہا تھا جس کا منظر یہ تھا کہ ایک انسان کے ہاتھوں میں شیر کی گردن ہے اور وہ اس کا گلا گھونٹ رہا ہے۔ اتنے میں ایک شیر کا وہاں سے گزر ہوا تو وہ رک کر تصویر کو غور سے دیکھنے لگا۔ مصور نے شیر سے پوچھا کہ میاں تصویر کیسی لگی؟ شیر نے جواب دیا کہ بھئی برش تمہارے ہاتھ میں ہے جیسے چاہے منظر کشی کرلو، ہاں اگر برش میرے ہاتھ میں ہوتا تو تصویر کا منظر اس سے یقیناً مختلف ہوتا۔ کچھ اسی قسم کی صورتحال آج عالم اسلام کو مغربی میڈیا کے ہاتھوں درپیش ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اسلام اور عورت کا اختیار

۳۱ جولائی ۱۹۹۶ء

حلال و حرام کی بنیاد ۔ سوسائٹی یا وحیٔ الٰہی

آج فیصلوں کا معیار یہ ہے کہ انسان جو کچھ چاہتا ہے وہ اس کا حق ہے۔ مختلف انسانوں کی خواہشات میں ٹکراؤ کی صورت میں سوسائٹی کی اکثریت جس خواہش کی توثیق کر دے وہ حق ہے، اور جس خواہش کو سوسائٹی کی اکثریت کی تائید حاصل نہ ہو پائے وہ ناجائز اور غلط ہے۔ اس خود ساختہ اصول نے اخلاقی قدروں، مذہبی روایات، اور انسانی فطرت کو جس بری طرح پامال کیا ہے اس کی ایک جھلک یورپ کے ایک بڑے مذہبی ادارے ’’چرچ آف انگلینڈ‘‘ کی ان ہدایات کی صورت میں دیکھی جا سکتی ہے جو بغیر شادی کے اکٹھے رہنے والے جوڑوں کے بارے میں ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حلال و حرام کی بنیاد ۔ سوسائٹی یا وحیٔ الٰہی

۲۹ جولائی ۱۹۹۶ء

اجتماعی اجتہاد کی ضرورت اور اس کے تقاضے

شاہ صاحب موصوف گزشتہ دنوں فقہی کانفرنس میں شرکت کی دعوت دینے کے لیے اپنے معزز رفقاء کے ہمراہ گوجرانوالہ تشریف لائے تو ان کے پاس کانفرنس میں پیش کیے جانے والے مضامین و مقالات کے مجوزہ عنوانات کی فہرست میں سے ایک عنوان کا میں نے خود انتخاب کیا جو فہرست کے مطابق یوں تھا: ’’تقلید و اجتہاد کی حدود کا تعین اور اجتماعی اجتہاد کے تصور کا علمی جائزہ‘‘۔ لیکن جب قلم و کاغذ سنبھالے خیالات کو مجتمع کرنا چاہا تو محسوس ہوا کہ یہ ایک نہیں دو الگ الگ عنوان ہیں اور ہر عنوان اپنی جگہ مستقل گفتگو کا متقاضی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اجتماعی اجتہاد کی ضرورت اور اس کے تقاضے

جولائی ۱۹۹۶ء

نفاذ اسلام اور ہمارا نظام تعلیم

اسلامی جمہوریہ پاکستان کا قیام ایک صحت مند اور مثالی معاشرہ کی تشکیل کے لیے عمل میں لایا گیا تھا اور اس سلسلہ میں قائد اعظم محمد علی جناح مرحوم سمیت بانیان پاکستان کے واضح اعلانات تاریخ کا انمٹ حصہ ہیں جن میں اسلام کے مکمل عادلانہ نظام کے نفاذ اور قرآن و سنت کی بالادستی کو پاکستان کی حقیقی منزل قرار دیا گیا ہے۔ لیکن بدقسمتی کی بات ہے کہ دنیا کے نقشے پر اس نظریاتی ملک کو نمودار ہوئے نصف صدی کا عرصہ گزرنے کو ہے مگر ابھی تک ہم اسلامی نظام کی منزل سے بہت دور ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر نفاذ اسلام اور ہمارا نظام تعلیم

اپریل ۱۹۹۶ء

اقوامِ متحدہ اور عالمِ اسلام

۲۴ اکتوبر ۱۹۹۵ء کو اقوام متحدہ کا پچاسواں یومِ تاسیس منایا جا رہا ہے اور اس موقع پر عالمی سطح پر اقوامِ متحدہ کی پچاس سالہ تقریبات کا اہتمام کیا گیا ہے۔ اقوامِ متحدہ سے قبل بھی عالمی سطح پر اقوام کی ایک مشترکہ تنظیم ’’انجمنِ اقوام‘‘ کے نام سے موجود تھی جس کا مقصد مختلف ملکوں کے درمیان محاذ آرائی اور مسلح تصادم کے امکانات کو روکنا اور بین الاقوامی طور پر رواداری اور مفاہمت کی فضا کو فروغ دینا تھا۔ لیکن انجمن اقوام اس مقصد میں کامیاب نہ ہو سکی اور دوسری جنگ عظیم کی تباہ کاریوں کے بعد ’’اقوام متحدہ‘‘ کے نام سے ایک نئی عالمی تنظیم کا قیام عمل میں لایا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اقوامِ متحدہ اور عالمِ اسلام

۲۵ اکتوبر ۱۹۹۵ء

قادیانی امت کے سربراہ مرزا طاہر احمد کے نام کھلا خط

جناب مرزا طاہر احمد صاحب ۔ سربراہ قادیانی جماعت۔ مقیم ٹل فورڈ، لندن۔ السلام علیٰ من اتبع الہدٰی۔ گزارش ہے کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اس سال پھر اپنی سالانہ رپورٹ میں پاکستان میں قادیانی جماعت کے مبینہ انسانی حقوق کی پامالی کا ذکر کیا ہے اور متعدد قادیانیوں کے خلاف درج مقدمات کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے حکومتِ پاکستان کو اس کا ملزم ٹھہرایا ہے۔ میں اس خط کے ذریعے اسی اہم مسئلہ پر آپ سے مخاطب ہو رہا ہوں کیونکہ یہ مسئلہ اس وقت نہ صرف مسلمانوں اور قادیانیوں کے مابین تنازعہ اور کشیدگی میں شدت کا باعث بنا ہوا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قادیانی امت کے سربراہ مرزا طاہر احمد کے نام کھلا خط

ستمبر ۱۹۹۵ء

اقوام متحدہ کا انسانی حقوق کا چارٹر اور اسلامی تعلیمات

مغرب نے انسانی حقوق کے بارے میں اقوام متحدہ کے چارٹر کو مسلمہ معیار کا درجہ دے کر کسی بھی معاملہ میں اس سے الگ رویہ رکھنے والے تیسری دنیا اور عالم اسلام کے ممالک کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دینے کی مہم شروع کر رکھی ہے۔ اور اس سلسلہ میں اسے عالمی ذرائع ابلاغ کے ساتھ ساتھ عالم اسلام اور تیسری دنیا میں اپنی ہم نوا لابیوں کا بھرپور تعاون حاصل ہے۔ جبکہ اس نظریاتی و فکری یلغار میں ملت اسلامیہ کے عقائد و احکام اور روایات و اقدار سب سے زیادہ مغربی دانشوروں، لابیوں اور ذرائع ابلاغ کے حملوں کی زد میں ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اقوام متحدہ کا انسانی حقوق کا چارٹر اور اسلامی تعلیمات

مئی ۱۹۹۵ء

انسانی حقوق کا مغربی تصور سیرت طیبہؐ کی روشنی میں

دراصل مغرب حقوق و فرائض میں توازن قائم رکھنے اور ان کے درمیان حد فاصل قائم کرنے میں ناکام رہا ہے۔ جبکہ جناب رسول اللہؐ نے حقوق اور فرائض کو نہ صرف یکجا ذکر کیا بلکہ ان کے درمیان ایسا حسین توازن قائم کر دیا جو گاڑی کے دو پہیوں کی طرح انسانی زندگی کا یکساں بوجھ اٹھا سکتا ہے اور اسے لے کر کامیابی کے ساتھ آگے بڑھ سکتا ہے۔ مگر مغرب نے حقوق و فرائض کو آپس میں گڈمڈ کر دیا اور ان کے درمیان کوئی خط امتیاز قائم نہ رہنے دیا جس کی وجہ سے انسانی معاشرہ ذہنی انتشار اور فکری انارکی کی آماجگاہ بن کر رہ گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر انسانی حقوق کا مغربی تصور سیرت طیبہؐ کی روشنی میں

فروری مارچ ۱۹۹۵ء

دینی مدارس، بنیاد پرستی اور انسانی حقوق

روزنامہ جنگ لاہور ۴ دسمبر ۱۹۹۴ء کے مطابق گورنر پنجاب چودھری الطاف حسین نے دینی مدارس کی کارکردگی پر کڑی نکتہ چینی کی ہے اور فرقہ وارانہ کردار کے حامل مدارس کی بندش کا عندیہ دیا ہے۔ اسی طرح بعض اخباری اطلاعات کے مطابق وفاقی وزارت داخلہ نے ملک میں نئے دینی مدارس کی رجسٹریشن اور پرانے مدارس کی رجسٹریشن کی تجدید کے لیے وزارت داخلہ سے پیشگی اجازت کی شرط عائد کر دی ہے، اور متعلقہ حکام کو ہدایت کر دی ہے کہ اس اجازت کے بغیر کسی نئے مدرسہ کو رجسٹرڈ نہ کیا جائے اور نہ ہی پہلے سے قائم کسی مدرسہ کی رجسٹریشن کی تجدید کی جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دینی مدارس، بنیاد پرستی اور انسانی حقوق

جنوری ۱۹۹۵ء

سنی شیعہ کشمکش کے اسباب و عوامل

’’تحریک جعفریہؒ پاکستان اور سپاہ صحابہؓ پاکستان کے درمیان کشمکش نے مسلح تصادم کی جو صورت اختیار کر لی ہے، اس سے ملک کا ہر ذی شعور شہری پریشان ہے۔ دونوں جانب سے سینکڑوں افراد اب تک اس مسلح تصادم کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔ اور ارباب اختیار فرقہ واریت کے خاتمہ کے عنوان سے اس کشمکش پر قابو پانے کا بار بار عزم ظاہر کرتے ہیں، مگر اس کی جڑیں معاشرہ میں اس قدر گہرائی تک اتر چکی ہیں کہ بیخ کنی کے لیے ان تک رسائی مشکل سے مشکل تر ہوتی جا رہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سنی شیعہ کشمکش کے اسباب و عوامل

دسمبر ۱۹۹۴ء

اخلاق حسنہ، سیرت نبویؐ کا سب سے نمایاں پہلو

جناب سرور کائناتؐ کی ذات گرامی انسانی تاریخ کی وہ منفرد اور ممتاز ترین شخصیت ہے جس کے حالات زندگی، عادات و اطوار، ارشادات و فرمودات، اور اخلاق حسنہ اس قدر تفصیل کے ساتھ تاریخ کے صفحات پر موجود ہیں کہ آنحضرتؐ کی زندگی ایک کھلی کتاب کے طور پر نسل انسانی کے سامنے ہے اور آپؐ کی معاشرتی و خاندانی حتیٰ کہ شخصی اور پرائیویٹ زندگی کا بھی کوئی پہلو تاریخ کی نگاہوں سے اوجھل نہیں رہا۔ اسے محض اتفاق قرار نہیں دیا جا سکتا کہ انسانی تاریخ اپنے دامن میں جناب رسول اللہؐ کے سوا کسی اور شخصیت کے احوال و اقوال کو اس اہتمام کے ساتھ محفوظ نہیں رکھ سکی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اخلاق حسنہ، سیرت نبویؐ کا سب سے نمایاں پہلو

اکتوبر ۱۹۹۴ء

کیا مولانا عبید اللہ سندھیؒ اشتراکیت سے متاثر ہوگئے تھے؟

مولانا عبید اللہ سندھیؒ بھی نادان دوستوں اور بے رحم ناقدوں کے اس طرز عمل سے محفوظ نہیں رہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ اس منفرد انقلابی مفکر کی وفات کو نصف صدی گزر جانے کے بعد بھی ہم اس کی فکر کو لے کر آگے بڑھنے کی بجائے تاریخ کے صفحات میں اسے تلاش اور دریافت کرنے کے مرحلہ میں ہی رکے ہوئے ہیں- مولانا عبید اللہ سندھیؒ کون تھے؟ برصغیر پاک و ہند و بنگلہ دیش کی تاریخ میں ان کی جدوجہد اور کردار کی حیثیت کیا ہے؟ اور کیا وہ اپنے فکر و فلسفہ میں مغربی سرمایہ داری اور اشتراکیت کی عالمی کشمکش سے متاثر ہو کر فریق بن گئے تھے؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر کیا مولانا عبید اللہ سندھیؒ اشتراکیت سے متاثر ہوگئے تھے؟

ستمبر ۱۹۹۴ء

لاؤڈ اسپیکر اور علماء کرام

ان دنوں پاکستان کی وفاقی حکومت کے ایک مبینہ فیصلہ کے حوالہ سے لاؤڈ اسپیکر دینی حلقوں میں پھر سے موضوع بحث ہے اور لاؤڈ اسپیکر کی آواز کو مساجد کی چار دیواری کے اندر محدود کر دینے کے فیصلہ یا تجویز کو مداخلت فی الدین قرار دے کر اس کی پرجوش مخالفت کی جا رہی ہے۔ ایک دور تھا جب لاؤڈ اسپیکر نیا نیا متعارف ہوا تو مساجد میں اس کے استعمال کے جواز و عدم جواز اور نماز میں لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے سے امام کی آواز مقتدیوں تک پہنچنے کی شرعی حیثیت کی بحث چھڑ گئی تھی۔ ایک مدت تک ہمارے فتاوٰی اور علمی مباحث میں اس کا تذکرہ ہوتا رہا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر لاؤڈ اسپیکر اور علماء کرام

جولائی ۱۹۹۴ء

پاکستان میں نفاذ اسلام کے لیے وفاقی وزارت مذہبی امور کی سفارشات

ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے حکومت کی ہدایت پر وزارت مذہبی امور نے سفارشات پر مبنی تفصیلی رپورٹ مرتب کی ہے جس میں نفاذ شریعت کے لیے دستوری تقاضوں، عدل و انصاف، تعلیم، معیشت، ذرائع ابلاغ، اصلاح جیل خانہ جات، معاشرتی اور دفتری اصلاحات کے حوالے سے تفصیلی سفارشات پیش کی گئی ہیں۔ وزارت نے یہ رپورٹ ملک کی مذہبی تنظیموں اور اسلامی نظریاتی کونسل کی مدد سے تیار کی ہے۔ اس رپورٹ کو کابینہ اپنے آئندہ اجلاس میں غور کرنے کے بعد پارلیمنٹ میں پیش کرے گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر پاکستان میں نفاذ اسلام کے لیے وفاقی وزارت مذہبی امور کی سفارشات

۲۲ مئی ۱۹۹۴ء

افغانستان میں عالم اسلام کی آرزوؤں کا خون

جہاد افغانستان کی کامیابی اور کابل میں مجاہدین کی مشترک حکومت کے قیام کے بعد دنیا بھر کی اسلامی تحریکات کو یہ امید تھی کہ اب افغانستان میں ایک نظریاتی اسلامی حکومت قائم ہوگی اور مجاہدین کی جماعتیں اور قائدین مل جل کر افغانستان کی تعمیر نو کے ساتھ ساتھ اسلام کے عادلانہ نظام کا ایک مثالی عملی نمونہ دنیا کے سامنے پیش کریں گے جو دیگر مسلم ممالک میں نفاذ اسلام کی تحریکات کے عزم و حوصلہ میں اضافہ کا باعث ہوگا۔ لیکن اے بسا آرزو کہ خاک شدہ، بعض افغان راہنماؤں کی ناعاقبت اندیشی اور ہوسِ اقتدار نے عالم اسلام کی آرزوؤں کا سربازار خون کر دیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر افغانستان میں عالم اسلام کی آرزوؤں کا خون

فروری مارچ ۱۹۹۴ء

مغربی ممالک میں مسلمانوں کی نئی نسل کا مستقبل اور مسلم دانشوروں کی ذمہ داری

نئی نسل کے بارے میں اس قسم کے خیالات کا اظہار اکثر ہماری مجالس میں ہوتا رہتا ہے اور ہمیں یہ شکایت رہتی ہے کہ مغربی ممالک میں مقیم ہماری نئی نسل مشرقی روایات، اسلامی اقدار اور پاکستانی تہذیب سے بیگانہ ہوتی جا رہی ہے۔ شکوہ بجا مگر سوچنے کی بات یہ ہے کہ اس میں نئی نسل کا قصور کیا ہے؟ اور اسے کوسنے میں ہم کس حد تک حق بجانب ہیں؟ اصل ضرورت اس امر کی ہے کہ اس صورتحال کا ٹھنڈے دل و دماغ کے ساتھ جائزہ لیا جائے اور اس کے اسباب کا تجزیہ کیا جائے، مستقبل کی ضروریات کی نشاندہی کی جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مغربی ممالک میں مسلمانوں کی نئی نسل کا مستقبل اور مسلم دانشوروں کی ذمہ داری

جنوری ۱۹۹۳ء

مغربی معاشرہ میں دینی تعلیم

مولانا محمد کمال خان ہمارے محترم بزرگ ہیں، سوات کے رہنے والے ہیں، ایک عرصہ تک ڈیوزبری (برطانیہ) کے تبلیغی مرکز کے دینی مدرسہ میں خدمات سر انجام دیتے رہے ہیں اور اب نوٹنگھم کے قریب نیوارک سے متصل بلڈنگ خرید کر الجامعۃ الاسلامیہ کے نام سے ایک بڑا دینی ادارہ قائم کرنے کی تگ و دو میں مصروف ہیں۔ بلڈنگ رائل ایئر فورس کے آفیسرز کے ہاسٹل کے طور پر استعمال ہوتی رہی ہے، اس میں ڈیڑھ سو کے قریب کمرے ہیں اور مجموعی رقبہ دس ایکڑ سے زائد ہے۔ اس کی قیمت کی قرضہ حسنہ سے ادائیگی کے لیے اصحاب خیر سے رابطے کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مغربی معاشرہ میں دینی تعلیم

دسمبر ۱۹۹۲ء

عالم اسلام پر مغربی فکر کی یلغار اور علماء کرام کی ذمہ داری

آج کی اس ملاقات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس عنوان کے تحت کچھ تلخ گزارشات آپ حضرات کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہوں ۔ ۔ ۔ حضرات محترم! اس عنوان کے تحت بنیادی طور پر چار امور غور طلب ہیں: ایک یہ کہ مغربی فکر کیا ہے؟ دوسرا یہ کہ مغربی فکر کے عالم اسلام پر اثرات کیا ہیں؟ تیسرا یہ کہ اس کے مقابلہ میں ہم جو کچھ کر رہے ہیں، وہ کہاں تک مؤثر ہے؟ اور چوتھا یہ کہ مسلمانوں کو اس مغربی فکر کے حصار سے نکالنے کے لیے علماء کرام پر کیا ذمہ داری عائد ہوتی ہے؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر عالم اسلام پر مغربی فکر کی یلغار اور علماء کرام کی ذمہ داری

اکتوبر ۱۹۹۲ء

قادیانی مسئلہ اور مغربی ممالک میں مقیم مسلمانوں کی ذمہ داری

قادیانی گروہ کی سرپرست لابیوں اور ویسٹرن میڈیا کی طرف سے قادیانی مسئلہ کے حوالہ سے ایک الزام پاکستان کے مسلمانوں پر، پاکستان کی حکومت پر اور پاکستان کے دستوری اور قانونی ڈھانچے پر پورے شدومد کے ساتھ دنیا بھر میں دہرایا جا رہا ہے کہ پاکستان میں قادیانیوں کے انسانی حقوق پامال کر دیے گئے ہیں، ان کے شہری حقوق معطل ہو گئے ہیں اور قادیانیوں کے ہیومن رائٹس ختم کر دیے گئے ہیں۔ ابھی حال میں اسی ماہ کے آغاز میں برطانیہ میں ٹل فورڈ کے مقام پر قادیانیوں کے سالانہ اجتماع میں بھارتی ہائی کمشنر نے شرکت کی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قادیانی مسئلہ اور مغربی ممالک میں مقیم مسلمانوں کی ذمہ داری

۱۶ اگست ۱۹۹۲ء

افغانستان میں پانچ دن

حرکۃ الجہاد الاسلامی پاکستان کی دعوت پر مجھے ملک کے سرکردہ علماء کرام کے ایک وفد کے ہمراہ ۳۱ مئی سے ۴ جون تک پانچ روز افغانستان کی سرزمین پر گزارنے کا موقع ملا۔ اس سے قبل بھی چودہ سالہ افغان جہاد کے دوران حرکۃ الجہاد الاسلامی اور حرکۃ المجاہدین کی دعوت اور پروگرام کے مطابق ارگون، باڑی، راغبیلی، ژاور اور خوست کے دیگر محاذوں پر کئی بار گیا ہوں لیکن جہاد افغانستان کی کامیابی اور مجاہدین کی باقاعدہ حکومت کے قیام کے بعد یہ میرا پہلا دورۂ افغانستان تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر افغانستان میں پانچ دن

جون ۱۹۹۲ء

شریعت کی تعبیر و تشریح اور علامہ محمد اقبالؒ

ان دنوں قومی اخبارات میں ’’عورت کی حکمرانی‘‘ کے بارے میں بحث کا سلسلہ چل رہا ہے اور عورت کی حکمرانی کے جواز اور عدم جواز پر دونوں طرف سے اپنے اپنے ذوق کے مطابق دلائل پیش کیے جا رہے ہیں۔ جو حضرات عورت کی حکمرانی کو شرعاً جائز نہیں سمجھتے وہ اپنے موقف کے حق میں قرآن کریم کی آیت کریمہ ’’الرجال قوامون علی النساء‘‘ کے علاوہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعدد ارشادات اور امت کا چودہ سو سالہ اجتماعی تعامل پیش کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر شریعت کی تعبیر و تشریح اور علامہ محمد اقبالؒ

جون و جولائی ۱۹۹۲ء

ملکی سیاست اور مذہبی جماعتوں کا مخمصہ

صورت حال یہ ہے کہ قومی سیاست کی ریت دینی رہنماؤں کی مٹھی سے مسلسل پھسلتی جا رہی ہے اور قومی سیاست میں بے وقعت ہونے کے اثرات معاشرہ میں ان کے دینی وقار و مقام کو بھی لپیٹ میں لیتے جا رہے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس صورت حال کا ٹھنڈے دل و دماغ کے ساتھ سنجیدہ تجزیہ کیا جائے اور ان اسباب و عوامل کا سراغ لگایا جائے جو ملکی سیاست میں مذہبی جماعتوں کی ناکامی کا باعث بنے ہیں۔ تاکہ ان کی روشنی میں دینی سیاسی جماعتیں اپنے مستقبل کو حال سے بہتر بنانے کی منصوبہ بندی کر سکیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ملکی سیاست اور مذہبی جماعتوں کا مخمصہ

۱۵ جنوری ۱۹۹۲ء

مرزا طاہر احمدکی بڑ یا ’’نیو ورلڈ آرڈر‘‘ کی ایک جھلک

روزنامہ نوائے وقت لاہور ۱۲ جون ۱۹۹۱ء کے مطابق سفیر ختم نبوت مولانا منظور احمد چنیوٹی نے انکشاف کیا ہے کہ قادیانی امت کے سربراہ مرزا طاہر احمد نے ایک حالیہ انٹرویو میں پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش کو دوبارہ متحد کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ یہ انٹرویو بھارت کے انگریزی جریدہ ’’مسلم انڈیا‘‘ کی گزشتہ اشاعت میں چھپا ہے جس کے مطابق مرزا طاہر احمد کا کہنا ہے کہ: ’’پاکستانی انڈین ہیں، اس طرح بنگلہ دیش کے لوگ انڈین ہیں، یہ ایک تاریخی، جغرافیائی اور ثقافتی حقیقت ہے، تاہم آج کے دور کی سیاسی حقیقت نہیں، یہ صرف ایک سیاسی تقسیم ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مرزا طاہر احمدکی بڑ یا ’’نیو ورلڈ آرڈر‘‘ کی ایک جھلک

جولائی ۱۹۹۱ء

افغانستان کی تقسیم کے عالمی منصوبہ کا آغاز

افغان مجاہدین کی خون میں ڈوبی ہوئی چودہ سالہ طویل جدوجہد بالآخر رنگ لائی جس کے نتیجہ میں افغانستان کے عوام آزادی کی نعمت سے سرفراز ہوئے اور وہاں پر ایک آزاد اسلامی (عبوری) حکومت قائم ہوگئی۔ اس کے ساتھ ہی افغانستان میں اسلامی حکومت کے قیام کے خلاف امریکہ، روس اور دیگر مغربی ممالک کی سازشیں بھی اپنے عروج پر پہنچ گئیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ افغانستان کی جغرافیائی حیثیت کے پیش نظر دنیا بھر کی غیر مسلم استعماری طاقتیں خصوصاً امریکہ بہادر وہاں ایک آزاد اور خالص اسلامی حکومت کے قیام کو کسی صورت بھی برداشت نہیں کر سکتا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر افغانستان کی تقسیم کے عالمی منصوبہ کا آغاز

مئی ۱۹۹۱ء (غالباً) - جلد ۳۴ شمارہ ۲۰

امریکہ کا لکڑ ہضم، پتھر ہضم معاشرہ اور مسلمانوں کی نئی پود کا مستقبل

محترم و برادران اسلام! مجھے امریکہ میں حاضری دیتے ہوئے چوتھا سال ہے۔ ہر سال کچھ دنوں کے لیے حاضری کا موقع ملتا ہے۔ یہاں مکی مسجد میں آپ حضرات سے ملاقات کی سعادت بھی حاصل ہوتی ہے۔ پہلی دفعہ ۱۹۸۷ء میں حاضر ہوا تو یہیں مکی مسجد میں مسلسل آٹھ دس روز قادیانیت کے بارے میں روزانہ گفتگو ہوتی رہی۔ اس وقت یہاں آنے کا مقصد بھی قادیانی گروہ کی سرگرمیوں کے بارے میں آگاہی حاصل کرنا اور امریکہ میں بسنے والے مسلمانوں کے حالات معلوم کرنا تھا۔ پھر جوں جوں مسائل و احوال سے واقفیت ہوتی گئی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر امریکہ کا لکڑ ہضم، پتھر ہضم معاشرہ اور مسلمانوں کی نئی پود کا مستقبل

۱۷ دسمبر ۱۹۹۰ء

امریکہ اور عالم اسلام

روزنامہ جنگ کراچی نے ۵ نومبر ۱۹۹۰ء کی اشاعت میں اپنے واشنگٹن کے نمائندہ خصوصی کے حوالے سے جہاد افغانستان کے بارے میں ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ امریکہ اور روس کے درمیان اس امر پر ۱۹۸۵ء میں ہی خفیہ مفاہمت ہو گئی تھی کہ افغانستان سے روسی فوجوں کی واپسی کے بعد افغان مجاہدین کو اسلامی حکومت کے قیام کی منزل تک نہ پہنچنے دیا جائے۔ رپورٹ کے مطابق یہ منصوبہ امریکہ کے ممتاز سفارت کار آنجہانی آرنلڈ رافیل نے تیار کیا تھا جو پاکستان میں امریکہ کے سفیر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر امریکہ اور عالم اسلام

دسمبر ۱۹۹۰ء

شریعت بل، پارلیمنٹ کی خودمختاری اور اجتہاد

صدر مملکت کی طرف سے قومی اسمبلی توڑے جانے کے بعد عوامی سطح پر شریعت بل کے بارے میں بحث و تمحیص کا سلسلہ اگرچہ وقتی طور پر رک گیا ہے اور شریعت بل کی منظوری اور نفاذ کے بارے میں لوگ ۲۴ اکتوبر کو معرض وجود میں آنے والی قومی اسمبلی کا انتظار کر رہے ہیں، لیکن اہل دانش کے ہاں شریعت بل پر بحث و تمحیص کا سلسلہ جاری ہے۔ چنانچہ ملک کے دو معروف قانون دانوں ریٹائرڈ جسٹس جناب جاوید اقبال اور جناب ملک امجد حسین ایڈووکیٹ کے مضامین گزشتہ دنوں روزنامہ جنگ کے ادارتی صفحات کی زینت بنے ہیں جن میں شریعت بل کے حوالہ سے چند نکات زیر بحث لائے گئے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر شریعت بل، پارلیمنٹ کی خودمختاری اور اجتہاد

اکتوبر ۱۹۹۰ء

ہمارے دینی مدارس

دینی مدارس کے تعلیمی سال کا آغاز ہو چکا ہے اور ملک بھر کے دینی مدارس کے اساتذہ اور طلبہ سالانہ تعطیلات گزارنے کے بعد اپنے تعلیمی سفر کے نئے مرحلہ کا آغاز ماہِ گزشتہ کے وسط میں کر چکے ہیں۔ ملک کے طول و عرض میں پھیلے ہوئے ان ہزاروں دینی مدارس کا تعلق مختلف مذہبی مکاتبِ فکر سے ہے اور ہر مذہبی مکتب فکر کے دینی ادارے اپنے اپنے مذہبی گروہ کے تشخص و امتیاز کا پرچم اٹھائے نئی نسل کے ایک معتد بہ حصہ کو اپنے نظریاتی حصار اور فقہی دائروں میں جکڑنے کے لیے شب و روز مصروف عمل ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ہمارے دینی مدارس

جولائی و ستمبر ۱۹۹۰ء

’’شریعت بل‘‘ پر مختلف حلقوں کے اعتراضات

پارلیمنٹ کے ایوان بالا سینٹ آف پاکستان نے ۱۳ مئی ۱۹۹۰ء کو ’’نفاذِ شریعت ایکٹ ۱۹۹۰ء‘‘ کے عنوان سے ایک نئے مسودہ قانون کی متفقہ طور پر منظوری دے دی ہے۔ یہ مسودہ قانون اسی ’’شریعت بل‘‘ کی ترمیم شدہ شکل ہے جو سینٹ کے دو معزز ارکان مولانا سمیع الحق اور مولانا قاضی عبد اللطیف نے ۱۹۸۵ء کے دوران سینٹ کے سامنے پیش کیا تھا اور اس پر ایوان کے اندر اور باہر مسلسل پانچ برس تک بحث و تمحیص کا سلسلہ جاری رہا۔ سینٹ آف پاکستان نے شریعت بل کے مسودہ پر نظر ثانی کے لیے وقتاً فوقتاً مختلف کمیٹیاں تشکیل دیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ’’شریعت بل‘‘ پر مختلف حلقوں کے اعتراضات

جولائی ۱۹۹۰ء

پاکستان میں نفاذ اسلام کی جدوجہد اور علماء کرام کی ذمہ داریاں

اسلامی جمہوریہ پاکستان کا قیام ۱۹۴۷ء میں ’’لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ کے اجتماعی ورد کی فضا میں اس مقصد کے لیے عمل میں آیا تھا کہ اس خطہ کے مسلمان الگ قوم کی حیثیت سے اپنے دینی، تہذیبی اور فکری اثاثہ کی بنیاد پر ایک نظریاتی اسلامی ریاست قائم کر سکیں۔ لیکن تینتالیس سال کا عرصہ گزر جانے کے باوجود دستور میں ریاست کو ’’اسلامی جمہوریہ پاکستان‘‘ کا نام دینے اور چند جزوی اقدامات کے سوا اس مقصد کی طرف کوئی عملی پیش رفت نہیں ہو سکی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر پاکستان میں نفاذ اسلام کی جدوجہد اور علماء کرام کی ذمہ داریاں

مئی ۱۹۹۰ء

تحریک پاکستان اور شیخ الاسلام علامہ شبیر احمدؒ عثمانی

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ آج کی یہ تقریب الشبان المسلمون کے زیراہتمام تحریک پاکستان کے عظیم راہنما شیخ الاسلام علامہ شبیر احمدؒ عثمانی کی خدمات اور جدوجہد کے تذکرہ کے لیے منعقد ہو رہی ہے۔ اس سے پہلے پروفیسر محمد عبد الجبار صاحب اور مولانا محمد انذر قاسمی اپنے خیالات کا اظہار کر چکے ہیں جبکہ پروفیسر میاں منظور احمد صاحب جو حضرت علامہ عثمانی کے شاگرد بھی ہیں میرے بعد اظہارِ خیال فرمانے والے ہیں۔ مجھے حکم دیا گیا کہ حضرت مولانا شبیر احمدؒ عثمانی کی جدوجہد اور خدمات کے بارے میں کچھ معروضات پیش کروں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر تحریک پاکستان اور شیخ الاسلام علامہ شبیر احمدؒ عثمانی

اپریل ۱۹۹۰ء

مجھے قرآن میں روحانی سکون ملا، ایک نومسلم کنیڈین خاتون کے تاثرات

گزشتہ روز امریکہ سے ایک نومسلم خاتون ڈاکٹر مجاہدہ کے ہرمینسن گوجرانوالہ تشریف لائیں، ان کا سابقہ نام مارسیا ہے اور امریکی ریاست کیلی فورنیا میں سن ڈیگوسٹیٹ یونیورسٹی کے شعبہ مذہبی امور کی پروفیسر ہیں۔ان کے خاوند ملک محمد علوی ان کے ہمراہ تھے۔ علوی صاحب وزیر آباد ضلع گوجرانوالہ کے رہنے والے ہیں اور پندرہ سال سے امریکہ میں قیام پذیر ہیں۔ ڈاکٹر مجاہدہ پیدائشی طورپر کنیڈین ہیں اور ایک عرصہ سے امریکہ میں رہائش پذیر ہیں۔ موصوفہ نے کم وبیش دس سال قبل اسلام قبول کیا، عربی زبان سیکھی، ار دو اور فارسی سے بھی آشنائی حاصل کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مجھے قرآن میں روحانی سکون ملا، ایک نومسلم کنیڈین خاتون کے تاثرات

مارچ ۱۹۹۰ء

عورت کی حکمرانی کی شرعی حیثیت

مرد اور عورت دونوں نسل انسانی کے ایسے ستون ہیں کہ جن میں سے ایک کو بھی اس کی جگہ سے سرکا دیا جائے تو انسانی معاشرہ کا ڈھانچہ قائم نہیں رہتا۔ اللہ رب العزت نے حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حوا علیہا السلام کو اپنی قدرت خاص سے پیدا فرمایا اور ان دونوں کے ذریعے نسل انسانی کو دنیا میں بڑھا پھیلا کر مرد اور عورت کے درمیان ذمہ داریوں اور فرائض کی فطری تقسیم کر دی، دونوں کا دائرہ کار متعین کر دیا اور دونوں کے باہمی حقوق کو ایک توازن اور تناسب کے ساتھ طے فرما دیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر عورت کی حکمرانی کی شرعی حیثیت

۵ جنوری ۱۹۹۰ء

امریکہ میں مقیم مسلمانوں سے چند ضروری گزارشات

میں مسجد الہدٰی واشنگٹن ڈی سی کی انتظامیہ اور جمعیۃ المسلمین کے ذمہ دار حضرات کا شکر گزار ہوں جنہوں نے آج یہاں اس محفل کا انعقاد کر کے ہمیں اپنی دینی ذمہ داریوں کے بارے میں کچھ کہنے سننے کا موقع فراہم کیا، اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر دیں۔ تفصیلی خطاب تو حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹی کا ہوگا جو قادیانیت کی فتنہ خیزیوں کے بارے میں آپ سے کھل کر بات کریں گے، مجھے مختصر وقت میں آپ دوستوں سے یہاں امریکہ میں مقیم مسلمانوں بالخصوص پاکستانی دوستوں کی ذمہ داریوں کے حوالے سے کچھ گزارشات پیش کرنی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر امریکہ میں مقیم مسلمانوں سے چند ضروری گزارشات

نومبر ۱۹۸۹ء

برطانیہ میں مسلم فرقہ واریت کے اثرات

اس وقت میں برطانیہ کے شہر شیفیلڈ میں مولانا مفتی محمد یونس کشمیری کی رہائشگاہ میں بیٹھا ہوں۔ لندن سے شائع ہونے والا اردو روزنامہ ملت (۲۶ اگست) میرے سامنے ہے، اس کے صفحہ اول پر ایک خبر کی تین کالمی سرخی یہ ہے: ’’نیلسن میں برائرفیلڈ کی مسجد میں ہنگامہ کرنے پر ۶ افراد کو جرمانے کی سزا’’۔ خبر کے مطابق مذکورہ مسجد میں کچھ عرصہ قبل امامت کے مسئلہ پر دو فریقوں میں تنازعہ ہوا جو باہمی تصادم کی شکل اختیار کر گیا۔ مسجد کچھ عرصہ کے لیے بند کر دی گئی۔ پنج وقتہ نمازیں بھی مسلمان اس عرصے میں ادا نہ کر سکے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر برطانیہ میں مسلم فرقہ واریت کے اثرات

۸ اکتوبر ۱۹۸۸ء

جہادِ افغانستان فیصلہ کن مرحلہ میں!

افغان عوام کا جہادِ حریت سیاسی اور فوجی دونوں محاذوں پر فیصلہ کن مرحلہ میں داخل ہو گیا ہے۔ یہ جہادِ آزادی جو آج سے آٹھ نو برس پہلے چند سو سرفروشوں کے نعرۂ مستانہ کے ساتھ شروع ہوا تھا، قربانی، ایثار اور جہد و استقلال کے کٹھن مراحل سے گزرتا ہوا آج اس مرحلہ تک پہنچ چکا ہے کہ افغانستان کے اسی فیصد علاقہ پر مجاہدین کا کنٹرول عملاً قائم ہو گیا ہے۔ روس جیسی استعماری قوت اور عالمی طاقت کو افغان مجاہدین کے ہاتھوں ہزیمت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور وہ اب واپسی کے ارادہ کے اظہار کے ساتھ ساتھ اپنے بعد قائم ہونے والی حکومت کے بارے میں تحفظات کی تلاش میں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جہادِ افغانستان فیصلہ کن مرحلہ میں!

۲۵ دسمبر ۱۹۸۷ء

اقبالؒ کے نادان دوستوں سے!

علامہ محمد اقبال مرحوم کو پاکستان کے عوام ایک مخلص قومی مفکر اور راہنما کی حیثیت سے پہچانتے ہیں جس نے برصغیر پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش میں بسنے والے مسلمانوں کے ملی جذبات کو ابھارنے اور ان میں عظمت رفتہ کی بحالی کا احساس اجاگر کرنے کے لیے مسلسل محنت کی اور اس خطۂ زمین کے مسلمانوں کے لیے ایک الگ وطن کا تصور پیش کر کے تحریک پاکستان کی فکری بنیاد رکھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اقبالؒ کے نادان دوستوں سے!

۲۷ نومبر ۱۹۸۷ء

قاہرہ میں پانچ دن ۔ مشاہدات، تاثرات اور محسوسات

بیرونی ممالک میں کام کرنے والے مصریوں کی چوتھی سالانہ کانفرنس گزشتہ روز ختم ہوگئی ہے۔ یہ کانفرنس پانچ روز جاری رہی، اس کے افتتاحی اجلاس سے صدرِ مصر جناب حسنی مبارک نے اور اختتامی اجلاس سے وزیراعظم جناب ڈاکٹر عاطف صدقی نے خطاب کیا۔ اس دوران مختلف وزارتوں اور محکموں کے سربراہوں نے کانفرنس کے شرکاء کے سامنے مصری حکومت کی پالیسیوں پر روشنی ڈالی اور بیرونِ ملک مقیم مصریوں کے نمائندوں نے بھی خطاب کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قاہرہ میں پانچ دن ۔ مشاہدات، تاثرات اور محسوسات

۱۱ ستمبر ۱۹۸۷ء

متحدہ عرب امارات میں مقیم پاکستانیوں کے بعض اہم مسائل

مجھے ۹ اگست سے ۱۷ اگست تک متحدہ عرب امارات کے مختلف حصوں کا دورہ کرنے کا موقع ملا اور اس دوران دوبئی، شارجہ، عجمان اور ابو ظہبی میں متعدد دینی اجتماعات میں شرکت کے علاوہ پاکستانی باشندوں کی مختلف تقریبات میں حاضری کا بھی اتفاق ہوا۔ جمعیۃ اہل السنۃ والجماعۃ متحدہ عرب امارات اس دورہ کی میزبان تھی اور جمعیۃ کی طرف سے دیگر اجتماعات کے علاوہ یوم پاکستان کے موقع پر ۱۴ اگست کو ابوظہبی کی قدیمی جامع مسجد میں سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے موضوع پر جلسۂ عام کا بھی اہتمام کیا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر متحدہ عرب امارات میں مقیم پاکستانیوں کے بعض اہم مسائل

۴ ستمبر ۱۹۸۷ء

علامہ محمد اقبالؒ اور پارلیمنٹ کے لیے تعبیر شریعت کا اختیار

دین کی اجماعی تعبیر جو حضرات صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور سلف صالحین کے چودہ سو سالہ تعامل کی صورت میں چلی آرہی ہے اس تعبیر و تشریح سے ملت اسلامیہ کو ہٹانے اور قرآن و سنت کو جدید تعبیر و تشریح کی سان پر چڑھانے کے لیے استعماری قوتیں اپنے آلۂ کار عناصر کے ذریعے ایک عرصہ سے مسلم معاشرہ میں سرگرمِ عمل ہیں۔ نصف صدی قبل تک بیشتر مسلم ممالک پر سامراجی قوتوں کے غلبہ و استعلاء کے دور میں سامراجی آقاؤں نے مسلسل سازشوں اور محنت کے باوجود جب یہ دیکھا کہ مسلمانوں کو دین کی بنیاد قرآن و سنت سے برگشتہ کرنا ممکن نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر علامہ محمد اقبالؒ اور پارلیمنٹ کے لیے تعبیر شریعت کا اختیار

۲۰ مارچ ۱۹۸۷ء

’’شریعت بل‘‘ پر اعتراضات ایک نظر میں

سینٹ آف پاکستان میں مولانا قاضی عبد اللطیف اور مولانا سمیع الحق کا پیش کردہ پرائیویٹ شریعت بل اس وقت قومی حلقوں میں زیربحث ہے اور اخبارات و جرائد میں اس کی حمایت اور مخالفت میں مسلسل مضامین شائع ہو رہے ہیں۔ زیربحث مضمون میں ان اہم اعتراضات پر ایک نظر ڈالنا مقصود ہے جو اس وقت تک شریعت بل سے اختلاف کے ضمن میں سامنے آئے ہیں۔ ان اعتراضات کو بنیادی طور پر دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ ایک حصہ ان اعتراضات پر مشتمل ہے جو سیاسی بنیاد پر کیے جا رہے ہیں اور ان کے پس منظر میں سیاسی اختلافات کارفرما ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ’’شریعت بل‘‘ پر اعتراضات ایک نظر میں

۱۲ ستمبر ۱۹۸۶ء

محنت کش اور اسلامی نظام

محنت انسانی عظمت کا ایک ایسا عنوان اور اجتماعیت کا ایک ایسا محور ہے جس کے گرد انسانی معاشرہ کی چکی گھومتی ہے اور جس کے بغیر نوع انسانی کی معاشرت اور اجتماعیت کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ کائنات کے خالق و مالک نے انسانی معاشرہ کے لیے جو فطری نظامِ زندگی نازل فرمایا اس میں محنت کی عظمت کا نہ صرف اعتراف کیا گیا ہے بلکہ دینِ خداوندی کو پیش کرنے والے عظیم المرتبت انبیاء علیہم السلام کو ’’محنت کشوں‘‘ کی صف میں کھڑا کر کے خداوندِ عالم نے محنت کو پیغمبری وصف کا درجہ عطا فرمایا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر محنت کش اور اسلامی نظام

یکم اپریل ۱۹۸۳ء

حضرت مولانا مفتی محمودؒ

دل زخمی ہے، جگر فگار اور ذہن حیرت کی وسعتوں میں گم کہ خدایا یہ اچانک بیٹھے بٹھائے کیا ہوگیا ہے۔ موت ایک ناگزیر حقیقت ہے جس سے کسی کو مفر نہیں، جو شخص دنیا میں آیا ہے اس نے جانا ہے۔ جب انبیاء علیہم الصلوات والتسلیمات جیسی ذوات مقدسمہ کو دنیا کی زندگی میں دوام نہ مل سکا تو اور کون ہے جسے موت سے مستثنیٰ قرار دیا جا سکے۔ مولانا مفتی محمودؒ بھی دوسرے انسانوں کی طرح گوشت پوست کے انسان تھے، ان کی ذات لافانی نہ تھی، انہوں نے بھی دنیا سے جانا تھا اور وہ اپنا وقت پورا کر کے خالق و مالک کی بارگاہ میں سرخرو چلے گئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا مفتی محمودؒ

۷ نومبر ۱۹۸۰ء

نظامِ مصطفٰیؐ کا نفاذ اور ہماری ذمہ داریاں

کم و بیش دو صدیوں پر محیط مسلسل جدوجہد اور ملتِ اسلامیہ کی پشت ہا پشت کی طویل قربانیوں کے بعد جب امسال ۱۲ ربیع الاول کو صدرِ پاکستان جنرل محمد ضیاء الحق نے ملک میں چند اسلامی قوانین کے نفاذ کا اعلان کیا تو ہر محبِ وطن شہری نے اطمینان کا سانس لیا کہ بدیر سہی لیکن بالآخر ہم نے اپنا رخ صحیح منزل کی طرف کر لیا ہے، اب اگر ہم سست روی سے چلے تب بھی کم از کم یہ اطمینان تو ہوگا کہ قوم کی اجتماعی گاڑی کا رخ اس کی اصل منزل کی طرف ہے اور اسے دوسری طرف پھیرا نہیں جا سکتا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر نظامِ مصطفٰیؐ کا نفاذ اور ہماری ذمہ داریاں

۲۸ جولائی ۱۹۷۹ء

پارٹی سسٹم کی بنیاد پر الیکشن کی تجویز

صدرِ پاکستان جنرل محمد ضیاء الحق نے ایک غیر ملکی جریدہ ’’امپیکٹ انٹرنیشنل‘‘ کو دیے گئے ایک حالیہ انٹرویو میں افراد کی بجائے جماعتوں کو ووٹ دینے کے سلسلہ میں اظہارِ خیال کیا ہے اور کہا ہے کہ ’’وہ اس نظام کے حق میں ہیں لیکن جب انہوں نے یہ تجویز سیاستدانوں کو پیش کی تو ان کے پاؤں کے نیچے سے زمین کھسکنے لگی۔‘‘ ہمارے خیال میں اس تجویز پر سیاستدانوں کے پاؤں کے نیچے سے زمین کھسکنے کی کوئی وجہ نہیں ہے کیونکہ خود سیاستدان بارہا پارٹی سسٹم کی بنیاد پر انتخابات کرانے کا مطالبہ کر چکے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر پارٹی سسٹم کی بنیاد پر الیکشن کی تجویز

۲۶ جنوری ۱۹۷۹ء

ایرانی عوام کی جدوجہد

برادر پڑوسی ملک ایران کے عوام ایک عرصہ سے شہنشاہیت کے خاتمہ کے لیے نبرد آزما ہیں، ان کی پرجوش تحریک کی قیادت علامہ آیت اللہ خمینی اور علامہ آیت اللہ شریعت سدار جیسے متصلب شیعہ راہنماؤں کے ہاتھ میں ہے اور اس تحریک میں علماء و طلباء کے علاوہ خواتین، مزدور، ملازمین اور دوسرے طبقے بھی سرگرم دکھائی دیتے ہیں۔ ہزاروں ایرانی اس وقت تک اس جدوجہد میں اپنی جانوں پر کھیل چکے ہیں اور تحریک کی شدت کا یہ عالم مکمل تحریر ایرانی عوام کی جدوجہد

۱۵ دسمبر ۱۹۷۸ء

عدالتوں میں اسلامی فقہ کے ماہرین

مارشل لاء حکومت کی طرف سے سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کو غیر اسلامی قوانین کی منسوخی کے اختیارات تفویض کیے جانے کے اعلان کے بعد یہ سوال انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ اعلیٰ عدالتوں میں ججوں کے ساتھ اسلامی فقہ کے ماہرین کا تقرر بھی ضروری ہے تاکہ وہ عدالتوں کو ان قوانین کی طرف توجہ دلا سکیں جو اسلام کے منافی ہیں اور قرآن و سنت کے مطابق ان میں ترامیم اور تبدیلیوں کے سلسلہ میں ججوں کا ہاتھ بٹا سکیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر عدالتوں میں اسلامی فقہ کے ماہرین

۱۴ جنوری ۱۹۷۸ء

جیلوں کے نظام میں اصلاح کی ضرورت

اس دفعہ بحمد اللہ تعالیٰ جیل کی اندرونی زندگی کا جائزہ لینے اور جرم و سزا کے ماحول میں بسنے والے انسانوں کا مطالعہ کرنے کا کافی موقع ملا اور بالآخر تین ماہ اٹھارہ دن جیل میں گزارنے کے بعد ۲۸ اکتوبر ۱۹۷۶ء کو اپنی انتیسویں سالگرہ کے دن ضمانت پر جیل سے رہا ہوا۔ اس دوران جیل کے اندر کی زندگی کو جس طرح دیکھا اور اس کے بارے میں جو کچھ محسوس کیا اس کی داستان تو بہت طویل ہے لیکن چند اہم امور کی طرف حکومت وقت اور رائے عامہ کو توجہ دلانا ضروری سمجھتا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جیلوں کے نظام میں اصلاح کی ضرورت

۱۲ نومبر ۱۹۷۶ء

حضرت امیر معاویہؓ اور ان کی روایت کردہ چند احادیث

امیر المؤمنین حضرت معاویہ بن ابی سفیانؓ ان خوش قسمت ترین افراد میں سے ہیں جنہیں اللہ تبارک و تعالیٰ نے شرف صحابیت کے ساتھ ساتھ عقل و دانش اور فہم و فراست کی وافر دولت سے بھی مالا مال کیا تھا۔ ان کا شمار عرب کے ذہین ترین سیاست دانوں میں ہوتا ہے اور ان کی سیاسی بصیرت بطور مثال پیش کی جاتی ہے۔ حضرت معاویہؓ نہ صرف خود جناب نبی اکرمؐ کے صحابی تھے بلکہ ان کے والد گرامی حضرت ابو سفیانؓ، والدہ محترمہ حضرت ہندہؓ، برادر گرامی حضرت امیر یزیدؓ اور ہمشیرہ محترمہ حضرت ام المؤمنین ام حبیبہؓ کا شمار بھی صحابہ کرامؓ میں ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت امیر معاویہؓ اور ان کی روایت کردہ چند احادیث

۲۹ اکتوبر ۱۹۷۶ء

حضرت شاہ ولی اللہؒ اور ان کی تحریک

حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ نے جب شعور کی آنکھ کھولی تو سلطنتِ مغلیہ کا چراغ ٹمٹمارہاتھا۔ طوائف الملوکی ڈیرہ ڈالے ہوئے تھی اور فرنگی تاجر کمپنیاں دھیرے دھیرے مغل حکمرانوں کی جگہ لینے کے لیے آگے بڑھ رہی تھیں۔ مرہٹے ایک طاقتور سیاسی قوت کی حیثیت اختیار کرتے جارہے تھے اور برصغیر ان کے قبضے میں چلے جانے کا خطر ہ دن بدن بڑھتا جارہا تھا۔ حضرت امام ولی اللہؒ نے فوری حکمت عملی کے طور پر مرہٹوں کی سرکوبی اور ان کے خطر ہ سے نجات حاصل کرنے کے لیے افغانستان کے بادشاہ احمد شاہ ابدالیؒ سے رابطہ قائم کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت شاہ ولی اللہؒ اور ان کی تحریک

۲۴ اکتوبر ۱۹۷۵ء

علماء کا سیاست میں حصہ لینا کیوں ضروری ہے؟

آج کل ایک گمراہ کن غلطی عام طور پر ہمارے معاشرہ میں پائی جاتی ہے کہ علماء اسلام کو ملکی سیاست میں حصہ نہیں لینا چاہیے بلکہ مساجد میں بھی صرف نماز، روزہ اور حج وغیرہ عبادات و اخلاقیات ہی کی بات کرنی چاہیے۔ اس کے علاوہ ملکی معاملات پر گفتگو کرنا اور عام لوگوں کے سیاسی مسائل میں دلچسپی لینا علماء کے لیے غیر ضروری بلکہ نامناسب ہے۔ یہ غلط فہمی سامراج اور اس کے آلۂ کار افراد نے اتنے منظم طریقہ سے پھیلائی ہے کہ آج سامراجی نظام اس غلط فہمی کے سہارے مساجد و مدارس دینیہ میں سیاسیات کے تذکرہ کو روکنے کے لیے قانونی اقدامات کی طرف بڑھنے کی کوشش کر رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر علماء کا سیاست میں حصہ لینا کیوں ضروری ہے؟

۴ جولائی ۱۹۷۵ء

دینی مدارس کا جرم؟

لاہور کے بعض اخبارات میں شائع ہونے والی اس خبر سے ملک بھر کے دینی حلقوں میں غم و غصہ اور احتجاج و اضطراب کی لہر دوڑ گئی ہے کہ حکومت نے تمام دینی مدارس کو قومی تحویل میں لینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس خبر کے مطابق اصولی طور پر اس امر کا فیصلہ ہوچکا ہے اور اب صرف یہ بات فیصلہ طلب ہے کہ قومی تحویل میں لینے کے بعد دینی مدارس کا نظام وفاقی حکومت چلائے گی یا صوبائی حکومتوں کو یہ ذمہ داری قبول کرنا ہوگی؟ خبر میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ابتدائی مرحلہ میں پنجاب کے اڑھائی سو مدرسے قومیائے جائیں گے اور مدارس کو اول دوم اور سوم تین مدارج میں تقسیم کیا جائے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دینی مدارس کا جرم؟

۳۱ جنوری ۱۹۷۵ء

پاکستان، امریکی مفاد کی کڑی؟

جہاں تک امریکہ کی فوجی امداد کی بحالی کا تعلق ہے، اگر امریکہ پاکستان کی امداد بحال کر دے تو اس سے پاکستان کو دفاعی ضروریات پوری کرنے اور برصغیر میں طاقت کا توازن برقرار رکھنے میں یقیناً مدد ملے گی۔ لیکن اس امداد کے پس منظر میں ڈاکٹر کیسنجر کے ریمارکس کے پیش نظر ہم اس خدشہ کا اظہار کیے بغیر نہیں رہ سکتے کہ شاید ایک بار پھر پاکستان کی خارجہ پالیسیوں کے گرد استعماری زنجیروں کا حلقہ تنگ کیا جا رہا ہے اور امریکہ کی طرف سے فوجی امداد کی یہ بحالی اس سلسلہ کی ایک کڑی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر پاکستان، امریکی مفاد کی کڑی؟

۴ اکتوبر ۱۹۷۴ء

قادیانی مسئلہ: وزیراعظم بھٹو کی تقریر پر مولانا مفتی محمود کے ارشادات

مولانا مفتی محمود نے اخباری کانفرنس میں مجلس عمل کے فیصلوں پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ وزیراعظم بھٹو قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے اور اس سلسلہ میں سواد اعظم کے دوسرے مطالبات تسلیم کرنے کے سلسلہ میں سنجیدہ نہیں ہیں، وہ اس مسئلہ کو اسلامی مشاورتی کونسل یا سپریم کورٹ کے سپرد کر کے سرد خانہ میں ڈالنا چاہتے ہیں۔ مجلس عمل کے مطالبات بالکل واضح ہیں، قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے مسئلہ کو قانونی حیثیت دینے کے لیے قومی اسمبلی سے فیصلہ لینا ضروری ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قادیانی مسئلہ: وزیراعظم بھٹو کی تقریر پر مولانا مفتی محمود کے ارشادات

۲۱ جون ۱۹۷۴ء

بھارت کا ایٹمی دھماکہ!

انڈیا نے گزشتہ روز راجستھان کے صحراؤں میں پہلا ایٹمی دھماکہ کیا اور اس طرح امریکہ، روس، برطانیہ، فرانس اور چین کے بعد ایٹمی طاقتوں کی فہرست میں چھٹے ملک کا اضافہ ہوگیا۔ بھارت کے اس ایٹمی دھماکے پر عالمی رائے عامہ کی طرف سے ملے جلے ردعمل کے اظہار کا سلسلہ جاری ہے۔ پاکستان اور دوسرے بہت سے ممالک نے یہ رائے ظاہر کی ہے کہ اس دھماکے سے ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کی جانے والی کوششوں کو نقصان پہنچے گا۔ وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے یہ بھی کہا ہے کہ پاکستان بھارت کے اس اقدام سے مرعوب نہیں ہوگا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر بھارت کا ایٹمی دھماکہ!

۲۴ مئی ۱۹۷۴ء

کشمیر، تاریخ کے آئینے میں

(۱) چودھویں صدی عیسوی کے ربع اول میں کشمیر کے ایک راجہ نے، جس کا نام رینچن یا رام چندر بتایا جاتا ہے، ایک عرب مسافر سید بلبل شاہؒ کی نماز اور تبلیغ سے متاثر ہو کر اسلام قبول کیا، اپنا اسلامی نام صدر الدینؒ رکھا اور سری نگر میں جامع مسجد تعمیر کی۔ اس طرح کشمیر کے اسلامی دور کا آغاز ہوا۔ (۲) پندرہویں صدی کے ربع اول میں کشمیر کو سلطان زین العابدینؒ جیسا نیک دل، رعایا پرور اور علم دوست بادشاہ نصیب ہوا جس نے عدل، تدبر، رحم دلی اور اسلامی اخوت و مساوات کے جذبہ سے ریاست میں اسلام کی بنیادوں کو مستحکم کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر کشمیر، تاریخ کے آئینے میں

۲۴ مئی ۱۹۷۴ء

سنت ابراہیمیؑ کا اصل سبق

حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یہ عظیم سنت ہر سال ہمیں یہ بھولا ہوا سبق یاد دلاتی ہے کہ اگر خدا کی دوستی چاہتے ہو تو ہر چیز کو اس کی رضا پر قربان کر دینے کے لیے تیار رہو۔ اگر دنیاوی اسباب کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ کی خصوصی نصرت کے طلب گار ہو تو ایثار و قربانی اور اطاعت و وفا کی راہوں پر گامزن ہو جاؤ۔ اور اگر اللہ رب العزت کی بے پایاں خصوصی رحمتوں کے متمنی ہو تو اس کے ہر حکم اور ہر اشارہ پر سر تسلیم خم کر دو۔ قربانی محض ایک رسم نہیں کہ جانور خریدا اور ذبح کر دیا۔ یہ عبادت ہے، اس میں ایک عظیم سبق ہے جسے ہم بھول چکے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سنت ابراہیمیؑ کا اصل سبق

۴ اپریل ۱۹۷۴ء

تقسیم ہند کی معقولیت سے انکار

وزیراعظم جناب ذوالفقار علی بھٹو نے گزشتہ روز لاہور میں اخباری نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے یہ عجیب و غریب انکشاف فرمایا ہے کہ ’’پاکستان مذہبی ملک نہیں ہے‘‘ اور یہ کہ ’’کسی ملک کے سیکولر ہونے سے اس کے اسلامی مزاج میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔‘‘ (روزنامہ مشرق لاہور ۔ یکم فروری ۱۹۷۴ء)۔ خدا جانے مذہب کے نام سے بھٹو صاحب کی اس جھجھک کا پس منظر کیا ہے، حالانکہ اس حقیقت سے انکار کی کوئی گنجائش نہیں کہ پاکستان مذہب کے نام پر لا الہ الا اللہ کا نعرہ لگا کر قائم کیا گیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر تقسیم ہند کی معقولیت سے انکار

۸ فروری ۱۹۷۴ء

آئین شریعت کے لیے تئیس سالہ جدوجہد کا جائزہ

یہ بات اتنی مرتبہ دہرائی جا چکی ہے کہ رفتہ رفتہ مفہوم و مطلب کے لباس سے عاری ہو کر روز مرہ کے تکیہ کلام کی حیثیت اختیار کرتی جا رہی ہے۔ اگر شریعت کے نفاذ کا تعلق اس حقیقت کے لفظی تکرار کے ساتھ ہوتا تو پاکستان اس وقت دنیا کی مثالی اور معیاری اسلامی سلطنت کا روپ دھار چکا ہوتا۔ لیکن کہیں نعروں اور جملوں کے بار بار تکرار سے بھی کسی قوم کی تقدیر بدلتی ہے؟ بدقسمتی سے ہمارے یہاں تئیس سالوں سے نعروں اور لفظوں کے بے مقصد تکرار کا یہ کھیل پوری منصوبہ بندی کے ساتھ کھیلا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر آئین شریعت کے لیے تئیس سالہ جدوجہد کا جائزہ

۲۱ اگست ۱۹۷۰ء