پاکستان ۔ قومی مسائل

دینی خدمات کا معاوضہ

گزشتہ دنوں کسی دوست نے واٹس ایپ پر جمعیۃ علماء ہند صوبہ دہلی کے صدر اور مدرسہ عالیہ عربیہ فتح پوری دہلی کے مہتمم مولانا محمد مسلم قاسمی کے اس فتویٰ کا ایک صفحہ بھجوایا ہے جو ائمہ مساجد اور مدارس و مکاتب کے اساتذہ کی تنخواہوں کے بارے میں ہے اور اس پر کچھ دیگر حضرات کے دستخط بھی ہیں۔ اس کا ایک حصہ ملاحظہ فرما لیجئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دینی خدمات کا معاوضہ

۱۵ جون ۲۰۱۸ء

قادیانیوں کے حمایتی اداروں اور حلقوں کے نام دو ٹوک پیغام

آج میں عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کے حوالہ سے قادیانی مسئلہ کے ایک پہلو پر کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ جب ہمارا اور قادیانیوں کا اس بات پر مکمل اتفاق ہے کہ ان کا مذہب ہمارے مذہب سے الگ ہے اور ہم دونوں ایک مذہب کے پیروکار نہیں ہیں تو پھر قادیانیوں کو مسلمانوں کے مذہب کا نام، اصطلاحات، علامات اور ٹائٹل استعمال کرنے پر اس قدر اصرار اور ضد کیوں ہے؟ اور وہ ایک الگ اور نئے مذہب کا پیروکار ہونے کے باوجود اپنا نام، علامات اور اصطلاحات و شعائر الگ اختیارکرنے کے لیے تیار کیوں نہیں ہیں؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قادیانیوں کے حمایتی اداروں اور حلقوں کے نام دو ٹوک پیغام

۲ و ۳ اپریل ۲۰۱۸ء

’’پیغامِ پاکستان‘‘

۱۶ جنوری کو ایوانِ صدر اسلام آباد میں ’’پیغامِ پاکستان‘‘ کے اجراء کی تقریب میں شرکت کی سعادت حاصل ہوئی اور اکابرینِ امت کے ارشادات سے مستفید ہونے کا موقع ملا۔ کتاب ’’پیغام پاکستان‘‘ معروضی حالات میں اسلام، ریاست اور قوم کے حوالہ سے ایک اجتماعی قومی موقف کا اظہار ہے جو وقت کی اہم ضرورت تھا اور اس کے لیے جن اداروں، شخصیات اور حلقوں نے محنت کی ہے وہ تبریک و تشکر کے مستحق ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ’’پیغامِ پاکستان‘‘

۲۰ جنوری ۲۰۱۸ء

ہزارہ میں انسدادِ سود پر چند اجتماعات

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ’’یمحق اللہ الربوا ویربی الصدقات‘‘ اللہ تعالیٰ سود کے ذریعہ رقم کو بے برکت اور ڈی ویلیو کر دیتے ہیں جبکہ صدقہ کی صورت میں رقم کی قدروقیمت میں اضافہ ہوتا ہے۔ بے برکتی کی مختلف صورتیں ہو سکتی ہیں: مثلاً مال کسی نقصان میں ضائع ہو جائے، بے مقصد کاموں پر خرچ ہو جائے، یا وہ کام جو کم مال خرچ کرنے سے ہو سکتے ہوں ان پر زیادہ مال خرچ ہو جائے وغیرہ۔ یوں سمجھ لیں کہ بے برکتی ہماری مصنوعی کرنسی کی طرح ہے کہ گنتی بڑھتی جاتی ہے مگر افادیت اور قدر مسلسل کم ہوتی چلی جاتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ہزارہ میں انسدادِ سود پر چند اجتماعات

۱۵ ستمبر ۲۰۱۷ء

قومی مصیبتوں کے ظاہری و باطنی اسباب

سپریم کورٹ آف پاکستان کے محترم جناب جسٹس دوست محمد خان نے لڑائی جھگڑے کے ایک کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ہم ہر چیز میں اسلامائزیشن کو شامل کرنے کے شوقین ہیں لیکن اصل معاملات زندگی میں اسلامائزیشن نہیں لائی جاتی۔ تعزیرات پاکستان میں ترامیم کر کے بیڑا غرق کر دیا گیا ہے، ملک میں قانونی کام بھی غیر قانونی طریقے سے کیے جاتے ہیں، حلف پر جھوٹ بولے جاتے ہیں جس کی وجہ سے ڈینگی، دھماکوں اور دہشت گردی کی صورت میں عذاب کا سامنا ہے۔‘‘ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قومی مصیبتوں کے ظاہری و باطنی اسباب

۲۷ اگست ۲۰۱۷ء

چینی زبان کی آمد

چین آبادی کے لحاظ سے اس وقت دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے اور ہمارا مخلص پڑوسی ہے جس نے ہر آڑے وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے اور ہمیں ہر مشکل میں چین کی دوستی اور اعتماد سے فائدہ ملا ہے۔ اور اب جبکہ چین سے گوادر تک سی پیک کا منصوبہ روز بروز آگے بڑھ رہا ہے اور چین کے ساتھ دوستانہ کے ساتھ ساتھ تجارتی تعلقات ایک نیا اور ہمہ گیر رخ اختیار کرتے جا رہے ہیں، سرکاری اور پرائیویٹ دونوں دائروں میں اس ضرورت کا احساس بڑھ رہا ہے کہ ہمیں چینی زبان سے اس حد تک ضرور واقف ہونا چاہیے اور خاص طور پر نئی نسل کو اس سے متعارف کرانا چاہیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر چینی زبان کی آمد

۴ اگست ۲۰۱۷ء

شریعت کورٹ آزاد کشمیر کا پس منظر

تحریک آزادیٔ کشمیر کے نامور راہنما، جمعیۃ علماء اسلام آزاد کشمیر کے سابق امیر اور ریاستی اسمبلی کے سابق رکن شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد یوسف خانؒ کے ساتھ راقم الحروف نے گزشتہ صدی عیسوی کے آخری سال جولائی کے دوران پلندری حاضر ہو کر جہادِ کشمیر میں علماء کرام کے کردار اور شرعی قاضیوں کے مذکورہ نظام کے پس منظر کے حوالہ سے ایک انٹرویو کیا تھا جس میں انہوں نے ان معاملات پر تفصیل سے روشنی ڈالی تھی۔ یہ انٹرویو ایک قومی اخبار میں شائع ہوا تھا، موجودہ حالات میں اس کی دوبارہ اشاعت کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر شریعت کورٹ آزاد کشمیر کا پس منظر

۳۰ جولائی تا یکم اگست ۲۰۱۷ء

مسئلہ رؤیت ہلال پر دو تجاویز

رمضان المبارک نصف سے زیادہ گزر گیا ہے اور عید الفطر کی آمد آمد ہے۔ عید کے موقع پر رؤیت ہلال کا مسئلہ پھر حسب سابق زیر بحث آئے گا اور میڈیا حسب عادت اس سلسلہ میں اختلاف کی من مانی تشہیر کرے گا۔ اس حوالہ سے ہم اپنا موقف مختلف مواقع پر اس کالم میں تحریر کر چکے ہیں کہ مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی ایک باقاعدہ ریاستی ادارہ ہے، اسے مجاز اتھارٹی کے طور پر پاکستان میں سب جگہ تسلیم کیا جانا چاہیے اور اگر اس کے کسی فیصلے سے اختلاف ہو تو اسے اختلاف کے درجہ میں رکھتے ہوئے صحیح طریقہ سے حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے مگر کوئی متوازی فیصلہ کرنے سے گریز کرنا چاہیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مسئلہ رؤیت ہلال پر دو تجاویز

۱۵ جون ۲۰۱۷ء

مروجہ سودی نظام اور ربع صدی قبل کی صورتحال

سودی نظام کے خاتمہ کی بحث ابھی تک جاری ہے اور وفاقی شرعی عدالت حالات کے مختلف ہونے کے بہانے سودی نظام کے خاتمہ کے مقدمہ کو غیر متعینہ عرصہ کے لیے ملتوی کر چکی ہے۔ مگر اس حوالہ سے اب سے ربع صدی قبل کی صورتحال میں اس وقت کے صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان جناب غلام اسحاق خان مرحوم کے نام ایک مکتوب ملاحظہ فرمائیے جو راقم الحروف نے انہیں ’’کھلے خط‘‘ کی صورت میں ارسال کیا تھا۔ یہ خط ہفت روزہ ترجمان اسلام لاہور 20 مارچ 1992ء کے شمارہ میں شائع ہو چکا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مروجہ سودی نظام اور ربع صدی قبل کی صورتحال

۲ مئی ۲۰۱۷ء

مولانا زرنبی خان شہیدؒ اور شیخ عبد الستار قادری مرحوم

گزشتہ روز ہمیں ایک بڑے صدمہ سے دوچار ہونا پڑا۔ جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے مدرس مولانا زرنبی خان سالانہ امتحان کے بعد تعطیلات گزارنے کے لیے بچوں کو اپنے وطن چترال چھوڑنے کے لیے جا رہے تھے کہ لواری ٹاپ کے قریب وہ کوسٹر جس میں وہ سوار تھے گہری کھائی میں جا گری جس سے دیگر بہت سے مسافروں سمیت مولانا زرنبی خان بھی اپنے چھوٹے بھائی اور تین بچوں سمیت شہید ہوگئے جبکہ ان کی اہلیہ شدید زخمی حالت میں ہسپتال میں ہیں، انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا زرنبی خان شہیدؒ اور شیخ عبد الستار قادری مرحوم

۱ مئی ۲۰۱۷ء

عربی زبان کی تعلیم اور ہمارے قومی ادارے

روزنامہ اسلام لاہور میں ۱۷ فروری ۲۰۱۷ء کو شائع ہونے والی ایک خبر ملاحظہ فرمائیے۔ ’’اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکرٹریٹ کے ارکان نے ’’عربی بل ۲۰۱۵ء‘‘ کو بطور لازمی تعلیم پڑھانے پر بحث کے دوران اسے بطور مضمون نصاب میں شامل نہ کرنے کی وجہ کو دہشت گردی کا سبب قرار دیا۔ اسمبلی کی خصوصی نشست پر منتخب ہونے والی رکن اسمبلی نعیمہ کشور کی جانب سے پیش کردہ بل کو ان کی غیر موجودگی میں ہی کمیٹی میں زیر بحث لایا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر عربی زبان کی تعلیم اور ہمارے قومی ادارے

مارچ ۲۰۱۷ء

سودی نظام اور مذہبی طبقات کی بے بسی

دینی طبقات کی بے بسی یہ ہے کہ وہ عملی طور پر صرف مطالبات ہی کر سکتے ہیں کیونکہ ان کے پاس نہ تو اتنی پارلیمانی قوت ہوتی ہے کہ وہ جمہوری ذرائع سے اپنے مطالبات کو عملی جامہ پہنا سکیں، اور نہ ہی ملک کے دیگر ریاستی اداروں میں ان کی کوئی نمائندگی نظر آتی ہے کہ وہ منظور شدہ قوانین کو حقیقی معنوں میں نافذ کروا سکیں۔ بہرحال حسب صورتحال دینی جماعتوں کو چاہیے کہ وہ حکومت سے دوٹوک مطالبہ کریں کہ وہ سودی نظام کے خاتمہ کے لیے اپنی دستوری ذمہ داری کو فوری طور پر پورا کرے۔ اس مطالبہ کو مؤثر بنانے کے لیے دینی حلقوں اور رائے عامہ کو بیدار و منظم کرنے کی ضرورت ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سودی نظام اور مذہبی طبقات کی بے بسی

۱۸ فروری ۲۰۱۷ء

مسئلہ کشمیر اور نوآبادیاتی نظام کی جکڑبندی

ان سب شعبوں میں گزشتہ سات عشروں کی صورتحال پر نظر ڈال لیں آپ کو تبدیلی کے مطالبات نظر آئیں گے، اصلاح و تجاویز کی فائلیں ادھر سے ادھر گھومتی دکھائی دیں گی، بیانات اور تجزیوں کا وسیع تناظر سامنے آئے گا، وعدوں اور تسلیوں کے سبز باغ آپ کی نگاہوں کے سامنے رہیں گے، احتجاج و اضطراب کی لہریں بھی مسلسل موجود ملیں گی لیکن کیا مجال ہے کہ اس سب کچھ کے باوجود کسی شعبہ میں کوئی عملی تبدیلی دیکھنے میں آجائے۔ ہم ستر سال کے بعد بھی کولہو کے بیل کی طرح ایک ہی دائرے میں گھوم رہے ہیں بلکہ بعض معاملات میں تو ہم اس سے بھی پیچھے جا چکے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مسئلہ کشمیر اور نوآبادیاتی نظام کی جکڑبندی

۴ فروری ۲۰۱۷ء

وطنِ عزیز کے کلیدی مناصب اور مذہبی طبقات کے خدشات

جنرل قمر جاوید باجوہ کی آرمی چیف کے طور پر تقرری کے اعلان کے ساتھ ہی ملک کے مختلف حصوں سے فون آنا شروع ہوگئے جو ان کا گکھڑ کے ساتھ تعلق ہونے کی وجہ سے تھے۔ چونکہ میرا آبائی قصبہ بھی گکھڑ ہے اس لیے بعض دوستوں نے مبارکباد دی جبکہ بعض حضرات نے اس شبہ اور تشویش کا اظہار کیا کہ کہیں وہ قادیانی تو نہیں ہیں؟ مجھے یہ بات پہلی بار اسی موقع پر معلوم ہوئی کہ جنرل موصوف کا تعلق میرے آبائی شہر سے ہے، ان سے تو ذاتی تعارف نہیں ہے لیکن گکھڑ کی باجوہ فیملی کو جانتا ہوں جس کے بعض حضرات ہمارے ساتھی اور دوست بھی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر وطنِ عزیز کے کلیدی مناصب اور مذہبی طبقات کے خدشات

۳ دسمبر ۲۰۱۶ء

قادیانی اقلیت کے حقوق اور ان کی آبادی کا تناسب

قیام پاکستان کے وقت پنجاب کی سرحدی تقسیم کے موقع پر ضلع گورداس پور میں قادیانی حضرات نے اپنی آبادی کو خود ہی مسلمانوں سے الگ شمار کروایا تھا اس لیے انہیں اس بات پر اعتراض نہیں ہونا چاہیے کہ ان کی آبادی کو الگ طور پر شمار کیا جائے۔ جبکہ یہ بات دستور پاکستان کے مطابق ان کے حقوق اور معاشرتی حیثیت کے صحیح طے ہونے کا ذریعہ بھی ہے۔ ہمیں قادیانیوں کے سیاسی، شہری، انسانی، اور معاشرتی حقوق سے کوئی انکار نہیں لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ دستور کو تسلیم کریں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قادیانی اقلیت کے حقوق اور ان کی آبادی کا تناسب

۱۳ ستمبر ۲۰۱۶ء

دستور پاکستان کی بالادستی اور قادیانی ڈھنڈورا

1974ء کی منتخب پارلیمنٹ کے سامنے یہ مسئلہ ’’استفتاء‘‘ کے طور پر پیش نہیں کیا گیا تھا کہ وہ یہ فیصلہ دے کہ قادیانی مسلمان ہیں یا کافر؟ بلکہ اسمبلی کے سامنے ’’دستوری بل‘‘ رکھا گیا تھا کہ قادیانیوں کو پوری ملت اسلامیہ غیر مسلم قرار دے چکی ہے اس لیے پارلیمنٹ بھی دستور و قانون کے دائرے میں اس فیصلہ کو تسلیم کرے اور اس کے مطابق قادیانیوں کو ملک میں مسلمانوں کے ساتھ شامل رکھنے کی بجائے غیر مسلم اقلیتوں کے ساتھ شمار کرے۔ یہ استفتاء نہیں تھا بلکہ قادیانیوں کے معاشرتی اسٹیٹس کو مسلمانوں سے الگ کرنے کا دستوری بل تھا اور پارلیمنٹ نے یہی فیصلہ کیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دستور پاکستان کی بالادستی اور قادیانی ڈھنڈورا

۱۰ ستمبر ۲۰۱۶ء

ہمارے عدالتی نظام کا ماحول

سپریم کورٹ کے جسٹس آصف سعید کھوسہ صاحب نے یہ ریمارکس دیے ہیں کہ ’’پنجاب دنیا کا وہ واحد خطہ ہے جہاں مرتے ہوئے بھی جھوٹ بولا جاتا ہے۔ ڈکیتی کے کے مبینہ ملزم کی ضمانت کی منسوخی کی درخواست کی سماعت کرتے ہوئے فاضل جج نے کہا کہ یہ میں نہیں کہتا بلکہ 1925ء میں لاہور ہائی کورٹ کے ایک انگریز جج نے اپنے فیصلہ میں لکھا ہے کہ پنجاب کے لوگوں کے نزعی بیان پر یقین نہ کیا کریں یہ مرتے ہوئے بھی جھوٹ بولتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایسا خطہ ہے جہاں نزعی بیان میں دشمنی کا حساب برابر کیا جاتا ہے اور خاندان کے خاندان کو نامزد کر دیا جاتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ہمارے عدالتی نظام کا ماحول

ستمبر ۲۰۱۶ء

قرآن کریم کی تعلیم لازم کرنے کا مستحسن حکومتی فیصلہ

قرآن کریم ہماری زندگی، ایمان اور نجات کی بنیاد ہے جس کی تعلیم ایمان کا تقاضہ ہونے کے ساتھ ساتھ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور و قانون کی ناگزیر ضرورت بھی ہے اور ہمارے بہت سے قومی اور معاشرتی مسائل کا حل اس سے وابستہ ہے۔ یہ کام قیام پاکستان کے بعد ہی ہوجانا چاہیے تھا اور 1973ء کے دستور کے نفاذ کے بعد تو اس میں تاخیر کی کوئی گنجائش ہی نہیں تھی۔ لیکن مختلف اندرونی و بیرونی عوامل کے باعث یہ مبارک کام مسلسل ٹال مٹول کا شکار ہوتا رہا اور اب اس طرف حکومت نے سنجیدہ توجہ کا عندیہ دیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قرآن کریم کی تعلیم لازم کرنے کا مستحسن حکومتی فیصلہ

۲۰ جون ۲۰۱۶ء

نمازوں کے یکساں اوقات اور رؤیت ہلال

مولانا مفتی عبد الواحدؒ نے کہا کہ جمعہ کی نماز کے علاوہ کسی اور نماز کے لیے بازار بند کرانا شرعاً ضروری نہیں ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے نمازوں کے اوقات میں گھنٹوں کی گنجائش دی ہے کہ اس دوران کسی وقت بھی نماز ادا کی جا سکتی ہے تو اس گنجائش کو محدود کر کے لوگوں کو ایک ہی وقت میں نماز ادا کرنے پر مجبور کرنا شریعت کا تقاضہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے علاقہ کی مساجد میں نمازوں کے اوقات میں باہمی مشورہ کے ساتھ فرق رکھا ہوا ہے تاکہ دکاندار حضرات باری باری کسی نہ کسی مسجد میں جا کر باجماعت نماز ادا کر لیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر نمازوں کے یکساں اوقات اور رؤیت ہلال

۴ جون ۲۰۱۶ء

سودی نظام کا خاتمہ، غیر روایتی اقدامات کی ضرورت

دہشت گردی کی لعنت کو عام دستوری اور قانونی ذرائع سے کنٹرول کرنے میں کامیابی نہ پا کر اس کے لیے ایمرجنسی طریقہ کار اختیار کیا گیا ہے جسے بظاہر قومی سطح پر قبول کر لیا گیا ہے۔ جبکہ اس طریقہ کار کے تحت کیے جانے والے اقدامات کا بڑا حصہ عام قانونی اور عدالتی پراسیس سے بالاتر دکھائی دیتا ہے ۔ ۔ ۔ سودی نظام بھی ’’معاشی دہشت گردی‘‘ سے کم نہیں ہے جس کے نقصانات اور تباہ کاریاں ہر طرف پھیلی ہوئی ہیں۔ اس لیے اس سے نجات حاصل کرنے کے لیے بھی خصوصی اقدامات اور طریق کار کی ضرورت ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سودی نظام کا خاتمہ، غیر روایتی اقدامات کی ضرورت

۲۱ اپریل ۲۰۱۶ء

نظام مصطفٰیؐ، ایک قومی ضرورت

ملک میں اسلامی نظام کی عملداری خواہ نفاذ اسلام کے عنوان سے ہو، نفاذ شریعت کے نعرہ کے ساتھ ہو، یا نظام مصطفٰیؐ کے ٹائٹل سے ہو، یہ صرف دینی جماعتوں کا مطالبہ نہیں بلکہ ایک اہم ترین قومی ضرورت ہے۔ اور اسے دینی جماعتوں کے کسی متفقہ مطالبہ سے زیادہ ایک قومی تقاضے اور ملی آواز کے طور پر سامنے لانے کی ضرورت ہے۔ نفاذ اسلام کی بات ہمارے ہاں قائد اعظم محمد علی جناح مرحوم کی زبان پر رہی ہے، لیاقت علی خان مرحوم اس کے علمبردار رہے ہیں، سردار عبد الرب نشتر مرحوم یہ بات کہتے رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر نظام مصطفٰیؐ، ایک قومی ضرورت

۹ اپریل ۲۰۱۶ء

پاکستان میں نفاذ اردو، ہندوستان میں فروغ اردو

جہاں تک اردو زبان کی دفتری اور عدالتی شعبوں میں ترویج و تنفیذ کا معاملہ ہے، اور قومی اداروں میں اردو کے عملی فروغ کے لیے سپریم کورٹ کی ہدایات کا تعلق ہے، ان پر عملدرآمد کا کوئی سنجیدہ ماحول سرکاری حلقوں میں دکھائی نہیں دے رہا۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ نظریۂ پاکستان کی پہلی اساس یعنی مسلم تہذیب و ثقافت کے امتیاز و تحفظ کے ساتھ ساتھ اس کی دوسری اساس یعنی اردو زبان بھی ورلڈ اسٹیبلشمنٹ اور اس کے سائے میں قومی اسٹیبلشمنٹ کی مصلحتوں کے جال میں الجھ کر رہ گئی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر پاکستان میں نفاذ اردو، ہندوستان میں فروغ اردو

۲۳ مارچ ۲۰۱۶ء

اسلامی ریاست چلانے کے لیے رجال کار کی ضرورت

ایک عجیب سی صورت حال اس وقت ہمارے سامنے ہے کہ ملک میں شرعی نظام کا نفاذ صرف ہمارا مطالبہ ہی نہیں بلکہ قومی ضرورت ہے۔ لیکن انتظامیہ، عدلیہ، معیشت اور دیگر شعبوں کے لیے اس کے مطابق رجال کار کی فراہمی کا کوئی نظام کسی سطح پر موجود نہیں ہے۔ نہ ریاستی تعلیمی ادارے اسے اپنے اہداف میں شامل کرنے کے لیے تیار ہیں اور نہ ہی دینی مدارس کے موجودہ نصاب و نظام میں اس کی کوئی گنجائش دکھائی دے رہی ہے۔ ظاہر بات ہے کہ یہ ذمہ داری انہی دو اداروں میں سے کوئی قبول کرے گا تو بات آگے بڑھے گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اسلامی ریاست چلانے کے لیے رجال کار کی ضرورت

۲۹ جنوری ۲۰۱۶ء

اسلام قبول کرنے والوں کے مسائل

اسلامی جمہوریہ پاکستان میں غیر مسلم اقلیتیں اچھی خاصی تعداد میں رہتی ہیں اور انہیں دستور کے مطابق شہری حقوق حاصل ہیں۔ حتیٰ کہ مسلمانوں کے اندر تبلیغ کرنے اور انہیں غیر مسلم بنانے کے مواقع بھی انہیں میسر ہیں جن سے مسیحی اقلیت کے مشنری ادارے اور قادیانی مبلغین سب سے زیادہ فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ جبکہ مسیحی مشنریوں کی طرح غیر مسلموں کو اسلام کی دعوت دینے کے لیے کوئی منظم کام قومی سطح پر موجود نہیں ہے اور نہ ہی حکومتی یا پرائیویٹ سطح پر اس قسم کی کوئی تحریک پائی جاتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اسلام قبول کرنے والوں کے مسائل

۲۲ ستمبر ۲۰۱۵ء

اردو کو بطور سرکاری زبان رائج کرنے کا حکم

ملک میں اردو زبان کو سرکاری، دفتری اور عدالتی شعبوں میں عملاً رائج کرنے کے بارے میں عدالت عظمیٰ کے حالیہ فیصلے پر اگر خلوص دل سے عمل کا اہتمام ہوگیا تو ہمارے بہت سے معاشرتی، فکری اور تہذیبی مسائل بحمد اللہ تعالیٰ از خود حل ہوتے چلے جائیں گے۔ جبکہ آنے والی نسلیں یقیناً عدالت عظمیٰ کی شکر گزار ہوں گی اور اس کے معزز ججوں کو دعائیں دیں گی۔ جسٹس (ر) جواد ایس خواجہ ایک ماہ سے بھی کم چیف جسٹس رہے لیکن جاتے جاتے یہ تاریخی فیصلہ سنا کر اپنا نام تاریخ میں ہمیشہ کے لیے ایک قابل احترام جج کے طور پر محفوظ کرا گئے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اردو کو بطور سرکاری زبان رائج کرنے کا حکم

۱۵ ستمبر ۲۰۱۵ء

کیا اسلام اور پاکستان لازم و ملزوم نہیں؟

انگریزوں کے آنے کے بعد عالمی صورت حال میں یہ تبدیلی آچکی تھی کہ پہلے حکومتوں کا قیام طاقت کے زور پر ہوتا تھا۔ انگلستان میں بھی بادشاہت کا قیام طاقت کے بل پر ہوا تھا، برصغیر پر بھی انگریزوں نے قوت و طاقت سے قبضہ کیا تھا، جبکہ اس سے پہلے مسلمانوں نے بھی اقلیت ہونے کے باوجود جنوبی ایشیا پر ایک ہزار سال تک طاقت کے ذریعہ حکومت کی تھی۔ مگر اب عالمی صورت حال میں یہ رجحان بڑھنے لگا کہ حکومت و ریاست کا قیام طاقت سے نہیں بلکہ ووٹ کی بنیاد پر اکثریت کی رائے سے ہوگا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر کیا اسلام اور پاکستان لازم و ملزوم نہیں؟

۱۷ اگست ۲۰۱۵ء

قیام پاکستان کا بنیادی مقصد

قیام پاکستان کا بنیادی مقصد اور فلسفہ یہ ہے کہ مسلم اکثریت کے علاقے میں حکومت خود مسلمانوں کی ہونی چاہیے اور قرآن و سنت کے احکام و قوانین کے مطابق ملک کا نظام تشکیل پانا چاہیے۔ یہ اسلام کے تقاضوں میں سے ہے، جناب نبی اکرم ﷺ کی سنت مبارکہ ہے، اور ملت اسلامیہ کی تاریخ اور ماضی کے تسلسل کا حصہ ہے۔ جناب نبی اکرم ﷺ کی سنت مبارکہ کے حوالہ سے یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ مکہ مکرمہ سے ہجرت کے بعد جب مدینہ منورہ میں مسلمانوں کی سوسائٹی قائم ہوئی تو نبی اکرم ﷺ نے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قیام پاکستان کا بنیادی مقصد

۱۴ اگست ۲۰۱۵ء

مسئلہ قومی زبان اردو کا

لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس شمس محمود مرزا نے جناب اے کے ڈوگر ایڈووکیٹ کی درخواست پر وفاقی حکومت سے اردو زبان کو تدریسی نصاب اور عدالتی زبان کے طور پر رائج کرنے کے بارے میں 18 اگست تک جواب طلب کر لیا ہے۔ درخواست گزار نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ قومی زبان اردو کو اس کا جائز مقام نہیں دیا جا رہا۔ کسی بھی قوم کی پہچان اس کی زبان سے ہوتی ہے، عدالت سے استدعا ہے کہ اردو زبان کو سکولوں و کالجوں میں تدریسی نصاب کا حصہ بنانے اور تمام عدالتی کاروائی کو اردو زبان میں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مسئلہ قومی زبان اردو کا

۱۸ جولائی ۲۰۱۵ء

نیب کا کردار ۔ ایک لمحۂ فکریہ

ہار کی واپسی کی خبر جن تفصیلات کے ساتھ شائع ہوئی ہیں انہیں پڑھتے ہوئے ہمیں دور نبویؐ کا ایک واقعہ یاد آگیا کہ جناب نبی اکرم ﷺ نے ایک صاحب کو کسی علاقہ سے زکوٰۃ و عشر اور دیگر محصولات کی وصولی کے لیے عامل بنا کر بھیجا۔ اس دور میں تحصیلدار اور محصولات وصول کرنے والے کے لیے ’’عامل‘‘ کی اصطلاح ہی استعمال ہوتی تھی۔ وہ جب اپنی ڈیوٹی مکمل کر کے واپس آئے تو جناب نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں وصول شدہ اموال پیش کیے مگر ایک گٹھڑی علیحدہ رکھ دی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر نیب کا کردار ۔ ایک لمحۂ فکریہ

۲ جولائی ۲۰۱۵ء

وہی شکستہ سے جام اب بھی!

عام طور پر حکومتی جماعتیں اور ارکان اسمبلی بجٹ کی تحسین کرتے ہیں اور اس کا دفاع کرتے ہیں، جبکہ اپوزیشن جماعتوں اور اراکان اسمبلی کی طرف سے اعتراضات سامنے آتے ہیں اور ردّ و مدّح کا شور بپا ہوتا ہے، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہی ہونے لگ جاتا ہے جو وزرائے خزانہ کی طرف سے ایوانوں میں پیش ہو چکا ہوتا ہے۔ البتہ عوام کو وقتی طور پر پڑھنے اور سننے کی حد تک تسلی کی کچھ ایسی باتیں ضرور مل جاتی ہیں جن میں ان کے معاشی مسائل اور مالی مشکلات کا تذکرہ موجود ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر وہی شکستہ سے جام اب بھی!

۱۴ جون ۲۰۱۵ء

پاکستان کو ’’سنی ریاست‘‘ قرار دینے کا مطالبہ

1973ء میں وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کو ’’سنی مطالبات‘‘ کے عنوان سے ایک عرضداشت پیش کی گئی تھی جس پر مولانا غلام غوث ہزارویؒ ، مولانا عبد الحقؒ ، مولانا شاہ احمد نورانیؒ ، مفتی محمد حسین نعیمیؒ ، مولانا عبد القادر روپڑیؒ ، مولانا عبد الستار تونسویؒ ، مولانا سید حامد میاںؒ ، مولانا سرفراز خان صفدرؒ ، ڈاکٹر اسرار احمدؒ ، مولانا اجمل خانؒ ، مولانا عزیز الرحمن جالندھری، مولانا تاج محمودؒ ، اور مولانا منظور احمد چنیوٹیؒ سمیت تمام سنی مکاتب فکر کے ایک ہزار کے لگ بھگ علماء کرام نے دستخط کیے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر پاکستان کو ’’سنی ریاست‘‘ قرار دینے کا مطالبہ

۲۳ اکتوبر ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

اسکولوں میں عربی زبان کو لازم قرار دینے کا فیصلہ

عربی زبان ہماری دینی زبان ہے اور صرف قرآن کریم سے واقفیت کے لیے نہیں بلکہ جناب نبی اکرم ﷺ کے اسوہ و سنت تک براہ راست رسائی اور امت مسلمہ کے ماضی کے علمی ذخیرہ سے آگاہی کے لیے بھی عربی زبان بنیادی ضرورت کی حیثیت رکھتی ہے۔ لیکن قیام پاکستان کے بعد سے ہی، جب کہ اس کی ضرورت اسی وقت سے محسوس کی جا رہی ہے، اس سے بے اعتنائی کا رویہ جاری ہے اور بار بار توجہ دلانے کے باوجود حکومتی حلقے اس کو اہمیت دینے کے لیے تیار نہیں ہوئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اسکولوں میں عربی زبان کو لازم قرار دینے کا فیصلہ

اپریل ۲۰۱۴ء

عربی زبان، ہماری قومی ضرورت

عربی زبان قرآن و سنت کی زبان ہے اور ایک مسلمان کے لیے اس کی تعلیم اساسی حیثیت رکھتی ہے۔ مگر ہمارے ہاں قیام پاکستان کے بعد سے ہی اسے وہ درجہ نہیں دیا جا رہا ہے جو اس کا حق ہونے کے ساتھ مسلم سوسائٹی کی بنیادی ضرورت بھی ہے۔ حتیٰ کہ دینی مدارس میں بھی عربی زبان صرف کتاب فہمی تک محدود ہے اور کتاب فہمی کا دائرہ بھی سمٹ سمٹا کر صرف درس و تدریس کے دائرے میں بند ہو کر رہ گیا ہے۔ معاصر عربی ادب، بول چال، میڈیا اور خطابت و صحافت کے میدان ہماری دسترس سے ابھی تک باہر ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر عربی زبان، ہماری قومی ضرورت

نا معلوم

نظریۂ پاکستان کیا ہے؟

نظریۂ پاکستان کے خلاف کالم لکھنے پر ملک کے معروف صحافی ایاز میر کے کاغذات نامزدگی ریٹرننگ آفیسر کی طرف سے مسترد کیے جانے کے بعد سیکولر اخبار نویسوں کے ہاتھ میں نظریہ پاکستان کے بارے میں اپنے منفی جذبات کا اظہار کرنے کا ایک اور موقع آگیا ہے اور وہ اس سے فائدہ اٹھانے میں پوری مستعدی دکھا رہے ہیں۔ ایک بار پھر یہ سوال کھڑا کیا جا رہا ہے کہ ’’نظریۂ پاکستان‘‘ کیا ہے؟ اور اس کی تعبیر و تشریح کیا ہے؟ یہ بات ایسے لہجے میں کہی جا رہی ہے جیسے ان دوستوں کو سرے سے نظریۂ پاکستان کے بارے میں کچھ علم ہی نہ ہو ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر نظریۂ پاکستان کیا ہے؟

۹ اپریل ۲۰۱۳ء

’’کعبہ مرے پیچھے ہے کلیسا مرے آگے‘‘

قائد اعظمؒ کے ان ارشادات اور ان کے دیگر درجنوں فرمودات سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ پاکستان میں قانونی نظام اور قوانین کے حوالے سے کس قسم کی تبدیلیوں کی خواہش رکھتے تھے۔ وہ اسلام کے معاشی اور معاشرتی قوانین کو بروئے کار لانے کے متمنی تھے اور مغرب کے نظام معیشت پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اسلام کے معاشی اصولوں کے مطابق ملک میں ایک نئے معاشی نظام اور اقتصادی ڈھانچے کی تشکیل چاہتے تھے۔ لیکن ہماری حالت یہ ہے کہ نصف صدی سے زیادہ گزر جانے کے باوجود ابھی تک ’’انڈیا ایکٹ‘‘ سے چمٹے ہوئے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ’’کعبہ مرے پیچھے ہے کلیسا مرے آگے‘‘

۱۵ نومبر ۲۰۱۲ء

مسئلہ قادیانیت اور دستور سے انحراف

۷ ستمبر کا دن ملک بھر کے دینی حلقوں میں ’’یومِ ختم نبوت‘‘ کے طور پر منایا جاتا ہے، اس لیے کہ اس روز ۱۹۷۴ء میں پاکستان کی منتخب پارلیمنٹ نے ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کی قیادت میں قادیانیوں کا ۹۰ سالہ مسئلہ حل کرتے ہوئے رائے عامہ اور دینی حلقوں کا یہ متفقہ موقف دستوری طور پر تسلیم کر لیا تھا کہ قادیانی گروہ ایک نئے نبی کا پیروکار ہونے کی وجہ سے امت مسلمہ کا حصہ نہیں رہا، اس لیے اسے مسلمانوں کا حصہ سمجھنے کی بجائے ملک کی غیر مسلم اقلیتوں کے ساتھ شمار کیا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مسئلہ قادیانیت اور دستور سے انحراف

۱۲ ستمبر ۲۰۱۱ء

بوسیدہ مصاحف و اوراق کو بے حرمتی سے بچانے کی عملی صورتیں

قرآن کریم کے بوسیدہ اوراق اور شہید ہوجانے والے نسخوں کا مسئلہ ہر دور میں زیربحث رہا ہے۔ ان بوسیدہ مصاحف اور اوراق کو بے حرمتی سے بچانے کی مختلف عملی صورتیں سامنے آتی رہی ہیں جن میں انہیں نذرِ آتش کر کے راکھ کو کسی محفوظ جگہ دفن کر دینے، کسی پرانے کنویں میں ڈال دینے یا الگ تھلگ زمین میں دفن کر دینے کے طریقے ہمارے ہاں قابل استعمال رہے ہیں۔ جبکہ نذرِ آتش کر دینے کے طریقے پر بحث بھی ہوتی رہی ہے کہ کیا یہ بجائے خود بے حرمتی کے زمرے میں تو شمار نہیں ہوتا؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر بوسیدہ مصاحف و اوراق کو بے حرمتی سے بچانے کی عملی صورتیں

یکم اپریل ۲۰۱۱ء

تحفظِ ناموسِ رسالتؐ: حکومت کا مستحسن موقف

پاکستان پیپلز پارٹی ایک بار پھر بازی لیتی دکھائی دے رہی ہے اور ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کی روح دوبارہ اپنی پارٹی کے قلب و دماغ کو متوجہ کرتی نظر آرہی ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو مرحوم سے تمام تر اختلافات کے باوجود ان کا یہ کریڈٹ ہمیشہ غیر متنازعہ رہا ہے کہ انہوں نے ۱۹۷۳ء کے دستور میں پاکستان کی اسلامی نظریاتی شناخت کو قائم رکھا، قوم سے نفاذِ اسلام کا دستوری عہد کیا، عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کا دیرینہ مسئلہ حل کیا، اسلامی سربراہ کانفرنس کا اہتمام کر کے عالم اسلام کو وحدت اور یکجہتی کا پیغام دیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر تحفظِ ناموسِ رسالتؐ: حکومت کا مستحسن موقف

۲۲ فروری ۲۰۱۱ء

بین المذاہب ہم آہنگی کی ضرورت: مسلم اور مسیحی رہنماؤں کے درمیان ایک مکالمہ

مولانا قاری محمد حنیف جالندھری باذوق اور باہمت آدمی ہیں، دینی جدوجہد کے محاذ پر ہر وقت کچھ نہ کچھ کرتے رہتے ہیں، ملک میں دینی مدارس کے سب سے بڑے نیٹ ورک وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے ناظمِ اعلیٰ اور اہم دینی درسگاہ جامعہ خیر المدارس ملتان کے مہتمم کی حیثیت سے ہمہ وقت مصروف زندگی میں سے بین المذاہب ہم آہنگی اور مختلف مذاہب کے دینی رہنماؤں کے درمیان رابطہ و مفاہمت کے فروغ کے لیے بھی وقت نکال لیتے ہیں اور ملکی و بین الاقوامی سطح پر کوئی نہ کوئی سلسلہ چلائے رکھتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر بین المذاہب ہم آہنگی کی ضرورت: مسلم اور مسیحی رہنماؤں کے درمیان ایک مکالمہ

۳۱ دسمبر ۲۰۱۰ء

نفاذ شریعت کی جدوجہد: علمی مباحثہ کی ضرورت

یہ سوال قیام پاکستان کے فوراً بعد اٹھ کھڑا ہوا تھا کہ اسلام کے نام پر قائم ہونے والی ایک نئی نظریاتی ریاست کا دستوری ڈھانچہ کیا ہوگا اور اس کی تشکیل میں مختلف مذہبی مکاتب فکر کے باہمی اختلافات کا کس حد تک عمل دخل ہوگا؟ چنانچہ اسی ضرورت کو سامنے رکھتے ہوئے تمام مکاتب فکر کے ۳۱ سرکردہ علماء کرام نے ۲۲ متفقہ دستوری نکات قوم کے سامنے پیش کیے تھے تاکہ پاکستان کے دستوری ڈھانچے اور قانونی نظام کے بارے میں دینی حلقوں کا متفقہ موقف سامنے آ جائے اور یہ بات بھی واضح ہو جائے کہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر نفاذ شریعت کی جدوجہد: علمی مباحثہ کی ضرورت

دسمبر ۲۰۱۰ء

آسیہ مسیح کیس: سیکولر لابی کی دیدہ دلیری اور دینی قوتوں کا امتحان

آسیہ مسیح کا کیس توہینِ رسالت کے سابقہ درجنوں کیسوں سے مختلف نہیں ہے اور نہ ہی اس پر سیکولر حلقوں کا ردعمل اور ان کی سرگرمیاں غیر متوقع ہیں۔ البتہ دینی حلقوں کی بیداری اور ان کے ردعمل کی کیفیت بہرحال پہلے جیسی نہیں ہے اور اہل دین کے لیے اصل لمحۂ فکریہ یہی ہے۔ ایک مسیحی خاتون نے مبینہ طور پر توہینِ رسالتؐ کا ارتکاب کیا، اس کے خلاف مقدمہ درج ہوا، عدالت میں کیس چلا اور تمام ضروری عدالتی مراحل سے گزرنے کے بعد مجاز عدالت نے اسے موت کی سزا سنا دی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر آسیہ مسیح کیس: سیکولر لابی کی دیدہ دلیری اور دینی قوتوں کا امتحان

۲۶ نومبر ۲۰۱۰ء

دہشت گردی کے خلاف فتویٰ ۔ تمام پہلوؤں پر نظر رکھنے کی ضرورت

حکومتی حلقوں کی خواہش ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اس کی پالیسیوں کے حوالے سے علماء کرام کی طرف سے بھرپور حمایت کی جائے اور خودکش حملوں کے حرام ہونے کا اجتماعی فتویٰ دیا جائے۔ لیکن موجودہ صورتحال میں یہ بات بہت مشکل ہے کہ علماء کرام حکومت کی پالیسیوں کی آنکھیں بند کر کے حمایت کریں اور نہ ہی حکومت کو اس کی توقع کرنی چاہیے۔ اس لیے کہ جو بات جس حد تک درست ہوگی اس کی ضرور حمایت کی جائے گی لیکن جو بات درست نہیں ہوگی اس کی حمایت نہیں کی جائے گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دہشت گردی کے خلاف فتویٰ ۔ تمام پہلوؤں پر نظر رکھنے کی ضرورت

۲۲ دسمبر ۲۰۰۹ء

ضروریات اور معاوضوں کا تفاوت ۔ ایک استفسار

کراچی کے جناب افتخار احمد (باغ ملیر، کراچی) کی طرف سے بھجوایا جانے والا ایک استفسار مختلف مفتیان کرام کے ہاں زیرغور ہے جو مساجد اور دینی مدارس میں کام کرنے والے ملازمین کی تنخواہوں اور دیگر حقوق کے معیار اور مقدار کے حوالے سے ہے۔ راقم الحروف کو بھی اس کی کاپی موصول ہوئی ہے، میں عام طور پر فتویٰ نہیں دیا کرتا البتہ ذاتی رائے کے طور پر اس بارے میں کچھ گزارشات افتخار احمد کو ان شاء اللہ ضرور بھجواؤں گا اور ان سے قارئین کرام کو بھی آگاہ کروں گا۔ سرِدست ان کا استفسار ملاحظہ فرمائیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ضروریات اور معاوضوں کا تفاوت ۔ ایک استفسار

۴ دسمبر ۲۰۰۹ء

گلگت بلتستان کا اصل مسئلہ کیا ہے؟

ستمبر کے آخر میں بلتستان کے پانچ روزہ سفر کے دوران مجھے گلگت بلتستان کو داخلی خودمختاری کے پیکیج کے تحت صوبائی درجہ دینے کے بارے میں مختلف طبقات کے لوگوں سے گفت و شنید کا موقع ملا، ان میں علماء کرام بھی ہیں، سیاسی جماعتوں کے رہنما بھی ہیں، صحافی حضرات بھی ہیں اور انتظامیہ و عدلیہ کے بعض اعلیٰ افسران بھی شامل ہیں۔ ان حضرات کے تاثرات ملے جلے ہیں، حمایت کرنے والے لوگ بھی موجود ہیں اور مخالفت کرنے والوں کی کمی بھی نہیں، جبکہ حمایت کے باوجود تحفظات رکھنے والے حضرات بھی اچھی خاصی تعداد میں پائے جاتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر گلگت بلتستان کا اصل مسئلہ کیا ہے؟

۳۱ اکتوبر ۲۰۰۹ء

نفاذ شریعت: کیا، کیوں اور کیسے؟

مجھے جس موضوع پر اظہارِ خیال کی دعوت دی گئی ہے اس کے تین حصے ہیں: (۱) ایک یہ کہ شریعت کیا ہے؟ (۲) دوسرا یہ کہ اس کے نفاذ کی ضرورت کیوں محسوس کی جا رہی ہے؟ (۳) اور تیسرا یہ کہ اس کے نفاذ کا طریق کار کیا ہوگا؟ جہاں تک شریعت کا تعلق ہے، یہ بات واضح ہے کہ قرآن کریم اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام و فرامین کو شریعت کہا جاتا ہے اور قرآن و سنت سے مستنبط احکام شریعت کہلاتے ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ہی آج کے دور میں ایک سوال کیا جاتا ہے کہ شریعت کے بارے میں آپ کا وژن کیا ہے؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر نفاذ شریعت: کیا، کیوں اور کیسے؟

۹ جون ۲۰۰۹ء

پاکستان ۔ نعمت کی ناقدری اور ناشکری

گزشتہ شب جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں حضرت والد محترم مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ اور گزشتہ سال انتقال کرنے والے ان کے چھوٹے بھائی حضرت مولانا صوفی عبد الحمیدؒ سواتی کی یاد میں ’’شیخین سیمینار‘‘ کے عنوان سے تعزیتی اجتماع تھا جس میں ملک کے مختلف حصوں سے ان کے تلامذہ اور عقیدت مندوں نے ہزاروں کی تعداد میں شرکت کی اور متعدد سرکردہ علماء کرام نے دونوں بزرگوں کی علمی و دینی خدمات پر خراج عقیدت پیش کیا جن میں جسٹس (ر) مولانا مفتی محمد تقی عثمانی اور شیخ الحدیث مولانا ڈاکٹر شیر علی شاہ بطور خاص قابل ذکر ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر پاکستان ۔ نعمت کی ناقدری اور ناشکری

۳۱ مئی ۲۰۰۹ء

سوات کی صورتحال اور قومی مفاد کا تقاضا

سوات اور اس کے اردگرد کے علاقوں میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ خلافِ توقع نہیں اور جو آئندہ ہونے جا رہا ہے وہ بھی توقع کے خلاف نہیں ہوگا، اس لیے کہ یہ سب کچھ طے شدہ ہے۔ جو ہوگیا ہے، جو ہو رہا ہے اور جو ہونے والا ہے اس کے حق میں اور اس کے خلاف دونوں طرف دلائل دیے جا سکتے ہیں اور دیے جا رہے ہیں لیکن دو باتوں سے شاید ہی کوئی ذی شعور اختلاف کر سکے: ایک یہ کہ اس سے پاکستان کمزور ہو رہا ہے اور قومی وحدت کے گرد خطرات کی دھند گہری ہوتی جا رہی ہے۔ دوسری یہ کہ اس سب کچھ کے باوجود مسئلہ کے حل کی کوئی صورت دکھائی نہیں دے رہی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سوات کی صورتحال اور قومی مفاد کا تقاضا

۲۸ مئی ۲۰۰۹ء

نظامِ عدل ریگولیشن کا نفاذ ۔ عوامی نیشنل پارٹی کا کریڈٹ

میں ۱۴ اپریل کو برطانیہ آیا تھا، ۲۶ اپریل کو سعودی عرب جانے کا ارادہ ہے جہاں سے ان شاء اللہ تعالیٰ یکم مئی کو گوجرانوالہ واپس پہنچ جاؤں گا۔ سوات کے معاہدۂ امن کی قومی اسمبلی سے منظوری، سوات کے ساتھ مالاکنڈ ڈویژن اور ضلع کوہستان میں نظام عدل ریگولیشن کے نفاذ، لال مسجد کے خطیب مولانا عبد العزیز کی رہائی اور ان کے خطبۂ جمعہ، اور بونیر میں طالبان کے ہتھیار ڈالنے کی خبریں میں نے یہیں سنی ہیں۔ اور آج ٹی وی پر وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی کراچی کی وہ پریس کانفرنس بھی دیکھی ہے جس میں انہوں نے فرمایا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر نظامِ عدل ریگولیشن کا نفاذ ۔ عوامی نیشنل پارٹی کا کریڈٹ

۲۵ اپریل ۲۰۰۹ء

جج صاحبان کی بحالی اور عدلیہ سے قوم کی توقعات

چیف جسٹس آف پاکستان عزت مآب جسٹس افتخار محمد چودھری نے اپنے منصب پر دوبارہ کام شروع کر دیا ہے اور اس کے ساتھ ہی پاکستان کی عدالتی تاریخ کے ایک نئے دور کا آغاز ہوگیا ہے۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری اور ان کے ساتھ معزول کیے جانے والے دیگر معزز جج صاحبان کی بحالی کے لیے وکلاء اور قوم کے دیگر مختلف طبقات نے جس مضبوطی کے ساتھ آواز اٹھائی ہے اور اس کے لیے جہد مسلسل کی ہے وہ بلاشبہ پاکستان کی تاریخ کا ایک روشن باب ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جج صاحبان کی بحالی اور عدلیہ سے قوم کی توقعات

۲۸ مارچ ۲۰۰۹ء

مالاکنڈ ڈویژن میں شرعی نظام عدل ریگولیشن کا نفاذ

مالاکنڈ ڈویژن میں یہ مطالبہ گزشتہ دو عشروں سے جاری تھا کہ وہاں مروجہ عدالتی سسٹم کی بجائے شرعی عدالتوں کا نظام قائم کیا جائے اور اس کے لیے مولانا صوفی محمد کی سربراہی میں ’’تحریک نفاذ شریعت محمدی‘‘ نے ایک عوامی تحریک منظم کر رکھی تھی جس کے نتیجے میں ایک مرحلے میں کم وبیش تیس ہزار کے لگ بھگ مسلح افراد مینگورہ کی سڑکوں پر کئی دنوں تک دھرنا دیے بیٹھے رہے تھے اور ان کا مطالبہ یہ تھا کہ انھیں شرعی عدالتی نظام فراہم کیا جائے جہاں قاضی حضرات قرآن وسنت کے مطابق ان کے مقدمات کے فیصلے کریں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مالاکنڈ ڈویژن میں شرعی نظام عدل ریگولیشن کا نفاذ

مارچ ۲۰۰۹ء

مالاکنڈ ڈویژن میں شریعت ریگولیشن کا نفاذ۔ ایک خوش آئند اقدام

مالاکنڈ ڈویژن اور اس کے بعض دیگر ملحقہ علاقوں میں نظامِ عدل ریگولیشن کے عنوان سے شرعی عدالتوں کے قیام سے جہاں اس خطہ کے عوام میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے کہ ان کا ایک دیرینہ مطالبہ ’’بعد از خرابیٔ بسیار‘‘ ہی سہی منظور ہوگیا ہے اور پاکستان بھر کے عوام اس پر اطمینان محسوس کر رہے ہیں کہ اس علاقہ میں امن کے قیام کی امید نظر آنے لگی ہے، وہاں قومی اور بین الاقوامی سطح پر ناراضگی اور جھنجھلاہٹ کے آثار بھی بعض حلقوں میں واضح طور پر دکھائی دے رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مالاکنڈ ڈویژن میں شریعت ریگولیشن کا نفاذ۔ ایک خوش آئند اقدام

۲۰ فروری ۲۰۰۹ء

لازمی تعلیم اور دہشت گردی

جہاں تک تعلیم کے فروغ کے لیے سختی کرنے کی ضرورت ہے ہم وزیراعظم سے اتفاق کرتے ہیں اور اس کا خیرمقدم کرتے ہوئے ان سے گزارش کرتے ہیں کہ تعلیم کے فروغ اور خواندگی کے تناسب میں اضافہ کے لیے حکومت کو سختی کے ساتھ سنجیدہ پیش رفت کرنی چاہیے۔ بلکہ وزیراعظم نے تو پرائمری کی سطح تک تعلیم کو لازمی کرنے کی بات کی ہے جبکہ ہم میٹرک تک تعلیم کو لازمی قرار دینے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ اس بات کو بھی ضروری سمجھتے ہیں کہ جس سطح تک تعلیم قانونی طور پر لازمی ہو وہاں تک تعلیم مفت بھی ہو ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر لازمی تعلیم اور دہشت گردی

۲۶ اگست ۲۰۰۸ء

مولانا صوفی محمد کی رہائی اور نفاذِ شریعت کی جدوجہد

صوبہ سرحد میں متحدہ مجلس عمل کی حکومت قائم ہونے کے بعد ملک بھر کے عام لوگوں اور دینی کارکنوں کو توقع تھی کہ چونکہ متحدہ مجلس عمل کی طرح مولانا صوفی محمد بھی نفاذ شریعت کے علمبردار ہیں اس لیے ان کی رہائی اور سرگرمیوں کی بحالی کی کوئی صورت نکل آئے گی لیکن فریقین کے درمیان متعدد بار مذاکرات کے باوجود ایسا نہ ہو سکا اور یہ اعزاز جمعیۃ علماء اسلام کے وزیراعلیٰ محمد اکرم درانی کی بجائے عوامی نیشنل پارٹی کے وزیر اعلیٰ امیر حیدر ہوتی کے حصے میں آیا کہ ان کے ساتھ مولانا صوفی محمد کے مذاکرات کامیاب رہے اور پھر وہ رہا بھی ہوگئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا صوفی محمد کی رہائی اور نفاذِ شریعت کی جدوجہد

۲۷ اپریل ۲۰۰۸ء

نئے وزیراعظم کو درپیش چیلنجز

جناب یوسف رضا گیلانی کے وزیراعظم منتخب ہونے کے ساتھ ہی ۱۸ فروری ۲۰۰۸ء کو ہونے والے عام انتخابات کے نتیجے میں تبدیلیوں کا عملی آغاز ہوگیا ہے اور عدلیہ کے قابل صد احترام جج صاحبان کی رہائی کے حکم کے ساتھ یوسف رضا گیلانی نے اپنی حکومتی ترجیحات کا اظہار کر دیا ہے۔ اس سے عام شہریوں کو اطمینان حاصل ہوا ہے کہ ملک کے عوام نے ۱۸ فروری کو اپنے ووٹ کے ذریعے رائے عامہ کے اجتماعی رجحانات کی جو جھلک دنیا کے سامنے پیش کی ہے اسے احترام کا عملی درجہ حاصل ہونے والا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر نئے وزیراعظم کو درپیش چیلنجز

۲۸ مارچ ۲۰۰۸ء

پاکستانی حکمرانوں اور دانش وروں کے لیے لمحہ فکریہ

جمہوریہ ترکی کے نومنتخب صدر عبد اللہ گل نے ۵۵۰ رکنی ترک پارلیمنٹ میں ۳۳۹ ووٹ لے کر منتخب ہونے کے بعد اپنے اسلامی ایجنڈے سے دستبرداری کا اعلان کر دیا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ ان کا کوئی اسلامی ایجنڈا نہیں ہے۔ وہ کمال اتاترک کی تعلیمات کے مطابق سیکولر روایات سے مخلص رہیں گے۔ بی بی سی کے مطابق عبد اللہ گل نے کہا کہ انھوں نے سیاسی اسلام سے اپنے تمام رشتے توڑ لیے ہیں۔ ایک اور خبر کے مطابق ترکی کے نومنتخب صدر عبد اللہ گل کو فوج کی طرف سے سرد مہری کاسامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر پاکستانی حکمرانوں اور دانش وروں کے لیے لمحہ فکریہ

نومبر ۲۰۰۷ء

منکرات وفواحش کا فروغ اور ارباب دانش کی ذمہ داری

مساج پارلروں کا معاملہ ہی سامنے رکھ لیا جائے جن میں نوجوان اور نوعمر لڑکیاں مردوں کو مساج کرتی ہیں اور مساج کے نام پر بدکاری کا ایک وسیع نیٹ ورک کام کر رہا ہے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دار الحکومت اسلام آباد میں اس قسم کے بدکاری کے اڈوں کی موجودگی، ان کا فروغ اور ان پر حکومتی اداروں، دینی وسیاسی جماعتوں کی خاموشی اور سماجی اداروں کی لا تعلقی اور بے حسی کا ایک انتہائی افسوس ناک منظر سامنے ہے۔ اس صورت حال میں اگر ہمارے دانش ور صرف لال مسجد کی انتظامیہ کو ہی کوستے چلے جائیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر منکرات وفواحش کا فروغ اور ارباب دانش کی ذمہ داری

جولائی ۲۰۰۷ء

اسٹیل ملز کیس پر عدالت کا فیصلہ اور حکومت کا ردعمل

پاکستان اسٹیل ملز کراچی کی نجکاری کے حوالہ سے سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلہ پر مختلف حلقوں کی طرف سے متنوع ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ عام طور پر یہ فیصلہ لوگوں کی خوشی کا باعث بنا ہے، اس حوالہ سے بھی کہ ملک کا ایک اہم اثاثہ اخباری رپورٹوں کے مطابق اونے پونے بکنے سے بچ گیا ہے اور اس حوالہ سے بھی کہ عدالت عظمیٰ نے حکومت وقت کے خلاف ایک اہم فیصلہ دے کر اس تاثر کو کم کرنے کی کوشش کی ہے کہ حکومت اعلیٰ عدالتوں سے اپنی مرضی کے فیصلے کروانے میں اکثر کامیابی حاصل کر لیتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اسٹیل ملز کیس پر عدالت کا فیصلہ اور حکومت کا ردعمل

۱۸ جولائی ۲۰۰۶ء

’’میثاق جمہوریت‘‘

۱۹۴۷ء میں جب پاکستان وجود میں آیا تھا تو بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے اسلام اور جمہوریت کو پاکستان کی بنیاد قرار دیا تھا۔ اور اس عزم اور وعدے کے ساتھ قیام پاکستان کی جدوجہد کو منزل مقصود تک پہنچایا تھا کہ پاکستان ایک جمہوری ریاست ہوگی جو اسلامی اصولوں کے دائرے میں کام کرے گی اور نئے دور میں دنیا کو اسلامی اصولوں کے تحت ایک جمہوری ریاست اور فلاحی معاشرے کا عملی نمونہ دکھائے گی۔ لیکن قیام پاکستان کے بعد سے اب تک اسلام اور جمہوریت دونوں کے ساتھ مسلسل گلی ڈنڈا کھیلا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ’’میثاق جمہوریت‘‘

جون ۲۰۰۶ء

تعلیمی نصاب ۔ اسلامی کانفرنس کا معذرت خواہانہ موقف

مکہ مکرمہ میں منعقدہ مسلم سربراہ کانفرنس کے حالیہ غیر معمولی اجلاس کے فیصلوں میں ایک اعلان یہ بھی تھا کہ مسلم ممالک اپنے اپنے نصاب تعلیم میں تبدیلی کریں گے۔ ہمارا خیال یہ تھا کہ مسلم دنیا سائنس اور ٹیکنالوجی میں معاصر اقوام سے بہت پیچھے رہ گئی ہے اور اس کوتاہی کی گزشتہ دو صدیوں سے خوفناک سزا بھگت رہی ہے، اس سلسلہ میں ہمارے حکمرانوں کو کچھ احساس ہوگیا ہوگا اور انہوں نے باہم مل بیٹھ کر یہ طے کیا ہوگا کہ اس کی تلافی کے لیے کوئی راستہ اختیار کیا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر تعلیمی نصاب ۔ اسلامی کانفرنس کا معذرت خواہانہ موقف

۳۰ دسمبر ۲۰۰۵ء

’’دی لیڈر‘‘ اور قومی نصاب کمیٹی

جہاں تک نظم کو نصاب سے خارج کرنے کا تعلق ہے یہ خوش آئند بات ہے کہ وزارت تعلیم نے ملک کے کروڑوں عوام اور ارباب علم و دانش کے جذبات کا احترام کیا ہے اور اس کا بروقت نوٹس لیا ہے۔ لیکن اس سلسلے میں جو عذر پیش کیا گیا ہے وہ محل نظر ہے اور اس نے ایک اور نازک سوال کھڑا کر دیا ہے کہ کیا ہمارے ہاں قومی نصاب سازی کا معیار یہی ہے کہ کسی صاحب کو انٹرنیٹ سے اپنے ذوق کی کوئی نظم مل گئی اور اس نے اسے اٹھا کر نصاب میں شامل کر دیا؟ ظاہر ہے کہ یہ کتاب ’’قومی نصاب کمیٹی‘‘ میں منظوری کے مراحل سے گزری ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ’’دی لیڈر‘‘ اور قومی نصاب کمیٹی

۱۳ دسمبر ۲۰۰۵ء

پاسپورٹ سے مذہب کے خانے کا خاتمہ ۔ خطرات و خدشات

جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے ۱۸ دسمبر ہفتہ کو اسلام آباد میں آل پارٹیز ختم نبوت کانفرنس طلب کر لی ہے جس کا مقصد پاسپورٹ میں مذہب کا خانہ ختم کرنے کے بارے میں حکومتی کارروائی کا جائزہ لینا ہے اور دینی حلقوں کے اس مطالبہ کی حمایت کرنا ہے کہ حسب سابق پاسپورٹ میں مذہب کا خانہ بحال کیا جائے۔ مولانا موصوف نے مختلف جماعتوں کے رہنماؤں کو اس سلسلہ میں جو دعوت نامہ جاری کیا ہے اس کا متن یہ ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر پاسپورٹ سے مذہب کے خانے کا خاتمہ ۔ خطرات و خدشات

۱۵ دسمبر ۲۰۰۴ء

نفاذ اسلام کی کوششیں اور قومی خودمختاری کا مسئلہ

گورنر سرحد سید افتخار حسین شاہ نے سرحد اسمبلی کے منظور کردہ ’’حسبہ ایکٹ‘‘ کو آئین سے متصادم قرار دیتے ہوئے واپس کر دیا ہے۔ خبر میں بتایا گیا ہے کہ گورنر کی طرف سے حسبہ ایکٹ پر سات اعتراضات کیے گئے ہیں جن میں آئین سے تجاوز اور عدالتوں کو نظر انداز کرنے کے دو اعتراض بھی شامل ہیں۔ جبکہ صوبائی وزارت قانون نے چھ صفحات پر مشتمل جواب میں ان اعتراضات کو غلط فہمی پر مبنی قرار دیا ہے۔ جواب میں کہا گیا ہے کہ حسبہ ایکٹ ممتاز آئینی اور قانونی ماہرین کی مشاورت سے بنایا گیا ہے اور اس میں جو طریق کار اختیار کیا گیا ہے اس کی آئین میں گنجائش موجود ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر نفاذ اسلام کی کوششیں اور قومی خودمختاری کا مسئلہ

۲۳ جولائی ۲۰۰۳ء

پاکستان میں نفاذ اسلام کی ترجیحات

بد قسمتی سے پاکستان بننے کے بعد سے اب تک نفاذ اسلام کے علمی و فکری تقاضوں اور عصری مسائل کے اسلامی تناظر میں تجزیہ و حل کے لیے غیر سرکاری سطح پر کوئی اجتماعی کام منظم نہیں ہو سکا۔ اگرچہ اس حوالہ سے شخصی حوالوں سے اچھا خاصا کام سامنے آیا ہے مگر شخصی فکر اور عقیدت کے دائروں میں محدود ہونے کی وجہ سے قوم کی اجتماعی زندگی میں اس کے خاطر خواہ ثمرات مرتب نہیں ہو سکے اور نفاذ اسلام کے محاذ پر علمی و فکری ہوم ورک کا خلا بدستور ارباب علم و دانش کو کھٹک رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر پاکستان میں نفاذ اسلام کی ترجیحات

فروری ۲۰۰۳ء

نظام کی ناکامی کا فطری ردعمل

حاجی محمد سرور نے خود اپنی جان اور عزت دونوں کو خطرے میں ڈال کر ہماری غفلت اور کوتاہیوں کو بے نقاب کیا ہے اور مروجہ سسٹم کی ناکامی پر مہر تصدیق ثبت کر دی ہے۔ حاجی محمد سرور اپنے اعتراف کے مطابق چار قتلوں کا مجرم ہے اور اسے قانون ہاتھ میں لینے کی سزا ضرور ملنی چاہئے لیکن اس کے ساتھ وہ مروجہ نظام کی فرسودگی اور ناکامی کا عنوان بن کر سامنے آیا ہے اور حوالات کی سلاخوں کے پیچھے سے اس سسٹم کے ذمہ داروں اور شریک طبقات کا منہ چڑا رہا ہے۔ کیا اس کے اس چیلنج کا سامنا کرنے کا ہم میں سے کسی طبقہ یا شخص میں حوصلہ ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر نظام کی ناکامی کا فطری ردعمل

۱۹ جنوری ۲۰۰۳ء

شہدائے آزادی کی روحوں کا سوال

اب ہم اس مقام پر بھی کھڑے نظر نہیں آتے جہاں سے 14 اگست 1947ء کو یہ سفر شروع کیا تھا۔ دینی و اخلاقی اقدار دھیرے دھیرے دم توڑتی جا رہی ہیں، غیرت و حمیت کا جنازہ نکل گیا ہے، ہندو ثقافت اور مغربی تہذیب کے ملغوبے نے آکاس بیل کی طرح ہماری قومی اور معاشرتی زندگی کا احاطہ کر رکھا ہے، اسلام کے ساتھ دوٹوک کمٹمنٹ اور دین و عقیدہ کی خاطر قربانی دینے کا جذبہ نہ صرف اجنبی ہوتا جا رہا ہے بلکہ اس پر بنیاد پرستی اور دہشت گردی کے لیبل لگا کر نئی نسل کو اس سے دور رکھنے کا اہتمام بھی کیا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر شہدائے آزادی کی روحوں کا سوال

۱۶ اگست ۲۰۰۲ء

غیر شرعی رسم و رواج

ہمارے ہاں لڑکی کی پیدائش کو باعث عار سمجھا جاتا ہے اور کئی مائیں اس جرم میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں یا کم از کم طلاق کی مستحق قرار پاتی ہیں کہ ان کی کوکھ سے بیٹے کی بجائے بیٹی نے جنم لیا ہے۔ یہاں عورت کو وراثت کے جائز حق سے جان بوجھ کر محروم کر دیا جاتا ہے، باپ یا خاوند کی وراثت سے اپنا حق وصول کرنے والی خواتین خاندان میں ’’نکو ‘‘ بن کر رہ جاتی ہیں۔ بعض علاقوں میں وراثت اور جائیداد تک عورت کی رسائی کا امکان ختم کرنے کیلئے اسے شادی کے فطری اور جائز حق سے محروم رکھا جاتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر غیر شرعی رسم و رواج

یکم اگست ۲۰۰۲ء

سودی نظام کا کولہو اور اس کے بیل

جہاں تک نظام کو تبدیل کرنے کی صلاحیت کا تعلق ہے ہم اس صلاحیت سے محروم نہیں ہیں، ہم تو ایک فون کال پر پورے سسٹم میں ’’یو ٹرن‘‘ لینے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور نفع و نقصان کی پرواہ کیے بغیر اسے نباہنے اور بھگتنے کا حوصلہ بھی ہمارے اندر موجود ہے۔ اس لیے بات سسٹم کو تبدیل کرنے کی صلاحیت اور اس تبدیلی کے نقصانات برداشت کرنے کے حوصلہ کی نہیں ہے بلکہ اصل بات کچھ اور ہے۔ جب تک ہم اس بات کا پوری طرح ادراک کر کے اسے گرفت میں لانے کی کوشش نہیں کریں گے نو آبادیاتی استحصالی نظام کے ’’کولہو‘‘ کے گرد اسی طرح چکر کاٹتے رہیں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سودی نظام کا کولہو اور اس کے بیل

۲۹ جون ۲۰۰۲ء

پاکستان میں سودی نظام ۔ تین پہلوؤں سے

اسلامی جمہوریہ پاکستان میں سودی نظام و قوانین کے ۳۰ جون ۲۰۰۲ء تک خاتمہ کے لیے سپریم کورٹ آف پاکستان کے تاریخی فیصلے پر نظر ثانی کے سلسلے میں یو بی ایل کی اپیل ان دنوں شریعت اپیلٹ بنچ سپریم کورٹ آف پاکستان میں زیر سماعت ہے۔ اس موقع پر دینی و ملی ذمہ داری محسوس کرتے ہوئے ’’پاکستان شریعت کونسل‘‘ کی طرف سے چند گزارشات فریقین کے وکلاء اور اس موضوع سے دلچسپی رکھنے والے دیگر سرکردہ ارباب علم و دانش کی خدمت میں پیش کی جا رہی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر پاکستان میں سودی نظام ۔ تین پہلوؤں سے

۱۶ جون ۲۰۰۲ء

اسلام میں شخصی اور تجارتی سود دونوں حرام ہیں

حکومتی حلقے موجودہ مالیاتی نظام کے تسلسل کو ہر حال میں باقی رکھنا چاہتے ہیں اور سودی قوانین کو اسلامی قوانین میں تبدیل کرنے کے لیے قطعاً تیار نہیں ہیں۔ اس کی غمازی اٹارنی جنرل آف پاکستان کے اس بیان سے بھی ہوتی ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ ہم ایسے علماء تلاش کر رہے ہیں جو سود کا شرعی طور پر جواز پیش کر سکیں۔ اس لیے اس سلسلہ میں اب تک ہونے والے اقدامات کی روشنی میں قیاس کیا جا سکتا ہے کہ حکومت عدالت عظمیٰ سے اس فیصلہ پر عملدرآمد کو غیر معینہ مدت تک ملتوی کرانے یا کم از کم مزید مہلت حاصل کرنے میں کامیاب ہوگی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اسلام میں شخصی اور تجارتی سود دونوں حرام ہیں

۱۲ جون ۲۰۰۲ء

سود کی حیثیت رسول اللہؐ کی نظر میں

سود کے بارے میں سپریم کورٹ آف پاکستان میں بحث جاری ہے اس مناسبت سے جناب نبی اکرمؐ کے چند ارشادات پیش کیے جا رہے ہیں۔ (۱) بخاری شریف میں حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ جناب نبی اکرمؐ نے کبیرہ گناہوں میں سات بڑے گناہوں کا ذکر فرمایا اور ان میں سود کا بھی ذکر کیا کہ سات بڑے گناہوں میں سود کا لین دین بھی شامل ہے۔ (۲) بخاری شریف میں حضرت عبد اللہؓ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہؐ نے فرمایا کہ سود کھانے والوں، دینے والوں، سودی کاروبار کے گواہوں، اور سود کا معاملہ لکھنے والوں پر اللہ تعالیٰ نے لعنت فرمائی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سود کی حیثیت رسول اللہؐ کی نظر میں

۱۱ جون ۲۰۰۲ء

افغانستان پر امریکی حملے کی معاونت ۔ صدر مشرف کا سیرۃ نبویؐ سے استدلال

صدر صاحب نے افغانستان پر حملہ میں امریکہ کی معاونت کے جواز میں حضورؐ کے اسوۂ حسنہ سے استدلال کیا ہے اور کہا ہے کہ رسالت مآبؐ نے ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں یہودی قبائل کے ساتھ معاہدہ کر کے بدر، احد اور خندق کے معرکوں میں کفار مکہ کو شکست دی اور اس کے بعد حدیبیہ میں کفار مکہ سے معاہدہ کر کے غزوۂ خیبر میں یہودیوں کی شکست کی راہ ہموار کی، اس لیے حکمت اور دانش کے تحت کسی کافر قوم سے وقتی مصالحت کا جواز موجود ہے۔ صدر مشرف کا یہ استدلال درست نہیں ہے، اس لیے کہ جناب نبی اکرمؐ کے دونوں طرف کافر اقوام تھیں اور دونوں دشمن تھیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر افغانستان پر امریکی حملے کی معاونت ۔ صدر مشرف کا سیرۃ نبویؐ سے استدلال

۲۷ ستمبر ۲۰۰۱ء

سودی نظام کے خاتمہ کی جدوجہد ۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ اور یونائیٹڈ بینک کی اپیل

گزشتہ اتوار کو جامعہ انوار القرآن کراچی میں پاکستان شریعت کونسل کے زیر اہتمام منعقدہ ’’علماء کنونشن‘‘ میں شرکت کے لیے گیا تو اس موقع پر دارالعلوم کراچی کے سربراہ حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی سے غیر سودی مالیاتی نظام کے سلسلہ میں تفصیلی گفتگو کا موقع ملا۔ مفتی صاحب اس کمیشن کے واحد عالم دین رکن ہیں جو سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلہ کی روشنی میں غیر سودی مالیاتی نظام کے مسودہ کی تیاری کے لیے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے سابق گورنر جناب ایم آئی حنفی کی سربراہی میں قائم کیا گیا ہے اور جس نے مسودہ قانون مرتب کر کے حکومت کے سپرد کر دیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سودی نظام کے خاتمہ کی جدوجہد ۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ اور یونائیٹڈ بینک کی اپیل

۲۷ مئی ۲۰۰۱ء

سنی و شیعہ رہنماؤں سے ایک دردمندانہ گزارش

شیخ حق نواز کی پھانسی کے بعد جھنگ، ہنگو اور شیخوپورہ میں فرقہ وارانہ تشدد کے جو المناک واقعات رونما ہوئے ہیں اور بیسیوں بے گناہ شہریوں کی افسوسناک ہلاکت پر منتج ہوئے ہیں انہوں نے اس سوال کی شدت اور سنگینی میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہےکہ آخر اس عمل کو کب اور کہاں بریک لگے گی؟ عید کے دن مجھے اپنے علاقہ کے پولیس افسران کی ایڈوائس پر اپنے تیس سال سے چلے آنے والے معمول کو بدل کر ایک متعین راستے پر پیدل عید گاہ جانے کی بجائے راستہ بدل کر اور سواری پر نماز عید پڑھانے کے لیے جانا پڑا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سنی و شیعہ رہنماؤں سے ایک دردمندانہ گزارش

۱۲ مارچ ۲۰۰۱ء

حق نواز کی پھانسی اور مذہبی انتہا پسندی

لاہور میں ایران کے خانہ فرہنگ کے ڈائریکٹر آقائے صادق گنجی کے قتل کے جرم میں سپریم کورٹ کے فیصلہ کے مطابق جھنگ کے مذہبی کارکن حق نواز کو میانوالی جیل میں پھانسی دے دی گئی ہے اور اسے اس کی وصیت کے مطابق جامعہ محمودیہ جھنگ میں سپاہ صحابہؓ پاکستان کے بانی مولانا حق نواز شہیدؒ کے پہلو میں سپرد خاک کر دیا گیا ہے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ اس پھانسی کو رکوانے کے لیے سپاہ صحابہؓ کے راہنماؤں نے ہر ممکن کوشش کی اور بعض دیگر دینی حلقوں نے بھی اس سلسلہ میں ان سے تعاون کیا لیکن ایسی کوئی کوشش کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوئی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حق نواز کی پھانسی اور مذہبی انتہا پسندی

۶ مارچ ۲۰۰۱ء

بسنت کے بارے میں حکومتِ پنجاب کا موقف

ہمیں حیرت پنجاب کے ایڈووکیٹ جنرل مقبول انور ملک صاحب کے اس ارشاد پر ہوتی ہے کہ انہیں بسنت پر پابندی لگانے کے لیے کوئی قانون نہیں مل رہا۔ اس کی وجہ اس کے سوا اور کیا ہو سکتی ہے کہ ان کے سامنے شریعت اسلامیہ کے قوانین نہیں ہیں۔ ورنہ انہیں یہ بات معلوم ہوتی کہ فقہاء اسلام نے ’’سد ذرائع‘‘ کا ایک مستقل اصول بیان کیا ہے کہ جو چیز کسی غلط نتیجہ کا باعث بن رہی ہو اور جس سے کسی نقصان کا واضح خطرہ نظر آرہا ہو اسے جائز ہونے کے باوجود شرعاً ممنوع قرار دیا جا سکتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر بسنت کے بارے میں حکومتِ پنجاب کا موقف

۱۹ فروری ۲۰۰۱ء

وزیرداخلہ کی سفارشات اور حقیقتِ حال

اگر کفریہ باتوں کے اظہار پر پابندی نہ ہو اور صرف کافر کہنے پر پابندی لگا دی جائے تو یہ یکطرفہ بات ہوگی جو سراسر ناانصافی ہے اور کوئی بھی معقولیت پسند شخص اس کو قبول نہیں کر پائے گا۔ جبکہ منطقی اور بدیہی بات یہ ہے کہ جہاں کفر کی باتوں کا اعلانیہ اظہار ہوگا تو اسے کفر قرار دینے پر پابندی کا کوئی عقلی اور اخلاقی جواز نہیں رہ جائے گا۔ اس لیے اس ضمن میں ہم یہ ضروری سمجھتے ہیں کہ وفاقی شرعی عدالت یا اسلامی نظریاتی کونسل کے آئینی اداروں کے ذریعہ ان امور کا تعین کیا جائے جو کفر کا موجب بنتے ہیں اور جن کے اظہار کی اسلامی جمہوریہ پاکستان میں کسی کو اجازت نہیں ہونی چاہیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر وزیرداخلہ کی سفارشات اور حقیقتِ حال

۴ اکتوبر ۲۰۰۰ء

مسئلہ کشمیر اور سردار محمد عبد القیوم خان

گزشتہ کالم میں آزاد کشمیر کے سابق وزیراعظم سردار محمد عبد القیوم خان کے ساتھ ایک دو ملاقاتوں کے دوران ان کے ساتھ ہونے والی گفتگو میں قارئین کو شریک کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ سردار صاحب کے ساتھ میری ملاقاتوں کا سلسلہ بہت پرانا ہے۔ مظفر آباد کے اقتدار کے لیے ان کی آنکھ مچولی کی سیاست بسا اوقات میری سمجھ سے بالاتر ہو جاتی ہے لیکن آج کے سیاستدانوں کی مجموعی کھیپ کو سامنے رکھتے ہوئے دو حوالوں سے ان کا وجود غنیمت محسوس ہوتا ہے۔ ایک یہ کہ وہ باخبر اور صاحب مطالعہ سیاست دان ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مسئلہ کشمیر اور سردار محمد عبد القیوم خان

۳۰ جون و یکم جولائی ۲۰۰۰ء

افغان مہاجرین کا مسئلہ

محترم میجر (ر) سہیل پرویز نے گزشتہ روز اپنے کالم میں افغان مہاجرین کے حوالہ سے ایک خوبصورت سوال اٹھایا ہے کہ ’’کلہ بہ زئی؟‘‘ (یعنی واپس کب جاؤ گے؟)۔ میجر صاحب کا ارشاد ہے کہ افغان مہاجرین جب روسی جارحیت کا شکار ہونے کے بعد ہجرت کر کے پاکستان آئے تو پاکستانی عوام نے ان کا خیرمقدم کیا تھا لیکن ان مہاجرین میں ایسے لوگ بھی بڑی تعداد میں آگئے جنہوں نے پاکستان میں جائیدادیں خریدنے اور کاروبار بڑھانے کے سوا کوئی کام نہیں کیا۔ اور اب یہ لوگ پاکستانی قوم کے لیے وبال جان بنتے جا رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر افغان مہاجرین کا مسئلہ

یکم فروری ۲۰۰۰ء

عالم اسلام یا پاکستان میں ایک روز عید کے امکانات

عید الفطر اس سال بھی پاکستان میں ایک دن نہیں منائی جا سکی کیونکہ صوبہ سرحد کے اکثر علاقوں میں باقی ملک سے ایک دن پہلے منائی گئی ہے۔ اس پر مختلف حلقوں میں بحث و تمحیص کا سلسلہ جاری ہے اور ایسا ہر سال ہوتا ہے کہ عید کے چند روز تک بحث و مباحثہ جاری رہتا ہے لیکن اس حوالہ سے کوئی ٹھوس عملی پیش رفت ہوئے بغیر خاموشی طاری ہو جاتی ہے۔ اس سلسلہ میں چند اصولی باتوں کا تذکرہ مناسب معلوم ہوتا ہے جن سے قارئین کو موجودہ صورتحال کا پس منظر سمجھنے میں کچھ آسانی ہوگی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر عالم اسلام یا پاکستان میں ایک روز عید کے امکانات

۱۶ جنوری ۲۰۰۰ء

سودی نظام اور سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ

سپریم کورٹ آف پاکستان کے شریعت ایپلیٹ بینچ نے ہر قسم کے سود اور سودی کاروبار کو قرآن و سنت سے متصادم اور غیر اسلامی قرار دے کر فیصلہ دے دیا ہے کہ سود اور سودی کاروبار کے بارے میں تمام مروجہ قوانین 31 مارچ 2000ء کو خودبخود ختم ہو جائیں گے۔ جسٹس خلیل الرحمان خان، جسٹس منیر اے شیخ، جسٹس وجیہہ الدین اور جسٹس مولانا محمد تقی عثمانی پر مشتمل ایپلیٹ بینچ نے وفاقی شرعی عدالت کے فیصلہ کے خلاف متعلقہ فریقوں کی اپیلوں کی طویل سماعت کے بعد یہ تاریخی فیصلہ صادر کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سودی نظام اور سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ

۲ جنوری ۲۰۰۰ء

’’جنگجو اسلام‘‘ اور امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ

امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ پاکستانی عوام کی ۸۲ فیصد اکثریت شریعت اسلامیہ کے قانون کو ملکی قانون کا درجہ دینے کے حق میں ہے۔ ایک قومی روزنامہ میں شائع ہونے والی تفصیلات کے مطابق امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے حالیہ فوجی انقلاب سے تین ماہ قبل ایک پاکستانی ادارہ کے ذریعے کراچی، سکھر، لاہور، اسلام آباد، راولپنڈی، پشاور اور کوئٹہ میں سروے کا اہتمام کرایا۔ رائے عامہ کا سروے کرنے والے اس ادارے نے جو اعداد و شمار مرتب کیے انہیں امریکی ڈیپارٹمنٹ نے ۲۲ اکتوبر کو رپورٹ کی صورت میں شائع کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ’’جنگجو اسلام‘‘ اور امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ

۱۶ دسمبر ۱۹۹۹ء

این جی اوز کا مطالبہ / پاکستان کا مروجہ عدالتی نظام

حکومت پاکستان نے بعض اخباری اطلاعات کے مطابق این جی اوز (نان گورنمنٹل آرگنائزیشنز) کے خلاف کارروائی شروع کر دی ہے اور سرکاری حلقوں کے بقول اسلام اور پاکستان کے خلاف کام کرنے والی تنظیموں پر پابندی لگانے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ یہ غیر سرکاری تنظیمیں عوامی فلاح و بہبود، صحت، تعلیم اور رفاہ عامہ کے دیگر کاموں میں عوام کی خدمت کے عنوان سے کام کرتی ہیں، انہیں بین الاقوامی ادارے اس نام سے خطیر رقم فراہم کرتے ہیں اور پاکستان میں ایسی تنظیموں کی تعداد ہزاروں میں بیان کی جاتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر این جی اوز کا مطالبہ / پاکستان کا مروجہ عدالتی نظام

۱۶ جولائی ۱۹۹۹ء

علم و تحقیق اور ہمارا موجودہ تعلیمی نظام

یہ ادراک اور شعور ابھی تک ہمارے قومی مزاج کا حصہ نہیں بن پایا کہ یہ دونوں کام یعنی اسلامی فلاحی معاشرہ کی تشکیل اور جدید ترین ٹیکنالوجی پر دسترس علم اور تحقیق کے بغیر ممکن نہیں ہیں۔ ان کی بنیاد ہی علم و مطالعہ اور تحقیق و تربیت پر ہے۔ اس کے لیے جہاں اسلامی علوم کی گہرائی تک پہنچنا اور ملت اسلامیہ کی چودہ سو سالہ تاریخ کے اتار چڑھاؤ سے واقفیت ضروری ہے، وہاں ٹیکنالوجی اور صلاحیت و استعداد کے جدید ترین معیار کو قابو میں لانا بھی ناگزیر ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر علم و تحقیق اور ہمارا موجودہ تعلیمی نظام

۱۹ جون ۱۹۹۹ء

سنی شیعہ کشیدگی کے اسباب پر ایک نظر

سنی شیعہ کشیدگی اور باہمی قتل و قتال کی افسوسناک صورتحال کے اسباب و عوامل کا جائزہ لینے کے لیے تنظیم اسلامی پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر اسرار احمد صاحب کی سربراہی میں علماء کمیٹی نے کام شروع کر دیا ہے اور اس کے پہلے باضابطہ اجلاس کے بعد ابتدائی سفارشات کی جو شکل سامنے آئی ہے اس ے اندازہ ہوتا ہے کہ نہ صرف کمیٹی اپنے کام میں سنجیدہ ہے بلکہ کمیٹی قائم کرنے والے حضرات بھی اس سلسلہ میں کوئی عملی پیش رفت چاہتے ہیں۔ یہ کمیٹی وزیراعظم پاکستان نے قائم کی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سنی شیعہ کشیدگی کے اسباب پر ایک نظر

۱۵ و ۱۶ اپریل ۱۹۹۹ء

سودی نظام اور اس کا مجوزہ متبادل سسٹم

حکومت کی درخواست میں کہا گیا ہے کہ بلاسود بینکاری کا کوئی متبادل سسٹم ابھی تک پیش نہیں کیا گیا اس لیے ملکی معیشت سے سود کو ختم کرنا عملاً مشکل ہے۔ یہ بات غلط ہے اس لیے کہ جون 1984ء میں اس وقت کے وزیرخزانہ جناب غلام اسحاق خان نے اپنی سالانہ بجٹ تقریر میں واضح طور پر اس امر کا اعلان کیا تھا کہ اسٹیٹ بینک اور قومی معاشی اداروں کی مشاورت کے ساتھ بلاسود بینکاری کا ایک جامع اور ٹھوس پروگرام طے پا چکا ہے اور اس کی بنیاد پر اگلے سال یعنی 85-1984ء کا بجٹ قطعی طور پر غیرسودی ہوگا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سودی نظام اور اس کا مجوزہ متبادل سسٹم

یکم مارچ ۱۹۹۹ء

وکالت کا مروجہ سسٹم اور اسلامی نظام

الجھن یہ ہے کہ وکلاء صاحبان مروجہ عدالتی نظام اور وکالت کے سسٹم کو ’’اسلام‘‘ کا لیبل لگا کر من و عن باقی رکھنا چاہتے ہیں، جبکہ مولانا صوفی محمد دو سو برس پہلے کے عدالتی نظام اور وکالتی سسٹم کو کسی تبدیلی کے بغیر نفاذ اسلام کی بنیاد بنانا چاہتے ہیں۔ یہ دونوں موقف غیر حقیقت پسندانہ ہیں اور صحیح راستہ اسی وقت سامنے آئے گا جب دونوں طبقوں (علماء اور وکلاء) کے مخلص دیندار اور اسلام کی بالادستی پر یقین رکھنے والے سنجیدہ ارباب فہم و دانش سر جوڑ کر بیٹھیں گے اور ایک دوسرے کا موقف سمجھتے ہوئے مل جل کر کوئی قابل قبول لائحہ عمل طے کریں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر وکالت کا مروجہ سسٹم اور اسلامی نظام

۲ فروری ۱۹۹۹ء

جرائم شکنی ۔ ہمارا روایتی نظام اور اسلام کا مزاج

ہمارے ارباب حل و عقد ابھی تک یہ نکتہ نہیں سمجھ پا رہے کہ کسی واقعہ کے بعد اس کے اثرات کے ازالہ کے لیے ہاتھ پاؤں مارنے کی بجائے وقوعہ سے پہلے ایسے اسباب کی روک تھام ضروری ہے جو ان واقعات کا باعث بنتے ہیں۔ ورنہ اگر اسباب موجود رہیں گے تو واقعات رونما ہوتے رہیں گے اور کسی ایک جگہ عارضی رکاوٹ و بندش دیکھ کر وہ اسباب اپنے نتائج دکھانے کے لیے کسی اور جگہ سر اٹھا لیں گے۔ اسی لیے جب قانون نافذ کرنے والے ادارے کسی ایک علاقے میں شکنجہ سخت کرتے ہیں تو دہشت گردی اپنا علاقائی دائرہ کار تبدیل کر لیتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جرائم شکنی ۔ ہمارا روایتی نظام اور اسلام کا مزاج

۱۵ جنوری ۱۹۹۹ء

ربوہ کا نیا نام: صدیق آباد، نواں قادیان یا چناب نگر؟

گزشتہ روز فلیٹیز لاہور میں انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ کی طرف سے ربوہ کا نام تبدیل ہونے کی خوشی میں پنجاب اسمبلی کی قرارداد کے محرک مولانا منظور احمد چنیوٹی اور صوبائی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر جناب حسن اختر موکل کے اعزاز میں استقبالیہ تقریب منعقد ہوئی جس میں مختلف دینی جماعتوں کے سرکردہ رہنماؤں نے شرکت کی اور ربوہ کا نام تبدیل کرنے کی قرارداد منظور کرنے پر پنجاب اسمبلی کے ارکان، حکومت، اپوزیشن اور محرک کو خراج تحسین پیش کیا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ربوہ کا نیا نام: صدیق آباد، نواں قادیان یا چناب نگر؟

۲۰ دسمبر ۱۹۹۸ء

وزیراعظم کا استقبال اور غریب عوام کی درگت

یہ واقعات نئے نہیں ہیں، جب بھی حکمرانوں کو کسی حوالہ سے بڑے ہجوم اور اجتماع کی ضرورت پڑتی ہے اس کے لیے اسی طرح کے حربے اختیار کیے جاتے ہیں۔ اس سے حکمرانوں کی وقتی سیاسی ضرورتیں تو پوری ہو جاتی ہیں، انتظامی افسران اور ممبران اسمبلی کو شاباش مل جاتی ہے، اور کچھ لوگوں کی انا کو نفسیاتی تسکین بھی حاصل ہو جاتی ہے، مگر غریب عوام کی جو درگت بنتی ہے اس کا اندازہ انہی لوگوں کو ہو سکتا ہے جو عوام میں رہتے ہیں اور انہی کے ساتھ میسر سفر کے ذرائع اختیار کرنے پر مجبور ہوتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر وزیراعظم کا استقبال اور غریب عوام کی درگت

یکم دسمبر ۱۹۹۸ء

ربوہ کا نام اور اس کے باشندوں کے مالکانہ حقوق

ایک فریق قرآن کریم کے ایک لفظ کو غلط استعمال کر کے دنیا بھر کے لوگوں کو دھوکہ دے رہا ہے، جبکہ دوسرے فریق نے دھوکہ کی اس فضا کو ختم کرنے کے لیے پیش رفت کرنا چاہی ہے۔ اب انصاف پسند لوگ خود فیصلہ کریں کہ ان میں سے کون سا فریق انسانی حقوق کی خلاف ورزی کر رہا ہے اور کون سا فریق انسانی حقوق کی پاسداری میں مصروف ہے۔ بلکہ اگر انصاف کی نظر سے دیکھا جائے تو ربوہ کے نام کی تبدیلی انسانی حقوق کا مسئلہ نہیں بلکہ اس شہر کے باشندوں کو مکانات اور دکانوں کے مالکانہ حقوق دینے کا مسئلہ انسانی حقوق کا مسئلہ ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ربوہ کا نام اور اس کے باشندوں کے مالکانہ حقوق

۲۴ نومبر ۱۹۹۸ء

قبائلی علاقہ جات اور شرعی قوانین

پاکستان کی شمالی مغربی سرحد کے ساتھ ساتھ آزاد قبائل کو ایک عرصہ سے یہ منفرد حیثیت حاصل ہے کہ ان کا نظام اور کلچر باقی ملک کے لوگوں سے مختلف ہے۔ فرنگی حکمرانوں کے دور میں یہ ’’آزاد علاقہ‘‘ کہلاتا تھا اور افغانستان اور روس سے فاصلہ قائم رکھنے کے لیے ’’بفر زون‘‘ کا کام دیتا تھا۔ جبکہ قیام پاکستان کے بعد بھی اس کی اس حیثیت میں کوئی نمایاں تبدیلی نہیں آئی اور پاکستان کا حصہ ہونے کے باوجود اس خطہ کا انتظامی اور عدالتی نظام ملک کے دیگر حصوں سے جداگانہ ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قبائلی علاقہ جات اور شرعی قوانین

۹ نومبر ۱۹۹۸ء

سپاہ صحابہ کا موقف اور انصاف کے معروف تقاضے

ماہِ رواں کے آغاز میں سپاہ صحابہؓ کے کارکنوں نے اسلام آباد میں جو مظاہرہ کیا اس کے حوالہ سے خبر آئی تھی کہ وزیراعلیٰ پنجاب وفاقی وزیرداخلہ کی موجودگی میں سپاہ صحابہؓ کے رہنماؤں سے مذاکرات کریں گے اور اس کے لیے تاریخ کا اعلان بھی ہوگیا تھا۔ وہ تاریخ گزرے ایک ہفتہ سے زیادہ عرصہ گزر گیا ہے مگر ابھی تک مذاکرات کے کوئی آثار دکھائی نہیں دے رہے جبکہ اس کے بعد سپاہ صحابہؓ پاکستان کے سربراہ مولانا علی شیر حیدری کو تین سال قید کی سزا سنائی جا چکی ہے اور سپاہ صحابہؓ کی قیادت نئے سرے سے مظاہروں کے پروگرام بنا رہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سپاہ صحابہ کا موقف اور انصاف کے معروف تقاضے

۲۸ مئی ۱۹۹۸ء

بین الاقوامی لابیاں، قادیانی گروہ اور بعض پاکستانی دانشور

روزنامہ نوائے وقت میں ’’اور پاکستان بدنام ہو رہا ہے‘‘ کے عنوان سے اصغر علی گھرال کے مضمون کی تین قسطیں نظر سے گزریں جس میں انہوں نے پاکستان میں قادیانیوں کے خلاف درج مقدمات اور ان کے حوالہ سے عالمی سطح پر قادیانیوں کی طرف سے پاکستان کو بدنام کرنے کی مہم کا ذکر کیا ہے اور قادیانیوں کو یہ تسلی دینے کی کوشش کی ہے کہ ان کے خلاف شوروغوغا صرف تنگ نظر ملاؤں نے بپا کر رکھا ہے ورنہ عام مسلمانوں کو ان سے کوئی شکایت نہیں ہے اور نہ ہی ملک کی عام آبادی قادیانیوں کے خلاف کسی قسم کی مہم میں شریک ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر بین الاقوامی لابیاں، قادیانی گروہ اور بعض پاکستانی دانشور

اپریل ۱۹۹۸ء

پچاس سالہ تقریبات اور ہمارا قومی طرزِ عمل

اسلامی جمہوریہ پاکستان کے قیام کی پچاس سالہ تقریبات کے موقع پر ۲۳ مارچ ۱۹۹۷ء کو اسلام آباد میں مسلم سربراہ کانفرنس منعقد ہوئی جس میں دنیا بھر کی مسلم حکومتوں کے سربراہوں اور ان کے نمائندوں نے شریک ہو کر عالم اسلام کے مسائل پر گفتگو کی اور پاکستانی قوم کو پچاس سالہ قومی زندگی مکمل ہونے پر مبارک باد دی۔ آزادیٔ وطن کے حوالہ سے پچاس سالہ تقریبات کا اہتمام بھارت میں بھی ہو رہا ہے جبکہ بنگلہ دیش نے انہی دنوں اپنے قیام کی پچیس سالہ تقریبات منائی ہیں۔ پاکستان کے قیام کو پچاس سال مکمل ہونے پر ملک بھر میں ہر سطح پر تقریبات کا اہتمام ہو رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر پچاس سالہ تقریبات اور ہمارا قومی طرزِ عمل

اپریل ۱۹۹۷ء

قادیانی مسئلہ ایک نئے موڑ پر

گزشتہ سال امریکی وزارتِ خارجہ نے پاکستان میں انسانی حقوق کی صورتحال کے بارے میں اپنی سالانہ رپورٹ میں قادیانیوں کا بطور خاص ذکر کیا تو قادیانی مسئلہ کا ادراک رکھنے والوں کو بخوبی اندازہ ہوگیا تھا کہ حالات کا رخ اب کدھر کو ہے اور امریکہ بہادر اس حوالہ سے ہم سے کیا چاہتا ہے۔ پاکستان میں قادیانیوں کو آئینی طور پر غیر مسلم قرار دینا اور انہیں اسلام کا نام اور مسلمانوں کی مخصوص مذہبی علامات و اصطلاحات استعمال کرنے سے قانوناً روکنا امریکہ اور دیگر مغربی لابیوں کے نزدیک انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قادیانی مسئلہ ایک نئے موڑ پر

۱۶ جنوری ۱۹۹۷ء

قادیانی وزیر اور سپریم کورٹ آف پاکستان

پاکستان بننے کے بعد ملک کی دینی جماعتوں نے مفکر پاکستان علامہ محمد اقبالؒ کی اس تجویز کو اپنا مطالبہ بنا لیا کہ قادیانیوں کو دستوری طور پر مسلمانوں سے الگ اور غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔ اس مطالبہ کے لیے 1953ء کی خون آشام تحریک چلی جس میں ہزاروں مسلمانوں نے جام شہادت نوش کیا، پھر ایوب خان مرحوم کے دور میں ایک بار پھر تحریک ابھری مگر کوئی عملی نتیجہ برآمد نہ ہوا، اور پھر 1974ء میں عوامی تحریک کے نتیجے میں ملک کی منتخب پارلیمنٹ نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قادیانی وزیر اور سپریم کورٹ آف پاکستان

۴ دسمبر ۱۹۹۶ء

نفاذ شریعت کی جدوجہد اور مغربی ممالک میں مقیم مسلمانوں کی ذمہ داریاں

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ محترم بزرگو، دوستو اور قابل صد احترام بہنو! ابھی تھوڑی دیر قبل شکاگو پہنچا ہوں اور مجھے ہدایت کی گئی ہے کہ آپ حضرات کے سامنے پاکستان میں شریعت اسلامیہ کے نفاذ کی جدوجہد کے بارے میں کچھ معروضات پیش کروں۔ اس عزت افزائی پر مسلم کمیونٹی سنٹر کے ذمہ دار حضرات کا شکریہ ادا کرتے ہوئے آپ سب احباب سے اس دعا کا خواستگار ہوں کہ اللہ رب العزت کچھ مقصد کی باتیں کہنے اور سننے کی توفیق دیں اور حق کی جو بات بھی علم اور سمجھ میں آئے، اللہ تعالیٰ اس پر عمل کی توفیق عطا فرمائیں، آمین یا الہ العالمین ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر نفاذ شریعت کی جدوجہد اور مغربی ممالک میں مقیم مسلمانوں کی ذمہ داریاں

اپریل ۱۹۹۶ء

ہماری پالیسیوں کی بنیاد اور حکمرانوں کی قلابازیاں

اب جب ملک کے عوام سڑکوں پر آئے ہیں تو حکمرانوں نے زبان بدل لی ہے کہ اگر پھانسی سے بڑی کوئی سزا ہو تو ہم گستاخ رسولؐ کو وہ سزا دینے کے لیے بھی تیار ہیں، جبکہ صدر محترم کا ارشاد ہے کہ اس قانون میں ترمیم کے بارے میں سوچا بھی نہیں جا سکتا۔ ہمارے ہاں حکمرانوں کی یہ قلابازیاں کوئی نئی بات نہیں ہے، اس کا مظاہرہ اس سے قبل بھی کئی مواقع پر ہو چکا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں پالیسیوں کی بنیاد لوگوں کے خوف پر ہے، باہر کے لوگوں کا خوف بڑھ جائے تو رخ ادھر ہو جاتا ہے اور اندر کے لوگوں کا خوف پریشان کرنے لگے تو پالیسیوں کا توازن اس طرف جھکنے لگتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ہماری پالیسیوں کی بنیاد اور حکمرانوں کی قلابازیاں

اگست ۱۹۹۴ء

لاؤڈ اسپیکر اور علماء کرام

ان دنوں پاکستان کی وفاقی حکومت کے ایک مبینہ فیصلہ کے حوالہ سے لاؤڈ اسپیکر دینی حلقوں میں پھر سے موضوع بحث ہے اور لاؤڈ اسپیکر کی آواز کو مساجد کی چار دیواری کے اندر محدود کر دینے کے فیصلہ یا تجویز کو مداخلت فی الدین قرار دے کر اس کی پرجوش مخالفت کی جا رہی ہے۔ ایک دور تھا جب لاؤڈ اسپیکر نیا نیا متعارف ہوا تو مساجد میں اس کے استعمال کے جواز و عدم جواز اور نماز میں لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے سے امام کی آواز مقتدیوں تک پہنچنے کی شرعی حیثیت کی بحث چھڑ گئی تھی۔ ایک مدت تک ہمارے فتاوٰی اور علمی مباحث میں اس کا تذکرہ ہوتا رہا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر لاؤڈ اسپیکر اور علماء کرام

جولائی ۱۹۹۴ء

گلگت و ملحقہ علاقوں کی مجوزہ صوبائی حیثیت ۔ صدر پاکستان کے نام عریضہ

اس پس منظر میں شمالی علاقہ جات کو صوبائی حیثیت دینے کے بارے میں حکومت پاکستان کا مذکورہ فیصلہ کشمیر کی وحدت اور کشمیری عوام کے حق خود ارادیت کے سلسلہ میں پاکستان کے قومی موقف سے ہم آہنگ نہیں ہے اور اس سے مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔ یہ درست ہے کہ شمالی علاقہ جات کے عوام سیاسی و عدالتی حقوق سے مسلسل محروم چلے آرہے ہیں اور انہیں ان کے جائز حقوق سے مزید محروم رکھنا سراسر ناانصافی اور ظلم ہوگا۔ لیکن اس کا کوئی ایسا حل جو کشمیری عوام کی جدوجہد اور مسلمہ موقف کو سبوتاژ کر دے اس سے بھی بڑا ظلم شمار ہوگا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر گلگت و ملحقہ علاقوں کی مجوزہ صوبائی حیثیت ۔ صدر پاکستان کے نام عریضہ

جون ۱۹۹۴ء

مسئلہ کشمیر پر قومی یکجہتی کے اہتمام کی ضرورت

حکومتی حلقوں اور اپوزیشن کی اس کشمکش سے قطع نظر بین الاقوامی پریس کا یہ تجزیہ بھی قابل توجہ ہے کہ قرارداد کے لیے جو محنت ضروری تھی پاکستان کی وزارت خارجہ اس کا اہتمام نہیں کر سکی حتیٰ کہ قرارداد کی حمایت میں مسلم ممالک سے روابط اور انہیں قائل کرنے کی زحمت بھی گوارا نہیں کی گئی جس کی وجہ سے انسانی حقوق کمیشن میں قرارداد کی منظوری کے امکانات مخدوش تھے اور پاکستان نے شکست سے بچنے کے لیے قرارداد کو واپس لینے یا موخر کرنے میں عافیت سمجھی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مسئلہ کشمیر پر قومی یکجہتی کے اہتمام کی ضرورت

اپریل ۱۹۹۴ء

قانونی نظام یا ایمان فروشی کی مارکیٹ؟

قائم مقام وفاقی محتسب اعلیٰ جناب جسٹس شفیع الرحمان نے اپنے ایک حالیہ مقالہ میں موجودہ قانونی صورتحال کا نقشہ کھینچتے ہوئے کہا ہے کہ ’’قوانین اور طریق کار ایماندار اور بے ایمان دونوں طرح کے افراد پر برابر وزن ڈالتا ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بے ایمان افراد کو مدد ملتی ہے جبکہ ایماندار افراد کو کنارہ کشی کرنی پڑتی ہے یا مفاہمت کرنی پڑتی ہے یا پھر اس سارے عمل میں ایماندار فرد اپنی ایمان داری سے ہی ہاتھ دھو بیٹھتا ہے‘‘۔ (بحوالہ جنگ لاہور ۔ ۳۰ دسمبر ۱۹۸۷ء) ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قانونی نظام یا ایمان فروشی کی مارکیٹ؟

۸ جنوری ۱۹۸۸ء

وزیر اعلیٰ میاں محمد نواز شریف اور موجودہ عدالتی نظام کی رکاوٹیں

جولائی ۱۹۸۷ء کو صدر جنرل محمد ضیاء الحق کے دورِ اقتدار کے گیارہویں سال کا آغاز لاہور میں بموں کے تین دھماکوں کے ساتھ ہوا جن میں اخباری اطلاعات کے مطابق سات افراد جاں بحق اور ستر سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔ دھماکوں کا یہ سلسلہ کافی عرصہ سے جاری ہے اور سرحد و بلوچستان میں بے شمار شہریوں کی جان لینے کے بعد اب اس کا رخ پنجاب کی طرف ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر وزیر اعلیٰ میاں محمد نواز شریف اور موجودہ عدالتی نظام کی رکاوٹیں

۱۷ جولائی ۱۹۸۷ء

شریعت بل پر اتفاق رائے ۔ وزیراعظم محمد خان جونیجو کے نام کھلا خط

گزارش ہے کہ روزنامہ مشرق لاہور ۲۷ جون ۱۹۸۷ء کی اشاعت میں ایک خبر شائع ہوئی ہے جس کے مطابق وفاقی کابینہ نے شریعت بل کے بارے میں عوامی رابطہ کے عنوان سے وزراء کے ملک گیر دوروں کا پروگرام طے کیا ہے اور اس پروگرام کی تکمیل تک سینٹ کے اجلاس کے انعقاد کو مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ خبر کے مطابق وزراء کے ان دوروں کا مقصد یہ بیان کیا گیا ہے کہ شریعت بل کو تمام طبقات کے لیے قابل قبول بنایا جائے۔ اس خبر کے حوالہ سے آنجناب کی خدمت میں چند ضروری گزارشات پیش کرنا ضروری سمجھتا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر شریعت بل پر اتفاق رائے ۔ وزیراعظم محمد خان جونیجو کے نام کھلا خط

۳ جولائی ۱۹۸۷ء

قادیانی مسئلہ: صدر جنرل محمد ضیاء الحق کی وضاحت اور اس کے عملی تقاضے

مرکزی مجلس عمل ختم نبوت کی تشکیل اور کل جماعتی ختم نبوت کانفرنس کے انتظامات کے سلسلہ میں گفت و شنید اور اقدامات کا سلسلہ جاری تھا کہ ۱۶ نومبر کو کراچی میں مولانا ولی رازی کی تصنیف ’’ہادیٔ عالمؐ‘‘ کی رونمائی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت جنرل محمد ضیاء الحق نے اپنے بارے میں بعض حلقوں کی طرف سے قادیانی ہونے کے پراپیگنڈے کا نوٹس لیا اور قادیانیت کے بارے میں اپنے جذبات و اعتقادات کا پہلی بار کھل کر اظہار کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قادیانی مسئلہ: صدر جنرل محمد ضیاء الحق کی وضاحت اور اس کے عملی تقاضے

۲ دسمبر ۱۹۸۳ء

جیلوں کے نظام میں اصلاح کی ضرورت

اس دفعہ بحمد اللہ تعالیٰ جیل کی اندرونی زندگی کا جائزہ لینے اور جرم و سزا کے ماحول میں بسنے والے انسانوں کا مطالعہ کرنے کا کافی موقع ملا اور بالآخر تین ماہ اٹھارہ دن جیل میں گزارنے کے بعد ۲۸ اکتوبر ۱۹۷۶ء کو اپنی انتیسویں سالگرہ کے دن ضمانت پر جیل سے رہا ہوا۔ اس دوران جیل کے اندر کی زندگی کو جس طرح دیکھا اور اس کے بارے میں جو کچھ محسوس کیا اس کی داستان تو بہت طویل ہے لیکن چند اہم امور کی طرف حکومت وقت اور رائے عامہ کو توجہ دلانا ضروری سمجھتا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جیلوں کے نظام میں اصلاح کی ضرورت

۱۲ نومبر ۱۹۷۶ء

پارلیمنٹ کا فیصلہ اور قادیانیوں کے عزائم

قادیانیت کے سلسلہ میں پارلیمنٹ کے فیصلہ کو ایک ماہ گزر چکا ہے لیکن ابھی تک نہ تو اس فیصلہ کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ضروری اقدامات کا آغاز ہوا ہے اور نہ ہی قادیانی گروہ نے اس فیصلہ کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ مرزا ناصر احمد نے گزشتہ دنوں ربوہ میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے آئین میں واضح ممانعت کے باوجود اپنے دادا کی نبوت کا پرچار جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے اور ’’خدا کی بشارتوں‘‘ کے حوالے سے کہا ہے کہ میں جنوری تک اس فیصلہ کے بارے میں کوئی ردعمل ظاہر نہیں کروں گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر پارلیمنٹ کا فیصلہ اور قادیانیوں کے عزائم

۱۸ اکتوبر ۱۹۷۴ء

قادیانی مسئلہ ۔ وزیراعظم بھٹو کی تقریر اور مولانا مفتی محمود کے ارشادات

جمعیۃ مولانا مفتی محمود نے اخباری کانفرنس میں مجلس عمل کے فیصلوں پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ وزیراعظم بھٹو قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے اور اس سلسلہ میں سواد اعظم کے دوسرے مطالبات تسلیم کرنے کے سلسلہ میں سنجیدہ نہیں ہیں، وہ اس مسئلہ کو اسلامی مشاورتی کونسل یا سپریم کورٹ کے سپرد کر کے سرد خانہ میں ڈالنا چاہتے ہیں۔ مجلس عمل کے مطالبات بالکل واضح ہیں، قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے مسئلہ کو قانونی حیثیت دینے کے لیے قومی اسمبلی سے فیصلہ لینا ضروری ہے لیکن وزیراعظم اپنے منصب کی حیثیت سے ربوہ کو کھلا شہر قرار دے سکتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قادیانی مسئلہ ۔ وزیراعظم بھٹو کی تقریر اور مولانا مفتی محمود کے ارشادات

۲۱ جون ۱۹۷۴ء

صوبوں کو لڑانے کی سازش

اخبارات نے ایک خبر رساں ایجنسی کے حوالہ سے بلوچستان نیشنل عوامی پارٹی کے سربراہ جناب خیر بخش مری سے منسوب یہ خبر بڑے اہتمام کے ساتھ شائع کی ہے کہ انہوں نے ہفتۂ جمہوریت کے دوران بلوچستان میں مختلف اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے پنجاب کے عوام کے خلاف سخت زبان استعمال کی ہے اور انہیں ڈاکو اور غاصب قرار دیا ہے۔ اس خبر سے ٹرسٹ کے اخبارات نے نیشنل عوامی پارٹی کے خلاف پراپیگنڈہ کے لیے خوب فائدہ اٹھایا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر صوبوں کو لڑانے کی سازش

۱۰ اگست ۱۹۷۳ء

ریڈ کراس کی بجائے ہلال احمر

صدارتی کابینہ نے ایک اجلاس میں ریڈ کراس سوسائٹی کا نام تبدیل کر کے انجمن ہلال احمر رکھنے کا فیصلہ کیا ہے اور قومی حلقوں میں اس مناسب فیصلہ کو سراہا جا رہا ہے۔ عوامی حلقوں کی طرف سے قیام پاکستان کے بعد ہی سے یہ مطالبہ کیا جا رہا تھا کہ ملک میں فرنگی ا قتدار و تسلط کے دور کی تمام یادگاروں اور نشانات کو مٹا دیا جائے اور اسلامی قانون و سیاست، اخلاق و معاشرت، اقتصاد و معیشت، تہذیب و تمدن اور روایات و اقدار کو فروغ دیا جائے۔ آزادی کی جنگ لڑنے والوں کا مطمح نظر بھی یہی تھا اور قیام پاکستان کا بنیادی محرک بھی یہی سوال بنا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ریڈ کراس کی بجائے ہلال احمر

۱۳ جولائی ۱۹۷۳ء

آئین شریعت کے لیے تئیس سالہ جدوجہد کا جائزہ

یہ بات اتنی مرتبہ دہرائی جا چکی ہے کہ رفتہ رفتہ مفہوم و مطلب کے لباس سے عاری ہو کر روز مرہ کے تکیہ کلام کی حیثیت اختیار کرتی جا رہی ہے۔ اگر شریعت کے نفاذ کا تعلق اس حقیقت کے لفظی تکرار کے ساتھ ہوتا تو پاکستان اس وقت دنیا کی مثالی اور معیاری اسلامی سلطنت کا روپ دھار چکا ہوتا۔ لیکن کہیں نعروں اور جملوں کے بار بار تکرار سے بھی کسی قوم کی تقدیر بدلتی ہے؟ بدقسمتی سے ہمارے یہاں تئیس سالوں سے نعروں اور لفظوں کے بے مقصد تکرار کا یہ کھیل پوری منصوبہ بندی کے ساتھ کھیلا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر آئین شریعت کے لیے تئیس سالہ جدوجہد کا جائزہ

۲۱ اگست ۱۹۷۰ء