پاکستان ۔ قومی سلامتی

آزاد کشمیر کی حکومت اور علماء کرام سے چند گزارشات

خطۂ کشمیر کی موجودہ صورتحال آپ کے سامنے ہے، کسی وضاحت کی ضرورت نہیں ہے کہ گزشتہ سات عشروں سے کشمیری عوام کو ان کے مسلمہ حق خودارادیت سے مسلسل محروم رکھا جا رہا ہے اور حالیہ صورتحال یہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام دو ماہ سے زیادہ عرصہ سے کرفیو کے ماحول میں ہیں، آزادانہ نقل و حرکت کے حق سے محروم ہیں اور اشیائے خورد و نوش کی قلت کا شکار ہیں، جبکہ ان کی بے بسی اور مظلومیت پر ارباب فہم و شعور کا اضطراب بڑھتا جا رہا ہے مگر عملاً کوئی بھی کچھ کرنے کی پوزیشن میں دکھائی نہیں دے رہا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر آزاد کشمیر کی حکومت اور علماء کرام سے چند گزارشات

۱۹ اکتوبر ۲۰۱۹ء

دہشت گردی کے حوالہ سے عدالت عظمیٰ کا مستحسن فیصلہ!

روزنامہ جنگ ملتان میں ۲۱، مارچ ۲۰۱۹ء کو شائع ہونے والی ایک خبر ملاحظہ فرمائیے۔ ’’اسلام آباد (جنگ رپورٹر) عدالت عظمیٰ میں دہشت گردی کے جرم میں سزائے موت پانے والے ایک ملزم صفتین کی اپیل کی سماعت کے دوران چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم دہشت گردی کی تعریف کے تعین کے لیے ۷ رکنی لارجر بینچ تشکیل دے رہے ہیں ۔۔۔۔ فاضل چیف جسٹس نے کہا کہ ۱۹۹۷ء سے آج تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ کون سا کیس دہشت گردی کے زمرہ میں آتا ہے اور کون سا نہیں آتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دہشت گردی کے حوالہ سے عدالت عظمیٰ کا مستحسن فیصلہ!

۸ اپریل ۲۰۱۹ء

افغان طالبان کو شاہ محمود قریشی کا مشورہ

وزیرخارجہ جناب شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ امریکہ نے پاکستان کا یہ موقف تسلیم کر لیا ہے کہ افغانستان میں امن و امان کے قیام کے لیے مذاکرات ہی مسئلہ کا واحد حل ہیں اور افغان مسئلہ کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے افغان طالبان سے کہا ہے کہ انہیں ہتھیار چھوڑ کر مذاکرات کی طرف آنا ہوگا۔ افغان مسئلہ کے فوجی حل کے لیے امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے جو عسکری یلغار کی تھی اس کی ناکامی کا اعتراف خود امریکی جرنیل متعدد بار کر چکے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر افغان طالبان کو شاہ محمود قریشی کا مشورہ

۱۱ دسمبر ۲۰۱۸ء

سی پیک معاہدات پر بحث کی ضرورت

بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ اور رکن قومی اسمبلی سردار اختر مینگل نے گزشتہ روز قومی اسمبلی میں بجٹ تجاویز پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ’’سی پیک معاہدات‘‘ کو قومی اسمبلی میں زیربحث لایا جائے تاکہ یہ پتہ چل سکے کہ یہ قرضے ہیں یا سرمایہ کاری ہے؟ اپنے خطاب میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ جس طرح افغانستان سے مہاجر یہاں آئے تھے اب چینی گوادر میں بہت تعداد میں آئے ہوئے ہیں، بلوچستان کی معدنیات چین لے جا رہا ہے اور ہمیں اس بارے میں کچھ نہیں بتایا جا رہا کہ کتنا سونا اور دوسری معدنیات نکل رہی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سی پیک معاہدات پر بحث کی ضرورت

۳ اکتوبر ۲۰۱۸ء

ملک کی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کے دفاع کے لیے قوم کا عزم

ستمبر کو یومِ دفاعِ پاکستان اور ۷ ستمبر کو یومِ ختم نبوت تھا، بحمد اللہ تعالٰی دونوں دن خاصی مصروف رہی۔ ملک کی جغرافیائی سرحدوں کا دفاع ہمارے قومی فرائض میں سے ہے اور نظریاتی سرحدوں کا دفاع بھی اہم ترین ملی تقاضا ہے چنانچہ ملک بھر میں دونوں حوالوں سے بھرپور جوش و خروش کا اظہار کیا گیا جس میں تھوڑا بہت ہمارا حصہ بھی شامل ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ملک کی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کے دفاع کے لیے قوم کا عزم

۱۲ ستمبر ۲۰۱۸ء

۱۴ اگست ۔ تجدیدِ عہد اور احتساب کا دن

تاریخ اور سماجیات کے ایک طالب علم کے طور پر جب قیام پاکستان کے پس منظر کا جائزہ لیتا ہوں تو مجھے اس کے سوا اس کی کوئی اور تعبیر نہیں سوجھتی کہ یہ اسلام کی حقانیت اور اعجاز کا اظہار تھا جو اس دور میں رونما ہوا کہ خلافت عثمانیہ کے خاتمہ کے صرف دو عشرے بعد اسلام کے نام پر ایک نئی ریاست پاکستان وجود میں آگئی جبکہ خلافت عثمانیہ کم و بیش پانچ صدیاں اسلام کے عنوان سے شرعی قوانین کے نفاذ کے ساتھ گزار کر دنیا کے نقشے سے غائب ہوگئی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ۱۴ اگست ۔ تجدیدِ عہد اور احتساب کا دن

۱۳ اگست ۲۰۱۸ء

پاک چین دوستی اور اس کے تقاضے

روزنامہ انصاف لاہور ۲۰ فروری ۲۰۱۸ء کی رپورٹ کے مطابق: ’’چیئرمین سینٹ جناب رضا ربانی نے کہا ہے کہ چینی زبان پاکستان اور چین کے کاروباری شعبہ کے مابین سہولت پیدا کر رہی ہے، پاکستانی زبان اور ثقافت کو مدنظر رکھتے ہوئے چینی زبان کو فروغ ملنا چاہیے۔ جبکہ چینی سفیر پاؤچنگ کا کہنا ہے کہ چینی زبان دونوں ممالک کے درمیان گہرے رابطے کا ذریعہ بن رہی ہے۔ چین خلوص اور وفاداری کے ساتھ معاشی اور دفاعی لحاظ سے مضبوط پاکستان دیکھ رہا ہے، چینی زبان کے فروغ سے ثقافتی روابط بھی مضبوط ہو رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر پاک چین دوستی اور اس کے تقاضے

مارچ ۲۰۱۸ء

صدر ٹرمپ کا بیان اور امریکی قیادت کی نفسیات

صدر ٹرمپ کے بیان پر پاکستانی قوم نے جس متفقہ موقف اور ردعمل کا اظہار کیا ہے وہ قومی وقار اور حمیت کا ناگزیر تقاضہ ہے اور امریکہ کے لیے واضح پیغام ہے کہ بس! اب بہت ہو چکی ہے اور اس سے آگے کوئی بات قابل برداشت نہیں ہوگی۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکہ نے پاکستان کو ان کے بقول گزشتہ پندرہ سال کے دوران تینتیس ارب ڈالر دیے ہیں لیکن پاکستان نے دوغلے پن سے کام لیا ہے اور امریکہ کی توقعات کو پورا کرنے کی بجائے جھوٹ اور فریب کا مظاہرہ کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر صدر ٹرمپ کا بیان اور امریکی قیادت کی نفسیات

۶ جنوری ۲۰۱۸ء

جنرل باجوہ اور بلوچستان

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے گزشتہ روز بلوچستان کے مختلف تعلیمی اداروں سے تعلق رکھنے والے پونے دو سو کے لگ بھگ طلبہ کے ایک گروپ سے بات چیت کرتے ہوئے انہیں تلقین کی ہے کہ وہ مختلف بیرونی ایجنسیوں اور اداروں کی طرف سے پاکستان کے بارے میں کیے جانے والے منفی پراپیگنڈا سے متاثر نہ ہوں اور وطن عزیز کی سلامتی و استحکام اور فلاح و ترقی کے لیے تعلیمی میدان میں آگے بڑھیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کا تعلق بلوچ رجمنٹ سے ہے اور وہ بلوچستان کے شہریوں اور نوجوانوں سے محبت رکھتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جنرل باجوہ اور بلوچستان

۳۰ ستمبر ۲۰۱۷ء

بین الاقوامی علماء کانفرنس قاھرہ ۱۹۶۵ء سے مولانا مفتی محمودؒ کا خطاب

گزشتہ روز ہفت روزہ ترجمان اسلام لاہور کی پرانی فائیلوں کی ورق گردانی کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر پر قائد جمعیۃ علماء اسلام مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمودؒ کا ایک اہم خطاب نظر سے گزرا جو انہوں نے مئی ۱۹۶۵ء کے دوران قاہرہ میں ’’مجمع البحوث الاسلامیہ‘‘ کی سالانہ کانفرنس میں ارشا د فرمایا تھا۔ حکومت مصر کے زیراہتمام منعقد ہونے والی علماء اسلام کی اس بین الاقوامی کانفرنس میں حضرت مولانا مفتی محمودؒ، حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ اور حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ نے پاکستان کی نمائندگی کی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر بین الاقوامی علماء کانفرنس قاھرہ ۱۹۶۵ء سے مولانا مفتی محمودؒ کا خطاب

۲۹ اپریل ۲۰۱۷ء

صوبہ خیبر پختون خوا ۹۰ سال پہلے کے تناظر میں

نومبر 1927ء کے دوران پشاور میں جمعیۃ علماء ہند کی کانفرنس میں خطبۂ صدارت ارشاد فرماتے ہوئے امام المحدثین حضرت علامہ سید محمد انور شاہ کشمیریؒ نے صوبہ خیبر پختون خواہ کی اس وقت کی سیاسی صورتحال پر تفصیلی تبصرہ فرمایا تھا۔ یہ صوبہ اس وقت ’’شمال مغربی سرحدی صوبہ‘‘ کہلاتا تھا اور اسے عام طور پر صوبہ سرحد یا سرحدی صوبہ کے نام سے پکارا جاتا تھا۔ کم و بیش ایک صدی قبل کی سیاسی صورتحال پر یہ وقیع تبصرہ اگرچہ مجموعی طور پر اس دور کے تناظر میں ہے لیکن آج بھی بہت سے معاملات میں ہماری راہنمائی کرتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر صوبہ خیبر پختون خوا ۹۰ سال پہلے کے تناظر میں

۸ و ۱۴ اپریل ۲۰۱۷ء

وزیراعظم اور ’’متبادل بیانیہ‘‘

وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے دینی حلقوں کی طرف سے ’’متبادل بیانیہ‘‘ کی جس ضرورت کا ذکر کیا ہے اس کے بارے میں مختلف حلقوں میں بحث و تمحیص کا سلسلہ جاری ہے اور ارباب فکر و دانش اپنے اپنے نقطۂ نظر کا اظہار کر رہے ہیں۔ وزیراعظم کی تقریر سننے کے بعد یہ محسوس ہوا کہ انہوں نے موجودہ عالمی اور قومی تناظر میں جس ضرورت کا اظہار کیا ہے وہ یقیناً موجود ہے لیکن ’’بیانیہ‘‘ کی اصطلاح اور ’’متبادل‘‘ کی شرط کے باعث جو تاثر پیدا ہوگیا ہے وہ کنفیوژن کا باعث بن رہا ہے، ورنہ یہ بات زیادہ سیدھے اور سادہ انداز میں بھی کی جا سکتی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر وزیراعظم اور ’’متبادل بیانیہ‘‘

۱۷ مارچ ۲۰۱۷ء

تجدیدِ عہد برائے دفاع وطن

آج کی اس تقریب کا عنوان ’’تجدیدِ عہد اور دفاعِ وطن‘‘ ہے مگر میں اس میں ایک لفظی ترمیم کر کے اسے ’’تجدیدِ عہد برائے دفاعِ وطن‘‘ کی صورت میں پیش کرنا چاہوں گا اور اپنے ان عزیز نوجوانوں کو جو اسلام، وطن اور قوم کی خدمت کا جذبہ رکھتے ہیں، وطنِ عزیز پاکستان کے حوالہ سے چند باتوں کی طرف توجہ دلاؤں گا۔ وطنِ عزیز پاکستان اس وقت ہم سے جن باتوں کا تقاضہ کر رہا ہے اسے سامنے رکھنا ہم سب کے لیے ضروری ہے۔ وطنِ عزیز کا پہلا تقاضہ پاکستان کی تکمیل ہے، جغرافیائی تکمیل بھی، نظریاتی تکمیل بھی اور معاشی تکمیل بھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر تجدیدِ عہد برائے دفاع وطن

۱۶ جنوری ۲۰۱۷ء

وطنِ عزیز پاکستان کی خصوصیات اور انہیں درپیش خطرات

پاکستان جب ۱۹۴۷ء کے دوران دنیا کے نقشے پر ایک نئی ریاست کے طور پر نمودار ہوا تو دنیا میں عام طور پر یہ سمجھا گیا کہ جنوبی ایشیا کے اس خطہ کے مسلمانوں نے جذباتیت کا اظہار کر کے اسلام کے نام پر ایک الگ ملک کے قیام کا مقصد تو حاصل کر لیا ہے مگر اسے ایک مستحکم نظریاتی ریاست بنانے کے مراحل شاید وہ نہیں طے کر پائیں گے اور بھارت کے اردگرد موجود دیگر چھوٹی چھوٹی ریاستوں کی طرح یہ ملک بھی اسی طرز کی ایک ریاست کی صورت اختیار کر جائے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر وطنِ عزیز پاکستان کی خصوصیات اور انہیں درپیش خطرات

جنوری ۲۰۱۷ء

پاک امریکہ تعلقات ۔ جبر و مکر کی داستان

پاکستان کے پہلے وزیرخارجہ چودھری ظفر اللہ خان اس خارجہ پالیسی کے ماسٹر مائنڈ تھے۔ جبکہ وزیراعظم نوابزادہ لیاقت علی خان مرحوم کو اس مہارت کے ساتھ اس ’’دام ہمرنگ زمین‘‘ میں پھنسایا گیا کہ ان کے تمام تر خلوص و دیانت کے باوجود ایک تلخ سوال ان کی سیاسی بصیرت و فراست کے اس باب کا ہمیشہ کے لیے عنوان بن گیا ہے۔ وہ یہ کہ جب انہیں امریکہ اور روس دونوں کی طرف سے دورے کی دعوت ملی تھی تو انہوں نے یہ دونوں دعوتیں قبول کر کے توازن قائم رکھنے کی بجائے صرف امریکہ کی دعوت قبول کر کے اپنے ملک کو امریکی کیمپ کے ساتھ وابستہ کیوں کر لیا تھا؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر پاک امریکہ تعلقات ۔ جبر و مکر کی داستان

۳۱ دسمبر ۲۰۱۶ء

تحریک آزادیٔ کشمیر اور آزادکشمیر کا عدالتی نظام

۲۱ ستمبر کو ترازکھل آزاد کشمیر جانے کا اتفاق ہوا جہاں علماء کرام کے علاقائی فورم تنظیم اہل السنۃ والجماعۃ کا سالانہ اجتماع تھا جس کے لیے مولانا شبیر احمد ایک سال سے میرے تعاقب میں تھے۔ اس علاقہ میں جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے فضلاء کی خاصی تعداد ہے جس کی مناسبت سے دوستوں کی خواہش ہوتی ہے کہ سال میں ایک دو بار وہاں ضروری حاضر دوں اور یہ ان کا حق بھی ہے۔ اس سفر میں عزیزم حافظ محمد حذیفہ خان سواتی فاضل نصرۃ العلوم گوجرانوالہ بھی ساتھ تھا جو میرا نواسہ اور عم مکرم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید خان سواتیؒ کا پوتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر تحریک آزادیٔ کشمیر اور آزادکشمیر کا عدالتی نظام

۲۷ ستمبر ۲۰۱۶ء

برطانوی سامراج کی غلامی سے عالمی معاہدات کی غلامی تک

آزادی کے حوالہ سے ہمیں سب سے پہلے اس بات کو دیکھنا ہے کہ جس آزادی کا اعلان 14 اگست 1947ء کو کیا گیا تھا وہ آج کے دور میں کس کیفیت سے دوچار ہے۔ اس لیے کہ بظاہر آزاد ہو جانے کے بعد بھی ہم غلامی کے ان آثار سے نجات حاصل نہیں کر سکے جو ایسٹ انڈیا کمپنی اور تاج برطانیہ نے اپنے دو سو سالہ تسلط کے دوران ہمارے معاشرے پر قائم کیے تھے۔ استعماری قوتوں نے جو نظام، طرز زندگی اور پالیسیاں نوآبادیاتی دور میں رائج کی تھیں وہی سب کچھ بین الاقوامی معاہدات کے نام سے آج بھی ہمارے گلے کا ہار بنی ہوئی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر برطانوی سامراج کی غلامی سے عالمی معاہدات کی غلامی تک

۱۲ اگست ۲۰۱۶ء

یومِ یکجہتیٔ کشمیر

وہ خطہ جو صدیوں جموں و کشمیر اور اس کے ملحقات کے عنوان سے وحدت سے بہرہ ور تھا اب عملاً انتظامی طور پر تین حصوں میں تقسیم ہے۔ ایک بڑے حصے پر بھارت نے ناجائز قبضہ جما رکھا ہے۔ دوسرا حصہ پاکستان کے زیر انتظام آزاد ریاست جموں و کشمیر کے نام سے اپنی حکومت، اسمبلی اور خود مختار عدالت رکھتا ہے۔ جبکہ تیسرا حصہ جو گلگت، بلتستان، سکردو اور ہنزہ وغیرہ پر مشتمل ہے، یہ پاکستان ہی کے انتظام کے تحت انتظامی صوبہ کے طور پر اپنے الگ تشخص سے بہرہ ور ہو چکا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر یومِ یکجہتیٔ کشمیر

۵ فروری ۲۰۱۶ء

پاک امریکہ تعلقات ۔ حقیقت پسندانہ تجزیہ کی ضرورت

وفاقی وزیر خواجہ محمد آصف کا کہنا ہے کہ ہم نے جہاد افغانستان میں فریق بن کر غلطی کی تھی اور پھر جنرل پرویز مشرف کے دور میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شریک ہو کر بھی غلطی کی ہے، آئندہ یہ غلطی نہیں دہرائیں گے۔ انہوں نے یہ بات سعودی عرب ایران کشمکش کے تناظر میں کہی ہے۔ جہاں تک اپنی غلطیوں کو محسوس کرنے، ان کا اعتراف کرنے اور آئندہ غلطی نہ دہرانے کے عزم کا تعلق ہے، خواجہ صاحب کا یہ ارشاد خوش آئند ہے اور قومی سیاست میں اچھی پیش رفت کی علامت ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر پاک امریکہ تعلقات ۔ حقیقت پسندانہ تجزیہ کی ضرورت

۲۳ جنوری ۲۰۱۶ء

پاکستان میں غیر ملکی این جی اوز کی سرگرمیاں

پاکستان کے وزیر داخلہ چوہدری نثار احمد خان نے گزشتہ دنوں ایک پریس کانفرنس کے دوران پاکستان میں کام کرنے والی متعدد این جی اوز کی سرگرمیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ کہ ملکی مفاد کے خلاف کسی کو کام کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور غیر قانونی کام کرنے والی این جی اوز کو بند کر دیا جائے گا۔ پاکستان میں ہزاروں کی تعداد میں این جی اوز (غیر سرکاری تنظیمیں) مختلف سطحوں پر کام کر رہی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر پاکستان میں غیر ملکی این جی اوز کی سرگرمیاں

جولائی ۲۰۱۵ء

قادیانی رپورٹ ۲۰۱۴ء

ہم یہ سمجھتے ہیں کہ یہ رپورٹ شائع کرنے کا مقصد اس خود ساختہ مظلومیت کا ڈھنڈورا پیٹنے کے سوا کچھ نہیں ہے جس کا روپ قادیانی جماعت نے عالمی سطح پر ایک عرصہ سے دھار رکھا ہے۔ اور جس کے ذریعہ وہ اپنی موجودگی کا احساس دلاتے رہنے کے ساتھ ساتھ اسلام اور پاکستان کے خلاف سرگرم عمل بین الاقوامی اداروں کی توجہ اور ان سے مفادات حاصل کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ ورنہ ملک کی کوئی بھی سیاسی یا دینی جماعت اس قسم کا سروے کر کے اپنے خلاف شائع ہونے والی خبروں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قادیانی رپورٹ ۲۰۱۴ء

۲۸ اپریل ۲۰۱۵ء

غیر سودی بینکاری اور آئی ایم ایف

دنیا میں سودی نظام کی تباہ کاریوں کا شعور جوں جوں بڑھتا جا رہا ہے اور اس کے خلاف ردعمل جس طرح منظم ہو رہا ہے اس کے ساتھ ہی آسمانی تعلیمات کی اہمیت و برکات کا احساس بھی دھیرے دھیرے اجاگر ہو رہا ہے۔ جبکہ علمی اور فکری دنیا میں یہ بات اب کم و بیش طے سمجھی جاتی ہے کہ سودی نظام نے نسل انسانی کو اخلاقی تباہی اور معاشی انارکی کے سوا کچھ نہیں دیا اور اصلاحِ احوال کے لیے اب قرآن کریم کی طرف نظریں اٹھ رہی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر غیر سودی بینکاری اور آئی ایم ایف

اپریل ۲۰۱۵ء

کل کا مجاہد، آج کا دہشت گرد

امریکہ بہادر نے مولانا فضل الرحمن خلیل کو بھی دہشت گردی کی عالمی فہرست میں شامل کر لیا ہے اور ان پر مختلف النوع پابندیوں کا اعلان کر دیا ہے۔ مجھے تعجب ہے کہ اس میں اس قدر تاخیر کیوں ہوئی ہے؟ کیونکہ مولانا فضل الرحمن خلیل اپنے طالب علمی سے ہی جس قسم کی سرگرمیوں میں ملوث دیکھے جا رہے ہیں ان کے پیش نظر یہ کام بہت پہلے ہو جانا چاہیے تھا۔ مولانا فضل الرحمن خلیل اگر مجھے ترجمانی کا موقع دیں تو میں ایک شعر کے اس مصرعہ پر اکتفا کروں گا کہ ’’بہت دیر کی مہرباں آتے آتے‘‘ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر کل کا مجاہد، آج کا دہشت گرد

۱۴ اکتوبر ۲۰۱۴ء

ستمبر کا مہینہ اور قادیانی مسئلہ

ستمبر کے پہلے عشرہ کے دوران ملک بھر میں دو حوالوں سے تقریبات ہوتی ہیں۔ 1965ء میں پاک بھارت جنگ کا آغاز اس عشرہ میں ہوا تھا اور ملک کی مسلح افواج نے دفاع وطن کے لیے شاندار خدمات سر انجام دی تھیں جس پر شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا جاتا ہے۔ جبکہ 1974ء میں 7 ستمبر کو پاکستان کی منتخب پارلیمنٹ نے قادیانی مسئلہ کے حوالہ سے تاریخی فیصلہ صادر کرتے ہوئے مفکر پاکستان علامہ سر محمد اقبالؒ کی تجویز کے مطابق قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا دستوری فیصلہ صادر کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ستمبر کا مہینہ اور قادیانی مسئلہ

۶ ستمبر ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

ملکی دفاع کے تقاضے اور قادیانی گروہ کی ہٹ دھرمی

قادیانی دنیا کے سامنے یہ واویلا کر رہے ہیں کہ پاکستان میں انہیں مذہبی اور شہری حقوق سے محروم کر دیا گیا ہے۔ حالانکہ درحقیقت خود قادیانیوں نے اپنے لیے وہ حقوق تسلیم کرنے سے انکار کر رکھا ہے جو ملک کے دستور میں ان کے لیے طے شدہ ہیں۔ اس لیے اگر پاکستان میں قادیانیوں کے شہری حقوق کے حوالہ سے کوئی مسئلہ ہے تو اس کی ذمہ داری پاکستان کی حکومت یا عوام پر نہیں بلکہ خود قادیانیوں پر عائد ہوتی ہے، اور جب تک وہ اپنی ہٹ دھرمی ترک کر کے عالم اسلام اور پاکستانی قوم کا فیصلہ تسلیم نہیں کرتے صورت حال میں تبدیلی ممکن نہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ملکی دفاع کے تقاضے اور قادیانی گروہ کی ہٹ دھرمی

یکم ستمبر ۲۰۱۳ء

افغان طالبان اور پاکستانی طالبان: نئی حکومت کی ذمہ داریاں

انتخابات میں مرکزی حکومت اور صوبہ پنجاب میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کو جو مینڈیٹ ملا ہے وہ خود اس کی اپنی توقعات سے بڑھ کر ہے، اس لیے اس کی ذمہ داری بھی دوسروں سے کہیں زیادہ ہے۔ اس وقت نئی حکومت کو جن چیلنجوں کا سامنا ہے ان میں ڈرون حملوں کے ماحول میں ملکی خود مختاری کی بحالی، خود کش حملوں کے حوالہ سے ملک میں بد امنی اور قتل و غارت کے روز افزوں واقعات، لوڈشیڈنگ اور مہنگائی کا عذاب سر فہرست ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر افغان طالبان اور پاکستانی طالبان: نئی حکومت کی ذمہ داریاں

جولائی ۲۰۱۳ء

گلگت بلتستان کی انتظامی حیثیت کا تنازع

محمد خان جونیجو مرحوم کی وزارت عظمیٰ کا دور تھا، پرنس عبد الکریم آغا خان کی آمد و رفت گلگت بلتستان کے علاقے میں معمول سے بڑھ گئی تھی، اس کے ساتھ ہی گلگت بلتستان کو مستقل صوبہ بنانے کی باتیں اخبارات میں آنا شروع ہوئیں تو باخبر حلقوں میں تشویش پیدا ہونے لگی، اتنے میں یہ خبر شائع ہوئی کہ وزیر اعظم جونیجو مرحوم گلگت کا دورہ کرنے والے ہیں اور اس موقع پر گلگت بلتستان اور سکردو پر مشتمل شمالی علاقہ جات کو پاکستان کا مستقل صوبہ بنانے کا اعلان متوقع ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر گلگت بلتستان کی انتظامی حیثیت کا تنازع

۱۳ فروری ۲۰۱۳ء

قومی خود مختاری، ملک کا اسلامی تشخص اور بین الاقوامی معاہدات

روزنامہ ایکسپریس گوجرانوالہ ۲۰ نومبر ۲۰۱۲ء کی خبر کے مطابق سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جناب جسٹس افتخار محمد چوہدری نے ’’ریکوڈک معاہدہ‘‘ کے بارے میں شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے اور آبزرویشن دی ہے کہ بلوچستان حکومت کو معاملہ اسمبلی میں لے جانا چاہیے تھا، اگر کوئی بین الاقوامی معاہدہ ملک کے قوانین کے خلاف ہے تو اسے تحفظ حاصل نہیں ہوتا، پاکستان ایک خود مختار ملک ہے اور اس کے ساتھ عالمی معاہدوں میں ملک کے قوانین کا پورا پورا خیال رکھا جانا چاہیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قومی خود مختاری، ملک کا اسلامی تشخص اور بین الاقوامی معاہدات

دسمبر ۲۰۱۲ء

’’خود ہی مدعی، خود ہی گواہ اور خود ہی جج‘‘

پروفیسر حافظ محمد سعید اور مولانا عبد الرحمان مکی کے سروں کی قیمت مقرر کر کے امریکہ اور بھارت نے اپنے تئیں یہ سمجھ لیا ہوگا کہ انہوں نے مبینہ دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ میں کوئی پیش رفت کی ہے اور اس سے انہیں اس جنگ میں کوئی فائدہ مل سکتا ہے۔ لیکن اس کے مضمرات اور نتائج پر غور کرنے کی زحمت نہ اس کا فیصلہ کرنے والے امریکی دانشوروں نے گوارا کی ہے اور نہ ہی اس کا خیرمقدم کرنے والے بھارتی دانشوروں کو اس کی توفیق ہوئی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ’’خود ہی مدعی، خود ہی گواہ اور خود ہی جج‘‘

۷ اپریل ۲۰۱۲ء

افغان طالبان کا مختصر پسِ منظر

طویل عرصہ سے اس خبر کا انتظار تھا جو آج پڑھنے کو ملی کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے لیے افغان طالبان قطر میں اپنا سیاسی دفتر قائم کر رہے ہیں اور اس مقصد کے لیے ان کے نمائندے قطر پہنچ چکے ہیں۔ امریکہ نے اپنے اتحادیوں کے ساتھ افغانستان پر فوج کشی کے بعد جب طالبان حکومت کا جبر کے ذریعے خاتمہ کر دیا تھا تو لندن سے ہمارے ایک مخدوم و محترم بزرگ حضرت مولانا عتیق الرحمان سنبھلی نے اپنے درد بھرے مضمون میں دکھ کا اظہار فرمایا تھا کہ سب کچھ ختم ہوگیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر افغان طالبان کا مختصر پسِ منظر

۳۱ جنوری ۲۰۱۲ء

دفاعِ پاکستان کے پانچ دائرے

پاکستان کے دفاع و سالمیت اور قومی وحدت و خودمختاری پر پوری قوم متفق ہے۔ جوں جوں اس سلسلہ میں عالمی قوتوں کی منفی خواہشات اور بین الاقوامی لابیوں کی سازشیں بے نقاب ہو رہی ہیں عوام کے جوش و جذبے بلکہ غیظ و غضب میں اضافہ ہو رہا ہے اور عوامی جذبات کا لاوا پکتا جا رہا ہے جو کسی وقت بھی آتش فشاں کی شکل میں پھٹ سکتا ہے۔ اس لیے ہماری قومی قیادت خواہ اس کا تعلق حکمران طبقات سے ہو یا اپوزیشن سے اور خواہ اس کا دائرہ سیاسی ہو یا دینی، سب کی یہ ذمہ داری ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دفاعِ پاکستان کے پانچ دائرے

۱۰ دسمبر ۲۰۱۱ء

دفاعِ اسلام اور استحکامِ پاکستان

سیمینار کے عنوان کے حوالے سے مجھے دو امور کے بارے میں کچھ عرض کرنا ہے۔ ایک دفاعِ اسلام اور دوسرا استحکامِ پاکستان۔ دفاعِ اسلام پر گفتگو کو میں تین دائروں میں تقسیم کروں گا۔ ذاتی دائرہ، قومی دائرہ اور عالمی دائرہ۔ (۱) ذاتی دائرے میں مجھے اس بات کا جائزہ لینا ہے کہ میں اور ہم میں سے ہر فرد اسلام کے ساتھ کس درجے کی کمٹمنٹ رکھتا ہے اور اس کے احکام پر کس قدر عمل پیرا ہے؟ اسلام میرا دین ہے اور ایک مسلمان کی حیثیت سے میں اس بات کا پابند ہوں کہ میری زندگی قرآن کریم اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت و سیرت کے مطابق بسر ہو ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دفاعِ اسلام اور استحکامِ پاکستان

۲۰ جون ۲۰۱۱ء

طالبان کا وجود اور ان کے ساتھ مذاکرات

روزنامہ جنگ راولپنڈی میں ۲۱ اکتوبر ۲۰۱۰ء کو شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق: ’’سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف نے کہا ہے کہ اگر امریکہ طالبان حکومت کو تسلیم کر لیتا تو اسے اسامہ بن لادن کو تلاش کرنے کی ضرورت پیش نہ آتی۔ ہوسٹن کی ایشیا سوسائٹی ٹیکس سنٹر میں خطاب کے دوران سابق صدر پرویز مشرف نے کہا کہ عالمی برادری کو طالبان کے حوالے سے حکمت عملی تبدیل کرنے کی ضرورت ہے، طالبان کو ایک حقیقت کے طور پر تسلیم کر لینا چاہیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر طالبان کا وجود اور ان کے ساتھ مذاکرات

نومبر ۲۰۱۰ء

جنوبی ایشیا پر امریکی تسلط کی پالیسی اور اس کا سدباب!

مولانا فضل الرحمان صاحب کے ساتھ کافی عرصہ کے بعد ملاقات ہوئی، وہ گزشتہ دنوں گوجرانوالہ میں جمعیۃ علماء اسلام کے ضلعی امیر مولانا قاری عبد القدوس عابدؒ کی وفات پر تعزیت کے لیے تشریف لائے اور گکھڑ میں والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر کی بیمار پرسی کے لیے بھی گئے جو ہجری اعتبار سے ستانوے برس کے پیٹے میں ہیں اور کئی برس سے صاحبِ فراش ہیں مگر ضعف، بیماریوں کے ہجوم اور نقاہت کے باوجود بحمد اللہ یادداشت پوری طرح قائم ہے۔ قاری عبد القدوس عابدؒ ہمارے پرانے ساتھیوں میں سے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جنوبی ایشیا پر امریکی تسلط کی پالیسی اور اس کا سدباب!

۳ جنوری ۲۰۰۹ء

استحکامِ پاکستان اور اس کے تقاضے

میں مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن (MSO) کو اس بر وقت اجتماع پر مبارک باد دینا چاہوں گا۔ آج پاکستان کا استحکام، پاکستان کی سالمیت اور پاکستان کی وحدت بہت سی غیر ذمہ دارانہ حرکتوں کی وجہ سے سوالیہ نشان بنے ہوئے ہیں۔ اِن حالات میں وہ نوجوان جو دین کی بات کرتے ہیں اور دین سے تعلق رکھتے ہیں، اُن کا استحکام پاکستان کے عنوان پر اکٹھے ہونا پاکستان کے اچھے مستقبل کی علامت ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ حضرات کے جذبات قبول فرمائیں۔ مجھ سے پہلے ہمارے فاضل دوست جناب قمر الزمان صاحب جس صورت حال کی طرف اشارہ کر رہے تھے، یہ کشمکش تو ہماری صدیوں سے جاری ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر استحکامِ پاکستان اور اس کے تقاضے

نامعلوم

افغانستان کا مسئلہ ۔ پارلیمنٹ کے اجلاس سے توقعات

افغانستان میں برطانوی افواج کے کمانڈر بریگیڈیئر مازک اسمتھ نے سنڈے ٹائمز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان میں جنگ جیتنا ہمارے لیے ممکن نہیں ہے اس لیے طالبان کے ساتھ سیاسی مذاکرات کی کوئی صورت اختیار کرنا ہوگی۔ ادھر عراق میں امریکی افواج کے کمانڈر جنرل پیٹریوس نے بغداد میں غیر ملکی میڈیا سے بات چیت کے دوران کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان میں دہشت گردوں سے نمٹنے اور بہتر نتائج حاصل کرنے کے لیے شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا اور پاکستان کے بعض علاقوں میں طالبان کا کنٹرول ختم کرنا انتہائی مشکل ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر افغانستان کا مسئلہ ۔ پارلیمنٹ کے اجلاس سے توقعات

۷ اکتوبر ۲۰۰۸ء

پاکستان کا اسلامی تشخص اور غیر مسلم اقلیتیں

روزنامہ الجریدہ لاہور نے ۱۳ اگست ۲۰۰۷ء کی اشاعت میں آن لائن کے حوالہ سے آل پاکستان مینارٹیز الائنس کے تحت لاہور میں منعقد ہونے والی ایک ریلی کی تفصیلی رپورٹ شائع کی ہے جس میں ’’۳۰ نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈز ‘‘کا خاص طور پر تذکرہ کیا گیا ہے۔ قومی یکجہتی ریلی کے عنوان سے یہ اجتماع لاہور میں مینار پاکستان کے سبزہ زار میں منعقد ہوا جس میں خبر کے مطابق تمام غیر مسلم اقلیتوں کے راہنماؤں نے شرکت کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر پاکستان کا اسلامی تشخص اور غیر مسلم اقلیتیں

ستمبر ۲۰۰۷ء

مذہبی شدت پسندی، حکومت اور دینی جماعتیں

جامعہ حفصہ اور لال مسجد اسلام آباد کے خلاف سرکاری فورسز کے مسلح آپریشن نے پورے ملک کو دہلا کر رکھ دیا ہے۔ ایک عرصہ سے مختلف حلقوں کی طرف سے یہ کوشش جاری تھی کہ کسی طرح یہ تصادم رک جائے اور خونریزی کا وہ الم ناک منظر قوم کو نہ دیکھنا پڑے جس نے ملک کے ہر فرد کو رنج و صدمہ کی تصویر بنا دیا ہے، لیکن جو ہونا تھا وہ ہوا، بہت برا ہوا اور بہت برے طریقے سے ہوا۔ اس سے کچھ لوگوں کو ضرور تسکین حاصل ہوئی ہوگی جو حکومت کی رٹ بحال کرنے کے ساتھ ساتھ دہشت اور رعب ودبدبہ مسلط کرنا بھی ضروری سمجھ بیٹھے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مذہبی شدت پسندی، حکومت اور دینی جماعتیں

اگست ۲۰۰۷ء

دو خبریں ۔ ایک معاملے کے دو مختلف پہلو

دو خبریں بظاہر الگ الگ ہیں مگر خدا جانے مجھے الگ الگ کیوں نظر نہیں آرہیں۔ ایک خبر یہ ہے کہ پاکستان میں امریکہ کے سفیر ریان سی کروکر نے ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام کیپیٹل ٹاک میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈاکٹر عبد القدیر خان کا نیٹ ورک ختم ہو چکا ہے اور آئندہ پاکستان میں کوئی ڈاکٹر قدیر پیدا نہیں ہوگا۔ جبکہ دوسری خبر میں بتایا گیا ہے کہ معروف جہادی رہنما مولانا فضل الرحمان خلیل کو گزشتہ روز مسلح افراد نے ان کے ڈرائیور سمیت اغوا کر کے ان پر شدید تشدد کیا اور پھر رات کی تاریکی میں انہیں رسیوں سے جکڑ کر نیم مردہ حالت میں پنڈی گھیپ روڈ پر پھینک دیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دو خبریں ۔ ایک معاملے کے دو مختلف پہلو

۳ اپریل ۲۰۰۶ء

امریکی مفادات اور اسلام آباد کی کمٹمنٹ

’’آن لائن‘‘ کے حوالے سے شائع ہونے والی ایک خبر میں بتایا گیا ہے کہ امریکی کانگریس کی ریسرچ سروس نے اپنی حالیہ رپورٹ میں امریکی مفادات کے حوالے سے اسلام آباد کی کمٹمنٹ کو بعض معاملات میں مشکوک قرار دیا اور اس پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نائن الیون کے بعد انسداد دہشت گردی کی کوششوں میں پاکستان امریکہ کا اہم اتحادی بنا، تاہم بعض اہم امریکی مفادات کے بارے میں اسلام آباد کی ک مکمل تحریر امریکی مفادات اور اسلام آباد کی کمٹمنٹ

۲۸ فروری ۲۰۰۶ء

پاک امریکہ تعلقات ۔ سابق صدرجنرل محمد ایوب خان کے خیالات

اس گفتگو میں ایک پاکستانی سیاستدان نے مسٹر ہالبروک سے کہا کہ امریکہ ہمارا آقا نہ بنے بلکہ دوست بنے اور دوستوں کی طرح ہمارے ساتھ معاملات کرے۔ یہ بات بھی صدائے بازگشت ہے پاکستان کے سابق صدر جناب محمد ایوب خان مرحوم کے اس رد عمل کی جو انہوں نے پاکستان کی طرف سے امریکہ کے ساتھ دوستی کی پرخلوص کوششوں اور امریکہ کی طرف سے اس کے کم از کم الفاظ میں غیر مثبت جواب پر ظاہر کیا تھا۔ فیلڈ مارشل محمد ایوب خان نے اپنی یادداشتوں پر مشتمل جو کتاب شائع کی اس کا نام ہی ’’آقا نہیں دوست‘‘ ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر پاک امریکہ تعلقات ۔ سابق صدرجنرل محمد ایوب خان کے خیالات

نا معلوم

ایٹمی سائنسدانوں کا معاملہ

پاکستان کے ایٹمی سائنسدانوں پر ابتلا اور آزمائش کا جو دور گزر رہا ہے اس نے ہر محب وطن شہری کو الم و اضطراب سے دو چار کر رکھا ہے اور ذہنوں میں خودبخود یہ سوال ابھر رہا ہے کہ ایٹمی سائنسدانوں کے ساتھ اس سلوک کے بعد ایٹمی پروگرام اور صلاحیت کا مستقبل کیا ہوگا ؟ ڈاکٹر عبدالقدیر سمیت ممتاز سائنسدانوں پر الزام یہ ہے کہ انہوں نے ایٹمی پھیلاؤ جیسے ’’ناقابل معافی‘‘ جرم کا ارتکاب کیا اور ایٹمی ٹیکنالوجی بعض ملکوں کو منتقل کرنے میں حصہ لیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ایٹمی سائنسدانوں کا معاملہ

مارچ ۲۰۰۴ء

جہاد اور صدر پاکستان

صدر جنرل پرویز مشرف نے گزشتہ دنوں اسلام آباد میں ’’علماء و مشائخ کنونشن‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے جہاں اور بہت سی قابل توجہ باتیں کی ہیں وہاں مختلف مسلم حلقوں کی جہادی سرگرمیوں کو بھی ہدف تنقید بنایا ہے اور کہا ہے کہ یہ سرگرمیاں دہشت گردی کے زمرہ میں آتی ہیں کیونکہ ان کے خیال میں جہاد کا اعلان صرف حکومت کا حق ہے اور پرائیویٹ طور پر جہاد کے نام سے کوئی عمل ان کے نزدیک اسلامی تعلیمات کے مطابق نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جہاد اور صدر پاکستان

مارچ ۲۰۰۴ء

کیا پاک بھارت انضمام ممکن ہے؟

مولانا فضل الرحمن نے دورہ بھارت سے واپسی پر بعض اخبارات میں شائع ہونے والی ان خبروں کی تردید کی ہے کہ انہوں نے پاکستان اور بھارت کو دوبارہ متحد کرنے کے لیے گول میز کانفرنس کی کوئی تجویز پیش کی ہے، انہوں نے کہا کہ وہ ”اکھنڈ بھارت“ کے حامی نہیں ہیں اور نہ ہی اس سلسلہ میں انہوں نے کوئی بات کی ہے۔ مولانا فضل الرحمن کی اس وضاحت کے بعد ہمارے خیال میں اس حوالہ سے گفتگو کو آگے بڑھانے کی گنجائش باقی نہیں رہی، لیکن مسئلہ صرف مولانا فضل الرحمن کا نہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر کیا پاک بھارت انضمام ممکن ہے؟

۲۹ جولائی ۲۰۰۳ء

پاک بھارت تعلقات اور بین الاقوامی سیاست

جوائنٹ چیف آف اسٹاف کمیٹی کے چیئرمین جنرل محمد عزیز خان نے گزشتہ دنوں راولاکوٹ کی ایک تقریب میں جن خیالات کا اظہار کیا ہے، وہ قوم کے ہر باشعور شہری کے دل کی آواز ہے اور ہمیں ان باتوں پر اس لیے بھی زیادہ خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ کافی عرصہ کے بعد ’’ادھر سے‘‘ ٹھنڈی ہوا کا کوئی جھونکا آیا ہے جس سے تپش اور لو کے اس موسم میں وقتی طور پر ہی سہی، مگر کچھ سکون سا محسوس ہوا ہے۔ جنرل صاحب نے پاک بھارت تعلقات کے حوالے سے یہ کہہ کر قوم کو گزشتہ ایک ہزار سال سے زیادہ عرصہ پر محیط ہندو مسلم کشمکش کی طرف توجہ دلائی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر پاک بھارت تعلقات اور بین الاقوامی سیاست

۲۷ جون ۲۰۰۳ء

قادیانی گروہ اور امریکہ کی ریموٹ کنٹرول غلامی کا شکنجہ

پاکستان کے قیام کے بعد جب معروف قادیانی راہنما چودھری ظفر اللہ خان کو وزارت خارجہ کا منصب سونپا گیا تو دینی حلقوں میں اضطراب اور تشویش پیدا ہوئی کہ اس انتخاب کا فائدہ ان عالمی طاقتوں کے سوا کسی کو نہیں ہوگا جن کی نمائندگی قادیانی جماعت کرتی ہے اور ملک کے اندر بھی قادیانی جماعت کے اثر و رسوخ میں مزید اضافہ ہوگا جو دینی حوالوں سے پاکستان کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ چنانچہ ۱۹۵۲ء تک اس کے نتائج اس حد تک سامنے آچکے تھے کہ بیرون ملک پاکستان کے بہت سے سفارت خانے قادیانی مذہب کے فروغ اور ان کے اثر و نفوذ میں اضافے کا ذریعہ بن چکے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قادیانی گروہ اور امریکہ کی ریموٹ کنٹرول غلامی کا شکنجہ

۱۱ اپریل ۲۰۰۳ء

چوہدری شجاعت حسین سے وابستہ توقعات

پاکستان مسلم لیگ (ق) کے صدر چوہدری شجاعت حسین نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ہم مسلمان بھائیوں کے خون کے بدلے میں ملنے والے پیسوں پر لعنت بھیجتے ہیں۔ اور اس کے ساتھ ہی یہ خبر بھی آئی ہے کہ امریکہ نے پاکستان کے ذمہ ایک ارب ڈالر کا قرضہ معاف کر دیا ہے جس کے بارے میں بعض سرکاری حلقوں کا کہنا ہے کہ ایسا کر کے امریکہ نے وہ وعدہ پورا کیا ہے جو اس نے دہشت گردی کے خلاف امریکہ کی عالمی مہم میں اس کا ساتھ دینے کے حوالہ سے پاکستانی حکومت کے ساتھ کر رکھا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر چوہدری شجاعت حسین سے وابستہ توقعات

۱۰ اپریل ۲۰۰۳ء

ہمیں ترجیحات کا تعین کر لینا چاہیے

ہماری شکایت ان سے نہیں ہے بلکہ ہم اپنی اس نا اہل، نا عاقبت اندیش اور مصلحت کوش سیاسی قیادت کا نوحہ پڑھ رہے ہیں جو اسلام کا نام لیتی ہے، اسلام کے نام پر ووٹ حاصل کرتی ہے، اسلام کے نعرہ پر اقتدار کے ایوانوں تک بھی پہنچ جاتی ہے، اسلام کے حوالے سے سیاسی عزت و وقار کے مقامات طے کرتی ہے، مجاہدین کی خدمات اور قربانیوں کے تذکرے کرتی ہے، اور مسلم امہ کی رائے عامہ کی قیادت و رہنمائی کی بلا شرکت غیرے دعوے دار ہے، لیکن اقتدار یا اقتدار کے چانس کے لولی پاپ نے اسے اپنی اصل ذمہ داریوں سے بے پروا کر دیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ہمیں ترجیحات کا تعین کر لینا چاہیے

۲۶ فروری ۲۰۰۳ء

شمالی علاقہ جات کے زلزلے اور امدادی صورتحال

شمالی علاقہ جات جن کا صدر مقام گلگت ہے، سیاسی اور جغرافیائی دونوں حوالوں سے پاکستان کا حساس ترین خطہ ہے اور ایک عرصہ سے بین الاقوامی حلقوں کی اس پر نظر ہے۔ شمالی علاقہ جات کا ضلع دیامر اس لحاظ سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے کہ کارگل کی طرف جانے والی شاہراہ اس علاقہ سے گزرتی ہے اور چودہ ہزار فٹ کی بلندی پر دنیا کا وسیع میدان دیوسائی بھی اسی ضلع میں واقع ہے جسے حاصل کرنے کے لیے مغربی قوتیں کافی عرصہ سے بے چین ہیں۔ اس لیے کہ اس بلند ترین میدان کو مرکز بنا کر چین، بھارت، افغانستان، روس اور پاکستان کو با آسانی واچ کیا جا سکتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر شمالی علاقہ جات کے زلزلے اور امدادی صورتحال

۲۳ فروری ۲۰۰۳ء

’’پاکستان، ترکی یا الجزائر نہیں ہے‘‘

متحدہ مجلس عمل کے اعلٰی سطحی وفد سے بات چیت کرتے ہوئے صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا ہے کہ پاکستان اسلامی ریاست ہے اور اسلامی رہے گا، اس کے دستور کی بنیاد اسلام پر ہے اس لیے کوئی چاہے بھی تو پاکستان کو سیکولر ریاست نہیں بنا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے دستوری ڈھانچے میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں کی جا رہی اور نہ ہی اس کی اسلامی دفعات سے کوئی تعرض کیا جا رہا ہے۔ صدر نے یہ بھی کہا کہ اگر متحدہ مجلس عمل الیکشن میں کامیابی حاصل کر لیتی ہے تو وہ اسے اقتدار منتقل کر دیں گے کیونکہ پاکستان ترکی یا الجزائر نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ’’پاکستان، ترکی یا الجزائر نہیں ہے‘‘

۲۷ جولائی ۲۰۰۲ء

پاکستان میں مسیحی ریاست کے قیام کا منصوبہ

ہمارے پاس اس کی ایک عملی مثال موجود ہے کہ قیام پاکستان کے بعد پنجاب کے انگریز گورنر سر موڈی نے چنیوٹ کے ساتھ دریائے چناب کے کنارے پر قادیانیوں کو زمین لیز پر دی تھی جہاں انہوں نے ربوہ کے نام سے شہر آباد کیا۔ اور اب تحریک ختم نبوت کے مسلسل مطالبہ پر اس کا نام تبدیل کر کے ’’چناب نگر‘‘رکھ دیا گیا ہے۔ یہ زمین اب بھی سرکاری کاغذات میں ’’صدر انجمن احمدیہ‘‘کے نام لیز پر ہے لیکن عملاً اس سے کوئی فرق رونما نہیں ہوا کہ وہاں لیز والی زمین پر اب بھی خالصتاً قادیانی کالونی ہے جہاں کسی مسلمان کو رہنے کی اجازت نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر پاکستان میں مسیحی ریاست کے قیام کا منصوبہ

۲۶ جون ۲۰۰۲ء

جناب صدر! پاکستان ”آئیڈیل ازم“ کے لیے بنا ہے

صدر جنرل پرویز مشرف نے ریڈیو اور ٹی وی پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے بہت کچھ فرمایا ہے اور ریفرنڈم مہم کے لیے جن پبلک جلسوں کا حکومت کی طرف سے اعلان کیا گیا ہے ان میں بھی صدر محترم کچھ فرمائیں گے۔ انہوں نے آئندہ سیاسی نظام کے لیے اپنی ذات کو محور بنانے اور آئینی ترامیم کے حوالہ سے اپنی سوچ کو واحد بنیاد قرار دینے کا اعلان کیا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اپنی روایات کی پاسداری معروضی حالات میں ان کا ”حق“ بنتا ہے کیونکہ پاکستان کے ہر چیف آف آرمی سٹاف کو عملاً ملک میں سب سے بڑے ”پاور بروکر“ کی حیثیت حاصل ہوتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جناب صدر! پاکستان ”آئیڈیل ازم“ کے لیے بنا ہے

۱۲ اپریل ۲۰۰۲ء

افغانستان پر امریکی حملے کی معاونت اور وزیر داخلہ کا اعتراف حقیقت

وفاقی وزیر داخلہ لیفٹیننٹ جنرل جناب معین الدین حیدر نے گزشتہ دنوں دارالعلوم کورنگی کراچی میں علماء کرام سے گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ ہمیں اس بات کا علم ہے کہ مسلمانوں کے خلاف عیسائیوں کی مدد کرنا حرام ہے لیکن مجبوری کی حالت میں حرام کھانا بھی جائز ہو جایا کرتا ہے۔ اس طرح معین الدین حیدر اپنی تمام تر تلخ نوائی اور دھمکیوں کے باوجود اصولی طور پر ہمارے ساتھ اس موقف میں متفق ہوگئے ہیں کہ امارات اسلامی افغانستان کے خلاف امریکہ کا ساتھ دینا مسلمانوں کے خلاف عیسائیوں کی مدد کرنا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر افغانستان پر امریکی حملے کی معاونت اور وزیر داخلہ کا اعتراف حقیقت

۱۷ دسمبر ۲۰۰۱ء

وہی قاتل، وہی مخبر، وہی منصف ٹھہرے

امریکہ نے جب اقوام متحدہ کے سامنے اپنا کیس رکھا اور اس سے دہشت گردی کے خلاف کارروائی کے لیے این او سی مانگا تو دلیل اور دانش نے ڈرتے ڈرتے وہاں بھی عرض کیا تھا کہ ’’دہشت گردی‘‘ کی تعریف طے کر لی جائے اور اس کی حدود متعین کرلی جائیں تاکہ دہشت گردی کے خلاف کارروائی کی زد میں وہ مظلوم اور مجبور اقوام نہ آجائیں جو اپنی آزادی اور تشخص کے لیے قابض اور مسلط قوتوں کے خلاف صف آراء ہیں۔ مگر دلیل اور دانش کی آنکھوں پر یہ کہہ کر پٹی باندھ دی گئی کہ ابھی اس کا وقت نہیں آیا، ابھی امریکہ کو اپنے ایجنڈے کی تکمیل کرنی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر وہی قاتل، وہی مخبر، وہی منصف ٹھہرے

۵ دسمبر ۲۰۰۱ء

افغانستان پر امریکی حملے کی معاونت ۔ پاکستان کیوں مجبور تھا؟

افغانستان کے مسئلہ میں حکومت پاکستان کی موجودہ پالیسی کو عالمی جبر کا نتیجہ قرار دیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ ہمارے لیے اس کے سوا کوئی چارہ کار نہیں تھا۔ مگر اس بے بسی اور مجبوری کے اسباب کا تجزیہ کیا جائے تو ان میں یہ بات سرفہرست دکھائی دیتی ہے کہ امیر ممالک اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے لیے ہوئے قرضے ہمارے لیے وبال جان بن گئے ہیں اور قرضوں کے اس خوفناک جال نے ہماری معیشت کے ساتھ ساتھ قومی پالیسیوں اور ملی مفادات کو بھی جکڑ لیا ہے۔ اس کا نتیجہ آج ہمارے سامنے ہے کہ ہم شمال مغربی سرحد پر ایک دوست حکومت سے محروم ہو چکے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر افغانستان پر امریکی حملے کی معاونت ۔ پاکستان کیوں مجبور تھا؟

۲۷ نومبر ۲۰۰۱ء

ہمارے دانشوروں کی سوچ تاریخ کے آئینے میں

سلطان ٹیپوؒ سمجھ رہا تھا کہ انگریزوں نے اس کی سلطنت پر حملہ تو ویسے بھی کرنا ہے مگر وہ اس کے لیے فرانسیسیوں کی موجودگی کا بہانہ کر رہے ہیں، اس لیے اس نے انگریزوں کی کوئی بھی شرط ماننے سے انکار کر دیا۔ سلطان ٹیپوؒ کی فوج کے فرانسیسی افسر خود سلطان ٹیپوؒ کے پاس آئے اور کہا کہ اگر اس سے انگریزوں کا غصہ وقتی طور پر ٹھنڈا ہوتا ہے تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں، آپ ہمیں ان کے حوالے کر دیں۔ اس وقت بھی کسی نہ کسی دانشور، ڈپلومیٹ، یا فقیہ عصر نے سلطان ٹیپوؒ کو یہ مشورہ ضرور دیا ہوگا کہ کوئی حرج کی بات نہیں، وقت نکالو اور سر پر آئی ہوئی جنگ کو سردست ٹالنے کی کوشش کرو ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ہمارے دانشوروں کی سوچ تاریخ کے آئینے میں

۱۹ نومبر ۲۰۰۱ء

افغانستان کی صورتحال پر ایک پینل انٹرویو

اے آر وائی ڈیجیٹل کے پی جے میر صاحب نے پروگرام کنڈکٹ کیا، ان کا پہلا سوال مجھ سے تھا کہ کیا آپ طالبان کی حمایت کرتے ہیں؟ میں نے اثبات میں جواب دیا تو دوسرا سوال ہوا کہ طالبان کی حمایت کس وجہ سے کرتے ہیں؟ میں نے عرض کیا اس لیے کہ طالبان ایک جائز موقف کے لیے لڑ رہے ہیں، وہ جہاد افغانستان کے منطقی اور نظریاتی نتائج کا تحفظ کر رہے ہیں۔ ان پر یہ جنگ ٹھونسی گئی ہے اور وہ مظلوم ہیں اس لیے میں ان کی حمایت کرتا ہوں۔ اس پر لارڈ نذیر احمد صاحب نے کہا کہ وہ اسامہ بن لادن کے حوالہ سے طالبان کے موقف سے اختلاف رکھتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر افغانستان کی صورتحال پر ایک پینل انٹرویو

۱۶ نومبر ۲۰۰۱ء

امریکی عزائم اور پاکستان کا کردار

اسامہ بن لادن کا نام صرف بہانہ ہے، اصل مسئلہ جہادی تحریکات ہیں جو امریکہ اور اس کے حواری ممالک کے لیے ناقابلِ برداشت ہوتی جا رہی ہیں اور اب صدر بش نے صاف طور پر تمام جہادی تحریکات کے خاتمہ کو اپنا سب سے بڑا ہدف قرار دے کر ہمارے ان خدشات کی تصدیق کر دی ہے۔ مگر اس میں ستم ظریفی کی بات یہ ہے کہ امریکہ افغانستان پر حملے کے لیے ہمارے کندھے پر بندوق رکھنا چاہتا ہے اور پاکستان کی زمین اور فضا سے حملہ آور ہو کر امارتِ اسلامی افغانستان کی طالبان حکومت کو ختم کرنے کے درپے ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر امریکی عزائم اور پاکستان کا کردار

اکتوبر ۲۰۰۱ء

افغانستان پر امریکی حملے کی معاونت ۔ صدر پرویز مشرف کی خود فریبی

پاکستان کے ساتھ اس وقت امریکہ کا مفاد صرف اس قدر ہے کہ وہ پاکستان اور افغانستان کی نظریاتی وحدت کو توڑنا چاہتا ہے، ان کی باہمی دوستی کو دشمنی میں تبدیل کرنا چاہتا ہے، پاکستان اور افغانستان کے وسطی ایشیا کے ساتھ روابط کو ختم کرنا چاہتا ہے، اور چین کے خلاف اپنے مجوزہ حصار کی راہ ہموار کرنا چاہتا ہے۔ یہ سب کچھ حاصل ہوجانے کے بعد امریکہ کی ترجیحات بدستور وہی رہیں گی جو پہلے چلی آرہی ہیں اور جن ترجیحات میں پاکستان کو بھارت پر ترجیح دینا یا کم از کم اس کے برابر رکھنا بھی امریکی مفادات سے قطعاً کوئی مطابقت نہیں رکھتا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر افغانستان پر امریکی حملے کی معاونت ۔ صدر پرویز مشرف کی خود فریبی

۲۸ ستمبر ۲۰۰۱ء

کیا پاکستان کو ٹوٹ جانا چاہیے؟

جگہ اور دوست کا نام تو نہیں بتا سکوں گا مگر یہ زیادہ دیر کی بات نہیں ہے کہ دوران سفر کسی جگہ ایک دوست سے ملاقات ہوئی تو اس نے سلام و جواب اور پرسش احوال کے بعد پہلا سوال یہ کیا کہ سنائیے مولانا! پاکستان کب ٹوٹ رہا ہے؟ میں نے حیرانی سے پوچھا کہ آپ کو اس سے کیا دلچسپی ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہمارے بزرگوں نے اس کی مخالفت کی تھی اس لیے یہ زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتا۔ میں نے عرض کیا کہ میرے حضور اس ملک کی خیر منائیے اور اس کا بھلا سوچیے کہ یہ جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کی آخری پناہ گاہ ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر کیا پاکستان کو ٹوٹ جانا چاہیے؟

۲ ستمبر ۲۰۰۱ء

ملٹی نیشنل کمپنیاں اور پاکستان کی خودمختاری

ہرصغیر پاک و ہند و بنگلہ دیش میں برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی نے تجارت اور محصولات کے نظام میں شرکت کے ذریعہ کنٹرول حاصل کیا تھا اور فلسطین میں یہودیوں نے زمینوں کی وسیع پیمانے پر خریداری کے ذریعے سے قبضے کی راہ ہموار کی تھی۔ اس پس منظر میں یوں محسوس ہو رہا ہے کہ ملٹی نیشنل کمپنیاں ایک طرف پاکستان کی صنعت وتجارت پر کنٹرول حاصل کر کے قومی معیشت کو بین القوامیت کے جال میں مکمل طور پر جکڑنے کی تگ ودو میں مصروف ہیں اور دوسی طرف ’’کارپوریٹ ایگریکلچرل فارمنگ‘‘ کے نام پر ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ملٹی نیشنل کمپنیاں اور پاکستان کی خودمختاری

ستمبر ۲۰۰۱ء

گوادر ڈپلومیسی

صدر جنرل پرویز مشرف بھارت کے کامیاب دورے سے واپس آگئے ہیں اور ان کے دورے کے مختلف پہلوؤں پر قومی اور بین الاقوامی پریس میں گفت و شنید کا سلسلہ جاری ہے۔ جس رات جنرل پرویز مشرف آگرہ سے واپس اسلام آباد آئے صبح کے اخبارات کی جلی سرخیوں میں دورے کو ناکام قرار دے کر بھارت کے رویے پر افسوس کا اظہار کیا گیا تھا جبکہ ایک دو روز کے بعد دورے کو ناکام کی بجائے نامکمل کہنا شروع کر دیا گیا۔ مگر یوں محسوس ہوتا ہے کہ دورہ نامکمل تھا نہ ناکام، بلکہ صدر مشرف نے وہ مقاصد حاصل کر لیے جو وہ اس دورے سے حاصل کرنا چاہتے تھے اور وہ آگرہ سے اپنے مشن میں کامیاب ہو کر واپس لوٹے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر گوادر ڈپلومیسی

۲۶ جولائی ۲۰۰۱ء

’’الرشید ٹرسٹ‘‘ کا جرأت مندانہ فیصلہ

ایک قومی روزنامہ نے لندن کے اخبار ٹیلی گراف کے حوالہ سے یہ رپورٹ شائع کی ہے کہ برطانوی وزیرخارجہ جیک سٹرا نے پاکستان کے وزیر خارجہ جناب عبد الستار سے اپنی حالیہ گفتگو میں خبردار کیا ہے کہ پاکستان طالبان کے ساتھ فاصلہ قائم رکھے ورنہ وہ عالمی برادری سے دور ہوتا چلا جائے گا۔ یہ انتباہ ایسے موقع پر کیا گیا ہے جب کہ اقوام متحدہ نے کابل میں بے سہارا افغان عوام کو خوراک مہیا کرنے کے لیے قائم کی گئی ۱۵۵ بیکریاں (تنور) بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ’’الرشید ٹرسٹ‘‘ کا جرأت مندانہ فیصلہ

۲۲ جون ۲۰۰۱ء

آزادیٔ کشمیر اور سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ

شاہ جی نے کہا کہ ’’کشمیر تو آپ اپنے ہاتھ سے دے چکے، اگر فائربندی کی بات نہ ہوتی تو ممکن ہے کوئی بات بن جاتی۔ مگر اب تو میری بات لکھ کر جیب میں ڈال لو کہ فرنگی اور ہندو اب آپ کو کشمیر نہیں دیں گے۔ ہاں اگر کبھی فرنگی کو ضرورت ہو کہ وہ اس مستقل فساد کو ختم کرنا چاہے تو ممکن ہے اس کا کچھ حصہ آپ کے پاس آجائے‘‘۔ شاہ جیؒ کا مطلب یہ تھا کہ جب 1948ء میں کشمیری مجاہدین اور ان کے ساتھ آزاد قبائل کے غیور مسلمان سری نگر اور پونچھ میں داخل ہو رہے تھے اس وقت جنگ جاری رکھنے کی بجائے سیز فائر قبول کر کے ہندوستان کو کشمیر پر مسلح قبضے کا موقع فراہم کیا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر آزادیٔ کشمیر اور سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ

۷ جون ۲۰۰۱ء

جناب حکمت یار کا انتخابی فارمولا

حزب اسلامی افغانستان کے سربراہ انجینئر گلبدین حکمت یار نے گزشتہ روز تہران میں پاکستانی رہنماؤں محترم قاضی حسین احمد، جناب وسیم احمد سجاد اور جناب الٰہی بخش سومرو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ امارت اسلامی افغانستان کی طالبان حکومت کے سربراہ امیر المؤمنین ملا محمد عمر اگر الیکشن میں منتخب ہو جائیں تو وہ انہیں امیر المؤمنین تسلیم کر لیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے ملا محمد عمر کو ایک خط میں فارمولا پیش کیا ہے کہ وہ اپنی سربراہی میں عبوری حکومت قائم کریں جس میں تمام گروپوں کو نمائندگی دی جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جناب حکمت یار کا انتخابی فارمولا

۳۰ اپریل ۲۰۰۱ء

جہاد کشمیر اور بعض حلقوں کے تحفظات

پشاور کی ’’خدمات دارالعلوم دیوبند کانفرنس‘‘ میں جمعیۃ علماء ہند کے سربراہ مولانا سید اسعد مدنی کی شمولیت کے حوالہ سے اخبارات میں بعض امور پر گفتگو کا سلسلہ چل نکلا ہے اور مختلف مضامین اور کالموں میں ملے جلے خیالات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ مجھے یہ بات اسی وقت کھٹک گئی تھی جب اس کانفرنس میں مولانا سید اسعد مدنی کی شرکت کا اعلان ہوا تھا اور میں نے بعض دوستوں سے اس کا اظہار بھی کر دیا تھا کہ اس سے مسائل پیدا ہوں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جہاد کشمیر اور بعض حلقوں کے تحفظات

۲۳ اپریل ۲۰۰۱ء

آئی ایم ایف کی چھری اور سرکاری ملازمین کی گردن

صدر مملکت نے ایک آرڈیننس کے ذریعے سرکاری محکموں کے بالاتر افسران کو یہ اختیار دے دیا ہے کہ وہ جس سرکاری ملازم کو بدعنوان سمجھیں، جسے منصبی ذمہ داریوں میں کوتاہی کرنے والا قرار دیں اور جس کے بارے میں ان کی رائے قائم ہو جائے کہ محکمہ کو اس کی ضرورت نہیں رہی، وہ اسے ملازمت سے فارغ کر سکتے ہیں۔ اور اس برطرفی کے خلاف کسی کورٹ کے پاس داد رسی کے لیے جانے کا کوئی حق اب سرکاری ملازمین کے پاس اس آرڈیننس کی رو سے باقی نہیں رہا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر آئی ایم ایف کی چھری اور سرکاری ملازمین کی گردن

۲۰ فروری ۲۰۰۱ء

طالبان کے ساتھ دینی جماعتوں کا اظہارِ یکجہتی

مولانا سمیع الحق مبارکباد کے مستحق ہیں کہ امارات اسلامی افغانستان کے خلاف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی طرف سے پابندیوں کے اعلان کے بعد انہوں نے دینی حلقوں کی قیادت کو جمع کرنے کی ضرورت محسوس کی اور اس کا بروقت اہتمام کیا۔ گزشتہ سال جب افغانستان پر امریکی حملہ کے خطرات نظر آنے لگے تو مولانا فضل الرحمان نے عوامی بیداری کی مہم شروع کر کے امریکہ پر واضح کر دیا تھا کہ افغانستان پر حملہ اس قدر آسان نہیں ہے اور ایسا کرنا پاکستان کے عوام کے غیظ و غضب کو بھڑکانے کے مترادف ہوگا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر طالبان کے ساتھ دینی جماعتوں کا اظہارِ یکجہتی

۲۴ جنوری ۲۰۰۱ء

حمود الرحمان کمیشن کی رپورٹ پر ایک نظر

حکومت نے آخر کار "حمود الرحمان کمیشن" کی رپورٹ کا ایک اہم حصہ عوام کی معلومات کے لیے کیبنٹ ڈویژن کی لائبریری میں رکھ دیا ہے اور اس کے اقتباسات قومی اخبارات میں شائع ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ ۱۹۷۱ء میں ملک سے مشرقی پاکستان کی علیحدگی اور بنگلہ دیش کے قیام کے بعد مغربی پاکستان کے باقی ماندہ حصے میں قائم ہونے والی بھٹو حکومت نے عوامی مطالبہ پر اس وقت کے سپریم کورٹ آف پاکستان کے سربراہ جسٹس حمود الرحمان مرحوم کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی عدالتی کمیشن قائم کیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حمود الرحمان کمیشن کی رپورٹ پر ایک نظر

جنوری ۲۰۰۱ء

میاں نواز شریف کی جلا وطنی اور سی ٹی بی ٹی پر دستخط کے لیے امریکی دباؤ

آج ہم دو امریکی عہدے داروں کی پریس بریفنگ کے حوالہ سے کچھ گزارشات پیش کرنا چاہتے ہیں۔ ان میں سے ایک وائٹ ہاؤس کے پریس سیکرٹری جیک سیورٹ ہیں جنہوں نے اپنی پریس بریفنگ میں میاں نواز شریف اور ان کے خاندان کی جلاوطنی کے بارے میں اظہار خیال کیا ہے اور دوسرے جنوبی ایشیا کے امور کے امریکی ماہر اسٹیفن پی کوہن ہیں جنہوں نے اسلام آباد کے امریکی مرکز اطلاعات میں اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدارت ڈیموکریٹ صدر بل کلنٹن سے ری پبلکن صدار جارج ڈبلیو بش کو منتقل ہونے کے بعد امریکی پالیسوں میں متوقع تبدیلیوں کا جائزہ لیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر میاں نواز شریف کی جلا وطنی اور سی ٹی بی ٹی پر دستخط کے لیے امریکی دباؤ

یکم جنوری ۲۰۰۱ء

افغانستان کی تعمیر نو ۔ ڈاکٹر سلطان بشیر محمود کے خیالات

ڈاکٹر سلطان بشیر محمود نے کہا کہ گزشتہ نصف صدی کے دوران طالبان کی حکومت افغانستان کی پہلی حکومت ہے جو پاکستان کے حق میں ہے اور دہلی کی بجائے اسلام آباد سے وابستگی رکھتی ہے۔ طالبان حکومت کے بیشتر افراد پاکستان کے دینی مدارس کے تعلیم یافتہ ہیں اور پاکستان سے محبت رکھتے ہیں، اس لیے پاکستان کو اس حکومت کے بچانے کے لیے خود اپنے مفاد کے خاطر بھی سرگرم کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اور روس گزشتہ دو عشروں میں صرف ایک بات پر متفق ہوئے ہیں اور وہ یہ ہے کہ طالبان کی حکومت کو ہر قیمت پر ناکام بنایا جائے اور ختم کر دیا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر افغانستان کی تعمیر نو ۔ ڈاکٹر سلطان بشیر محمود کے خیالات

۱۶ دسمبر ۲۰۰۰ء

ضلعی حکومتیں اور عالمی بینک

گزشتہ دنوں آزادکشمیر کے دو اضلاع باغ اور سدھنوتی کے مختلف مقامات پر جانے کا اتفاق ہوا تو اس دوران خاص طور پر یہ منظر دیکھ کر حیرت اور تعجب میں اضافہ ہوا کہ قدم قدم پر عالمی بینک کے تعاون سے مکمل کیے جانے والے آب رسانی کے منصوبوں کی تفصیلات کے بورڈ نصب ہیں۔ ان علاقوں میں لوگوں نے ورلڈ بینک کے تعاون سے پینے کے پانی کے حصول اور گھروں تک اسے پہنچانے کے بہت سے منصوبے مکمل کیے ہیں جن کے لیے بتایا جاتا ہے کہ پہاڑوں کی چوٹیوں اور چشموں سے آبادی اور گھروں تک پہنچانےکے لیے پانی کے پائپ ورلڈ بینک نے مہیا کیے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ضلعی حکومتیں اور عالمی بینک

۱۲ اگست ۲۰۰۰ء

مسئلہ کشمیر : عالمی سازشیں، متحرک گروہ اور قابل قبول حل

البتہ مسئلہ کشمیر کے سلسلے میں سازش، مفادات اور خیر خواہی کے عوامل میں فرق معلوم کرنے کے لیے ہمیں کوئی نہ کوئی حد فاصل اور اصول ضرور قائم کر لینا چاہیے اور میرے خیال میں اس سلسلہ میں دو نکتے کسوٹی کا کام دے سکتے ہیں اور انہیں بہرحال پیش نظر رکھنا چاہیے۔ پہلا یہ کہ جموں و کشمیر کی وحدت کا برقرار رہنا اس خطہ کے عوام کا تاریخی حق ہے، اس لیے جو فارمولا یا کوشش کشمیر کی وحدت کو ختم کرنے اور اس خطہ جنت نظیر کو تقسیم کرنے کے حوالہ سے ہو میرے نزدیک وہ کشمیری عوام کے خلاف سازش ہے اور ایسی ہر کوشش کو مسترد کرنا چاہیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مسئلہ کشمیر : عالمی سازشیں، متحرک گروہ اور قابل قبول حل

۲۸ جون ۲۰۰۰ء

مولانا فضل الرحمان اور پاکستان میں مسیحی ریاست

مولانا فضل الرحمان سے کافی عرصہ کے بعد گزشتہ جمعرات کو اسلام آباد میں ملاقات ہوئی اور مختلف امور پر تبادلۂ خیالات کا موقع ملا۔ بدھ کی رات ٹیکسلا میں حضرت مولانا قاضی محمد زاہد الحسینیؒ آف اٹک کے حلقہ مریدین کا اجتماع تھا جس میں مجھے بھی شرکت اور کچھ معروضات پیش کرنے کی دعوت دی گئی تھی۔ پاکستان شریعت کونسل کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات مولانا صلاح الدین فاروقی اس اجتماع کے منتظم تھے جو حضرت مولانا قاضی زاہد الحسینیؒ کے خصوصی تربیت یافتہ حضرات میں سے ہیں اور انہی کے رنگ میں علاقہ میں دینی و روحانی خدمات سرانجام دے رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا فضل الرحمان اور پاکستان میں مسیحی ریاست

۲۶ مئی ۲۰۰۰ء

کعبۃ اللہ یا وائٹ ہاؤس؟ جنرل پرویز مشرف کا امتحان

سپریم کورٹ آف پاکستان کے بارہ جج صاحبان نے متفقہ طور پر جنرل پرویز مشرف کے بارہ اکتوبر کے اقدام کو نظریۂ ضرورت کے تحت جائز قرار دے دیا ہے اور انہیں تین سال تک عام انتخابات کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے آئین میں ترمیم کا اختیار بھی سونپ دیا ہے۔ جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم کو بھی سپریم کورٹ نے اسی نوعیت کا اختیار دیا تھا مگر اس میں تین سال کے عرصہ کی قید نہیں تھی۔ چنانچہ جنرل مرحوم نے اسی اختیار کو استعمال کرتے ہوئے مختلف اقدامات کے ذریعے گیارہ سال تک اقتدار کو اپنے پاس رکھا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر کعبۃ اللہ یا وائٹ ہاؤس؟ جنرل پرویز مشرف کا امتحان

۱۹ مئی ۲۰۰۰ء

جہادی تربیتی کیمپ ۔ وزیر داخلہ کے نام کھلا خط

بعد از سلام مسنون! گزارش ہے کہ گزشتہ روز ایک قومی اخبار نے آنجناب کے حوالہ سے خبر شائع کی ہے کہ ’’امریکہ کی طرف سے پاکستان سے دہشت گردی کی روک تھام کے لیے اقدامات کرنے کے مطالبہ پر لندن میں اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے وزیرداخلہ نے صحافیوں کو بتایا کہ انہوں نے طالبان کی حکومت پر واضح کر دیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر موجود تمام تربیتی کیمپ بند کر دے جہاں پر پاکستان کے مختلف فرقوں سے تعلق رکھنے والے لوگ مسلح تربیت حاصل کرتے ہیں‘‘ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جہادی تربیتی کیمپ ۔ وزیر داخلہ کے نام کھلا خط

۱۸ اپریل ۲۰۰۰ء

جہادی تربیتی مراکز اور تحریک جعفریہ پاکستان

افغانستان میں جہادی تربیت کے عسکری کیمپوں کے بارے میں ایک کالم میں ہم نے گزارش کی تھی کہ ان کی بندش کا مطالبہ درست نہیں ہے کیونکہ کشمیر، فلسطین، بوسنیا، کوسوو، چیچنیا، مورو، اراکان اور دیگر علاقوں میں مسلمان مجاہدین آزادی اور اپنے اسلامی تشخص کے تحفظ کے لیے جو جنگ لڑ رہے ہیں اس جنگ کا تربیتی سرچشمہ یہی کیمپ ہیں اور ان کیمپوں کے بند ہونے کا براہ راست نقصان ان جہادی تحریکات کو ہوگا اس لیے امریکہ ان کیمپوں کی بندش کا مطالبہ کر رہا ہے لہٰذا ان کیمپوں کی بندش کا مطلب دنیا بھر کی جہادی تحریکات کو ایک بہت بڑے سہارے سے محروم کر دینا ہوگا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جہادی تربیتی مراکز اور تحریک جعفریہ پاکستان

۱۵ مارچ ۲۰۰۰ء

ملک میں اسلحہ کلچر ۔ وفاقی وزیرداخلہ سے دو اہم گزارشات

امن و امان کے حوالہ سے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کے بعد وفاقی وزیرداخلہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) معین الدین حیدر نے اخباری نمائندوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں اسلحہ کلچر کو ختم کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں، اور اس سلسلہ میں اسلحہ کی نمائش پر پابندی اور فائرنگ کی قانونی ممانعت کے علاوہ ان دینی طلبہ کی حوصلہ شکنی بھی پروگرام میں شامل ہے جو افغانستان جا کر اسلحہ کی ٹریننگ حاصل کرتے ہیں۔ وزیرداخلہ نے پریس بریفنگ میں کہا کہ اس حوالہ سے افغانستان کی حکومت سے بھی کہا گیا ہے کہ وہ اسلحہ چلانے کی تربیت دینے والے مراکز بند کر دے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ملک میں اسلحہ کلچر ۔ وفاقی وزیرداخلہ سے دو اہم گزارشات

۲۸ فروری ۲۰۰۰ء

امریکی ایجنڈا اور جنرل پرویز مشرف

امریکی نائب وزیرخارجہ مسٹر انڈرفرتھ گزشتہ دنوں اسلام آباد آئے اور چیف ایگزیکٹو جنرل پرویز مشرف اور دیگر مقتدر شخصیات سے ملاقات کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے انتباہ کیا کہ پاکستان کو اپنی سرحدی حدود میں کام کرنے والے انتہا پسند اسلامی گروپوں پر پابندی عائد کرنا ہوگی جو بین الاقوامی برادری کے لیے بڑا خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ اخباری اطلاعات کے مطابق مسٹر انڈر فرتھ نے کہا کہ حرکۃ المجاہدین سمیت بہت سے مسلح اسلامی گروپ دہشت گردی کر رہے ہیں اس لیے ان پر پابندی لگائی جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر امریکی ایجنڈا اور جنرل پرویز مشرف

فروری ۲۰۰۰ء

جہادی تحریکات، سی ٹی بی ٹی اور قرآن کا حکم

ایک قومی اخبار کے لاہور ایڈیشن کی رپورٹ کے مطابق چیف ایگزیکٹو جنرل پرویز مشرف نے امریکی سینٹروں کے ساتھ ملاقات کے دوران ان پر واضح کر دیا ہے کہ پاکستان جہادی تنظیموں پر پابندی نہیں لگا سکتا اور نہ ہی مسلمانوں کو جہاد سے روکا جا سکتا ہے جیسے روس کے خلاف جہاد کو نہیں روکا جا سکا تھا۔ مذکورہ رپورٹ میں اعلیٰ عسکری ذرائع کے حوالہ سے بتایا گیا ہے کہ جنرل پرویز مشرف نے امریکی سینٹروں کو بتا دیا ہے کہ جہاد مسلمانوں کا مذہبی فریضہ اور اسلامی تعلیمات کا حصہ ہے اور دنیا میں مسلمان جہاں بھی جہاد کرتے ہیں وہ دراصل اپنا مذہبی فریضہ نبھاتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جہادی تحریکات، سی ٹی بی ٹی اور قرآن کا حکم

۲۳ جنوری ۲۰۰۰ء

عوامی جمہوریہ چین کے حکمرانوں سے ایک گزارش

عوامی جمہوریہ چین ہمارا عظیم پڑوسی ملک ہے اور پاکستان کے ان دوستوں میں شمار ہوتا ہے جنہوں نے ہر آڑے وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا۔ مگر گزشتہ ایک ہفتہ کے دوران دو تین خبریں ایسی آئی ہیں جنہوں نے پاک چین تعلقات کے حوالہ سے محب وطن پاکستانیوں کو بے چینی سے دوچار کر دیا ہے۔ ایک خبر تو رائٹر کی جاری کردہ ہے جو لاہور سے شائع ہونے والے ایک قومی اخبار نے 12 اکتوبر کو شائع کی ہے کہ چین کے شورش زدہ صوبے ژنجیانگ (سنکیانگ) میں عدالت نے بم دھماکوں اور ڈکیتیوں کی منصوبہ بندی کرنے پر تین مسلمان علیحدگی پسندوں کو سزائے موت سنا دی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر عوامی جمہوریہ چین کے حکمرانوں سے ایک گزارش

۲۳ اکتوبر ۱۹۹۹ء

یہ بھی امریکی ایجنڈے کا حصہ ہے!

دہشت گردی کی موجودہ لہر کے بارے میں وفاقی وزیرداخلہ کے اس بیان کے بعد صورتحال کچھ کچھ واضح ہوتی جا رہی ہے کہ یہ بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ اور دیگر بین الاقوامی ایجنسیوں کی کارستانی ہے جس کا مقصد پاکستان کے داخلی امن کو تباہ کر کے جنوبی ایشیا کی معروضی صورتحال میں اس کی مشکلات میں اضافہ کرنا ہے۔ اس دہشت گردی میں بہت سی قیمتی جانیں ضائع ہوئی ہیں، خود ہمارے شہرے گوجرانوالہ میں تحریک جعفریہ کے ڈویژنل صدر اور ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے سینئر نائب صدر اعجاز حسین رسول نگری کا قتل ایک شریف شہری اور امن پسند راہنما کا قتل ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر یہ بھی امریکی ایجنڈے کا حصہ ہے!

۱۶ اکتوبر ۱۹۹۹ء

مولانا فضل الرحمان کے بیان پر امریکی ردعمل

جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمان کے اس بیان پر امریکہ نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے کہ امریکہ نے اسامہ بن لادن یا طالبان کے خلاف کوئی کارروائی کی تو پاکستان میں امریکی باشندے محفوظ نہیں رہیں گے۔ اس پر برطانیہ نے مولانا موصوف کو ویزا دینے سے معذرت کر دی ہے اور اسلام آباد میں امریکی سفارت خانہ کے ذمہ دار حضرات نے مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کر کے ان سے اس سلسلہ میں وضاحت طلب کی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا فضل الرحمان کے بیان پر امریکی ردعمل

۱۶ اگست ۱۹۹۹ء

این جی اوز اور انسانی حقوق کے ادارے

یہ این جی اوز یعنی غیر سرکاری تنظیمیں سماجی خدمت، صحت، انسانی حقوق، اور نادار لوگوں کی خدمت کے نام پر ملک بھر میں ہزاروں کی تعداد میں موجود ہیں۔ انہیں عالمی اداروں سے کروڑوں روپے کی امداد ملتی ہے اور وہ ایک وسیع نیٹ ورک میں لاکھوں پاکستانیوں کو شریک کار بنا کر اپنے مقاصد کے لیے مسلسل مصروف کار ہیں۔ یہ تنظیمیں اگر فی الواقع غریب عوام کی فلاح و بہبود کے لیے کام کریں اور نادار عوام کے نام پر حاصل ہونے والے فنڈز ان کی صحت اور بہبود کے لیے صرف کریں تو ان سے کسی کو کیا شکایت ہو سکتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر این جی اوز اور انسانی حقوق کے ادارے

۸ جنوری ۱۹۹۹ء

غازی ظہیر الدین بابر ، پارلیمنٹ کی سیڑھیوں پر

آج بھی اسباب و وسائل کا توازن ہمارے حق میں نہیں اور افرادی قوت میں بھی ہمارا پلڑا بھاری نہیں ہے، لیکن یہ توازن کبھی بھی ہمارے حق میں نہیں رہا، اس وقت بھی ہم اسی طرح تھے جب یہاں مغل سلطنت کی بنیاد رکھی جا رہی تھی۔ مگر فطرت کے تقاضوں کو سمجھنے اور انہیں پورا کرنے کا حوصلہ رکھنے والی قیادت موجود تھی اس لیے افرادی قوت اور اسباب و وسائل کی کمی ہماری راہ میں رکاوٹ نہ بن سکی۔ آئیے مولانا محمد حسین آزاد کی کتاب ’’قصص الہند‘‘ سے مغل سلطنت کے بانی غازی ظہیر الدین بابرؒ کے اس معرکہ کا مختصر حال پڑھ لیں جو مغل سلطنت کا نقطۂ آغاز بنا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر غازی ظہیر الدین بابر ، پارلیمنٹ کی سیڑھیوں پر

۶ اگست ۱۹۹۸ء

پاکستان کا ایٹمی دھماکہ اور مستقبل کی پیش بندی

میں ایٹمی دھماکے کے ساتھ بلکہ اس سے بھی زیادہ ایک اور دھماکے پر میاں محمد نواز شریف کو مبارکباد دینا چاہتا ہوں۔ وہ وزیراعظم سیکرٹریٹ کی عالی شان عمارت چھوڑ دینے اور تعیش اور آسائش کا راستہ ترک کر دینے کا دھماکہ ہے جو میرے جیسے نظریاتی کارکن کے لیے ایٹمی دھماکے سے بھی بڑا ہے۔ کیونکہ اگر ہم اس تجربہ میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو نہ صرف عسکری میدان میں بلکہ اقتصادی اور معاشی میدان میں بھی آج کی قوتوں کے سامنے کھڑے ہو سکتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر پاکستان کا ایٹمی دھماکہ اور مستقبل کی پیش بندی

۱۰ جون ۱۹۹۸ء

بین الاقوامی ادارے اور غیر سرکاری تنظیمیں، عالمی استعمار کے مورچے

بین الاقوامی ادارے اور این جی اوز مختلف ممالک میں اپنے اہداف و مقاصد کے حصول کے لیے کس طرح کام کرتی ہیں، اس سے واقفیت دینی کام کرنے والی جماعتوں اور کارکنوں بالخصوص علمائے کرام کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ اور اسی غرض سے چند منتخب مضامین زیرنظر شمارہ میں قارئین کی خدمت میں پیش کیے جا رہے ہیں جو موضوع کے تمام پہلوؤں کا احاطہ تو نہیں کرتے البتہ ان سے عالم اسلام میں کام کرنے والی این جی اوز کے بنیادی اہداف اور طریق کار کے اہم پہلوؤں کا ایک ہلکا سا خاکہ ضرور سامنے آجاتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر بین الاقوامی ادارے اور غیر سرکاری تنظیمیں، عالمی استعمار کے مورچے

اپریل ۱۹۹۸ء

دفاعی پالیسی ۔ قرآنی احکام کی روشنی میں

سی ٹی بی ٹی پر پاکستان اور بھارت دونوں اب تک دستخط کرنے سے انکار کرتے چلے آرہے ہیں اور پاکستان کا موقف یہ رہا ہے کہ جب تک بھارت اس پر دستخط نہ کردے پاکستان دستخط نہیں کرے گا کیونکہ یہ علاقہ میں فوجی قوت کے توازن کا مسئلہ ہے جس سے صرف نظر کرنا پاکستان کی سالمیت کے منافی ہوگا۔ مگر اب جبکہ بھارت دستخط سے انکار پر بدستور ڈٹا ہوا ہے، حکومت پاکستان نے اس سمجھوتے پر یکطرفہ طور پر دستخط کرنے کا عندیہ دے دیا ہے جس پر قومی حلقوں میں بجا طور پر تشویش و اضطراب کا اظہار کیا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دفاعی پالیسی ۔ قرآنی احکام کی روشنی میں

۲ اگست ۱۹۹۶ء

فوجی افسران کی گرفتاری اور سرکاری موقف

پاک فوج کے بعض افسروں کی گرفتاری کے تقریباً ڈیڑھ ماہ بعد وزیراعظم اور وزیردفاع کے بیانات نے اس سلسلہ میں ملکی اور عالمی سطح پر ہونے والی بحث کو ایک نیا رخ دے دیا ہے اور حکومت کی مسلسل خاموشی سے پیدا ہونے والے شکوک و خدشات ختم ہونے کی بجائے مزید سوالات و شبہات کو جنم دینے کا باعث بن گئے ہیں۔ میجر جنرل ظہیر الاسلام اور بریگیڈیر مستنصر باللہ سمیت دو درجن کے لگ بھگ افراد اس وقت زیرحراست ہیں جن میں فوجی افسران کے علاوہ بعض علماء کرام بھی شامل ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر فوجی افسران کی گرفتاری اور سرکاری موقف

دسمبر ۱۹۹۵ء

دفاعی بجٹ میں کمی، قومی خودکشی کے مترادف

ان دنوں عالمی طاقتوں اور اداروں کی طرف سے پاکستان کو مسلسل یہ مشورہ دیا جا رہا ہے کہ وہ اپنے دفاعی اخراجات میں کمی کرے اور جدید ہتھیاروں کی تیاری سے گریز کرنے کے علاوہ فوج کی تعداد بھی گھٹائے۔ خود ہمارے بعض دانشور بھی اسی خیال کا اظہار کر رہے ہیں اور دلیل یہ دی جا رہی ہے کہ پاکستان کی اقتصادی ترقی اور خوشحالی کے لیے دفاعی اخراجات کو کم سے کم کرنا ضروری ہے۔ لیکن ایسا کرنے والے حضرات دو باتوں کو بھول جاتے ہیں یا جان بوجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دفاعی بجٹ میں کمی، قومی خودکشی کے مترادف

مئی ۱۹۹۵ء

پاکستان کے داخلی معاملات میں امریکی مداخلت اور مسیحی رہنماؤں سے مخلصانہ گزارش

امریکی سینٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی نے 1987ء میں پاکستان کی فوجی و اقتصادی امداد کے لیے شرائط عائد کر کے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے خلاف جس نظریاتی اور اعصابی جنگ کا آغاز کیا تھا وہ اب فیصلہ کن مرحلہ میں داخل ہوگئی ہے۔ ان شرائط میں پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خاتمہ کے ساتھ ساتھ اسلامی قوانین نافذ نہ کرنے کی ضمانت، جداگانہ طرز انتخاب کی منسوخی، اور قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیے جانے کے اقدامات کی واپسی کے مطالبات شامل تھے، اور ان میں اب گستاخ رسولؐ کے لیے موت کی سزا کا قانون تبدیل کرنے کے تقاضہ کا اضافہ بھی ہوگیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر پاکستان کے داخلی معاملات میں امریکی مداخلت اور مسیحی رہنماؤں سے مخلصانہ گزارش

مئی ۱۹۹۴ء

جمہوری ممالک کی ایسوسی ایشن اور بے نظیر بھٹو

پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بیگم بے نظیر بھٹو نے اپنے دورۂ امریکہ کے موقع پر جمہوری ممالک کی ایسوسی ایشن قائم کرنے کی تجویز پیش کی تھی جس پر امریکہ، برطانیہ اور فرانس کے حکومتی حلقوں کی طرف سے مثبت ردعمل کا اظہار کیا گیا ہے اور مغربی پریس اس تجویز کو اس انداز سے اچھال رہا ہے جیسے یہ خود اس کے اپنے دل کی آواز ہو ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جمہوری ممالک کی ایسوسی ایشن اور بے نظیر بھٹو

۱۱ اگست ۱۹۸۹ء

مرزا طاہر احمد اور امریکی امداد

مرزا طاہر احمد نے اس مقصد کے لیے لندن کو اپنی عالمی تحریک کا مرکز بنایا لیکن برطانیہ میں مقیم مسلمانوں کی بیداری اور سالانہ عالمی ختم نبوت کانفرنس کے مسلسل انعقاد کی وجہ سے برطانوی رائے عامہ کو اپنے ڈھب پر لانے میں اسے کامیابی نہ ہوئی۔ البتہ جنیوا کے بین الاقوامی انسانی حقوق کمیشن سے ایک قرارداد منظور کرانے میں قادیانی گروہ کامیاب ہوگیا جس میں قادیانیوں کے بارے میں مذکورہ آئینی و قانونی اقدامات کو انسانی حقوق کے منافی قرار دیتے ہوئے حکومت پاکستان پر ان کی واپسی کے لیے زور دیا گیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مرزا طاہر احمد اور امریکی امداد

۸ جنوری ۱۹۸۸ء

زندہ باد افغان مجاہدین

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ایک بار پھر افغانستان سے روسی افواج کی مکمل واپسی کا مطالبہ کیا ہے اور اس دفعہ یہ مطالبہ پہلے سے زیادہ اکثریت کے ساتھ کیا گیا ہے جو یقیناً افغان مجاہدین کی عظیم اصولی اور اخلاقی کامیابی ہے۔ روسی حکومت اور کابل کی کٹھ پتلی انتظامیہ نے کچھ عرصہ سے جنگ بندی کی یکطرفہ پیشکش اور قومی افغان مصالحت کے عنوان سے سیاسی حربے اختیار کر کے دنیا کو یہ باور کرانے کی کوشش شروع کر رکھی تھی کہ روس اپنی افواج واپس بلانے کے لیے تیار ہے لیکن افغان مجاہدین قومی مصالحت کی طرف پیش رفت نہ کر کے روسی افواج کی واپسی میں تاخیر کا باعث بن رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر زندہ باد افغان مجاہدین

۲۰ نومبر ۱۹۸۷ء

ارشد پرویز کیس پاکستان کے خلاف عالمی سازش ہے

پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے سلسلہ میں امریکہ کی طرف سے بڑھتا ہوا دباؤ عالمی طاقتوں کی اس مشترکہ حکمتِ عملی کا حصہ ہے جس کے تحت وہ عالمِ اسلام کو ایٹمی قوت سے بہرحال محروم رکھنا چاہتی ہیں۔ ایٹمی فولاد کی سمگلنگ کے سلسلہ میں ارشد پرویز کا مبینہ کیس ایک سازش کے تحت کھڑا کیا گیا ہے جس کا مقصد ایٹمی توانائی کے حصول کے سلسلہ میں پاکستان کی جائز کوششوں پر اثر انداز ہونا ہے اور اس دباؤ کو بڑھانا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ارشد پرویز کیس پاکستان کے خلاف عالمی سازش ہے

۲۸ اگست ۱۹۸۷ء

پاکستان کے لیے امریکی امداد کی شرائط یا ریموٹ کنٹرول غلامی کا امریکی منصوبہ؟

پہلی اور دوسری جنگِ عظیم کے بعد جب استعماری قوتوں کے قویٰ مضمحل ہونے لگے اور نوآبادیاتی مقبوضات پر ان کی گرفت قائم رہنے کے امکانات کم ہوگئے تو ان غلام ملکوں کے رہنے والے عوام کی اس دیرینہ خواہش کی تکمیل کے آثار پیدا ہوگئے کہ وہ آزاد قوم کی حیثیت سے آزاد فضا میں سانس لے سکیں اور استعماری قوتوں کے مقبوضہ ممالک یکے بعد دیگرے آزاد ہونے لگے۔ لیکن سامراجی طاقتوں نے نوآبادیاتی مقبوضات پر تسلط سے مکمل طور پر دستبردار ہونے کی بجائے ایسی حکمتِ عملی اختیار کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر پاکستان کے لیے امریکی امداد کی شرائط یا ریموٹ کنٹرول غلامی کا امریکی منصوبہ؟

۲۶ جون ۱۹۸۷ء

امریکی امداد کی شرائط اور قادیانیت کی سرپرستی

پاکستان کو دی جانے والی امریکی امداد کی شرائط میں اسلامی قوانین کے نفاذ کو روکنے اور قادیانیوں کو تحفظ دینے کی شرائط بھی شامل ہیں اور اس قسم کی شرطوں کے ساتھ امداد کو قبول کرنا قومی غیرت اور دینی حمیت کے منافی ہے۔ امریکی سینٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی نے پاکستان کو امداد دینے کی سفارش جس قرارداد کے ذریعے کی ہے اس میں امداد کو جمہوری عمل، انسانی حقوق اور مذہبی آزادی کی تین شرطوں کے ساتھ مشروط کیا گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر امریکی امداد کی شرائط اور قادیانیت کی سرپرستی

۲۲ مئی ۱۹۸۷ء

امریکی شرائط کے خلاف قومی کنونشن

جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے قائم مقام امیر حضرت مولانا محمد اجمل خان اور قائد جمعیۃ مولانا سمیع الحق نے اس تجویز کو منظور کر لیا ہے کہ پاکستان کی امداد کے لیے امریکہ کی طرف سے عائد کی جانے والی قابلِ اعتراض شرائط کے خلاف رائے عامہ کو منظم کرنے کے لیے رمضان مبارک کے بعد لاہور میں مختلف مکاتبِ فکر کا قومی کنونشن منعقد کیا جائے اور ان شرائط کے خلاف اجتماعی ردِعمل کا اظہار کیا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر امریکی شرائط کے خلاف قومی کنونشن

۲۲ مئی ۱۹۸۷ء

روسی جارحیت اور انتخابات

وزیرداخلہ جناب محمود ہارون نے اپنے دورۂ کویت کے دوران کویت کی خبر رساں ایجنسی کو انٹرویو دیتے ہوئے پاکستان کو علاقائی اور اندرونی طور پر درپیش صورتحال پر تفصیل سے گفتگو کی ہے اور اس ضمن میں یہ بھی فرمایا ہے کہ افغانستان میں روسی جارحیت کے جاری رہنے تک پاکستان میں انتخابات نہیں ہو سکتے اور یہ بھی کہا کہ سیاستدان حکومت کو متفقہ سیاسی لائحہ عمل پیش کرنے میں ناکام رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر روسی جارحیت اور انتخابات

۵ مارچ ۱۹۸۲ء

کشمیر کا مسئلہ اور بھارتی وزیر خارجہ اٹل بہاری واجپائی کی دھمکی

بھارتی وزیرخارجہ مسٹر اٹل بہاری باجپائی نے پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کو دھمکی دی ہے کہ وہ کشمیر کے بارے میں فضول باتیں کرنے سے باز رہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کشمیر کے حق خود ارادیت کی بات کر کے آگ سے کھیل رہا ہے۔ اور یہ بھی ارشاد فرمایا کہ اقوام متحدہ نوآبادیوں کی فہرست سے کشمیر کا نام خارج کر دے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر کشمیر کا مسئلہ اور بھارتی وزیر خارجہ اٹل بہاری واجپائی کی دھمکی

۱۵ دسمبر ۱۹۷۸ء

ایٹمی ری پراسیسنگ پلانٹ اور امریکہ

امریکہ کے صدر جمی کارٹر نے فرانس سے ایٹمی ری پراسیسنگ پلانٹ حاصل کرنے کے سلسلہ میں پاکستان کے اقدامات کی ایک بار پھر مخالفت کی ہے جبکہ دوسری طرف موصوف نے دہلی کے دورہ کے موقع پر پر بھارت کی طرف سے ایٹمی تحفظات فراہم کرنے سے انکار کے باوجود بھارت کو امریکہ کی طرف سے ایٹمی ایندھن کی فراہمی جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ایٹمی ری پراسیسنگ پلانٹ اور امریکہ

۱۴ جنوری ۱۹۷۸ء

کینیڈا کی طرف سے ایٹمی مواد کی فراہمی کا مسئلہ اور وفاقی وزیر اطلاعات

قائد جمعیۃ علماء اسلام مولانا مفتی محمود نے گزشتہ روز پشاور میں پریس کانفرنس سے خطاب کیا اور حکومت کی خارجہ پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے فرمایا کہ کینیڈا نے کراچی کے ایٹمی بجلی گھر کے لیے ایندھن وغیرہ سے جو انکار کیا ہے وہ ہماری خارجہ پالیسی کی کمزوری کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ خارجہ پالیسی اتنی کامیاب نہیں جتنی کہ اس کی تشہیر کی جاتی ہے چنانچہ میں نے ایک موقع پر قومی اسمبلی میں خارجہ پالیسی پر بحث کرنا چاہی تھی مگر حکومت اس مسئلہ پر بحث سے گریزاں ہے۔ (روزنامہ نوائے وقت لاہور ۔ ۵ جنوری ۱۹۷۷ء) ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر کینیڈا کی طرف سے ایٹمی مواد کی فراہمی کا مسئلہ اور وفاقی وزیر اطلاعات

۱۴ جنوری ۱۹۷۷

پاکستان، امریکی مفاد کی کڑی؟

جہاں تک امریکہ کی فوجی امداد کی بحالی کا تعلق ہے، اگر امریکہ پاکستان کی امداد بحال کر دے تو اس سے پاکستان کو دفاعی ضروریات پوری کرنے اور برصغیر میں طاقت کا توازن برقرار رکھنے میں یقیناً مدد ملے گی۔ لیکن اس امداد کے پس منظر میں ڈاکٹر کیسنجر کے ریمارکس کے پیش نظر ہم اس خدشہ کا اظہار کیے بغیر نہیں رہ سکتے کہ شاید ایک بار پھر پاکستان کی خارجہ پالیسیوں کے گرد استعماری زنجیروں کا حلقہ تنگ کیا جا رہا ہے اور امریکہ کی طرف سے فوجی امداد کی یہ بحالی اس سلسلہ کی ایک کڑی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر پاکستان، امریکی مفاد کی کڑی؟

۴ اکتوبر ۱۹۷۴ء

مسئلہ کشمیر نئے دور میں!

وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی طرف سے آزاد کشمیر کو پاکستان کا صوبہ بنانے کی تجویز پر جمعیۃ علماء اسلام کے قائد مولانا مفتی محمود نے قوم کو خبردار کیا تھا کہ اس سے مسئلہ کشمیر کے بارے میں پاکستان کے موقف کو نقصان پہنچے گا اور یہ تجویز عملاً مسئلہ کشمیر کو دفن کر دینے کے مترادف ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مسئلہ کشمیر نئے دور میں!

۲۶ جولائی ۱۹۷۴ء

آزادکشمیر ۔ حق و باطل کی رزمگاہ اور مصائب و مسائل کی آماجگاہ

دارالعلوم تعلیم القرآن باغ کی دعوت پر اس سال مئی کے پہلے ہفتہ میں آزادکشمیر جانے کا موقع ملا، دارالعلوم تعلیم القرآن کے جلسہ میں شرکت کے علاوہ مدرسہ حنفیہ تعلیم الاسلام کے جلسہ میں بھی حاضری ہوگئی۔ حضرت مولانا سید عبد المجید صاحب ندیم ان جلسوں میں شریک تھے۔ الحمد للہ تین روز کے اس مختصر دورہ میں آزادکشمیر کےبارے میں معلومات حاصل کرنے اور مختلف عنوانات پر وہاں کے علماء، طلبہ اور سیاسی کارکنوں سے تبادلۂ خیالات کرنے کا موقع ملا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر آزادکشمیر ۔ حق و باطل کی رزمگاہ اور مصائب و مسائل کی آماجگاہ

۲۴ مئی ۱۹۷۴ء

بھارت کا ایٹمی دھماکہ!

انڈیا نے گزشتہ روز راجستھان کے صحراؤں میں پہلا ایٹمی دھماکہ کیا اور اس طرح امریکہ، روس، برطانیہ، فرانس اور چین کے بعد ایٹمی طاقتوں کی فہرست میں چھٹے ملک کا اضافہ ہوگیا۔ بھارت کے اس ایٹمی دھماکے پر عالمی رائے عامہ کی طرف سے ملے جلے ردعمل کے اظہار کا سلسلہ جاری ہے۔ پاکستان اور دوسرے بہت سے ممالک نے یہ رائے ظاہر کی ہے کہ اس دھماکے سے ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کی جانے والی کوششوں کو نقصان پہنچے گا۔ وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے یہ بھی کہا ہے کہ پاکستان بھارت کے اس اقدام سے مرعوب نہیں ہوگا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر بھارت کا ایٹمی دھماکہ!

۲۴ مئی ۱۹۷۴ء

کشمیر، تاریخ کے آئینے میں

(۱) چودھویں صدی عیسوی کے ربع اول میں کشمیر کے ایک راجہ نے، جس کا نام رینچن یا رام چندر بتایا جاتا ہے، ایک عرب مسافر سید بلبل شاہؒ کی نماز اور تبلیغ سے متاثر ہو کر اسلام قبول کیا، اپنا اسلامی نام صدر الدینؒ رکھا اور سری نگر میں جامع مسجد تعمیر کی۔ اس طرح کشمیر کے اسلامی دور کا آغاز ہوا۔ (۲) پندرہویں صدی کے ربع اول میں کشمیر کو سلطان زین العابدینؒ جیسا نیک دل، رعایا پرور اور علم دوست بادشاہ نصیب ہوا جس نے عدل، تدبر، رحم دلی اور اسلامی اخوت و مساوات کے جذبہ سے ریاست میں اسلام کی بنیادوں کو مستحکم کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر کشمیر، تاریخ کے آئینے میں

۲۴ مئی ۱۹۷۴ء

تقسیم ہند کی معقولیت سے انکار

وزیراعظم جناب ذوالفقار علی بھٹو نے گزشتہ روز لاہور میں اخباری نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے یہ عجیب و غریب انکشاف فرمایا ہے کہ ’’پاکستان مذہبی ملک نہیں ہے‘‘ اور یہ کہ ’’کسی ملک کے سیکولر ہونے سے اس کے اسلامی مزاج میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔‘‘ (روزنامہ مشرق لاہور ۔ یکم فروری ۱۹۷۴ء)۔ خدا جانے مذہب کے نام سے بھٹو صاحب کی اس جھجھک کا پس منظر کیا ہے، حالانکہ اس حقیقت سے انکار کی کوئی گنجائش نہیں کہ پاکستان مذہب کے نام پر لا الہ الا اللہ کا نعرہ لگا کر قائم کیا گیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر تقسیم ہند کی معقولیت سے انکار

۸ فروری ۱۹۷۴ء

وزیراعظم بھٹو کا اعتراف اور جسٹس حمود الرحمان کمیشن کی رپورٹ

وزیراعظم جناب ذوالفقار علی بھٹو نے عید الاضحیٰ سے چند روز قبل ایک غیر ملکی جریدہ کو انٹرویو دیتے ہوئے اس امر کا اعتراف کیا ہے کہ پاکستان کافی عرصہ سے غیر ملکی مداخلت کا نشانہ بنا ہوا ہے اور خصوصاً بلوچستان غیر ملکی سازشوں اور مداخلت کی زد میں ہے۔ اس سے قبل بھٹو صاحب نے متعدد بار اس مداخلت کے وجود سے انکار کیا ہے بلکہ ایک بار تو یہاں تک فرمایا کہ بلوچستان میں غیر ملکی مداخلت کا قصہ ہم صرف اخبارات میں پڑھتے ہیں۔ مگر اب ان کے اس اعتراف کے بعد یہ امر شک و شبہ سے بالاتر ہو چکا ہے کہ بلوچستان میں غیر ملکی عناصر نے سازشوں کے جال پھیلا رکھے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر وزیراعظم بھٹو کا اعتراف اور جسٹس حمود الرحمان کمیشن کی رپورٹ

۱۸ جنوری ۱۹۷۴ء

وطن دشمن تنظیموں پر پابندی کا آرڈیننس

صدر مملکت جناب فضل الٰہی چوہدری نے ایک آرڈیننس جاری کیا ہے جس کے تحت وفاقی حکومت کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ ملکی مفاد کے منافی سرگرمیوں میں حصہ لینے والی تنظیموں پر پابندی لگا سکتی ہے اور افراد کو سزا دے سکتی ہے۔ ملکی مفاد کے منافی سرگرمیوں کے ضمن میں: ایک سے زائد قومیتوں کے پرچار، فرقہ وارانہ جذبات ابھارنے، علاقائی سالمیت اور خودمختاری میں رخنہ ڈالنے، لسانی، نسلی اور علاقائی بنیادوں پر تفریق پیدا کرنے، اور ملک کے کسی حصہ کی علیحدگی کی کوششوں کا خصوصیت کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر وطن دشمن تنظیموں پر پابندی کا آرڈیننس

۳۰ نومبر ۱۹۷۳ء

آزادکشمیر سازشوں کی زد میں

آزاد کشمیر کے صدارتی انتخابات میں عوام دوست اور دیندار شخصیت سردار محمد عبد القیوم خان کی کامیابی سے ملک بھر کے دینی حلقوں میں مسرت و انبساط کی لہر دوڑ گئی تھی اور اب ان کی اسلامی اصلاحات بہتر مستقبل کی طرف غمازی کر رہی ہیں۔ لیکن دینی حلقوں کی مسرت کے ساتھ ہی ساتھ دین دشمن عناصر نے بھی آزادکشمیر کے نیک دل صدر کے اقدامات کو ناکام بنانے کا فیصلہ کر لیا ہے اور وہ بزعم خویش انتہائی کامیابی سے سازشوں کے جال بن رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر آزادکشمیر سازشوں کی زد میں

۲۸ مئی ۱۹۷۱ء

پاکستان میں امریکی سفیر جوزف ایس فارلینڈ کی سرگرمیاں

پاکستان میں پہلے عام انتخابات کی تیاریاں شروع ہوتے ہی امریکہ بہادر نے جب سی آئی اے کے مشہور و معروف کارندے اور انڈونیشیا میں خانہ جنگی کرانے والے سورما مسٹر جوزف ایس فارلینڈ کو پاکستان میں اپنا سفیر مقرر کیا تو تاڑنے والی نگاہوں نے اسی وقت دیکھ لیا تھا کہ یہ حضرت آگے چل کر کیا گل کھلائیں گے۔ اسی لیے جمعیۃ علماء اسلام کے راہنماؤں نے مسلسل یہ مطالبہ کیا کہ مسٹر فارلینڈ کو واپس بھیج دیا جائے ورنہ یہ صاحب ملک و ملت کے لیے خطرہ بن جائیں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر پاکستان میں امریکی سفیر جوزف ایس فارلینڈ کی سرگرمیاں

۱۲ مارچ ۱۹۷۱ء