رفتگان

حضرت مولانا محمد سالم قاسمیؒ

دارالعلوم (وقف) دیوبند کے مہتمم حضرت مولانا محمد سالم قاسمیؒ کی علالت کے بارے میں کئی روز سے تشویشناک خبریں آرہی تھیں، اسی دوران خواب میں ان کی زیارت ہوئی، عمومی سی ملاقات تھی، میں نے عرض کیا کہ حضرت! دو چار روز کے لیے دیوبند میں حاضری کو جی چاہ رہا ہے مگر ویزے کی کوئی صورت سمجھ میں نہیں آرہی، میری طرف غور سے دیکھا اور فرمایا اچھا کچھ کرتے ہیں۔ خواب بس اتنا ہی ہے، اب خدا جانے پردۂ غیب میں کیا ہے، مگر یہ اطمینان ہے کہ خاندانِ قاسمی کی نسبت سے جو بھی ہوگا خیر کا باعث ہی ہوگا، ان شاء اللہ تعالیٰ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا محمد سالم قاسمیؒ

۱۶ اپریل ۲۰۱۸ء

چند بزرگوں اور دوستوں کی یاد میں

پرانے رفقاء میں سے کسی بزرگ یا دوست کی وفات ہوتی ہے تو جی چاہتا ہے کہ جنازہ یا تعزیت کے لیے خود حاضری دوں اور معمولات کے دائرے میں ایک حد تک اس کی کوشش بھی کرتا ہوں مگر متنوع مصروفیات کے ہجوم میں صحت و عمر کے تقاضوں کے باعث ایسا کرنا عام طور پر بس میں نہیں رہتا۔ گزشتہ دنوں چند انتہائی محترم بزرگ اور دوست جہانِ فانی سے رخصت ہوگئے، انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر چند بزرگوں اور دوستوں کی یاد میں

۳ مارچ ۲۰۱۸ء

جہلم اور راولپنڈی کا تعزیتی سفر

گزشتہ روز (۶ جنوری) راولپنڈی ڈویژن کے ایک تعزیتی سفر کا اتفاق ہوگیا، حضرت مولانا عبد اللطیف جہلمی قدس اللہ سرہ العزیز کے برادر خورد اور میرے پرانے بزرگ دوست مولانا حکیم مختار احمد الحسینیؒ کا پچھلے دنوں انتقال ہوگیا ہے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وہ ایک دور میں متحرک فکری اور نظریاتی راہنماؤں میں شمار ہوتے تھے اور ان کے ساتھ میری پرجوش رفاقت رہی ہے۔ انہوں نے کچھ عرصہ جامعہ نصرۃ العلوم میں بھی تعلیم حاصل کی ہے۔ ان کا نام آج کے نوجوان علماء اور کارکنوں کے لیے اجنبی ہوگا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جہلم اور راولپنڈی کا تعزیتی سفر

۱۰ جنوری ۲۰۱۸ء

حضرت قاری محمد انورؒ

استاذ الحفاظ و القراء حضرت قاری محمدانور صاحبؒ کاچند روز پہلے مدینہ منورہ میں انتقال ہو گیا ہے، آپؒ میرے حفظ کے استاذتھے اور صرف میرے ہی نہیں بلکہ ہمارے پورے خاندان کے استاذ تھے، ہم سب بھائی بہنیں ان کے شاگرد ہیں۔الحمدللہ نو بھائیوں نے اور تین بہنوں نے حفظ کیا ہے اور ایک بڑی بہن کے سوا باقی سب کے استاذ وہی تھے۔ جبکہ وہ گکھڑ اور اس کے ارد گرد سینکڑون حفاظ کے استاذ تھے۔ گکھڑ سے وہ افریقہ کے ایک ملک میں تشریف لے گئے، وہاں بھی بیسیوں حفاظ کے استاذ ہیں۔ پھر مدینہ منورہ میں تقریباً پینتیس سال انہوں نے قرآن کریم پڑھایا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت قاری محمد انورؒ

مارچ ۲۰۱۷ء

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ اور ڈاکٹر عبد القدیر خان

میرا ایک سوال ہے جس کا جواب میں ارباب فکر و دانش سے چاہوں گا کہ وہ کونسا سانچہ تھا جس میں ڈھل کر ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ علم و فکر کے اس مقام پر پہنچے تھے؟ کیا یہ محض شخصی کمال تھا کہ ایک باذوق شخص نے اس کے سارے تقاضوں کو اپنے گرد جمع کر لیا تھا یا ہمارے نظام میں بھی اس کی کوئی جھلک موجود ہے؟ اصل ضرورت یہ ہے کہ اس سانچے کو ایک نظام کی صورت دی جائے جس نے ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ جیسی شخصیت ہمیں عطا کی اور اسے مستقبل میں ایسی ہمہ گیر شخصیات سامنے لانے کا ذریعہ بنایا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ اور ڈاکٹر عبد القدیر خان

یکم مارچ ۲۰۱۷ء

حضرت مولانا سلیم اللہؒ ، حضرت قاری محمد انورؒ، حضرت مولانا عبد الحفیظ مکیؒ

گزشتہ دو روز سے صدمہ در صدمہ در صدمہ کی کیفیت میں ہوں۔ شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خانؒ کی وفات پر صدمہ کے اظہار کے لیے حواس کو مجتمع کر رہا تھا کہ مدینہ منورہ سے استاذِ محترم حضرت قاری محمد انورؒ کی وفات کی خبر نے دوہرے صدمے سے دوچار کر دیا ۔ اور ابھی اس کی تفصیلات معلوم کرنے کی کوشش میں تھا کہ جنوبی افریقہ سے حضرت مولانا عبد الحفیظ مکیؒ کی اچانک وفات کی خبر آگئی، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ تینوں بزرگوں کا تذکرہ خاصی تفصیل کا متقاضی ہے مگر سرِدست ابتدائی تاثرات ہی پیش کر سکوں گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا سلیم اللہؒ ، حضرت قاری محمد انورؒ، حضرت مولانا عبد الحفیظ مکیؒ

۱۸ جنوری ۲۰۱۷ء

حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ

حضرت تھانویؒ کو 1857ء کی جنگ آزادی میں مسلمانوں کی ناکامی اور برطانوی استعمار کے مکمل تسلط کے تناظر میں دیکھا جائے تو صورتحال کا نقشہ کچھ اس طرح سامنے آتا ہے کہ 1857ء کی جنگِ آزادی کے بعد اس خطہ کے مسلمان اپنا سب کچھ کھو کر نئے سرے سے معاشرتی زندگی کا آغاز کر رہے تھے۔ صدیوں اس خطہ پر حکومت کرنے کے بعد مسلمانوں کا سیاسی نظام ختم ہو چکا تھا، عدالتی اور انتظامی سسٹم ان کے ہاتھ سے نکل گیا تھا، عسکری قوت اور شان و شوکت سے وہ محروم ہو چکے تھے، اور ان کا علمی و تہذیبی ڈھانچہ بھی شکست و ریخت سے دوچار تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ

۱۱ جنوری ۲۰۱۷ء

حضرت مولانا مفتی عبد الواحدؒ

آج کی نشست میں تذکرہ ہے حضرت مولانامفتی عبد الواحد نور اللہ مرقدہ کا، ان کے تعارف اور تذکرہ سے پہلے کچھ پسِ منظرعرض کرناچاہتاہوں۔ مرکزی جامع مسجدشیرانوالہ باغ گوجرانوالہ شہر کی قدیمی مساجدمیں سے ہے، اب سے تقریباً ڈیڑھ سوسال پہلے یہاں ایک بزرگ ہواکرتےتھے مولانا سراج الدین احمد جو کہ بڑے عالم اور فقیہ تھے انہیں فقیہِ پنجاب کہا جاتا تھا۔ مسجد کے عقب میں بازار تھانے والا کی گلی مولوی سراج دین اور مسجد مولوی سراج دین ان ہی کےنام پر ہیں اور وہ مسجد شہرکی جامع مسجد ہوا کرتی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا مفتی عبد الواحدؒ

۲۰۱۷ء

حضرت مولانا مفتی محمد عیسیٰ خانؒ گورمانی

حضرت مولانا مفتی محمد عیسیٰ خانؒ گورمانی گزشتہ ماہ طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ان کا تعلق تونسہ شریف کے قریب لتڑی جنوبی سے تھا لیکن ان کی زندگی کا بیشتر حصہ گوجرانوالہ میں گزرا۔ وہ جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے ابتدائی فضلاءمیں سے تھے جب نصرۃ العلوم کے شیخ الحدیث حضرت مولانا قاضی شمس الدینؒ تھے۔ بخاری شریف انہوں نے حضرت قاضی صاحبؒ سے پڑھی جبکہ دورۂ حدیث کے دیگر اسباق حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ، حضرت مولانا صوفی عبد الحمیدؒ سواتی اور حضرت مولانا عبد القیوم ہزارویؒ سے پڑھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا مفتی محمد عیسیٰ خانؒ گورمانی

جنوری ۲۰۱۷ء

مولانا حکیم عبد الرحیم اشرفؒ

حضرت مولانا حکیم عبد الرحیم اشرفؒ کے ساتھ غائبانہ تعارف تو بچپن ہی سے تھا۔ مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں طالب علمی کے زمانے میں (۱۹۶۲ء تا ۱۹۷۰ء) میرا معمول یہ تھا کہ شہر میں جہاں کہیں کسی لائبریری یا دارالمطالعہ کا پتہ چلتا وہاں تک رسائی کی کوشش کرتا اور اخبارات و رسائل کے مطالعہ کے لیے کچھ نہ کچھ وقت روزانہ صرف ہوجاتا۔ انہی میں سے ایک دارالمطالعہ چوک نیائیں میں اہل حدیث دوستوں کا بھی تھا۔ سالہا سال تک یہ سلسلہ جاری رہا کہ روزانہ یا کم از کم ہفتہ میں دوبارہ وہاں ضرور جاتا اور کچھ وقت مطالعہ میں گزارتا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا حکیم عبد الرحیم اشرفؒ

۲۰۱۷ء

جنید جمشیدؒ

جنید جمشیدؒ کی جدائی پر وسیع پیمانے پر محسوس کیا جانے والا یہ غم دراصل ہمارے اس قومی اور معاشرتی جذبہ و احساس کا عکاس ہے کہ اپنے اللہ کی طرف رجوع، عیش و عشرت کے ماحول سے واپسی، اور آخرت کی تیاری کے لیے ہر مسلمان کے دل میں تڑپ کسی نہ کسی درجہ میں ضرور موجود ہے۔ اس تڑپ کو بے ثبات دنیا کی رنگا رنگ آسائشوں نے گھیر رکھا ہے، اسے صرف صحیح راہنمائی اور حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے، یہ کام اگر سلیقے سے کیا جا سکے تو جنید جمشید کا غم محسوس کرنے والے لاکھوں افراد خود بھی جنید جمشید بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جنید جمشیدؒ

۲۱ دسمبر ۲۰۱۶ء

مولانا مفتی محمد عیسٰی گورمانی اور دیگر مرحومین

حضرت مولانا مفتی محمد عیسیٰ خانؒ گورمانی، گوجرانوالہ۔ حضرت مولانا محمد یعقوبؒ ربانی، فاروق آباد، ضلع شیخوپورہ۔ مولانا محمد اسماعیل محمدیؒ، رانا ٹاؤن، شیخوپورہ۔ مولانا غلام رسول شوقؒ، کوٹلہ، ضلع گجرات۔ مولانا عبد الرؤفؒ، تھب، باغ، آزاد کشمیر۔ مکمل تحریر مولانا مفتی محمد عیسٰی گورمانی اور دیگر مرحومین

۲۷ نومبر ۲۰۱۶ء

حضرت مولانامحمدحیاتؒ

ہماری آج کی گفتگو کا موضوع فاتحِ قادیان استاذ المناظرین حضرت مولانا محمد حیاتؒ ہیں۔ مولانا محمد حیاتؒ شکرگڑھ کے قریب ایک گاؤں کے رہنے والے تھے اور درویش صفت عالمِ دین تھے۔ اللہ تبارک و تعالٰی نے ان کو علم و تکلم، تقویٰ و عمل کی بڑی خصوصیات سے نوازا تھا۔ مولانا کی ڈاڑھی قدرتی طور پر نہیں تھی اور ان کا طرزِ زندگی بہت سادہ تھا، جس طرح زمیندار اور کاشتکار ہوتے ہیں کہ سادہ وضع قطع اور سادہ طور طریقے۔ اس لیے کوئی آدمی بظاہر انہیں دیکھ کر یہ اندازہ نہیں کر سکتا تھا کہ وہ عالم دین اور دینی بزرگ ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانامحمدحیاتؒ

۴ نومبر ۲۰۱۶ء

مولانا محمد امین اورکزئی شہیدؒ

مولانا محمد امین اورکزئی شہیدؒ کے بارے میں یہ معلوم کر کے بھی ان کے ساتھ طبعی مناسبت محسوس ہوئی کہ وہ اپنے شیخ مکرم حضرت السید مولانا محمد یوسف بنوریؒ کی طرح درس نظامی کے مروجہ نصاب کو مزید بہتر بنانے کے خواہاں تھے اور نصابی کتابوں کے انتخاب میں ’’خوب سے خوب تر کی تلاش‘‘ کا ذوق رکھتے تھے۔ حضرت بنوریؒ نے اس حوالہ سے جو کچھ لکھا ہے وہ پڑھ کر میرا ذوق بھی یہی چلا آرہا ہے کہ نصابی کتب کے انتخاب میں کسی ایک فہرست پر جمے رہنے کی بجائے ’’خوب سے خوب تر کی تلاش‘‘ کا عمل مسلسل جاری رہنا چاہیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا محمد امین اورکزئی شہیدؒ

۲۷ اکتوبر ۲۰۱۶ء

حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ

آج جس شخصیت کے حوالے سےگفتگو کرنے لگا ہوں وہ صرف ہمارے پاکستان نہیں بلکہ برصغیر کی بڑی علمی اور تحریکی شخصیات میں سے ہیں۔ حضرت مولانا محمدعلیؒ جالندھر کے رہنے والے تھے۔ جامعہ خیر المدارس ملتان پہلے جالندھر میں تھا۔ مولانا خیرمحمد جالندھریؒ حکیم الامۃ مولانا اشرف علی تھانویؒ کے بڑے خلفاء میں سے تھے، انہوں نے جالندھرمیں جامعہ خیر المدارس بنایا تھا۔ مولانا محمدعلی جالندھریؒ ان کے خلفاء میں سے تھے اور خیرالمدارس میں پڑھاتے رہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ

۱۰ اکتوبر ۲۰۱۶ء

قاری ملک عبد الواحدؒ

قرآن کریم کی تلاوت کا خاص ذوق رکھتے تھے اور عالم اسلام کے معروف قاری الشیخ عبد الباسط عبد الصمد رحمہ اللہ تعالیٰ کے لہجے میں قرآن کریم پڑھتے تو عجیب سماں باندھ دیتے تھے۔ اپنے بزرگوں کی گفتگو کی نقل اتارنے میں خوب مہارت رکھتے تھے۔ حضرت درخواستیؒ ، حضرت مولانا غلام اللہ خانؒ ، حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ ، صاحبزادہ سید فیض الحسنؒ ، اور مولانا عبد الرحمن جامیؒ کی تقریروں کے حافظ تھے اور دوستوں کی فرمائش پر انہی کے لہجے میں سنایا کرتے تھے۔ وہ اگر سامنے موجود نہ ہوتے تو اچھے خاصے سمجھدار حضرات بھی مغالطہ میں پڑ جاتے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قاری ملک عبد الواحدؒ

۱۸ اگست ۲۰۱۶ء

حضرت مولانا عبید اللہ انورؒ

مولانا عبید اللہ انورؒ میرے شیخ تھے اور امیر بھی۔ میں نے ایک طویل عرصہ ان کے ساتھ ایک خادم، مرید اور ساتھی کے طور پر گزارا ہے۔ حضرت لاہوریؒ کے بڑے بیٹے حضرت مولانا حافظ حبیب اللہؒ فاضل دیوبند تھے، ان کی زیارت میں نہیں کر سکا کہ وہ میرے ہوش سنبھالنے سے پہلے ہی ہجرت کر کے مکہ مکرمہ چلے گئے تھے۔ اسی وجہ سے وہ ’’مہاجر مکی‘‘ کہلاتے تھے، وہیں زندگی گزاری اور ان کا انتقال بھی وہیں ہوا۔ حضرت لاہوریؒ کے دوسرے بیٹے حضرت مولانا عبید اللہ انورؒ تھے۔ جبکہ حضرت لاہوریؒ کے تیسرے بیٹے حضرت مولانا حافظ حمید اللہ تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا عبید اللہ انورؒ

۸ اگست ۲۰۱۶ء

مولانا حافظ عبد الرحمنؒ

حافظ عبد الرحمنؒ کے اخلاص اور قائم کردہ مرکزی مدرسہ تعلیم الاسلام کی تعلیمی شہرت اطراف میں تھوڑے ہی عرصہ میں اتنی زیادہ ہوگئی کہ مختلف علاقوں کے دیندار حضرات نے مسجد و مدرسہ کے لیے اپنی جائیدادیں دینا شروع کر دیں جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ قرب و جوار اکبر آباد، پکی کوٹلی، فتح گڑھ اور غوثپورہ میں تعلیم الاسلام جامع مسجد نور کے نام سے مرکزی مدرسہ کی برانچیں قائم ہوگئیں اور تدریس قرآن کی برکات دور دور تک پھیلیں۔ سیالکوٹ، نارووال، گوجرانوالہ وغیرہ کے مختلف علاقہ جات سے ہزاروں طلباء نے حافظ صاحبؒ سے قرآن کریم کی تعلیم حاصل کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا حافظ عبد الرحمنؒ

۲ اگست ۲۰۱۶ء

عبد الستار ایدھی مرحوم

عبد الستار ایدھی مرحوم کی زندگی سماجی خدمت سے عبارت تھی۔ خدمت، خدمت اور خدمت ان کا واحد مقصد تھا۔ وہ اسی کے لیے جیے اور اسی راہ میں چلتے چلتے سفر آخرت پر روانہ ہوگئے۔ وہ نہ تو پڑھے لکھوں میں شمار ہوتے تھے اور نہ ہی مال و دولت میں ایک عام شخص سے زیادہ کوئی مقام رکھتے تھے۔ انہیں ان کی داڑھی اور سادگی کے باعث مولانا ایدھی کہہ دیا جاتا تھا لیکن وہ نماز روزے کی واجبی تعلیم سے زیادہ دین کا علم نہیں رکھتے تھے اور نہ ہی انہیں اس کا دعویٰ تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر عبد الستار ایدھی مرحوم

۱۲ جولائی ۲۰۱۶ء

حضرت مولانا مفتی عبد الواحدؒ کا فقہی ذوق

میرے مخدوم و محترم بزرگ استاذ العلماء حضرت مولانا مفتی عبد الواحدؒ پرانے اور بزرگ علماء کرام میں سے تھے، گوجرانوالہ کی قدیم مرکزی جامع مسجد شیرانوالہ باغ کے خطیب اور مدرسہ انوار العلوم کے مہتمم تھے۔ والد بزرگوار حضرت مولانا سرفراز خان صفدرؒ کے استاذ گرامی تھے اور میں نے والد محترمؒ کو ان کا بے حد احترام کرتے ہوئے اور ان سے مختلف امور میں ہمیشہ راہنمائی حاصل کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ مجھے بحمد اللہ تعالیٰ ۱۹۶۹ء سے ۱۹۸۲ء تک مسلسل تیرہ سال مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ کی خطابت میں ان کی نیابت و خدمت کا شرف حاصل رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا مفتی عبد الواحدؒ کا فقہی ذوق

۴ جون ۲۰۱۶ء

ملا اختر منصورؒ کی شہادت، امریکہ کی جھنجھلاہٹ !

افغان طالبان افغانستان کی مکمل خودمختاری کے ساتھ جہاد افغانستان کے نظریاتی اہداف کی تکمیل کے عزم پر بدستور قائم ہیں۔ یہ دونوں باتیں نئے عالمی امریکی ایجنڈے سے مطابقت نہیں رکھتیں کیونکہ عالمی حلقوں میں یہ سمجھا جا رہا ہے کہ ایک آزاد اور خودمختار نظریاتی اسلامی ریاست نہ صرف دنیا میں استعماری عزائم کی راہ میں رکاوٹ بن سکتی ہے بلکہ پورے عالم اسلام میں خودمختاری اور اسلامیت کے جذبات کے فروغ کا ذریعہ بھی ثابت ہوگی۔ اسی لیے عسکری کاروائی کے ذریعہ افغان طالبان کی حکومت کو ختم کیا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ملا اختر منصورؒ کی شہادت، امریکہ کی جھنجھلاہٹ !

۲۶ مئی ۲۰۱۶ء

مولانا مطیع الرحمان نظامیؒ شہید

بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے امیر مولانا مطیع الرحمان نظامی کو گزشتہ روز پھانسی دے دی گئی، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ان کا قصور یہ دکھائی دے رہا تھا کہ متحدہ پاکستان کے دور میں انہوں نے قیام پاکستان کے نظریاتی مقاصد کی تکمیل کی جدوجہد میں حصہ لیا اور وطن عزیز میں اسلامی احکام و قوانین کی عملداری کا مطالبہ کرتے رہے۔ پاکستان کی سالمیت و وحدت کے خلاف بھارتی دخل اندازی سامنے آئی تو وہ اپنے ملک اور اس کے دستور کی حمایت و دفاع اور وحدت و خود مختاری کے تحفظ کی جدوجہد کا حصہ بنے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا مطیع الرحمان نظامیؒ شہید

۱۴ مئی ۲۰۱۶ء

حضرت مولانا قاضی عبد الکریم کلاچویؒ

حضرت مولانا قاضی عبد الکریمؒ نکتہ رس مدرس اور نکتہ شناس دانشور تھے۔ زندگی بھر درس و تدریس، افتاء و ارشاد اور تربیت و سلوک کے ماحول میں گزری۔ لیکن ملکی و قومی معاملات اور دینی تحریکات کے متنوع تقاضوں پر اظہار خیال کا سلسلہ بھی جاری رہتا تھا۔ صاحب مطالعہ اور تجزیہ و تبصرہ کے عمدہ ذوق سے بہرہ ور تھے ۔ ۔ ۔ قاضی صاحب مرحوم کو بعض امور میں اختلاف بھی تھا۔ خاص طور پر وہ پاکستان کی اسمبلیوں میں غیر مسلموں کی نمائندگی کے حق میں نہیں تھے اور اس پر مستقل موقف اور دلائل رکھتے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا قاضی عبد الکریم کلاچویؒ

۱۸ اپریل ۲۰۱۶ء

غازی ممتاز قادریؒ شہید

ہماری مروجہ دانش کو صرف اپنے ایجنڈے کی فکر ہے جو خود اس کا اپنا نہیں ہے بلکہ اس کا ریموٹ کنٹرول کسی اور کے ہاتھ میں ہے۔ اور یہ ریموٹ کنٹرول بھی اب خفیہ نہیں رہا بلکہ ساری دنیا کو دکھائی دے رہا ہے کہ کون کس کے ایجنڈے پر چل رہا ہے۔ اس دانش کو نہ دستور کی نظریاتی اساس سے کوئی دلچسپی ہے، نہ شریعت کے تقاضوں کی کوئی پروا ہے، اور نہ ہی سول سوسائٹی کے احساسات و جذبات اور رائے عامہ کا کوئی لحاظ ہے۔ اسے صرف اپنے ایجنڈے سے غرض ہے اور اس کے لیے مروجہ دانش اکثر اوقات جنگل کا شیر بن جاتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر غازی ممتاز قادریؒ شہید

۴ مارچ ۲۰۱۶ء

چند باتیں حضرت درخواستیؒ کی یاد میں

گزشتہ کچھ عرصہ سے ہمارا یہ ذوق بڑھتا جا رہا ہے کہ اپنے بزرگوں کا نام تو لیتے ہیں اور ان کے تذکرہ کے فوائد و ثمرات بھی حاصل کرتے ہیں مگر ان کی حیات و خدمات سے واقفیت حاصل کرنے کے لیے مطالعہ و آگاہی کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔ اس کا ایک بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ ہم ان کی راہنمائی سے محروم رہتے ہیں، اور دوسرا نقصان اس سے بھی بڑا یہ ہوتا ہے کہ بار بار ان کا نام لینے سے لوگ انہیں بھی ہم پر قیاس کرنے لگتے ہیں اور ہم ان کی نیک نامی کا ذریعہ بننے کے بجائے ان کے تعارف کو خراب کرنے کا باعث بن جاتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر چند باتیں حضرت درخواستیؒ کی یاد میں

۶ جنوری ۲۰۱۶ء

مولانا عبد المجید شاہ ندیمؒ

خطیب العصر حضرت مولانا سید عبد المجید شاہ ندیمؒ بھی ہم سے رخصت ہوگئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وہ اپنے دور کے چند بڑے خطباء میں شمار ہوتے تھے۔ انہوں نے کم و بیش نصف صدی تک پاکستان بلکہ دنیا بھر کے مختلف ملکوں کی فضاؤں میں اپنی خطابت کا جادو جگایا اور لاکھوں مسلمانوں کے عقائد و اعمال کی اصلاح کا ذریعہ بنے۔ ان کی خطابت میں حسن قرأت، ترنم، معلومات، مشن اور جذبہ و جوش کا خوبصورت امتزاج پایا جاتا تھا ، اور وہ واضح فکری اہداف رکھتے تھے جن کے لیے وہ زندگی بھر سرگرم عمل رہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا عبد المجید شاہ ندیمؒ

۱۰ دسمبر ۲۰۱۵ء

اشتیاق احمد مرحوم

اشتیاق احمد مرحوم کے ساتھ زیادہ ملاقاتیں نہیں رہیں، دو تین بار کی ملاقات یاد ہے اور چند مضامین بھی نظر سے گزرے ہیں۔ انہوں نے زیادہ تر بچوں کے لیے لکھا ہے اور جب ان کی تصانیف اور مضامین کی شہرت ہوئی میں بچپن کی حدود سے بہت آگے جا چکا تھا۔ البتہ ان کے فن کی اہمیت و ضرورت سے ضرور آشنا رہا اور اسی وجہ سے ان سے محبت و انس کا تعلق رہا۔ وہ بنیادی طور پر جاسوسی ادب کے دائرے کے ادیب تھے اور جاسوسی ادب سے ایک دور میں میرا بہت زیادہ رشتہ رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اشتیاق احمد مرحوم

۲ دسمبر ۲۰۱۵ء

مولانا ڈاکٹر شیر علی شاہؒ

جامعہ حمادیہ کراچی کے حضرت مولانا عبد الواحدؒ کی جدائی کا غم ابھی تازہ تھا کہ دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کے شیخ الحدیث حضرت مولانا ڈاکٹر شیر علی شاہؒ بھی داغ مفارقت دے گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ حضرت شاہ صاحبؒ ملک کے ان بزرگ اور مجاہد علماء کرام میں سے تھے جنہوں نے نہ صرف تعلیم و تدریس کی مسند کو آباد کیا بلکہ زندگی بھر نفاذ شریعت کی جدوجہد اور اسلامی اقدار و روایات کے تحفظ کی محنت میں مصروف رہے۔ وہ شیخ الحدیث حضرت مولانا عبد الحقؒ کے نامور تلامذہ میں سے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا ڈاکٹر شیر علی شاہؒ

۳ نومبر ۲۰۱۵ء

مولانا عبد اللطیف انورؒ

شاہکوٹ کے مولانا عبد اللطیف انور گزشتہ دنوں انتقال کر گئے ہیں، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ دینی و مسلکی کارکنوں کی موجودہ کھیپ شاید اس نام سے اتنی مانوس نہ ہو مگر دو عشرے قبل کے تحریکی ماحول میں یہ ایک متحرک اور جاندار کردار کا نام تھا۔ شیرانوالہ لاہور اور جمعیۃ علماء اسلام کے ساتھ گہری عقیدت اور بے لچک وابستگی رکھنے والے مولانا عبد اللطیف انور رحمہ اللہ تعالیٰ کا نام سامنے آتے ہی نگاہوں کے سامنے ایک بے چین اور مضطرب شخص کا پیکر گھوم جاتا ہے جو ملک میں نفاذ شریعت، تحفظ ختم نبوت، تحفظ ناموس صحابہؓ اور مسلک علماء دیوبند ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا عبد اللطیف انورؒ

۲۶ اکتوبر ۲۰۱۵ء

مفکر اسلام مولانا مفتی محمودؒ

وقت اتنی تیزی سے گزر جاتا ہے اور حالات یوں بھی بدل جاتے ہیں، اس کے بارے میں سن تو بہت کچھ رکھا تھا مگر رفتار زمانہ نے عمل و تجربہ کی دنیا میں احساس دلایا تو اس کا صحیح اندازہ ہوا۔ ابھی کل کی بات ہے کہ قومی سیاست میں مولانا مفتی محمودؒ کی شب و روز سرگرمیاں اور ان کی حکمت و تدبر ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے، بلکہ ان کے ساتھ شریک کار تھے۔ مگر آج جب وقت کا حساب لگایا تو زمانے کی بے رحم رفتار نے بتایا کہ 14 اکتوبر کو انہیں ہم سے رخصت ہوئے پینتیس برس ہو جائیں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مفکر اسلام مولانا مفتی محمودؒ

۱۴ اکتوبر ۲۰۱۵ء

جنرل حمید گل مرحوم

جنرل حمید گل مرحوم آج ہمارے درمیان نہیں ہیں مگر ان کی تاریخی جدوجہد اور تگ و دو کے اثرات ایک عرصہ تک تاریخ کے صفحات پر جگمگاتے رہیں گے۔ ان کا تعلق پاک فوج سے تھا اور ان کا نام جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم اور جنرل اختر عبد الرحمن مرحوم کے ساتھ جہادِ افغانستان کے منصوبہ سازوں میں ذکر کیا جاتا ہے۔ وہ جہاد افغانستان جس نے تاریخ کا رخ موٹ دیا اور جس کے مثبت و منفی دونوں قسم کے اثرات سے پوری دنیا فائدہ اٹھا رہی ہے یا انہیں بھگت رہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جنرل حمید گل مرحوم

۲۲ اگست ۲۰۱۵ء

مولانا قاضی عبد الکریم آف کلاچیؒ

حضرت مولانا قاضی عبد الکریم آف کلاچیؒ کا انتقال علمی و دینی حلقوں کے لیے غم و صدمہ کا باعث ہے اور بلاشبہ ہم ایک مخلص بزرگ اور مدبر راہ نما سے محروم ہوگئے ہیں، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ان کے والد گرامی حضرت مولانا قاضی نجم الدین کلاچویؒ اپنے دور کے بڑے علماء کرام میں سے تھے اور علمی و دینی دنیا میں مرجع کی حیثیت رکھتے تھے۔ ان کے فتاوٰی ’’نجم الفتاوٰی‘‘ کے عنوان سے کتابی شکل میں موجود ہیں اور علماء کرام کے لیے راہ نمائی اور استفادہ کا اہم ذریعہ ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا قاضی عبد الکریم آف کلاچیؒ

۱۳ اگست ۲۰۱۵ء

مولانا ضیاء القاسمیؒ ۔ چند یادیں

ایک بار استاد محترم قاری انور صاحب نے ہم چند شاگردوں کو اپنے گھر بلا کر ٹیپ ریکارڈر سے ایک تقریر سنوائی اور مجھے کہا کہ تم بھی اس طرح تقریر کیا کرو۔ یہ تقریر حضرت مولانا قاری عبد الحئی عابدؒ کی تھی جو میں نے زندگی میں پہلی بار سنی اور اچھی لگی۔ بعد میں معلوم ہوا کہ حضرت مولانا ضیاء القاسمیؒ ان کے بڑے بھائی ہیں اور ان سے بھی اچھی تقریر کرتے ہیں۔ تو انہیں دیکھنے اور سننے کا شوق پیدا ہوا۔ اب یاد نہیں کہ قاسمی صاحبؒ کی پہلی تقریر کہاں سنی مگر یہ حقیقت ہے کہ زندگی میں ان کی اتنی تقریریں سنیں کہ شمار کرنا مشکل ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا ضیاء القاسمیؒ ۔ چند یادیں

۸ اگست ۲۰۱۵ء

ملا محمد عمر مجاہدؒ

ملا محمد عمرؒ روسی استعمار کے خلاف افغان جہاد میں شریک رہے ہیں، اس میں زخمی بھی ہوئے تھے اور ان کی ایک آنکھ متاثر ہوگئی تھی۔ لیکن وہ گمنامی کے اندھیروں میں اس وقت ایک چمکدار ستارے کی مانند نمودار ہوئے جب سوویت یونین کی فوجوں کی واپسی کے بعد افغانستان بین الاقوامی طاقتوں کی طے شدہ پالیسی کے مطابق ایک نئی اور وسیع تر خانہ جنگی کا شکار ہو چکا تھا۔ کابل پر قبضے کی بڑی جنگ کے ساتھ ساتھ افغان مجاہدین اور تحلیل شدہ سابقہ سرکاری افغان فوج کے مختلف گروپ افغانستان کے بہت سے علاقوں میں باہم برسر پیکار تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ملا محمد عمر مجاہدؒ

یکم اگست ۲۰۱۵ء

سردار محمد عبد القیوم خان مرحوم

یہ خبر دل کو غم و اندوہ کی گہرائیوں میں لے گئی ہے کہ تحریک آزادیٔ کشمیر کے نامور راہ نما اور پاکستان کی قومی سیاست کے ایک اہم نظریاتی کردار سردار محمد عبد القیوم خان طویل علالت کے بعد 91 برس کی عمر میں ہمیں داغ مفارقت دے گئے ہیں، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ سردار صاحب کے ساتھ میرا بہت قریبی تعلق رہا ہے اور میں ان کی تحریکی اور سیاسی زندگی کے نشیب و فراز کے مختلف مراحل کا عینی گواہ ہوں، بلکہ بعض مراحل میں شریک کار بھی رہا ہوں۔ میں نے پہلی بار انہیں کم و بیش نصف صدی قبل اس وقت دیکھا جب ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سردار محمد عبد القیوم خان مرحوم

۱۲ جولائی ۲۰۱۵ء

مولانا مشتاق احمد چنیوٹی ؒ

مولانا مشتاق احمد چنیوٹیؒ بھی ہم سے رخصت ہوگئے اور یہ صدمہ علمی و تحقیقی دنیا میں روز بروز بڑھنے والے خلا کا احساس مزید اجاگر ہونے کا باعث ثابت ہوا۔ مولانا مشتاق احمد چنیوٹیؒ کتابی دنیا کے ماحول میں رہتے تھے، لکھنا پڑھنا اور قادیانیت کے محاذ پر نوجوان علماء و طلبہ کو تیار کرنا ان کا محاذ تھا۔ چند ہفتے قبل عمرہ کے لیے گئے اور مکہ مکرمہ میں احرام کے دوران دل کا دورہ پڑنے سے ان کا انتقال ہوگیا۔ انہوں نے حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹیؒ سے رد قادیانیت کا ذوق پایا تھا اور وہ حضرت چنیوٹیؒ کے مایہ ناز شاگردوں میں سے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا مشتاق احمد چنیوٹی ؒ

مارچ ۲۰۱۵ء

مولانا عبد المجید لدھیانویؒ

استاذ العلماء شیخ الحدیث حضرت مولانا عبد المجید لدھیانوی قدس سرہ العزیز کا سانحۂ ارتحال پورے ملک کے دینی، علمی اور مسلکی حلقوں کے لیے بے پناہ رنج و غم اور صدمہ کا باعث بنا ہے۔ وہ ملتان میں وفاق المدارس العربیہ کے سیمینار سے خطاب کر رہے تھے کہ اجل کا بلاوا آگیا اور وہ اپنے ہزاروں شاگردوں اور لاکھوں عقیدت مندوں کو سوگوار چھوڑ کر خالق حقیقی سے جا ملے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وہ حضرت مولانا مفتی عبد الخالقؒ اور حضرت مولانا مفتی محمودؒ کے مایہ ناز شاگردوں میں سے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا عبد المجید لدھیانویؒ

۴ فروری ۲۰۱۵ء

دو محقق علماء کی وفات

مولانا نور محمد تونسویؒ مطالعہ و تحقیق کی دنیا کے آدمی تھے اور مسلکی دائرہ میں مسائل کا تجزیہ و تنقیح اور استدلال و توضیح ان کا خاص ذوق تھا۔ مختلف موضوعات پر ان کی تحقیقی کاوشیں مضامین و رسائل کی صورت میں ان کا ذخیرہ آخرت ہیں ۔ ۔ ۔ مولانا مشتاق احمد چنیوٹیؒ بھی کتابی دنیا کے ماحول میں رہتے تھے، لکھنا پڑھنا اور قادیانیت کے محاذ پر نوجوان علماء و طلبہ کو تیار کرنا ان کا محاذ تھا۔ چند روز قبل عمرہ کے لیے گئے اور مکہ مکرمہ میں احرام کے دوران دل کا دورہ پڑنے سے ان کا انتقال ہوگیا، انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دو محقق علماء کی وفات

۲ فروری ۲۰۱۵ء

شاہ عبد اللہ مرحوم

شاہ عبد اللہؒ کم و بیش نصف صدی سے سعودی عرب کے حکومتی نظام کا اہم حصہ چلے آرہے تھے اور شاہ فہدؒ کی وفات کے بعد انہوں نے سعودی عرب کے فرمانروا کے طور پر منصب سنبھالا تھا۔ انہوں نے عالم اسلام کی وحدت، مظلوم مسلمانوں کی حمایت اور دینی حلقوں کی معاونت کے لیے اپنے پیشرو حکمرانوں کی طرح خصوصی محنت کی ہے اور بہت سے حوالوں سے انہیں ایک بیدار مغز اور ترقی پسند حکمران کے طور پر عالمی حلقوں میں یاد کیا جاتا ہے۔ مملکت سعودی عرب کے قیام کو ایک صدی ہونے کو ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر شاہ عبد اللہ مرحوم

۲۷ جنوری ۲۰۱۵ء

حضرت مولانا محمد نافعؒ

علمی دنیا انہیں اہل السنۃ والجماعۃ کے علمی ترجمان اور صحابہ کرامؓ کے ناموس و وقار کے تحفظ کی علامت کے طور پر جانتی ہے۔ وہ امام اہل السنۃ حضرت مولانا عبد الشکور لکھنویؒ کے اس علمی قافلہ کے ایک فرد تھے جنہوں نے اہل السنۃ والجماعۃ کے عقائد کے فروغ و تحفظ اور حضرات صحابہ کرام و اہل بیت عظام رضی اللہ عنہم کی حیات و خدمات کی اشاعت اور ان کے بارے میں معاندین کی طرف سے مختلف ادوار میں پھیلائے جانے والے اعتراضات اور شکوک و شبہات کے جواب و دفاع میں مسلسل جدوجہد کی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا محمد نافعؒ

۲ جنوری ۲۰۱۵ء

حافظ خلیل الرحمن ضیاء مرحوم

صبح نماز کے لیے نیند سے بیدار ہوا تو موبائل فون پر پہلا میسج یہ پڑھنے کو ملا کہ ہمارے پرانے دوست اور ساتھی حافظ خلیل الرحمن ضیاء کا انتقال ہوگیا ہے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ حافظ صاحب گوجرانوالہ کے معروف صحافی تھے، جامعہ نصرۃ العلوم کے فاضل تھے بلکہ میرے دورۂ حدیث کے ساتھی تھے۔ ان کے والد محترم مولانا نور الدین رحمہ اللہ تعالیٰ گوجرانوالہ کے ان گنے چنے لوگوں میں سے تھے جنہیں پورے علاقے میں ولی سمجھا جاتا تھا۔ حافظ خلیل الرحمن ضیاء درس نظامی کی تعلیم سے میرے ساتھ فارغ ہوئے اور صحافت سے منسلک ہوگئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حافظ خلیل الرحمن ضیاء مرحوم

۳۰ نومبر ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

ڈاکٹر خالد محمود سومرو شہیدؒ

جمعیۃ علماء اسلام صوبہ سندھ کے سیکرٹری ڈاکٹر خالد محمود سومرو کو صبح نماز فجر کے دوران نا معلوم افراد نے فائرنگ کر کے شہید کر دیا ہے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ڈاکٹر خالد محمود سومرو جمعیۃ علماء اسلام کے سرکردہ اور بیدار مغز راہ نماؤں میں سے تھے۔ سینٹ آف پاکستان کے رکن رہے ہیں۔ ملک کے معروف خطباء میں ان کا شمار ہوتا تھا۔ ان کے والد محترم حضرت مولانا علی محمد حقانی رحمہ اللہ تعالیٰ کا لاڑکانہ میں دو دائی روڈ پر جامعہ صدیق اکبرؓ کے نام سے مدرسہ تھا اور جمعیۃ علماء اسلام کے سرکردہ حضرات میں شمار ہوتے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ڈاکٹر خالد محمود سومرو شہیدؒ

۳۰ نومبر ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ اور شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنیؒ

شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندیؒ اور شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ پاکستان، ہندوستان، بنگلہ دیش اور برما وغیرہ پر مشتمل برصغیر کی علمی، دینی، سیاسی، تحریکی اور فکری جدوجہد کے دو عظیم نام ہیں۔ جن کے تذکرہ کے بغیر اس خطہ کے کسی ملی شعبہ کی تاریخ مکمل نہیں ہوتی، اور خاص طور پر دینی و سیاسی تحریکات کا کوئی بھی راہ نما یا کارکن خواہ اس کا تعلق کسی بھی مذہب یا طبقہ سے ہو ان سے راہ نمائی لیے بغیر آزادی کی عظیم جدوجہد کے خد و خال سے آگاہی حاصل نہیں کر سکتا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ اور شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنیؒ

۲۷ اکتوبر ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

مولانا مسعود بیگ شہیدؒ ، ڈاکٹر شکیل اوجؒ شہید

قومیتوں کے اختلافات اور فرقہ وارانہ تنازعات کے علاوہ سیاسی اور لسانی جھگڑے اس قتل وغارت کے محرکات میں سرفہرست ہیں۔ اور اس میں سب سے زیادہ غم و اندوہ اور رنج و صدمہ کا پہلو یہ ہے کہ عام شہریوں اور کارکنوں کی قیمتی جانوں کے ضیاع کے ساتھ ساتھ مختلف مکاتب فکر اور طبقات کے ارباب علم ودانش خاص طور پر اس کا نشانہ بن رہے ہیں۔ اور ارباب فضل وعلم کی ایک طویل فہرست ہے جو ہر درد مند اور محب وطن مسلمان اور پاکستان کو مضطرب اور بے چین کیے ہوئے ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا مسعود بیگ شہیدؒ ، ڈاکٹر شکیل اوجؒ شہید

اکتوبر ۲۰۱۴ء

مولانا سید محمد محسن شاہ شہیدؒ

پنیالہ ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کی خانقاہ یاسین زئی کے بارے میں میرا مبلغ علم اتنا ہی تھا کہ مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمود قدس اللہ سرہ العزیز کی زبان سے بارہا اس روحانی مرکز کا تذکرہ سنا۔ اور اس کی عظمت دل میں بیٹھ جانے کے لیے اتنی بات ہی میرے لیے کافی تھی کہ حضرت مفتی صاحبؒ کی نیاز مندی اور رفاقت میں میری جماعتی اور سیاسی زندگی کے کئی سال گزرے ہیں اور بحمد اللہ مجھے ان کی شفقت و اعتماد کا بھرپور حصہ میسر آیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا سید محمد محسن شاہ شہیدؒ

ستمبر ۲۰۱۴ء

حضرت مولانا مفتی محمودؒ ، ایک بذلہ سنج شخصیت

۱۹۷۷ء کی تحریک نظام مصطفیؐ کے بعد حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جو مذاکرات ہوئے، ان میں حکومتی ٹیم وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو مرحوم، مولانا کوثر نیازی مرحوم، اور جناب عبد الحفیظ پیرزادہ پر مشتمل تھی۔ جبکہ اپوزیشن یعنی پاکستان قومی اتحاد کی طرف سے مولانا مفتی محمودؒ ، نواب زادہ نصر اللہ خانؒ اور پروفیسر عبد الغفورؒ مذاکرات کی میز پر بیٹھے تھے۔ ان میں سے پیرزادہ صاحب کے علاوہ سب وفات پا چکے ہیں، اللہ تعالیٰ سب کی مغفرت فرمائیں اور پیر زادہ صاحب محترم کو صحت و عافیت کے ساتھ تادیر سلامت رکھیں، آمین یا رب العالمین ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا مفتی محمودؒ ، ایک بذلہ سنج شخصیت

۳۰ اگست ۲۰۱۴ء

مولانا مفتی عبد الشکورؒ

باغ آزاد کشمیر کے ضلع مفتی مولانا عبد الشکور کشمیری گزشتہ روز انتقال کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ان کا تعلق علاقہ تھب سے تھا اور بزرگ عالم دین حضرت مفتی عبد المتین فاضل دیوبند کے متعلقین میں سے تھے۔ جامعہ نصرۃ العلوم کے فاضل تھے، والد محترم حضرت سرفراز خان صفدرؒ اور عم مکرم حضرت صوفی عبد الحمید سواتیؒ کے قریبی شاگردوں میں سے تھے۔ اور جامعہ دارالعلوم کراچی میں تخصص فی الفقہ والافتاء کرنے کے بعد جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں سالہا سال تک تدریس و افتاء کی خدمات سر انجام دیتے رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا مفتی عبد الشکورؒ

۲۷ اگست ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

مجید نظامی مرحوم

میں اپنے بچپن اور نوجوانی کے دور میں آغا شورش کاشمیری مرحوم کی خطابت و صحافت کا پر جوش سامع و قاری رہا ہوں اور مطالعہ کا ذوق پیدا ہوتے ہی نوائے وقت اور ہفت روزہ چٹان میرے مطالعہ کا ناگزیر حصہ بن گئے تھے۔ آغا شورش کاشمیری مرحوم کی حمید نظامی مرحوم کے ساتھ دوستی بھی تھی اور بعض مسائل میں اختلاف کا اظہار بھی بے تکلفانہ انداز میں ہو جاتا تھا۔ نظامی برادران کے ساتھ میرا تعلق بھی کچھ اسی طرح کا رہا ہے۔ مجید نظامی مرحوم، بڑے نظامی صاحب کی وفات کے بعد لندن سے لاہور منتقل ہوئے اور نوائے وقت کی ادارت سنبھالی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مجید نظامی مرحوم

۲۹ جولائی ۲۰۱۴ء

مولانا محمد عالمؒ اور مولانا محمد عبد اللہ عباسیؒ

گزشتہ ہفتے ہمیں دو بزرگ علماء کرام کی جدائی کے صدمہ سے دوچار ہونا پڑا اور دین کی مخلصانہ محنت کرنے والی صف کچھ اور سکڑ گئی۔ شیخو پورہ میں حضرت مولانا محمد عالم صاحبؒ کا انتقال دینی حلقوں کے لیے ایک بڑا صدمہ ہے، وہ گزشتہ روز طویل علالت کے بعد وفات پا گئے ہیں، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ان کا تعلق ہزارہ کے علاقہ بالاکوٹ سے تھا۔ پہلے ضلع شیخوپورہ کے دیہاتی علاقہ میں دینی تعلیم و تدریس کی خدمات سر انجام دیتے رہے جبکہ 1974ء میں شہر میں انہوں نے جامعہ فاروقیہ کے نام سے مدرسہ قائم کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا محمد عالمؒ اور مولانا محمد عبد اللہ عباسیؒ

۲۶ جولائی ۲۰۱۴ء

حضرت مولانامحمد امین صفدرؒ

اللہ تعالیٰ کا قانون ہے کہ وہ ہر زمانے کی ضروریات کے مطابق مختلف شعبوں کے لیے افراد پیدا کرتے ہیں اور انہیں استعداد و صلاحیت سے بہرہ ور کر کے ان سے کام لیتے ہیں۔ یہ معاملہ دین و دنیا دونوں حوالوں سے یکساں چلا آرہا ہے اور بہت سے افراد و شخصیات کی محنت اور عمل کو دیکھ کر اس کا بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے۔ ہمارے محترم اور بزرگ دوست حضرت مولانا محمد امین صفدر رحمہ اللہ تعالیٰ کی علمی و دینی جدوجہد بھی اسی کی غمازی کرتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانامحمد امین صفدرؒ

۱۶ جولائی ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

مولانا حکیم محمد یاسینؒ

مولانا حکیم محمد یاسین صاحبؒ ہمارے پرانے اور بزرگ ساتھی تھے، طویل عرصہ سے جماعتی رفاقت چلی آرہی تھی اور مختلف دینی تحریکات میں ساتھ رہا، ان کا انتقال ہوگیا ہے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔جھنگ صدر کے محلہ مومن پورہ کی مسجد اشرفیہ نہ صرف ان کی مسلکی، دینی اور تحریکی سرگرمیوں کا مرکز تھی بلکہ اسے جھنگ کے اہم تحریکی اور جماعتی مرکز کا مقام حاصل تھا۔ جامعہ قاسم العلوم ملتان کے فاضل اور حضرت مولانا مفتی محمودؒ کے معتمد شاگرد تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا حکیم محمد یاسینؒ

۲۰ اپریل ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

میاں محمد عارف ایڈووکیٹ مرحوم

۱۴ مارچ، جمعۃ المبارک کو صبح اذان فجر ہو رہی تھی کہ قاری محمد یوسف عثمانی صاحب نے فون پر اطلاع دی کہ میاں محمد عارف صاحب کا انتقال ہوگیا ہے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ دو روز قبل میں ان سے مل کر آیا تھا، ان کا ہارٹ کا آپریشن ہوا تھا اور بظاہر کامیاب ہوگیا تھا۔ ہم خوش تھے کہ آپریشن کامیاب ہوگیا ہے اور وہ بھی حالات حاضرہ پر حسب معمول گفتگو کر رہے تھے۔ ہم نے اجازت چاہی تو کہا کہ آنا اپنی مرضی سے ہوتا ہے لیکن جانا ہماری مرضی سے ہوگا، اس لیے چائے پیے بغیر نہیں جا سکیں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر میاں محمد عارف ایڈووکیٹ مرحوم

اپریل ۲۰۱۴ء

جناب نیلسن منڈیلا

نیلسن منڈیلا تحریک آزادی کے عالمی لیڈروں میں سے تھے جنہوں نے نہ صرف جنوبی افریقہ کی آزادی کے لیے طویل جنگ لڑی بلکہ دنیا کے نقشے پر دکھائی دینے والی نسلی امتیاز کی دو آخری نشانیوں میں سے ایک کے خاتمہ کی راہ ہموار کی۔ نیلسن منڈیلا سے قبل جنوبی افریقہ سفید فام، سیاہ فام اور انڈین کہلانے والے باشندوں کے درمیان تقسیم تھا۔ تینوں کی آبادیاں الگ الگ تھیں، رہن سہن الگ الگ تھا اور حقوق و مفادات کے معیارات الگ الگ تھے۔ گوروں کی حکومت تھی اور سیاہ فام اکثریت غلاموں جیسی زندگی بسر کر رہی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جناب نیلسن منڈیلا

جنوری ۲۰۱۴ء

مولانا علاء الدینؒ

ہم لوگ دہلی میں حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء رحمہ اللہ تعالیٰ کی قبر پر فاتحہ خوانی کے لیے حاضر ہوئے تھے۔ اسی جگہ مجھے وفد میں شامل مولانا حافظ عبد القیوم نعمانی نے بتایا کہ استاذ علاء الدین صاحب کا انتقال ہوگیا ہے، انہیں ٹیلی فون رابطہ کے ذریعہ یہ خبر ملی تھی۔ خبر سن کر سب احباب غم زدہ ہوگئے اور زبانوں سے بے ساختہ انا للہ وانا الیہ رراجعون جاری ہوا۔ حضرت مولانا علاء الدینؒ ہمارے پرانے بزرگوں میں سے تھے، سو سال کے لگ بھگ عمر پائی ہے اور ساری زندگی دینی علوم کی تعلیم و تدریس میں گزاری ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا علاء الدینؒ

۲۶ دسمبر ۲۰۱۳ء

مولانا شمس الرحمن معاویہ شہیدؒ

جنوبی افریقہ سے واپسی پر لاہور ایئر پورٹ پر اترتے ہی موبائل فون آن کیا تو پہلا میسج مولانا شمس الرحمن معاویہؒ کی شہادت کے بارے میں تھا، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ جوھانسبرگ سے میں اور صاحبزادہ زاہد محمود قاسمی اکٹھے جدہ کی طرف روانہ ہوئے تھے۔ انہوں نے عمرہ کے لیے ٹرانزٹ ویزا حاصل کر رکھا تھا اس لیے وہ وہیں رک گئے جبکہ میں نے رات جدہ ایئر پورٹ پر گزاری اور دوسرے دن شام کو لاہو رپہنچا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا شمس الرحمن معاویہ شہیدؒ

۱۲ دسمبر ۲۰۱۳ء

مولانا حافظ مہر محمد میانوالویؒ

یہ خبر ملک بھر کے دینی، علمی اور مسلکی حلقوں میں انتہائی رنج و غم کے ساتھ پڑھی جائے گی کہ اہل سنت کے نامور محقق اور درویش صفت بزرگ عالم دین حضرت مولانا حافظ مہر محمد میانوالوی کا گزشتہ روز انتقال ہوگیا ہے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ان کا تعلق میانوالی کے علاقہ بَن حافظ جی سے تھا اور وہ جامعہ نصرۃ العلوم کے پرانے فضلاء میں سے تھے۔ میں جب مدرسہ نصرۃ العلوم میں درس نظامی کی تعلیم کے لیے داخل ہوا تو حافظ مہر محمد ؒ بڑی کلاسوں میں تھے جبکہ ان کے بھائی مولانا حافظ شیر محمد بھی بعد میں آگئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا حافظ مہر محمد میانوالویؒ

دسمبر ۲۰۱۳ء

مولانا عبد المتینؒ

مولانا عبد المتینؒ گوجرخان میں حیات سر روڈ کی جامع مسجد خلفاء راشدینؓ کے نصف صدی سے زیادہ عرصہ خطیب رہے ہیں۔ ان کا تعلق ہزارہ کے علاقہ بٹگرام سے تھا۔ 1938ء میں ولادت ہوئی، مختلف مدارس میں دینی تعلیم حاصل کرنے کے بعد جامعہ اشرفیہ لاہور میں حضرت مولانا رسول خانؒ اور حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ سے تلمذ کا شرف حاصل کر کے دورۂ حدیث کی تکمیل کی اور 1958ء میں حضرت مولانا عبد الحکیم ہزارویؒ نے انہیں گوجر خان بھیج دیا جہاں انہوں نے حیات سر روڈ کی مسجد میں ڈیرہ لگایا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا عبد المتینؒ

۱۹ اکتوبر ۲۰۱۳ء

مولانا قاری محمد عبد اللہؒ

مولانا قاری محمد عبد اللہؒ کا تعلق مشرقی پنجاب کے علاقہ گڑ گاؤں سے تھا، گوجرانوالہ میں سیٹلائٹ ٹاؤن کی مرکزی جامع مسجد کے امام و مدرس تھے اور کم و بیش نصف صدی تک انہوں نے یہ خدمت سر انجام دی ہے۔ اس مسجد میں سہارنپور سے تعلق رکھنے والے ہمارے ایک بزرگ مولانا قاری محمد طلحہ قدوسی گنگوہیؒ اور مولانا قاری محمد عبد اللہؒ کی طویل رفاقت شہر کی دینی و تعلیمی جدوجہد کا ایک اہم باب ہے۔ ان کے ہزاروں براہ راست اور بالواسطہ شاگرد ملک کے مختلف حصوں میں قرآن کریم کی تدریس کی خدمات میں مگن ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا قاری محمد عبد اللہؒ

۱۹ اکتوبر ۲۰۱۳ء

مولانا محمد اقبال نعمانی ؒ

ضلع گوجرانوالہ کے ایک بزرگ عالم دین اور مختلف دینی تحریکات کے سرگرم راہ نما حضرت مولانا محمد اقبال نعمانیؒ کا تذکرہ کرنا چاہتا ہوں جن کا دو روز قبل علی پور چٹھہ میں انتقال ہوگیا ہے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ان کا تعلق کمالیہ سے تھا اور جامعہ خیر المدارس ملتان کے فضلاء میں سے تھے۔ کم و بیش نصف صدی قبل علی پور چٹھہ کی مرکزی جامع مسجد کی خطابت کے منصب پر فائز ہوئے اور آخری عمر میں شدید علالت اور معذوری تک اس حیثیت سے علاقہ کے عوام کی دینی اور مسلکی راہ نمائی کا فریضہ سر انجام دیتے رہے۔ مکمل تحریر مولانا محمد اقبال نعمانی ؒ

۲۱ ستمبر ۲۰۱۳ء

مولانا انیس الرحمن اطہر قریشیؒ

مولانا حاجی انیس الرحمن قریشیؒ جامعہ مدنیہ لاہور کے فاضل اور حضرت مولانا سید حامد میاںؒ کے شاگرد تھے۔ زندگی بھر اپنے والد مرحوم کے مشن کے فروغ میں مصروف رہے اور اپنے بھائی مولانا قاری جمیل الرحمن اختر کے دست و بازو اور پشتیبان رہے۔ انہیں اللہ تعالیٰ نے کم و بیش چودہ برس مدینہ منورہ میں قیام کے شرف سے نوازا، اس دوران میں بھی کئی بار ان کا مہمان رہا۔ گزشتہ کچھ عرصہ سے مدنی مسجد میں امامت و خطابت کے ساتھ ’’مدرسۃ السکینۃ للبنات‘‘ کا انتظام چلا رہے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا انیس الرحمن اطہر قریشیؒ

۱۱ ستمبر ۲۰۱۳ء

شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ

شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ نے جب 1917ء میں لاہور میں رہائش اختیار کی تو ان کی حیثیت ایک نظر بند کی تھی۔ تحریک آزادی کے نامور راہ نما شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندیؒ کا شاگرد اور مفکرِ انقلاب حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ کا تربیت یافتہ عالم دین اور رفیق کار ہونے کی وجہ سے انہیں اس ضمانت پر لاہور کی حدود میں پابند کر دیا گیا تھا کہ وہ انگریز سرکار کے خلاف سرگرمیوں میں شریک نہیں ہوں گے۔ ویسے بھی تحریک ریشمی رومال کی خفیہ تگ و دو کا راز کھل جانے کے باعث وقتی طور پر ایسی سرگرمیوں کا کوئی امکان باقی نہیں رہا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ

نا معلوم

مولانا شاہ حکیم محمد اختر ؒ

حضرت مولانا شاہ حکیم محمد اختر رحمہ اللہ تعالیٰ ملک کے بزرگ صوفیاء کرام میں سے تھے جن کی ساری زندگی سلوک و تصوف کے ماحول میں گزری اور ایک دنیا کو اللہ اللہ کے ذکر کی تلقین کرتے ہوئے طویل علالت کے بعد گزشتہ ہفتے کراچی میں انتقال کر گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ان کا روحانی تعلق حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی قدس اللہ سرہ العزیز کے حلقہ کے تین بڑے بزرگوں حضرت مولانا محمد احمد پرتاب گڑھیؒ ، حضرت مولانا شاہ عبد الغنی پھول پوریؒ اور حضرت مولانا شاہ ابرار الحق آف ہر دوئیؒ سے تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا شاہ حکیم محمد اختر ؒ

جولائی ۲۰۱۳ء

مولانا قاضی مقبول الرحمنؒ

دوسرے بزرگ میرپور آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والے مولانا قاضی مقبول الرحمن قاسمیؒ ہیں جو گزشتہ عشرہ کے دوران اپنے رب کو پیارے ہوگئے ہیں، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ان کا آبائی تعلق آزاد کشمیر کے علاقہ باغ سے تھا۔ مدرسہ رحمانیہ ہری پور اور مدرسہ انوار العلوم مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ سمیت مختلف مدارس میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد جامعہ اشرفیہ لاہور میں ۱۹۶۶ء میں دورۂ حدیث کر کے فراغت حاصل کی اور وہیں تدریس کے فرائض سر انجام دینے لگے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا قاضی مقبول الرحمنؒ

جولائی ۲۰۱۳ء

مولانا قاری عبد الحئی عابدؒ

حضرت مولانا قاری عبد الحئی عابدؒ طویل علالت کے بعد گزشتہ دنوں انتقال کر گئے ہیں اور اپنے ہزاروں سامعین، دوستوں اور عقیدت مندوں کو سوگوار چھوڑ گئے ہیں۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ قاری صاحب محترمؒ اپنے وقت کے ایک بڑے خطیب حضرت مولانا محمد ضیاء القاسمیؒ کے چھوٹے بھائی تھے اور خود بھی ایک بڑے خطیب تھے۔ ان دونوں بھائیوں نے کم و بیش نصف صدی تک پاکستان میں اپنی خطابت کا سکہ جمایا ہے اور صرف سامعین میں اپنا وسیع حلقہ قائم نہیں کیا بلکہ خطیب گر کے طور پر بیسیوں خطباء کو بھی اپنی لائن پر چلایا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا قاری عبد الحئی عابدؒ

۲۲ فروری ۲۰۱۳ء

حضرت مولانا مفتی عبد القیوم ہزارویؒ

۷ فروری کو نمازِ مغرب کے بعد مری کے قریب ایک تعلیمی مرکز میں دوستوں کے ساتھ بیٹھا ان کی فرمائش پر اپنے دورِ طالب علمی کے کچھ واقعات کا تذکرہ کر رہا تھا اور استاذِ محترم حضرت عبد القیوم ہزارویؒ کا تذکرہ زبان پر تھا۔ میں دوستوں کو بتا رہا تھا کہ جن اساتذہ سے میں نے سب سے زیادہ پڑھا اوربہت کچھ سیکھا ہے، ان میں حضرت والد مکرم مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ اور حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ کے بعد تیسرے بڑے استاذ حضرت مولانا عبد القیوم ہزارویؒ ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا مفتی عبد القیوم ہزارویؒ

۱۰ فروری ۲۰۱۳ء

مولانا عبد الستار تونسویؒ

حضرت مولانا عبد الستار تونسویؒ بھی چل بسے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ابھی دو ہفتے قبل وہ گوجرانوالہ تشریف لائے تھے۔ ایک پروگرام میں شریک ہونے کے بعد جامعہ نصرۃ العلوم میں آرام فرمایا۔ میں صبح اسباق کے لیے مدرسہ میں پہنچا تو طلبہ نے بتایا کہ حضرت تونسویؒ صاحب تشریف لائے ہوئے ہیں اور مہمان خانے میں آرام فرما رہے ہیں۔ اسباق سے فارغ ہو کر میں مہمان خانے میں گیا تو وہ لحاف اوڑھے لیٹے ہوئے تھے مگر جاگ رہے تھے۔ میں نے سلام عرض کیا، مصافحہ کیا اور دعا کی درخواست کر کے واپس پلٹ گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا عبد الستار تونسویؒ

فروری ۲۰۱۳ء

مولانا محمد اشرف ہمدانی ؒ

۱۶ جنوری کو صبح نماز فجر کے بعد درس سے فارغ ہوا تھا کہ ڈاکٹر حامد اشرف ہمدانی نے فون پر بتایا کہ ان کے والد محترم مولانا محمد اشرف ہمدانیؒ کا فیصل آباد میں انتقال ہوگیا ہے۔ زبان پر بے ساختہ انا للہ وانا الیہ راجعون جاری ہوا اور ڈاکٹر صاحب موصوف سے تعزیت و تسلی کے چند کلمات کہے، مگر جنازے میں شریک نہ ہو سکا۔ مولانا محمد اشرف ہمدانیؒ کے ساتھ میرا پرانا تعلق تھا، وہ اس زمانے میں گوجرانوالہ کی پل لکڑ والا کی مسجد میں خطیب و امام تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا محمد اشرف ہمدانی ؒ

فروری ۲۰۱۳ء

پروفیسر غفور احمد مرحوم

پروفیسر غفور احمد اللہ کو پیارے ہوگئے، انا للہ و انا الیہ راجعون۔ اخبارات میں ان کی وفات کی خبر پڑھ کر ماضی کے بہت سے اوراق ذہن کی یادداشت میں کھلتے چلے گئے۔ ان کا نام پہلی بار ۱۹۷۰ء کے انتخابات کے بعد سنا جب وہ کراچی سے جماعت اسلامی کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے۔ میرا تعلق جمعیۃ علماء اسلام پاکستان سے تھا اور اس دور میں جمعیۃ علماء اسلام اور جماعت اسلامی میں مخاصمت دینی اور سیاسی دونوں محاذوں پر عروج پر تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر پروفیسر غفور احمد مرحوم

فروری ۲۰۱۳ء

قاضی حسین احمدؒ

قاضی صاحب مرحوم کے ساتھ میرے تعلقات کی نوعیت دوستانہ تھی اور مختلف دینی و قومی تحریکات میں باہمی رفاقت نے اسے کسی حد تک بے تکلفی کا رنگ بھی دے رکھا تھا، ان کے ساتھ میرا تعارف اس دور میں ہوا جب وہ جماعت اسلامی پاکستان کے قیم تھے۔ پاکستان قومی اتحاد کے صوبائی سیکرٹری جنرل کی حیثیت سے مجھے اتحاد میں شامل جماعتوں کے راہ نماؤں کے ساتھ مسلسل رابطہ رکھنا ہوتا تھا، یہ رابطہ انتخابی مہم میں بھی تھا اور تحریک نظام مصطفی ﷺ کے نام سے چلائی جانے والی اجتماعی تحریک میں بھی تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قاضی حسین احمدؒ

۱۳ جنوری ۲۰۱۳ء

مولانا سعید احمد رائے پوریؒ

مولانا سعید احمد رائے پوریؒ کے ساتھ میرا رابطہ سب سے پہلے ۱۹۶۷ء میں ہوا جب دینی مدارس اور کالجوں کے طلبہ پر مشتمل ایک مشترکہ طالب علم تنظیم ’’جمعیت طلباء اسلام پاکستان‘‘ کے نام سے وجود میں آئی۔ سرگودھا اور لاہور کے ساتھ ساتھ گوجرانوالہ بھی اس تنظیم کی سرگرمیوں کے ابتدائی مراکز میں سے تھا۔ گوجرانوالہ میں ہمارے ایک استاذ محترم مولانا عزیز الرحمنؒ ، میاں محمد عارف اور راقم الحروف اس کے لیے متحرک تھے جبکہ مولانا سعید احمد رائے پوریؒ جمعیۃ طلباء اسلام کی تنظیم و توسیع کے لیے مسلسل سرگرم عمل تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا سعید احمد رائے پوریؒ

نومبر ۲۰۱۲ء

مولانا مفتی محمد اویسؒ

گزشتہ روز گوجرانوالہ کے ایک بزرگ عالم دین اور دار العلوم گوجرانوالہ کے بانی و مہتمم مولانا مفتی محمد اویس انتقال کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ کافی دنوں سے علیل اور صاحب فراش تھے، دو چار روز سے گفتگو بھی نہیں کر پا رہے تھے، منگل کو صبح نماز کے بعد موبائل فون کے میسج چیک کیے تو ان میں غم کی یہ خبر بھی تھی کہ مولانا مفتی محمد اویس صاحب رات دو بجے انتقال کر گئے ہیں۔ مفتی محمد اویس کا خاندان تقسیم ہند کے موقع پر کرنال سے ہجرت کر کے سندھ کے ضلع سانگھڑ میں کوٹ بسّی کے مقام پر آبسا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا مفتی محمد اویسؒ

نومبر ۲۰۱۲ء

چند دینی کارکنان کی وفات

ہمارا عام طور پر مزاج بن گیا ہے کہ وفات پانے والے بڑے بزرگوں کو تو کسی نہ کسی طرح یاد کر لیتے ہیں لیکن کارکنوں کا تذکرہ نہیں ہوتا۔ تحریک آزادی اور تحریک ختم نبوت کے بزرگ تحریکی شاعر سائیں محمد حیات پسروریؒ نے اپنی ایک پنجابی نظم میں اس صورت حال کو اس طرح تعبیر کیا تھا کہ مکان کی خوبصورتی اور مضبوطی میں دیواروں اور چھت کو تو ہر شخص دیکھتا ہے لیکن جو اینٹیں روڑے بن کر بنیادوں میں کوٹ دی جاتی ہیں ان کا کوئی نام تک نہیں لیتا، حالانکہ عمارت کی اصل مضبوطی انہی سے ہوتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر چند دینی کارکنان کی وفات

نومبر ۲۰۱۲ء

حضرت مولانا حبیب الرحمان لدھیانویؒ

23 مارچ 1947ء کو دارالعلوم دیوبند میں مولانا حبیب الرحمان لدھیانویؒ نے اپنے خطاب میں کہا کہ’’۔۔۔امریکہ کو خطرہ ہے کہ اگر ہندوستان کو اسی حالت میں چھوڑ دیا گیا تو ہندوستان کی سوشلسٹ حکومت روس کے ساتھ مل کر ایک زبردست بلاک بنا لے گی جس کی وجہ سے ایشیا میں امریکہ کا ناطقہ بند ہو سکتا ہے۔ اس لیے ضروری تھا کہ ہندوستان اور روس کے درمیان ایک ایسی ریاست قائم کر دی جائے جس کی وجہ سے یہ دونوں ملک آپس میں مل کر کوئی مضبوط محاذ نہ بنا سکیں۔ پاکستان کی ضرورت صرف اتنی سی ہے۔ جب تک پاکستان امریکہ کی یہ ضرورت پوری کرتا رہے گا قائم رہے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا حبیب الرحمان لدھیانویؒ

۳ ستمبر ۲۰۱۲ء

مولانا محمد اسلم شیخوپوری شہیدؒ

مولانا محمد اسلم شیخوپوریؒ شہید آج کے دو رمیں شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندی کی اس تعلیمی وفکری جدوجہد کا اہم کردار تھے جو حضرت شیخ الہند نے مالٹا کی قید سے رہائی کے بعد ہندوستان واپس پہنچنے پر شروع کی تھی کہ مسلمانوں میں اجتماعیت کے فروغ کی محنت کی جائے اور قرآنی تعلیمات عام مسلمانوں تک پہنچانے کی جدوجہد کی جائے۔ مولانا شیخوپوری نے قرآن کریم کے درس کے لیے جو اسلوب اختیار کیا، وہ آج کے نوجوان علماء کرام کے لیے مشعل راہ کی حیثیت رکھتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا محمد اسلم شیخوپوری شہیدؒ

جون ۲۰۱۲ء

حضرت مولانا عبد الحقؒ

حضرت مولانا عبدالحق رحمۃ اللہ علیہ کا شمار پاکستان ہی نہیں بلکہ جنوبی ایشیا کی ان عظیم شخصیتوں میں ہوتا ہے جو نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ وسطی ایشیا میں علوم دینیہ کی ترویج واشاعت اور اسلامی اقدار و روایات کے تحفظ وفروغ کا ذریعہ بنیں۔ تعلیمی اور تہذیبی حوالے سے مولانا عبدالحقؒ کی دینی، علمی، تدریسی اور فکری خدمات جنوبی ایشیا اور اس کے ساتھ ساتھ وسطی ایشیا میں دینی جدوجہد کی اساس کی حیثیت رکھتی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا عبد الحقؒ

۷ مئی ۲۰۱۲ء

مولانا قاضی حمید اللہ خانؒ

مولانا قاضی حمیداللہ خانؒ کو آج (۱۹ اپریل، جمعرات کی) صبح شیرانوالہ باغ گوجرانوالہ میں نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد ان کے آبائی وطن چارسدہ کے لیے رخصت کیا تو کم وبیش گزشتہ نصف صدی کی تاریخ نگاہوں کے سامنے گھومنے لگی۔ قاضی صاحبؒ شوگر کے مریض خاصے عرصے سے تھے، کچھ دنوں سے گردوں کا عارضہ بھی ہوگیا اور وہ گردوں کی مشینی صفائی کے مرحلہ سے گزار رہے تھے جس کے بعد جگر نے بھی متاثر ہونا شرو ع کردیا اور آج وہ ان تمام مراحل سے گزر کر اپنے خالق و مالک کے حضور پیش ہونے جا رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا قاضی حمید اللہ خانؒ

مئی ۲۰۱۲ء

علامہ احسان الٰہی ظہیر شہیدؒ

میو ہسپتال پہنچا تو بہت زیادہ رش تھا اور بظاہر ان تک رسائی کا کوئی امکان دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ کمرے کے دروازے پر گوجرانوالہ کے ایک اہل حدیث نوجوان کی ڈیوٹی تھی جو علامہ شہیدؒ کے ذاتی دوستوں میں سے تھے اور مجھے پہچانتے تھے۔ انہوں نے ہمت کر کے اس قدر رش کے باوجود مجھے ان کے بیڈ تک پہنچایا۔ میں نے علامہ شہیدؒ کے چہرے کی طرف دیکھا، آنکھیں چار ہوئیں، مجھے اندازہ نہیں تھا کہ اس حالت میں وہ مجھے پہچان پائیں گے۔ ان کے لبوں کو حرکت ہوئی تو میں نے کان قریب کر لیے، وہ کہہ رہے تھے کہ ’’حضرت صاحب سے میرے لیے دعا کی درخواست کرنا‘‘ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر علامہ احسان الٰہی ظہیر شہیدؒ

۲ اپریل ۲۰۱۲ء

حکیم الاسلام قاری محمد طیبؒ

سب سے پہلی اور بڑی وجہ یہ ہے کہ وہ حجۃ الاسلام حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کے خاندان سے ہیں اور ان کے پوتے ہیں۔ میں نسبتوں کے حوالے سے بہت خوش عقیدہ شخص ہوں اور نسبتوں کی برکات پر نہ صرف یقین رکھتاہوں، بلکہ جب اور جہاں موقع ملے ان سے استفادہ کی کوشش بھی کرتاہوں۔ حجۃ الاسلام حضرت مولانا قاسم نانوتوی ؒ اور قطب الارشاد حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ کی دو عظیم شخصیات کو جنوبی ایشیا کی مسلم تاریخ میں ایک ایسے سنگم کی حیثیت حاصل ہے جنہوں نے ۱۸۵۷ء کے بعد ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حکیم الاسلام قاری محمد طیبؒ

اپریل ۲۰۱۲ء

محمد ظہیر میر ایڈووکیٹ مرحوم

محمد ظہیر میر جمعیۃ طلباء اسلام میں درجہ بدرجہ ترقی کرتے ہوئے مرکزی سیکرٹری جنرل کے منصب تک جا پہنچے۔ یہ وہ دور تھا جب جے ٹی آئی پورے ملک میں متحرک تھی اور دینی مدارس کے ساتھ ساتھ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں بھی اس کے سینکڑوں یونٹ قائم تھے جو فعال بھی تھے اور ملک بھر میں اس کا نیٹ ورک ہر سطح پر کام کر رہا تھا۔ میں خود جے ٹی آئی کے ابتدائی ارکان میں سے ہوں اور ایک عرصہ تک اس کا متحرک رکن رہا ہوں مگر اب یہ نام زبان پر آتے ہی حسرت کی کیفیت دل و دماغ پر طاری ہو جاتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر محمد ظہیر میر ایڈووکیٹ مرحوم

۲ مارچ ۲۰۱۲ء

پیر آف پگارا سید مردان علی شاہ مرحوم

پیر صاحب آف پگارا اپنے ماضی کے حوالے سے بہت شاندار تاریخ رکھتے ہیں مگر وہ خود چونکہ مغربی ماحول کے تربیت یافتہ تھے اس لیے ان پر ان کے ماضی کا رنگ غالب نہ آسکا ۔ ۔ ۔ مگر پاکستان کے استحکام اور سندھ میں قوم پرستوں کے علیحدگی پسندانہ رجحانات کا مقابلہ کرنے میں وہ ایک نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ سندھ میں جب بھی لسانی حوالے سے یا قوم پرستی کے عنوان سے کوئی مسئلہ کھڑا ہوا پیر صاحب آف پگارا پاکستان اور وفاق کی علامت کے طور پر سامنے آئے۔ ملک کی وحدت و سالمیت کے لیے وہ ہمیشہ محب وطن پاکستانیوں کی ڈھارس ثابت ہوئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر پیر آف پگارا سید مردان علی شاہ مرحوم

۱۳ جنوری ۲۰۱۲ء

حضرت مولانا معین الدین لکھویؒ

حضرت مولانا معین الدین لکھویؒ کی وفات صرف اہل حدیث حضرات کے لیے باعث رنج و صدمہ نہیں بلکہ پاکستان کے اسلامی تشخص کے تحفظ اور ملک میں نفاذ شریعت کی جدوجہد سے تعلق رکھنے والا ہر مسلمان اور ہر پاکستانی ان کی جدائی سے غمزدہ ہے۔ جن بزرگ اہل حدیث علمائے کرام کے ساتھ میرا عقیدت اور نیاز مندی کا تعلق رہا ہے ان میں حضرت مولانا معین الدین لکھویؒ بھی شامل ہیں۔ میں نے جب اردو لکھنا پڑھنا شروع کی تو بالکل ابتداء میں جو چند کتابیں میرے مطالعہ میں آئیں ان میں آغا شورش کاشمیری مرحوم کی ’’خطبات احرار‘‘ بھی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا معین الدین لکھویؒ

۱۵ دسمبر ۲۰۱۱ء

میاں اسماعیل ضیاء مرحوم

سابق ایم پی اے گوجرانوالہ میاں اسماعیل ضیاء مرحوم میرے محترم دوستوں میں سے تھے۔ سیاسی راستے الگ الگ ہونے کے باوجود ہمارے درمیان بہت سے معاملات میں مفاہمت اور ہم آہنگی رہی ہے۔ وہ مسلکاً اہل حدیث تھے اور سیاسی طور پر معروف معنوں میں بائیں بازو کے سیاسی دانشوروں اور کارکنوں میں شمار ہوتے تھے۔ جبکہ میں دیوبندی مسلک کے پیروکاروں میں شمار ہوتا ہوں اور میرا سیاسی تعلق ہمیشہ جمعیۃ علماء اسلام کے ساتھ رہا ہے۔ ہماری باہمی دوستی اور تعلق کے پس منظر میں تین چار شخصیات کا بڑا حصہ اور کردار ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر میاں اسماعیل ضیاء مرحوم

۱۱ نومبر ۲۰۱۱ء

حضرت مولانا سید ابوذر بخاریؒ

جانشین امیر شریعت حضرت مولانا سید ابوذر بخاریؒ کا نام تو سن رکھا تھا کہ ’’شاہ جی‘‘ امیر شریعتؒ کے بڑے بیٹے ہیں اور بہت بڑے عالم ہیں لیکن دیکھنے کا موقع اس وقت ملا جب ایوب خان مرحوم نے ۱۹۶۲ء میں مارشل لاء ختم کر کے ملک میں سیاسی سرگرمیاں بحال کیں اور مجلس احرار اسلام نے ملک کے مختلف شہروں میں جلسے منعقد کر کے جماعتی سرگرمیوں کا آغاز کیا۔ انہی دنوں گوجرانوالہ کے شیرانوالہ باغ میں مجلس احرار اسلام کا جلسہ تھا اور مولانا سید ابوذر بخاریؒ اس جلسہ کے مرکزی مقرر تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا سید ابوذر بخاریؒ

۲۳ اکتوبر ۲۰۱۱ء

مولانا میاں عبد الرحمٰنؒ، مولانا سید عبد المالک شاہؒ

آج کا کالم دو محترم دوستوں اور بزرگ علمائے کرام کے حوالے سے ہے جن کا گزشتہ دنوں انتقال ہوگیا ہے اور ہمارے دینی و علمی حلقوں میں ان کی جدائی کا صدمہ مسلسل محسوس کیا جا رہا ہے۔ مولانا میاں عبد الرحمٰن کا تعلق بالاکوٹ کے علاقے سے تھا۔ ان کے والد محترم حضرت مولانا محمد ابراہیم نے لاہور کے معروف بازار انارکلی میں ڈیرہ لگایا اور عمر بھر وہاں حق کی آواز بلند کرتے رہے۔ شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ اور حافظ الحدیث حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستیؒ سے خصوصی تعلق رکھتے تھے اور جمعیۃ علمائے اسلام کے سرکردہ راہنماؤں میں سے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا میاں عبد الرحمٰنؒ، مولانا سید عبد المالک شاہؒ

۱۵ اکتوبر ۲۰۱۱ء

حضرت مولانا منظور احمدؒ چنیوٹی

۱۹۷۴ء کی تحریک ختم نبوت کی بات ہے، میں اس وقت کل جماعتی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت ضلع گوجرانوالہ کا رابطہ سیکرٹری تھا اور مرکزی جامع مسجد شیرانوالہ باغ گوجرانوالہ چونکہ تحریک کامرکز تھی اس لیے تحریک کے تنظیمی اور دفتری معاملات کا انچارج بھی تھا۔ ضلع گوجرانوالہ کے ایک قصبے میں تحریک کے جلسے کاپروگرام تھا جس میں لاؤڈ اسپیکر کے استعمال کی اجازت کے لیے اے سی صاحب کو درخواست دے رکھی تھی۔ راقم الحروف تحریک ختم نبوت کے ایک اور راہ نما کے ساتھ اے سی گوجرانوالہ سے ملا کہ وہ اجازت دے دیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا منظور احمدؒ چنیوٹی

ستمبر ۲۰۱۱ء

امیر عبد القادر الجزائریؒ

انیسویں اور بیسویں صدی عیسوی کے دوران مسلم ممالک پر یورپ کے مختلف ممالک کی استعماری یلغار کے خلاف ان مسلم ممالک میں جن لوگوں نے مزاحمت کا پرچم بلند کیا اور ایک عرصہ تک جہاد آزادی کے عنوان سے داد شجاعت دیتے رہے، ان میں الجزائر کے امیر عبد القادر الجزائریؒ کا نام صف اول کے مجاہدین آزادی میں شمار ہوتا ہے جن کی جرات واستقلال، عزیمت واستقامت اور حوصلہ وتدبر کو ان کے دشمنوں نے بھی سراہا اور ان کا نام تاریخ میں ہمیشہ کے لیے ثبت ہو گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر امیر عبد القادر الجزائریؒ

جولائی ۲۰۱۱ء

قاری محمد عبد اللہؒ

گزشتہ دنوں جامعہ نصرۃ العلوم کے شعبہ حفظ کے سابق صدر مدرس قاری محمد عبد اللہ صاحب طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وہ ہمارے پرانے ساتھی اور رفیق کار تھے، ان کا تعلق منڈیالہ تیگہ کے قریب بستی کوٹلی ناگرہ سے تھا۔ ان کے والد محترم حاجی عبد الکریم جمعیۃ علماء اسلام کے سرگرم حضرات میں سے تھے اور مفتیٔ شہر حضرت مولانا مفتی عبد الواحدؒ اور امام اہل سنت حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کے ساتھ خصوصی تعلق رکھتے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قاری محمد عبد اللہؒ

جون ۲۰۱۱ء

الشیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ

الشیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ کا نام پہلی بار افغانستان کی پہاڑیوں میں جہادِ افغانستان کے دوران سنا جب افغانستان میں روسی افواج کی آمد اور سوشلسٹ نظریات کے تسلط کے خلاف افغانستان کے مختلف حصوں میں علماء کرام اور مجاہدینِ آزادی نے علمِ جہاد بلند کیا اور افغانستان کی آزادی کی بحالی اور اسلامی تشخص کے تحفظ کے لیے میدانِ کارزار میں سرگرم ہوگئے۔ ابتداء میں یہ مجاہدین کسمپرسی کے عالم میں لڑتے رہے حتیٰ کہ پرانی بندوقوں اور بوسیدہ ہتھیاروں کے ساتھ ساتھ بوتلوں میں صابن اور پٹرول بھر کر ان دستی بموں کے ساتھ روسی ٹینکوں کا مقابلہ کرتے رہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر الشیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ

۶ مئی ۲۰۱۱ء

مولانا محمد اعظمؒ

مرکزی جمعیۃ اہل حدیث کے ناظم تعلیمات مولانا محمد اعظمؒ کی اچانک وفات پر بے حد صدمہ ہوا، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وہ ہمارے شہر کے بزرگ علماءکرام میں سے تھے اور دینی تحریکات میں ہمیشہ پیش پیش رہتے تھے۔ معتدل اور متوازن مزاج کے بزرگ تھے اور انہیں شہر کے تمام مکاتب فکر میں احترام کی نظر سے دیکھا جاتا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا محمد اعظمؒ

الشریعہ، اپریل ۲۰۱۱ء

کرنل امیر سلطان تارڑ شہیدؒ

کرنل امام کی شہادت اور حضرت سید علی ہجویری المعروف داتا گنج بخشؒ کے عرس کے موقع پر خودکش حملہ بظاہر دو الگ الگ واقعات ہیں جن میں کوئی جوڑ اور تعلق دیکھنے والوں کو نظر نہیں آتا لیکن حالات میں تیزی سے رونما ہونے والی تبدیلیوں اور ان کے پس منظر پر نظر رکھنے والوں سے یہ بات اوجھل نہیں ہو سکتی کہ کراچی میں ہونے والے خودکش حملے سمیت ان تینوں واقعات کے پس منظر کو ایک دوسرے سے الگ کرنا آسان نہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر کرنل امیر سلطان تارڑ شہیدؒ

۲۸ جنوری ۲۰۱۱ء

حضرت مولانا عبد الرحمٰنؒ اشرفی

حضرت مولانا عبد الرحمٰنؒ اشرفی کا وجود اس لحاظ سے بھی آج کے دور میں بسا غنیمت تھا کہ مختلف مسالک اور طبقات کے لوگ ان کے پاس بے تکلف آجایا کرتے تھے اور ان سے فیض یاب ہوتے تھے۔ وہ بھی بلا لحاظ مسلک و مشرب سب کو اپنی محبت و شفقت سے نوازتے تھے۔ المیہ یہ ہے کہ جوں جوں ہماری ’’قوت ہاضمہ‘‘ کمزور ہوتی جا رہی ہے، اس سطح کے بزرگوں کا دائرہ بھی سمٹ رہا ہے اور ہمارے حلقے میں اب ایسا کوئی بزرگ دور دور تک دکھائی نہیں دیتا جس کے پاس بلا لحاظ مسلک و مشرب او ربلا لحاظ طبقہ سب لوگ کسی حجاب کے بغیر آسکیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا عبد الرحمٰنؒ اشرفی

۲۵ جنوری ۲۰۱۱ء

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ

ڈاکٹر صاحب کا تعلق حضرت مولانا مفتی جمیل احمد تھانوی اور حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلوی کے خاندان سے تھا۔ انھوں نے ابتدائی دینی تعلیم جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی میں حاصل کی اور دورۂ حدیث دار العلوم تعلیم القرآن راجہ بازار راول پنڈی میں کیا۔ ان کے حدیث کے استاذ صوبہ خیبر پختون خواہ کے معروف محدث حضرت مولانا عبد الرحمن المینوی رحمہ اللہ تعالیٰ اور قرآن کریم کے ترجمہ وتفسیر کے استاذ شیخ القرآن حضرت مولانا غلام اللہ خان رحمہ اللہ تعالیٰ تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ

جنوری ۲۰۱۱ء

حضرت مولانا قاضی عبداللطیفؒ

حضرت مولانا قاضی عبد اللطیفؒ ایک علمی خاندان کے چشم و چراغ تھے، کلاچی میں ان کا مدرسہ نجم المدارس کے نام سے قرآن و سنت کی تعلیمات لوگوں تک پہنچانے کا فریضہ سرانجام دے رہا ہے۔ حضرت قاضی صاحبؒ کلاچی کے عوام کا مرجع تھے، لوگ دور دور سے راہ نمائی اور اپنے معاملات کے فیصلے کروانے کے لیے ان کے پاس آتے تھے۔ وہ ہمیشہ جمعیۃ علماءاسلام میں سر گرم رہے۔ جب میں گوجرانوالہ میں جمعیۃ کا سیکرٹری جنرل تھا، اس وقت وہ کلاچی میں جمعیۃ کے سیکرٹری جنرل تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا قاضی عبداللطیفؒ

اکتوبر ۲۰۱۰ء

حضرت مولانا محمد یوسف خانؒ

مولانا محمد یوسف خانؒ کی ولادت ۱۹۱۹ء / ۱۹۲۰ء کی ہے۔ کشمیر کے علاقہ ’’منگ‘‘ کے ایک اچھے بااثر خاندان سے تعلق تھا۔ انہوں نے دینی تعلیم حاصل کی اور ۱۹۴۰ء / ۱۹۴۱ء میں دارالعلوم دیوبند سے دورۂ حدیث کیا۔ حضرت والد صاحبؒ نے بھی اسی زمانے میں دورۂ حدیث کیا تھا۔ آپ مولانا سید حسین احمدؒ مدنی کے ممتاز تلامذہ میں سے تھے۔ مولانا محمد یوسفؒ کو اللہ تعالیٰ نے حق گوئی و بے باکی عطا فرمائی تھی۔ جب وہ دورۂ حدیث سے فراغت کے بعد واپس اپنے علاقے میں پہنچے تو اس وقت اہل کشمیر پر بڑی آزمائش کا دور تھا،ڈوگرہ فوج نے لوگوں پر مظالم کی انتہا کر دی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا محمد یوسف خانؒ

اکتوبر ۲۰۱۰ء

حضرت مولانا نور محمد شہیدؒ

حضرت مولانا نور محمد شہیدؒ سے عام طور پر بہت کم لوگ واقف ہیں، میں نے پہلی مرتبہ انہیں ۱۹۷۶ء میں دیکھا جب میں ایک طالب علم تھا۔ اس وقت اسرائیل نے بیت المقدس پر قبضہ کیا ہوا تھا، مفتی محمود صاحبؒ نے ایک جلسے میں فرمایا کہ اگر حکومت ہمیں اجازت دے تو ہم اپنے خرچے پر وہاں جہاد کے لیے جائیں گے۔ مفتی صاحبؒ کے بعد ایک نوجوان کھڑا ہوا اور بڑے جوشیلے انداز میں اس نے اس با ت کا اعلان کیا کہ اگر حکومت اجازت دیتی ہے تو میں قبائل کی طرف سے دس ہزار کا لشکر فراہم کروں گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا نور محمد شہیدؒ

اکتوبر ۲۰۱۰ء

حضرت مولانا محمد یوسف خانؒ

مولانا محمد یوسف خانؒ آزاد کشمیر کے نہیں بلکہ جنوبی ایشیا کے بڑے علماء میں سے تھے جنہوں نے تعلیم، سیاست، تحریک آزادیٔ کشمیر اور نفاذِ اسلام کی جدوجہد کے محاذوں پر نصف صدی سے زیادہ عرصہ تک بھرپور خدمات سرانجام دیں اور گزشتہ روز (۱۳ ستمبر) کئی برس صاحب فراش رہنے کے بعد کم و بیش ۹۰ برس کی عمر میں پلندری آزاد کشمیر میں انتقال کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ مولانا محمد یوسف خانؒ کا تعلق ضلع پونچھ کے علاقہ منگ سے تھا جو اب آزاد کشمیر میں ہے۔ دینی تعلیم سے فراغت کے بعد پلندری ان کی زندگی بھر کی تگ و تاز کا مرکز رہا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا محمد یوسف خانؒ

۱۷ ستمبر ۲۰۱۰ء

حضرت مولانا محمد یوسف خانؒ

عید الفطر کی رات جن چند دوستوں کو عید مبارک کہنے اور حال احوال معلوم کرنے کے لیے فون کیا ان میں برادرم مولانا سعید یوسف خان بھی تھے، انہیں فون کرنے کا ایک مقصد حضرت الشیخ مولانا محمد یوسف خان کی خیریت دریافت کرنا تھا جو پاکستان اور آزاد کشمیر میں شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمدؒ مدنی کے باقی ماندہ چند گنے چنے شاگردوں میں سے تھے اور والد گرامی حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کے دورۂ حدیث کے ساتھی تھے۔ مولانا سعید نے بتایا کہ حضرت کی صحت معمول کے مطابق ہے، وہ بخیریت ہیں اور انہوں نے رمضان المبارک کے روزے بھی سارے رکھے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا محمد یوسف خانؒ

۱۵ ستمبر ۲۰۱۰ء

حضرت مولانا قاضی عبد اللطیفؒ

میں گزشتہ روز امریکہ کی ریاست ٹیکساس کے شہر ہیوسٹن میں پاکستان سے تعلق رکھنے والے قاری محمد ہاشم صاحب کے گھر میں قیام پذیر تھا کہ انہوں نے انٹرنیٹ پر پاکستانی اخبارات کا مطالعہ کرایا۔ خبروں میں ایک تعزیتی بیان نے چونکا دیا جس میں مولانا قاضی عبد اللطیف آف کلاچیؒ کی وفات پر رنج و غم کا اظہار کیا گیا تھا۔ میرے لیے یہ خبر اچانک تھی، بہت صدمہ ہوا، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ابھی چند روز قبل ان کے بھتیجے مولانا قاضی عبد الحلیم کا انتقال ہوا تھا تو میں بیرون ملک سفر کی تیاری میں تھا اور سوچ رہا تھا کہ واپسی پر رمضان المبارک کے بعد کلاچی حاضری دوں گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا قاضی عبد اللطیفؒ

۵ اگست ۲۰۱۰ء

حضرت مولانا خواجہ خان محمدؒ

۵ مئی کو حضرت مولانا خواجہ خان محمدؒ بھی ہمیں داغ مفارقت دے گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ گزشتہ سال اسی تاریخ کو والد محترم مولانا محمد سرفراز خان صفدر کا انتقال ہوا تھا۔ وہ دونوں دار العلوم دیوبند میں ہم سبق رہے اور شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمدؒ مدنی کے شاگرد تھے۔ ان کا روحانی سرچشمہ بھی ایک ہی تھاکہ ڈیرہ اسماعیل خان میں موسیٰ زئی شریف کی خانقاہ کے فیض یافتہ تھے۔ نقشبندی سلسلے کی اس خانقاہ کے حضرت خواجہ سراج الدینؒ سے حضرت مولانا احمد خانؒ نے خلافت پائی جو خانقاہ سراجیہ کے بانی تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا خواجہ خان محمدؒ

جون ۲۰۱۰ء

مولانا قاضی بشیر احمد کشمیریؒ، مولانا قاضی عبد الحلیم کلاچویؒ اور قاری سعید احمدؒ

حضرت مولانا خواجہ خان محمدؒ کی وفات کے بعد ایک محفل میں ذکر چل پڑا کہ اب ہمارے ملک میں اس کھیپ کے بزرگوں میں سے کون کون موجود ہیں؟ میں نے عرض کیا کہ میری معلومات کے مطابق مولانا محمد یوسف خان آف پلندری آزاد کشمیر اور حضرت مولانا قاضی عبد الکریم کلاچوی اس کھیپ کے آخری دو بزرگ ہیں جو ہمارے لیے برکات اور دعاؤں کا سہارا ہیں۔ ان کے ساتھ حضرت مولانا سلیم اللہ خان، حضرت مولانا عبید اللہ اشرفی، حضرت مولانا ڈاکٹر عبد الرزاق سکندر، حضرت مولانا صوفی محمد سرور اور حضرت مولانا قاضی عبد اللطیف آف کلاچی کو بھی میں اسی کھیپ کا حصہ سمجھتا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا قاضی بشیر احمد کشمیریؒ، مولانا قاضی عبد الحلیم کلاچویؒ اور قاری سعید احمدؒ

۲۲ مئی ۲۰۱۰ء

حضرت خواجہ خان محمدؒ

پہلی اور آخری ملاقات کے دوران نصف صدی کے لگ بھگ کا عرصہ ہے اور اس عرصہ میں حضرت خواجہ صاحب رحمہ اللہ کے ساتھ ملاقاتوں کے وسیع سلسلہ کو اگر تین ہندسوں میں بھی بیان کروں تو شاید مبالغہ نہ ہو۔ پاکستان میں اور بیرون ملک ان کی خدمت میں حاضریوں اور ان کی دعاؤں و شفقتوں سے فیض یاب ہونے کا ایک طویل سلسلہ ہے۔ وہ جمعیۃ علمائے اسلام کی مرکزی قیادت میں شامل تھے اور ایک عرصہ تک نائب امیر رہے۔ میں نے بھی کم و بیش ربع صدی کا عرصہ جمعیۃ علمائے اسلام میں ایک متحرک کارکن کے طور پر گزارا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت خواجہ خان محمدؒ

۷ مئی ۲۰۱۰ء

ڈاکٹر اسرار احمدؒ

ڈاکٹر صاحبؒ نے جماعت اسلامی سے اپنا راستہ الگ کیا، لیکن نفاذ اسلام کی جدوجہد سے دست برداری اختیار نہیں کی اور آخر وقت تک مصروف عمل رہے۔ اس بڑھاپے میں نفاذ شریعت کے لیے ان کی تڑپ اور محنت قابل رشک تھی جسے دیکھ کر جوانوں کو بھی حوصلہ ملتا تھا۔ ان کا موقف تھا کہ شیخ الہند مولانا محمودحسن دیوبندی ؒ نے برطانوی استعمار کے خلاف آزادی وطن کی جدوجہد میں مالٹا جزیرے میں ساڑھے تین سال کی قید و بند کے بعد واپسی پر اپنی جدوجہد کا جو راستہ اختیار کیاتھا، وہی اس محنت کا صحیح راستہ ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ڈاکٹر اسرار احمدؒ

مئی ۲۰۱۰ء

حضرت مولانا محمد فیروز خان ثاقبؒ

حضرت مولانا محمد فیروز خان ثاقب بھی انتقال فرما گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وہ شاید فضلائے دیوبند میں سے ہمارے علاقے میں آخری بزرگ تھے۔ ابھی چند ماہ قبل مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے سابق ناظم اور محکمہ اوقاف کے سابق ڈسٹرکٹ خطیب مولانا لالہ عبد العزیز سرگودھوی کا انتقال ہوا تو ان کے بعد ہم کہا کرتے تھے کہ اب دیوبند کی آخری نشانی ہمارے پاس حضرت مولانا محمد فیروز خان رہ گئے ہیں، وہ بھی ۹ مارچ کو ہم سے رخصت ہو گئے۔ان کا تعلق آزاد کشمیر کی وادی نیلم سے تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا محمد فیروز خان ثاقبؒ

اپریل ۲۰۱۰ء

مولانا سعید احمد جلال پوری شہیدؒ اور مولانا عبد الغفور ندیم شہیدؒ

کراچی ایک بار پھر علماء کی قتل گاہ بن گیا ہے اور مولانا سعید احمد جلال پوریؒ اور مولانا عبد الغفور ندیم کی اپنے بہت سے رفقاء سمیت المناک شہادت نے پرانے زخموں کو پھر سے تازہ کر دیا ہے۔ خدا جانے یہ سلسلہ کہاں جا کر رکے گا اور اس عفریت نے ابھی کتنے اور قیمتی لوگوں کی جان لینی ہے۔ مولانا سعید احمد جلال پوری شہیدؒ حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ کے قافلے کے فرد تھے، ان کے تربیت یافتہ تھے اور انہی کی مسند پر خدمات سرانجام دے رہے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا سعید احمد جلال پوری شہیدؒ اور مولانا عبد الغفور ندیم شہیدؒ

اپریل ۲۰۱۰ء

قاری عبد الحلیمؒ

جامعہ بنوریہ کے مہتمم مولانا مفتی محمد نعیم صاحب ہمارے پرانے دوست اور ساتھی ہیں اور ان کی تعلیمی سرگرمیاں دیکھ کر خوشی ہوتی ہے۔ گزشتہ دنوں ان کے والد محترم قاری عبد الحلیم صاحب کا انتقال ہوگیا تھا اور میں کراچی حاضری کے موقع پر ان کے پاس تعزیت کے لیے جانا چاہتا تھا۔ مولانا فداء الرحمان درخواستی سے ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا کہ میں بھی گزشتہ دنوں بنگلہ دیش کے سفر پر تھا اور ابھی تک جامعہ بنوریہ نہیں جا سکا اس لیے اکٹھے چلتے ہیں۔ چنانچہ مولانا فداء الرحمان درخواستی اور راقم الحروف اکٹھے جامعہ بنوریہ گئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قاری عبد الحلیمؒ

۳۰ جنوری ۲۰۱۰ء

سید ذو الکفل بخاریؒ

امیر شریعت سید عطاءاللہ شاہ بخاری کے اس ہونہار نواسے کی اچانک اور حادثاتی موت نے تو کچھ لمحات کے لیے ذہن پر سکتہ طاری کر دیا۔ وہ مکہ مکرمہ کی ام القریٰ یونیورسٹی میں تدریسی خدمات سرانجام دے رہے تھے اور کئی برسوں سے سعودیہ میں مقیم تھے۔ اس سال اپریل کے دوران مکہ مکرمہ میں حاضری کے دوران میری خواہش رہی کہ ان سے ملاقات ہو جائے مگر میرے میزبان کا ان سے رابطہ نہ ہو سکا۔ اور اب پیر کے روز میں میرپور آزاد کشمیر کے ایک دینی مدرسہ کے اجتماع میں شرکت کے لیے جا رہا تھا کہ برادرم عبد اللطیف خالد چیمہ نے ٹیلی فون پر گلوگیر لہجے میں یہ خبر دی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سید ذو الکفل بخاریؒ

جنوری ۲۰۱۰ء

مولانا محمد عمر لدھیانویؒ

مولانا محمد عمر لدھیانویؒ رئیس الاحرار حضرت مولانا حبیب الرحمان لدھیانویؒ کے بھتیجے اور حضرت مولانا محمد یحییٰ لدھیانویؒ کے فرزند تھے۔ پاکستان بننے کے بعد حضرت مولانا محمد یحییٰ لدھیانویؒ پاکستان تشریف لائے اور فیصل آباد میں آباد ہوگئے۔ گورونانک پورہ فیصل آباد میں مدرسہ اشرف المدارس جو ایک دور میں ملک کے بڑے مدارس میں شمار ہوتا تھا، مولانا محمد یحییٰ لدھیانویؒ کا قائم کردہ ہے۔ مولانا محمد عمر لدھیانویؒ جمعیۃ علماء اسلام کے سرگرم راہ نماؤں میں سے تھے اور حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستیؒ، حضرت مولانا مفتی محمودؒ، اور حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ کے معتمد رفقاء میں سے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا محمد عمر لدھیانویؒ

۳۱ دسمبر ۲۰۰۹ء

مولانا حمید الرحمان عباسیؒ

مولانا حمید الرحمان عباسیؒ کا تعلق ہزارہ کے علاقہ گڑھی حبیب اللہ سے تھا اور ان کی زندگی کا بیشتر حصہ مدرسہ قاسم العلوم شیرانوالہ گیٹ لاہور میں تدریسی خدمات سرانجام دیتے ہوئے بسر ہوا۔ اپنے اساتذہ میں ضلع اٹک کے بزرگ عالم دین حضرت مولانا نور محمدؒ آف ملہوالی کا نام کثرت سے لیا کرتے تھے، انہی سے حضرت مولانا نور محمدؒ کا نام بار بار سن کر میرے دل میں ان کی زیارت کا شوق پیدا ہوا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا حمید الرحمان عباسیؒ

۱۱ نومبر ۲۰۰۹ء غالباً

مولانا خورشید احمد گنگوہیؒ

مولانا خورشید احمد گنگوہیؒ سے میرا پہلا تعارف گکھڑ میں ہوا جہاں ان کا ننھیال ہے۔ ان کے نانا مرحوم حضرت حافظ احمد حسن لدھیانویؒ میرے اساتذہ میں سے ہیں اور مولانا خورشید احمد گنگوہیؒ میرے حفظ قرآن کریم کے استاذ حضرت قاری محمد انور مدظلہ کے شاگردوں میں سے ہیں۔ مولانا گنگوہیؒ کی رہائش لاہور میں تھی اور وہ چوبرجی کے قریب پونچھ ہاؤس کی جامع مسجد میں خطیب کی حیثیت سے خدمات سرانجام د یتے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا خورشید احمد گنگوہیؒ

۱۱ نومبر ۲۰۰۹ء غالباً

علامہ علی شیر حیدری شہیدؒ

17 اگست کو صبح ڈیٹرائٹ کی مسجد بلال میں فجر کی نماز ادا کرنے کے بعد واشنگٹن واپسی کے لیے ایئرپورٹ جانے کی تیاری کر رہا تھا کہ مولانا قاری محمد الیاس نے اطلاع دی کہ علامہ علی شیر حیدریؒ کو شہید کر دیا گیا ہے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وہ مسجد میں آنے سے پہلے انٹرنیٹ پر جنگ اخبار دیکھ کر آئے تھے جس کی اس دن پہلی خبر یہی تھی۔ واشنگٹن پہنچ کر انٹرنیٹ کے ذریعہ ہی تفصیلات معلوم کیں، بے حد صدمہ ہوا۔ وہ تحفظ ناموس صحابہؓ اور اہل سنت کے عقائد و حقوق کے دفاع کے محاذ کے ایک اہم راہنما تھے جن کی پوری زندگی اسی مشن میں گزری ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر علامہ علی شیر حیدری شہیدؒ

۲۸ اگست ۲۰۰۹ء

مولانا قاری سعید الرحمٰنؒ

مولانا قاری سعید الرحمٰن کو بھی اللہ تعالیٰ نے علمی، مسلکی اور تحریکی ذوق سے بہرہ ور فرمایا تھا اور راولپنڈی صدر میں کشمیر روڈ پر ان کے قائم کردہ تعلیمی ادارہ جامعہ اسلامیہ کو ان حوالوں سے مرکزیت کا مقام حاصل تھا۔ ایک دور میں شیخ الحدیثؒ حضرت مولانا عبد الحقؒ آف اکوڑہ خٹک راولپنڈی تشریف لانے پر ان کے ہاں قیام کیا کرتے تھے۔ جامعہ اسلامیہ کو مولانا محمد یوسف بنوریؒ کی فرودگاہ ہونے کا شرف بھی حاصل تھا بلکہ حضرت بنوریؒ کی وفات راولپنڈی میں ہوئی تو ان کی پہلی نماز جنازہ جامعہ اسلامیہ میں ہی ادا کی گئی جس میں شرکت کی مجھے بھی سعادت حاصل ہوئی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا قاری سعید الرحمٰنؒ

۱۲ جولائی ۲۰۰۹ء

امامِ اہلِ سنتؒ کی تحریکی و جماعتی زندگی

حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کی تحریکی زندگی کا آغاز طالب علمی کے دور میں ہی ہوگیا تھا کہ وہ دور طالب علمی میں سالہا سال تک مجلس احرار اسلام کے رضاکار رہے اور تحریک آزادی میں اس پلیٹ فارم سے حصہ لیتے رہے۔ ان کی اس دور کی دو یادگاریں ہمارے گھر میں ایک عرصہ تک موجود رہی ہیں، ایک لوہے کا سرخ ٹوپ جو وہ پریڈ کے وقت پہنا کرتے تھے اور دوسری کلہاڑی۔ لوہے کا سرخ ٹوپ تو اب موجود نہیں ہے لیکن ان کی کلہاڑی اب بھی موجود ہے اور ان کے احراری ہونے کی یاد دلاتی رہتی ہے۔ اسی دوران وہ جمعیۃ علماء ہند کے کارکن بھی رہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر امامِ اہلِ سنتؒ کی تحریکی و جماعتی زندگی

۲۷ جون ۲۰۰۹ء

مولانا محمد امین اورکزئیؒ اور ڈاکٹر سرفراز احمد نعیمیؒ کی شہادت

میں ابھی تک اس گومگو کی کیفیت میں ہوں کہ مولانا محمد امین اورکزئی شہیدؒ اور ڈاکٹر سرفراز احمد نعیمی شہیدؒ کے حوالے سے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کس کا ذکر پہلے کروں۔ اول الذکر پاک فوج کے جیٹ طیاروں کی بمباری سے شہید ہوئے ہیں اور ثانی الذکر کو ایک خودکش بمبار نے ان کی قیمتی جان سے محروم کر دیا ہے۔ دونوں کا تعلق دینی مدارس سے تھا اور دونوں دینی تعلیم کے ذریعہ ملک و ملت کی خدمت کر رہے تھے۔ مولانا محمد امین اورکزئی ہنگو میں جامعہ یوسفیہ کے استاذ تھے جبکہ ڈاکٹر سرفراز احمد نعیمی لاہور میں جامعہ نعیمیہ کے مہتمم تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا محمد امین اورکزئیؒ اور ڈاکٹر سرفراز احمد نعیمیؒ کی شہادت

۲۰ جون ۲۰۰۹ء

ڈاکٹر سرفراز احمد نعیمی شہیدؒ

ہمارے ہاں دہشت گردی کا کھیل ایک عرصے سے جاری ہے۔ یہ دہشت گردی زبان کے مسئلے پر بھی ہوئی ہے، قومیت کے مسئلے پر بھی ہوئی ہے، شیعہ سنی تنازع میں بھی اس دہشت گردی کی تاریخ بہت تلخ ہے، اور اب یہ نفاذ شریعت کے نام پر ہو رہی ہے۔ ہمیں دراصل وہ ہاتھ تلاش کر کے اسے بے نقاب کرنا ہوگا جو ہمیں مختلف ناموں سے آپس میں لڑاتا رہتا ہے اور خود ہمارے ہاتھوں ہماری گردنیں کٹوا کر اپنے مقاصد حاصل کرتا ہے۔ جب تک ہم اس خفیہ ہاتھ کو بے نقاب نہیں کرتے، دہشت گردی کا یہ گھناؤنا کھیل کسی نہ کسی بہانے جاری رہے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ڈاکٹر سرفراز احمد نعیمی شہیدؒ

۲۰ جون ۲۰۰۹ء

حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کی وفات ۔ ہم سب کا مشترکہ صدمہ

والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کی وفات پر تعزیت کا سلسلہ جاری ہے اور دنیا بھر سے فون آرہے ہیں۔ جن کو موقع ملتا ہے وہ زحمت فرما کر تشریف لاتے ہیں اور ہمارے ساتھ غم و صدمہ کا اظہار کرتے ہیں۔ میں اپنے سب بھائیوں اور بہنوں اور دیگر اہل خاندان کی طرف سے ان تمام دوستوں، احباب، بزرگوں، اور ہمدردوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے کسی بھی ذریعہ سے ہمارے ساتھ ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا اور حضرت والد محترمؒ کے لیے مغفرت اور بلندیٔ درجات کی دعا کی۔ اللہ تعالیٰ سب کو دنیا و آخرت میں اس کا اجر جزیل دیں، آمین ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کی وفات ۔ ہم سب کا مشترکہ صدمہ

۱۵ مئی ۲۰۰۹ء

حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ بھی رخصت ہوئے

والد گرامیؒ عمر بھر دینی و قومی تحریکات میں حصہ لیتے رہے، تحریک آزادی میں جمعیۃ علماء ہند کے پلیٹ فارم سے حصہ لیا، 1953ء کی تحریک ختم نبوت میں کم و بیش دس ماہ اور 1977ء کی تحریک نظام مصطفیٰ میں ایک ماہ تک جیل میں رہے۔ طویل عرصہ تک جمعیۃ علماء اسلام ضلع گوجرانوالہ کے امیر رہے اور نفاذ شریعت کی جدوجہد میں سرگرم حصہ لیتے رہے۔ وہ اہل سنت کے دیوبندی مکتب فکر کے علمی ترجمان سمجھے جاتے تھے۔ انہوں نے مسلکی اختلافات کے حوالہ سے مختلف موضوعات پر پچاس سے زیادہ ضخیم کتابیں لکھی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ بھی رخصت ہوئے

۱۰ مئی ۲۰۰۹ء

مدتوں رویا کریں گے جام و پیمانہ مجھے

بھارت سے شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا سہارنپوریؒ کے فرزند مولانا محمد طلحہ اور لکھنؤ سے مولانا سید سلمان ندوی اور مولانا یحییٰ نعمانی مدیر الفرقان کی طرف سے پیغامات موصول ہوئے ہیں۔ جبکہ برطانیہ سے مولانا محمد عیسیٰ منصوری، مولانا محمد یعقوب القاسمی، مولانا اکرام الحق خیری، مولانا محمد قاسم، شیخ عبد الواحد، مولانا محمد اشرف قریشی، حافظ ضیاء المحسن طیب اور دیگر علماء نے فون پر تعزیت کی اور بتایا کہ مختلف شہروں میں مساجد و مدارس میں حضرت شیخ کے ایصال ثواب کے لیے قرآن خوانی اور دعائے مغفرت کا سلسلہ جاری ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مدتوں رویا کریں گے جام و پیمانہ مجھے

۱۰ مئی ۲۰۰۹ء

والدِ محترم کے سفر آخرت کا احوال

حضرت والد صاحبؒ کی وفات کے روز ہم سب گکھڑ میں جمع ہوئے تو جنازے کے لیے موزوں وقت اور تدفین کے مقام کے بارے میں باہمی مشورہ ہوا۔ گکھڑ میں سب سے بڑا گراؤنڈ ڈی سی ہائی اسکول کا ہے، ہم نے صبح اسے ایک بار دیکھا تو اندازہ ہوا کہ اس میں ایک لاکھ سے زیادہ افراد نماز جنازہ ادا کر سکیں گے۔ ہمارا خیال اسی کے لگ بھگ تھا مگر شام کو جنازے کے وقت دیکھا تو ہمارا اندازہ درست نہیں تھا کیونکہ گراؤنڈ اس قدر بھر گیا تھا کہ اندر مزید لوگوں کے آنے کی گنجائش نہیں رہی تھی۔ جبکہ باہر جی ٹی روڈ اور اس کے ساتھ ملحقہ دو سڑکوں پر عوام کا بے پناہ ہجوم تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر والدِ محترم کے سفر آخرت کا احوال

۹ مئی ۲۰۰۹ء

حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ گزشتہ آٹھ نو برس سے صاحب فراش تھے مگر اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ان کی یادداشت آخر وقت تک قائم رہی اور علمی دلچسپی کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ نظر کمزور ہوگئی تھی اور کسی کو دیکھ کر نہیں پہچانتے تھے لیکن تعارف کرانے پر ساری باتیں ان کو یاد آجاتیں اور پھر وہ جزئیات تک دریافت کرتے تھے۔ مجھے جمعہ کے دن شام کو تھوڑی دیر کے لیے حاضری کا موقع ملتا، جب طبیعت کچھ بحال ہوتی تو کسی نہ کسی کتاب سے کچھ سنانے کی فرمائش کرتے اور احادیث کی کسی کتاب سے میں انہیں چند احادیث سنا دیتا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

۶ مئی ۲۰۰۹ء

مولانا سید امیر حسین شاہؒ گیلانی

مولانا سید امیر حسینؒ گیلانی اس وقت پاکستان میں موجود چند گنے چنے فضلائے دیوبند میں سے تھے اور ان کے ساتھ جماعتی زندگی میں میرا طویل رفاقت کا دور گزرا ہے۔ ان کا تعلق مہاجرین کشمیر سے تھا اور ان کے خاندان کے بہت سے افراد گوجرانوالہ میں رہتے تھے اس لیے ان کا گوجرانوالہ اکثر آنا جانا رہتا تھا۔ انہوں نے جماعتی اور تحریکی زندگی کا آغاز 1953ء کی تحریک ختم نبوت سے کیا اور وہ ملاقاتوں میں اس دور کے حالات اور اپنی سرگرمیاں بتایا کرتے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا سید امیر حسین شاہؒ گیلانی

۱۳ اپریل ۲۰۰۹ء

مولانا قاری خبیب احمد عمرؒ

گزشتہ دنوں میرے بہنوئی مولانا قاری خبیب احمد عمر کا انتقال ہو گیا ہے جو ایک متحرک دینی جماعت ’’تحریک خدام اہل سنت‘‘ کے صوبہ پنجاب کے امیر اور ملک کے معروف دینی ادارہ’’ جامعہ تعلیم الاسلام‘‘ جہلم کے مہتمم تھے۔ وہ ایک ماہ قبل برطانیہ کے تبلیغی دورے پر گئے اور نوٹنگھم میں اپنی بیٹی کے ہاں قیام پذیر تھے کہ انھیں نمونیہ کی تکلیف ہوگئی۔ اسی حالت میں تکلیف کے باوجود انہوں نے بریڈ فورڈ کی ایک مسجد میں جمعہ پڑھایا جس سے تکلیف بڑھ گئی۔ انہیں برمنگھم کے ایک ہسپتال میں لے جایا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا قاری خبیب احمد عمرؒ

اپریل ۲۰۰۹ء

مولانا قاری خبیب احمد عمرؒ

ہمیں خاندانی طور پر گزشتہ ہفتے کے دوران ایک بڑے صدمہ سے دوچار ہونا پڑا کہ میرے بہنوئی مولانا قاری خبیب احمد عمر کا انتقال ہوگیا ہے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وہ ہمارے بزرگ اور مخدوم حضرت مولانا عبد اللطیف جہلمیؒ کے فرزند تھے اور حضرت کی وفات کے بعد گزشتہ گیارہ برس سے جامعہ حنفیہ تعلیم الاسلام جہلم کے مہتمم اور جامع مسجد گنبد والی کے خطیب کی حیثیت سے ان کی جانشینی کے فرائض سرانجام دے رہے تھے۔ میری چھوٹی بہن ان کی اہلیہ ہیں جو جامعہ حنفیہ تعلیم الاسلام للبنات جہلم میں گزشتہ ربع صدی سے تدریس کی خدمات سر انجام دے رہی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا قاری خبیب احمد عمرؒ

۹ مارچ ۲۰۰۹ء

مولانا عبد المجید انورؒ، مولانا عبد الحقؒ، حاجی جمال دینؒ

آج کا کالم چند تعزیتوں کے حوالے سے ہے۔ حضرت مولانا عبد المجید انور ہمارے محترم بزرگ دوستوں میں سے تھے جن کا گزشتہ دنوں انتقال ہوگیا ہے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ایک زمانے میں جامعہ رشیدیہ ساہیوال کو پاکستان میں دیوبندی مسلک کے رشیدی ذوق کے ترجمان ہونے کا شرف حاصل تھا۔ حضرت مولانا مفتی فقیر اللہ اور ان کے بعد حضرت مولانا محمد عبد اللہ اور حضرت مولانا فاضل حبیب اللہ رشیدی نے اس ذوق کی آبیاری کی اور ملک میں دیوبند مسلک کے تعارف اور ترجمانی کے لیے زندگی بھر محنت کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا عبد المجید انورؒ، مولانا عبد الحقؒ، حاجی جمال دینؒ

۳ جولائی ۲۰۰۸ء

حضرت مولانا محمد انظر شاہ کشمیریؒ

27 اپریل کو ہم مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں عم مکرم حضرت مولانا صوفی عبد الحمیدؒ سواتی کی یاد میں تعزیتی جلسہ کی تیاریوں میں تھے کہ مجلس احرار اسلام پاکستان کے نومنتخب سیکرٹری جنرل عبد اللطیف خالد چیمہ نے فون پر اطلاع دی کہ خاتم المحدثین حضرت علامہ سید محمد انور شاہ کشمیریؒ کے فرزند اور دارالعلوم (وقف) دیوبند کے شیخ الحدیث حضرت مولانا سید محمد انظر شاہ صاحبؒ کا دہلی میں انتقال ہوگیا ہے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھ کر ان سے تفصیلات معلوم کرنا چاہیں تو انہوں نے بتایا کہ سردست یہی خبر آئی ہے کہ حضرت شاہ صاحبؒ رحلت فرما گئے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا محمد انظر شاہ کشمیریؒ

۱۸ مئی ۲۰۰۸ء

حضرت صوفی عبد الحمیدؒ سواتی

مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے بانی حضرت مولانا صوفی عبد الحمید خان سواتی نور اللہ مرقدہ ۶ اپریل ۲۰۰۸ء کو طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے ہیں، انا للہ وانا الیہ راجعون۔وہ شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر دامت برکاتہم کے چھوٹے بھائی اور راقم الحروف کے چچا محترم تھے۔ انھوں نے ہجری اعتبار سے ۹۴ برس کے لگ بھگ عمر پائی اور تمام عمر علم کے حصول اور پھر اس کے فروغ میں بسر کر دی۔ وہ اس دور میں ماضی کے ان اہل علم وفضل کے جہد وعمل، زہد وقناعت اور علم وفضل کا نمونہ تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت صوفی عبد الحمیدؒ سواتی

مئی ۲۰۰۸ء

ڈاکٹر محمد دین مرحوم

بدھ (۹ اپریل ۲۰۰۸ء) کے روز میرے خسر بزرگوار ڈاکٹر محمد دین بھی طویل علالت کے بعد کم وبیش ۸۰ برس کی عمر میں انتقال کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ان کا تعلق کھاریاں سے کوٹلہ جانے والے روڈ پر واقع قصبہ گلیانہ سے تھا اور انتہائی نیک دل اور ذاکر وشاغل بزرگ تھے۔ طب و علاج کے شعبہ سے تعلق رکھنے کی وجہ سے انہیں ڈاکٹر کہا جاتا تھا ورنہ وہ ڈسپنسر تھے، اسی حیثیت سے انہوں نے ریٹائرمنٹ کی عمر تک سرکاری ملازمت کی اور مختلف ہسپتالوں میں خدمات سرانجام دیتے رہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ڈاکٹر محمد دین مرحوم

مئی ۲۰۰۸ء

حضرت مولانا سید انور حسین نفیس الحسینیؒ

حضرت سید نفیس شاہ صاحبؒ بھی ہمیں داغ مفارقت دے گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ان کا تعلق رائے پور کی عظیم خانقاہ سے تھا اور وہ اپنی منفرد طرز کے باعث علمی و دینی حلقوں میں ایک امتیازی پہچان رکھتے تھے۔ وہ بنیادی طور پر ضلع سیالکوٹ کے ایک خوشنویس خاندان کے چشم و چراغ تھے، اس فن میں انہوں نے ایسی پیش قدمی کی کہ ان کا شمار عالم اسلام کے ممتاز خطاطوں میں ہوا اور ان کی اجتہادی صلاحیتوں نے اس فن کو حسن و نزاکت کی نئی جہتوں سے متعارف کرایا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا سید انور حسین نفیس الحسینیؒ

مارچ ۲۰۰۸ء

محترمہ بے نظیر بھٹو کا الم ناک قتل

پاکستان پیپلز پارٹی اور محترمہ بے نظیر بھٹو کے سیاسی افکار ونظریات، اہداف ومقاصد اور پالیسیوں سے ملک کے بہت سے لوگوں کو اختلاف تھا اور خود ہمیں بھی ان کی بہت سی باتوں سے اختلاف رہا ہے۔ لیکن اختلاف کے اظہار کا یہ طریقہ کہ مخالف کی جان لے لی جائے اور اس طرح کے خودکش حملوں کے ذریعے اسے راستے سے ہٹا دیا جائے، نہ صرف یہ کہ سراسر ناجائز اور ظلم ہے بلکہ ملک وقوم کے لیے بھی انتہائی خطرناک اور تباہ کن ہے اور اس کی جس قدر مذمت کی جائے کم ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر محترمہ بے نظیر بھٹو کا الم ناک قتل

جنوری ۲۰۰۸ء

حضرت صوفی عبد الحمیدؒ سواتی کی ایک نو مسلم خاتون دانشور سے ملاقات

۱۹۹۰ء کی بات ہے ایک دن ہمارے محترم دوست پروفیسر عبد اللہ جمال صاحب کا فون آیا کہ امریکہ سے ایک محترمہ خاتون جو پروفیسر ہیں اور نو مسلم ہیں، پاکستان آئی ہوئی ہیں اور حضرت مولانا صوفی عبد الحمیدؒ سواتی سے ملنا چاہتی ہیں مگر حضرت صوفی صاحبؒ نے معذرت کر دی ہے، آپ اس سلسلہ میں کچھ کریں۔ میں نے عرض کیا کہ اگر چہ یہ بات بہت مشکل ہے کہ حضرت صوفی صاحبؒ کے انکار کے بعد انہیں اس ملاقات کے لیے آمادہ کیا جاسکے مگر میں کوشش کر کے دیکھتا ہوں۔ چنانچہ میں حاضر خدمت ہوا اور گزارش کی کہ ملاقات میں کیا حرج ہے؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت صوفی عبد الحمیدؒ سواتی کی ایک نو مسلم خاتون دانشور سے ملاقات

مفسر قرآن نمبر ۲۰۰۸ء

حضرت مولانا صوفی عبد الحمیدؒ سواتی

مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے بانی حضرت مولانا صوفی عبد الحمید خان سواتی نور اللہ مرقدہ ۶ اپریل ۲۰۰۸ء کو طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے ہیں، انا للہ وانا الیہ راجعون۔وہ شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر دامت برکاتہم کے چھوٹے بھائی اور راقم الحروف کے چچا محترم تھے۔ انہوں نے ہجری اعتبار سے ۹۴ برس کے لگ بھگ عمر پائی اور تمام عمر علم کے حصول اور پھر اس کے فروغ میں بسر کر دی۔ وہ اس دور میں ماضی کے ان اہل علم وفضل کے جہد وعمل، زہد وقناعت اور علم وفضل کا نمونہ تھے جن کا تذکرہ صرف کتابوں میں رہ گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا صوفی عبد الحمیدؒ سواتی

مفسر قرآن نمبر ۲۰۰۸ء

محترمہ بے نظیر بھٹو مرحومہ

پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئر پرسن محترمہ بے نظیر بھٹو گزشتہ روز راولپنڈی میں ایک خودکش حملہ کے نتیجہ میں جاں بحق ہوگئیں، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ملک بھر میں ان کا سوگ منایا جا رہا ہے اور ہر طبقہ کے افراد ان کے اس المناک قتل کی مذمت کرتے ہوئے اس سوگ میں شریک ہیں۔ حکومت نے قومی سطح پر تین دن او رپاکستان پیپلز پارٹی نے چالیس روز تک سوگ منانے کا اعلان کیا ہے۔ اور اس دوران احتجاجی مظاہروں، تعزیتی اجتماعات اور قرآن خوانی کی محافل کے ساتھ ساتھ کاروباری زندگی تین روز سے تا دمِ تحریر معطل ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر محترمہ بے نظیر بھٹو مرحومہ

۲۹ دسمبر ۲۰۰۷ء

محترمہ بے نظیر بھٹو مرحومہ

محترمہ بے نظیر بھٹو گزشتہ روز ایک خودکش حملہ میں زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھی ہیں، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ پورا ملک سوگ میں ڈوب گیا ہے، ہر باشعور شہری اشک بار ہے اور اس کا دل ایک عوامی راہنما کے المناک قتل کے غم کے ساتھ ساتھ ملک اور قومی سیاست کے مستقبل کے حوالہ سے انجانے خدشات سے دوچار ہوگیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر محترمہ بے نظیر بھٹو مرحومہ

۲۹ دسمبر ۲۰۰۷ء

حضرت مولانا حسن جانؒ

حضرت مولانا حسن جان کی شہادت کی المناک خبر میں نے دار الہدیٰ واشنگٹن ڈی سی میں سنی۔ پشاور سے تعلق رکھنے والے حافظ محمد عرفان قریشی صاحب واشنگٹن میں کنسٹرکشن کا کام کرتے ہیں اور اس سال دار الہدیٰ میں تراویح میں قرآن کریم سنا رہے ہیں۔ انہوں نے فون کر کے مجھے بتایا کہ ایک انتہائی افسوس ناک خبر سنا رہا ہوں کہ ابھی نصف گھنٹہ قبل پشاور میں حضرت مولانا حسن جان صاحب کو شہید کر دیا گیا ہے، انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا حسن جانؒ

اکتوبر ۲۰۰۷ء

حضرت مولانا شفیق الرحمان درخواستیؒ

حضرت مولانا شفیق الرحمان درخواستیؒ کا شمار حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے نامور اساتذہ میں ہوتا ہے، انہوں نے حافظ الحدیث حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستی نور اللہ مرقدہ کے زیرسایہ تعلیم و تربیت حاصل کی اور پھر ان کی سرپرستی میں ان کی مسند پر بیٹھ کر سالہا سال تک قرآن و حدیث کا درس دیا۔ وہ حضرت درخواستیؒ کے نواسے تھے، ان کے شاگرد و تربیت یافتہ تھے اور ان کی علمی روایات کے امین تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا شفیق الرحمان درخواستیؒ

۱۰ ستمبر ۲۰۰۷ء

الشیخ عبد اللہ بن احمد الناخبیؒ

الشیخ عبد اللہ بن احمد الناخبیؒ کی وفات کی خبر مجھے پاکستان ہی میں مل گئی تھی اور میرے سعودی عرب کے سفر کے پروگرام میں ان کے تلامذہ سے ملاقات بھی شامل تھی۔ شیخ ناخبیؒ میرے حدیث کے شیوخِ اجازت میں سے ہیں اور اپنے دور کے امت کے بڑے محدثین میں شمار ہوتے تھے۔ تین سال قبل جدہ کے ایک سفر کے موقع پر ان کی خدمت میں حاضری ہوئی تھی اور انہوں نے حدیث مسلسل بالاولیۃ سنا کر اپنی اسناد کے ساتھ روایت حدیث کی اجازت اور اس کے ساتھ اہم نصائح سے نوازا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر الشیخ عبد اللہ بن احمد الناخبیؒ

۹ ستمبر ۲۰۰۷ء

حاجی محمد زمان خان اچکزئی مرحوم

جمعرات ۲۸ جون کے اخبارات میں یہ خبر نظروں سے گزری کہ سابق وفاقی وزیر حاجی محمد زمان اچکزئی کا کراچی میں انتقال ہوگیا ہے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ حاجی صاحب ہمارے پرانے جماعتی رہنماؤں میں سے تھے جنہوں نے حضرت مولانا مفتی محمودؒ کی معیت میں کام کیا اور دینی سیاست کے محاذ پر اہم خدمات سرانجام دیں۔ میرا ان سے تعارف سب سے پہلے حضرت مولانا سید شمس الدین شہیدؒ کے ذریعے ہوا جو میرے دورۂ حدیث کے ساتھی تھے، ۱۹۷۰ء میں ہم دونوں نے مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں دورٔ حدیث کیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حاجی محمد زمان خان اچکزئی مرحوم

۳۰ جون ۲۰۰۷ء

حضرت مولانا رسول خانؒ

جامعہ اشرفیہ کا آغاز قیام پاکستان کے بعد نیلا گنبد لاہور کی مسجد سے ہوا او رمسجد کے قریب ایک عمارت میں دینی علوم و فیوض کا یہ مرکز قائم کیا گیا۔ میں پہلی بار اس تعلیمی و روحانی تربیت گاہ میں حاضر ہوا تو میرا طالب علمی کا دور تھا۔ والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر دامت برکاتہم کے ہمراہ جامعہ اشرفیہ کے سالانہ جلسے کی ایک نشست میں شرکت کی سعادت حاصل ہوئی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا رسول خانؒ

۲۹ اپریل ۲۰۰۷ء

حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ

میں حضرت مولانا مفتی محمد حسنؒ کی زیارت نہیں کر سکا لیکن کبھی کبھی ان کے فرزند و جانشین حضرت مولانا محمد عبید اللہ المفتی دامت فیوضہم کی ڈرتے ڈرتے اور تعارف کرائے بغیر زیارت کر کے محرومی کو کم کرنے کی کوشش ضرور کرتا ہوں۔ البتہ ان کے بعد جامعہ اشرفیہ میں شیخین کا درجہ حاصل کرنے والے دونوں بڑے بزرگوں امام المعقولات حضرت مولانا رسول خان صاحبؒ اور امام المنقولات حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ کی زیارت اور ان کی باتوں سے خوشبو حاصل کرنے کا کئی بار موقع ملا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ

۲۹ اپریل ۲۰۰۷ء

حضرت مولانا مفتی محمد حسنؒ

جامعہ اشرفیہ کے بانی حضرت مولانا مفتی محمد حسنؒ کا شمار برصغیر کے ان نامور علماء کرام میں ہوتا ہے جنہوں نے پاکستان بنانے میں حصہ لیا اور قیام پاکستان کے بعد اسے ایک اسلامی جمہوریہ بنانے میں بھی سرگرم کردار ادا کیا۔ حضرت مولانا مفتی محمد حسنؒ ایک بلند پایہ عالم دین اور نامور صوفی تھے۔ انہوں نے حکیم الامت حضرت مولانا شاہ اشرف علی تھانویؒ کی صحبت میں فیض حاصل کیا اور پھر اس فیض کو زندگی بھر بانٹتے رہے۔ ان سے ایک دنیا نے سلوک واحسان کی تربیت حاصل کی اور اس بھٹی سے کندن بننے والوں نے لاکھوں افراد کو رشد وہدایت کا راستہ دکھایا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا مفتی محمد حسنؒ

۲۹ اپریل ۲۰۰۷ء

حضرت مولانا حافظ نذیر احمدؒ

شیخ الحدیث مولانا حافظ نذیر احمدؒ ہمارے بزرگوں میں سے تھے، ملک کے معروف مدرسہ جامعہ ربانیہ اڈہ پھلور ٹوبہ ٹیک سنگھ میں نصف صدی سے زیادہ عرصہ تک تعلیم و تدریس کے فرائض سرانجام دینے کے بعد گزشتہ دنوں اللہ تعالیٰ کو پیارے ہوگئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ آنکھوں سے نابینا تھے لیکن ان کے دل کی بینائی نے پورے علاقے کو حق کی راہ پر لگا دیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا حافظ نذیر احمدؒ

۱۵ اپریل ۲۰۰۷ء

مولانا عبد الرؤفؒ

مولانا عبد الرؤف آزاد کشمیر میں بیس بگلہ کے مقام پر دارالعلوم فیض القرآن کے مہتمم تھے اور جامعہ نصرۃ العلوم کے فاضل تھے۔ ان کے والد محترم مولانا عبد الغنیؒ کا شمار آزاد کشمیر کے بڑے علماء کرام میں ہوتا تھا اور میرے والد محترم مولانا محمد سرفراز خان صفدر دامت برکاتہم کے ابتدائی شاگردوں میں سے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا عبد الرؤفؒ

۱۵ اپریل ۲۰۰۷ء

مولانا محمد طیبؒ ہارونی

مولانا محمد طیبؒ ہارونی ہارون آباد کے علاقہ سے تعلق رکھتے تھے اور جمعیۃ علماء اسلام کے پرانے اور نظریاتی ساتھیوں میں سے تھے۔ ۱۹۸۰ء کے عشرہ میں جن علماء کرام اور کارکنوں نے جمعیۃ کے پلیٹ فارم پر شبانہ روز کام کیا اور اپنی توانائیاں اور صلاحیتیں ملک میں نفاذِ شریعت کی جدوجہد کے لیے صرف کر دیں ان میں ایک اہم نام مولانا طیبؒ ہارونی کا بھی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا محمد طیبؒ ہارونی

۱۵ اپریل ۲۰۰۷ء

مولانا نصیب علی شاہ الہاشمیؒ

مولانا سید نصیب علی شاہ الہاشمیؒ گزشتہ دنوں انتقال فرما گئے ہیں، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ مولانا موصوف بنوں سے قومی اسمبل کے رکن تھے، بنوں میں ایک بڑے تعلیمی و تحقیقی ادارے ’’المرکز الاسلامی‘‘ کے بانی و مہتمم تھے اور جمعیۃ علماء اسلام کے پرانے ساتھیوں میں سے تھے۔ ہمارا ان سے تعلق جمعیۃ طلباء اسلام کے دور میں ہوا اور اس کے بعد جمعیۃ علماء اسلام میں یہ رفاقت قائم رہی۔ وہ درہ پیزو کے معروف دینی مدرسہ جامعہ حلیمیہ سے وابستہ تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا نصیب علی شاہ الہاشمیؒ

۳ فروری ۲۰۰۷ء

صدام حسین مرحوم

عید قربان پر سابق عراقی صدر صدام حسین امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کی انا کی سولی پر لٹک گئے اور اتحادیوں نے عید کے روز عراقی عوام اور امت مسلمہ کو صدام حسین کی لاش کا تحفہ دے کر ایک بار پھر دنیا کو بتا دیا کہ مسلم دنیا میں امریکہ کی ’’ون قطبی طاقت‘‘ کے سامنے جھکنے سے انکار کرنے والوں کو زندہ رہنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے اور اتحادی جب چاہیں اپنے باغیوں کی گردن میں پھندا فٹ کر کے انہیں زندگی کے حق سے محروم کر سکتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر صدام حسین مرحوم

۴ جنوری ۲۰۰۷ء

مولانا روشن دینؒ، مولوی عبد الکریمؒ

عید الفطر سے ایک روز قبل ہمارے ایک پرانے بزرگ مولانا روشن دین صاحب ٹیکسلا میں انتقال کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وہ ہمارے دور میں جمعیۃ علمائے اسلام ضلع راولپنڈی کے سیکرٹری جنرل اور پھر امیر رہے۔ شیخ التفسیر مولانا احمد علی لاہوریؒ سے بیعت کا تعلق تھا ۔۔۔۔ اس سے دو روز قبل ستائیسویں شب کو ہمارے ایک اور پرانے جماعتی ساتھی مولوی عبد الکریم کا مریدکے میں انتقال ہوا مگر بے حد خواہش کے باوجود ان کے جنازہ میں بھی حاضری نہ ہو سکی۔ مولوی عبد الکریم صاحب جمعیۃ علمائے اسلام کے پرانے کارکنوں میں سے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا روشن دینؒ، مولوی عبد الکریمؒ

۲ نومبر ۲۰۰۶ء

نواب محمد اکبر خان بگٹی مرحوم

نواب محمد اکبر خان بگٹی کے افسوسناک قتل نے جہاں ماضی کی بہت سی تلخ یادوں کو ایک بار پھر بے نقاب کر دیا ہے وہاں مستقبل کے حوالہ سے بھی انجانے خدشات و خطرات کی دھند ذہنوں پر مسلط کر دی ہے۔ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ جو کچھ ہوا ہے درست نہیں ہوا اور اس کے نتائج ملک و قوم کے لیے خطرناک ہو سکتے ہیں، اس پر حکومتی پارٹی اور اپوزیشن میں اختلاف نہیں ہے اور متحدہ مجلس عمل اور اے آر ڈی کے ساتھ ساتھ چودھری شجاعت حسین اور میر ظفر اللہ خان جمالی بھی اس پر افسوس کا اظہار کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر نواب محمد اکبر خان بگٹی مرحوم

یکم ستمبر ۲۰۰۶ء

مولانا مفتی عبد الستارؒ

حضرت مولانا مفتی عبد الستارؒ سمندری، فیصل آباد کے قریب ایک گاؤں کے زمیندار گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے دل میں علم دین کے حصول کا شوق ڈالا تو خاندانی ماحول اور روایات کے علی الرغم گھر سے دینی تعلیم کے لیے نکل کھڑے ہوئے۔ ذہانت اللہ تعالیٰ نے ودیعت فرما رکھی تھی اس کے ساتھ شوق اور محنت کا جوڑ ہوا تو توفیقِ خداوندی نے چند سالوں میں رسمی اور دینی تعلیم کے حصول کے مراحل طے کرا کے جامعہ خیر المدارس ملتان کے دارالافتاء تک پہنچا دیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا مفتی عبد الستارؒ

۲۸ جولائی ۲۰۰۶ء

مولوی محمد یونس خالصؒ

مولوی محمد یونس خالصؒ کی وفات کی خبر قومی اخبارات میں نظر سے گزری، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ یہ حالات کے اتار چڑھاؤ کا کرشمہ ہے کہ ان کی وفات کی یہ خبر پاکستان کے بہت سے قومی اخبارات کے ایک کونے میں جگہ پا سکی۔ ورنہ اگر زمانہ ناقدری کا خوگر نہ ہوتا اور لوگوں میں محسن کشی اور احسان ناشناسی اس قدر غلبہ نہ پا چکی ہوتی تو نہ صرف یہ کہ پاکستان کے قومی اخبارات اور دیگر ذرائع ابلاغ میں مولوی محمد یونس خالص کا تذکرہ پاکستان کے ایک محسن کے طور پر کیا جاتا بلکہ امریکہ اور مغرب کا میڈیا بھی ان کا تذکرہ اس طور پر کرتا کہ افغانستان کا وہ عظیم رہنما دنیا سے رخصت ہوگیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولوی محمد یونس خالصؒ

۲۸ جولائی ۲۰۰۶ء

عامر چیمہ شہیدؒ

عامر چیمہ شہید کو اس کے آبائی گاؤں ساروکی چیمہ تحصیل وزیر آباد میں سپرد خاک کر دیا گیا ہے۔ جنازے کے وقت کو آخر تک ابہام میں رکھا گیا اور پوری کوشش کی گئی کہ عوام کو نماز جنازہ کے پروگرام کی کوئی کنفرم اطلاع نہ مل سکے، اس کے باوجود عوام کے جم غفیر نے شہید کے جنازے میں شرکت کی۔ میری خواہش بھی جنازے میں شرکت کی تھی مگر اطلاعات متضاد تھیں، بعض اخبارات اور ایک ٹی وی چینل نے شام ۴ بجے کی خبر دی تھی مگر فون پر ساروکی سے اطلاع ملی کہ نماز جنازہ دس بجے کے لگ بھگ ادا کی جائے گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر عامر چیمہ شہیدؒ

۱۷ مئی ۲۰۰۶ء

علامہ محمد احمد لدھیانویؒ

علامہ صاحب کے ساتھ میری جماعتی اور تحریکی رفاقت کا دورانیہ کم و بیش اڑتیس سال کے عرصہ کو محیط ہے اور کم و بیش ربع صدی تک ضلع گوجرانوالہ کی دینی اور قومی سیاست میں علامہ محمد احمد لدھیانوی، مولانا احمد سعید ہزاروی، ڈاکٹر غلام محمد مرحوم، مولانا علی احمد جامیؒ اور راقم الحروف جمعیۃ علمائے اسلام اور دیوبندی مسلک کی نمائندگی کرتے رہے۔ ہم مولانا مفتی عبد الواحدؒ کی ٹیم شمار ہوتے تھے اور یہ ٹیم ان کی سرپرستی اور قیادت میں دینی و قومی سیاست میں ضلع کی سطح پر ایک بھرپور کردار کی حامل رہی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر علامہ محمد احمد لدھیانویؒ

۵ مئی ۲۰۰۶ء

حضرت مولانا عزیر گلؒ

آزادیٔ ہند کے عظیم مجاہد مولانا عزیر گلؒ کی یاد میں شیر گڑھ مردان میں منعقد ہونے والا آج کا سیمینار اس لحاظ سے خصوصی اہمیت کا حامل ہے کہ یہ نئی نسل کو ان عظیم اسلاف کی جدوجہد اور قربانیوں سے واقف کرانے کی ایک کوشش ہے جنہوں نے برصغیر پاک و ہند و بنگلہ دیش پر برطانوی استعمار کے تسلط کے خلاف مسلسل جنگ لڑی اور جن کی جہد مسلسل کا ثمرہ ہے کہ آج یہ خطہ اسلامی روایات اور دینی حمیت کے امین کی حیثیت سے پورے عالم اسلام میں نمایاں نظر آرہا ہے اور جسے پوری دنیا میں اسلامی بنیاد پرستی کا سب سے بڑا گڑھ سمجھا جاتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا عزیر گلؒ

۲۳ اپریل ۲۰۰۶ء

مولانا سید اسعدؒ مدنی

شیخ الاسلا م حضرت مولانا حسین احمدؒ مدنی کے جانشین اور جمعیۃ علماء ہند کے سربراہ حضر ت مولا نا سید اسعدؒ مدنی گزشتہ رو ز انتقال کر گئے ہیں، اناللہ وانا الیہ راجعون۔ وہ گزشتہ تین ماہ سے کومہ میں تھے اور کافی عرصہ بستر علالت پر رہنے کے بعد کم وبیش ۸۰ برس کی عمر میں اس دنیا سے رحلت فرماگئے ہیں۔ حضرت مولا نا سید حسین احمدؒ مدنی برصغیر پاک وہند بنگلہ دیش کی ممتاز شخصیات میں سے تھے جنہیں برطانوی استعمار کے خلاف اس خطہ کے عوا م کی تحریک حریت میں علامت کی حیثیت حاصل ہے اور جن کے تذکرہ کے بغیر جدوجہد آزادی کا کوئی باب مکمل نہیں ہوسکتا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا سید اسعدؒ مدنی

فروری ۲۰۰۶ء

خان عبد الولی خان مرحوم

مجھے خان عبد الولی خان مرحوم کے ساتھ زیادہ ملاقاتوں کا موقع نہیں ملا لیکن میں ان کے مداحوں میں سے ہوں۔ بہت سے معاملات میں ان سے اختلاف بھی رہا اور رائے و موقف کی حد تک آج بھی وہ اختلاف قائم ہے، لیکن ان کی وضعداری اور اپنی بات پر قائم رہنے کی روایت میرے نزدیک ہمیشہ قابل تعریف رہی ہے۔ انہوں نے اپنے بعض تحفظات کے باوجود ہمیشہ ملکی استحکام اور سالمیت کی بات کی اور ایک لبرل بلکہ سیکولر سیاستدان ہونے کے باوجود دستور میں اسلامی دفعات، عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ، اور دیگر بہت سے دینی معاملات میں دینی جماعتوں کا ساتھ دیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر خان عبد الولی خان مرحوم

۳۰ جنوری ۲۰۰۶ء

حاجی غلام دستگیر مرحوم

ڈاکٹر حاجی غلام دستگیر مرحوم شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا مہاجرؒ مدنی کے خلفاء میں سے تھے۔ انارکلی لاہور سے باہر مسلم مسجد کے نیچے ’’لاہور میڈیسن‘‘ کے نام سے ان کی دکان ہوا کرتی تھی جس میں ان کے ساتھی ان کے بھائی حاجی غلام سبحانی صاحب تھے جو کچھ عرصہ قبل حجازِ مقدس منتقل ہوگئے ہیں۔ لوئر مال روڈ پر ایم اے او کالج کے قریب حاجی غلام دستگیر مرحوم کی رہائش تھی جو ایک زمانے میں قومی سیاست کا مرکز رہی ہے۔ حاجی صاحب کا گھر حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستیؒ اور حضرت مولانا مفتی محمودؒ کا مہمان خانہ ہوا کرتا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حاجی غلام دستگیر مرحوم

۲۰ جنوری ۲۰۰۶ء

مولانا حافظ عبد الرشید ارشد مرحوم

مولانا حافظ عبد الرشید ارشد کا تعلق میاں چنوں سے تھا۔ جامعہ رشیدیہ ساہیوال سے فیض یافتہ تھے اور حضرت مولانا فاضل حبیب اللہ رشیدی کے رفقاء میں سے تھے۔ پاکستان میں علماء دیوبند کے مسلک اور تعارف کو فروغ دینے میں جامعہ رشیدیہ اور اس کے دورِ اول کے بزرگوں کا جو کردار رہا ہے وہ بجائے خود دینی تاریخ کا ایک مستقل باب ہے۔ مولانا حافظ عبد الرشید ارشدؒ کو اللہ تعالیٰ نے لکھنے پڑھنے اور طباعت و اشاعت کا خصوصی ذوق عطا کیا تھا، دینی لٹریچر کی عمدہ طباعت و اشاعت میں خاص دلچسپی رکھتے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا حافظ عبد الرشید ارشد مرحوم

۲۰ جنوری ۲۰۰۶ء

مولانا علی احمد جامیؒ

مولانا علی احمد جامیؒ کھیالی گوجرانوالہ کے رہائشی تھے اور مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے طالب علمی کے دور سے میرے ساتھی تھے۔ انہوں نے ساری زندگی دینی جدوجہد میں گزاری، جمعیۃ علمائے اسلام (س) کے ضلعی امیر تھے، اور اب صاحبزادہ پیر عبد الرحیم نقشبندی نے صوبائی امارت کے لیے ان کا انتخاب کیا تھا مگر مسلسل علالت کی وجہ سے وہ کسی عملی ذمہ داری کی پوزیشن میں نہیں تھے۔ متحدہ مجلس عمل ضلع گوجرانوالہ کے صدر رہے اور تحریک ختم نبوت میں بھی ان کا کردار نمایاں رہا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا علی احمد جامیؒ

۲۰ جنوری ۲۰۰۶ء

ڈاکٹر غلام محمد مرحوم

مجھے یاد ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے ایک سو روپے ماہانہ وظیفے پر مبلغ کی حیثیت سے کام شروع کیا اور غالباً ایک سو روپے کی مالیت کا ایک سیکنڈ ہینڈ سائیکل خرید کر انہیں دیا گیا جس پر انہوں نے ضلع بھر میں گاؤں گاؤں گھوم کر جمعیۃ کو منظم کیا۔ پھر انہیں جمعیۃ کا ضلعی سیکرٹری جنرل چن لیا گیا اور ایک مدت تک وہ اس حیثیت سے سرگرم عمل رہے۔ ڈاکٹر صاحب مرحوم شہر میں ہوتے تو میرا دفتر ہی ان کا دفتر ہوتا تھا۔ اور اکثر ایسا ہوتا کہ ان کی جیب میں خرچ کے لیے پیسے نہ ہوتے تو میں اپنی جیب میں ہاتھ ڈالتا جتنے پیسے نکلتے ہم آدھے آدھے تقسیم کر لیتے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ڈاکٹر غلام محمد مرحوم

۲۰ جنوری ۲۰۰۶ء

بھٹو مرحوم ۔ مخالفین کا خراجِ عقیدت

گزشتہ روز ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کی سالگرہ منائی گئی اور قوم کے مختلف طبقات اور جماعتوں نے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔ ان کی قومی خدمات کو سراہنے والوں میں ان کے سیاسی کارکن اور ساتھی بھی تھے اور ان حضرات نے بھی اس سلسلے میں بخل سے کام نہیں لیا جو ان کی زندگی میں ان کے مخالف سیاسی کیمپ میں رہے ہیں بلکہ انہیں اقتدار سے ہٹانے کی تحریک میں پیش پیش تھے۔ بھٹو مرحوم کے دنیا سے چلے جانے کے ربع صدی سے بھی زیادہ عرصے کے بعد انہیں اس انداز سے یاد کیا جانا جہاں پاکستان کی قومی سیاست میں ان کے انمٹ کردار کا اعتراف ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر بھٹو مرحوم ۔ مخالفین کا خراجِ عقیدت

۷ جنوری ۲۰۰۶ء

قاری نور الحق قریشی ایڈووکیٹ مرحوم

قاری نور الحق قریشی ایڈووکیٹ بھی ہمیں داغ مفارقت دے گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ گزشتہ روز ماہنامہ نقیب ختم نبوت ملتان کے تازہ شمارے میں ان کی وفات کی خبر پڑھی تو دل سے رنج و صدمہ کی ایک لہر اٹھی اور ماضی کے بہت سے اوراق ایک ایک کر کے نگاہوں کے سامنے الٹتے چلے گئے۔ قاری صاحب مرحوم خطیب پاکستان مولانا قاضی احسان اللہ شجاع آبادیؒ کے داماد تھے اور انہی کے تربیت یافتہ تھے۔ وہ ملتان کی سرگرم دینی اور سیاسی شخصیات میں شمار ہوتے تھے، وکالت کرتے تھے اور ملتان بار کے فعال ارکان میں سے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قاری نور الحق قریشی ایڈووکیٹ مرحوم

یکم جنوری ۲۰۰۶ء

الحاج سید امین گیلانی ؒ

مجھے آج ان بھولے بھالے دانشوروں اور قلمکاروں پر ہنسی آتی ہے جو بڑی آسانی کے ساتھ یہ لکھ اور کہہ دیتے ہیں کہ برصغیر کی آزادی اور قیام پاکستان کے لیے ایک قرارداد منظور ہوئی اور اس پر چھ سات سال کی بیان بازی، خط و کتابت، عوامی اجتماعات اور مظاہروں کے نتیجے میں پاکستان وجود میں آگیا۔ انہیں اس بات کا اندازہ ہی نہیں ہے کہ اس کے پیچھے ان جانبازوں اور سر فروشوں کے مقدس خون اور قربانیوں کی کتنی قوت کارفرما تھی جنہوں نے آزادی کی خاطر اپنے جسموں کو چھلنی کروا لیا، پھانسی کے پھندوں کو چوما، جیلوں کی کال کوٹھڑیوں کو آباد کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر الحاج سید امین گیلانی ؒ

۷ اگست ۲۰۰۵ء

دارالعلوم کبیر والا کی وفیات

شورکوٹ سے کبیر والا کا سفر ہوا اور دارالعلوم عیدگاہ میں حاضری دی جسے اس خطے میں ’’ام المدارس‘‘ کا مقام حاصل ہے۔ مولانا محمد انورؒ میرے دوستوں میں سے تھے اور بے تکلف ساتھی تھے۔ ان کے والد محترم شیخ الحدیث حضرت مولانا علی محمدؒ اس دور میں جمعیۃ علمائے اسلام کے سرپرستوں اور دعاگو بزرگوں میں شمار ہوتے تھے جب میں جمعیۃ میں ایک متحرک کردار کے طور پر سرگرم ہوا کرتا تھا۔ دارالعلوم عیدگاہ کبیر والا کی کوکھ سے سینکڑوں دینی اداروں نے جنم لیا، ہزاروں علماء کرام نے تعلیم و تربیت حاصل کی، ہزاروں دینی کارکنوں کی ذہن سازی اور فکری تربیت اس ادارہ میں ہوئی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دارالعلوم کبیر والا کی وفیات

۲۰ جنوری ۲۰۰۵ء

مولانا بشیر احمد خاکیؒ

مولانا بشیر احمد خاکی 1967ء میں شورکوٹ کی ایک مسجد میں امام و خطیب کی حیثیت سے آئے اور 1969ء میں جامعہ عثمانیہ کے نام سے درسگاہ کی بنیاد رکھی جو آج علاقہ کے دینی اور سیاسی مرکز کی حیثیت رکھتی ہے۔ انہوں نے دینی تعلیم کے فروغ کے ساتھ ساتھ لوگوں کے عقائد کی اصلاح اور انہیں جاگیرداروں کے جبر سے نجات دلانے کو بھی اپنا مشن بنا لیا۔ ایک غریب اور مسافر مولوی جب سیاست کے میدان میں اترا اور الیکشن لڑنے کا اعلان کیا تو کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ یہ مولوی الیکشن نہ جیت سکا تو بھی علاقے کی انتخابی سیاست میں اتنی اہمیت ضرور حاصل کر لے گا کہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا بشیر احمد خاکیؒ

۲۰ جنوری ۲۰۰۵ء

مولانا منظور احمد الحسینیؒ

سیالکوٹ میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیراہتمام پاسپورٹ میں مذہب کے خانہ کے حوالہ سے ایک احتجاجی جلسہ میں شریک تھا، مولانا اللہ وسایا صاحب نے یہ خبر دی کہ مولانا منظور احمد الحسینی کا سعودی عرب میں گزشتہ روز انتقال ہوگیا ہے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وہ حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کرنے کے لیے حجاز مقدس آئےہوئے تھے کہ بلاوا آگیا اور وہ اپنی زندگی کی سانسیں پوری کر کے خالق حقیقی کے حضور پیش ہوگئے۔ حرم پاک میں نماز جمعۃ المبارک کے بعد ان کی نماز جنازہ ادا کی گئی اور پھر انہیں بے شمار صالحین کے پہلو میں سپرد خاک کر دیا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا منظور احمد الحسینیؒ

۲۰ جنوری ۲۰۰۵ء

مولانا سعید الرحمان علویؒ

مولانا محمد سعید الرحمان علویؒ مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے پرانے فضلاء میں سے تھے۔ ہم نے کئی سال مدرسہ میں اکٹھے گزارے، وہ عمر میں چند ماہ بڑے تھے اور دورۂ حدیث بھی مجھ سے ایک یا دو سال پہلے کیا مگر تعلیمی دور میں اور پھر اس کے بعد عملی زندگی میں طویل عرصہ رفاقت رہی۔ ان کے بڑے بھائی مولانا حافظ عزیز الرحمان خورشید بھی ہمارے ساتھ تھے جو آج کل ملکوال ضلع منڈی بہاء الدین کی جامع مسجد فاروقیہ کے خطیب ہیں۔ مولانا سعید الرحمان علویؒ اور میرا لکھنے پڑھنے کا ذوق مشترک تھا، لائبریریاں تلاش کرنا، کتب و رسائل مہیا کرنا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا سعید الرحمان علویؒ

۱۲ جنوری ۲۰۰۵ء

مولانا رحمت اللہ کیرانویؒ

خلافت عثمانیہ کے خلیفہ سلطان عبد المجید مرحوم بہت متاثر ہوئے اور مولانا رحمت اللہ کیرانویؒ سے فرمائش کی کہ وہ اسلام اور مسیحیت کے حوالے سے متعلقہ مسائل پر مبسوط کتاب لکھیں جو سرکاری خرچے پر چھپوا کر دنیا میں تقسیم کی جائے گی۔ چنانچہ مولانا نے ’’اظہار الحق‘‘ کے نام سے ایک ضخیم کتاب تصنیف کی جس کا مختلف زبانوں میں ترجمہ کروا کر سلطان ترکی نے اسے تقسیم کرایا۔ یہ معرکۃ الاراء کتاب عربی میں ہے اور جسٹس (ر) مولانا مفتی محمد تقی عثمانی نے ’’بائبل سے قرآن تک‘‘ کے نام سے اردو میں اس کا ترجمہ کر کے ایک وقیع مقدمہ بھی اس پر تحریر کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا رحمت اللہ کیرانویؒ

۷ جنوری ۲۰۰۵ء

حافظ محمد صادق مرحوم

1967ء سے 1970ء تک جمعیۃ علمائے اسلام کا جو دور گزرا اور جس میں جمعیۃ قومی سیاست میں ایک باشعور اور حوصلہ مند سیاسی قوت کے طور پر متعارف ہوئی اس دور کے ملک بھر کے چند گنے چنے کارکنوں میں حافظ صاحب مرحوم کا شمار ہوتا ہے۔ حضرت درخواستیؒ، حضرت مولانا مفتی محمودؒ، حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ اور حضرت مولانا عبید اللہ انورؒ جیسے بزرگوں کے ساتھ انہوں نے کام کیا اور ان کی خدمت میں رہنے کی سعادت حاصل کی۔ حافظ محمد صادق مرحوم اپنا کاروبار کرتے تھے اور جمعیۃ کا کام بھی کرتے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حافظ محمد صادق مرحوم

دسمبر ۲۰۰۴ء

مولانا مفتی محمد ضیاء الحقؒ

مولانا مفتی محمد ضیاء الحقؒ حضرت مولانا مفتی زین العابدینؒ کے داماد تھے اور ان کی جگہ مرکزی جامع مسجد کچہری بازار فیصل آباد میں خطابت کے فرائض سرانجام دے رہے تھے۔ بنیادی طور پر تبلیغی جماعت سے تعلق تھا اور دعوت و تبلیغ کی سرگرمیوں میں ہمہ تن منہمک رہتے تھے لیکن حضرت مفتی زین العابدینؒ کی طرح سیاسی اور تحریکی ذوق سے بھی بہرہ ور تھے۔ کچہری بازار کی مرکزی جامع مسجد فیصل آباد میں دینی و سیاسی تحریکات کا مرکز رہی ہے اور اب بھی ہے۔ مفتی ضیاء الحق صاحبؒ اس کے تقاضوں سے بے خبر نہیں تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا مفتی محمد ضیاء الحقؒ

۸ دسمبر ۲۰۰۴ء

حضرت مولانا جمیل احمد میواتی دہلویؒ

حضرت مولانا جمیل احمد میواتی دہلویؒ بھی اسی قافلہ کے فرد تھے، اس لیے انہوں نے بھی اپنی تگ و تاز کے لیے کسی ایک شعبے پر قناعت نہیں کی بلکہ تصوف و سلوک کو اپنی جولانگاہ بنانے کے ساتھ ساتھ نفاذِ اسلام کی جدوجہد، عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کی تحریک، دعوت و تبلیغ اور تعلیم و تدریس کے شعبوں میں بھی فکر و عمل کا حصہ ڈالا۔ ان کا تعلق میوات سے تھا لیکن تقسیم ہند کے وقت ان کے والدین دہلی میں آباد تھے۔ 1947ء میں دہلی سے ہجرت کر کے پاکستان آئے۔ حضرت مولانا کا روحانی تعلق پہلے شیخ الاسلام حضرت حسین احمدؒ مدنی سے تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا جمیل احمد میواتی دہلویؒ

۲۲ نومبر ۲۰۰۴ء

یاسر عرفات مرحوم

یاسر عرفات کی وفات سے فلسطین کی تحریک آزادی کا ایک دور ختم ہوگیا ہے اور اب یہ ان کے سیاسی جانشینوں پر منحصر ہے کہ وہ آزادیٔ فلسطین کی جدوجہد کو کس انداز سے آگے بڑھاتے ہیں۔ یاسر عرفات نے اس دور میں تحریک آزادیٔ فلسطین کا پرچم اٹھایا جب خلافت عثمانیہ کے خاتمہ کے بعد فلسطین پر برطانیہ نے تسلط جما لیا تھا۔ اور برطانوی حکومت یہودیوں کے ساتھ کیے گئے اس وعدہ کی تکمیل کے لیے سرگرم عمل تھی کہ وہ انہیں فلسطین میں آباد ہونے اور اپنا الگ قومی وطن قائم کرنے میں مدد دے گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر یاسر عرفات مرحوم

۱۷ نومبر ۲۰۰۴ء

الحاج سیٹھی محمد یوسف مرحوم

سیٹھی صاحب مرحوم نے قرآن کریم کے مدارس کے قیام کو اپنی زندگی کا مشن قرار دے رکھا تھا۔ اس مقصد کے لیے تعلیم القرآن ٹرسٹ قائم تھا اور اس کے ذریعہ انہوں نے پاکستان کے مختلف حصوں میں مذکورہ بالا ترغیب کے ساتھ حفظ قرآن کریم کے مدارس کے قیام کی مہم چلائی۔ بعد میں مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں آنے سے قبل مجھے گتہ مل کالونی کی مسجد میں کم و بیش ڈیڑھ دو سال خطابت کے فرائض سرانجام دینے کا موقع ملا تو اس کام سے زیادہ واقفیت حاصل ہوئی اور معلوم ہوا کہ تعلیم القرآن ٹرسٹ کے تحت ملک بھر میں کم و بیش گیارہ سو مدارس کی امداد کی جاتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر الحاج سیٹھی محمد یوسف مرحوم

۱۱ نومبر ۲۰۰۴ء

یاسر عرفات مرحوم

یاسر عرفات بھی اللہ تعالیٰ کو پیارے ہوگئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ انہیں رملہ میں ان کے ہیڈکوارٹر میں امانتاً سپرد خاک کیا گیا ہے اور فلسطینی قیادت کی طرف سے کہا گیا ہے کہ آزاد فلسطینی ریاست کے قیام اور بیت المقدس کی اس ریاست میں شمولیت کے بعد انہیں بیت المقدس میں دفن کیا جائے گا۔ یاسر عرفات کے جنازے پر فلسطینی عوام اور ان کے عقیدت مندوں کے بے پناہ ہجوم نے یہ بات واضح کر دی ہے کہ وہ زندگی کے آخری حصے میں متنازعہ ہوجانے کے باوجود فلسطینی عوام کے محبوب ترین رہنما تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر یاسر عرفات مرحوم

۸ نومبر ۲۰۰۴ء

مفتی محمد جمیل خان شہیدؒ

مفتی محمد جمیل خان شہید اور مولانا نذیر احمد تونسوی شہیدؒ کے المناک قتل کی خبر مجھے لندن میں ملی۔ مفتی محمد جمیل خانؒ سے ۸ ستمبر کو جامعہ اسلامیہ راولپنڈی صدر کے سالانہ جلسہ ختم بخاری شریف میں ملاقات ہوئی تھی، ۱۳ ستمبر کو بیرونی سفر پر روانہ ہوگیا تھا اس لیے یہ آخری ملاقات ثابت ہوئی۔ پہلی ملاقات جہاں تک یاد پڑتا ہے ۱۹۷۴ء میں ہوئی تھی جب وہ مدرسہ اشرف العلوم گوجرانوالہ میں طالب علم تھے اور میں مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ کے خطیب حضرت مولانا مفتی عبد الواحدؒ کی نیابت کے فرائض سرانجام دے رہا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مفتی محمد جمیل خان شہیدؒ

۱۹ اکتوبر ۲۰۰۴ء

مفتی محمد جمیل خان شہیدؒ

مفتی محمد جمیل خان شہیدؒ کے ساتھ میرا تعلق 1974ء سے تھا جب وہ مدرسہ اشرف العلوم گوجرانوالہ میں زیر تعلیم تھے اور تحریک ختم نبوت کے کارکنوں میں شامل تھے۔ تحریک ختم نبوت کے لیے گوجرانوالہ میں جو کل جماعتی مجلس عمل تشکیل دی گئی مجھے اس میں سیکرٹری کی ذمہ داریاں سونپی گئیں اور چونکہ مرکزی جامع مسجد شہر اور ضلع کے لیے تحریک کا ہیڈکوارٹر تھی اس لیے علماء کرام اور کارکنوں کے ساتھ رابطہ زیادہ تر میرا ہی رہتا تھا۔ اس دوران مجھے جن نوجوانوں کا بطور خاص تعاون حاصل رہا ان میں مدرسہ اشرف العلوم کے ہونہار طالب علم محمد جمیل خان نمایاں تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مفتی محمد جمیل خان شہیدؒ

۱۲ اکتوبر ۲۰۰۴ء

حضرت مولانا نذیر احمدؒ

۴ جولائی کو رات ڈیڑھ بجے کے لگ بھگ گھر پہنچا تو یہ غمناک خبر ملی کی شیخ الحدیث حضرت مولانا نذیر احمد کا فیصل آباد میں انتقال ہو گیا ہے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وہ کافی عرصہ سے بیمار تھے، چند ماہ قبل احوال پرسی کے لیے ان کے ہاں حاضری ہوئی تھی، اس وقت طبیعت کچھ بہتر تھی مگر تقدیر الٰہی کے فیصلوں میں ہر شخص کا وقت مقرر ہے اور ہر ایک نے اپنے مقررہ وقت پر دنیا سے رخصت ہو جانا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا نذیر احمدؒ

۷ جولائی ۲۰۰۴ء

حضرت مولانا منظور احمدؒ چنیوٹی

مولانا منظور احمدؒ چنیوٹی، چنیوٹ کے رہنے والے تھے اور دینی تعلیم کے حصول کے بعد چنیوٹ ہی ان کی سرگرمیوں کا مرکز رہا ہے۔ وہ بیک وقت دینی جدوجہد، سماجی خدمت اور سیاسی تگ ودو کے میدان کے آدمی تھے اور تینوں شعبوں میں انہوں نے بھرپور کردار ادا کیا۔ ان کی زندگی کا سب سے بڑا مشن عقیدۂ ختم نبوت کا تحفظ اور قادیانیوں کا تعاقب تھا۔ فارغ التحصیل ہونے کے بعد انہوں نے چنیوٹ میں دینی تعلیمی سرگرمیوں کا آغاز کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا منظور احمدؒ چنیوٹی

۲۹ جون ۲۰۰۴ء

حضرت مولانا منظور احمدؒ چنیوٹی

میں 20 جون کو واشنگٹن پہنچا تھا، اس سے ایک دو دن بعد کی بات ہے کہ نماز فجر کے بعد درس دے کر دارالہدٰی کی لائبریری میں سوگیا۔ خواب میں دیکھا کہ پاکستان میں ہوں اور اچانک اطلاع آئی ہے کہ حضرت مولانا منظور احمدؒ چنیوٹی کا انتقال ہوگیا ہے، گوجرانوالہ سے روانہ ہو کر ویگن کے ذریعے چنیوٹ پہنچا اور دیکھا کہ مولانا کی میت چارپائی پر ہے اور چاروں طرف سوگوار حضرات بیٹھے ہیں۔ میں ان کے صاحبزادوں میں سے کسی کو نظروں نظروں میں تلاش کر رہا تھا کہ میری آنکھ کھل گئی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا منظور احمدؒ چنیوٹی

۲۹ جون ۲۰۰۴ء

حضرت مولانا منظور احمدؒ چنیوٹی

مولانا ثناء اللہ چنیوٹی نے بتایا کہ جنازہ اور اس کے بعد چنیوٹ کے تعزیتی جلسہ میں میری غیر حاضری کو دوستوں نے بہت زیادہ محسوس کیا اور لوگ بار بار میرے بارے میں پوچھتے رہے۔ آج گوجرانوالہ کی ایک محفل میں بھی دوستوں نے اس بات کا بطور خاص تذکرہ کیا، جن حضرات کو مولانا چنیوٹیؒ کے ساتھ میرے ربط و تعلق کا علم تھا، ان کے لیے یہ بات مزید غم کا باعث بنی کہ ان کی وفات اور جنازہ کے موقع پر میں ہزاروں میل دور امریکہ میں تھا اور بے بسی کے عالم میں ان کی یادیں ذہن میں تازہ کر رہا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا منظور احمدؒ چنیوٹی

۱۱ جون ۲۰۰۴ء

مولانا مفتی نظام الدین شامزئی شہیدؒ

مولانا مفتی نظام الدین شامزئی کی عمر کچھ زیادہ نہ تھی، باون برس کی عمر میں عروس شہادت سے ہمکنار ہوئے۔ مگر اس مختصر عمر میں انہوں نے جو خدمات سرانجام دیں اور علمی و دینی حلقوں میں جو مقام حاصل کیا وہ بلاشبہ قابل رشک ہے۔ ان کی تیز رفتاری کی وجہ اب سمجھ میں آتی ہے کہ وقت تھوڑا اور کام زیادہ تھا اور جسے تھوڑے وقت میں زیادہ کام کرنے کی ڈیوٹی سونپ دی جائے اس کی رفتار یہی ہوتی ہے۔ مفتی صاحبؒ سے پہلی ملاقات مجھے یاد نہیں کہ کب ہوئی تھی مگر آخری ملاقات تبلیغی اجتماع کے رائے ونڈ کے گزشتہ سال کے سالانہ اجتماع میں ہوئی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا مفتی نظام الدین شامزئی شہیدؒ

۸ جون ۲۰۰۴ء

مولانا مفتی نظام الدین شامزئی شہیدؒ

مفتی نظام الدین شامزئی کا تعلق سوات سے تھا، انہوں نے دینی علوم کی تکمیل جامعہ فاروقیہ شاہ فیصل کالونی کراچی میں کر کے وہیں تدریسی زندگی کا آغاز کر دیا تھا۔ مولانا مفتی نظام الدین شامزئی کا نام میں نے پہلی بار اس وقت سنا جب انہوں نے حضرت امام مہدی کے بارے میں کتاب لکھی۔ امام مہدی کے ظہور کے بارے میں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئیاں ہر دور میں گمراہی پھیلانے والے گروہوں کا نشانہ مشق رہی ہیں اور سینکڑوں افراد نے اب تک امام مہدی ہونے کا دعویٰ کر کے ان پیش گوئیوں کو خود پر فٹ کرنے کی کوشش کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا مفتی نظام الدین شامزئی شہیدؒ

۴ جون ۲۰۰۴ء

حضرت مولانا مفتی زین العابدینؒ

چند ماہ قبل فیصل آباد حاضری کے موقع پر حضرت مفتی صاحبؒ کے فرزند اکبر مولانا محمد یوسف اول کے ہمراہ زیارت کے لیے ان کے گھر گیا، تھوڑی دیر ان کی خدمت میں بیٹھا، باتیں سنیں اور دعا کی درخواست کی۔ نسیان کے مسلسل مرض کی وجہ سے پہچان نہیں پا رہے تھے، مگر گفتگو میں شفقت ونصیحت کا پہلو بدستور غالب تھا۔ یہ میری ان سے آخری ملاقات تھی، اس کے بعد ان کی زیارت کے لیے حاضری کا اتفاق نہ ہو سکا۔مجھے یاد نہیں کہ حضرت مفتی صاحبؒ کو پہلی بار کب دیکھا مگر یہ یاد ہے کہ بہت دیکھا اور بار بار دیکھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا مفتی زین العابدینؒ

۲ جون ۲۰۰۴ء

حضرت مولانا مفتی زین العابدینؒ

حضرت مولانا مفتی زین العابدینؒ کی جدوجہد کا بنیادی میدان دعوت و تبلیغ تھا اور وہ خود پر اس کے علاوہ کسی اور کام کی چھاپ نہیں لگنے دیتے تھے۔ البتہ دینی جدوجہد کے دیگر شعبوں سے لاتعلق بھی نہیں رہتے تھے بلکہ مشورے اور رہنمائی کی حد تک اس میں ضرور شرکت کرتے تھے۔ فیصل آباد میں دینی تحریکات کو ہمیشہ ان کی سرپرستی اور راہنمائی حاصل رہی ہے۔ خود مجھے جمعیۃ علمائے اسلام پاکستان کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات کی حیثیت سے متعدد بار ان کی شفقتوں اور مشوروں سے حصہ ملا ہے بلکہ بعض اوقات ان کی سرزنش کے مراحل سے بھی گزرا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا مفتی زین العابدینؒ

۲۷ مئی ۲۰۰۴ء

مولانا حکیم عبد الرحمان آزادؒ

مولانا حکیم عبد الرحمان آزادؒ کی وفات کی خبر مجھے سیالکوٹ سے ظفروال جاتے ہوئے فون پر ملی، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وہ ایک عرصہ سے علیل اور صاحبِ فراش تھے۔ جنازے میں تو شرکت نہ ہو سکی مگر ان کی یاد جب بھی ذہن میں آتی ہے دل سے بے ساختہ ان کے لیے دعا نکلتی ہے۔ ان کا تعلق اہل حدیث مکتبہ فکر سے تھا اور وہ حضرت مولانا محمد اسماعیل سلفیؒ کے رفقاء میں سے تھے۔ البتہ تمام زندگی مجلس احرار اسلام اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ساتھ گزری اور وہ تحفظِ ختم نبوت کے محاذ پر ہمیشہ سرگرم عمل رہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا حکیم عبد الرحمان آزادؒ

۲۶ مارچ ۲۰۰۴ء

حضرت مولانا قاضی مظہر حسینؒ

حضرت مولانا قاضی مظہر حسینؒ پاکستان میں شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمدؒ مدنی کے آخری خلفاء میں سے تھے اور ان کے بعد ہمارے علم کے مطابق پاکستان میں اب ایسے کوئی بزرگ باقی نہیں رہے جنہیں حضرت مدنی نے اپنے روحانی سلسلہ میں خلافت سے نوازا ہو۔ بنگلہ دیش میں دو تین بزرگ ابھی موجود ہیں جن میں سے ایک بزرگ حضرت مولانا عبد الحق صاحب آف درگاپور ضلع سونام گنج کا میں ایک کالم میں تذکرہ کر چکا ہوں۔ حضرت مولانا قاضی مظہر حسین 1914ء کے دوران ضلع چکوال کے گاؤں بھیس میں پیدا ہوئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا قاضی مظہر حسینؒ

یکم فروری ۲۰۰۴ء

حضرت مولانا شاہ احمدؒ نورانی

مولانا شاہ احمد نورانیؒ مسلکاً‌ بریلوی تھے اور ڈھیلے ڈھالے نہیں بلکہ متصلب اور پختہ کار بریلوی تھے۔ اور میں اس بات کا عینی شاہد ہوں کہ جہاں بھی مسلک کی بات آئی ہے ان میں کوئی لچک دیکھنے میں نہیں آئی۔ لیکن اس کے باوجود مشترکہ دینی معاملات میں انہوں نے مشترکہ جدوجہد اور رابطہ و معاونت سے کبھی گریز نہیں کیا۔ سیاسی معاملات ہوں یا دینی، ملک کی مختلف الخیال جماعتوں اور حلقوں کے درمیان رابطہ و مفاہمت کے فروغ اور اتحاد و اشتراک کے اہتمام میں ان کا کردار ہمیشہ نمایاں رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا شاہ احمدؒ نورانی

۱۴ دسمبر ۲۰۰۳ء

حضرت مولانا شاہ احمدؒ نورانی

مولانا شاہ احمد نورانی بھی ہم سے رخصت ہو گئے،انا ﷲ و انا الیہ راجعون۔نواب زادہ نصراﷲ خان مرحوم کی وفات کے بعد یہ دوسرا بڑا صدمہ ہے جو سال رواں کی آخری سہ ماہی میں قومی سیاست کو برداشت کرنا پڑا۔ وہ دینی جماعتوں کے مشترکہ محاذ ’’متحدہ مجلس عمل‘‘کے صدر اور جمعیۃ علماء پاکستان کے سربراہ تھے۔ ایک سینئر پالیمنٹیرین، بزرگ عالم دین، تجربہ کار سیاستدان اور بااصول رہنما کے طور پر ان کا احترام تمام دینی و سیاسی حلقوں میں یکساں طور پر پایا جاتا تھا۔ اسی وجہ سے تمام طبقات اور سیاسی و دینی حلقوں میں ان کی اچانک وفات کا غم شدت کے ساتھ محسوس کیا جارہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا شاہ احمدؒ نورانی

۱۴ دسمبر ۲۰۰۳ء

مولانا اعظم طارق شہیدؒ

مولانا اعظم طارقؒ بھی اپنے پیشرو رہنماؤں مولانا حق نواز جھنگویؒ، مولانا ضیاء الرحمانؒ فاروقی، اور مولانا ایثار الحق القاسمیؒ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے سفاک قاتلوں کی گولیوں کا نشانہ بن گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ میں نے یہ افسوسناک خبر امریکہ کے شہر بفیلو میں سنی جہاں 6 اکتوبر کو مولانا عبد الحمید اصغر کے ہمراہ دارالعلوم مدنیہ کی ختم بخاری شریف کی تقریب میں شرکت کے لیے عصر کے وقت پہنچا۔ اس تقریب سے حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی نے خطاب کرنا تھا اور مجھے بھی کچھ معروضات پیش کرنے کے لیے حضرت مولانا ڈاکٹر محمد اسماعیل میمن نے حکم دیا تھا جو دارالعلوم مدنیہ بفیلو کے سربراہ ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا اعظم طارق شہیدؒ

۱۱ اکتوبر ۲۰۰۳ء

حضرت حافظ غلام حبیب نقشبندیؒ

دوران سفر میری طبیعت ذکر و اذکار کی بجائے مسائل پر غور و خوض اور فکر و تدبیر کی طرف زیادہ مائل ہوتی ہے، اور سفر کا بیشتر حصہ دینی و قومی مسائل پر سوچتے ہوئے گزرتا ہے۔ مگر ایک بار حضرت حافظ صاحبؒ کی علالت کے دوران بیمار پرسی کے لیے چکوال حاضر ہوا اور کچھ دیر ان کی خدمت میں بیٹھا تو واپسی پر بس میں بیٹھتے ہی زبان پر بے ساختہ قرآن کریم کی مختلف سورتوں کی تلاوت جاری ہوگئی اور راولپنڈی پہنچنے تک مسلسل تلاوت کرتا رہا جو میری زندگی کا منفرد تجربہ تھا۔ اور میرے ذہن میں یہی تاثر ابھر رہا تھا کہ یہ حضرت حافظ صاحبؒ کی صحبت کا اثر ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت حافظ غلام حبیب نقشبندیؒ

۹ اکتوبر ۲۰۰۳ء

نوابزادہ نصر اللہ خان مرحوم

نوابزادہ نصر اللہ خان مرحوم نہ صرف نماز روزہ کے پابند تھے اور حلال و حرام کا اہتمام کے ساتھ فرق کرنے والے تھے بلکہ میں ان کی شب زندہ داری اور تہجد گزاری کا بھی شاہد ہوں۔ انہوں نے دینی تحریکات کی ہمیشہ سرپرستی کی ہے اور ختم نبوت کے تحفظ کی جدوجہد میں تو ان کا کردار ہمیشہ قائدانہ رہا ہے ۔ ۔ ۔ وہ معروف معنوں میں خالصتاً ایک سیاسی رہنما تھے۔ ان کا شمار دینی رہنماؤں میں نہیں ہوتا تھا لیکن میں نے متعدد دینی تحریکات کے رہنماؤں کو اپنی جدوجہد کے حوالہ سے ان سے رہنمائی حاصل کرتے ہوئے دیکھا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر نوابزادہ نصر اللہ خان مرحوم

۲ اکتوبر ۲۰۰۳ء

مولانا عبد الرحیم اشعرؒ

مولانا عبد الرحیم اشعرؒ کا تعلق عقیدۂ ختم نبوت کے محاذ پر قادیانیت کا مقابلہ کرنے والے سرفروش قافلے سے تھا جنہوں نے اس دور میں قادیانیت کو سرعام للکارا جب ملک میں فوج اور سول کے بہت سے کلیدی مناصب پر قادیانیوں کا تسلط تھا، قادیانیوں کے عقائد و کردار پر کسی جلسہ یا رسالے میں تنقید جرم تصور ہوتی تھی، قادیانیت کے ساتھ تعلق کے اظہار کو مختلف محکموں میں ترقی کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا، اور برسرعام ختم نبوت زندہ باد کا نعرہ لگانے والوں کے سینے گولیوں سے چھلنی ہو جایا کرتے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا عبد الرحیم اشعرؒ

۱۹ جون ۲۰۰۳ء

مولانا اللہ وسایا قاسمؒ

گزشتہ روز گوجرانوالہ گھر فون کیا تو یہ غمناک اطلاع ملی کہ مولانا اﷲ وسایا قاسم ٹریفک کے حادثہ میں شہید ہو گئے ہیں، انا ﷲ و انا الیہ راجعون ۔وہ میرے بہت پرانے اور قریبی ساتھیوں میں سے تھے اور حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستیؒ کے شاگرد اور عقیدت مند تھے۔ جمعیۃ علماء اسلام پاکستان جب درخواستی گروپ اور فضل الرحمن گروپ میں تقسیم تھی ،وہ جمعیۃ علماءاسلام درخواستی گروپ کے نظم میں شریک ہوئے اور اپنی جوانی کا پورا زور جمعیۃ علماءاسلام کی تنظیم و ترقی اور خاص طور پر ہفت روزہ ترجمان اسلام لاہور کی اشاعت کو بڑھانے میں صرف کردیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا اللہ وسایا قاسمؒ

۲۲مئی ۲۰۰۳ء

حضرت درخواستیؒ کا سبق آموز پیغام

حضرت مولانا ڈاکٹر شیر علی شاہ نے حرم پاک کا قصہ سنا کر بہت سے سامعین کو آبدیدہ کر دیا کہ حضرت درخواستیؒ وہاں ایک محفل میں مسلسل احادیث نبویؐ پڑھتے جا رہے تھے اور بڑے بڑے عرب علماء دانتوں میں انگلیاں دبائے ان کا چہرہ دیکھ رہے تھے کہ دنیائے عجم میں بھی حدیث رسولؐ کا اتنا بڑا شیدائی اور اتنا بڑا حافظ ہو سکتا ہے؟ راقم الحروف کو بھی اس اجتماع میں اظہار خیال کی دعوت دی گئی اور میں نے عرض کیا کہ اس موقع پر اپنی طرف سے کچھ عرض کرنے کی بجائے حضرت درخواستیؒ کا ہی ایک پیغام پیش کرنا چاہتا ہوں جو انہوں نے جمعیۃ علماء اسلام کا امیر منتخب ہوتے وقت قوم کو دیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت درخواستیؒ کا سبق آموز پیغام

۸ مارچ ۲۰۰۳ء

مولانا محمد ضیاء القاسمیؒ

حضرت مولانا محمد ضیاء القاسمیؒ کا نام پہلی بار طالب علمی کے دور میں سنا جب ان کی خطابت کا ہر طرف شہرہ تھا اور توحید و سنت کے پرچار کے ساتھ ساتھ شرک و بدعات کے تعاقب میں وہ پورے جوش و خروش کے ساتھ خطابت کے محاذ پر سرگرم تھے۔ ہم طالب علم تھے گوجرانوالہ شہر اور گرد و نواح میں جہاں بھی ان کی تقریر ہوتی ہم جتھہ بن کر جاتے اور ان کے پرجوش خطابت کا حظ اٹھاتے۔ یہ ان کی خطابت کے عروج کا دور تھا، وہ پورے جوش و جذبہ کے ساتھ دو دو تین تین گھنٹے بولتے اور پرجوش خطابت کے ساتھ ترنم کا جوڑ ملا کر عجیب سماں باندھ دیتے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا محمد ضیاء القاسمیؒ

فروری ۲۰۰۳ء

ڈاکٹر محمد حمید اللہؒ

ڈاکٹر محمد حمید اللہ رحمۃ اللہ علیہ نے طویل عرصہ تک اسلام کی دعوت واشاعت کے حوالہ سے گراں قدر خدمات سرانجام دیں۔ فرانسیسی زبان میں قرآن کریم کا ترجمہ کیا اور بے شمار لوگوں کو اسلام کی تعلیمات سے روشناس کرایا۔ بہت سے فرانسیسی باشندوں نے ان کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا۔ وہ بنیادی طور پر تعلیم وتحقیق کی دنیا کے آدمی تھے اور انہوں نے ساری زندگی لکھنے پڑھنے کے ماحول میں گزار دی۔ فقیر منش اور قناعت پسند بزرگ تھے، کتاب زندگی بھر ان کی ساتھی رہی اور کتاب ہی کی خدمت میں وہ آخر دم تک مصروف رہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ڈاکٹر محمد حمید اللہؒ

۲۴ دسمبر ۲۰۰۲ء

ایمل کانسی مرحوم

جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمان نے میر ایمل کانسی شہید کے گھر جا کر اور اس کے خاندان سے تعزیت کرکے پورے ملک کے علماء کرام اور دینی حلقوں کی طرف سے فرض کفایہ ادا کیا ہے، ورنہ یہ ملک کے ہر عالم دین اور دینی کارکن کے ذمے تھا کہ وہ میر ایمل کانسی شہید کے گھر جاکر اس خاندان سے تعزیت کرتا اور ایمل کانسی شہید کے بھائیوں کو یقین دلاتا کہ ان کے دلیر اور جرأت مند بھائی نے جس حوصلے اور استقامت کے ساتھ قومی خود مختاری اور ملک کی آبرو کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ایمل کانسی مرحوم

۲۷ نومبر ۲۰۰۲ء

حضرت مولانا مفتی رشید احمد لدھیانویؒ

حضرت مولانا مفتی رشید احمد لدھیانویؒ دار العلوم دیوبند کے ممتاز فضلاءمیں سے تھے، شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمدؒ مدنی کے شاگرد تھے اور میرے والد محترم شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر دامت برکاتہم کے دورۂ حدیث کے ساتھی تھے۔ قیام پاکستان کے بعد انہوں نے کراچی کو اپنی علمی ودینی جولان گاہ بنایا اور بہت جلد ملک کے بڑے مفتیان کرام میں ان کا شمار ہونے لگا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا مفتی رشید احمد لدھیانویؒ

۱۵ اکتوبر ۲۰۰۲ء

حضرت مولانا محمد اجمل خانؒ

خطیب اسلام حضرت مولانا محمد اجمل خانؒ بھی ہم سے رخصت ہوگئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وہ کافی عرصہ سے بیمار تھے، شوگر کے ساتھ ساتھ دل اور دمہ کی تکلیف بھی تھی اور کم و بیش 70 برس عمر پا کر وہ دارِفانی سے رحلت کر گئے۔ ان کا تعلق ہزارہ کے علاقہ ہری پور سے تھا اور انہوں نے اس دور میں لاہور میں خطابت کا آغاز کیا جب شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ حیات تھے اور مولانا اجمل خان کو ان کی بھرپور شفقت اور رہنمائی میسر تھی۔ مولانا محمد اجمل خان کا شمار اپنے دور کے بڑے خطیبوں میں ہوتا تھا اور انہیں خطیب اسلام کے لقب سے یاد کیا جاتا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا محمد اجمل خانؒ

۲۱ جون ۲۰۰۲ء

حضرت مولوی محمد نبی محمدیؒ

گزشتہ روز ایک قومی اخبار کے آخری صفحہ پر چھوٹے سے چوکھٹے میں یہ خبر نظر سے گزری کہ افغانستان کے بزرگ عالم دین مولوی محمد نبی محمدیؒ انتقال کر گئے ہیں، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ اسے نیرنکئی زمانہ کا کرشمہ کہیے یا گردشِ حالات کا نتیجہ کہ مولوی محمد نبی محمدیؒ جیسے بزرگ عالم دین کی وفات پر چند سطروں کی ایک خبر کے بعد قومی پریس میں مکمل خاموشی کی کیفیت طاری ہے۔ ورنہ اگر یہی بات اچھے دنوں میں ہوتی تو نہ صرف افغانستان میں قومی سطح پر ان کا سوگ منایا جاتا بلکہ پاکستان میں بھی کئی دنوں تک ان کی خدمات اور قربانیوں کا تذکرہ رہتا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولوی محمد نبی محمدیؒ

۲ مئی ۲۰۰۲ء

مولوی نصر اللہ منصور شہیدؒ

افغان مجاہدین کے ایک بڑے کمانڈر مولوی نصر اللہ منصورؒ میرے دوستوں میں سے تھے اور ایک مدبر، ذی ہوش اور معاملہ فہم رہنما تھے۔ مولوی نصر اللہ منصورؒ کو میں نے پہلی بار شیرانوالہ لاہور میں دیکھا تھا، یہ وہ دور تھا جب افغان علماء نے روسی افواج کے خلاف مسلح جدوجہد کا اعلان کر دیا تھا اور پاکستان کے علماء کرام اور دینی حلقوں کی حمایت حاصل کرنے کے لیے متعدد افغان رہنما پاکستان کے مختلف حصوں کے دورے کر رہے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولوی نصر اللہ منصور شہیدؒ

۱۵ مارچ ۲۰۰۲ء

علامہ شبیر احمد عثمانی ؒ سے مولانا مفتی محمودؒ تک

جمعیۃ علماء اسلام کا قیام سب سے پہلے 1945ء میں اس وقت عمل میں آیا جب متحدہ ہندوستان میں علماء کی سب سے بڑی تنظیم جمعیۃ العلماء ہند نے تحریک آزادی میں تقسیم وطن اور قیام پاکستان کے سوال پر مسلم لیگ کی بجائے انڈین نیشنل کانگریس کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا، اور قیام پاکستان کو جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کے لیے غیر مفید قرار دیتے ہوئے اس کی مخالفت کا اعلان کیا۔ اس فیصلہ سے اختلاف رکھنے والے علماء نے، جن میں شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانیؒ سر فہرست تھے، جمعیۃ علماء ہند سے علیحدگی اختیار کر لی اور اس کے بعد جمعیۃ علماء اسلام کا قیام عمل میں لایا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر علامہ شبیر احمد عثمانی ؒ سے مولانا مفتی محمودؒ تک

۱۰ اپریل ۲۰۰۱ء

مولانا عبد الغنیؒ

مولانا عبد الغنیؒ دار العلوم دیوبند کے فضلاءمیں سے تھے، آزاد کشمیر کے ضلع باغ میں بیس بگلہ کے ساتھ ’’جھڑ‘‘ نامی جگہ کے رہنے والے تھے جسے اب غنی آباد کا نام دے دیا گیا ہے۔ وہ تحریک آزادی کشمیر کے سرکردہ رہنماؤں میں سے تھے، ۱۹۴۷ء میں انہوں نے ڈوگرہ شاہی سے آزادی کے لیے نہ صرف خود عملاً جہاد میں حصہ لیا بلکہ علاقہ کے سینکڑوں لوگوں کو اس کے لیے تیار کیا، ان کی عسکری ٹریننگ کا اہتمام کیا اور میدان جہاد میں ان کے شانہ بشانہ شریک جنگ رہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا عبد الغنیؒ

۴ اپریل ۲۰۰۱ء

حضرت مولانا ضیاء القاسمیؒ

مولانا محمد ضیاء القاسمیؒ کی ایک نمایاں خوبی یہ بھی تھی کہ وہ دینی اور مسلکی معاملات میں انتہائی غیور تھے اور صرف خطابت میں ہی غیرت و حمیت کا اظہار نہیں کرتے تھے بلکہ عملاً بھی وہ مسائل و مشکلات کے حل کے لیے سرگرداں رہتے تھے۔ اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے انہیں جرأت و دلیری کا وافر حصہ بھی عطا کیا تھا، وہ مشکل اوقات میں عافیت کا گوشہ تلاش کرنے کی بجائے مصیبت کے مقام پر ڈٹے رہنے کو ترجیح دیتے تھے اور کسی بات کی پروا نہیں کرتے تھے۔ مولانا ضیاء القاسمیؒ کی بیعت کا تعلق شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی رحمہ اللہ سے تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا ضیاء القاسمیؒ

۱۲ جنوری ۲۰۰۱ء

حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستیؒ ۔ مردِ درویش کی چند قلندرانہ باتیں

اس سال لندن آتے ہوئے کراچی میں چند روزہ قیام کے دوران حافظ الحدیث حضرت مولانا محمد عبد اﷲدرخواستی قدس اﷲ سرہ العزیز کے منجھلے فرزند مولانا حاجی مطیع الرحمان درخواستی کے ساتھ بھی کچھ روز کی سفری رفاقت رہی اور اسی موقع پر ان سے حضرت درخواستیؒ کی وہ تاریخی تقریر آڈیو کیسٹ کے ذریعے سننے کا موقع ملا جو انہوں نے امام العلماء حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ کی وفات پر ۱۹۶۲ء میں رمضان المبارک کے آخری جمعۃ المبارک کے اجتماع میں خانپور کی عید گاہ میں کی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستیؒ ۔ مردِ درویش کی چند قلندرانہ باتیں

۱۰ نومبر ۲۰۰۰ء

حضرت مولانا مفتی محمودؒ ، جدائی کے بیس سال

حضرت مولانا مفتی محمودؒ کو ہم سے جدا ہوئے دو عشرے ہونے کو ہیں لیکن ابھی کل کی بات لگتی ہے کہ وہ نہ صرف ہمارے درمیان موجود تھے بلکہ اہل حق کی دینی و سیاسی راہنمائی کے لیے پوری طرح متحرک اور سرگرم عمل بھی تھے۔ ایک دانشور کا قول ہے کہ ہماری کمزوریاں جانے والوں کی خوبیاں ہمارے سامنے زیادہ نمایاں کرتی ہیں اور ان کا شدت کے ساتھ احساس دلاتی ہیں۔ ہمارے ساتھ بھی اپنے جانے والے بزرگوں کے حوالہ سے یہی معاملہ ہو رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا مفتی محمودؒ ، جدائی کے بیس سال

اکتوبر ۲۰۰۰ء

حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ

حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ کا سب سے بڑا امتیاز و اختصاص یہ تھا کہ وہ قومی صحافت کے اتنے بڑے نقار خانے میں اہل حق کی نمائندگی کرنے والی ایک مضبوط اور توانا آواز کی حیثیت رکھتے تھے۔ ان کا یہی امتیاز مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ جیسے عظیم محدث کے نزدیک انہیں ماموں کانجن سے اٹھا کر کراچی میں لا بٹھانے کا باعث بنا تھا۔ اور یہی امتیاز میرے جیسے کارکن کے لیے ان کے مرثیہ کا سب سے بڑا عنوان ہے۔ وہ آج کی صحافتی زبان کو سمجھتے تھے، اس کی کاٹ کو محسوس کرتے تھے، اس کا جواب دینے کی صلاحیت رکھتے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ

۱ جون ۲۰۰۰ء

حضرت مولانا سید ابوالحسن علی حسنی ندویؒ

مغربی ثقافت اور جدید کلچر کی نقاب کشائی اور اسلامی تہذیب و ثقافت کے تعارف کے حوالہ سے ان کی تحریریں میرے لیے خصوصی دلچسپی کا باعث تھیں۔ اور کئی جلدوں پر محیط ان کی ضخیم تصنیف ’’کاروان دعوت و عزیمت‘‘ نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا جس میں انہوں نے امت مسلمہ کے ان ارباب عزیمت و استقامت کی جدوجہد سے نئی نسل کو متعارف کرایا ہے جو ہر دور میں ارباب اقتدار کی ناراضگی اور غیظ و غضب کی پروا کیے بغیر حق اور اہل حق کی نمائندگی کرتے رہے ہیں، اور حق گوئی کی پاداش میں انہیں بے پناہ مصائب اور مشکلات کا شکار ہونا پڑا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا سید ابوالحسن علی حسنی ندویؒ

۱۴ جنوری ۲۰۰۰ء

حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ

حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ نے مغربی ثقافت اور اس کے پیداکردہ نظریاتی و علمی فتنوں کے تعاقب کو اپنی زندگی کا مشن بنا رکھا تھا۔ وہ بلاشبہ اس دور میں اسلامی تہذیب و ثقافت اور تاریخ و روایات کے بے باک نقیب تھے۔ انہوں نے اس حوالہ سے دنیائے اسلام کے اربابِ فکر و دانش کے ایک بڑے حصے کو ادراک و شعور کی منزل سے ہمکنار کیا اور مغرب کے سیکولر فلسفہ اور فری سوسائٹی کے تار و پود بکھیر کر ذہنی مرعوبیت کی فضا کو ختم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ

جنوری ۲۰۰۰ء

صاحبزادہ شمس الدین آف موسیٰ زئی

موسیٰ زئی شریف ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کی معروف خانقاہ احمدیہ سعیدیہ کے بزرگ اور پاکستان شریعت کونسل صوبہ سرحد کے امیر حضرت صاحبزادہ شمس الدینؒ گزشتہ ہفتے انتقال کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ان کا شمار علاقہ کے سرکردہ دینی و سماجی راہنماؤں میں ہوتا تھا۔ گزشتہ ماہ وہ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا فداء الرحمان درخواستی اور سیکرٹری جنرل (راقم الحروف) کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے دو روزہ دورہ کے موقع پر ہمارے ساتھ شریک رہے اور موسیٰ زئی شریف میں ہماری اعزاز میں پرتکلف ظہرانے کا اہتمام کیا مگر اس کے چند روز بعد وہ اس دارِ فانی سے رحلت کر گئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر صاحبزادہ شمس الدین آف موسیٰ زئی

جون ۱۹۹۹ء

شاہ حسین مرحوم

جہاں تک شاہ حسین کی وفات کا معاملہ ہے ایک مسلم حکمران اور پاکستان کے ایک دوست کی وفات کا ہمیں بھی رنج ہے اور ہم دعاگو ہیں کہ اللہ رب العزت ان کی غلطیاں معاف فرمائے اور جوارِ رحمت میں جگہ دے کہ ایک مسلمان کی حیثیت سے یہ ہم پر ان کا حق ہے۔ لیکن ان کے اور ان کے خاندان کے جو فضائل و مناقب بیان کیے جا رہے ہیں اور جس طرح مشرق وسطیٰ میں امن کے ہیرو کے طور پر انہیں پیش کیا جا رہا ہے اس کے پیش نظر اصل حقائق کو سامنے لانا اور نئی نسل کو ان سے متعارف کرانا بھی ہماری ذمہ داری ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر شاہ حسین مرحوم

۱۹ فروری ۱۹۹۹ء

حضرت مولانا حافظ محمد عابدؒ، مولانا حافظ محمد نعیم الحق نعیمؒ

خانقاہ سراجیہ کندیاں ضلع میانوالی کے سجادہ نشین حضرت مولانا خواجہ خان محمد مدظلہ کے رفیق خاص حضرت مولانا حافظ محمد عابدؒ گزشتہ ہفتے انتقال کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون ۔۔۔ معروف اہل حدیث عالم دین اور ہفت روزہ الاعتصام لاہور کے مدیر مولانا حافظ محمد نعیم الحق نعیمؒ گزشتہ روز ریل کے ایک حادثہ میں جاں بحق ہوگئے، انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا حافظ محمد عابدؒ، مولانا حافظ محمد نعیم الحق نعیمؒ

۱۶ فروری ۱۹۹۹ء

حضرت مولانا محمد طاسینؒ

حضرت مولانا محمد طاسینؒ بھی اللہ کو پیارے ہوگئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وہ پاکستان کی علمی دنیا کی معروف شخصیت تھے، حضرت السید مولانا محمد یوسف بنوری قدس اللہ سرہ العزیز کے داماد اور مجلس علمی کے سربراہ تھے۔ متبحر اور محقق عالم دین تھے، اسلامی معاشیات پر ان کی گہری نظر تھی اور اس کے مختلف پہلوؤں پر ان کے گراں قدر مقالات مختلف دینی و علمی جرائد میں شائع ہوتے رہے ہیں۔ اہم علمی مجالس میں انہیں اہتمام کے ساتھ بلایا جاتا اور ان کے مطالعہ و تحقیق سے استفادہ کیا جاتا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا محمد طاسینؒ

فروری ۱۹۹۹ء

حکیم محمد سعید شہیدؒ

خدا غارت کرے ان سفاک قاتلوں کو جنہوں نے اس شریف النفس انسان کے خون سے ہاتھ رنگے، اور قہر نازل کرے ان منصوبہ سازوں پر جو علم و اخلاق کے اس سفیر کے قتل کی شرمناک سازش کے مرتکب ہوئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ حکیم صاحب کے ساتھ میرا براہ راست تعارف نہیں تھا اور کوئی ایسی مجلس یاد نہیں جس میں ان سے آمنا سامنا ہوا ہو۔ مگر ان کی فکر، سوچ، جدوجہد اور تگ و دو سے ہمیشہ شناسائی رہی اور وقتاً فوقتاً خط و کتابت کا رابطہ بھی قائم رہا۔ حکیم صاحب طب کی دنیا کی ایک نامور شخصیت تھے لیکن اس سے کہیں زیادہ ان کا تعارف علم و دانش کی دنیا میں تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حکیم محمد سعید شہیدؒ

۲۶ اکتوبر ۱۹۹۸ء

مولانا محمد عبد اللہ شہیدؒ

مولانا محمد عبد اللہؒ اسلام آباد کی مرکزی جامع مسجد (لال مسجد) کے خطیب کی حیثیت سے سرکاری ملازم تھے اور ان کا عہدہ وفاقی حکومت کے ایڈیشنل سیکرٹری کے برابر بتایا جاتا ہے۔ لیکن ان کی یہ حیثیت دینی اور ملی معاملات میں ان کی حق گوئی میں کبھی حائل نہیں ہوئی۔ وہ صاف گو اور حق گو عالم دین تھے اور جس بات کو صحیح سمجھتے تھے اس کے اظہار میں کوئی خوف، مصلحت یا لالچ ان کی راہ میں کبھی رکاوٹ نہیں بن سکی۔ وہ تحفظ ختم نبوت اور نفاذ شریعت کی جدوجہد میں ہمیشہ پیش پیش رہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا محمد عبد اللہ شہیدؒ

۲۵ اکتوبر ۱۹۹۸ء

حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستیؒ

حضرت درخواستیؒ کا احادیث نبویہؓ کے ساتھ شغف انہیں اپنے سب معاصرین میں ممتاز کیے ہوئے تھا۔ وہ جب رسول اللہؐ کا تذکرہ کرتے یا آپؐ کی کوئی حدیث سناتے تو اکثر ان کی آنکھوں میں آنسو آجایا کرتے تھے اور وہ صرف خود نہیں روتے تھے بلکہ ان کے سامنے بیٹھے ہوئے لوگوں کے لیے بھی آنسوؤں کو روکنا مشکل ہوجایا کرتا تھا۔ رسول اللہؐ کا تذکرہ کرتے ہوئے اور آپؐ کی احادیث سناتے ہوئے انہیں نہ وقت گزرنے کا کوئی احساس ہوتا تھا اور نہ ہی گرد و پیش کا کوئی ہوش رہتا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستیؒ

۲۶ اگست ۱۹۹۸ء

حضرت مولانا عبد اللطیف جہلمیؒ

حضرت مولانا عبد اللطیف جہلمیؒ (وفات: اپریل ۱۹۹۸ء) کو پہلی بار اس دور میں دیکھا جب میرا طالب علمی کا زمانہ تھا اور مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں صرف ونحو کی کتابیں پڑھ رہا تھا۔ حضرت مولانا عبد اللطیف جہلمیؒ اس قافلہ کے سرگرم رکن تھے جو جمعیۃ علماء اسلام کو منظم کرنے کے لیے قریہ قریہ، بستی بستی متحرک تھا۔ شمالی پنجاب میں جمعیۃ علماء اسلام کو ایک فعال اور متحرک جماعت بنانے میں مجاہد ملت حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ کو جن بے لوث اور ان تھک رفقاء کا تعاون حاصل تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا عبد اللطیف جہلمیؒ

جولائی تا نومبر ۱۹۹۸ء

حضرت مولانا مفتی محمودؒ ۔ ایک صاحب بصیرت سیاستدان

سیاست زندگی بھر حضرت مفتی صاحبؒ کا اوڑھنا بچھونا رہی ہے، انہوں نے سیاست کو مشغلہ، ہابی یا آج کے سیاسی پس منظر میں کاروبار کے طور پر نہیں بلکہ مشن اور فریضہ کے طور پر اختیار کیا اور اس کا حق ادا کر کے دکھایا۔ ان کا شمار ملک کے مقتدر اور کامیاب سیاستدانوں میں ہوتا تھا اور ان کی سیاسی قیادت کا لوہا ان کے معاصر بلکہ سینئر سیاستدانوں نے بھی مانا۔ لیکن آج سیاست اور سیاستدانوں کی اصطلاحات کے گرد مفہوم و تعارف کے جو نامانوس دائرے نمایاں ہوتے جا رہے ہیں اور جن لوازمات نے ایک سیاستدان کے لیے ناگزیر حیثیت اختیار کر لی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا مفتی محمودؒ ۔ ایک صاحب بصیرت سیاستدان

نومبر ۱۹۹۷ء

تحریک پاکستان اور شیخ الاسلام علامہ شبیر احمدؒ عثمانی

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ آج کی یہ تقریب الشبان المسلمون کے زیراہتمام تحریک پاکستان کے عظیم راہنما شیخ الاسلام علامہ شبیر احمدؒ عثمانی کی خدمات اور جدوجہد کے تذکرہ کے لیے منعقد ہو رہی ہے۔ اس سے پہلے پروفیسر محمد عبد الجبار صاحب اور مولانا محمد انذر قاسمی اپنے خیالات کا اظہار کر چکے ہیں جبکہ پروفیسر میاں منظور احمد صاحب جو حضرت علامہ عثمانی کے شاگرد بھی ہیں میرے بعد اظہارِ خیال فرمانے والے ہیں۔ مجھے حکم دیا گیا کہ حضرت مولانا شبیر احمدؒ عثمانی کی جدوجہد اور خدمات کے بارے میں کچھ معروضات پیش کروں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر تحریک پاکستان اور شیخ الاسلام علامہ شبیر احمدؒ عثمانی

اکتوبر ۱۹۹۷ء

لیڈی ڈیانا

لیڈی ڈیانا اور ان کے ذاتی معالج کے ان تبصروں کی روشنی میں لیڈیا ڈیانا کی حادثاتی موت پر دنیا بھر میں رونما ہونے والے ردعمل کی تہہ تک پہنچنا کچھ زیادہ مشکل نہیں ہے کہ لیڈی ڈیانا دراصل مغرب میں خاندانی نظام کی تباہی سے جنم لینے والی ذہنی پریشانیوں اور نفسیاتی الجھنوں کی علامت بن گئی تھی اور اس نے ذہنی سکون اور قلبی اطمینان کی منزل حاصل کرنے کے لیے شاہی اقدار اور خاندان کی روایات سے بغاوت کا راستہ اختیار کر لیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر لیڈی ڈیانا

اکتوبر ۱۹۹۷ء

مولانا انیس الرحمان درخواستی شہیدؒ

حافظ الحدیث حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستیؒ کے نواسے اور جامعہ انوارالقرآن آدم ٹاؤن نارتھ کراچی کے شیخ الحدیث حضرت مولانا انیس الرحمان درخواستیؒ کو گزشتہ جمعہ کے روز کراچی میں گولی مار کر شہید کر دیا گیا، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ مرحوم انتہائی شریف الطبع انسان اور عمدہ تعلیمی ذوق رکھنے والے مدرس عالم دین تھے، حضرت درخواستیؒ کے علوم و روایات کے امین تھے اور چند سال قبل انہوں نے مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں دورۂ تفسیر بھی کیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا انیس الرحمان درخواستی شہیدؒ

اکتوبر ۱۹۹۷ء

الاستاذ عبد الفتاح ابو غدۃؒ

عالم اسلام کی ممتاز علمی شخصیت اور اخوان المسلمین شام کے سابق مرشد عام الاستاذ عبد الفتاح ابوغدۃ گزشتہ دنوں سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں انتقال فرما گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ الاستاذ عبد الفتاح ابوغدۃؒ کا تعلق شام سے تھا اور وہ شام کے معروف حنفی محدث الاستاذ محمد زاہد الکوثریؒ کے تلمیذ خاص اور ان کے علمی جانشین تھے۔ عرب دنیا میں حنفی مسلک کے تعارف اور اس کی ترویج و اشاعت میں ان دونوں بزرگوں کا بہت بڑا حصہ ہے اور یہ بزرگ گزشتہ پون صدی کے دوران عالم عرب میں حنفیت کے علمی ترجمان کی حیثیت سے پہچانے جاتے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر الاستاذ عبد الفتاح ابو غدۃؒ

اپریل ۱۹۹۷ء

مولانا ضیاء الرحمان فاروقی شہیدؒ

سپاہ صحابہؓ پاکستان کے سربراہ مولانا ضیاء الرحمان فاروقی گزشتہ روز لاہور سیشن کورٹ کے احاطہ میں بم کے خوفناک دھماکہ میں جام شہادت نوش کر گئے انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وہ اپنے نائب مولانا اعظم طارق کے ہمراہ ایک مقدمہ کی پیشی کے سلسلہ میں سیشن کورٹ میں موجود تھے کہ اچانک بم کا دھماکہ ہوا جس میں مولانا ضیاء الرحمان فاروقی سمیت دو درجن سے زائد افراد جاں بحق جبکہ مولانا اعظم طارق سمیت ایک سو کے لگ بھگ افراد زخمی ہوگئے۔ مولانا ضیاء الرحمان فاروقی شہیدؒ کا تعلق سمندری ضلع فیصل آباد سے تھا اور وہ مجلس احرار اسلام کے راہنما مولانا محمد علی جانبازؒ کے فرزند تھے ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا ضیاء الرحمان فاروقی شہیدؒ

فروری ۱۹۹۷ء

حضرت مولانا علامہ شبیر احمدؒ عثمانی

شیخ الاسلام علامہ شبیر احمدؒ عثمانی کا شمار تحریک آزادی اور تحریک پاکستان کے ان عظیم المرتبت قائدین میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنے علم و فضل، جہد و عمل اور ایثار و استقامت کے ساتھ تاریخ میں نئے ابواب کا اضافہ کیا اور آنے والی نسلوں کی رہنمائی کی روشن شمعیں جلا کر اس جہانِ فانی سے رخصت ہوگئے۔ علامہ شبیر احمدؒ عثمانی ایک ایسی جامع الکمالات شخصیت تھے جو بیک وقت اپنے دور کے بہت بڑے محدث، مفسر، متکلم، محقق اور فلسفی ہونے کے ساتھ ساتھ ایک صاحبِ بصیرت سیاستدان بھی تھے اور انہوں نے علم و فضل کے ہر شعبہ میں اپنی مہارت اور فضیلت کا لوہا منوایا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا علامہ شبیر احمدؒ عثمانی

۱۳ دسمبر ۱۹۹۶ء (غالباً)

غازی محمد انور پاشاؒ

روزنامہ جنگ لاہور ۵ اگست ۱۹۹۶ء کی خبر کے مطابق ترکی کے ایک سابق وزیر جنگ غازی محمد انور پاشاؒ کی میت کو ۷۴ سال کے بعد تاجکستان سے منتقل کر کے ۴ اگست ۱۹۹۶ء کو دوبارہ استنبول میں دفن کیا گیا ہے اور تدفین کی اس تقریب میں ترکی کے صدر جناب سلیمان ڈیمیریل اور وزیراعظم جناب نجم الدین اربکان نے بھی شرکت کی ہے۔ غازی انور پاشاؒ خلافت عثمانیہ کے دورِ زوال کے ایک نامور سپوت ہیں جنہوں نے خلافت کو سہارا دینے اور اس کے نظام کی اصلاح کے لیے اپنی بساط کی حد تک انتھک جدوجہد کی لیکن وہ اس میں کامیاب نہ ہو سکے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر غازی محمد انور پاشاؒ

ستمبر ۱۹۹۶ء

حاجی عبد المتین چوہان مرحوم

عبد المتین مرحوم کے ساتھ راقم الحروف کا تعلق حفظ قرآن کریم کے دور سے تھا جب ہم دونوں مدرسہ نصرۃ العلوم میں استاذ محترم حضرت قاری محمد یاسین صاحب مرحوم سے پڑھتے تھے۔ یہ غالباً سن 1958ء یا 1959ء کی بات ہے۔ عبد المتین مرحوم قرآن کریم یاد نہ کر سکے لیکن علماء کرام اور جماعتی امور کے ساتھ ان کا تعلق آخر دم تک قائم رہا۔ حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستیؒ، حضرت مولانا عبید اللہ انورؒ، اور حضرت سید نفیس شاہ صاحب کے ساتھ عقیدت و محبت کا خصوصی تعلق تھا اور جمعیۃ علماء اسلام اور مجلس تحفظ ختم نبوت کے کاموں میں بطور خاص دلچسپی کے ساتھ حصہ لیا کرتے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حاجی عبد المتین چوہان مرحوم

فروری مارچ ۱۹۹۶ء

حضرت مولانا سید ابوذر بخاریؒ

امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کے فرزند و جانشین اور مجلس احرار اسلام کے قائد حضرت مولانا سید ابوذر عطاء المنعم شاہ بخاریؒ طویل علالت کے بعد گزشتہ دنوں ملتان میں انتقال کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ مرحوم حضرت امیر شریعتؒ کے علمی و فکری جانشین تھے اور بلند پایہ عالم دین، دانشور، صاحب قلم اور منجھے ہوئے خطیب ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے عظیم باپ کی وضعداری، فقر و استغناء اور حق گوئی کی روایات کے بھی امین تھے جو کہ کساد بازاری کے اس دور میں جنس نایاب ہوتی جا رہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا سید ابوذر بخاریؒ

نومبر ۱۹۹۵ء

حضرت جی مولانا انعام الحسنؒ

تبلیغی جماعت کے امیر حضرت مولانا انعام الحسن ۹ جون کو دہلی میں انتقال کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ان کی وفات کی خبر آناً فاناً دنیا بھر کے تبلیغی مراکز میں پہنچ گئی اور دنیا کے کونے کونے میں دعوت و تبلیغ کے عمل سے وابستہ لاکھوں مسلمان رنج و غم کی تصویر بن گئے۔ مولانا انعام الحسن کو تقریباً تیس برس پہلے تبلیغی جماعت کے دوسرے امیر حضرت مولانا محمد یوسف کاندھلویؒ کی وفات کے بعد عالمگیر تبلیغی جماعت کا امیر منتخب کیا گیا تھا۔ ان کی امارت میں دعوت و تبلیغ کے عمل کو عالمی سطح پر جو وسعت اور ہمہ گیری حاصل ہوئی وہ ان کے خلوص و محنت کی علامت ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت جی مولانا انعام الحسنؒ

جولائی ۱۹۹۵ء

مولانا قاری محمد حنیفؒ ملتانی / مولانا قاری محمد اظہر ندیم شہیدؒ

ملک کے دینی حلقوں میں یہ خبر بے حد رنج و الم کے ساتھ پڑھی جائے گی کہ معروف خطیب مولانا قاری محمد حنیفؒ ملتانی کا عید الاضحیٰ کے روز ملتان میں انتقال ہوگیا ہے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ قاری صاحبؒ ملک کے مقبول خطباء اور واعظین میں شمار ہوتے تھے اور ایک عرصہ تک مذہبی اسٹیج پر ان کی خطابت کا طوطی بولتا رہا ہے۔ جامعہ قاسم العلوم ملتان کے فاضل اور شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمدؒ مدنی کے شیدائی تھے۔ آواز میں سوز و گداز تھا، وہ اپنے مخصوص انداز میں مصائب صحابہؓ اور قیامت کی ہولناکیوں کا ذکر کرتے تو بڑے بڑے سنگدل لوگوں کی آنکھیں بھیگ جاتی تھیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا قاری محمد حنیفؒ ملتانی / مولانا قاری محمد اظہر ندیم شہیدؒ

جون ۱۹۹۵ء

محمد صلاح الدین شہیدؒ

وہ دن بلاشبہ پاکستان کی صحافتی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے جب ہفت روزہ تکبیر کراچی کے مدیر اعلیٰ محمد صلاح الدینؒ سفاک قاتلوں کی دہشت گردی کا نشانہ بنتے ہوئے جام شہادت نوش کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وہ بے لاگ تجزیہ نگار اور بے باک قلمکار ہی نہیں بلکہ معاشرہ میں شر کی قوتوں کو چیلنج کرنے اور ظلم کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر للکارنے والے بے خوف راہنما بھی تھے۔ انہوں نے لفافے، بریف کیس اور کلاشنکوف کے اس دور میں صحافت اور سچائی کے رشتے کو قائم کیا اور اسلام و پاکستان کے پرچم کو سربلند رکھا اور بالآخر اسی راہِ وفا میں اپنی جان کا نذرانہ بھی پیش کر دیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر محمد صلاح الدین شہیدؒ

جنوری ۱۹۹۵ء

حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستیؒ

جمعیۃ علمائے اسلام پاکستان کے امیر حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستیؒ گزشتہ روز طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ان کی عمر 100 برس کے لگ بھگ تھی اور وہ 1962ء سے جمعیۃ علمائے اسلام پاکستان کے امیر چلے آرہے تھے۔ مولانا محمد عبد اللہ درخواستیؒ جنہیں پاکستان کے دینی و علمی حلقوں میں حضرت درخواستیؒ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، عالم اسلام کی ممتاز علمی شخصیات میں شمار ہوتے تھے اور جناب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کے ساتھ بے پناہ شغف اور بے شمار احادیث زبانی یاد ہونے کے باعث انہیں حافظ الحدیث کے لقب سے پکارا جاتا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستیؒ

نومبر ۱۹۹۴ء

مولانا محمد سعید الرحمان علویؒ اور دیگر مرحومین

میرے پرانے ساتھی اور معروف صاحب قلم مولانا محمد سعید الرحمان علویؒ گزشتہ روز اچانک حرکت قلب بند ہو جانے سے انتقال کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ مرحوم مجلس احرار اور جمعیۃ علمائے اسلام کے بزرگ راہنما حضرت مولانا محمد رمضان علویؒ کے فرزند تھے۔ مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں کئی سال تک طالب علمی کے دور میں ان سے رفاقت رہی، بعض اسباق میں ہم سبق بھی تھے، مطالعہ و تحریر کا ذوق طالب علمی کے دور میں ہی نمایاں تھا اور فراغت کے بعد ہفت روزہ خدام الدین، ترجمان اسلام اور چٹان میں ایک عرصہ تک کام کرتے رہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا محمد سعید الرحمان علویؒ اور دیگر مرحومین

نومبر ۱۹۹۴ء

مولانا مفتی عبد الباقی / مولانا منظور عالم سیاکھوی

گزشتہ ہفتہ کے دوران ورلڈ اسلامک فورم کے سرپرست اعلیٰ اور ویمبلڈن پارک لندن کی جامع مسجد کے خطیب حضرت مولانا مفتی عبد الباقی انتقال فرماگئے ہیں، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وہ کافی عرصہ سے فالج کے مریض تھے اور وفات کے وقت ان کی عمر ساٹھ برس سے زائد تھی۔ مفتی صاحب مرحوم کا تعلق صوبہ سرحد پاکستان کے ضلع مردان سے تھا، وہ حضرت السید مولانا محمد یوسف بنوریؒ کے معتمد شاگردوں میں شمار ہوتے تھے اور 1970ء کے لگ بھگ مولانا بنوریؒ ہی کے ارشاد پر لندن آگئے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا مفتی عبد الباقی / مولانا منظور عالم سیاکھوی

ستمبر ۱۹۹۴ء

مولانا عبد اللطیفؒ بالاکوٹی

گزشتہ ماہ کے دوران شاہی مسجد سرائے عالمگیر کے خطیب حضرت مولانا عبد اللطیف بالاکوٹی اللہ کو پیارے ہوگئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ان کی عمر ۷۴ برس کے لگ بھگ تھی۔ وہ دارالعلوم دیوبند کے فاضل تھے اور بالاکوٹ ہزارہ کے گاؤں بھنگیاں کے رہنے والے تھے۔ ان کی عمر کا بیشتر حصہ راولپنڈی، جہلم اور سرائے عالمگیر میں دینی علوم کی تدریس میں بسر ہوا۔ سرائے عالمگیر میں وہ 1961ء میں آئے اور آخر وقت تک وہیں دینی خدمات سر انجام دیتے رہے۔ شاہی مسجد میں خطابت کے علاوہ مرکزی عیدگاہ میں جامعہ حنفیہ تعلیم القرآن کے نام سے دینی درسگاہ قائم کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا عبد اللطیفؒ بالاکوٹی

فروری مارچ ۱۹۹۴ء

مولانا حکیم نذیر احمدؒ آف واہنڈو

ضلع گوجرانوالہ کے بزرگ عالم دین اور تحریک پاکستان کے سرگرم کارکن مولانا حکیم نذیر احمدؒ 22 نومبر 1993ء کو واہنڈو میں انتقال کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ان کی عمر اَسی برس تھی اور زندگی کا بیشتر حصہ انہوں نے دین کی تعلیم و تبلیغ میں بسر کیا۔ مولانا حکیم نذیر احمدؒ کی ولادت 1913ء میں واہنڈو میں ہوئی، زمیندار گھرانے سے تعلق تھا۔ دینی تعلیم انہوں نے ہنجانوالی نامی گاؤں میں مولانا حافظ عبد الغفور صاحب سے حاصل کی جو اس زمانہ میں علاقہ میں دینی تعلیم کا ایک بڑا مرکز شمار ہوتا تھا اور اس درسگاہ کا تعلق اہل حدیث مکتب فکر سے تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا حکیم نذیر احمدؒ آف واہنڈو

جنوری ۱۹۹۴ء

حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ

حضر ت مولانا غلام غوث ہزارویؒ سے میرا تعلق مختلف نسبتوں اور حوالوں سے ہے اور میں خود کو ان خوش قسمت افراد میں سمجھتا ہوں جنہیں حضرت مرحوم سے مسلسل استفادہ کا موقع ملا۔ زندگی کے کسی مرحلہ میں موقف اور پالیسی کے بارے میں اختلاف رائے پیدا ہو جانا ایک الگ امر ہے جو انسانی فطرت کا لازمی حصہ ہے، لیکن آج بھی اپنے دل کو ٹٹولتا ہوں تو بحمد اللہ تعالیٰ زندگی کے کسی لمحہ میں کوئی ایسا واضح جھول محسوس نہیں ہوتا جو حضر ت مولانا ہزارویؒ کے ساتھ عقیدت ومحبت اور ان کی دیانت وللہیت پر اعتماد کے حوالے سے خدا نخواستہ پیدا ہو گیا ہو، الحمد للہ علیٰ ذالک ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ

جون ۱۹۹۳ء

حضرت مولانا محمد اسحاق قادریؒ

گذشتہ دنوں باغبانپورہ لاہور کے بزرگ عالم دین حضر ت مولانا محمد اسحاق قریشی فاضل دیوبند طویل علالت کے بعد رحلت فرما گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ حضرت مرحوم قطب الاقطاب حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ کے خصوصی تربیت یافتہ حضرات میں سے تھے اور انہوں نے تمام عمر اپنے شیخ کی طرز پر قرآن کریم کی تعلیمات اور اللہ اللہ کا ورد عام کرنے میں بسر کر دی۔ ان کی نماز جنازہ حضرت الامیر مولانا محمد عبد اللہ درخواستی مدظلہ نے پڑھائی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا محمد اسحاق قادریؒ

مارچ ۱۹۹۳ء

مرزا غلام نبی جانباز مرحوم

خبر لگانے والے نیوز ایڈیٹر غریب کو کیا معلوم کہ جانباز مرزا کون تھا اور اس ملک و قوم کے لیے اس کی خدمات کیا تھیں؟ یہ خبر کسی آزادی و حریت کے قدردان ملک کے اخبار میں چھپتی تو اس کا انداز یہ نہ ہوتا۔ مگر ہمارا المیہ یہ ہے کہ آزادی کی باگ ڈور جن طبقات کے ہاتھ میں آئی انہیں اس کے لیے کچھ کرنا نہیں پڑا۔ آزادی کے لیے دو سو سال تک قربانیاں اور طبقوں نے دیں اور آزادی کے ثمرات سمیٹنے کے لیے دوسرے طبقات کو آگے بڑھا دیا گیا اس لیے انہیں کیسے خبر ہو سکتی ہے کہ آزادی کیا ہے اور اس کے لیے قوم کو کیا قیمت ادا کرنی پڑی ہے؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مرزا غلام نبی جانباز مرحوم

جنوری ۱۹۹۳ء

حافظ بشیر احمد مصری مرحوم

روزنامہ جنگ لندن نے ۱۴ جولائی ۱۹۹۲ء کی اشاعت میں یہ خبر شائع کی ہے کہ شاہ جہاں مسجد ووکنگ (لندن) کے سابق امام حافظ بشیر احمد مصری گزشتہ روز ۷۸ برس کی عمر میں لندن کے ایک ہسپتال میں انتقال کرگئے ہیں، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ خبر میں حافظ صاحب مرحوم کا تعارف ماحولیات اور تحفظ حیوانات کے ایک مسلم ماہر کی حیثیت سے کرایا گیا ہے جنہوں نے اس شعبہ میں نمایاں تحقیقی خدمات سرانجام دی ہیں اور اسلام میں حیوانات کے ساتھ برتاؤ کے موضوع پر ان کے مقالہ کو بین الاقوامی شہرت و مقبولیت حاصل ہوئی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حافظ بشیر احمد مصری مرحوم

اکتوبر ۱۹۹۲ء

ارشد میر ایڈووکیٹ مرحوم

ارشد میر ایڈووکیٹ پانچ اور چھ اکتوبر کی درمیانی شب اللہ تعالیٰ کو پیارے ہوگئے، اناللہ وانا الیہ راجعون۔ وہ خاصے عرصے سے ذیابیطیس کے مریض تھے اور سانس کی تکلیف بھی تھی لیکن ان کی وفات اتنی اچانک ہوئی کہ خبر سنتے ہی سناٹے کی سی کیفیت سے دوچار ہونا پڑا ۔ میر صاحب مرحوم میرے گنتی کے چند مخلص دوستوں میں سے تھے، تعلقانہ کی نوعیت دوستانہ سے بڑھ کر برادرا نہ تھی، وہ میرے پڑوسی بھی تھے اور مقتدی بھی، مجھ پر قائم ہونے والے بیشتر مقدمات میں وکیل صفائی رہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ارشد میر ایڈووکیٹ مرحوم

نومبر ۱۹۹۱ ء

حضرت مولانا محمد رمضان علویؒ

گزشتہ دنوں راولپنڈی کے ایک بزرگ عالم دین حضرت مولانا محمد رمضان علویؒ ٹریفک کے حادثہ میں زخمی ہونے کے بعد انتقال فرما گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ مولانا علویؒ بھیرہ کے رہنے والے تھے، دارالعلوم دیوبند کے فاضل تھے۔ باپ دادا سے قرآن کریم کی خدمت کا ذوق ورثہ میں ملا تھا۔ ایک عرصہ سے راولپنڈی میں قیام پذیر تھے۔ امیر شریعت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کے ساتھ خصوصی تعلق تھا۔ مجلس احرارِ اسلام میں طویل عرصہ رہے اور جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے ساتھ بھی کچھ عرصہ وابستگی رہی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا محمد رمضان علویؒ

مارچ ۱۹۹۰ء

مولانا حق نواز جھنگوی شہیدؒ

راقم الحروف اس روز شورکوٹ میں تھا، ظہر کے بعد جامعہ مدنیہ شورکوٹ کینٹ میں سالانہ جلسہ سے خطاب کیا اور حضرت علامہ ڈاکٹر خالد محمود مدظلہ کے ہمراہ مغرب کی نماز جامعہ عثمانیہ شورکوٹ شہر میں ادا کی۔ نماز کے بعد جامعہ عثمانیہ کے مہتمم مولانا بشیر احمد خاکی کے ساتھ ان کے دفتر میں بیٹھے تھے کہ مولانا حق نواز جھنگویؒ کا فون آیا۔ مولانا خاکی کے علاوہ انہوں نے علامہ صاحب اور راقم الحروف سے بھی بات کی۔ کم و بیش سات بجے کا وقت تھا، یہ ہماری آخری گفتگو تھی جو فون پر ہوئی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا حق نواز جھنگوی شہیدؒ

مارچ ۱۹۹۰ء

حضرت مولانا غلام اللہ خانؒ

مولانا غلام اللہ خانؒ شیخ العلماء حضرت مولانا حسین علیؒ اور خاتم المحدثین حضرت علامہ سید محمد انور شاہ کشمیریؒ کے مایہ ناز شاگردوں میں سے تھے جنہوں نے تمام عمر توحید کے پرچار میں صرف کر دی۔ انتہائی جری، بے باک اور معاملہ فہم راہنما تھے، قومی تحریکات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے، مجلس احرارِ اسلام کے پلیٹ فارم پر تحریکِ آزادی میں حصہ لیا، تحریک ختم نبوت کے دونوں ادوار میں سرگرم کردار ادا کیا، اسلامی نظام کے نفاذ کی جدوجہد اور تحریک نظام مصطفٰیؐ میں بھی علماء و عوام کی جرأت مندانہ رہنمائی کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا غلام اللہ خانؒ

نا معلوم

حضرت مولانا عزیر گلؒ

مولانا عزیر گلؒ کون تھے؟ آج کی نسل اس سے باخبر نہیں ہے اور نئی نسل کو اس کے ماضی اور اقدار و روایات سے باخبر رکھنے کی ذمہ داری جن حضرات پر ہے انہیں نہ اس کی ضرورت کا احساس ہے اور نہ ہی اس کی اہمیت ان کے ذہنوں میں موجود ہے۔ مولانا عزیر گلؒ اس قافلۂ حریت کے فرد تھے جس نے برصغیر پاک و ہند و بنگلہ دیش میں برطانوی استعمار کے تسلط کے خلاف عسکری، تہذیبی، تعلیمی اور سیاسی جنگ لڑی اور بالآخر اسے شکست دے کر اس خطۂ زمین کی آزادی کی راہ ہموار کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا عزیر گلؒ

دسمبر ۱۹۸۹ء

الشیخ عبد اللہ عزام شہیدؒ

ڈاکٹر عبد اللہ عزام شہیدؒ سعودی عرب کے رہنے والے تھے، یونیورسٹی کے پروفیسر تھے، جہادِ افغانستان کے آغاز کے ساتھ ہی جذبۂ جہاد سے سرشار ہو کر ملازمت سے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے محاذِ جنگ پر آگئے۔ مختلف محاذوں پر جنگ میں حصہ لیا، افغان مجاہدین کی حمایت و امداد کے لیے ادارہ قائم کیا، جہادِ افغانستان پر مقالات اور کتابیں لکھیں، ’’الجہاد‘‘ کے نام سے ایک معیاری عربی جریدے کی اشاعت کا اہتمام کیا اور ان جذبۂ جہاد سے سرشار عرب نوجوانوں کی راہنمائی اور قیادت کی جو مختلف ممالک سے جہادِ افغانستان میں شرکت کے لیے محاذوں پر پہنچے ہوئے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر الشیخ عبد اللہ عزام شہیدؒ

دسمبر ۱۹۸۹ء

مولانا حافظ شفیق الرحمانؒ

شہر کی بزرگ دینی شخصیت مولانا حافظ شفیق الرحمان 19 جون کو اچانک انتقال کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ حافظ صاحب مرحوم کا شمار گوجرانوالہ کی ممتاز شخصیات میں ہوتا تھا اور وہ معروف دینی درسگاہ مدرسہ نصرۃ العلوم کی مجلس انتظامیہ کے صدر تھے۔ ان کی نماز جنازہ شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر نے پڑھائی جس میں علماء، طلباء اور شہریوں نے ہزاروں کی تعداد میں شرکت کی اور اس کے بعد انہیں مقامی قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ مولانا حافظ شفیق الرحمان 1929ء میں امرتسر میں پیدا ہوئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا حافظ شفیق الرحمانؒ

۱۴ جولائی ۱۹۸۹ء

مولانا امیر الزمان خانؒ

آزاد کشمیر کے بزرگ عالم دین، جمعیۃ علماء اسلام کے سرگرم رہنما او رمدرسہ قاسم العلوم نعمان پورہ ضلع باغ کے بانی و مہتمم حضرت مولانا امیر الزمان خان گزشتہ روز طویل علالت کے بعد اسلام آباد کے پولی کلینک میں انتقال کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا امیر الزمان خانؒ

۳۰ جون ۱۹۸۹ء

مولانا تاج الدین بسمل شہیدؒ

جماعتی حلقوں میں یہ خبر انتہائی رنج و غم کے ساتھ پڑھی جائے گی کہ تحریک آزادی و تحریک ختم نبوت کے سرگرم کارکن اور جمعیۃ علماء اسلام صوبہ سندھ کے نائب امیر مولانا تاج الدین بسمل کو عید الفطر کے روز پڈعیدن ضلع نواب شاہ میں گولی مار کر شہید کر دیا گیا، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ مرحوم کا تعلق ضلع گجرات (پنجاب) سے تھا اور کم و بیش چالیس سال سے پڈعیدن میں رہائش پذیر تھے۔ انہوں نے تحریک آزادی، تحریک ختم نبوت اور تحریک نظام مصطفٰی میں سرگرم کردار ادا کیا تھا اور متعدد بار قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا تاج الدین بسمل شہیدؒ

۱۹ مئی ۱۹۸۹ء

حضرت مولانا محمد مالک کاندھلویؒ

تحریک پاکستان کے رہنما شیخ الاسلام علامہ شبیر احمدؒ عثمانی کے فکری جانشین اور جامعہ اشرفیہ لاہور کے شیخ الحدیث مولانا محمد مالک کاندھلویؒ راہیٔ ملکِ عدم ہوگئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ان کی عمر باسٹھ سال تھی اور وہ تحریک پاکستان کے بزرگ راہنما، مفسر و محدث اور جید عالم دین مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ کے فرزند ارجمند تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا محمد مالک کاندھلویؒ

۲۱ اکتوبر ۱۹۸۸ء

حضرت مولانا عبد الحقؒ

موت ایک اٹل حقیقت ہے جس سے کسی کو مفر نہیں، نہ کوئی پیغمبرؑ اس سے محفوظ رہا اور نہ کوئی ولی اور قطب، اس نے آنا ہوتا ہے اور یہ آ کر رہتی ہے۔ یوں تو لاکھوں افراد اس دار فانی سے گزر جاتے ہیں مگر بعض موتیں ایسی ہوتی ہیں جو ایک عالم کو یتیم اور بے سہارا کر جاتی ہیں اور ایسی موت کی کسک اور تکلیف صدیوں تک محسوس ہوتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا عبد الحقؒ

۲۳ ستمبر ۱۹۸۸ء

حضرت مولانا عبد الحقؒ

غالباً ۳۰ اگست کی صبح کا قصہ ہے راقم الحروف نیویارک کے علاقہ بروک لین میں ضلع گجرات کے ایک دوست جناب محمد دین کے ہاں قیام پذیر تھا۔ صبح نماز سے پہلے کا وقت تھا، میرے ساتھ کمرہ میں حضرت مولانا فداء الرحمان درخواستی بھی محو خواب تھے۔ خواب میں دیکھتا ہوں کہ گوجرانوالہ میں اپنے کمرہ میں بیٹھا ہوں، تبلیغی جماعت کے ایک بزرگ جناب ظفر علی ڈار میرے کمرہ میں آئے اور کہنے لگے کہ کیا آپ کو پتہ نہیں کہ شریعت بل کے محرک مولانا سمیع الحق انتقال کر گئے ہیں۔ میں نے چونک کر پوچھا کہ مولانا سمیع الحق یا مولانا عبد الحق؟ انہوں نے کہا ہاں ہاں مولانا عبد الحق کا انتقال گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا عبد الحقؒ

۲۳ ستمبر ۱۹۸۸ء

والدہ ماجدہ کا انتقال

شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر کی اہلیہ محترمہ اور جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا زاہد الراشدی (راقم الحروف) کی والدہ مکرمہ کا انتقال ہوگیا، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ مرحومہ کی عمر ساٹھ برس سے زائد تھی اور وہ کچھ عرصہ سے ذیابیطس او رہائی بلڈ پریشر کی مریضہ تھیں۔ دو ہفتہ سے ان کی طبعیت زیادہ خراب تھی چنانچہ انہیں شیخ زاید ہسپتال لاہور میں داخل کرا دیا گیا مگر وہ تین چار روز بیہوش رہنے کے بعد وفات پا گئیں۔ ان کی نماز جنازہ گکھڑ ضلع گوجرانوالہ میں مولانا محمد سرفراز خان صفدر مدظلہ نے پڑھائی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر والدہ ماجدہ کا انتقال

۲۹ اگست ۱۹۸۸ء

الحاج مولانا محمد زکریاؒ

مولانا محمد زکریا مرحوم کے ساتھ میرے روابط اور مراسم کا سلسلہ بہت پرانا تھا۔ وہ جمعیۃ علمائے اسلام پاکستان کے ان پرجوش، متحرک اور بے لوث ارکا ن میں شامل رہے جنہوں نے ایوبی مارشل لاء کے بعد جمعیۃ علمائے اسلام پاکستان کو ایک متحرک سیاسی قوت بنانے کے لیے دن رات ایک کر دیے، اور وسائل کی کمی بلکہ فقدان کے باوجود اپنی جدوجہد کے تسلسل میں کوئی فرق نہیں آنے دیا۔ مجھے ان کے ساتھ ان گنت اجتماعات میں شرکت کا موقع ملا، وہ بحث میں پرجوش حصہ لینے اور دوٹوک رائے دے کر اس پر مضبوطی کے ساتھ قائم رہنے کے عادی تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر الحاج مولانا محمد زکریاؒ

۲۱ اگست ۱۹۸۸ء

جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم

سترہ اگست کی شام کو ریڈیو پاکستان کی اس المناک خبر نے پوری قوم کو سکتہ کی کیفیت سے دوچار کر دیا کہ صدر جنرل محمد ضیاء الحق بہاولپور کے قریب فضائی حادثہ میں دیگر کئی فوجی افسران کے ہمراہ جاں بحق ہوگئے ہیں، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ صدر جنرل محمد ضیاء الحق متعدد اعلیٰ فوجی افسران کے ساتھ بہاولپور ڈویژن میں فوجی مشقیں دیکھنے کے بعد بہاولپور سے بذریعہ طیارہ اسلام آباد واپس جا رہے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم

۱۹ اگست ۱۹۸۸ء

خان عبد الغفار خان مرحوم

خان عبد الغفار خان مرحوم کا شمار برصغیر کی ان ممتاز شخصیات میں ہوتا ہے جنہوں نے برطانوی استعمار کے خلاف جنگ آزادی کی جرأت مندانہ قیادت کی اور عزم و استقلال کے ساتھ قربانیوں اور مصائب و آلام کے مراحل طے کر تے ہوئے قوم کو آزادی کی منزل سے ہمکنار کیا۔ انہوں نے وطن عزیز کی آزادی کے لیے قید و بند کی مسلسل صعوبتیں برداشت کیں اور تخویف و تحریص کے ہر حربہ کو ناکام بناتے ہوئے برٹش استعمار کو بالآخر اس سرزمین سے بوریا بستر سمیٹنے پر مجبور کر دیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر خان عبد الغفار خان مرحوم

۲۹ جنوری ۱۹۸۸ء

الشیخ ابوالنصر البیانویؒ

شام کے مجاہد عالم دین اور اسلامی محاذ شام کے سیکرٹری جنرل الشیخ محمد غیاث ابوالنصر البیانوی گزشتہ دنوں بیالیس سال کی عمر میں انتقال کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ مرحوم کا تعلق حلب کے ایک ممتاز علمی گھرانے سے ہے، ان کے والد محترم الشیخ احمد الدین البیانویؒ اور دادا محترم الشیخ عیسیٰ البیانویؒ اپنے وقت کے ممتاز علماء اور روحانی پیشواؤں میں شمار ہوتے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر الشیخ ابوالنصر البیانویؒ

۳۰ اکتوبر ۱۹۸۷ء

مولانا عبد الشکور دین پوریؒ

دوبئی میں ۱۶ اگست کو روزنامہ جنگ کراچی میں یہ افسوسناک خبر پڑھی کہ پاکستان کے معروف دینی راہنما اور خطیب مولانا عبد الشکور دین پوریؒ ۱۴ اگست کو انتقال کر گئے ہیں، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ حضرت الامیر مولانا محمد عبد اللہ درخواستی دامت برکاتہم کے برادرِ نسبتی تھے اور ملک کے نامور اور صاحب طرز خطباء میں شمار ہوتے تھے۔ احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا اچھا خاصا ذخیرہ انہیں یاد تھا اور اپنے خطابات میں موقع محل کی مناسبت سے ان کا بیان کرتے تھے۔ ان کی تقریر ہم قافیہ اور مترادف الفاظ سے بھرپور ہوتی تھی لیکن لفاظی کے ساتھ ساتھ تقریر میں مواد بھی خاصا ہوتا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا عبد الشکور دین پوریؒ

۱۱ ستمبر ۱۹۸۷ء

مولانا عبد العزیزؒ

مولانا عبد العزیزؒ ایران میں اہل سنت کے سب سے بڑے عالم دین تھے اور متعدد مرتبہ پارلیمنٹ کے رکن رہے ہیں۔ وہ ایک عرصہ سے صاحبِ فراش تھے اور اسی سال جنوری میں ایران کے دورہ کے موقع پر مولانا منظور احمدؒ چنیوٹی اور راقم الحروف نے وفد کے دیگر ارکان کے ہمراہ تہران میں مولانا عبد العزیزؒ سے ملاقات اور ان کی بیمار پرسی کی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا عبد العزیزؒ

۴ ستمبر ۱۹۸۷ء

الحاج مولانا عبد الشکور دین پوریؒ

۱۴ اگست ۱۹۸۷ء کو جب پوری قوم یوم آزادی منا رہی تھی، بہاولپور وکٹوریہ ہسپتال میں ملک کے معروف خطیب و مقرر، جید عالم دین، اسلامی مشن بہاولپور کے سربراہ جمعیۃ علماء اہل سنت کے امیر اور جمعیۃ علماء اسلام کے معروف راہنما الحاج مولانا عبد الشکور دین پوری راہیٔ ملک عدم ہوگئے، انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر الحاج مولانا عبد الشکور دین پوریؒ

۲۸ اگست ۱۹۸۷ء

سائیں محمد حیات پسروری مرحوم

ملک کے دینی و قومی حلقوں کے لیے یہ خبر انتہائی رنج و غم کا باعث ہوگی کہ تحریک آزادی کے ممتاز شاعر امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کے رفیق اور دینی قومی تحریکات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والے بزرگ راہنما سائیں محمد حیات پسروری گزشتہ روز طویل علالت کے بعد پسرور میں انتقال کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سائیں محمد حیات پسروری مرحوم

جولائی ۱۹۸۷ء

حافظ جی حضورؒ

بنگلہ دیش کے بزرگ عالم دین حافظ جی حضورؒ گزشتہ ماہ طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ان کی عمر ۹۰ برس سے متجاوز تھی اور وہ آخر دم تک نفاذِ اسلام کی جدوجہد میں مصروف رہے۔ حافظ جی حضورؒ حکیم الامت حضرت شاہ اشرف علی تھانوی قدس سرہ العزیز کے خلفاء میں سے تھے اور ایک بڑی دینی درسگاہ کے سربراہ تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حافظ جی حضورؒ

جون ۱۹۸۷ء

علامہ احسان الٰہی ظہیر شہیدؒ

گزشتہ شمارہ کے ادارتی صفحات میں ہم نے لاہور کی اہل حدیث کانفرنس میں بم کے دھماکے کی المناک واردات پر تبصرہ کرتے ہوئے اس میں زخمی ہونے والے دو اہل حدیث راہنماؤں علامہ احسان الٰہی ظہیر اور مولانا حبیب الرحمان یزدانی کے لیے دعائے صحت کی اپیل کی تھی لیکن مشیت ایزدی سے دونوں راہنما زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے انتقال کر گئے ہیں، انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر علامہ احسان الٰہی ظہیر شہیدؒ

۳ اپریل ۱۹۸۷ء

شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندیؒ

شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی رحمۃ اللہ علیہ کا شمار برصغیر پاک و ہند و بنگلہ دیش کے ان عظیم راہنماؤں میں ہوتا ہے جنہوں نے برطانوی استعمار کی غلامی کے دورِ عروج میں سورج غروب نہ ہونے والی سلطنت کے غلبہ و استعلا کو نہ صرف یہ کہ خود ذہنی اور شعوری طور پر قبول نہ کیا بلکہ فکر و عمل، جہد و استقامت اور رعزم و استقلال کی شمع کو اپنے خون سے روشن کر کے برادرانِ وطن کو آزادی اور استقلال کی اس شاہراہ پر گامزن کر دیا جس پر چلتے ہوئے اس خطہ کے عوام نے غلامی کی ہولناک دلدل کو عبور کر کے حریت کے میدان میں قدم رکھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندیؒ

۱۱ مارچ ۱۹۸۷ء

خان غلام سرور خان مرحوم

15 اپریل کو صبح نمازِ فجر کے بعد سرگودھا، خوشاب، میانوالی اور بنوں کے جماعتی سفر کے لیے پایۂ رکاب تھا کہ فون کے ذریعہ یہ روح فرسا خبر ملی کہ جمعیۃ علماء اسلام بہاولپور کے امیر خان غلام سرور خان انتقال کر گئے ہیں اور دس بجے دن بہاولپور میں ان کی نمازِ جنازہ ادا کی جائے رہی ہے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ نمازِ جنازہ کے لیے بہاولپور پہنچنا ممکن نہیں تھا اس لیے دکھی دل کے ساتھ طے شدہ سفر پر روانہ ہوگیا۔ غلام سرور خان مرحوم ایک عرصہ سے بیمار تھے، فالج کے ساتھ دل کا عارضہ بھی لاحق تھا اور تحریک نظام مصطفٰیؐ کے دوران پولیس کے وحشیانہ تشدد سے ان کا بازو بھی ٹوٹ گیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر خان غلام سرور خان مرحوم

۹ مئی ۱۹۸۶ء

حضرت مولانا محمد عبد اللہ رائے پوریؒ

غالباً ستائیسواں روزہ تھا کہ معمول کے مطابق صبح نو بجے کے قریب اخبار ہاتھ میں لیا تو اس کے دوسرے صفحہ پر ایک کالمی ایک سطری سرخی کے ساتھ کسی سیاہ حاشیہ کے بغیر چند سطری خبر تھی کہ جامعہ رشیدیہ ساہیوال کے شیخ الحدیث مولانا محمد عبد اللہؒ انتقال کر گئے۔ زبان پر بے ساختہ انا للہ وانا الیہ راجعون جاری ہوا اور دل دوہرے رنج و غم میں ڈوب گیا۔ ایک صدمہ مولانا مرحوم کی وفات پر اور دوسرا قومی پریس کی بے خبری، سطحیت، ظاہر بینی یا بے حسی پر کہ ایک قومی اخبار کے نامہ نگار یا ایڈیٹر کو اس بات کا اندازہ ہی نہیں ہو سکا کہ جس شخص کی وفات کی خبر کو وہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا محمد عبد اللہ رائے پوریؒ

۱۴ جولائی ۱۹۸۵ء

مولانا فضل رازقؒ

ہری پور ہزارہ کے ممتاز عالم دین اور صوبہ سرحد کی صوبائی کونسل کے رکن مولانا فضل رازق مرحوم کی اچانک موت علمی و دینی حلقوں کو ایک ایسے صدمے سے دوچار کر گئی ہے جس کی کسک حساس دلوں کو دیر تک محسوس ہوتی رہے گی۔ مولانا مرحوم نے تقریباً پینتیس برس کی مختصر عمر میں علمی و سیاسی حلقوں میں جو نمایاں مقام حاصل کر لیا تھا وہ ان کی خداداد صلاحیتوں اور مسلسل جدوجہد کا مظہر تھا اور انہیں ایک پختہ عالم، پرجوش خطیب اور زیرک سیاستدان کے ساتھ ساتھ ایک بے لوث اور انتھک سماجی کارکن کی حیثیت سے پہچانا جاتا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا فضل رازقؒ

۲۱ ستمبر ۱۹۸۴ء

مولانا سید نور الحسن شاہ بخاریؒ

حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب اور شمس العلماء حضرت مولانا شمس الحق افغانی قدس اللہ سرہما کی جدائی کا غم ابھی مندمل نہیں ہو پایا تھا کہ علمی دنیا کو ایک اور محقق عالم، وسیع المطالعہ مصنف اور نکتہ رس خطیب کی مفارقت کا غم بھی اٹھانا پڑ گیا ہے۔ یہ شخصیت حضرت مولانا سید نور الحسن شاہ بخاریؒ کی ہے جن کے بارے میں گزشتہ روز اخبارات میں غیر نمایاں طور پر ایک کالمی خبر شائع ہوئی ہے کہ ان کا ملتان میں دل کا دورہ پڑنے سے انتقال ہوگیا ہے، انا للہ وانا الیہ راجون ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا سید نور الحسن شاہ بخاریؒ

۲۰ جنوری ۱۹۸۴ء

حضرت مولانا مفتی عبد الواحدؒ ؔ

حضرت مولانا مفتی عبد الواحدؒ بھی طویل علالت کے بعد چل بسے اور وہاں کا رختِ سفر باندھا جہاں سے کوئی واپس نہیں آتا۔ مفتی صاحبؒ کم و بیش دس برس سے فالج، ذیابیطس اور بلڈ پریشر کے مریض تھے اور علالت کے طویل دور سے گزرتے ہوئے گزشتہ ہفتہ کو جناح میموریل ہسپتال گوجرانوالہ میں انتقال فرما گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا مفتی عبد الواحدؒ ؔ

۳۱ دسمبر ۱۹۸۳ء

حضرت مولانا مفتی عبد المتینؒ

دینی، علمی اور جماعتی حلقوں کے لیے یہ خبر انتہائی صدمہ کا باعث ہوگی کہ آزاد کشمیر کے بزرگ اور مقتدر عالم دین حضرت مولانا مفتی عبد المتین صاحب (تاریخ وفات: ۲۲/اکتوبر ۱۹۸۲ء) فاضل دیوبند طویل علالت کے بعد گزشتہ جمعہ کے روز راولپنڈی کے ایک پرائیویٹ ہسپتال میں انتقال فرما گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ مفتی صاحب مرحوم آزاد کشمیر کے علاقہ تھب تحصیل باغ کے رہنے والے تھے۔ شیخ الاسلام حضرت مولانا السید حسین احمد مدنی نور اللہ مرقدہ کے شاگرد اور والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر مدظلہ العالمی کے ہم سبق تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا مفتی عبد المتینؒ

نومبر ۱۹۸۲

حضرت مولانا عبد العزیز سہالویؒ

محدث پنجاب مولانا عبد العزیز سہالویؒ ۱۸۸۴ء میں تھانہ چونترہ ضلع راولپنڈی کی بستی سہال میں پیدا ہوئے، آپ کے والد محترم مولانا غلام رسول مرحوم بھی عالم دین تھے۔ مولانا عبد العزیزؒ نے ابتدائی تعلیم اپنے گھر میں اور اردگرد نواح کے روایتی درسوں میں حاصل کی، اس کے بعد انہی شریف کی معروف درسگاہ میں برصغیر کے نامور استاد حضرت مولانا غلام رسولؒ المعروف بابا انہی والے سے کافی عرصہ تعلیم حاصل کی، پھر دارالعلوم دیوبند چلے گئے اور دورۂ حدیث شریف شیخ الہند حضرت مولانا محمود الحسنؒ سے پڑھ کر سندِ فراغت حاصل کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا عبد العزیز سہالویؒ

۱۹۸۲ء

شاہ خالد مرحوم

گزشتہ دنوں اسلامی کانفرنس کے سربراہ اور سعودی عرب کے فرمانروا جلالۃ الملک شاہ خالد بن عبد العزیز آل سعود انتقال کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ شاہ خالد چند سال قبل اپنے مرحوم بھائی شاہ فیصل کی شہادت پر ان کے جانشین بنے تھے اور علالت کے باوجود پوری استقامت کے ساتھ اپنے شہیدؒ بھائی کے نقش قدم پر چلتے رہے اور ان کی پالیسیوں پر گامزن رہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر شاہ خالد مرحوم

۲۵ جون ۱۹۸۲ء

حضرت مولانا محمد زکریاؒ

یہ خبر پورے عالم اسلام کے لیے انتہائی صدمہ اور گہرے رنج و غم کا باعث بنی ہے کہ ملت اسلامیہ کے بزرگ رہنما، تبلیغ اسلام کی عالمی تحریک تبلیغی جماعت کے سرپرست اعلیٰ، مدرسہ مظاہر العلوم سہارنپور کے سابق شیخ الحدیث اور لاکھوں مسلمانوں کے روحانی پیشوا شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریاؒ ۲۴ مئی کو مدینہ منورہ میں طویل علالت کے بعد خالق حقیقی سے جا ملے، انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا محمد زکریاؒ

۲۸ مئی ۱۹۸۲ء

ارباب سکندر خان خلیل شہید

صوبہ سرحد کے سابق گورنر اور ملک کے معروف سیاسی رہنما ارباب سکندر خان خلیل گزشتہ روز صبح کے وقت جبکہ وہ معمول کے مطابق سیر کر رہے تھے، قاتلوں کی گولیوں کا نشانہ بنتے ہوئے خالق حقیقی سے جا ملے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ارباب صاحب مرحوم کا شمار بااصول، معتدل مزاج اور ایثار پیشہ راہنماؤں میں ہوتا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ارباب سکندر خان خلیل شہید

۱۹ مارچ ۱۹۸۲ء

حضرت مولانا عبد المالکؒ اور حضرت حافظ سراج الدینؒ

ہفتہ گزشتہ دو بزرگ ہستیاں اس جہانِ فانی سے کوچ کر گئیں، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ حضرت مولانا عبد المالکؒ حضرت مولانا دوست محمد قریشیؒ کے خلیفہ تھے۔ مرحوم شب زندہ دار صوفی منش بزرگ تھے، حضرات اکابر کی شخصیت کا آئینہ دار تھے اور آپ کے حلقۂ ارادت میں ہر طبقہ کے لوگ شامل تھے ۔۔۔ حضرت حافظ سراج الدینؒ قیام پاکستان کے بعد سے ضلع میانوالی کی آبادی کلورکوٹ میں قیام پذیر تھے۔ قرآن کریم حفظ و ناظرہ کی تعلیم کے بعد قرآن کریم کی تعلیم و تدریس کا سلسلہ شروع کر دیا تھا اور آخر وقت تک اس سلسلہ سے ناطہ جوڑے رکھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا عبد المالکؒ اور حضرت حافظ سراج الدینؒ

یکم جنوری ۱۹۸۲ء

حضرت مولانا مفتی محمودؒ

مولانا مفتی محمودؒ کو ہم سے جدا ہوئے ایک برس ہو چکا ہے۔ مفتی محمودؒ بنیادی طور پر ایک عالم دین تھے لیکن ان کی صلاحیتیں اور خوبیاں اس قدر متنوع تھیں کہ ان کے باعث موافق اور مخالف سب حلقوں میں ان کا دلی احترام پایا جاتا تھا اور ان کا بڑے سے بڑا مخالف بھی ان کے علم، تدبر اور حوصلہ کا معترف تھا۔ مرحوم کا نمایاں وصف ٹھوس اور ہمہ گیر علم تھا جو انہوں نے اپنے وقت کے جید علماء اور اساتذہ کی صحبت میں حاصل کیا اور پھر اسے افتاء و تدریس کی برس ہا برس کی علمی و تجرباتی زندگی میں پختہ کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا مفتی محمودؒ

۳۰ اکتوبر ۱۹۸۱ء

چودھری ظہور الٰہی شہید

چودھری ظہور الٰہی مرحوم نے پاکستان کی قومی سیاست میں جو سرگرم کردار ادا کیا ہے اور قومی تحریکات میں جس جوش و جذبہ کے ساتھ شریک ہوتے رہے ہیں اس کے باعث قومی حلقوں میں ان کی المناک موت اور وحشیانہ فائرنگ کی اس مذموم کاروائی پر گہرے رنج و غم اور شدید غم و غصہ کے جذبات کا مسلسل اظہار کیا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ چودھری ظہور الٰہی مرحوم کا شمار ان معدودے چند لیگی راہنماؤں میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی مخلصانہ روش، تحمل، رواداری اور اجتماعی سوچ کے باعث کم و بیش سبھی محب وطن حلقوں سے احترام اور اعتماد حاصل کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر چودھری ظہور الٰہی شہید

۹ اکتوبر ۱۹۸۱ء

مولانا سید امین الحقؒ

مولانا سید امین الحقؒ اپنے گاؤں طورو ضلع مردان میں طویل علالت کے بعد گزشتہ دنوں انتقال کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ امام المحدثین حضرت علامہ سید محمد انور شاہ کشمیریؒ کے مایہ ناز شاگردوں میں ان کا شمار ہوتا ہے۔ مولانا مرحوم حضرت اقدس مولانا احمد علی لاہوریؒ کے خلفاء میں سے تھے اور حضرت لاہوریؒ اور ان کے خانوادہ کے ساتھ مرحوم کا والہانہ تعلق آخر دم تک قائم رہا ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا سید امین الحقؒ

۲۵ ستمبر ۱۹۸۱ء

مولانا محمد شریف جالندھریؒ

ملتان کے معروف دینی ادارہ خیر المدارس کے مہتمم اور برصغیر کے نامور عالم دین حضرت مولانا خیر محمد جالندھریؒ کے فرزند حضرت مولانا محمد شریف جالندھریؒ حج بیت اللہ شریف کی ادائیگی کے لیے مکہ مکرمہ میں تھے کہ وہاں سے اچانک خبر آئی کہ مولانا موصوف کا مکہ میں انتقال ہوگیا ہے اور انہیں جنت المعلاۃ میں سپرد خاک کر دیا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا محمد شریف جالندھریؒ

۲۵ ستمبر ۱۹۸۱ء

مولانا محمد شریف جالندھریؒ اور مولانا سید امین الحقؒ

گزشتہ دنوں ہمیں فرشتہ اجل نے ملک کی دو قیمتی علمی و دینی شخصیتوں سے محروم کر دیا، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ملتان کے معروف دینی ادارہ خیر المدارس کے مہتمم اور برصغیر کے نامور عالم دین حضرت مولانا خیر محمد جالندھریؒ کے فرزند حضرت مولانا محمد شریف جالندھریؒ حج بیت اللہ شریف کی ادائیگی کے لیے مکہ مکرمہ پہنچے تو وہاں سے اچانک خبر آئی کہ مولانا موصوف کا مکہ میں انتقال ہوگیا ہے اور انہیں جنت المعلاۃ میں سپرد خاک کر دیا گیا ہے۔ جبکہ مولانا سید امین الحقؒ اپنے گاؤں طورو ضلع مردان میں طویل علالت کے بعد گزشتہ دنوں انتقال کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا محمد شریف جالندھریؒ اور مولانا سید امین الحقؒ

۲۵ ستمبر ۱۹۸۱ء

اہلیہ محترمہ حضرت مولانا مفتی محمد شفیعؒ

ماہنامہ البلاغ کراچی کے مطابق حضرت مولانا مفتی محمد شفیعؒ کی اہلیہ محترمہ گزشتہ دنوں طویل علالت کے بعد انتقال کر گئیں، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ نماز جنازہ حضرت مولانا ڈاکٹر عبد الحئی صاحب نے پڑھائی جس میں ہزاروں کی تعداد میں شہریوں اور علماء کرام نے شرکت کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اہلیہ محترمہ حضرت مولانا مفتی محمد شفیعؒ

۷ جولائی ۱۹۸۱ء

صدر ضیاء الرحمان شہید

بنگلہ دیش کے صدر جناب ضیاء الرحمان کو گزشتہ دنوں، جب وہ چٹاگانگ کے دورہ پر تھے، فوج کے بعض افسروں کی بغاوت کے دوران قتل کر دیا گیا، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ یہ بغاوت، جس کی قیادت میجر جنرل منظور احمد کر رہا تھا، بنگلہ دیش فوج کی مداخلت کے بعد ختم ہوگئی ہے۔ جنرل منظور احمد خود قتل ہوگیا ہے جبکہ اس کے رفقاء بنگلہ دیش حکومت کی حراست میں ہیں جن پر فوجی عدالت میں مقدمہ چلایا جائے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر صدر ضیاء الرحمان شہید

۱۲ جون ۱۹۸۱ء

مولانا محمد صدیق شہیدؒ

ٹیکسلا ضلع راولپنڈی کے ایک بزرگ عالم دین مولانا محمد صدیق کو گزشتہ دنوں جب وہ تعلیم القرآن ہائی سکول میں بچوں کو پڑھانے کے بعد گھر جا رہے تھے، راستہ میں گولی مار کر شہید کر دیا گیا، انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا محمد صدیق شہیدؒ

۲۹ مئی ۱۹۸۱ء

مولانا مفتی محمودؒ کی آئینی جدوجہد اور اندازِ سیاست

قائدِ محترم حضرت مولانا مفتی محمود قدس اللہ سرہ العزیز کی علمی، دینی اور سیاسی جدوجہد پر نظر ڈالتے ہوئے ان کی جو امتیازی خصوصیات او رنمایاں پہلو دکھائی دیتے ہیں ان میں ایک یہ بھی ہے کہ مرحوم نے قومی سیاست کے دھارے میں شامل ہو کر خود کو اس میں جذب نہیں کر دیا بلکہ وہ اس دھارے کو اپنے عزائم اور مقاصد کی طرف موڑنے میں کامیاب بھی رہے۔ اور اگر آپ آج سے پچیس سال قبل کی قومی سیاست کا آج کی قومی سیاست سے موازنہ کریں گے تو ان نمایاں تبدیلیوں کے پس منظر میں مولانا مفتی محمودؒ اور ان کے رفقاء کی جدوجہد جھلکتی نظر آئے گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا مفتی محمودؒ کی آئینی جدوجہد اور اندازِ سیاست

۱۷ اپریل ۱۹۸۱ء

حضرت مولانا مفتی محمودؒ کی وفات پر تعزیتی قرارداد

مجلس شوریٰ کے اجلاس میں قائد محترم حضرت مولانا مفتی محمود نور اللہ مرقدہ کو شاندار خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔ شرکائے اجلاس نے پرنم آنکھوں اور مضطرب دلوں کے ساتھ قائد مرحوم کے مشن پر کاربند رہنے کا عزم کرتے ہوئے ان کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی اور اس موقع پر انتہائی رقت انگیز فضا میں مندرجہ ذیل قرارداد کے ذریعہ حضرت مفتی اعظم رحمہ اللہ تعالیٰ کی دینی، سیاسی اور علمی خدمات پر انہیں خراج عقیدت پیش کیا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا مفتی محمودؒ کی وفات پر تعزیتی قرارداد

۱۹ دسمبر ۱۹۸۰ء

حضرت مولانا مفتی محمودؒ

دل زخمی ہے، جگر فگار اور ذہن حیرت کی وسعتوں میں گم کہ خدایا یہ اچانک بیٹھے بٹھائے کیا ہوگیا ہے۔ موت ایک ناگزیر حقیقت ہے جس سے کسی کو مفر نہیں، جو شخص دنیا میں آیا ہے اس نے جانا ہے۔ جب انبیاء علیہم الصلوات والتسلیمات جیسی ذوات مقدسمہ کو دنیا کی زندگی میں دوام نہ مل سکا تو اور کون ہے جسے موت سے مستثنیٰ قرار دیا جا سکے۔ مولانا مفتی محمودؒ بھی دوسرے انسانوں کی طرح گوشت پوست کے انسان تھے، ان کی ذات لافانی نہ تھی، انہوں نے بھی دنیا سے جانا تھا اور وہ اپنا وقت پورا کر کے خالق و مالک کی بارگاہ میں سرخرو چلے گئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا مفتی محمودؒ

۷ نومبر ۱۹۸۰ء

حضرت مولانا محمد حیاتؒ

مولانا محمد حیاتؒ ایک اولوالعزم انسان تھے جنہوں نے علامہ سید محمد انور شاہ کشمیری نور اللہ مرقدہ کی پیروی میں علمی محاذ پر قادیانیت کے تعاقب کو اپنا مشن بنایا اور پھر اپنا تمام تر علم و فضل، قوت و توانائی اور صلاحیتیں اس کے لیے وقف کر دیں۔ احرار کی قیادت نے انہیں قادیان میں اپنے مشن کے لیے بھیجا تو ان کی جرأت و استقامت نے ’’فاتح قادیان‘‘ کے خطاب کو ہمیشہ کے لیے ان کے سینے کا تمغہ بنا دیا۔ دیکھنے میں ایک بھولا سا جاٹ مگر عزم و ہمت کا پیکر یہ مرد درویش اپنے وقت کا عظیم مناظر تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا محمد حیاتؒ

۲۹ اگست ۱۹۸۰ء

مولانا عبد الحئیؒ آف بھوئی گاڑ

گزشتہ دنوں مولانا حکیم مفتی عبد الحئی آف بھوئی گاڑ انتقال کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ مولانا مرحوم کا تعلق قافلہ حق و صداقت سے تھا اور وہ اپنے علاقہ میں حق پرست قافلہ کے باہمت اور جری سالار تھے۔ انہوں نے ہر دینی و قومی تحریک میں قائدانہ حصہ لیا اور صبر و استقلال کی روایات زندہ کیں۔ وہ کفر و الحاد کے ہر وار کے سامنے علاقہ کے عوام کے لیے ڈھال بنے۔ وہ (جسمانی طور پر) معذور تھے لیکن انتخابی و تحریکی مہموں میں جماعتی مشن کو آگے بڑھانے کے لیے انہوں نے میدانی اور پہاڑی راستوں کو اپنے ناتواں قدموں تلے روند ڈالا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا عبد الحئیؒ آف بھوئی گاڑ

۲۹ اگست ۱۹۸۰ء

خان محمد کمتر مرحوم

شاعر تنظیم اہل سنت اور مداح صحابہؓ جناب خان محمد کمتر کی وفات بھی اہل حق کے لیے کچھ کم صدمہ کا باعث نہیں۔ مرحوم نے رفض و تشیع کے عروج اور جارحیت کے دور میں مدح صحابہ کرامؓ کو اپنی زندگی کا مشن بنایا اور پھر اس مشن میں شب و روز سفر کرتے ہوئے اپنی جان دے دی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر خان محمد کمتر مرحوم

۲۰ جون ۱۹۸۰ء

مولانا ابوبکر شہیدؒ

حضرت مولانا غلام اللہ خانؒ کی وفات کے دوسرے روز ریڈیو پاکستان کوئٹہ نے یہ روح فرسا خبر نشر کی کہ بلوچستان کے ممتاز عالم دین مولانا ابوبکر آف خضدار انتقال فرما گئے ہیں، انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا ابوبکر شہیدؒ

۲۰ جون ۱۹۸۰ء

مولانا سید محمد شمس الدین شہیدؒ

شہید حریت حضرت مولانا سید شمس الدین شہیدؒ کو ہم سے جدا ہوئے چھ برس ہوگئے ہیں مگر ان کی متحرک اور جری و جسور شخصیت ابھی تک نگاہوں کے سامنے پھر رہی ہے اور یوں لگتا ہے جیسے ابھی وہ ساتھ بیٹھے کام کرتے کرتے تھوڑی دیر کے لیے اٹھ کر باہر چلے گئے ہوں۔ دراصل شہیدؒ نے مختصر سی عملی زندگی میں اپنے اکابر احباب اور رفقاء کے دلوں میں جرأت و جسارت اور غیرت و حمیت کے کچھ ایسے نقوش قائم کر دیے ہیں کہ بڑے سے بڑے زخم کو مندمل کر دینے والا مرہم ’’وقت‘‘ بھی ان کی جدائی کے صدمہ کی شدت کو کم کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا سید محمد شمس الدین شہیدؒ

۲۱ مارچ ۱۹۸۰ء

مولانا سید محمد شمس الدین شہیدؒ

شہید حریت مولانا سید شمس الدین شہیدؒ کو ہم سے جدا ہوئے ۱۳ مارچ ۱۹۷۸ء کو چار برس ہو جائیں گے لیکن ان کی جرأت و استقامت اور عزم و استقلال کے مظاہر ابھی تک نظروں کے سامنے ہیں او ریوں لگتا ہے جیسے وہ ہم سے جدا ہو کر بھی ہمارے درمیان موجود ہیں متحرک ہیں اور سرگرم ہیں کہ جرأت و جسارت کا ہر واقعہ ان کی یاد کو دل میں تازہ کیے دیتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا سید محمد شمس الدین شہیدؒ

۲۴ مارچ ۱۹۷۸ء

شاہ فیصل بن عبد العزیز آل سعود شہید

۲۵ مارچ ۱۹۷۵ء کو اخبارات میں ڈاکٹر ہنری کسنجر وزیرخارجہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ کا یہ بیان جلی سرخیوں میں شائع ہوا کہ مشرق وسطیٰ میں ان کا امن مشن اسرائیل کی ہٹ دھرمی کے باعث ناکام ہوگیا ہے۔ اس کے ساتھ صدر انور سادات کا یہ نعرۂ حق بھی منظرِ عام پر آیا کہ اسرائیل نے ہٹ دھرمی ترک نہ کی تو جہاد شروع کیا جائے گا، اور عرب وزراء خارجہ کا ہنگامی اجلاس طلب کیے جانے کی خبر بھی اخبارات کی زینت بنی۔ یہ خبریں اس امر کا احساس دلانے کو کافی تھیں کہ مشرق میں ’’کچھ‘‘ ہونے والا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر شاہ فیصل بن عبد العزیز آل سعود شہید

۱۱ اپریل ۱۹۷۵ء

حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ

ملک کی مشہور دینی درسگاہ جامعہ اشرفیہ لاہور کے شیخ الحدیث اور مادر علمی دارالعلوم دیوبند کے سابق مدرس حضرت مولانا الحاج محمد ادریس کاندھلویؒ ۲۸ جولائی ۱۹۷۴ء بروز اتوار صبح ۵ بجے انتقال فرما گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ مولانا مرحوم ایک عظیم مدرس، یگانہ روز خطیب، قابل صد فخر محدث و مفسر اور ایک مایہ ناز مصنف تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ

۲ اگست ۱۹۷۴ء

مولانا سید شمس الدین شہیدؒ

جمعرات ۱۴ مارچ کی صبح کو ملک بھر میں یہ خبر انتہائی غم کے ساتھ سنی گئی کہ گزشتہ روز کوئٹہ فورٹ سنڈیمن روڈ پر پاکستان کے انتہائی قابل احترام عالم با عمل، عظیم سیاسی راہنما، بلوچستان جمعیۃ کے امیر، صوبائی متحدہ جمہوری محاذ کے نائب صدر اور صوبائی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر حضرت مولانا سید محمد شمس الدین شہید کر دیے گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ اس اندوہناک سانحہ نے ملک کے دینی و سیاسی حلقوں میں صفِ ماتم بچھا دی ہے۔ مولانا سید شمس الدین جمعیۃ علماء اسلام کے مقتدر راہنما تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا سید شمس الدین شہیدؒ

۲۲ مارچ ۱۹۷۴ء

حضرت مولانا سید گل بادشاہؒ

مناظر اسلام حضرت مولانا لال حسین اخترؒ اور خورشید المشائخ حضرت مولانا پیر خورشید احمدؒ کے وصال کے کچھ وقفہ بعد ہی شیر سرحد، مجاہد ملت اور بطل حریت حضرت مولانا سید گل بادشاہ ؒ بھی داغ مفارقت دے گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ حضرت مولانا سید گل بادشاہؒ اس قافلۂ حریت کی باقیات صالحات میں سے تھے جس نے لہو کے چراغ جلا کر اس ملک میں آزادی اور مذہب کے متوالوں کو شعور کی روشنی بخشی اور اپنا سب کچھ لٹا کر قوم کی متاع مذہب و حریت کو لٹنے سے بچایا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا سید گل بادشاہؒ

۲۰ جولائی ۱۹۷۳ء

حضرت مولانا لال حسین اخترؒ

۱۱ جون کو صبح ابھی اسباق سے فارغ نہیں ہوا تھا کہ لاہور دفتر سے فون پر یہ روح فرسا خبر ملی کہ شہنشاہِ اقلیمِ مناظرہ اور مجاہدِ جلیل حضرت مولانا لال حسین اختر صاحب امیر مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان جہانِ فانی سے رخصت ہو کر رب حقیقی سے جا ملے ہیں۔ زبان سے بے ساختہ انا للہ وانا الیہ راجعون جاری ہوا۔ جنازہ کے بارہ میں اطلاع ملی کہ صبح ۹ بجے دہلی دروازہ لاہور میں ادا ہوگا۔ اطلاع اور جنازہ کے درمیان بس اتنا ہی وقفہ تھا کہ بمشکل گوجرانوالہ سے لاہور پہنچا جا سکتا تھا، مگر احباب کو مطلع کرتے کرتے تاخیر ہوگئی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا لال حسین اخترؒ

۲۲ جون ۱۹۷۳ء