راجہ محمد انور

جمعہ کی چھٹی کا مسئلہ، اسلامی ریاست کی اصطلاح ۔ راجہ صاحب کے خیالات

راجہ انور صاحب نے اپنے مضمون میں جمعہ کی چھٹی کا ذکر کیا ہے، میثاق مدینہ کا حوالہ دیا ہے، کسی مسلم مملکت کو ’’اسلامی‘‘ قرار دینے پر اعتراض کیا ہے، اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قائم کردہ ریاست کو ’’دولۃ العربیۃ‘‘ کے طور پر پیش کرنے کی کوشش فرمائی ہے۔ اس لیے ان امور کے بارے میں کچھ معروضات پیش کرنا چاہتا ہوں۔ جمعہ کی چھٹی کے بارے میں راجہ صاحب کا ارشاد یہ ہے کہ اس پر بلاوجہ زور دیا جا رہا ہے حالانکہ اسلامی تاریخ میں اس کا کوئی ثبوت نہیں ملتا ۔ ۔ ۔

۲۵ و ۲۸ جولائی ۲۰۰۰ء

اسلامی نظام پر تھیاکریسی ہونے کا الزام!

یہ بزرگ اگر تھیاکریسی کی بنیاد رکھنے والے ہوتے تو آسانی کے ساتھ کہہ سکتے تھے کہ ہم خدا کے نمائندے ہیں اور ہماری بات حرف آخر ہے، اس لیے ہمارے کسی فیصلہ پر اعتراض نہیں ہو سکتا۔ لیکن انہوں نے قرآن و سنت کو اپنی رائے کے تابع کرنے کی بجائے خود کو اصولوں کے سامنے کھڑا کر کے یہ بتا دیا کہ اسلام میں تھیاکریسی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ یہ روایت اور طریق کار صرف حضرات خلفاء راشدینؓ کے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ آج بھی اسلام کے اصول یہی ہیں اور ان کی پابندی سے کوئی طبقہ یا شخصیت مستثنیٰ نہیں ہے ۔ ۔ ۔

۲۱ جولائی ۲۰۰۰ء

کیا نجات کے لیے ایمان اور نسبت کافی ہے؟

ہمارے جدید تعلیم یافتہ دانشوروں کی ایک مجبوری یہ ہے کہ اسلامی تعلیمات و احکام اور اسلامی تاریخ تک ان کی رسائی براہ راست نہیں بلکہ انگلش لٹریچر کے ذریعہ ہے۔ اور انگلش لٹریچر بھی وہ جو مسیحی اور یہودی مستشرقین کے گروہ نے اپنے مخصوص ذہنی ماحول اور تاریخی پس منظر میں پیش کیا ہے۔ مستشرقین کی تحقیقی کاوشوں اور جانگسل محنت سے انکار نہیں مگر اس کے اعتراف کے باوجود ان کے پیش کردہ لٹریچر کو ان کے ذہنی رجحانات اور فکری پس منظر سے الگ نہیں کیا جا سکتا ۔ ۔ ۔

۲۰ جولائی ۲۰۰۰ء

قیام پاکستان کی پہلی اینٹ کس نے رکھی؟

ڈاکٹر خٹک صاحب کے مراسلہ سے اندازہ ہوا کہ عام طور پر پائی جانے والی اس غلط فہمی کے بارے میں بھی کچھ عرض کرنا ضروری ہے کہ قیام پاکستان کی پہلی اینٹ سر سید احمد خان مرحوم نے رکھی تھی۔ یہ بات اتنے تواتر کے ساتھ کہی جانے لگی ہے بلکہ ہمارے سکولوں اور کالجوں میں پڑھائی جا رہی ہے کہ اس سے اختلاف کو ابتداء میں بہت عجیب سمجھا جائے گا مگر تاریخی تناظر پر منصفانہ نظر ڈالی جائے تو اس کی حقیقت ایک مغالطہ کے سوا کچھ نہیں ہے۔ اس حوالہ سے سب سے پہلے ہمیں اس امر کا جائزہ لینا ہوگا کہ قیام پاکستان کا مقصد کیا ہے؟ ۔ ۔ ۔

۱۳ جولائی ۲۰۰۰ء

شہدائے بالاکوٹ کا جہاد ۔ راجہ صاحب کی رائے

محترم راجہ انور صاحب نے تحریک آزادی، مجاہدین اور سید احمد شہیدؒ کے حوالہ سے پھر قلم اٹھایا ہے اور مختلف پہلوؤں پر اپنی معلومات اور تاثرات و خیالات کو قارئین کے سامنے رکھا ہے۔ راجہ صاحب کو ہم صاحب قلم، صاحب مطالعہ اور صاحب رائے دانشور سمجھتے ہیں اور انہیں تاریخی واقعات کا جائزہ لینے اور ان کے بارے میں اپنی رائے پیش کرنے کا پورا پورا حق حاصل ہے۔ لیکن کسی واقعہ یا تحریک کے بارے میں ایسا تاثر دینا کہ اس سے اس واقعہ یا تاریخ کا مجموعی تناظر ہی الٹ دیا جائے، تحقیق اور تجزیہ نگاری کے مسلمہ اسلوب اور معیار سے مطابقت نہیں رکھتا ۔ ۔ ۔

۵ جولائی ۲۰۰۰ء

صوفیائے کرام اور مجاہدین ۔ راجہ صاحب کا ایک مغالطہ

راجہ صاحب نے صوفیاء کرام اور مجاہدین کے الگ الگ راستوں کی نشاندہی کی ہے اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ مجاہدین کی طرح تلوار لہرا کر اسلام کا نعرہ لگانے کی بجائے صوفیاء کرام کی طرح خاموشی، محبت اور رواداری کے ساتھ اسلام کی دعوت دینا زیادہ مؤثر ہے۔ لیکن راجہ صاحب یہ تاریخی حقیقت نظر انداز کر گئے ہیں کہ صوفیاء کرام اور مجاہدین کا راستہ کبھی ایک دوسرے سے متضاد اور مختلف نہیں رہا، دونوں ایک دوسرے کے کام میں ہمیشہ معاون و مددگار رہے ہیں۔ میں اپنے اس دعویٰ کے ثبوت میں ہندوستان پر ہونے والے تین بڑے عسکری حملوں کا حوالہ دینا چاہوں گا ۔ ۔ ۔

۱۶ مئی ۲۰۰۰ء

جہاد کے حوالے سے راجہ صاحب کی الجھن

راجہ صاحب نے لکھا ہے کہ ’’جہاں مسلم ریاست اپنا وجود یا اپنا اقتدار اعلیٰ کھو دے وہاں عوامی حمایت (اجتہاد) کے ذریعے مسلح تحریک آزادی (یعنی جہاد) کا آغاز تو کسی حد تک قابل فہم معاملہ ہے لیکن جہاں مسلم ریاست مکمل طور پر اپنا وجود رکھتی ہو اور اس کا اقتدار اعلیٰ بھی کلیتاً اس کے پاس ہو وہاں جہاد کا اعلان کون کرے گا؟‘‘ گویا اس طرح راجہ صاحب محترم نے متحدہ ہندوستان میں برطانوی سامراج کے خلاف مسلمانوں کے جہاد آزادی اور روسی استعمار کے خلاف افغان عوام کے جہاد میں فرق ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے ۔ ۔ ۔

۱۵ مئی ۲۰۰۰ء

علماء دیوبند اور سر سید احمد خان مرحوم ۔ راجہ صاحب کی غلط فہمی

راجہ انور صاحب محترم نے جنگ آزادی میں علماء دیوبند کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے یہ شکایت کی ہے کہ علماء دیوبند نے جدید سائنسی علوم کو استعماری سازش قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا تھا۔ اور پھر انہوں نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ اسی وجہ سے علماء کے مقابلہ میں سرسید احمد خان مرحوم کی سوچ کو کامیابی ہوئی ہے اور زندگی کی دوڑ میں علماء دیوبند پیچھے رہ گئے ہیں۔ میرے خیال میں یہ شکایت اور نتیجہ دونوں تاریخی طور پر درست نہیں ہیں۔ شکایت اس لیے کہ علماء دیوبند یا کسی بھی طبقہ کے سنجیدہ علماء نے سائنسی علوم کو کبھی استعماری سازش قرار نہیں دیا اور نہ ہی ان کی مخالفت کی ہے ۔ ۔ ۔

۱۴ مئی ۲۰۰۰ء

عقائد اور نظریات میں بنیادی فرق

(۱) عقائد: جن کی بنیاد وحی الٰہی اور نص قطعی پر ہے اور ان میں کمی بیشی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ (۲) عقائد کی تعبیر و تشریح: جن کی بنیاد میسر معلومات اور دائرہ تحقیق پر ہے اور اس معاملہ میں اہل علم کی رائے آپس میں مختلف ہو سکتی ہے۔ (۳) افکار و نظریات: جن کی بنیاد انسان کی فکر و نظر پر ہے اور ان میں ہر وقت حرکت قائم رہتی ہے۔ کسی بھی شخص کی فکر یا نظریہ کبھی حرف آخر نہیں ہوتا اور شعور و آگہی کے دائرہ میں وسعت کے ساتھ افکار و نظریات میں ارتقاء کا سلسلہ بھی کسی تعطل کے بغیر جاری رہتا ہے ۔ ۔ ۔

۱۳ مئی ۲۰۰۰ء

مذہبی طبقات کا طرز مباحثہ ۔ راجہ صاحب کا تاثر

راجہ صاحب کے ساتھ اس گفتگو میں بنیادی طور پر دو نکات زیر بحث ہیں۔ ایک ’’مذہبی کج بحثی‘‘ کے حوالہ سے کہ راجہ صاحب کو شکایت ہے کہ مذہبی لوگوں میں برداشت اور دوسرے فریق کی رائے کے احترام کا مادہ کم ہوتا ہے جس سے مذہبی جھگڑے جنم لیتے ہیں اور مذہبی بحث و مباحثہ افہام و تفہیم کے ماحول کا باعث بننے کی بجائے تنازعات کی شدت میں اضافے کا سبب بن جاتا ہے۔ مجھے راجہ صاحب کی رائے سے اتفاق ہے لیکن ایک استثناء کے ساتھ کہ سب اہل دین اور اصحاب علم کے بارے میں یہ تاثر قائم کر لینا درست نہیں ہے ۔ ۔ ۔

۱۲ مئی ۲۰۰۰ء

راجہ صاحب کی خدمت میں

جہاں تک اختلاف رائے کا تعلق ہے میں اس کا حق ہر صاحب الرائے کے لیے تسلیم کرتا ہوں، پھر وہی حق اپنے لیے کسی رو رعایت کے بغیر مانگتا ہوں اور اسے بے جھجھک استعمال بھی کرتا ہوں۔ راجہ صاحب محترم کو یہ غلط فہمی ہے کہ اہل دین کج بحث ہوتے ہیں اور کسی منطق اور استدلال کے بغیر محض تقدس اور احترام کے زور پر اپنی بات منوانے کے درپے ہو جاتے ہیں۔ ممکن ہے ان کا واسطہ کبھی کسی کج بحث سے پڑ گیا ہو، ورنہ جہاں تک دین کے اصولوں کا تعلق ہے ان کی بنیاد ہمیشہ استدلال اور جائز حدود میں اختلاف رائے کے احترام پر رہی ہے ۔ ۔ ۔

یکم اپریل ۲۰۰۰ء