رپورٹس

’’اسلامائزیشن‘‘ کو درپیش خطرات اور آل پارٹیز کانفرنسیں

بہت سے اہم قومی و بین الاقوامی معاملات کچھ نہ کچھ کہنے کا تقاضہ کر رہے ہیں مگر ’’اسلامائزیشن‘‘ ہمیشہ ہماری اولین ترجیح رہی ہے اور اسی حوالہ سے گزشتہ ہفتہ کے دوران مختلف مکاتب فکر اور دینی و سیاسی جماعتوں کے سرکردہ راہنماؤں کے قومی سطح پر دو تین مشترکہ اجتماعات ہوئے ہیں جن کے فیصلوں کو ریکارڈ میں لانا ضروری ہے، چنانچہ ان اجتماعات کی اجمالی رپورٹنگ اس کالم میں شامل کی جا رہی ہے ۔ ۔ ۔

یکم ستمبر ۲۰۱۷ء

ملی و ملکی حالات اور پاکستان شریعت کونسل کا سالانہ اجلاس

مرکزی مجلس شوریٰ کا سالانہ اجلاس مرکز حافظ الحدیث درخواستیؒ حسن ابدال میں حضرت مولانا فداء الرحمان درخواستی کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں ملک کے مختلف حصوں سے علماء کرام نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ جبکہ مولانا عبدا لرؤف فاروقی، مولانا قاضی محمد رویس خان ایوبی، مولانا عبد القیوم حقانی، مولانا قاری جمیل الرحمان اختر، مولانا محمد رمضان علوی، مولانا عبد الخالق، مولانا ثناء اللہ غالب، مولانا عبد الرؤف محمدی، مولانا عبد الرزاق، مفتی محمد نعمان احمد، قاری محمد نعیم سعدی، قاری عبید اللہ عامر، جناب صلاح الدین فاروقی، پروفیسر حافظ منیر احمد اور دیگر رہنماؤں نے مختلف امور پر اظہارِ خیال کیا ۔ ۔ ۔

۲۱ جولائی ۲۰۱۷ء

سالانہ تعطیلات ۱۴۳۸ھ کا آخری سفر

ظہر کی نماز ہم نے ملہو والی میں پڑھی جو حضرت مولانا گل شیر شہیدؒ اور حضرت مولانا نور محمدؒ کے حوالہ سے دینی حلقوں میں ایک تعلیمی اور تحریکی مرکز کے طور پر تاریخی شہرت رکھتا ہے۔ شیعہ راہنما علامہ ساجد نقوی اسی قصبہ سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کا وہاں تعلیمی مرکز بھی ہے۔ مجھے جماعت اسلامی کے حلقہ کے ایک دینی مدرسہ میں ’’وحدت امت کے تقاضوں‘‘ پر گفتگو کرنا تھی۔ اس علاقہ کی مسلکی فضا کے پیش نظر میں وحدت امت پر گفتگو کے لیے تمہید سوچ رہا تھا کہ جس مسجد میں پروگرام تھا اس میں داخل ہوتے ہوئے نظر گیٹ پر لکھے ہوئے ’’مسجد ذوالنورین‘‘ پر پڑ گئی اور مجھے عنوان مل گیا ۔ ۔ ۔

۱۸ جولائی ۲۰۱۷ء

ساہیوال میں ایک ’’تعلیمی سہ روزہ‘‘

سالانہ تعطیلات گزر جانے کے بعد دینی مدارس میں نئے سال کی تعلیمی سرگرمیوں کا آغاز ہوگیا ہے، داخلے جاری ہیں، تعلیمی پروگراموں کے حوالے سے مشاورتی اجلاس ہو رہے ہیں اور بہت سے مقامات پر نئے تعلیمی سال کے آغاز پر خصوصی تقریبات کا اہتمام بھی کیا جا رہا ہے۔ متعدد دینی اداروں کا تقاضہ رہتا ہے کہ میں ان کے ہاں حاضری دوں لیکن باقاعدہ اسباق شروع ہوجانے کے بعد شہر سے باہر کے پروگراموں کے لیے سفر میں نے ترک کر دیا ہے، اس لیے چند ضروری تقاضوں کو شوال کی تعطیلات کے دوران ہی نمٹانے کی ترتیب بنا لی ۔ ۔ ۔

۱۰ جولائی ۲۰۱۷ء

فضلاء کرام کے چند تربیتی اجتماعات میں شرکت

گزشتہ دو تین روز وفاقی دارالحکومت اور اس کے اردگرد گزارنے کا موقع ملا۔ باگڑیاں گکھڑ کے مدرسہ کے استاد مولانا محمد جاوید اور ان کے ساتھی محمد عمران رفیق سفر تھے۔ ہماری بڑی ہمشیرہ محترمہ اچھڑیاں ہزارہ سے آنکھوں کے آپریشن کے لیے چھوٹی ہشیرہ کے پاس جھلم آئی ہوئی ہیں جہاں ان کی بیمار پرسی اور دونوں بہنوں سے ملاقات کی۔ ہمارے بھانجے اور جامعہ حنفیہ جھلم کے مہتمم مولانا حافظ محمد ابوبکر صدیق حال ہی میں برطانیہ کے سفر سے واپس آئے ہیں، ان سے وہاں کے حالات معلوم کیے اور مختلف امور پر تبادلۂ خیالات ہوا ۔ ۔ ۔

۱۱ مئی ۲۰۱۷ء

جنوبی پنجاب کا سفر

ٹیکسلا کے جناب صلاح الدین فاروقی ہمارے پرانے ساتھی ہیں جن کے ساتھ کم و بیش نصف صدی سے نظریاتی اور تحریکی رفاقت چلی آرہی ہے۔ شروع ہی سے تحریکی پروگراموں کے اجتماعات کا ریکارڈ (آڈیو و تحریر کی صورت میں) محفوظ رکھنے کا ذوق رکھتے ہیں اور بہت سا قیمتی ذخیرہ سنبھالے ہوئے ہیں۔ ہمارے ایک اور ساتھی مولانا صالح محمد حضروی بھی اب سرکاری ملازمت سے ریٹائر ہو کر ان کے ساتھ شامل ہوگئے ہیں، جو ۱۹۸۰ء کی دہائی میں ہفت روزہ خدام الدین کی ادارت میں مولانا سعید الرحمان علویؒ کے ساتھ شریک کار رہے ہیں ۔ ۔ ۔

۲۵ اپریل ۲۰۱۷ء

سودی نظام کا شکنجہ اور ’’عذر لنگ‘‘

وفاقی شرعی عدالت نے گزشتہ دنوں سودی نظام کے بارے میں مقدمہ کی سماعت یہ کہہ کر غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی ہے کہ جب سود کو حرام قرار دیا گیا تھا اس وقت حالات آج سے مختلف تھے، جبکہ آج کے حالات میں سود، ربوٰا اور انٹرسٹ کی کوئی متعینہ تعریف اور ان کے درمیان فرق واضح نہیں ہے اس لیے ان حالات میں مقدمہ کی سماعت کو جاری نہیں رکھا جا سکتا۔ اس حوالہ سے ملک بھر میں اہل دین اور اہل علم کی طرف سے اظہار خیال کا سلسلہ جاری ہے اور پاکستان شریعت کونسل نے بھی گزشتہ روز راولپنڈی میں ایک مشاورت کا اہتمام کیا ۔ ۔ ۔

۲۰ اپریل ۲۰۱۷ء

انسدادِ سود قومی کنونشن

جماعت اسلامی پاکستان کے امیر جناب سراج الحق کی زیرصدارت منعقدہ اس سیمینار سے خطاب کرنے والوں میں مولانا سمیع الحق، علامہ ساجد نقوی، مولانا حافظ عبد الغفار روپڑی، جناب حامد میر، مولانا اشرف علی، جناب عبد اللہ گل، اعجاز احمد چودھری، مفتی محمد سعید خان، ڈاکٹر فرید احمد پراچہ، پروفیسر محمد ابراہیم خان اور جناب اسد اللہ بھٹو کے علاوہ جمعیۃ العلماء پاکستان نورانی گروپ، جماعت الدعوہ پاکستان، پاکستان عوامی تحریک، وفاق العلماء الشیعہ اور دیگر جماعتوں کے سرکردہ راہنما شامل ہیں۔ سیمینار میں متفقہ طور پر منظور کیا جانے والا اعلامیہ درج ذیل ہے ۔ ۔ ۔

۱۵ مارچ ۲۰۱۷ء

راولپنڈی، اسلام آباد، پشاور، نوشہرہ اور چارسدہ کا سفر

موجودہ عالمی اور ملکی صورتحال پر ایک سرسری نظر ڈالتے ہوئے طلبہ سے عرض کیا کہ آپ کے لیے سب سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ اپنے علم کو پختہ کریں اور تعلیم کی طرف پوری توجہ دیں۔ اس لیے کہ علمی استعداد اور صلاحیت جس قدر مضبوط ہوگی اسی قدر آج کے فکری اور علمی فتنوں کا اعتماد کے ساتھ مقابلہ کر سکیں گے۔ جبکہ ادھورا علم اور ناقص استعداد خود فتنوں کا باعث بن جاتی ہے۔ اس لیے ’’ملاّ‘‘ بننے کی کوشش کریں اور ’’نیم ملاّ‘‘ نہ بنیں کیونکہ نیم ملا ہمیشہ ایمان کے لیے خطرہ ثابت ہوتا ہے ۔ ۔ ۔

۲۵ جنوری ۲۰۱۷ء

تبلیغی سہ روزہ اور حضرت سندھیؒ کی یاد میں ایک مجلس

ہمیں اپنے بزرگوں سے صحیح استفادہ کے لیے اس نفسیات اور مزاج کے ماحول سے نکلنے کی کوشش کرنی چاہیے اور اکابر کی زندگیوں کے ان پہلوؤں کو سامنے لانا چاہیے جن کا تعلق امت کی اجتماعی راہنمائی سے ہے اور جن سے نئی نسل کو اس کی تربیت و اصلاح کے لیے آگاہ کرنا زیادہ ضروری ہے۔ اس پس منظر میں حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ کی جدوجہد، افکار و تعلیمات اور حوصلہ و کردار کے بارے میں چند گزارشات اس موقع پر میں نے پیش کیں جس کی کچھ تفصیل ایک مستقل کالم کی صورت میں سامنے لانے کا ارادہ رکھتا ہوں، ان شاء اللہ تعالیٰ ۔ ۔ ۔

۱۵ نومبر ۲۰۱۶ء

مذہبی منافرت کا سدباب ۔ قومی علماء و مشائخ کونسل کا اجلاس

اجلاس کے دوران دینی مدارس کے نصابات کے حوالہ سے تفصیلی گفتگو ہوئی اور ارکان نے کھل کر اپنے جذبات کا اظہار کیا جس کے اہم نکات درج ذیل ہیں: (۱) نصاب تعلیم کا جائزہ صرف دینی مدارس کے حوالہ سے کافی نہیں بلکہ ملک میں سرکاری اور پرائیویٹ سطح پر اس وقت رائج تمام نصابوں کا دو حوالوں سے جائزہ لینا ضروری ہے۔ ایک یہ کہ درجنوں قسم کے الگ الگ نصابات ملک میں جاری ہیں جن کے اہداف اور نتائج ایک دوسرے سے مختلف ہیں اور معاشرہ میں ذہنی اور تہذیبی خلفشار کا باعث بن رہے ہیں ۔ ۔ ۔

۱۲ نومبر ۲۰۱۶ء

ختم نبوت کانفرنس چناب نگر ۲۰۱۶ء

چناب نگر میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی سالانہ کانفرنس 27و 28 اکتوبر کو منعقد ہو رہی ہے اور ملک کے مختلف حصوں سے دینی جماعتوں اور مکاتب فکر کے سرکردہ راہنما اس سے خطاب کر رہے ہیں۔ راقم الحروف کو ایک عرصہ تک اس کانفرنس میں شرکت کی سعادت حاصل ہوتی رہی ہے بلکہ یہ سعادت اس دور میں بھی حاصل رہی ہے جب یہ کانفرنس چنیوٹ کے میونسپل ہال میں منعقد ہوا کرتی تھی۔ مگر اب چند سالوں سے اس سے محروم ہوں جس کی وجہ چنیوٹ کی ضلعی انتظامیہ کا وہ حکم نامہ ہے جو چند دیگر علماء کرام سمیت مجھ پر ہر ایسے اجتماع سے قبل لاگو ہو جاتا ہے ۔ ۔ ۔

۲۸ اکتوبر ۲۰۱۶ء

ملی یکجہتی کونسل پاکستان کا سالانہ اجلاس

ملی یکجہتی کونسل کا قیام اب سے دو عشرے قبل عمل میں لایا گیا تھا۔ مولانا شاہ احمدؒ نورانیؒ، مولانا سمیع الحق، قاضی حسین احمدؒ ، ڈاکٹر اسرار احمدؒ ، اور دیگر زعماء اس میں سرگرم عمل تھے۔ یہ وہ دور تھا جب ملک میں سپاہ صحابہؓ اور تحریک جعفریہ آمنے سامنے تھیں، سنی شیعہ کشیدگی قتل و غارت کے عروج کے دور سے گزر رہی تھی اور دونوں طرف کی بہت سی قیمتی جانیں اس کی بھینٹ چڑھ چکی تھیں۔ اس پس منظر میں ملی یکجہتی کونسل کا قیام عمل میں لایا گیا تاکہ اس کشیدگی کو کنٹرول کیا جائے اور فرقہ وارانہ تصادم کو مزید آگے بڑھنے سے روکا جائے ۔ ۔ ۔

۲ اکتوبر ۲۰۱۶ء

پاکستان شریعت کونسل کا اجلاس

اجلاس میں ان اقدامات کو دینی مدارس کے خلاف امتیازی اور جانبدارانہ پالیسی کا مظہر قرار دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ جب ملک بھر میں پرائیویٹ سیکٹر کے ہر شعبہ میں ہزاروں پرائیویٹ تعلیمی ادارے کام کر رہے ہیں اور انہیں تسلیم کیا جا رہا ہے تو صرف دینی مدارس کو پرائیویٹ سیکٹر سے نکال کر وزارت تعلیم کے انتظام میں دینے کی بات کیوں کی جا رہی ہے؟ اسی طرح ملک بھر کے پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے حسابات کی چیکنگ کا جو نظام موجود ہے اس سے ہٹ کر دینی مدارس کے معاملات کو خفیہ اداروں کے سپرد کردینے کا کیا جواز ہے ۔ ۔ ۔

۲۴ ستمبر ۲۰۱۶ء

ترکی اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر ایک اجلاس

ضرورت اس امر کی ہے کہ ایران اور سعودی عرب دونوں سے اس مسئلہ پر بات کی جائے، دونوں کی باہمی شکایات کا جائزہ لیا جائے اور اس تنازعہ کو مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے دونوں کو ایک میز پر لایا جائے۔ ظاہر بات ہے کہ عالمی قوتوں سے اس بات کی توقع نہیں کی جا سکتی اس لیے کہ وہ خود اس آگ کو بھڑکانے میں خاص دلچسپی رکھتی ہیں اور اسی میں وہ اپنا مفاد سمجھتی ہیں۔ اس لیے عالم اسلام کو ہی اس سلسلہ میں کوئی کردار ادا کرنا ہوگا اور اس کے لیے سب سے اہم کردار او آئی سی کا بنتا ہے کہ وہ خاموش تماشائی بنے رہنے کی بجائے اس معاملہ میں متحرک ہو ۔ ۔ ۔

۲۰ جولائی ۲۰۱۶ء

تین دن مغربی روٹ پر

ہمارے سفر کی اصل منزل چودھواں ہی تھی کہ برادرم مولانا عبد القیوم حقانی کے ارشاد پر دارالعلوم عربیہ حنفیہ کے سالانہ جلسہ میں حاضری کا وعدہ کر رکھا تھا جو ہمارے بزرگوں مولانا مفتی عطاء محمدؒ ، مولانا عبد المنانؒ ، مولانا عبد الحقؒ ، اور قاری محمد رفیقؒ کی یادگار ہے۔ اور یہ ادارہ مولانا مفتی محمد یونس کی محنت و کاوش سے بنین و بنات دونوں شعبوں میں ترقی کی منازل طے کر رہا ہے۔ دستار بندی کے ساتھ ساتھ بخاری شریف کے افتتاحی سبق کا پروگرام بھی تھا۔ فیصل آباد کے مولانا اصغر علی نے یہ فریضہ سر انجام دیا اور اس سے دارالعلوم مذکور میں پہلی بار دورۂ حدیث کا آغاز ہوگیا ۔ ۔ ۔

۱۶ جولائی ۲۰۱۶ء

ممتاز قادریؒ کی پھانسی اور مذہبی طبقات کا رد عمل

غازی ممتاز قادری شہیدؒ کو پھانسی دیے جانے کے بعد ملک بھر میں دینی حلقوں میں اضطراب اور بے چینی نے باہمی رابطوں کا جو ماحول پیدا کر دیا ہے وہ یقیناًخوش آئند ہے اور اس سے دینی کارکنوں کا حوصلہ بڑھ رہا ہے ۔ ۔ ۔ میڈیا نے غازی ممتاز قادری شہیدؒ کے جنازہ اور ملک بھر کی احتجاجی سرگرمیوں کو جس طرح بلیک آؤٹ کیا ہے وہ انتہائی افسوسناک ہے، یہ طرز عمل اظہار رائے کی آزادی اور رائے عامہ کے جمہوری حق کے منافی ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے ۔ ۔ ۔

۸ مارچ ۲۰۱۶ء

حالات حاضرہ ۔ پاکستان شریعت کونسل کی قراردادیں

یہ اجتماع اس عزم کا ایک بار پھر اظہار ضروری سمجھتا ہے کہ پاکستان کو اسلامی تشخص سے محروم کرنے، دستور کی اسلامی بنیادوں کو کمزور کرنے اور پاکستانی قوم کو اسلامی و مشرقی ثقافتی اقدار و روایات کے ماحول سے نکال کر مغربی و ہندووانہ ثقافت کو فروغ دینے کی ہر کوشش کا مقابلہ کیا جائے گا۔ اور پاکستانی قوم متحد ہو کر اپنے عقائد و اقدار کا تحفظ کرتے ہوئے اسلام کے معاشرتی کردار کے خلاف عالمی و ملکی سیکولر لابیوں کی کسی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دے گی ۔ ۔ ۔

۲۷ فروری ۲۰۱۶ء

عالمی ختم نبوت کانفرنس جنوبی افریقہ ۲۰۱۵ء

انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ اور مسلم جوڈیشل کونسل جنوبی افریقہ کے زیر اہتمام کیپ ٹاؤن میں منعقد ہونے والی سہ روزہ عالمی ختم نبوت کانفرنس اتوار کو 2 بجے اختتام پذیر ہوگئی۔ کانفرنس کی مختلف نشستوں کی صدارت انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ کے سربراہ مولانا عبد الحفیظ مکی، دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی، مدرسہ صولتیہ مکہ مکرمہ کے مہتمم مولانا ماجد مسعود اور مسلم جوڈیشل کونسل جنوبی افریقہ کے صدر الشیخ احسان ھندوکس نے کی ۔ ۔ ۔

۵ دسمبر ۲۰۱۵ء

عالمی بین المذاہب کانفرنس اسلام آباد ۲۰۱۵ء

جناب سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے قرب قیامت کی نشانیوں میں ایک بڑی علامت ’’یتقارب الزمان‘‘ بیان فرمائی ہے جس کا ترجمہ زمانے کا ایک دوسرے کے قریب ہونا ہے۔ جبکہ محاورے میں اس کا مفہوم یوں بیان کیا جا سکتا ہے کہ ’’فاصلے سمٹتے چلے جائیں گے‘‘۔ آج کا دور اس کا مصداق دکھائی دیتا ہے کہ جدید مواصلاتی نظام اور سہولتوں نے مشرق و مغرب اور شمال و جنوب کو اس طرح ایک دوسرے سے پیوست کر دیا ہے کہ دنیا کے کسی کونے میں رونما ہونے والا کوئی واقعہ آنًا فانًا دنیا بھر میں نہ صرف پھیل جاتا ہے ۔ ۔ ۔

۲۵ نومبر ۲۰۱۵ء

پاکستان شریعت کونسل کا اجلاس ۔ حالات حاضرہ کا جائزہ

اجلاس میں اس امر پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا کہ ملک کو دھیرے دھیرے سیکولر ازم کی طرف دھکیلا جا رہا ہے اور اسلامی تشخص کو کمزور کرنے کی مہم ہر سطح پر جاری ہے۔ مگر دینی و علمی حلقوں میں بیداری دکھائی نہیں دے رہی۔ جبکہ دستور پاکستان میں وطن عزیز کے اسلامی تشخص کے تحفظ اور اسلامی اقدار و روایات کی ترویج کو حکومت کی ذمہ داری قرار دیا گیا ہے۔ اجلاس میں سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر تحفظات کا اظہار کیا گیا جو اکیسویں آئینی ترامیم کے حوالہ سے سامنے آیا ہے ۔ ۔ ۔

نا معلوم

سالانہ تبلیغی اجتماع رائے ونڈ ۲۰۱۵ء

گزشتہ روز جمعرات کو رائے ونڈ میں تبلیغی جماعت کے سالانہ عالمی اجتماع کے دوسرے مرحلہ کے آغاز میں کچھ دیر کے لیے حاضری کا اتفاق ہوا۔ یہ میرا کم وبیش ہر سال کا معمول ہے کہ تھوڑی دیر کے لیے حاضر ہوتا ہوں، ایک دو نمازوں میں شریک ہوتا ہوں اور ایک دو بزرگوں کے بیانات سن کر واپسی کر لیتا ہوں جس سے اس خیر کے کام میں تھوڑی سی شرکت ہو جاتی ہے، کچھ دوستوں سے ملاقات ہو جاتی ہے اور دعوت و اصلاح کا اجتماعی عمل دیکھ کر ایمان کو تازگی میسر آجاتی ہے ۔ ۔ ۔

۱۴ نومبر ۲۰۱۵ء

دینی جدوجہد کے لیے مشترکہ پلیٹ فارم

ملی یک جہتی کونسل پاکستان کے سربراہ صاحبزادہ ڈاکٹر ابوالخیر محمد زبیر ان دنوں مختلف دینی جماعتوں کے سربراہوں کے ساتھ ملاقاتیں کر رہے ہیں اور دینی جماعتوں کی سربراہی کانفرنس کی راہ ہموار کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ ملی مجلس شرعی پاکستان نے بھی چند دنوں سے اسی مقصد کے لیے سرگرمیوں کا آغاز کر رکھا ہے۔ 18 اکتوبر کو ہمدرد ہال لاہور میں ملی مجلس شرعی کے زیر اہتمام مختلف مکاتب فکر کے سرکردہ راہ نماؤں کا ایک بھرپور نمائندہ اجتماع ہوا تھا جس میں ملی یک جہتی کونسل کے سیکرٹری جنرل جناب لیاقت بلوچ نے بھی شرکت کی ۔ ۔ ۔

۶ نومبر ۲۰۱۵ء

تحریک انسداد سود کا اجلاس

26 اکتوبر کو تحریک انسداد سود پاکستان کی دعوت پر گڑھی شاہو لاہور میں تنظیم اسلامی پاکستان کے دفتر میں مختلف دینی جماعتوں کے سرکردہ حضرات کا نماز ظہر کے بعد دو بجے مشترکہ مشاورتی اجلاس تھا۔ صبح نماز فجر کے وقت اطلاع ملی کہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے بزرگ راہ نما حافظ محمد ثاقب کا انتقال ہوگیا ہے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ نماز جنازہ 2 بجے شیرانوالہ باغ، گوجرانوالہ میں ادا کی جانی تھی۔ حافظ صاحب مرحوم ہمارے بہت پرانے اور بزرگ ساتھی تھے۔ میں 1962ء میں مدرسہ نصرۃ العلوم میں درس نظامی کی تعلیم کے لیے داخل ہوا تو اسی سال تحفظ ختم نبوت کے حوالہ سے حافظ محمد ثاقبؒ کے ساتھ رفاقت کا آغاز ہوگیا، اور

۲۹ اکتوبر ۲۰۱۵ء

حالات حاضرہ ۔ ملی مجلس شرعی کا اجلاس

اجلاس میں آئینی ترمیم کے حوالہ سے سپریم کورٹ آف پاکستان کے حالیہ فیصلے کا جائزہ لیا گیا اور اس امر پر تشویش کا اظہار کیا گیا کہ آئینی ترامیم کے حوالہ سے پارلیمنٹ کے دائرہ اختیار سے جن بنیادی اصولوں کو مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے ان میں دستور کی اسلامی دفعات اور ملک کا نظریاتی تشخص شامل نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پارلیمنٹ کا یہ اختیار تسلیم کر لیا گیا ہے کہ وہ دستور کی ان دفعات میں ترامیم کر سکتی ہے جن کا تعلق نظریہ پاکستان، ملک کے اسلامی تشخص اور اسلامی قوانین کی عملداری سے ہے ۔ ۔ ۔

۱۸ ستمبر ۲۰۱۵ء

یوم دفاع اور یوم تحفظ ختم نبوت کی تقریبات

ستمبر کے پہلے عشرہ کے دوران جہاں 6 تاریخ کو یوم دفاع پاکستان اور 7 ستمبر کو یوم فضائیہ منایا جاتا ہے، وہاں 7 ستمبر کو ہی ’’یوم تحفظ ختم نبوت‘‘ بھی منایا جاتا ہے۔ اس روز 1974ء کو ملک کی منتخب پارلیمنٹ نے قادیانیوں کے بارے میں مفکر پاکستان علامہ محمد اقبالؒ کے موقف کو دستوری شکل دیتے ہوئے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا تاریخی فیصلہ صادر کیا تھا۔ اس سال بھی ملک بھر میں تقریبات اور ریلیوں کا ان تینوں حوالوں سے اہتمام کیا گیا اور قوم کے ہر طبقہ نے پاکستان کی ۔ ۔ ۔

۹ ستمبر ۲۰۱۵ء

مری میں علمی و فکری نشستیں

گزشتہ دنوں دورۂ تفسیر کی پوری کلاس کے ساتھ چار روز مری میں گزارنے کا موقع ملا۔ جون کے آغاز میں جامعہ فاروق اعظمؓ مری کے سالانہ جلسہ میں حاضری ہوئی تو جامعہ کے مہتمم مولانا قاری سیف اللہ سیفی نے تقاضہ کیا کہ رمضان المبارک کے کچھ ایام ان کے پاس مری میں گزاروں۔ میں نے عذر کیا کہ ہمارے ہاں الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں دورۂ تفسیر کی چالیس روزہ کلاس ہوتی ہے جو وسط رمضان تک جاری رہتی ہے، جبکہ آخری عشرہ کی اپنی مصروفیات ہوتی ہیں ۔ ۔ ۔

۹ جولائی ۲۰۱۵ء

ملی و قومی مسائل ۔ پاکستان شریعت کونسل کی قراردادیں

اجلاس میں پاکستان شریعت کونسل کی تشکیل نو کے موقع پر یہ دعوت دی گئی کہ ملک بھر میں ایسے اصحاب و دانش سے جو اقتدار اور الیکشن کی سیاست سے الگ تھلگ رہتے ہوئے نفاذِ شریعت کے لیے علمی و فکری جدوجہد کے خواہشمند ہیں، وہ پاکستان شریعت کونسل کے ساتھ شریک کار ہوں۔ اجلاس میں یہ وضاحت بھی دہرائی گئی کہ کسی بھی دینی یا سیاسی جماعت میں کام کرنے والے حضرات علمی و فکری جدوجہد کے لیے پاکستان شریعت کونسل میں شامل ہو سکتے ہیں ۔ ۔ ۔

۳ جون ۲۰۱۵ء

اندرون سندھ کا سفر

علامہ علی شیر حیدری شہیدؒ نے مختلف مواقع پر تقاضہ کیا کہ میں خیر پور میرس میں ان کے ادارہ جامعہ حیدریہ میں حاضری دوں۔ متعدد بار وعدہ بھی کیا مگر ایسا نہ ہو سکا۔ ان کے شہادت کے بعد یہ تقاضہ عزیز محترم محمد یونس قاسمی کی طرف سے جاری رہا، مگر ہر کام کا ایک وقت قدرت کی طرف سے مقرر ہوتا ہے اس لیے یہ حاضری مؤخر ہوتی رہی۔ حتیٰ کہ گزشتہ دنوں کراچی سے واپسی پر ایک دن کا کچھ حصہ جامعہ حیدریہ میں گزارنے کا موقع مل گیا۔ کراچی سے ڈائیوو بس کے ذریعہ سکھر پہنچا تو مولانا اسد اللہ ۔ ۔ ۔

۹ مئی ۲۰۱۵ء

کراچی میں تین دن

تین دن کراچی میں گزار کر آج ۵ مئی کو سکھر، لاڑکانہ اور خیرپور کے لئے روانہ ہورہا ہوں۔ جامعہ اسلامیہ کلفٹن، جامعہ انوار القرآن، آدم ٹاؤن میں ختم بخاری شریف اور دستار بندی کی سالانہ تقریبات میں شرکت کے لئے حاضری ہوئی تھی۔ ۲ مئی کو جامعہ اسلامیہ کی تقریب ہوئی جو نماز مغرب کے بعد شروع ہوکر کم و بیش نصف شب تک جاری رہی۔ حضرت مولانا خواجہ خلیل احمد آف کندیاں شریف مہمان خصوصی تھے جبکہ جامعہ کے اساتذہ کے علاوہ مولانا عبدالقیوم حقانی اور راقم الحروف نے تفصیلی خطابات کیے ۔ ۔ ۔

۶ مئی ۲۰۱۵ء

دستور پاکستان، تحفظ حرمین ۔ پاکستان شریعت کونسل کا اجلاس

اجلاس میں سپریم کورٹ آف پاکستان میں اٹارنی جنرل کی طرف سے پیش کردہ اس بیان کا جائزہ لیا گیا جس میں کہا گیا ہے کہ دستور پاکستان کا کوئی ایسا بنیادی ڈھانچہ موجود نہیں ہے جس کی پابندی پارلیمنٹ کے لیے ضروری ہو۔ اس کے مضمرات و نتائج پر تفصیلی غور و خوض کے بعد اس رائے کا اظہار کیا گیا کہ قیام پاکستان کا مقصد مسلمانوں کی جداگانہ تہذیب کا تحفظ، اسلامی احکام و قوانین کے مطابق معاشرہ کی تشکیل اور امت مسلمہ کے دینی و نظریاتی تشخص کا اظہار تھا ۔ ۔ ۔

۴ اپریل ۲۰۱۵ء

مذہبی رواداری اور علماء کی ذمہ داریاں

میں نے اپنی گفتگو میں اس بات پر زور دیا کہ اختلافات تو علمی، فکری اور فقہی دنیا میں چلتے ہی رہتے ہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو مختلف مزاجوں، ذہنی سطحوں اور فکری دائروں سے نوازا ہے، اس لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ سب ایک ہی طرح سوچیں اور کسی مسئلہ پر سب کی سوچ اور فکر کے نتائج یکساں ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے عقل دی ہے تو اس نعمت کا استعمال بھی ہوگا اور جب عقل کا استعمال ہوگا تو نتائج فکر میں تفاوت اور اختلاف لازمی بات ہے۔ اس لیے اختلاف سے گبھرانے کی ضرورت نہیں ہے ۔ ۔ ۔

۲۴ مارچ ۲۰۱۵ء

چنیوٹ میں تعزیتی ریفرنس

چنیوٹ میں حضرت مولانا محمد نافع جھنگویؒ اور حضرت مولانا مشتاق احمد چنیوٹیؒ کی یاد میں منعقد ہونے والے ایک تعزیتی ریفرنس میں شرکت کا موقع ملا جس کا اہتمام ’’خدام فکر اسلاف‘‘ نے جامع مسجد گڑھا میں بعد نماز عشاء کیا تھا۔ اس کی صدارت حضرت مولانا حافظ ناصر الدین خاکوانی نے کی اور مفکر اسلام حضرت علامہ ڈاکٹر خالد محمود مہمان خصوصی تھے۔ خطاب کرنے والوں میں مولانا محمد الیاس چنیوٹی، مولانا مفتی شاہد مسعود، برادرم مولانا عبد القدوس قارن، حافظ محمد عمیر چنیوٹی اور راقم الحروف شامل تھے ۔ ۔ ۔

۱۷ مارچ ۲۰۱۵ء

ششماہی تعطیلات کی سرگرمیاں

جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں ششماہی امتحان کی تعطیلات کے دوران حسب سابق چند روز کراچی میں گزارنے کا موقع ملا اور دو تین دن لاہور کی مصروفیات میں گزر گئے۔ 22 تا 25 فروری پاکستان شریعت کونسل کے امیر حضرت مولانا فداء الرحمن درخواستی نے جامعہ انوار القرآن آدم ٹاؤن نارتھ کراچی میں مختلف عنوانات پر مسلسل فکری نشستوں کے لیے پابند کر رکھا تھا۔ چار روز کے دوران کم و بیش سات نشستوں میں متعدد عنوانات پر گفتگو ہوئی ۔ ۔ ۔

۴ مارچ ۲۰۱۵ء

مجلس علماء اسلام پاکستان کا اجلاس

ملک میں نفاذ شریعت کی بات ہو یا سیکولر قوتوں کی ہمہ جہت یلغار کے مقابلہ کا مسئلہ ہو، نہ صرف پارلیمانی اور انتخابی سیاست کے ذریعہ اس جدوجہد میں کوئی پیش رفت ہو سکتی ہے اور نہ ہی ہتھیار اٹھانا اس مسئلہ کا حل ہے۔ ہماری اصل ضرورت اور ہماری جدوجہد کا اصل میدان پر امن اور عدم تشدد پر مبنی عوامی جدوجہد ہے، اور دستور و قانون کے دائرہ میں پر جوش احتجاجی سیاست ہے۔ اس کے بغیر نہ ہم کوئی پیش رفت کر سکتے ہیں اور نہ ہی موجودہ صورت حال کو مزید خراب ہونے سے بچا سکتے ہیں ۔ ۔ ۔

۲۱ فروری ۲۰۱۵ء

تحفظ ناموس رسالت ۔ آل پارٹیز کانفرنس لاہور

فرانس میں شائع ہونے والے گستاخانہ خاکوں کے بعد سے تحفظ ناموس رسالتؐ کے مسئلہ نے جو صورت اختیار کر لی ہے اس کے پیش نظر یہ کانفرنس بہت زیادہ اہمیت کی حامل تھی۔ بعض راہ نماؤں نے اپنے خطابات میں کہا کہ یہ کانفرنس شروع میں ہی ہو جانی چاہیے تھی مگر تاخیر کے ساتھ انعقاد پذیر ہونے کے باوجود اس کی اہمیت و ضرورت بدستور قائم ہے۔ اس لیے کہ اگرچہ ملک کی دینی و قومی جماعتوں نے اپنی اپنی سطح پر اس سلسلہ میں اپنے جذبات کا مسلسل اظہار کیا ہے اور ملک بھر میں عوامی ریلیاں ۔ ۔ ۔

۲۰ فروری ۲۰۱۵ء

قومی ایکشن پلان اور اس کا رد عمل

مدارس پر چھاپوں کا سلسلہ جاری ہے، فورتھ شیڈول کا ایک نیا نیٹ ورک وجود میں آگیا ہے، گرفتاریاں ہو رہی ہیں، لاؤڈ اسپیکر کی خلاف ورزی کے الزام میں سرسری مقدمات چل رہے ہیں، سزائیں دی جا رہی ہیں، مساجد سے لاؤڈ اسپیکر اتارے جا رہے ہیں اور دینی ماحول میں خوف و ہراس کی ایک عجیب سے فضا ابھر رہی ہے۔ اس صورت حال سے دیوبندی علماء کرام اور مساجد و مراکز سب سے زیادہ متاثر ہیں اس لیے فطری طور پر کارکنوں کی نظریں مجلس علماء اسلام پاکستان کی طرف اٹھتی ہیں ۔ ۔ ۔

۱۲ فروری ۲۰۱۵ء

’’انسداد سود سیمینار‘‘ میں شرکت

راقم الحروف نے اپنی گفتگو میں عرض کیا کہ حرام سے بچنا شرعی فریضہ ہونے کے ساتھ ساتھ ہماری معاشرتی ضرورت بھی ہے کہ سود اور حرام کے دیگر کاروباروں کی وجہ سے معاشرتی بے سکونی، بے برکتی اور نحوست میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ حتیٰ کہ ہم عام طور پر دعائیں قبول نہ ہونے کی جو شکایت کرتے رہتے ہیں اس کا ایک بڑا سبب جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام خوری کو قرار دیا ہے۔ اور برکت و سکون کے مسلسل کم ہونے کا باعث بھی حلال و حرام میں فرق نہ کرنا ہے ۔ ۔ ۔

۱۴ جنوری ۲۰۱۵ء

سرگودھا، جوہر آباد، قائد آباد، چنیوٹ اور چناب نگر کا سفر

4-3 دسمبر کو سرگودھا، جوہر آباد، قائد آباد، چنیوٹ اور چناب نگر کے سفر کے دوران دو بزرگوں کی وفات پر تعزیت کے لیے حاضری کا موقع ملا۔ جوہر آباد میں جمعیۃ علماء اسلام کے ایک پرانے بزرگ حکیم علی احمد خان صاحب کا گزشتہ دنوں انتقال ہوگیا تھا۔ نوے برس سے زیادہ عمر پائی ہے، ہمیشہ جمعیۃ علماء اسلام کے ساتھ وابستہ رہے۔ حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستی رحمہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ خصوصی تعلق تھا۔ ایک عرصہ تک جمعیۃ کے ضلعی امیر اور مرکزی مجلس شوریٰ کے رکن رہے ۔ ۔ ۔

۸ جنوری ۲۰۱۵ء

سنٹر فار پالیسی ریسرچ اینڈ ڈائیلاگ کی سرگرمیوں کا آغاز

جامعۃ الرشید کراچی کے قائم کردہ علمی و فکری فورم ’’سنٹر فار پالیسی ریسرچ اینڈ ڈائیلاگ‘‘ (CPRD) نے 31 دسمبر کو اپنی سرگرمیوں کا آغاز کر دیا ہے۔ اس روز سنٹر کے مرکز اسلام آباد میں سی پی آر ڈی کے ایڈوائزری بورڈ کا اجلاس مولانا مفتی عبد الرحیم کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں مولانا مفتی منیب الرحمن، جنرل (ر) حمید گل، علامہ ابتسام الٰہی ظہیر، سینیٹر طلحہ محمود، جناب ڈاکٹر انعام الرحمن، جناب ایاز وزیر، ڈاکٹر محسن نقوی، مولانا سید عدنان کاکاخیل، چودھری عبد الجبار اور دیگر حضرات کے علاوہ راقم الحروف نے بھی شرکت کی ۔ ۔ ۔

۲ جنوری ۲۰۱۵ء

چیئرمین ورلڈ اسلامک فورم کا دورہ

ورلڈ اسلامک فورم لندن کے چیئرمین مولانا محمد عیسیٰ منصوری گزشتہ دو ہفتہ سے پاکستان میں ہیں اور مختلف شہروں میں احباب سے ملاقاتوں کے علاوہ فکری و نظریاتی محافل میں شرکت کر رہے ہیں۔ وہ جب بھی پاکستان آتے ہیں جامعہ مدنیہ لاہور ان کی قیام گاہ ہوتا ہے۔ اس بار بھی یہ روایت برقرار ہے البتہ ملتان، چیچہ وطنی، شیخوپورہ اور گوجرانوالہ کے علاوہ اسلام آباد میں بھی متعدد محافل میں انہوں نے خطاب کیا ہے۔ جبکہ ایک آدھ روز میں وہ واپس روانہ ہونے والے ہیں ۔ ۔ ۔

۲۰ دسمبر ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

مجلس تحفظ ختم نبوت کا اجلاس

9 دسمبر کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی دفتر ملتان میں مجلس علماء اسلام پاکستان کی سپریم کونسل کے منعقدہ اجلاس میں اکثر جماعتوں کے صف اول کے راہ نما شریک ہوئے اور خطاب کیا۔ ان میں سے حضرت مولانا ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر اور مولانا حافظ سید عطاء المومن شاہ بخاری کے خطابات چونکہ کلیدی حیثیت رکھتے ہیں اس لیے ان کا خلاصہ قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔

۱۵ دسمبر ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

مطالعۂ قرآن کانفرنس اسلام آباد ۲۰۱۴ء

بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے علامہ اقبالؒ آڈیٹوریم میں اقبال بین الاقوامی ادارہ برائے تحقیق و مکالمہ اور ہائر ایجوکیشن کمیشن کے تعاون سے ادارہ تحقیقات اسلامی نے ’’پاکستان میں مطالعۂ قرآن کی صورت حال‘‘ کے موضوع پر 11،12، 13 نومبر کو تین روزہ قومی کانفرنس کا اہتمام کیا جس کی دس کے لگ بھگ نشستوں میں مختلف ارباب علم و دانش نے قرآن کریم کی تعلیم و تدریس، تحقیق و مطالعہ اور فہم قرآن کی اہمیت و ضرورت کے بیسیوں پہلوؤں پر اظہار خیال کیا ۔ ۔ ۔

۱۵ نومبر ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

سالانہ تبلیغی اجتماع رائے ونڈ ۲۰۱۴ء

دعوت و تبلیغ کی اس محنت کا بنیادی ہدف مسلمانوں کو دین کی طرف واپس لانا ہے تاکہ مسلم معاشروں میں دین کے اثرات عام ہوں اور ایسا ماحول پیدا ہو جو غیر مسلموں کے اسلام کی طرف متوجہ اور راغب ہونے کے ذریعہ بن سکے۔ تبلیغی جماعت کے بزرگوں کا کہنا ہے کہ دین کی طرف واپسی، معاشرہ میں دینی ماحول کا فروغ اور خاص طور پر مسجد کے کردار کا دوبارہ زندہ ہونا، نہ صرف یہ کہ ہم مسلمانوں کی ضرورت ہے بلکہ یہ آج کی دکھوں اور مصیبتوں میں سسکتی ہوئی انسانیت کی ضرورت بھی ہے ۔ ۔ ۔

۸ نومبر ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

موجودہ ملکی صورت حال ۔ پاکستان شریعت کونسل کا اجلاس

پاکستان شریعت کونسل کا ایک اہم مشاورتی اجلاس 14 اکتوبر کو جامع مسجد عثمان غنیؓ بلند مارکیٹ اسلام آباد میں امیر مرکزیہ مولانا فداء الرحمن درخواستی کی زیر صدارت منعقد ہوا ۔ ۔ ۔ اجلاس میں ملک کی موجودہ مذہبی صورت حال بالخصوص دارالعلوم تعلیم القرآن راجہ بازار راولپنڈی کے معاملات اور مولانا مفتی محمد امان اللہ کی المناک شہادت سے پیدا شدہ حالات کا جائزہ لیا گیا اور شرکاء اجلاس نے مختلف خیالات و جذبات کا اظہار کیا، جن کا خلاصہ درج ذیل ہے ۔ ۔ ۔

۱۹ اکتوبر ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

آزاد کشمیر اور راولپنڈی میں ملاقاتیں

گزشتہ ماہ کے آخری روز میں میر پور آزاد کشمیر میں تھا۔ جامعہ اسلامیہ کا سالانہ جلسہ دستار بندی تھا، مولانا عبد الخالق پیرزادہ، مولانا سید عبد الخبیر آزاد، قاضی محمد رویس خان ایوبی، مولانا حق نواز اور حاجی بوستان صاحب کے ہمراہ میں نے بھی اس سعادت میں حصہ لیا۔ گزشتہ سال دورہ حدیث سے فراغت حاصل کرنے والے فضلاء اور قرآن کریم مکمل کرنے والے حفاظ کی دستار بندی کی گئی۔ پروگرام سے فارغ ہونے کے بعد جامعہ اسلامیہ کے مہتمم حاجی بوستان صاحب اور شیخ الحدیث مولانا فضل الرحمن کے ساتھ ۔ ۔ ۔

۴ اکتوبر ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

تحریک انسداد سود کا اجلاس

اجلاس میں ملک کی موجودہ عمومی صورت حال اور انسداد سود مہم کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا گیا اور طے پایا کہ سود کی لعنت کے خاتمہ کے لیے جدوجہد کو آگے بڑھایا جائے گا اور وفاقی شرعی عدالت میں مقدمہ کی پیروی کے ساتھ ساتھ عوامی سطح پر پرائیویٹ سود کے مسلسل پھیلاؤ کے نقصانات کی طرف رائے عامہ کو توجہ دلاتے ہوئے علماء کرام، دینی کارکنوں اور مراکز کو اس سلسلہ میں جدوجہد کے لیے تیار کیا جائے گا ۔ ۔ ۔

۱۵ ستمبر ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

اسلام آباد کے گرد و نواح میں سرگرمیاں

گزشتہ ماہ کے آخری دو روز اسلام آباد کے اردگرد گزرے۔ اسلام آباد کے بہت سے دوستوں کے تقاضے دھرنوں کی وجہ سے مؤخر ہوتے جا رہے ہیں۔ البتہ قرب و جوار کے کئی پروگراموں میں شرکت ہوگئی۔ 30 اگست کو عصر کے بعد جمعیۃ علماء اسلام کے صوبائی سیکرٹری اطلاعات جناب محمد اقبال اعوان صاحب نے ٹیکسلا کے جماعتی ہیڈ کوارٹر میں شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندیؒ کی یاد میں ایک سیمینار کا اہتمام کر رکھا تھا جس میں علاقہ بھر کے علماء کرام اور جماعتی کارکن شریک تھے ۔ ۔ ۔

۱۱ ستمبر ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

اسلام آباد اور چارسدہ کی سرگرمیاں

اسلام آباد میں جو کچھ ہو رہا ہے پوری قوم کی طرح میں بھی اس کے نتائج کا منتظر ہوں اور مسلسل دعاگو ہوں کہ اللہ رب العزت ملک و قوم کو کسی نقصان سے محفوظ رکھیں، آمین یا رب العالمین۔ اونٹ کسی کروٹ بیٹھے گا تو واضح ہوگا کہ کون کون کہاں کہاں اور کس کس کے لیے کام کر رہا ہے۔ عربی کا ایک شعر ہے کہ فسوف ترٰی اذا انکشف الغبار، افرس تحت رجلک ام حمار یعنی عن قریب جب دھند چھٹ جائے گی تو تم خود دیکھ لو گے کہ تمہارے پاؤں کے نیچے گھوڑا ہے یا گدھا ہے ۔ ۔ ۔

۱۹ اگست ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

ملکی و قومی مسائل ۔ ملی مجلس شرعی کا اجلاس

وفاقی شرعی عدالت میں سودی نظام و قوانین کے خلاف کیس کی از سر نو سماعت شروع ہونے کے بعد عدالت کی طرف سے ملک بھر کے علمی و دینی حلقوں کے لیے جو سوالنامہ جاری کیا گیا ہے، ملی مجلس شرعی نے مختلف مکاتب فکر کی طرف سے اس کا متفقہ جواب بھجوانے کا فیصلہ کیا تھا، جس کے لیے ایک مشترکہ کمیٹی کئی ماہ تک کام کرتی رہی ہے اور اس نے متفقہ جواب تیار کر لیا ہے۔ کونسل کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر محمد امین نے اس کی رپورٹ پیش کی جس پر اجلاس میں اس متفقہ جواب کی منظوری دیتے ہوئے ۔ ۔ ۔

۱۷ جون ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

ڈیرہ اسماعیل خان کا سفر

خاصے عرصے کے بعد ڈیرہ اسماعیل خان جانے کا اتفاق ہوا مگر تین دن میں ساری کسر نکل گئی۔ ڈی جی خان روڈ پر بستی ملانہ کے ایک نوجوان مولوی محمد یوسف ثانی اس سال جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں دورۂ حدیث میں شریک تھے اور گزشتہ جمعہ کو جامعہ میں ان کی دستار بندی دوسرے فضلاء کے ساتھ ہو چکی تھی۔ مگر ان کا تقاضہ تھا کہ ان کے گاؤں میں برادری کی موجودگی میں بھی ان کی دستار بندی ہو۔ شاگرد بیٹوں کی طرح ہوتے ہیں اور ان کی بات ماننا پڑتی ہے، اس لیے وعدہ کر لیا ۔ ۔ ۔

۳۱ مئی ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

دینی تقریبات میں شرکت

مدارس میں اسباق کا سلسلہ آخری مراحل میں ہے اور بخاری شریف سمیت مختلف بڑی کتابوں کے اختتامی اسباق کے حوالہ سے تقریبات منعقد ہو رہی ہیں۔ میرا ذوق شروع سے چلا آرہا ہے کہ ان تقریبات اور اپنے اسفار کے بارے میں قارئین کو مختصرًا آگاہ کرتا رہتا ہوں جس کے بارے میں دل چسپ تبصرے سننے کو ملتے ہیں۔ ایک دوست نے کہا کہ اس کے ذریعہ تم اپنی ذاتی تشہیر کرتے ہو۔ بعض دوستوں کا کہنا ہے کہ مختلف مدارس اور مراکز کے بارے میں ہمیں اس سے معلومات ملتی رہتی ہیں ۔ ۔ ۔

۲۳ اپریل ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

اجتماعات مدارس

گزشتہ دنوں مختلف شہروں میں دینی مدارس کے اجتماعات میں شرکت کی سعادت حاصل ہوئی، فالحمد للہ علیٰ ذلک۔ روڈ و سلطان ضلع جھنگ میں شیخ العلماء حضرت مولانا محمد عبد اللہ بہلوی قدس اللہ سرہ العزیز کے پوتے مولانا عبید اللہ ازھر نے ’’خانقاہ بہلویہ‘‘ کے نام سے روحانی مرکز آباد کر رکھا ہے جہاں حضرت بہلویؒ کے معتقدین اور منتسبین کی آمد و رفت کی رونق قائم رہتی ہے اور ذکر و اذکار کے معمولات کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ مولانا موصوف کے ارشاد پر 20 مارچ کو خانقاہ شریف کے سالانہ اجتماع میں حاضری ۔ ۔ ۔

۲۶ مارچ ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

سودی نظام پر بحث

4 مارچ کو قومی اسمبلی میں سودی نظام کے حوالہ سے بحث ہوئی اور مختلف ارکان نے اس سلسلہ میں کھل کر اظہار خیال کیا۔ یہ بحث صاحبزادہ محمد یعقوب کی پیش کردہ اس قرارداد کے ضمن میں ہوئی جس میں کہا گیا ہے کہ سرکاری ملازمین کو بلا سود قرضے فراہم کیے جائیں۔ جبکہ وزارت خزانہ کے پارلیمانی سیکرٹری رانا محمد افضل خان نے قرارداد کی مخالفت کی۔ بحث میں حصہ لینے والوں میں صاحبزادہ طارق اللہ، شیر اکبر خان، عائشہ سید، جمشید دستی، قیصر احمد شیخ، قاری محمد یوسف، علی محمد خان اور نعیمہ کشور خان شامل ہیں ۔ ۔ ۔

۸ مارچ ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

لاہور کی تقریبات میں شرکت

قادیانی پاکستان میں ہمیشہ غیر مسلم ہی شمار ہوں گے اور عالمی سطح پر وہ جس قدر چاہے لابنگ کر لیں پاکستان میں وہ اسلام کے ٹائٹل کے ساتھ اور مسلمان کے عنوان کے ساتھ معاشرتی حیثیت حاصل کرنے میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔ ان کے لیے صحیح راستہ صرف یہ ہے کہ وہ یا تو باطل عقائد سے توبہ کر کے ملت اسلامیہ کے اجتماعی دھارے میں شامل ہو جائیں، اور اگر وہ اس کے لیے تیار نہیں ہیں تو غیر مسلم اقلیت کی حیثیت کو ایک حقیقت واقعہ سمجھ کر قبول کر لیں، اس کے سوا قادیانیوں کے لیے کوئی آپشن باقی نہیں رہا ۔ ۔ ۔

۴ مارچ ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

کراچی یونیورسٹی کی سیرت کانفرنس میں شرکت

جامعہ کراچی کی سیرت چیئر نے صوبائی وزارت مذہبی امور اور شیخ زاید اسلامک سنٹر کے تعاون سے 12-13 فروری کو دو روزہ عالمی سیرت کانفرنس کا اہتمام کر رکھا تھا جس میں پاکستان، عراق، بھارت اور بنگلہ دیش وغیرہ سے ممتاز اصحابِ دانش نے سیرت النبی ﷺ کے مختلف پہلوؤں پر اظہار خیال کیا۔ کانفرنس کا عمومی عنوان ’’سیرت نبویؐ اور عصر حاضر‘‘ تھا۔ اس عنوان کے تحت مقررین نے اپنے اپنے ذوق اور خیال کے مطابق سرور کائنات ﷺ کے حضور خراج عقیدت پیش کیا ۔ ۔ ۔

۱۵ فروری ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

سودی نظام کے خلاف جدوجہد ۔ دینی راہ نماؤں کا اجلاس

اجلاس میں سودی نظام کے سلسلہ میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے کے خلاف وفاقی شرعی عدالت میں زیر سماعت نظر ثانی کی اپیل کے حوالہ سے صورت حال کا جائزہ لیا گیا اور ملی مجلس شرعی کے سیکرٹری جنرل پروفیسر ڈاکٹر محمد امین نے شرکاء کو بتایا کہ وفاقی شرعی عدالت کے سوال نامہ کا تمام مکاتب فکر کے علماء کرام کی طرف سے متفقہ جواب بھجوانے کے لیے کام جاری ہے اور مختلف مسوّدات پر سرکردہ علماء کرام کی ایک مشترکہ کمیٹی غور کر رہی ہے اور حتمی جواب کو آخری شکل دی جا رہی ہے ۔ ۔ ۔

۳ فروری ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

راولپنڈی میں ایک دن

گزشتہ روز مولانا محمد ادریس اور حافظ سید علی محی الدین کے ہمراہ راجہ بازار راولپنڈی میں دارالعلوم تعلیم القرآن کے سامنے سے گزرا تو دل سے اک ہوک سی اٹھی اور اس علمی و دینی مرکز کے بارے میں ماضی کی کئی یادیں ذہن میں تازہ ہوتی چلی گئیں۔ اس سے قبل ظہر کے بعد ایف ٹین ٹو اسلام آباد کی مسجد امیر حمزہؓ میں علماء کرام کی ایک فکری نشست تھی، اس مسجد میں مولانا محمد ادریس اور ان کے رفقاء نے منفرد نوعیت کا دینی مدرسہ ’’کلیۃ الدراسات الدینیۃ‘‘ کے نام سے قائم کر رکھا ہے جس میں سرکاری ملازمین تعلیم حاصل کرتے ہیں ۔ ۔ ۔

یکم فروری ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

لاہور اور کراچی کی سرگرمیاں

27-26 جنوری کو لاہور اور کراچی میں مختلف دینی اجتماعات میں شرکت کا موقع ملا۔ 26 جنوری کو ظہر کے بعد ہمدرد سنٹر لاہور میں ضیاء الامت فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام ’’مذہبی رواداری اور تعلیمات نبویؐ‘‘ کے موضوع پر سیمینار تھا جس کی صدارت وفاقی وزیر مملکت برائے مذہبی امور صاحبزادہ پیر سید امین الحسنات نے کی۔ اور پروفیسر عبد الرحمن لدھیانوی، ڈاکٹر فرید احمد پراچہ، ڈاکٹر راغب حسین نعیمی، حافظ کاظم رضا اور دیگر راہ نماؤں کے علاوہ راقم الحروف نے بھی خطاب کیا ۔ ۔ ۔

۲۹ جنوری ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

ڈیرہ غازی خان کا سفر

16-15 جنوری کو لیہّ، کوٹ ادو، جتوئی اور ڈیرہ غازی خان کے سفر کا اتفاق ہوا۔ الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کے ناظم حافظ محمد عثمان میرے ہمراہ تھے، وہ دار العلوم کراچی کے فاضل اور جتوئی کے علاقہ کے رہنے والے ہیں۔ لیہّ میں جمعیۃ علماء اسلام نے ایک شادی ہال میں ’’شیخ الہندؒ سیمینار‘‘ کا اہتمام کر رکھا تھا اور ان کا تقاضہ تھا کہ حالیہ سفر دیوبند اور ’’شیخ الہند امن عالم کانفرنس‘‘ کے کچھ احوال ان کو سناؤں۔ میں نے عرض کیا کہ اس کی تفصیلات اپنے متعدد کالموں میں لکھ چکا ہوں ۔ ۔ ۔

۱۹ جنوری ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

ربیع الاول ۱۴۳۵ھ کی سرگرمیاں

ربیع الاول کی آمد کے ساتھ ہی جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک تذکرہ کی محافل کا آغاز ہوگیا ہے۔ یہ سلسلہ عام طور پر ربیع الثانی میں بھی جاری رہتا ہے اور مختلف مکاتب فکر کے لوگ اپنے اپنے ذوق کے مطابق جناب سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کا تذکرہ کرتے ہیں اور ان کے ساتھ محبت و عقیدت کا اظہار کرتے ہیں۔ ملک کے مختلف شہروں سے اس حوالہ سے جلسوں میں حاضری کے مسلسل تقاضے رہتے ہیں۔ مگر اسباق کی وجہ سے سب دوستوں کی فرمائش پوری کرنا مشکل ہو جاتی ہے ۔ ۔ ۔

۱۱ جنوری ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

دورۂ بھارت ۲۰۱۳ء کی تاثراتی نشستیں

بھارت سے واپس آئے ہوئے دو ہفتے گزرنے کو ہیں مگر ذہنی طور پر ابھی تک دیوبند اور دہلی کے ماحول میں ہوں۔ کچھ تو اپنا معاملہ یہ ہوگیا ہے کہ ’’لذیذ بود حکایت دراز تر گفتم‘‘ جبکہ اس کے ساتھ ساتھ دوستوں کا حال یہ ہے کہ جہاں جاتا ہوں اسی داستانِ محبت کو دہرانے کا تقاضہ ہو جاتا ہے۔ اپنے علمی، فکری اور روحانی مرکز کے ساتھ دیوبندیوں کی عقیدت و محبت کی ایک جھلک آپ بھی دیکھ لیجئے! 18 دسمبر بدھ کو واپسی پر واہگہ بارڈر کراس کرتے ہی پہلا فون گوجرانوالہ سے مولانا حافظ گلزار احمد آزاد کا آیا ۔ ۔ ۔

۲ جنوری ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

شیخ الہند عالمی امن کانفرنس (دیوبند و دہلی) ۲۰۱۳ء

شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندی قدس اللہ سرہ العزیز کی زیر قیادت ایک صدی قبل منظم کی جانے والی ’’تحریک ریشمی رومال‘‘ کے حوالے سے جمعیۃ علماء ہند نے صد سالہ تقریبات کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے اور اسی پروگرام کے تحت ’’شیخ الہند ایجوکیشنل چیرٹی ٹرسٹ‘‘ کے زیر اہتمام ۱۳، ۱۴ دسمبر کو دیوبند میں اور ۱۵ دسمبر کو رام لیلا میدان دہلی میں مختلف نشستوں کا اہتمام کیا گیا جس میں پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برما، نیپال، سری لنکا، مالدیپ، ماریشش اور خطے کے دیگر ممالک کے علماء کرام کے علاوہ ۔ ۔ ۔

جنوری ۲۰۱۴ء

شیخ الہند کانفرنس ۲۰۱۳ء سے علماء کرام کے خطابات

صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا قاری سید محمد عثمان منصور پوری کے علاوہ ’’شیخ الہند امن عالم کانفرنس‘‘ کی مختلف نشستوں میں جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن نے تفصیلی گفتگو کی۔ انہیں پوری کانفرنس میں ’’مہمان خصوصی‘‘ کی حیثیت حاصل تھی اور حالات حاضرہ کے تناظر میں ان کی گفتگو بہت فکر انگیز تھی۔ ہر طبقہ کے لوگوں نے ان کے خیالات کو توجہ کے ساتھ سنا اور انڈیا کے بہت سے اخبارات نے اسے نمایاں طور پر شائع کیا۔ ان کی گفتگو کا زیادہ تر ہدف امن کے قیام کے لیے خلافت کے نظام کی ضرورت اور افادیت کی وضاحت تھا ۔ ۔ ۔

۲۳ دسمبر ۲۰۱۳ء

شیخ الہند کانفرنس ۲۰۱۳ء سے مولانا سید عثمان منصور پوری کے خطابات

’’شیخ الہند عالمی امن کانفرنس‘‘ کی مختلف نشستوں میں جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا قاری سید محمد عثمان منصور پوری نے اظہار خیال کیا اور رام لیلا میدان کے کھلے جلسے میں خطبۂ صدارت بھی پیش فرمایا۔ راقم الحروف کے خیال میں ان کی گفتگو سب سے زیادہ فکر انگیز تھی۔ انہوں نے اپنے مختلف خطابات میں نہ صرف علماء کرام کو حضرت شیخ الہندؒ کے مشن اور پروگرام سے متعارف کرایا بلکہ عمل کی طرف بھی توجہ دلائی۔ ان کا کہنا تھا کہ حضرت شیخ الہندؒ اور دیگر بزرگوں کا صرف تذکرہ کافی نہیں ہے بلکہ موجودہ حالات میں ۔ ۔ ۔

۲۲ دسمبر ۲۰۱۳ء

شیخ الہند کانفرنس ۲۰۱۳ء کا متفقہ اعلامیہ

جمعیۃ علماء ہند کے زیر اہتمام شیخ الہند ایجوکیشنل ٹرسٹ کے عنوان سے 15-14-13 دسمبر 2013ء کو دیوبند اور دہلی میں ’’شیخ الہند عالمی امن کانفرنس‘‘ کا انعقاد کیا گیا۔ یہ کانفرنس شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ کی زیر قیادت برطانوی استعمار کے خلاف منظم کی جانے والی عظیم جدوجہد ’’تحریک ریشمی رومال‘‘ کو ایک صدی مکمل ہو جانے پر صد سالہ تقریبات کے حوالہ سے منعقد کی گئی اور اس میں بھارت کے طول و عرض سے شریک ہونے والے سرکردہ علماء کرام اور عوامی قافلوں کے علاوہ ۔ ۔ ۔

۲۱ دسمبر ۲۰۱۳ء

عالمی ختم نبوت کانفرنس جنوبی افریقہ ۲۰۱۳ء کی قراردادیں

دارالعلوم دیوبند کے مہتمم حضرت مولانا ابوالقاسم نعمانی دامت برکاتہم نے 29 نومبر تا 1دسمبر کو کیپ ٹاؤن میں منعقد ہونے والی سہ روزہ عالمی ختم نبوت کانفرنس میں تحریری خطبۂ صدارت پڑھنے کے علاوہ اپنے خطاب کے دوران کچھ دیگر اہم امور کی طرف بھی علماء کرام کو توجہ دلائی جس کا مختصرًا تذکرہ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے تحریک ختم نبوت کے لیے کام کرنے والی مختلف جماعتوں، حلقوں اور اداروں کے درمیان مشاورت و رابطہ اور مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنے پر زور دیا ۔ ۔ ۔

۱۰ دسمبر ۲۰۱۳ء

حالات حاضرہ ۔ پاکستان شریعت کونسل کا اجلاس

پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا فداء الرحمن درخواستی گزشتہ دو روز سے فیصل آباد میں ہیں۔ 19 نومبر کو انہوں نے کونسل کے قریب قریب کے سرکردہ حضرات کو ہنگامی طور پر موجودہ حالات کے حوالہ سے مشاورت کے لیے فیصل آباد طلب کر لیا اور ڈجکوٹ روڈ پر قرآن سنٹر اور مسجد مبارک میں مشاورت کی مختلف نشستیں ہوئیں۔ امیر محترم نے مشاورتی نشست کی صدارت کی اور اس کے بعد وہاں جمع ہو جانے والے علماء کرام اور دیگر حضرات سے خطاب بھی کیا ۔ ۔ ۔

۲۳ نومبر ۲۰۱۳ء

تحریک انسداد سود پاکستان

مختلف مکاتب فکر کے علماء کرام اور دانش وروں نے پاکستانی معیشت کو اسلامی اصولوں پر استوار کرنے اور سودی نظام کے خاتمہ کے لیے ’’تحریک انسداد سود پاکستان‘‘ کے نام سے ایک مستقل فورم قائم کر لیا ہے اور نومبر کے تیسرے عشرہ سے عوامی بیداری کی مہم چلانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ ۔ ۔ اجلاس میں وفاقی شرعی عدالت میں بینک انٹرسٹ کو ربا (سود) قرار دینے کے حوالہ سے سپریم کورٹ کے فیصلے پر نظر ثانی کے کیس کا جائزہ لیا گیا اور طے پایا کہ اس کیس میں جو حضرات یا ادارے دینی حلقوں کی طرف سے فریق ہیں ۔ ۔ ۔

۵ نومبر ۲۰۱۳ء

تبلیغی جماعت کے ساتھ تین دن

گوجرانوالہ کے علماء کرام کی ایک بڑی تعداد کا سالہا سال سے معمول ہے کہ عید الاضحی کی تعطیلات میں تبلیغی جماعت کے ساتھ سہ روزہ لگاتے ہیں اور مجھے بھی ان کے ساتھ شریک ہونے کی سعادت حاصل ہو جاتی ہے۔ اس سال چالیس کے لگ بھگ علماء کرام اور ان کے رفقاء کی جماعت تھی جس کی تشکیل منڈی بہاء الدین کی مرکزی جامع مسجد میں ہوئی اور ہم بحمد اللہ تعالیٰ جمعۃ المبارک کی شام سے اتوار کو شام تک وہاں مصروف عمل رہے۔ جلیل ٹاؤن کے مفتی محمد رضوان جماعت کے امیر تھے ۔ ۔ ۔

۲۴ اکتوبر ۲۰۱۳ء

مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی کا دورہ

حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی گزشتہ دنوں گجرات اور گوجرانوالہ کے دو روزہ دورے پر تشریف لائے اور مختلف محافل میں متعدد موضوعات پر اظہار خیال فرمایا۔ ان کی تشریف آوری جمعیۃ علماء اہل سنت ضلع گوجرانوالہ کی دعوت پر 21 ستمبر کو نور ریسٹورنٹ پنجن کسانہ میں منعقد ہونے والی سالانہ ’’ورثائے نبوت کانفرنس‘‘ میں شرکت کے لیے تھی۔ یہ جمعیۃ ضلع گجرات کے نوجوان علماء کرام اور فضلائے دینی مدارس کی تنظیم ہے جو باہمی رابطہ و تعاون، مختلف دینی مدارس سے فارغ التحصیل ہونے والے علماء کرام کی حوصلہ افزائی ۔ ۔ ۔

۳۰ ستمبر ۲۰۱۳ء

سمندری کا سفر

خاصے عرصے کے بعد سمندری جانے کا اتفاق ہوا۔ حضرت مولانا محمد علی جانبازؒ ہمارے بزرگوں میں سے تھے، حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ اور حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ کے ساتھ ان کا گہرا تعلق تھا اور جمعیۃ علماء اسلام اور مجلس تحفظ ختم نبوت کی جدوجہد میں مسلسل سرگرم عمل رہتے تھے۔ گھنٹہ گھر چوک کے پاس ایک مسجد میں خطابت و امامت کے فرائض سر انجام دیتے تھے۔ مجھے اس دور میں ان کی خدمت میں وہاں حاضر ہونے کا موقع ملا ہے، اس کے بعد ان کے فرزند مولانا ضیاء الرحمن فاروقی شہیدؒ کے ساتھ ۔ ۔ ۔

۲۱ ستمبر ۲۰۱۳ء

حالات حاضرہ ۔ پاکستان شریعت کونسل کا اجلاس

پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا فداء الرحمن درخواستی نے اہم امور کا جائزہ لینے کے لیے ایک مشاورتی اجلاس 12 ستمبر کو طلب کیا جو مرکز حافظ الحدیث درخواستیؒ حسن ابدال میں ان کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس سے صدرِ اجلاس اور راقم الحروف کے علاوہ مولانا قاضی محمد رویس ایوبی، مولانا قاری جمیل الرحمن اختر، مفتی محمد سیف الدین گلگتی، صلاح الدین فاروقی، ڈاکٹر شاہ نواز اعوان، حافظ سید علی محی الدین، مولانا سید حبیب اللہ شاہ حقانی اور دیگر حضرات نے خطاب کیا ۔ ۔ ۔

۱۸ ستمبر ۲۰۱۳ء

عشرۂ ختم نبوت ۲۰۱۳ء

یکم دس ستمبر ملک کے دینی حلقوں نے ’’عشرۂ ختم نبوت‘‘ منایا۔ اس کا مقصد سات ستمبر 1974ء کے اس فیصلے کی یاد تازہ کرنا تھا جس میں پارلیمنٹ نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت کا دستوری درجہ دے کر گزشتہ کم و بیش ایک صدی سے چلے آنے والے مسئلے کو حل کر دیا تھا۔ اگر قادیانی گروہ بھی اس متفقہ قومی فیصلے کو قبول کر لیتا تو یہ مسئلہ فی الواقع حل ہو چکا ہوتا اور جس طرح ملک کی دوسری اقلیتیں اپنی اپنی قانونی حیثیت کے مطابق ملک کی آبادی کا حصہ اور نظم و نسق میں شریک ہیں اسی طرح قادیانی گروہ بھی قومی دھارے میں شریک ہو جاتا ۔ ۔ ۔

۱۳ ستمبر ۲۰۱۳

اسلام آباد میں چند روز

گزشتہ ہفتے کے دوران تین چار روز کے لیے اسلام آباد جانے کا اتفاق ہوا، مختلف تقاضے جمع ہو گئے تھے جو اسباق کے آغاز سے قبل نمٹانا ضروری تھے، اس لیے ان سب کے لیے اکٹھی ترتیب بن گئی۔ دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کے چند فضلاء نے حضرت مولانا سمیع الحق کے معاون خصوصی مولانا محمد اسرار حقانی کی سرکردگی میں ایک علمی و فکری فورم ’’انٹرنیشنل ریسرچ کونسل برائے مذہبی امور‘‘ کے عنوان سے قائم کیا ہے جس کے تحت وہ مختلف علمی و فکری شعبوں میں کام کرنے کا عزم رکھتے ہیں ۔ ۔ ۔

۲۸ اگست ۲۰۱۳ء

کراچی میں مصروفیت کا ایک دن

۲۳ جون کا دن کراچی میں گزرا اور خاصا مصروف گزرا۔ مولانا جمیل الرحمن فاروقی اور مولانا مفتی حماد اللہ وحید کے ہمراہ جامعہ اشرف المدارس میں حاضری دی۔ شیخ العلماء حضرت مولانا شاہ حکیم محمد اختر قدس اللہ سرہ العزیز کی وفات پر ان کے فرزند و جانشین مولانا حکیم محمد مظہر اور دیگر حضرات سے تعزیت کی اور حضرتؒ قبر پر فاتحہ خوانی اور دعا کی سعادت بھی حاصل ہوئی۔ حکیم صاحبؒ ہمارے دور کے اکابر صوفیاء کرام اور بزرگان دین میں سے تھے۔ لوگوں کے دلوں میں اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کی محبت کی جوت جگانا ان کا زندگی بھر کا مشن تھا ۔ ۔ ۔

۲۶ جون ۲۰۱۳ء

نصاب تعلیم کا ایک جائزہ ۔ الشریعہ اکادمی میں سیمینار

نصاب تعلیم کے حوالے سے ایک دائرہ یہ ہے کہ پاکستان ایک نظریاتی ریاست ہے اور قومی نصاب تعلیم کس حد تک ملک کی نظریاتی اساس کے ساتھ ہم آہنگ ہے؟ دوسرا یہ کہ ہماری قومی تعلیمی ضروریات کیا ہیں اور مذہب و ثقافت کے ساتھ ساتھ سائنس، ٹیکنالوجی، سول سروس، ملٹری، معیشت اور دیگر شعبوں کے تقاضوں کو یہ تعلیمی نصاب و نظام کس حد تک پورا کرتا ہے؟ اور تیسرا یہ کہ موجودہ عالمی تناظر میں ملک و قوم کی بین الاقوامی ضروریات کیا ہیں اور ان کے مثبت اور منفی پہلوؤں کو پورا کرنے میں یہ قومی نصاب تعلیم کیا کردار ادا کر رہا ہے؟ ۔ ۔ ۔

۴ مئی ۲۰۱۳ء

وفاق المدارس کا مجوزہ عالمی اجتماع ۲۰۱۴ء

وفاق المدارس کی پچاس سالہ تعلیمی و علمی خدمات کے حوالہ سے مارچ 2014ء کی 21، 22 اور 23تاریخ کو اسلام آباد میں ایک عالمی اجتماع منعقد کرنے کا پروگرام بنایا گیا ہے۔ اس اجتماع میں وفاق المدارس سے اب تک فارغ التحصیل ہونے والے علماء، قراء اور حفاظ کی دستار بندی کی جائے گی۔ ملک کی سرکردہ علمی شخصیات کے علاوہ امام کعبہ، شیخ الازہر اور مہتمم دار العلوم دیوبند سمیت دنیا بھر کی ممتاز دینی و علمی شخصیات خطاب کریں گی اور ایک محتاط اندازے کے مطابق دس لاکھ سے زائد افراد کی شرکت اس میں متوقع ہے ۔ ۔ ۔

۲۰ اپریل ۲۰۱۳ء

اسلام زندہ باد کانفرنس ۲۰۱۳ء کا احوال

لوگ مقررین کی تقریریں سن رہے تھے اور میں ذہن میں نصف صدی قبل کی یادیں تازہ کر رہا تھا جب اسی لاہور میں جمعیۃ علماء اسلام کی کانفرنسیں ’’آئین شریعت کانفرنس‘‘ کے عنوان سے منعقد ہوا کرتی تھیں۔ یہ ۱۹۶۷ء، ۱۹۶۸ء، ۱۹۶۹ء کے دور کی بات ہے اور ہماری کانفرنسیں اس زمانے میں دہلی دروازہ، موچی دروازہ اور مستی گیٹ کے باہر باغات میں ہوتی تھیں۔ ان کانفرنسوں سے وقتاً فوقتاً آغا شورش کاشمیریؒ ، سردار محمد عبد القیوم خان اور مولانا کوثر نیازی مرحوم نے بھی خطاب کیا تھا ۔ ۔ ۔

۲ اپریل ۲۰۱۳ء

کراچی کی سرگرمیاں

کراچی میں حاضری کے آخری دن کا بیشتر حصہ جامعۃ الرشید میں گزرا اور حضرت مولانا مفتی عبد الرحیم سے ان کے والد محترمؒ کی وفات پر تعزیت کے علاوہ اساتذہ اور طلبہ کی دو نشستوں میں کچھ معروضات پیش کرنے کا موقع ملا جن کا موضوع قیامِ پاکستان کے بعد کی دینی تحریکات تھا، ایک نشست میں نفاذِ اسلام کی دستوری جدوجہد کے بارے میں گزارشات پیش کیں اور دوسری نشست میں نفاذِ اسلام کے سلسلہ میں دستوری اور قانونی پیش رفت کو سبوتاژ کرنے کے حوالہ سے سیکولر حلقوں اور بیوروکریسی کی سازشوں اور چالوں پر ایک نظر ڈالی ۔ ۔ ۔

۳۱ مارچ ۲۰۱۳ء

لاہور میں تین مختلف پروگراموں میں شرکت

گزشتہ روز لاہور میں تین مختلف پروگراموں میں شرکت کا موقع ملا۔ (۱) باغ جناح کی ’’قائد اعظم لائبریری‘‘ میں ’’آنحضرت ﷺ بحیثیت حکمران‘‘ کے موضوع پر سیرت کانفرنس تھی۔ (۲) ظہر کے بعد ایوان اقبالؒ میں انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ کے زیر اہتمام ’’سالانہ فتح مباہلہ کانفرنس‘‘ میں حاضری دی۔ (۳) اسی روز شام کو نماز مغرب کے بعد جمعیۃ علماء اسلام پاکستان (س) کے سیکرٹری جنرل مولانا عبد الرؤف فاروقی نے مسجد خضراء میں چند احباب کو موجودہ حالات کے حوالہ سے مشاورت کے لیے دعوت دے رکھی تھی ۔ ۔ ۔

۲۸ فروری ۲۰۱۳ء

مولانا قاسم نانوتویؒ، مولانا عبد الستار تونسویؒ ۔ الشریعہ اکادمی میں فکری نشستیں

حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کا تعلق نانوتہ میں مقیم صدیقی خاندان سے تھا، انہوں نے خود اپنا نسب نامہ تحریر کیا ہے جس کے مطابق وہ حضرت قاسم بن محمدؒ کی اولاد میں سے ہیں جو حضرت ابوبکر صدیقؓ کے پوتے تھے اور ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ کے نہ صرف بھتیجے تھے بلکہ ان کے علوم و فیوض کے ورثاء میں ان کا نام سرفہرست شمار ہوتا ہے اور وہ تابعینؒ کے دور کے سات بڑے فقہاء کرام میں شامل ہیں۔ حضرت نانوتویؒ ایک زمیندار گھرانے کے چشم و چراغ تھے لیکن قدرت نے ان کی راہ نمائی دینی تعلیم کی طرف کی ۔ ۔ ۔

۲ جنوری ۲۰۱۳ء

وفاق المدارس العربیہ پاکستان کا کامیاب کنونشن ۲۰۱۵ء

جسٹس (ر) مولانا مفتی محمد تقی عثمانی کا خطاب ’’دینی مدارس کنونشن‘‘ میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ انھوں نے دینی مدارس کے مقصد قیام کی وضاحت کی اور بتایا کہ ان دینی مدارس کا قیام معاشرے میں دینی راہ نمائی فراہم کرنے اور مسجد ومدرسہ کا نظام باقی رکھنے کے لیے رجال کار کی فراہمی کی غرض سے عمل میں آیا تھا اور دینی مدارس اپنا یہ کام خیر وخوبی کے ساتھ انجام دے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ دینی مدارس سے کوئی اور تقاضا کرنا، نا انصافی کی بات ہے ۔ ۔ ۔

جون ۲۰۰۵ء

بھارت میں غیر سرکاری شرعی عدالتوں کا قیام

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی کوششوں میں یہ بات بھی شامل رہتی ہے کہ مسلمان اپنے نکاح وطلاق کے تنازعات اور دیگر باہمی معاملات شرعی عدالتوں کے ذریعے سے حل کرائیں۔ اسی مقصد کے لیے پرائیویٹ سطح پر شرعی عدالتوں کے قیام کا تجربہ کیا جا رہا ہے جہاں تحکیم کی صورت میں دونوں فریق مقدمہ لاتے ہیں اور شرعی عدالتیں ’حکم‘ کی حیثیت سے ان کا فیصلہ صادر کرتی ہیں۔ صوبہ بہار میں امارت شرعیہ کے نام سے یہ پرائیویٹ نظام بہت پہلے سے قائم ہے جس میں ۔ ۔ ۔

جنوری ۲۰۰۵ء

’’برصغیرمیں مطالعۂ حدیث‘‘ پر ایک علمی سیمینار

’’برصغیر میں مطالعۂ حدیث‘‘ کے عنوان پر ادارہ تحقیقات اسلامی نے دو روزہ علمی سیمینار کا اہتمام کیا جس کی پانچ نشستیں بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے آڈیٹوریم میں ہوئیں اور ان میں حدیث نبوی علیٰ صاحبھا التحیہ والسلام سے تعلق رکھنے والے بیسیوں عنوانات پر ممتاز اصحاب علم و دانش نے مقالات پیش کیے۔ برصغیر کے دینی مدارس میں حدیث نبویؐ کی تدریس و تعلیم، نامور محدثین کی علی و دینی خدمات کا جائزہ، اور حدیث نبویؐ کے مطالعہ کے حوالہ سے حال و مستقبل کی ضروریات کی نشاندہی بطور خاص ان موضوعات کا حصہ تھے ۔ ۔ ۔

۲۷ اپریل ۲۰۰۳ء

آل پارٹیز ختم نبوت کانفرنس ۲۰۰۲ء

کانفرنس سے مولانا سمیع الحق نے کہا کہ اصل بات امریکہ کے تسلط سے نجات حاصل کرنے کی ہے کیونکہ جب تک غلامی کا یہ طوق ہماری گردن سے نہیں اترتا اس قسم کے جزوی مسائل پیدا ہوتے رہیں گے اور ہم ان کے حل میں لگے رہیں گے۔ اصل مسئلہ قومی آزادی کی بحالی کا ہے اور ہمیں عالمی استعمار سے مکمل آزادی اور خودمختاری حاصل کرنے کے لیے ایک نئی جنگِ آزادی کا آغاز کرنا ہوگا۔ راقم الحروف نے اس طرف توجہ دلائی کہ عقیدۂ ختم نبوت کے علاوہ اور مسائل بھی بیرونی دباؤ کی زد میں ہیں ۔ ۔ ۔

۲ جون ۲۰۰۲ء

تحریک ختم نبوت کے مطالبات

امریکی کانگریس کی طرف سے قادیانیوں کو مسلمان تسلیم کرنے کے مطالبہ کے فوراً بعد مسلم اور غیر مسلم ووٹروں کے الگ الگ اندراج اور ووٹر فارم میں مذہب کا خانہ اور عقیدہ ختم نبوت کا حلف نامہ ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جو عملاً قادیانیوں کو مسلمانوں میں شامل کرنے اور سرکاری ریکارڈ میں مسلمانوں اور قادیانیوں کا فرق ختم کر دینے کے مترادف ہے جو اسلامیان پاکستان کے لیے قطعی طور پر ناقابل برداشت ہے جبکہ یہ حلف نامہ اور مذہب کا خانہ نیز مسلم اور غیر مسلم ووٹروں کا الگ الگ اندراج بھٹو حکومت کے دور سے چلا آ رہا ہے ۔ ۔ ۔

مئی ۲۰۰۲ء

روزنامہ پاکستان کے زیر اہتمام خلافت راشدہ کانفرنس ۲۰۰۲ء

ہر مکتبہ فکر کے جید علما پر مشتمل یہ ملک گیر اجتماع یہ مطالبہ بھی کرتا ہے کہ آئین پاکستان کو مکمل طور پر بحال کیا جائے اور تمام مکاتب فکر کے اکابر علما کے ۲۲ نکات سمیت خلافت راشدہ کی بنیادیں، اللہ رب العزت کی حاکمیت اور اس کی مقرر کردہ حدود میں جمہورکا اقتدار واختیار، قرآن وسنت کا نظم وضع کیاجائے اور آئین میں متعین دفعات ۶۲، ۶۳ کے تحت حکمرانوں کی صفات بھی نافذ العمل کی جائیں۔ ان بنیادوں کو وہ اسمبلی پہلے ہی طے کر چکی ہے جو بانیان پاکستان پر مشتمل تھی ۔ ۔ ۔

اپریل ۲۰۰۲ء

حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ کی یاد میں ایک نشست

۲۵ فروری کو مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں الشریعہ اکادمی کی طرف سے مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ کی یاد میں ایک تعزیتی ریفرنس کا اہتمام کیا گیا جس میں شہر کے سرکردہ علماء کرام اور اہل دانش نے شرکت کی۔ اسلامیہ کالج گوجرانوالہ کے ریٹائرڈ پرنسپل پروفیسر محمد عبد اللہ جمال نے نشست کی صدارت کی جبکہ گوجرانوالہ تعلیمی بورڈ کے شعبہ امتحانات کے نگران پروفیسر غلام رسول عدیم مہمان خصوصی تھے، انہوں نے تفصیل کے ساتھ ندوۃ العلماء لکھنو کی ملی خدمات اور مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ کی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر اظہار خیال کیا ۔ ۔ ۔

۶ مارچ ۲۰۰۰ء

چودھویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس برطانیہ ۔ مسلم پرسنل لاء کا تذکرہ

ہمارے نزدیک لارڈ نذیر احمد کے خطاب کا وہ حصہ سب سے زیادہ توجہ کا مستحق ہے جس میں انہوں نے برطانیہ میں مسلمانوں کے جداگانہ پرسنل لاء کی بحالی کی تجویز پیش کی ہے اور کہا ہے کہ جس طرح برطانیہ نے برصغیر پاک و ہند و بنگلہ دیش پر تسلط کے دوران تمام شعبوں میں اپنے قوانین نافذ کرنے کے باوجود پرسنل لاز میں مسلمانوں کا جداگانہ حق تسلیم کیا تھا اور نکاح و طلاق و وراثت میں مسلمانوں کو اپنے مذہبی احکام اور قوانین پر عمل کا اس دور میں حق حاصل تھا، اسی طرح برطانیہ میں مسلمانوں کا پرسنل لاز میں جداگانہ تشخص بحال کرنے میں بھی کوئی اشکال نہیں ہونا چاہیے ۔ ۔ ۔

۱۷ اگست ۱۹۹۹ء

افغانستان میں طالبان کی حکومت اور برطانیہ کے مسلم دانشور

مقررین نے اس بات پر اپنی تشویش کا اظہار کیا کہ طالبان کے تمام تر خلوص، جدوجہد اور قربانیوں کے باوجود کسی نظام کی تشکیل اور اس پر عملدرآمد کے بارے میں تجربہ نہ ہونے کے باعث خدشہ ہے کہ وہ اسلام کے نام پر ایسے اقدامات نہ کر بیٹھیں جو آج کی دنیا میں اسلامی نظام کے بہتر تعارف کی بجائے اس کی بدنامی کا باعث بن جائیں۔ ان اہل دانش کا کہنا ہے کہ آج کے دور میں اسلامی نظام کے حوالہ سے بہت سے امور کا طے ہونا باقی ہے جو ظاہر ہے کہ اجتہاد کے ذریعے اہل اجتہاد کے ہاتھوں طے ہوں گے ۔ ۔ ۔

۱۴ نومبر ۱۹۹۶ء

کل جماعتی آزادیٔ مساجد و مدارس کنونشن

وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے ناظم اعلیٰ حضرت مولانا مفتی محمود ایم این اے کی دعوت پر آزادیٔ مساجد و مدارس کے سوال پر غور و خوض کے لیے مختلف مکاتب فکر کے علماء کرام کا ایک بھرپور کنونشن ۱۰ نومبر ۱۹۷۶ء کو صبح ۱۰ بجے جامعہ حنفیہ عثمانیہ ورکشاپی محلہ راولپنڈی میں وفاق المدارس کے نائب صدر حضرت مولانا عبد الحق ایم این اے اکوڑہ خٹک کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ کنونشن میں ملک کے چاروں صوبوں سے دیوبندی، بریلوی اور اہل حدیث مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے ایک سو کے قریب مندوبین نے شرکت کی ۔ ۔ ۔

۱۹ نومبر ۱۹۷۶ء

عدالتِ شرعیہ کا کنونشن

گزشتہ ہفتہ لاہور کے دینی و سیاسی حلقوں میں خاصی گہماگہمی رہی، حکیم الاسلام مولانا قاری محمد طیب صاحب دامت برکاتہم مہتمم دارالعلوم دیوبند کی تشریف آوری اور ماہنامہ الرشید کے ’’دارالعلوم دیوبند نمبر‘‘ کی افتتاحی تقریب سے اس گہماگہمی کا آغاز ہوا۔ اور جمعیۃ علماء اسلام کی مجلس شوریٰ کے دو روزہ اجلاس اور شرعی عدالتوں کے دو روزہ کنونشن کے بعد قائد جمعیۃ مولانا مفتی محمود کی پریس کانفرنس تک یہ سرگرمیاں جاری رہیں۔ جمعیۃ علماء اسلام کے زیراہتمام شرعی عدالتوں کے قاضیوں کا دو روزہ کنونشن گزشتہ روز مدرسہ قاسم العلوم شیرانوالہ گیٹ لاہور میں منعقد ہوا ۔ ۔ ۔

۹ اپریل ۱۹۷۶ء

نظام شریعت کنونشن کے اہم گوشے

جمعیۃ علماء اسلام کے زیر اہتمام دو روزہ نظامِ شریعت کنونشن گزشتہ شب بخیر و خوبی اختتام پذیر ہوا۔ کنونشن میں پنجاب، سرحد، سندھ، بلوچستان اور آزادکشمیر سے کم و بیش دس ہزار مندوبین نے شرکت کی جن میں علماء کرام، وکلاء، طلباء اور ہر طبقہ سے تعلق رکھنے والے افراد شامل تھے۔ کنونشن کا اعلان ۲۸ و ۲۹ اپریل کو مرکزی مجلس شوریٰ کے اجلاس منعقدہ ملتان کے بعد کیا گیا تھا۔ مولانا مفتی محمود نے صوبائی حکومت سے بھی رابطہ قائم کیا مگر آخر وقت تک انتظامیہ نے شیرانوالہ باغ میں کنونشن کے انعقاد کی اجازت دینے یا نہ دینے کے بارے میں مجلس استقبالیہ کو کوئی باضابطہ جواب نہیں دیا ۔ ۔ ۔

۳۱ اکتوبر ۱۹۷۵ء

مولانا منظور احمد چنیوٹی کا عرب ممالک کا دورہ

جمعیۃ علماء اسلام کے راہنما مولانا منظور احمد چنیوٹی خوش قسمت ہیں کہ عقیدۂ ختم نبوت کے ساتھ والہانہ عقیدت کے باعث انہیں عرب ممالک میں اس مشن کی خدمت اور حرمین شریفین کی بار بار زیارت کا موقع ملتا رہتا ہے اور اس ضمن میں ان کی خدمات وقیع ہیں۔ جن دنوں پاکستان میں تحریک ختم نبوت جاری تھی مولانا موصوف سعودی عرب میں تھے اور تحریک کے عالمی سفیر کے طور پر اس محاذ پر کام کر رہے تھے جس کی اجمالی رپورٹ قارئین ترجمان اسلام میں پڑھ چکے ہیں ۔ ۔ ۔

۲۵ اپریل ۱۹۷۵ء