روزنامہ انصاف، لاہور

اراکان کے مسلمان: بنگلہ دیش کا موقف

روہنگیا مسلمانوں کی مظلومیت اور بے بسی آہستہ آہستہ عالمی رائے عامہ اور بین الاقوامی اداروں کی توجہ حاصل کر رہی ہے اور ان کی داد رسی و حمایت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل، امریکی اور برطانوی وزرائے خارجہ، ہیومن رائٹس واچ کمیشن، ایمنسٹی انٹرنیشنل اور دیگر عالمی اداروں اور شخصیات کی زبانوں پر اب میانمار میں کٹنے جلنے والے مسلمانوں کے حق میں کلمۂ خیر بلا جھجھک آنے لگا ہے۔ جبکہ ہمیں سب سے زیادہ اطمینان اس سلسلہ میں بنگلہ دیش کی پیش رفت سے حاصل ہوا ہے اس لیے کہ اس مسئلہ پر فطری طور ترتیب اور راستہ یہی بنتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اراکان کے مسلمان: بنگلہ دیش کا موقف

۲۰ ستمبر ۲۰۱۷ء

قربانی کی کھالوں کا مسئلہ

عید الاضحیٰ گزر گئی ہے اور دیگر قومی شعبوں کی طرح اکثر و بیشتر دینی مدارس بھی اپنی چھٹیاں گزار کر تعلیمی سرگرمیوں میں مصروف ہوگئے ہیں۔ عید الاضحیٰ پر دینی مدارس کی ایک مصروفیت یہ ہوتی ہے کہ ملک کے دیگر رفاہی اداروں کے ساتھ وہ بھی قربانی کی کھالیں جمع کرتے ہیں جو ان کی آمدنی کا ایک اہم ذریعہ ہوتی ہیں، اس لیے کہ سوسائٹی کے دیگر مستحقین کی طرح دینی مدارس کے مسافر اور نادار طلبہ بھی زکوٰۃ و صدقات اور قربانی کی کھالوں کا اہم مصرف ہیں۔ اور معاشرہ میں دینی تعلیم کے فروغ کے خواہاں مسلمان اس مد میں ان سے بھرپور تعاون کرتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قربانی کی کھالوں کا مسئلہ

۹ ستمبر ۲۰۱۷ء

گولڑہ شریف اور بگھار شریف

عید الاضحیٰ سے قبل چھٹیوں کے دو دن اسلام آباد میں گزرے۔ 28 اگست کو مولانا سمیع الحق کی طلب کردہ آل پارٹیز کانفرنس میں حاضری کا وعدہ تھا، جامعہ نصرۃ العلوم میں اسباق پڑھا کر ظہر تک جامعہ رحمانیہ ماڈل ٹاؤن ھمک اسلام آباد پہنچا اور نمازِ ظہر کے بعد مسجد میں قربانی کی اہمیت کے حوالہ سے ایک نشست میں گفتگو کی۔ پھر مولانا حافظ سید علی محی الدین کے ہمراہ آل پارٹیز کانفرنس میں شریک ہوا جس کی مختصر رپورٹ گزشتہ کالم میں ذکر کر چکا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر گولڑہ شریف اور بگھار شریف

۸ ستمبر ۲۰۱۷ء

جنوبی پنجاب کا سفر

ٹیکسلا کے جناب صلاح الدین فاروقی ہمارے پرانے ساتھی ہیں جن کے ساتھ کم و بیش نصف صدی سے نظریاتی اور تحریکی رفاقت چلی آرہی ہے۔ شروع ہی سے تحریکی پروگراموں کے اجتماعات کا ریکارڈ (آڈیو و تحریر کی صورت میں) محفوظ رکھنے کا ذوق رکھتے ہیں اور بہت سا قیمتی ذخیرہ سنبھالے ہوئے ہیں۔ ہمارے ایک اور ساتھی مولانا صالح محمد حضروی بھی اب سرکاری ملازمت سے ریٹائر ہو کر ان کے ساتھ شامل ہوگئے ہیں، جو ۱۹۸۰ء کی دہائی میں ہفت روزہ خدام الدین کی ادارت میں مولانا سعید الرحمان علویؒ کے ساتھ شریک کار رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جنوبی پنجاب کا سفر

۲۵ اپریل ۲۰۱۷ء

صوبہ خیبر پختون خوا ۹۰ سال پہلے کے تناظر میں

نومبر 1927ء کے دوران پشاور میں جمعیۃ علماء ہند کی کانفرنس میں خطبۂ صدارت ارشاد فرماتے ہوئے امام المحدثین حضرت علامہ سید محمد انور شاہ کشمیریؒ نے صوبہ خیبر پختون خواہ کی اس وقت کی سیاسی صورتحال پر تفصیلی تبصرہ فرمایا تھا۔ یہ صوبہ اس وقت ’’شمال مغربی سرحدی صوبہ‘‘ کہلاتا تھا اور اسے عام طور پر صوبہ سرحد یا سرحدی صوبہ کے نام سے پکارا جاتا تھا۔ کم و بیش ایک صدی قبل کی سیاسی صورتحال پر یہ وقیع تبصرہ اگرچہ مجموعی طور پر اس دور کے تناظر میں ہے لیکن آج بھی بہت سے معاملات میں ہماری راہنمائی کرتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر صوبہ خیبر پختون خوا ۹۰ سال پہلے کے تناظر میں

۸ و ۱۰ اپریل ۲۰۱۷ء

تحفظ ناموس رسالت کا قانون اور سیکولر عناصر کی مہم

عمومی روایت یہ ہے کہ کسی مسئلہ پر رائے عامہ کی اکثریت ایک طرف ہو جائے اور منتخب پارلیمنٹ اس پر قانون سازی کر دے تو اسے قومی فیصلہ تصور کیا جاتا ہے اور کسی شدید مجبوری کے بغیر اسے دوبارہ زیر بحث لانے سے گریز کیا جاتا ہے۔ لیکن ہمارے ہاں یہ عجیب صورتحال بنا دی گئی ہے کہ اسلامی عقائد و احکام سے متعلقہ ہر فیصلہ کو بار بار چیلنج کرنے اور اس پر بحث و تمحیص کا دروازہ کھولنے کی کوشش اس کے ساتھ ہی شروع کر دی جاتی ہے جسے متعدد عالمی اداروں اور لابیوں کی پشت پناہی حاصل ہوتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر تحفظ ناموس رسالت کا قانون اور سیکولر عناصر کی مہم

۳۱ جنوری ۲۰۱۷ء

جنید جمشید شہیدؒ

جنید جمشیدؒ کی جدائی پر وسیع پیمانے پر محسوس کیا جانے والا یہ غم دراصل ہمارے اس قومی اور معاشرتی جذبہ و احساس کا عکاس ہے کہ اپنے اللہ کی طرف رجوع، عیش و عشرت کے ماحول سے واپسی، اور آخرت کی تیاری کے لیے ہر مسلمان کے دل میں تڑپ کسی نہ کسی درجہ میں ضرور موجود ہے۔ اس تڑپ کو بے ثبات دنیا کی رنگا رنگ آسائشوں نے گھیر رکھا ہے، اسے صرف صحیح راہنمائی اور حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے، یہ کام اگر سلیقے سے کیا جا سکے تو جنید جمشید کا غم محسوس کرنے والے لاکھوں افراد خود بھی جنید جمشید بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جنید جمشید شہیدؒ

۲۱ دسمبر ۲۰۱۶ء

دینی مدارس ۔ پس منظر اور موجودہ کردار

جب تک ریاستی نظام معاشرہ میں دینی تعلیمات کے فروغ، مساجد کے لیے ائمہ کی فراہمی، دینی رہنمائی کے لیے علماء کی تیاری، اور قرآن و سنت کی تعلیم کے لیے اساتذہ مہیا کرنے کی ذمہ داری قبول نہیں کرتا اور اس کے لیے قابل قبول عملی نظام پیش نہیں کرتا اس وقت تک ان مدارس کے قیام و وجود کی ضرورت بہرحال باقی رہے گی۔ ورنہ وہی خلاء پیدا ہو جائے گا جس کو پر کرنے کے لیے مدارس قائم کیے گئے تھے۔ اس خلاء کو پر کرنے کے لیے نہ صرف ان مدارس کا وجود ضروری ہے بلکہ ان کی اس مالیاتی خودمختاری، انتظامی آزادی، اور نصابی تحفظات کا برقرار رکھنا بھی ناگزیر ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دینی مدارس ۔ پس منظر اور موجودہ کردار

۲۴ جولائی ۲۰۰۲ء