سانحات

سانحۂ مستونگ

اضاخیل پشاور کے ’’صد سالہ عالمی اجتماع‘‘ کے بعد سے اس بات کا خدشہ اور خطرہ مسلسل محسوس ہو رہا تھا کہ کچھ نہ کچھ ہوگا۔ صد سالہ اجتماع کی بھرپور کامیابی اور اس میں دیے جانے والے واضح پیغام نے دنیا کو ایک بار پھر بتا دیا ہے کہ شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ کا قافلہ دینی و قومی تحریکات کے لیے عدم تشدد پر مبنی پر امن جدوجہد کی پالیسی پر نہ صرف قائم ہے بلکہ آئندہ کے لیے اس نے اس کا تسلسل قائم رکھنے کا عزم نو بھی کر لیا ہے۔ اس لیے خیال تھا کہ تشدد کو اوڑھنا بچھونا بنانے والوں کے لیے اس کو ہضم کرنا مشکل ہوگا اور وہ اپنے غصے کا کہیں نہ کہیں اظہار ضرور کریں گے ۔ ۔ ۔

۱۴ مئی ۲۰۱۷ء

جنید جمشید شہیدؒ

جنید جمشیدؒ کی جدائی پر وسیع پیمانے پر محسوس کیا جانے والا یہ غم دراصل ہمارے اس قومی اور معاشرتی جذبہ و احساس کا عکاس ہے کہ اپنے اللہ کی طرف رجوع، عیش و عشرت کے ماحول سے واپسی، اور آخرت کی تیاری کے لیے ہر مسلمان کے دل میں تڑپ کسی نہ کسی درجہ میں ضرور موجود ہے۔ اس تڑپ کو بے ثبات دنیا کی رنگا رنگ آسائشوں نے گھیر رکھا ہے، اسے صرف صحیح راہنمائی اور حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے، یہ کام اگر سلیقے سے کیا جا سکے تو جنید جمشید کا غم محسوس کرنے والے لاکھوں افراد خود بھی جنید جمشید بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔ ۔ ۔

۲۱ دسمبر ۲۰۱۶ء

منٰی کا سانحہ ۲۰۱۵ء

منیٰ میں ہمارے خیمے مسجد خیف کے ساتھ اور جمرات کے قریب تھے، یہاں بھی قیام و طعام کی اچھی سہولتیں فراہم کی گئی تھیں۔ جس روز منیٰ کا سانحہ پیش آیا ہم صبح صبح رمی سے فارغ ہو کر خیموں میں آچکے تھے۔ رات سفر میں گزری تھی اور رمی جمرات بھی مشقت کا مرحلہ تھا اس لیے میں واپس پہنچ کر خیمہ میں سو گیا۔ دو تین گھنٹے کے بعد آنکھ کھلی تو ساتھیوں نے سانحہ کے بارے میں بتایا، سینکڑوں کی تعداد میں شہادتوں کی خبروں نے پریشان کر دیا ۔ ۔ ۔

۹ اکتوبر ۲۰۱۵ء

آرمی پبلک اسکول پشاور کا سانحہ ۲۰۱۴ء

16 دسمبر کے سانحۂ پشاور نے پوری قوم کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور پاکستان کی سیاسی و دینی جماعتیں اپنے تمام تر اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے دہشت گردی بلکہ درندگی کے خلاف متحد ہوگئی ہیں۔ ملک کے اخبارات اور میڈیا کے بہت سے مراکز نے اس دن سانحہ سقوط ڈھاکہ اور اس کے اسباب و اثرات کے حوالہ سے مضامین اور پروگراموں کا اہتمام کیا تھا، مگر پشاور کے اس المناک سانحہ نے قوم کے غم کو ہلکا کرنے کی بجائے ایک اور قومی سانحہ کے صدمہ سے اسے دو چار کر دیا ہے، انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ ۔ ۔

۲۰ دسمبر ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

کوٹ رادھا کش کا سانحہ ۲۰۱۴ء

اگر قرآن کریم کی توہین کا الزام درست تھا تو بھی اس سے نمٹنے کا یہ طریق کار کسی طرح بھی جائز نہیں تھا۔ کسی تحقیق کے بغیر مسجد کے لاؤڈ اسپیکر پر اعلان غلط تھا، پھر لوگوں کے ہجوم کی صورت میں اشتعال کے ماحول میں از خود تشدد کرنا درست نہیں تھا۔ اس پر پولیس کو حرکت میں آنا چاہیے تھا اور علاقہ کے معززین کو مداخلت کر کے معاملہ کو آگے بڑھنے سے روکنا چاہیے تھا۔ اس کے بعد نذر آتش کر دینا تو ظلم و زیادتی کی انتہا ہے، اور یہ واقعہ اسلام اور پاکستان دونوں کی بدنامی کا باعث بنا ہے ۔ ۔ ۔

۱۲ نومبر ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

راولپنڈی کا سانحہ ۲۰۱۳ء

دارالعلوم تعلیم القرآن راجہ بازار راولپنڈی ملک کے اہم ترین علمی اداروں اور دینی مراکزمیں سے ہے۔ شیخ القرآن حضرت مولانا غلام اللہ خان رحمہ اللہ تعالیٰ کا صدقہ جاریہ اور ان کی یادگار ہے۔ اس کے بارے میں موبائل فون کے پے در پے اضطراب انگیز پیغامات لمحہ بہ لمحہ پریشانی اور رنج و غم میں اضافہ کرتے چلے جا رہے تھے، جبکہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر طوفان بپا کر دینے والا میڈیا حیرت انگیز طور پر خاموش تھا۔ راولپنڈی اور اسلام آباد کی فون سروس معطل تھی اور کوئی قابل اعتماد ذریعہ میسر نہیں آرہا تھا ۔ ۔ ۔

۱۹ نومبر ۲۰۱۳ء

لاہور میں ایک چرچ کا انہدام ۲۰۰۷ء

۱۸ دسمبر ۲۰۰۷ء کو روزنامہ ڈان میں شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق لاہور چرچ کونسل کے سیکرٹری جناب مشتاق سجیل بھٹی نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا ہے کہ گارڈن ٹاؤن لاہور کے ابوبکر بلاک میں ۱۹۶۳ء سے قائم ایک چرچ کو، جو ’’چرچ آف کرائسٹ‘‘ کے نام سے مسیحیت کی مذہبی سرگرمیوں کا مرکز تھا، ایک بااثر قبضہ گروپ نے ۱۱ دسمبر کو اس پر زبردستی قبضہ کرنے کے بعد ۱۶ دسمبر کو مسمار کر دیا ہے اور اسے ایک کمرشل پلاٹ کی شکل دے دی ہے ۔ ۔ ۔

۲۰۰۸-۰۱-۰۱

قدرتی آفات ۔ اسباب و عوامل اور ہماری ذمہ داری

ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ اس کائنات میں جو کچھ ہوتا ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہی ہوتا ہے۔ اس لیے یہ سوال کہ زلزلہ کون لایا ہے بظاہر غیر ضروری معلوم ہوتا ہے لیکن مجھے اس کی ضرورت اس لیے محسوس ہوئی کہ بعض دانشوروں کی طرف سے کھلے بندوں یہ کہا جا رہا ہے کہ اس زلزلہ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تنبیہ یا سزا سمجھنے کی بجائے فطری قوانین اور نیچرل سورسز کی کارروائی سمجھا جائے کہ ایسا ہمیشہ ہوتا آیا ہے اور نیچرل سورسز کے حوالے سے یہ معمول کی کارروائی ہے ۔ ۔ ۔

۲۲ دسمبر ۲۰۰۵ء