سعودی عرب

سعودی عرب کا تاریخی پس منظر اور حالیہ شاہی کشمکش

’’المملکۃ العربیۃ السعودیۃ‘‘ میں اس وقت جو صورتحال ہے اسکے بارے میں حرمین شریفین سے عقیدت اور اسکی وجہ سے سعودی عرب سے محبت رکھنے والا دنیا کر ہر مسلمان پریشان بلکہ مضطرب ہے۔ کرپشن کے خاتمہ کے عنوان سے شاہی خاندان میں باہمی کشمکش، گرفتاریوں، کم از کم ایک شہزادہ کے شہید ہو جانے اور متعدد سرکردہ علماء کرام کے زیر حراست ہونے کی خبریں اس پریشانی اور اضطراب میں مسلسل اضافہ کر رہی ہیں۔ مگر اس حوالہ سے کچھ عرض کرنے سے قبل سعودی سلطنت کے قیام اور اسکے پس منظر کے بارے میں چند زمینی حقائق کو پیش نظر رکھنا ضروری دکھائی دیتا ہے ۔ ۔ ۔

۱۲ نومبر ۲۰۱۷ء

سعودیہ ایران کشمکش اور اس کے مضمرات

سعودی عرب اور ایران کی یہ کشمکش مسلسل آگے بڑھ رہی ہے جس سے مشرق وسطیٰ میں سنی شیعہ تصادم خوفناک صورت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ حتیٰ کہ عرب اسرائیل تنازعہ بھی پس منظر میں چلا گیا ہے اور پاکستان پر اس کے منفی اثرات کے سیاہ بادل منڈلانا شروع ہوگئے ہیں۔ وطن عزیز پاکستان کی داخلی صورت حال اس سے قبل بھی سنی شیعہ کشمکش اور باہمی خونریزی کے تلخ مراحل سے گزر چکی ہے۔ اس لیے واقفان حال کو اس کے دوبارہ لوٹ آنے کے امکانات و خدشات نے بے چین و مضطرب کر رکھا ہے ۔ ۔ ۔

۹ فروری ۲۰۱۶ء

مصر، آل سعود اور ائمہ حرمین

مصر میں اخوان المسلمون کی منتخب حکومت کا تختہ الٹنے والے فوجی حکمرانوں کی سیاسی و اخلاقی تائید کے ساتھ ساتھ اربوں روپے کی صورت میں ان کی مالی امداد کر کے سعودی حکومت نے اپنے بارے میں بہت سے سوالات کھڑے کر لیے ہیں۔ اگرچہ یہ سوالات نئے نہیں ہیں لیکن آج کی نسل کے لیے ضرور نئے ہیں اور اپنے ماضی سے بے خبری کے باعث علم و دانش کا سطحی اور معروضی ماحول حیرت اورشش و پنج کی کیفیت سے دوچار ہے ۔ ۔ ۔

۱۷ اگست ۲۰۱۳ء

سعودی عرب کی مجوزہ سیاسی اصلاحات

جب بھی اسلامی نظام حکومت کی بات ہوتی ہے ایک شخص،گروہ، یا خاندانی آمریت کا تصور ہی ذہنوں میں ابھرتا ہے اور اس حقیقت کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے کہ اسلام کا آئیڈیل نظام مذکورہ حکومتیں نہیں بلکہ خلافت راشدہ کا نظام ہے۔ خاندانی خلافتوں اور طاقت کے بل پر قائم ہونے والی حکومتوں کو مختلف ادوار میں برداشت ضرور کیا گیا ہے جس طرح ہمارے ہاں نظریۂ ضرورت بلکہ نظریۂ مجبوری کے تحت آئین سے ماورا حکومتوں کو برداشت کر لیا جاتا ہے۔ لیکن ایسی حکومتوں کو نہ تو آئیڈیل تسلیم کیا جا سکتا ہے اور نہ اسلامی دستور کی تشکیل میں انہیں بنیاد بنایا جا سکتاہے ۔ ۔ ۔

۱۸ فروری ۲۰۰۳ء

حج ۲۰۰۲ء سے مفتی اعظم سعودی عرب کا خطبہ

سعودی عرب میں آل سعود اور آل شیخ کی اصطلاحات عام طور پر دیکھنے سننے میں آتی ہیں۔ یہ دو خاندانوں کے نام ہیں۔ ایک حکمران خاندان ہے جو آل سعود کہلاتا ہے جبکہ دوسرا الشیخ محمد بن عبد الوہاب کا خاندان ہے جو آل شیخ کہلاتا ہے۔ سعودی مملکت کے قیام کے وقت سے ان دو خاندانوں میں شراکت اقتدار اور تعاون کا یہ معاہدہ چلا آرہا ہے کہ مذہبی اور عدالتی امور میں آل شیخ کی بالادستی ہے اور ان کے فیصلوں کو فوقیت حاصل ہوتی ہے جبکہ سیاسی و معاشی اور دیگر اجتماعی معاملات آل سعود کے کنٹرول میں ہیں ۔ ۔ ۔

یکم مارچ ۲۰۰۲ء

سلطنت برطانیہ اور آل سعود کے درمیان معاہدہ

تاریخ کا وہ حصہ میری خصوصی دلچسپی کا موضوع ہے جس کا تعلق اب سے دو صدیاں پہلے کی دو عظیم مسلم سلطنتوں خلافت عثمانیہ اور سلطنت مغلیہ کے خلاف یورپی ملکوں کی سازشوں سے ہے۔ اور اس حوالہ سے وقتاً فوقتاً ان کالموں میں کچھ لکھتا بھی رہتا ہوں۔ اسی مناسبت سے مجھے ایک معاہدہ کی تفصیلات کی تلاش تھی جو برطانوی حکومت اور آل سعود کے درمیان ہوا تھا اور جس پر اب تک بدستور عمل ہو رہا ہے ۔ ۔ ۔ یہ معاہدہ قارئین کے سامنے لانا چاہتا ہوں مگر پہلے اس کا تھوڑا سا پس منظر واضح کرنا بھی ضروری ہے ۔ ۔ ۔

۲۴ نومبر ۱۹۹۹ء

’’اسلام اور مسلمانوں کا غدار‘‘

اسامہ بن لادن اسلام اور مسلمانوں کا غدار ہے اور اس کی سعودی شہریت منسوخ کی جا چکی ہے اس لیے اگر اسے امریکہ کے حوالہ کر دیا جائے تو سعودی حکومت کو کوئی تشویش نہیں ہوگی۔ خبر کے مطابق سعودی وزیردفاع نے یہ بات واشنگٹن میں اخبار نویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہی ہے۔ اسامہ بن لادن کے خلاف امریکہ نے ایک عرصہ سے جو مہم چلا رکھی ہے اس کے پس منظر میں سعودی شہزادے کی یہ بات کسی طور پر بھی خلاف توقع نہیں ہے اور موجودہ حالات کے تناظر میں اس کے علاوہ وہ کچھ اور کہہ بھی نہیں سکتے ۔ ۔ ۔

۷ نومبر ۱۹۹۹ء

مفتی اعظم سعودی عرب الشیخ عبد العزیز بن بازؒ اور دیگر مرحومین

مفتی اعظم سعودی عرب الشیخ عبد العزیز بن بازؒ۔ حضرت مولانا سید عنایت اللہ شاہ بخاریؒ۔ الحاج مولانا فاروق احمد آف سکھرؒ۔ جناب حاجی کرامت اللہؒ۔

یکم جون ۱۹۹۹ء

نظام حکومت کی اصلاح کے لیے سعودی علماء کی تجاویز

اس ’’یادداشت‘‘ میں ملک کی داخلی، خارجی، دفاعی، معاشی، انتظامی اور قانونی پالیسیوں پر الگ الگ بحث کرتے ہوئے ان میں خامیوں کی نشاندہی کی گئی ہے اور شرعی نقطۂ نظر سے اصلاحی تجاویز پیش کی گئی ہیں۔ ان سب تجاویز کا احاطہ تو اس مختصر کالم میں ممکن نہیں ہے، البتہ ان میں سے چند تجاویز کا تذکرہ کیا جا رہا ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ الشیخ اسامہ بن لادن اور سعودی عرب کے دیگر علماء اور دانش وروں کا اصل موقف اور مشن کیا ہے جس کے لیے وہ محاذ آرائی، جلا وطنی اور قید و بند کے مراحل سے دوچار ہیں ۔ ۔ ۔

۲۷ فروری ۱۹۹۹ء

سعودی عرب میں امریکہ کی موجودگی، خدشات و تاثرات

بعض احباب کا خیال ہے کہ سعودی عرب کا شاہی خاندان آل سعود اگر اقتدار سے محروم ہو جاتا ہے تو کوئی اور سیاسی قوت اس درجہ کی نہیں جو موجودہ سعودی عرب کو متحد رکھ سکے۔ اور اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ یہ ملک تقسیم ہو جائے گا اور تیل سے مالا مال علاقوں پر مغربی اقوام کے مستقل تسلط کے علاوہ حجاز مقدس ایک الگ ریاست کی شکل میں سامنے آسکتا ہے جس کے پاس اپنے وسائل نہیں ہوں گے اور وہ ویٹی کن سٹی طرز کی ایک مذہبی اسٹیٹ بن کر رہ جائے گا ۔ ۔ ۔

۱۱ اکتوبر ۱۹۹۸ء

تیل، ایک کارگر ہتھیار

سعودی عرب کے شاہ فیصل نے اعلان کیا ہے کہ جب تک اسرائیل تمام مقبوضہ عرب علاقے خالی نہیں کرتا اور فلسطینی عوام کو خود ارادیت کا حق نہیں دیا جاتا، سعودی عرب تیل کے ہتھیار سے مؤثر طور پر کام لینے، مصری مفادات کو تقویت پہنچانے اور عرب اتحاد کو مستحکم کرنے کی پالیسی پر گامزن رہے گا۔ دوسری طرف امریکہ نے عرب ممالک کو دھمکی دی ہے کہ اگر انہوں نے تیل کی سپلائی بحال نہ کی تو انہیں سخت نقصان اٹھانا پڑے گا ۔ ۔ ۔

۳۰ نومبر ۱۹۷۳ء