سیرتِ نبویؐ

صلح حدیبیہ کے چند اہم پہلو

جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ڈیڑھ ہزار کے لگ بھگ رفقاء کو حدیبیہ کے مقام پر روک دیا گیا اور یہ بات سامنے آگئی کہ قریش مکہ جناب رسول اللہؐ اور ان کے ساتھیوں کو عمرہ ادا کرنے کی اجازت نہیں دیں گے تو آنحضرتؐ نے وہاں رک کر اس صورتحال کا جائزہ لیا اور اپنی آئندہ حکمت عملی طے فرمائی۔ قبیلہ بنو خزاعہ کے ساتھ نبی کریمؐ کے اچھے تعلقات تھے وہ مسلمانوں کے بارے میں دل میں نرم گوشہ رکھتے تھے، ان کے سردار بدیل بن ورقاء خزاعی اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ حضورؐ سے ملاقات کے لیے آئے تو آپؐ نے ان کے ذریعے قریش مکہ کو ایک پیغام بھجوایا ۔ ۔ ۔

۹ مارچ ۲۰۱۷ء

ذرائع ابلاغ اور سنت نبویؐ

قرآن کریم کا پیغام فطری جبکہ اسلوب فصاحت و بلاغت کے کمال کا تھا، اس لیے مخالفین کو اس کا اثر کم کرنے کے لیے طعن و تشنیع اور کردار کشی کے سوا کوئی بات نہیں سوجھتی تھی۔ کبھی مجنون کہتے، کبھی شاعر، کبھی ساحر اور کبھی کاہن کے طعنے کا سہارا لیتے۔ ایک مرحلہ میں قریشی سردار نضر بن حارث کو قرآن کریم کے مقابلہ میں محفلیں بپا کرنے کی سوجھی تو اس نے ناچ گانے، موسیقی اور قصے کہانیوں کو ذریعہ بنایا جس کا ذکر قرآن کریم نے لھو الحدیث کے عنوان سے کیا ہے اور لیضل عن سبیل اللە کے ارشاد کے ساتھ گمراہی پھیلانے کا اہم سبب قرار دیا ہے ۔ ۔ ۔

۱۵ دسمبر ۲۰۱۶ء

دفاع وطن اور اسوۂ نبویؐ (۲)

جناب رسول اللہؐ جب ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لائے اور ایک ریاست کا ماحول بنا تو آنحضرتؐ نے سب سے پہلا کام یہ کیا کہ مدینہ منورہ اور اردگرد کے سب قبائل کو جمع کر کے مشترکہ حکومتی نظام کے ساتھ ساتھ مشترکہ دفاع کے معاہدہ کا اہتمام فرمایا۔ ’’میثاق مدینہ‘‘ میں سب نے مل کر طے کیا کہ مدینہ منورہ پر حملہ کی صورت میں اس کے دفاع کی ذمہ داری سب پر ہوگی اور مسلمان و کافر مل کر اس وطن کا تحفظ کریں گے۔ اس طرح آپؐ نے یہ اصول دیا کہ وطن کا دفاع سب اہل وطن کی مشترکہ ذمہ داری ہوتی ہے ۔ ۔ ۔

۶ اکتوبر ۲۰۱۶ء

دفاع وطن اور اسوۂ نبویؐ (۱)

نامور مؤرخ و محدث امام ابن سعدؒ کی تحقیق کے مطابق جناب رسول اللہؐ نے مدینہ منورہ کی دس سالہ زندگی میں ستائیس کے لگ بھگ غزوات میں خود شرکت فرمائی۔ ان میں اقدامی جنگیں بھی تھیں اور دفاعی جنگیں بھی شامل تھیں۔ مثلاً (۱) بدر (۲) خیبر (۳) بنو مصطلق اور (۴) فتح مکہ کی جنگیں اقدامی تھیں کہ آنحضرتؐ ان جنگوں میں دشمن پر خود حملہ آور ہوئے تھے۔ جبکہ (۱) احد (۲) احزاب اور (۳) تبوک کی جنگیں دفاعی تھیں کہ حملہ آور دشمنوں سے مدینہ منورہ کے دفاع کے لیے حضورؐ میدان جنگ میں آئے تھے اور دشمنوں کو اپنے ارادوں میں ناکامی ہوئی تھی ۔ ۔ ۔

۶ ستمبر ۲۰۱۶ء

معاہدۂ حدیبیہ کے اہم سبق

صلح حدیبیہ کے معاہدہ میں جہاں یہ طے ہوا تھا کہ مسلمانوں اور قریش کے درمیان دس سال تک جنگ نہیں ہوگی، وہاں دوسری شرائط کے ساتھ ایک شرط یہ بھی تھی کہ اگر مکہ مکرمہ سے قریش کا کوئی شخص مسلمان ہو کر مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرے گا تو جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسے واپس کرنے کے پابند ہوں گے۔ لیکن اگر کوئی مسلمان نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا (نعوذ باللہ) ساتھ چھوڑ کر مکہ مکرمہ چلا جائے گا تو اس کی واپسی ضروری نہیں ہوگی ۔ ۔ ۔

۱۵ فروری ۲۰۱۶ء

حکمت عملی کا جہاد

یہ بات غور طلب ہے کہ منافقین کے خلاف کون سا جہاد ہوا؟ اس لیے کہ دس سالہ مدنی دور میں منافقوں کے خلاف ایک بار بھی ہتھیار نہیں اٹھایا گیا۔ وہ مدینہ منورہ میں رہے اور سارے معاملات میں شریک رہے، شرارتیں بھی کرتے رہے اور بڑے بڑے فتنے انہوں نے کھڑے کیے مگر ایک بار بھی ان کے خلاف تلوار استعمال نہیں ہوئی۔ حتیٰ کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بعض سرکردہ منافقوں کو قتل کرنے کی اجازت مانگی گئی مگر جناب سرور کائنات ؐ نے اجازت دینے سے انکار کر دیا ۔ ۔ ۔

۱۲ جنوری ۲۰۱۶ء

رسول اکرمؐ کی معاشرتی اصلاحات

جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نسبت اور عقیدت و محبت کا اظہار ہمارے ایمانی تقاضوں میں سے ہے، اور ہر مسلمان کسی نہ کسی انداز میں اس کا اظہار ضرور کرتا رہتا ہے۔ مگر اس کے ساتھ یہ بات بھی پیش نظر رکھنا ضروری ہے کہ جناب رسول اللہؐ کی بعثت کن مقاصد کے لیے ہوئی تھی؟ اللہ تعالیٰ کے آخری پیغمبرؐ نے انسانی معاشرہ کو خیر کے کن کاموں کی تلقین کی تھی، شر کے کن کاموں سے روکا تھا، اور بھرپور محنت کے ساتھ انسانی سوسائٹی کو کن تبدیلیوں اور اصلاحات سے روشناس کرایا تھا جن کی وجہ سے انہیں پیغمبر انقلاب کہا جاتا ہے ۔ ۔ ۔

۲۴ دسمبر ۲۰۱۵ء

تذکرۂ نبویؐ کے چند آداب

بزرگوں کے دن منانا یا کچھ ایام کو ان کی یاد کیلئے مخصوص کر دینا تو کوئی شرعی حیثیت نہیں رکھتا لیکن انہیں یاد کرنا اور ان کی خدمات اور قربانیوں کا تذکرہ کرتے رہنا رحمتوں اور برکتوں کا ذریعہ بنتا ہے ا ور اس سے راہ نمائی ملتی ہے۔ اور بزرگوں کے تذکرہ کے کچھ آداب اور کچھ تقاضے بھی ہیں جنہیں ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔ ہم سب سے زیادہ تذکرہ سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کا کرتے ہیں اور انہی کا سب سے زیادہ تذکرہ کرنا چاہیے۔ مگر قرآن کریم نے اس کے کچھ آداب بیان کیے ہیں اور خود حضورؐ نے بھی چند آداب کا ذکر کیا ہے ۔ ۔ ۔

نومبر ۲۰۱۵ء

حضورؐ کا منافقین کے ساتھ طرز عمل

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لائے اور اسے اپنا مرکز بنایا تو یہود اور مشرکین کے مختلف قبائل کے ساتھ ساتھ آپ کو ایک ایسے طبقہ سے بھی واسطہ پڑا جو کلمہ پڑھ کر بظاہر مسلمانوں میں شامل ہوگیا تھا لیکن دل سے مسلمان نہیں ہوا تھا، اور دل سے اس کی تمام تر ہمدردیاں اور معاونتیں کفار کے ساتھ تھیں جن کا تذکرہ قرآن کریم میں مختلف مقامات پر موجود ہے۔ غزوہ احد میں یہ لوگ تین سو کی تعداد میں عبد اللہ بن ابی کی سرکردگی میں میدان چھوڑ کر واپس چلے گئے تھے ۔ ۔ ۔

۱۵ فروری ۲۰۱۵ء

حضورؐ بطور سیاست دان

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کائنات کی سب سے بڑی صاحب کمالات شخصیت ہیں اور آپؐ کو کمال کی ہر صفت عروج کے اعلیٰ ترین درجہ پر عطا ہوئی ہے۔ آپؐ سب سے بڑے رسول و نبی، سب سے بڑے قانون دان، سب سے بڑے جرنیل، سب سے اعلیٰ حکمران اور اس کے ساتھ ساتھ سب سے بڑے سیاست دان بھی ہیں۔ آنحضرتؐ کی سیاسی زندگی کے مختلف اور متنوع پہلو ہیں جن میں سے ہر ایک پر مستقل کام کی ضرورت ہے اور ہمارے ہاں سیرت نبویؐ کے ان پہلوؤں پر سب سے کم کام ہو رہا ہے ۔ ۔ ۔

۲۲ جنوری ۲۰۱۵ء

حالات کا اتار چڑھاؤ اور سیرت نبویؐ سے رہنمائی

حالات کے اتار چڑھاؤ سے یقیناً پریشانی ہوتی ہے لیکن یہ اتار چڑھاؤ تاریخ کا ناگزیر حصہ ہے اور اہل حق کے سفر کے سنگ میل ہی مسائل و مشکلات اور مصائب و آلام ہوتے ہیں۔ اس لیے ان سے گبھرانے کی ضرورت نہیں ہے اور میں اس سلسلہ میں دور نبویؐ کے دو تین واقعات کا تذکرہ کرنا چاہوں گا کہ ایسے حالات میں ہمیں کیسے کام کرنا چاہیے؟ جناب نبی اکرم ﷺ جب ہجرت کر کے مدینہ منورہ کی طرف جا رہے تھے تو ظاہری کیفیت یہ تھی کہ چھپتے چھپاتے مدینہ منورہ پہنچنے کی کوشش تھی ۔ ۔ ۔

۱۹ جنوری ۲۰۱۵ء

سیرت طیبہ اور امن عامہ

جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ امن کو ترجیح دی ہے، معاشرہ میں منافرت اور فساد کو پھیلنے سے روکا ہے، اور عام لوگوں کے امن کے ساتھ ساتھ ان کے جذبات و احساسات کا بھی پوری طرح لحاظ رکھا ہے۔ اسی طرح سوسائٹی میں فساد کا ذریعہ بننے والی باتوں کی جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سختی کے ساتھ نفی فرمائی ہے اور ان کی مذمت کی ہے۔ اس حوالہ سے بیسیوں واقعات میں سے ایک دو کا تذکرہ کرنا چاہوں گا ۔ ۔ ۔

۳ جنوری ۲۰۱۵ء

نعت رسولؐ کے آداب

جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر مبارک ہم اپنی نسبت کے اظہار اور شناخت کے لیے کرتے ہیں کہ اس سے انسانی سوسائٹی کی رنگا رنگ تقسیم میں ہمارا تعارف ہو جاتا ہے اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نسبت کے اظہار کے بعد مزید کسی تعارف کی ضرورت باقی نہیں رہ جاتی۔ ہم یہ تذکرہ محبت کے اظہار کے لیے بھی کرتے ہیں کہ جس سے محبت ہوتی ہے اس کا ذکر بھی اکثر زبان پر رہتا ہے۔ اور یہ ذکر کرنا نہیں پڑتا بلکہ خود بخود ہو جاتا ہے کہ محبت اپنا اظہار خود کرتی ہے ۔ ۔ ۔

۸ مئی ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

نعتیہ شاعری اور ادب و احترام کے تقاضے

جناب نبی اکرمؐ کا تذکرہ نثر میں ہو یا نظم میں، باعث برکت و سعادت ہے اور ذکر رسولؐ کے ہزاروں پہلو ہیں جن پر مختلف حوالوں سے علمی کاوشوں کا سلسلہ جاری ہے۔ نعتیہ شاعری کے بعض پہلوؤں پر میرے پیش رو مقررین نے خوبصورت خیالات و جذبات کا اظہار کیا ہے۔ ذکر رسولؐ کا مقصد اپنے جذبات اور محبت و عقیدت کا اظہار تو ہوتا ہی ہے کہ ایک مسلمان اپنی نسبت کا اظہار بھی کرتا ہے اور محبت و عقیدت بھی پیش کرتا ہے۔ لیکن نعتیہ شاعری کا ایک اہم پہلو ہمارے پیش نظر ضرور ہونا چاہیے کہ خود جناب نبی اکرمؐ نے اس کا کس حوالہ سے تقاضہ کیا تھا ۔ ۔ ۔

۱ اپریل ۲۰۱۴ء

حضورؐ کی مجلسی زندگی

جناب نبی اکرم ﷺ کے روز مرہ معمولات کا آغاز بھی مجلس سے ہوتا تھا اور اختتام بھی مجلس پر ہی ہوتا تھا، صبح نماز کے بعد عمومی مجلس ہوتی تھی اور رات کو عشاء کے بعد خواص کی محفل جمتی تھی جبکہ دن میں بھی مجلس کا سلسلہ جاری رہتا تھا۔ سیرت اور حدیث کی مختلف روایات میں بتایا گیا ہے کہ نماز فجر کے بعد جناب نبی اکرم ﷺ مسجد میں ہی اشراق کے وقت تک تشریف فرما ہوتے تھے، اس دوران وہ ساتھیوں کا حال احوال پوچھتے تھے، کسی نے خواب دیکھا ہوتا تو وہ بیان کرتا تھا اور تعبیر پوچھتا تھا ۔ ۔ ۔

۶ فروری ۲۰۱۳ء

میڈیا کا محاذ اور اسوۂ نبویؐ

جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب جنگ احزاب سے فارغ ہوئے تو آپ نے مسجد نبویؐ میں ایک اعلان فرمایا کہ اب قریشیوں کو ہمارے خلاف جنگ کے لیے یہاں آنے کی ہمت نہیں ہوگی، اب جب بھی جائیں گے ہم ہی جائیں گے۔ دوسری بات یہ فرمائی کہ اب یہ لوگ ہمارے خلاف زبان کی جنگ لڑیں گے اور خطابت و شاعری کا محاذ گرم کریں گے، اسلام اور مسلمانوں کے خلاف نفرت کا بازار گرم کریں گے، پروپیگنڈہ کریں گے، کردار کشی کریں گے اور عرب قبائل کو مسلمانوں کے خلاف بھڑکائیں گے ۔ ۔ ۔

فروری ۲۰۱۳ء

عدلِ اجتماعی کا تصور تعلیمات نبویؐ کی روشنی میں

عام طور پر ایک حکومت اور ریاست کی ذمہ داری میں شہریوں کی جان و مال کی حفاظت، امن کی فراہمی، انصاف کے قیام اور ان کے حقوق کی پاسداری کو شامل کیا جاتا ہے۔ لیکن جناب نبی اکرم ﷺ نے حکومت و ریاست کی ذمہ داریوں میں ایک اور بات کا اضافہ کیا کہ وہ شہریوں کو ضروریات زندگی کی فراہمی اور سوسائٹی کے نادار، بے سہارا اور معذور لوگوں کی کفالت کی بھی ذمہ دار ہے۔اسی کو آج کی دنیا میں رفاہی ریاست اور ویلفیئر اسٹیٹ سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔ ۔ ۔

۳۱ جنوری ۲۰۱۳ء

امت مسلمہ کی موجودہ صورت حال اور اسوۂ نبویؐ

جناب نبی اکرم ﷺ کی سیرت طیبہ قیامت تک ہر زمانے اور ہر قوم کے لیے اسوۂ حسنہ ہے اور ہر دور میں نسلِ انسانی اس سے راہ نمائی حاصل کرتی ہے۔ آج بھی نسلِ انسانی اور خاص طور پر امتِ مسلمہ کے لیے یہی راہ نمائی فلاح و نجات کا سب سے بڑا سرچشمہ ہے۔ امتِ مسلمہ اس وقت جن مسائل میں الجھی ہوتی ہے ان کی فہرست بہت طویل ہے اور انہیں صرف شمار کیا جائے تو اس کے لیے خاصا وقت درکار ہے، لیکن ان میں سے چند بڑے بڑے مسائل کا ذکر مناسب سمجھتا ہوں تاکہ یہ بات ہمارے ذہنوں میں تازہ ہو جائے ۔ ۔ ۔

۲۵ جنوری ۲۰۱۳ء

نبی اکرمؐ کی خارجہ پالیسی

مدینہ منورہ کی ریاست وجود میں آنے کے بعد خارجہ پالیسی کے بارے میں آپؐ نے کیا طرز عمل اختیار کیا تھا اور کیا ہدایات دی تھیں، اس کے لیے ہمیں بنیادی طور پر (۱) حضورؐ کے ان خطوط کا مطالعہ کرنا ہوگا جو آپؐ نے دنیا کے مختلف ممالک کے حکمرانوں کو ارسال فرمائے تھے، (۲) ان معاہدات کا جائزہ لینا ہوگا جو متعدد اقوام اور ریاستوں کے ساتھ آپؐ نے کیے تھے، اور (۳) ان وفود کے ساتھ رسالت مابؐ کی گفتگو اور رویے کو سامنے رکھنا ہوگا جو مختلف مواقع پر مختلف اقوام کی طرف سے مدینہ منورہ آئے اور انہوں نے حضورؐ کے ساتھ باہمی معاملات پر گفتگو کی ۔ ۔ ۔

۱۵ فروری ۲۰۱۲ء

نبی اکرمؐ کا معاشرتی رویہ اور روزمرہ معمولات

حضورؐ اس بات کا خیال رکھتے تھے کہ لوگ خیر کے معاملات سے غافل نہ ہو جائیں اور اس بات کا بھی اہتمام کرتے تھے کہ وہ اکتا نہ جائیں۔ ہر قسم کے معاملے کا آپ کے پاس حل تیار ہوتا تھا اور ہر صورتحال کے لیے مستعد ہوتے تھے۔ آپؐ حق بات کہنے سے نہیں کتراتے تھے اور ضرورت سے زیادہ بات نہیں کرتے تھے۔ لوگوں میں سے آپؐ سے زیادہ قریب وہی حضرات ہوتے تھے جو اچھے لوگ ہوتے تھے۔ جناب نبی اکرمؐ کے ہاں سب سے زیادہ قابل احترام وہی شخص ہوتا تھا جو لوگوں کے ساتھ نصیحت او رخیر خواہی کا جذبہ رکھتا ہو ۔ ۔ ۔

۳ فروری ۲۰۱۲ء

علاج معالجہ اور سنت نبویؐ

علاج معالجہ اور اس کے لیے ریسرچ، محنت اور فکرمندی انسانی ضرورت ہے، سوسائٹی کا تقاضا ہے اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت مبارکہ بھی ہے۔ جناب نبی اکرمؐ نے جسمانی اور روحانی دونوں قسم کی بیماریوں کے علاج معالجے کی تلقین فرمائی ہے۔ اور آپؐ نے بیماریوں کے لیے جسمانی و روحانی دونوں طرز کے علاج خود بھی تجویز کیے ہیں، اس لیے انسانی بیماریوں کا علاج انسانی خدمت ہونے کے ناتے عبادت اور سنت رسولؐ بھی شمار ہوتا ہے۔ اسی طرح عام سطح پر محسوس کیے جانے والے خدشات کا لحاظ رکھنا بھی آنحضرتؐ کی سنت مبارکہ ہے ۔ ۔ ۔

یکم جنوری ۲۰۱۲ء

خصائل نبویؐ، احادیث نبویؐ کی روشنی میں

محدثین کرامؒ نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذاتی اوصاف و کمالات اور معمولات کو علم حدیث کے ایک مستقل شعبے کی صورت میں مرتب کیا ہے جسے ’’شمائل نبویؐ‘‘ کے عنوان سے بیان کیا جاتا ہے۔ بعض محدثین نے اس پر الگ کتابیں لکھی ہیں اور باذوق اہل علم نے بڑی محبت و عقیدت کے ساتھ ان کا تذکرہ کیا ہے۔ حضرات صحابہ کرامؓ کے حسن و ذوق کی انتہا یہ ہے کہ انہوں نے آنحضرتؐ کی اجتماعی، معاشرتی، اور علمی و عملی زندگی کی تفصیلات کے ساتھ ساتھ ذاتی زندگی کی جزئیات تک روایت کی ہیں ۔ ۔ ۔

۲۶ فروری ۲۰۱۱ء

تجارت اور سیرت نبویؐ

تجارت وہ ناگزیر ضرورت ہے جس کے بغیر انسانی معاشرے کا نظام نہیں چل سکتا، اللہ تعالیٰ نے تجارت کو انسانوں کی معاشی ضروریات پوری کرنے کا ایک ذریعہ بنایا ہے۔ جناب نبی کریمؐ کے فرمان کے مطابق زراعت، تجارت، ملازمت، اور مال غنیمت کمائی کے وہ حلال اور جائز طریقے ہیں جن کے ذریعے انسان اپنی ضروریات زندگی مہیا کر سکتا ہے۔ جناب رسول اللہؐ نے تجارت کو کمائی کے بہترین ذرائع میں ارشاد فرمایا ہے، بہت سی روایات ہیں جن میں نبی کریمؐ نے تجارت کی فضیلت و اہمیت ذکر فرمائی ہے، درجات بیان فرمائے ہیں اور تجارت کے متعلق احکامات ارشاد فرمائے ہیں ۔ ۔ ۔

ستمبر ۲۰۰۷ء

صلح و جنگ اور سیرت نبویؐ

جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگیں بھی کی ہیں اور صلحات بھی۔ حضورؐ نے جو جنگیں کی ان کا مقصد کیا تھا اور وہ کن اصولوں کے تحت لڑی گئیں؟ اور آپؐ نے جو صلحیں کیں وہ کن مصلحتوں کے تحت کی گئیں اور حضورؐ نے ان صلحوں کو کیسے نبھایا؟ اس حوالے سے مختصراً چند باتیں عرض کرنے کی کوشش کروں گا۔ جناب نبی کریمؐ نے جو دین پیش کیا وہ صرف اخلاقیات اور عبادات پر ہی مشتمل نہیں بلکہ یہ دین پوری زندگی کا انسانی ضابطہ حیات ہے۔ ہمارا یہ عقیدہ اور ایمان ہے کہ یہ دین زندگی کے ہر شعبے کو محیط ہے ۔ ۔ ۔

ستمبر ۲۰۰۷ء

غلامی کا تصور اور سیرت نبویؐ

جب غلامی کو ممنوع قرار دینے کی بات ہوئی تو یہ کہا گیا کہ اسلام بھی ان مذاہب میں سے ہے جنہوں نے غلامی کو جائز قرار دیا اور اپنے نظام میں غلامی کا رواج برقرار رکھا۔ اس بات کی بظاہر تائید بھی ہوتی ہے اس لیے کہ قرآن کریم میں غلامی کے بارے میں آیات موجود ہیں، احادیث میں ان کا ذکر ہے اور غلامی کے متعلق فقہ کے ابواب ہیں۔ اگرچہ آج کے دور میں عملاً غلامی موجود نہیں ہے لیکن اسلام کے اندر غلامی کا ایک مستقل تصور ہے جو پڑھا اور پڑھایاجاتا ہے۔ چنانچہ اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ غلامی کیا تھی اور اسلام نے اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا ۔ ۔ ۔

ستمبر ۲۰۰۷ء

غیر مسلموں سے سلوک اور سیرت نبویؐ

غیر مسلموں کے ساتھ جناب نبی کریمؐ کے معاملات کی نوعیت کیا تھی یہ ایک بڑا موضوع ہے جس کے بیسیوں پہلو ہیں۔ یہ ایک حساس اور پیچیدہ موضوع بھی ہے جس پر میں اصولی طور پر چند گزارشات پیش کرنے کی کوشش کروں گا۔ قرآن کریم اور جناب رسول اللہؐ کی سنت و سیرت کے حوالے سے کافروں کے ساتھ تعلقات دیکھے جائیں تو اس کی الگ الگ نوعیتیں اور درجات سامنے آتے ہیں جن کے الگ الگ احکام ہیں۔ مسلمانوں کے غیر مسلموں کے ساتھ تعلقات کی سب سے پہلی نوعیت وہ ہے جس کا دائرہ پوری دنیا ہے ۔ ۔ ۔

ستمبر ۲۰۰۷ء

گھریلو زندگی اور سیرت نبویؐ

انسان گھریلو زندگی کا آغاز ماں باپ کے زیر سایہ ایک بچے کی حیثیت سے کرتا ہے، بڑا ہوتا ہے تو بہن بھائیوں کا ساتھ میسر آتا ہے، خود مختار ہوتا ہے تو میاں بیوی کے رشتے میں منسلک ہوتا ہے جس کے بعد اولاد کی نوبت آتی ہے، یہ ہر شخص کی گھریلو زندگی کا ایک عمومی خاکہ ہے۔ اور گھر معاشرے کی ایک بنیادی اکائی ہے، اللہ تعالیٰ نے اکیلے انسان کو اس دنیا میں نہیں بھیجا بلکہ جنت سے میاں بیوی کا ایک جوڑا زمین پر اتارا، حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حوا علیہا السلام کی صورت میں ایک کنبہ بھیجا ۔ ۔ ۔

ستمبر ۲۰۰۷ء

عورتوں کے حقوق اور سیرت نبویؐ

عورتوں کے حقوق، آج کی دنیا کے موضوعات میں سے ایک بہت اہم موضوع ہے۔ اسلام میں عورت کو رائے دینے کا حق ہے یا نہیں، تعلیم حاصل کرنے کا حق ہے یا نہیں، اسے مرد کے برابر حقوق حاصل ہیں یا نہیں اور یہ کہ عورت کو معاشرے کے اندر عام زندگی کے معاملات میں شرکت کا مساوی موقع ملنا چاہیے یا نہیں۔ یہ ایک ایسا موضوع ہے جس کے کئی پہلوؤں پر گفتگو ہو سکتی ہے لیکن میں چند ایک ضروری نکات پر جناب رسول اللہؒ اور آپ کے متبعین سنت کے چند واقعات کے حوالے سے کچھ ضروری گزارشات پیش کرنے کی کوشش کروں گا ۔ ۔ ۔

ستمبر ۲۰۰۷ء

صلہ رحمی اور سیرت نبویؐ

خاندانی زندگی کے حوالے سے جناب نبی کریمؐ کی تعلیم یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ رشتوں کو جوڑ کر رکھو، آپس میں میل جول پیدا کرو، تعاون کی فضا قائم کرو اور ضرورت کے وقت ایک دوسرے کی مدد کا سلسلہ رکھو۔ جناب رسول اللہؐ نے فرمایا صِل من قطعک کوئی تم سے تعلق توڑے تب بھی اس سے تعلق جوڑ کر رکھو۔ آپؐ نے یہ تعلیم دی کہ رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کا معاملہ کرو، اس سے خاندان میں جوڑ پیدا ہوتا ہے آپس میں محبت بڑھتی ہے اور ضرورت کے وقت دوسروں کی مدد اور تعاون میسر ہوتا ہے ۔ ۔ ۔

ستمبر ۲۰۰۷ء

عدل و انصاف اور سیرت نبویؐ

اللہ تعالیٰ کے اسمائے گرامی میں بھی ایک اسم ’’عادل‘‘ ہے یعنی اللہ تعالیٰ عدل کرنے والے ہیں۔ اور جناب نبی کریمؐ کے اسماء میں بھی ایک اسم ’’عادل‘‘ ہے یعنی رسول اللہؐ بھی عدل کے پیکر تھے، عدل کرنے والے تھے۔ ہر چیز کا حق ادا کرنے کو عدل کہتے ہیں۔ عدل کے مقابلے میں ظلم کا لفظ آتا ہے۔ ظلم کہتے ہیں کسی کے ساتھ ناحق سلوک کرنے کو، کسی کے حق کو ضبط کرنا یا کسی کا حق دوسرے کو دے دینا۔ لغوی اصطلاح میں وضع الشئی فی غیر محلہ ظلم کا معنٰی ہے کسی چیز کو اس کے اصل مقام کے بجائے کسی دوسری جگہ پر رکھنا ۔ ۔ ۔

ستمبر ۲۰۰۷ء

اتحاد امت اور اسوۂ نبویؐ

مجھے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ کے ہزاروں پہلوؤں میں سے ایک اہم پہلو پر کچھ عرض کرنے کی دعوت دی گئی ہے کہ آقائے نامدار امت مسلمہ کے اتحاد کا مرکزی نقطہ ہیں۔ حضورؐ کی ذات اقدس ہمیشہ مسلمانوں کی وحدت کا مرکز رہی ہے، آج بھی امت آپؐ کی ذات پر مجتمع ہے، اور قیامت تک آپؐ تمام مسلمانوں کی یکساں عقیدت و اطاعت کا مرکز رہیں گے۔ اس عنوان پر گفتگو کرتے ہوئے میں وقت کے اختصار کے باعث صرف تین حوالوں سے کچھ گزارشات پیش کرنا چاہوں گا ۔ ۔ ۔

۱۷ اپریل ۲۰۰۶ء

سیرت نبویؐ کی روشنی میں جہاد کا مفہوم

باطل مذاہب پر حق مذہب کی بالادستی کے لیے عسکری جنگ لڑنے کا آغاز حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا بلکہ جہاد کا یہ عمل آسمانی ادیان میں پہلے سے تسلسل کے ساتھ چلا آ رہا ہے، اور جناب نبی اکرم نے اس حوالے سے تاریخ میں کسی نئے عمل اور اسلوب کا اضافہ کرنے کے بجائے آسمانی مذاہب کی ایک مسلسل روایت کو برقرار رکھا ہے۔ چنانچہ جس طرح قرآن کریم میں جہاد اور مجاہدین کا تذکرہ پایا جاتا ہے‘ اسی طرح بائبل میں بھی ان مجاہدین اور مذہبی جنگوں کا ذکر موجود ہے ۔ ۔ ۔

جون ۲۰۰۲ء

مشکلات ومصائب میں سنت نبویؐ

کفار کی طرف سے ان کے خلاف یہ پابندیاں عائد کی گئی تھیں کہ ان کے ساتھ لین دین نہیں ہوگا، ان سے رشتہ داری قائم نہیں کی جائے گی، ان کے پاس خوراک وغیرہ کی کوئی چیز نہیں جانے دی جائے گی اور ان کی معاشی ناکہ بندی ہوگی۔ اس دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ساتھیوں کو کن پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا، ان کا اندازہ حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کے اس ارشاد سے لگایا جا سکتا ہے کہ ہم درختوں کے پتے کھا کر گزارے کیا کرتے تھے ۔ ۔ ۔

فروری ۲۰۰۱ء

رسول اکرمؐ کا پیغام، دنیا کے حکمرانوں کے نام

رسول اکرمؐ نے اس وقت کی ایک بڑی بلکہ سب سے بڑی سلطنت رومن ایمپائر کے حکمران ہرقل کو بھی، جو قیصر روم کہلاتا تھا، دعوت اسلام کا خط بھجوایا۔ یہ خط حضرت دحیہ کلبیؓ لے کر گئے۔ شام اس دور میں رومی سلطنت کا حصہ تھا اور قیصر روم شام کے دورے پر ایلیا میں آیا ہوا تھا۔ جبکہ جناب ابو سفیان بھی ایک تجارتی قافلہ کے ساتھ وہیں قیام پذیر تھے۔ آنحضرتؐ کا ہرقل کے نام خط لے کر حضرت دحیہ کلبیؓ وہاں پہنچے۔ ہرقل کو اطلاع دی گئی کہ حجاز سے ایک قاصد آیا ہوا ہے جو نئے نبی حضرت محمدؐ کا خط اسے پیش کرنا چاہتا ہے ۔ ۔ ۔

۱۶ و ۱۸ دسمبر ۲۰۰۰ء

قوموں کی اچھی خصلتیں رسول اکرمؐ کی نظر میں

بنو ازد قبیلے کا ایک وفد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جن میں حضرت سوید بن الحارث ازدیؓ بھی تھے اور وہی اس واقعہ کے راوی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب ہم حضورؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور بات چیت کی تو آپؐ ہمارے طرز گفتگو اور انداز سے خوش ہوئے اور دریافت کیا کہ تم کون لوگ ہو؟ ہم نے عرض کیا کہ یا رسول اللہؐ ہم سب اہل ایمان ہیں۔ آپؐ نے پوچھا کہ ہر دعویٰ پر دلیل کی ضرورت ہوتی ہے، تمہارے اس دعوے کی دلیل کیا ہے؟ ہم نے عرض کیا کہ ہمارے اندر پندرہ خصلتیں موجود ہیں جو ہمارے مومن ہونے کی دلیل ہیں ۔ ۔ ۔

۱۲ مارچ ۱۹۹۹ء

عبادات اور معاملات میں توازن

اس واقعہ سے جہاں یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ اسلام حقوق اللہ اور حقوق العباد میں توازن قائم رکھنے حکم دیتا ہے اور حقوق اللہ کی ادائیگی کی کوئی ایسی صورت قبول نہیں کرتا جس سے حقوق العباد متاثر ہوتے ہوں۔ وہاں ایک اور بات بھی ذہن میں آتی ہے کہ انسان جب بھی اپنے بارے میں کوئی فیصلہ کرتا ہے تو اس کے سامنے وقتی حالات ہوتے ہیں اور وہ انہی کی روشنی میں معاملات انجام دیتا ہے۔ جبکہ اسلام ایسا کوئی فیصلہ کرنے میں تمام احوال و ظروف کا لحاظ رکھتا ہے جو کہ بسا اوقات انسان کو عجیب محسوس ہوتا ہے ۔ ۔ ۔

۴ جنوری ۱۹۹۹ء

رائے عامہ کا لحاظ اور سنت نبویؐ

جناب رسول اللہؐ کو اس بات کا خیال رہتا تھا کہ ان کے کسی کام سے لوگوں میں بلاوجہ غلط فہمیاں نہ پھیلیں او رپبلک تاثر درست رہے۔ عوامی زندگی میں اپنے بارے میں لوگوں کے تاثرات کو درست رکھنا اور مختلف کاموں کے بارے میں لوگوں کے احساسات و جذبات کا جائزہ لیتے رہنا اور انہیں ملحوظ رکھنا ضروری ہوتا ہے اور یہ سنت نبویؐ بھی ہے۔ اس بارے میں دو واقعات پیش کرنا چاہتا ہوں۔ایک واقعہ بیت اللہ کی تعمیر کے سلسلہ میں ہے جسے امام بخاریؒ نے ام المومنین حضرت عائشہؓ کے حوالہ سے نقل کیا ہے ۔ ۔ ۔

۲۱ نومبر ۱۹۹۸ء

سیرت نبویؐ اور ڈکٹیٹرشپ

یہ مسئلہ فی الواقع سنگین ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے سب سے اعلیٰ قانون ساز ادارے کے ایک رکن کی زبان پر جناب رسالت مآبؐ کی ذات گرامی کے بارے میں یہ گمراہ کن اور گستاخانہ الفاظ آخر کس طرح آگئے؟ اس معاملہ کے ضروری پہلوؤں کا جائزہ لینا اور انصاف و دینی حمیت کے تقاضے کو پورا کرنا متعلقہ شخصیات اور اداروں کی ذمہ داری ہے۔ مگر ہم اس مسئلے کے بارے میں ایک اور پہلو سے کچھ عرض کرنا چاہتے ہیں کہ جناب رسول اللہؐ کے بارے میں مذکورہ سینیٹر کا یہ جملہ اس کا اپنا نہیں بلکہ ایک درآمدی فقرہ ہے جو مغرب کے نظریہ ساز کارخانوں میں ڈھلا ہے ۔ ۔ ۔

۱۷ نومبر ۱۹۹۸ء

مکارم اخلاق اور سیرت نبویؐ

سب سے پہلے تو میں مدنی مسجد (نوٹنگھم، برطانیہ) کی منتظمہ اور بالخصوص مولانا رضاء الحق سیاکھوی کا شکرگزار ہوں کہ انہوں نے میرے لیے اس سعادت میں شمولیت کا اہتمام فرمایا کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ پر چند دن مسلسل کچھ گزارش کرنے کا موقع مل رہا ہے۔ اس کے بعد میں آپ حضرات سے درخواست کروں گا کہ گفتگو کے باقاعدہ آغاز سے پہلے اللہ تبارک وتعالیٰ کی بارگاہ میں خصوصی دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ ہماری نیتوں کی اصلاح فرمائیں اور یہ عمل جو ہم شروع کر رہے ہیں، اللہ تعالیٰ خلوص نیت کے ساتھ اس کی تکمیل کی توفیق عطا فرمائیں ۔ ۔ ۔

ستمبر ۱۹۹۵ء

انسانی حقوق اور سیرت نبویؐ

آج دنیا میں انسانی حقوق کے حوالے سے سب سے زیادہ گفتگو ہو رہی ہے۔ دنیا کی تمام اقوام کے ذرائع ابلاغ میں اصحابِ علم و دانش اس موضوع پر سب سے زیادہ گفتگو کر رہے ہیں کہ دنیا میں انسانوں کو کیا حقوق حاصل ہونے چاہئیں ، کونسے حقوق انہیں حاصل ہیں اور کن حقوق سے وہ محروم ہیں۔ میں آج کی گفتگو میں تاریخی حقائق کی بنیاد پر یہ بات واضح کرنا چاہوں گا کہ انسانی حقوق کا تصور سب سے پہلے اسلام نے پیش کیا جس کی عملی شکل جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی زندگیوں میں ملتی ہے ۔ ۔ ۔

ستمبر ۱۹۹۵ء

خاندان نبوتؐ

حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دو بیٹے تھے، ایک حضرت اسحاق علیہ السلام اور دوسرے حضرت اسماعیل علیہ السلام۔ یوں حضرت ابراہیمؑ کی اولاد میں دو سلسلے چلے۔ حضرت اسحاقؑ کے بیٹے حضرت یعقوبؑ تھے جن کا لقب ’’اسرائیل‘‘ تھا جو کہ عبرانی زبان میں ’’عبد اللہ‘‘ کو کہتے ہیں یعنی اللہ کا بندہ ۔ حضرت اسحاقؑ سے بنی اسرائیل کا سلسلہ چلا، اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل میں تقریباً تین ہزار پیغمبر مبعوث فرمائے۔ جبکہ حضرت ابراہیمؑ کے دوسرے بیٹے حضرت اسماعیلؑ کی اولاد میں سے صرف ایک ہی پیغمبر ہوئے جو کہ جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ۔ ۔ ۔

ستمبر ۱۹۹۵ء

خواتین کی معاشرتی حیثیت اور سیرت نبویؐ

انسانی زندگی ایک مشین کی مانند ہے جبکہ مرد و عورت اس کے دو کلیدی پرزے ہیں۔ دنیا میں اصول یہ ہے کہ جو کمپنی ایک مشینری بناتی ہے وہ اس کے استعمال کے لیے ہدایات بھی دیتی ہے اس لیے کہ جس کمپنی نے مشینری بنائی ہے وہی اس کی قوت اور کارکردگی کو زیادہ بہتر سمجھتی ہے۔ پھر جن لوگوں تک وہ مشینری پہنچتی ہے وہ ان ہدایات کی پیروی کرتے ہوئے اسے استعمال میں لاتے ہیں۔ اسی طرح ہمارا یہ ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ انسانی زندگی کی اس مشینری کا خالق ہے اور وہی اس کی کارکردگی اور نظم و ضبط کو سمجھتا ہے ۔ ۔ ۔

ستمبر ۱۹۹۵ء

دعوت اسلام اور سیرت نبویؐ

دعوتِ اسلام کے حوالے سے میں تین پہلوؤں پر بات کروں گا: پہلی بات یہ کہ اسلام کی دعوت کی بنیادی حیثیت و نوعیت کیا ہے۔ دوسری بات اس الزام کی حقیقت کو واضح کرنا کہ رسول اللہؐ نے اسلام کو تلوار کے زور سے پھیلایا تھا اور یہ کہ اسلام دنیا میں طاقت کے بل پر پھیلا ہے۔ تیسری بات یہ کہ اسلام کی دعوت اور دوسروں کو اسلام کی طرف بلانے کے حوالے سے رسول اللہؐ کا طریقہ کار کیا تھا۔ جناب رسالت مآب حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے جتنے انبیاء علیہم الصلواۃ والتسلیمات بھی دنیا میں آئے ان کی نبوت علاقہ، قوم اور وقت کے لحاظ سے محدود تھی ۔ ۔ ۔

ستمبر ۱۹۹۵ء

سماجی خدمت اور سیرت نبویؐ

اجتماعی حقوق کا معنٰی یہ ہے کہ معاشرے کا انسان پر کیا حق ہے، سوسائٹی کا جو مشترکہ حق انسان پر ہے اسے سماجی خدمت یا سوشل ورک کہتے ہیں۔ معاشرہ اجتماعی طور پر جو انسان سے تقاضا کرتا ہے اس تقاضے کو پورا کرنا سماجی خدمت کرنا کہلاتا ہے۔ اس پیمانے پر دیکھا جائے تو حضرات انبیاء کرام علیہم الصلواۃ والتسلیمات سے بڑھ کر اور کوئی سماجی خدمت گزار نہیں رہا اور پھر انبیاء میں سب سے بڑے سوشل ورکر جناب رسالت مآبؐ ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے بالکل آغاز میں ہی آپؐ کا تعارف ایک سوشل ورکر کے طور پر سامنے آتا ہے ۔ ۔ ۔

ستمبر ۱۹۹۵ء

سیاسی قیادت اور سیرت نبویؐ

سیاست بھی انسانی زندگی کا ایک بہت اہم شعبہ ہے۔ سیاست کسے کہتے ہیں؟ قوم کی اجتماعی قیادت کرنا، ان کے لیے نظام حکومت قائم کرنا، اس نظام حکومت کا نظم اچھے طریقے سے چلانا اور اجتماعی معاملات میں قوم کی راہنمائی کرنا، اسے سیاست کہتے ہیں۔ حضرات انبیاء کرامؑ نے اس شعبے میں بھی وحی الٰہی کی بنیاد پر انسانیت کی راہنمائی کی، اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآن کریم میں بہت سے انبیاء کرامؑ کا تذکرہ فرمایا ہے جو اپنے اپنے دور میں وقت کے حکمران بھی تھے اور دینی و مذہبی معاملات میں قائد بھی تھے ۔ ۔ ۔

ستمبر ۱۹۹۵ء

قانون کی بالادستی اور سیرت نبویؐ

آج جب مسلمان دنیا کے کسی خطے میں بھی حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کو حکومت و قانون کی بنیاد بنانے کی بات کرتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ ایک مسلمان ملک کا سارے کا سارا نظام قرآن کریم اور سنت رسولؐ کے مطابق ہونا چاہیے، وہاں اسلام کی بالادستی ہونی چاہیے، حدودِ شرعیہ نافذ ہونی چاہئیں، خلافت کا مکمل نظام نافذ ہونا چاہیے، تو اس کے جواب میں عام طور پر ایک بات کہی جاتی ہے کہ آج کے دور میں تھیاکریسی نہیں چل سکتی، یا آج کے دور میں پاپائیت کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ تھیا کریسی اور پاپائیت کسے کہتے ہیں؟ ۔ ۔ ۔

ستمبر ۱۹۹۵ء

معاشی انصاف اور سیرت نبویؐ

انسان کی ضروریات کیسی بھی ہوں یہ وسائل کے ذریعے سے پوری ہوتی ہیں کیونکہ یہ دنیا وسائل اور اسباب کی دنیا ہے، اسباب اور وسائل کے بغیر اس دنیا میں زندگی بسر کرنا ممکن نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ کے ضابطے کے خلاف ہے۔ ایک وقت آئے گا جب انسانی زندگی جنت میں اسباب اور وسائل کی محتاج نہیں ہوگی اور جب انسان کو اپنی خواہشات و ضروریات کو پورا کرنے کے لیے محنت و مشقت کا راستہ اختیار نہیں کرنا پڑے گا۔ لیکن اس دنیامیں بہرحال اللہ تبارک وتعالیٰ نے انسانی زندگی کو محنت و مشقت اور وسائل و اسباب کے ساتھ وابستہ کیا ہے ۔ ۔ ۔

ستمبر ۱۹۹۵ء

انسانی حقوق کا مغربی تصور سیرت طیبہؐ کی روشنی میں

دراصل مغرب حقوق و فرائض میں توازن قائم رکھنے اور ان کے درمیان حد فاصل قائم کرنے میں ناکام رہا ہے۔ جبکہ جناب رسول اللہؐ نے حقوق اور فرائض کو نہ صرف یکجا ذکر کیا بلکہ ان کے درمیان ایسا حسین توازن قائم کر دیا جو گاڑی کے دو پہیوں کی طرح انسانی زندگی کا یکساں بوجھ اٹھا سکتا ہے اور اسے لے کر کامیابی کے ساتھ آگے بڑھ سکتا ہے۔ مگر مغرب نے حقوق و فرائض کو آپس میں گڈمڈ کر دیا اور ان کے درمیان کوئی خط امتیاز قائم نہ رہنے دیا جس کی وجہ سے انسانی معاشرہ ذہنی انتشار اور فکری انارکی کی آماجگاہ بن کر رہ گیا ہے ۔ ۔ ۔

فروری مارچ ۱۹۹۵ء

اخلاق حسنہ، سیرت نبویؐ کا سب سے نمایاں پہلو

جناب سرور کائناتؐ کی ذات گرامی انسانی تاریخ کی وہ منفرد اور ممتاز ترین شخصیت ہے جس کے حالات زندگی، عادات و اطوار، ارشادات و فرمودات، اور اخلاق حسنہ اس قدر تفصیل کے ساتھ تاریخ کے صفحات پر موجود ہیں کہ آنحضرتؐ کی زندگی ایک کھلی کتاب کے طور پر نسل انسانی کے سامنے ہے اور آپؐ کی معاشرتی و خاندانی حتیٰ کہ شخصی اور پرائیویٹ زندگی کا بھی کوئی پہلو تاریخ کی نگاہوں سے اوجھل نہیں رہا۔ اسے محض اتفاق قرار نہیں دیا جا سکتا کہ انسانی تاریخ اپنے دامن میں جناب رسول اللہؐ کے سوا کسی اور شخصیت کے احوال و اقوال کو اس اہتمام کے ساتھ محفوظ نہیں رکھ سکی ۔ ۔ ۔

اکتوبر ۱۹۹۴ء

معجزہ شق القمر

جناب رسول اللہؐ کے پاس مشرکوں کا ایک گروہ آیا جس میں ولید بن مغیرہ، ابوجہل، عاص بن وائل، عاص بن ہشام، اسود بن عبد المطلب اور نضر بن حارث بھی تھے، انہوں نے آنحضرتؐ سے کہا کہ اگر آپ واقعی سچے ہیں تو اپنی سچائی کے ثبوت میں چاند دو ٹکڑے کر کے دکھائیں، اس طرح کہ اس کا ایک ٹکڑا قبیس کی پہاڑی پر اور دوسرا ٹکڑا قعیقعان پر ہو۔ نبی اکرمؐ نے پوچھا کہ اگر ایسا ہوگیا تو کیا تم لوگ ایمان لے آؤ گے؟ کہنے لگے ہاں! وہ رات چودھویں تھی اور چاند آسمان پر پورے آب تاب کے ساتھ جگمگا رہا تھا ۔ ۔ ۔

نا معلوم