سیرتِ نبویؐ

قانون کی یکساں عملداری اور اسوۂ نبویؐ

۵ ستمبر کو ڈسکہ بار ایسوسی ایشن کی سالانہ محفل میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم میں شرکت و خطاب کا موقع ملا۔ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج سیالکوٹ جناب طارق جاوید مہمان خصوصی تھے، جبکہ اس موقع پر ڈسکہ بار کی طرف سے ایک جج اور دو وکیل صاحبان کو قرعہ اندازی کے ذریعے عمرہ کے تین ٹکٹ دیے گئے۔ یہ خوش نصیب جج سردار کمال الدین، طاہر رؤف ایڈووکیٹ اور عامر مختار بٹ ایڈووکیٹ ہیں، اللہ تعالٰی سب کو قبولیت و ثمرات سے بہرہ ور فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔ اس موقع پر میری گزارشات کا خلاصہ درج ذیل ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۰ نومبر ۲۰۱۹ء

فرقہ وارانہ کشمکش اور اصول انسانیت

میری گفتگو کا عنوان ’’فرقہ وارانہ کشیدگی اور اصول انسانیت‘‘ ہے اور مجھے انسانی معاشرہ کی مختلف حوالوں سے تفریق کے متنوع دائروں میں انسانی اصول و اخلاق کی پاسداری کے تقاضوں پر کچھ گزارشات پیش کرنی ہیں۔ انسانی سماج میں تفریق کئی حوالوں سے ہمیشہ سے موجود چلی آرہی ہے۔ یہ نسل کے عنوان سے بھی ہے، رنگ اور زبان کے حوالہ سے بھی ہے، مذہب بھی اس کا ایک دائرہ ہے اور وطن، قومیت، علاقہ اور دیگر بہت سے امور اس کے اسباب میں شامل ہیں۔ مگر میں ان میں سے مذہب کے حوالہ سے پائی جانے والی تفریق کی بات کروں گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۱ اگست ۲۰۱۹ء

عوامی نمائندگی اور سیرتِ طیبہؐ

انتخابات کے موقع پر عام طور پر یہ سوال زیربحث آجاتا ہے اور بعض حلقوں کی طرف سے اس پر اظہار خیال کا سلسلہ بھی چلتا ہے کہ ایک اسلامی ریاست میں عوام کی رائے اور ان کے نمائندوں کے چناؤ کی شرعی حیثیت کیا ہے اور کیا جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات میں اس سلسلہ میں کوئی راہنمائی ملتی ہے؟ آج اس حوالہ سے کچھ گزارش کرنے کا ارادہ ہے۔ یہ بات تو معروف و مسلم ہے کہ جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم جن معاملات میں وحی نازل نہیں ہوتی تھی ان میں لوگوں سے مشورہ کر کے فیصلے کرتے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۵ جولائی ۲۰۱۸ء

صلح حدیبیہ کے چند اہم پہلو

جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ڈیڑھ ہزار کے لگ بھگ رفقاء کو حدیبیہ کے مقام پر روک دیا گیا اور یہ بات سامنے آگئی کہ قریش مکہ جناب رسول اللہؐ اور ان کے ساتھیوں کو عمرہ ادا کرنے کی اجازت نہیں دیں گے تو آنحضرتؐ نے وہاں رک کر اس صورتحال کا جائزہ لیا اور اپنی آئندہ حکمت عملی طے فرمائی۔ قبیلہ بنو خزاعہ کے ساتھ نبی کریمؐ کے اچھے تعلقات تھے وہ مسلمانوں کے بارے میں دل میں نرم گوشہ رکھتے تھے، ان کے سردار بدیل بن ورقاء خزاعی اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ حضورؐ سے ملاقات کے لیے آئے تو آپؐ نے ان کے ذریعے قریش مکہ کو ایک پیغام بھجوایا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۹ مارچ ۲۰۱۷ء

ذرائع ابلاغ اور سنت نبویؐ

قرآن کریم کا پیغام فطری جبکہ اسلوب فصاحت و بلاغت کے کمال کا تھا، اس لیے مخالفین کو اس کا اثر کم کرنے کے لیے طعن و تشنیع اور کردار کشی کے سوا کوئی بات نہیں سوجھتی تھی۔ کبھی مجنون کہتے، کبھی شاعر، کبھی ساحر اور کبھی کاہن کے طعنے کا سہارا لیتے۔ ایک مرحلہ میں قریشی سردار نضر بن حارث کو قرآن کریم کے مقابلہ میں محفلیں بپا کرنے کی سوجھی تو اس نے ناچ گانے، موسیقی اور قصے کہانیوں کو ذریعہ بنایا جس کا ذکر قرآن کریم نے لھو الحدیث کے عنوان سے کیا ہے اور لیضل عن سبیل اللە کے ارشاد کے ساتھ گمراہی پھیلانے کا اہم سبب قرار دیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ دسمبر ۲۰۱۶ء

وطن کے دفاع کے حوالے سے جناب نبی اکرمؐ کی سنت مبارکہ

جناب رسول اللہؐ جب ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لائے اور ایک ریاست کا ماحول بنا تو آنحضرتؐ نے سب سے پہلا کام یہ کیا کہ مدینہ منورہ اور اردگرد کے سب قبائل کو جمع کر کے مشترکہ حکومتی نظام کے ساتھ ساتھ مشترکہ دفاع کے معاہدہ کا اہتمام فرمایا۔ ’’میثاق مدینہ‘‘ میں سب نے مل کر طے کیا کہ مدینہ منورہ پر حملہ کی صورت میں اس کے دفاع کی ذمہ داری سب پر ہوگی اور مسلمان و کافر مل کر اس وطن کا تحفظ کریں گے۔ اس طرح آپؐ نے یہ اصول دیا کہ وطن کا دفاع سب اہل وطن کی مشترکہ ذمہ داری ہوتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۶ اکتوبر ۲۰۱۶ء

دفاع وطن اور اسوۂ حسنہ

نامور مؤرخ و محدث امام ابن سعدؒ کی تحقیق کے مطابق جناب رسول اللہؐ نے مدینہ منورہ کی دس سالہ زندگی میں ستائیس کے لگ بھگ غزوات میں خود شرکت فرمائی۔ ان میں اقدامی جنگیں بھی تھیں اور دفاعی جنگیں بھی شامل تھیں۔ مثلاً (۱) بدر (۲) خیبر (۳) بنو مصطلق اور (۴) فتح مکہ کی جنگیں اقدامی تھیں کہ آنحضرتؐ ان جنگوں میں دشمن پر خود حملہ آور ہوئے تھے۔ جبکہ (۱) احد (۲) احزاب اور (۳) تبوک کی جنگیں دفاعی تھیں کہ حملہ آور دشمنوں سے مدینہ منورہ کے دفاع کے لیے حضورؐ میدان جنگ میں آئے تھے اور دشمنوں کو اپنے ارادوں میں ناکامی ہوئی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۶ ستمبر ۲۰۱۶ء

معاہدۂ حدیبیہ کے اہم سبق

صلح حدیبیہ کے معاہدہ میں جہاں یہ طے ہوا تھا کہ مسلمانوں اور قریش کے درمیان دس سال تک جنگ نہیں ہوگی، وہاں دوسری شرائط کے ساتھ ایک شرط یہ بھی تھی کہ اگر مکہ مکرمہ سے قریش کا کوئی شخص مسلمان ہو کر مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرے گا تو جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسے واپس کرنے کے پابند ہوں گے۔ لیکن اگر کوئی مسلمان نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا (نعوذ باللہ) ساتھ چھوڑ کر مکہ مکرمہ چلا جائے گا تو اس کی واپسی ضروری نہیں ہوگی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ فروری ۲۰۱۶ء

رسول اکرمؐ کی معاشرتی اصلاحات

جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نسبت اور عقیدت و محبت کا اظہار ہمارے ایمانی تقاضوں میں سے ہے، اور ہر مسلمان کسی نہ کسی انداز میں اس کا اظہار ضرور کرتا رہتا ہے۔ مگر اس کے ساتھ یہ بات بھی پیش نظر رکھنا ضروری ہے کہ جناب رسول اللہؐ کی بعثت کن مقاصد کے لیے ہوئی تھی؟ اللہ تعالیٰ کے آخری پیغمبرؐ نے انسانی معاشرہ کو خیر کے کن کاموں کی تلقین کی تھی، شر کے کن کاموں سے روکا تھا، اور بھرپور محنت کے ساتھ انسانی سوسائٹی کو کن تبدیلیوں اور اصلاحات سے روشناس کرایا تھا جن کی وجہ سے انہیں پیغمبر انقلاب کہا جاتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۴ دسمبر ۲۰۱۵ء

رسول اکرمؐ کا منافقین کے ساتھ طرز عمل

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لائے اور اسے اپنا مرکز بنایا تو یہود اور مشرکین کے مختلف قبائل کے ساتھ ساتھ آپ کو ایک ایسے طبقہ سے بھی واسطہ پڑا جو کلمہ پڑھ کر بظاہر مسلمانوں میں شامل ہوگیا تھا لیکن دل سے مسلمان نہیں ہوا تھا، اور دل سے اس کی تمام تر ہمدردیاں اور معاونتیں کفار کے ساتھ تھیں جن کا تذکرہ قرآن کریم میں مختلف مقامات پر موجود ہے۔ غزوہ احد میں یہ لوگ تین سو کی تعداد میں عبد اللہ بن ابی کی سرکردگی میں میدان چھوڑ کر واپس چلے گئے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ فروری ۲۰۱۵ء

رسول اکرمؐ بحیثیت سیاستدان

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کائنات کی سب سے بڑی صاحب کمالات شخصیت ہیں اور آپؐ کو کمال کی ہر صفت عروج کے اعلیٰ ترین درجہ پر عطا ہوئی ہے۔ آپؐ سب سے بڑے رسول و نبی، سب سے بڑے قانون دان، سب سے بڑے جرنیل، سب سے اعلیٰ حکمران اور اس کے ساتھ ساتھ سب سے بڑے سیاست دان بھی ہیں۔ آنحضرتؐ کی سیاسی زندگی کے مختلف اور متنوع پہلو ہیں جن میں سے ہر ایک پر مستقل کام کی ضرورت ہے اور ہمارے ہاں سیرت نبویؐ کے ان پہلوؤں پر سب سے کم کام ہو رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۲ جنوری ۲۰۱۵ء

حالات کا اتار چڑھاؤ اور سیرت نبویؐ سے رہنمائی

حالات کے اتار چڑھاؤ سے یقیناً پریشانی ہوتی ہے لیکن یہ اتار چڑھاؤ تاریخ کا ناگزیر حصہ ہے اور اہل حق کے سفر کے سنگ میل ہی مسائل و مشکلات اور مصائب و آلام ہوتے ہیں۔ اس لیے ان سے گبھرانے کی ضرورت نہیں ہے اور میں اس سلسلہ میں دور نبویؐ کے دو تین واقعات کا تذکرہ کرنا چاہوں گا کہ ایسے حالات میں ہمیں کیسے کام کرنا چاہیے؟ جناب نبی اکرم ﷺ جب ہجرت کر کے مدینہ منورہ کی طرف جا رہے تھے تو ظاہری کیفیت یہ تھی کہ چھپتے چھپاتے مدینہ منورہ پہنچنے کی کوشش تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۹ جنوری ۲۰۱۵ء

سیرت طیبہ اور امن عامہ

جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ امن کو ترجیح دی ہے، معاشرہ میں منافرت اور فساد کو پھیلنے سے روکا ہے، اور عام لوگوں کے امن کے ساتھ ساتھ ان کے جذبات و احساسات کا بھی پوری طرح لحاظ رکھا ہے۔ اسی طرح سوسائٹی میں فساد کا ذریعہ بننے والی باتوں کی جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سختی کے ساتھ نفی فرمائی ہے اور ان کی مذمت کی ہے۔ اس حوالہ سے بیسیوں واقعات میں سے ایک دو کا تذکرہ کرنا چاہوں گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳ جنوری ۲۰۱۵ء

نعت رسولؐ کے آداب

جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر مبارک ہم اپنی نسبت کے اظہار اور شناخت کے لیے کرتے ہیں کہ اس سے انسانی سوسائٹی کی رنگا رنگ تقسیم میں ہمارا تعارف ہو جاتا ہے اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نسبت کے اظہار کے بعد مزید کسی تعارف کی ضرورت باقی نہیں رہ جاتی۔ ہم یہ تذکرہ محبت کے اظہار کے لیے بھی کرتے ہیں کہ جس سے محبت ہوتی ہے اس کا ذکر بھی اکثر زبان پر رہتا ہے۔ اور یہ ذکر کرنا نہیں پڑتا بلکہ خود بخود ہو جاتا ہے کہ محبت اپنا اظہار خود کرتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۸ مئی ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

نعتیہ شاعری اور ادب و احترام کے تقاضے

جناب نبی اکرمؐ کا تذکرہ نثر میں ہو یا نظم میں، باعث برکت و سعادت ہے اور ذکر رسولؐ کے ہزاروں پہلو ہیں جن پر مختلف حوالوں سے علمی کاوشوں کا سلسلہ جاری ہے۔ نعتیہ شاعری کے بعض پہلوؤں پر میرے پیش رو مقررین نے خوبصورت خیالات و جذبات کا اظہار کیا ہے۔ ذکر رسولؐ کا مقصد اپنے جذبات اور محبت و عقیدت کا اظہار تو ہوتا ہی ہے کہ ایک مسلمان اپنی نسبت کا اظہار بھی کرتا ہے اور محبت و عقیدت بھی پیش کرتا ہے۔ لیکن نعتیہ شاعری کا ایک اہم پہلو ہمارے پیش نظر ضرور ہونا چاہیے کہ خود جناب نبی اکرمؐ نے اس کا کس حوالہ سے تقاضہ کیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱ اپریل ۲۰۱۴ء

حضورؐ کی مجلسی زندگی

جناب نبی اکرم ﷺ کے روز مرہ معمولات کا آغاز بھی مجلس سے ہوتا تھا اور اختتام بھی مجلس پر ہی ہوتا تھا، صبح نماز کے بعد عمومی مجلس ہوتی تھی اور رات کو عشاء کے بعد خواص کی محفل جمتی تھی جبکہ دن میں بھی مجلس کا سلسلہ جاری رہتا تھا۔ سیرت اور حدیث کی مختلف روایات میں بتایا گیا ہے کہ نماز فجر کے بعد جناب نبی اکرم ﷺ مسجد میں ہی اشراق کے وقت تک تشریف فرما ہوتے تھے، اس دوران وہ ساتھیوں کا حال احوال پوچھتے تھے، کسی نے خواب دیکھا ہوتا تو وہ بیان کرتا تھا اور تعبیر پوچھتا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۶ فروری ۲۰۱۳ء

میڈیا کا محاذ اور اسوۂ نبویؐ

جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب جنگ احزاب سے فارغ ہوئے تو آپ نے مسجد نبویؐ میں ایک اعلان فرمایا کہ اب قریشیوں کو ہمارے خلاف جنگ کے لیے یہاں آنے کی ہمت نہیں ہوگی، اب جب بھی جائیں گے ہم ہی جائیں گے۔ دوسری بات یہ فرمائی کہ اب یہ لوگ ہمارے خلاف زبان کی جنگ لڑیں گے اور خطابت و شاعری کا محاذ گرم کریں گے، اسلام اور مسلمانوں کے خلاف نفرت کا بازار گرم کریں گے، پروپیگنڈہ کریں گے، کردار کشی کریں گے اور عرب قبائل کو مسلمانوں کے خلاف بھڑکائیں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۱۳ء

عدلِ اجتماعی کا تصور تعلیمات نبویؐ کی روشنی میں

عام طور پر ایک حکومت اور ریاست کی ذمہ داری میں شہریوں کی جان و مال کی حفاظت، امن کی فراہمی، انصاف کے قیام اور ان کے حقوق کی پاسداری کو شامل کیا جاتا ہے۔ لیکن جناب نبی اکرم ﷺ نے حکومت و ریاست کی ذمہ داریوں میں ایک اور بات کا اضافہ کیا کہ وہ شہریوں کو ضروریات زندگی کی فراہمی اور سوسائٹی کے نادار، بے سہارا اور معذور لوگوں کی کفالت کی بھی ذمہ دار ہے۔اسی کو آج کی دنیا میں رفاہی ریاست اور ویلفیئر اسٹیٹ سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۱ جنوری ۲۰۱۳ء

امت مسلمہ کی موجودہ صورت حال اور اسوۂ نبویؐ

جناب نبی اکرم ﷺ کی سیرت طیبہ قیامت تک ہر زمانے اور ہر قوم کے لیے اسوۂ حسنہ ہے اور ہر دور میں نسلِ انسانی اس سے راہ نمائی حاصل کرتی ہے۔ آج بھی نسلِ انسانی اور خاص طور پر امتِ مسلمہ کے لیے یہی راہ نمائی فلاح و نجات کا سب سے بڑا سرچشمہ ہے۔ امتِ مسلمہ اس وقت جن مسائل میں الجھی ہوتی ہے ان کی فہرست بہت طویل ہے اور انہیں صرف شمار کیا جائے تو اس کے لیے خاصا وقت درکار ہے، لیکن ان میں سے چند بڑے بڑے مسائل کا ذکر مناسب سمجھتا ہوں تاکہ یہ بات ہمارے ذہنوں میں تازہ ہو جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۵ جنوری ۲۰۱۳ء

نبی اکرمؐ کی خارجہ پالیسی

مدینہ منورہ کی ریاست وجود میں آنے کے بعد خارجہ پالیسی کے بارے میں آپؐ نے کیا طرز عمل اختیار کیا تھا اور کیا ہدایات دی تھیں، اس کے لیے ہمیں بنیادی طور پر (۱) حضورؐ کے ان خطوط کا مطالعہ کرنا ہوگا جو آپؐ نے دنیا کے مختلف ممالک کے حکمرانوں کو ارسال فرمائے تھے، (۲) ان معاہدات کا جائزہ لینا ہوگا جو متعدد اقوام اور ریاستوں کے ساتھ آپؐ نے کیے تھے، اور (۳) ان وفود کے ساتھ رسالت مابؐ کی گفتگو اور رویے کو سامنے رکھنا ہوگا جو مختلف مواقع پر مختلف اقوام کی طرف سے مدینہ منورہ آئے اور انہوں نے حضورؐ کے ساتھ باہمی معاملات پر گفتگو کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ فروری ۲۰۱۲ء

نبی اکرمؐ کے معمولاتِ زندگی

حضورؐ اس بات کا خیال رکھتے تھے کہ لوگ خیر کے معاملات سے غافل نہ ہو جائیں اور اس بات کا بھی اہتمام کرتے تھے کہ وہ اکتا نہ جائیں۔ ہر قسم کے معاملے کا آپ کے پاس حل تیار ہوتا تھا اور ہر صورتحال کے لیے مستعد ہوتے تھے۔ آپؐ حق بات کہنے سے نہیں کتراتے تھے اور ضرورت سے زیادہ بات نہیں کرتے تھے۔ لوگوں میں سے آپؐ سے زیادہ قریب وہی حضرات ہوتے تھے جو اچھے لوگ ہوتے تھے۔ جناب نبی اکرمؐ کے ہاں سب سے زیادہ قابل احترام وہی شخص ہوتا تھا جو لوگوں کے ساتھ نصیحت او رخیر خواہی کا جذبہ رکھتا ہو ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳ فروری ۲۰۱۲ء

علاج معالجہ اور سنت نبویؐ

علاج معالجہ اور اس کے لیے ریسرچ، محنت اور فکرمندی انسانی ضرورت ہے، سوسائٹی کا تقاضا ہے اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت مبارکہ بھی ہے۔ جناب نبی اکرمؐ نے جسمانی اور روحانی دونوں قسم کی بیماریوں کے علاج معالجے کی تلقین فرمائی ہے۔ اور آپؐ نے بیماریوں کے لیے جسمانی و روحانی دونوں طرز کے علاج خود بھی تجویز کیے ہیں، اس لیے انسانی بیماریوں کا علاج انسانی خدمت ہونے کے ناتے عبادت اور سنت رسولؐ بھی شمار ہوتا ہے۔ اسی طرح عام سطح پر محسوس کیے جانے والے خدشات کا لحاظ رکھنا بھی آنحضرتؐ کی سنت مبارکہ ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم جنوری ۲۰۱۲ء

حضور اکرمؐ کی زندگی احادیث کے آئینے میں

محدثین کرامؒ نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذاتی اوصاف و کمالات اور معمولات کو علم حدیث کے ایک مستقل شعبے کی صورت میں مرتب کیا ہے جسے ’’شمائل نبویؐ‘‘ کے عنوان سے بیان کیا جاتا ہے۔ بعض محدثین نے اس پر الگ کتابیں لکھی ہیں اور باذوق اہل علم نے بڑی محبت و عقیدت کے ساتھ ان کا تذکرہ کیا ہے۔ حضرات صحابہ کرامؓ کے حسن و ذوق کی انتہا یہ ہے کہ انہوں نے آنحضرتؐ کی اجتماعی، معاشرتی، اور علمی و عملی زندگی کی تفصیلات کے ساتھ ساتھ ذاتی زندگی کی جزئیات تک روایت کی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۶ فروری ۲۰۱۱ء

خطبہ حجۃ الوداع کے چند اہم نکات

مغرب میں انسانی تاریخ کے تاریک دور اور روشن دور کی تقسیم کا واضح تصور موجود ہے اور ان میں حدِ فاصل انقلابِ فرانس کو سمجھا جاتا ہے۔ یہ انقلاب جو یورپ میں جمہوری دور کا نقطۂ آغاز ثابت ہوا، اٹھارہویں صدی عیسوی کے آخری عشرے میں رونما ہوا اور اس نے مغربی دنیا کی تاریخ بدل کر رکھ دی۔ چنانچہ مغرب میں انقلاب فرانس سے پہلے کے دور کو تاریک دور اور قرون مظلمہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے جبکہ انقلاب فرانس کے بعد کا دور روشنی، علم، انسانی حقوق اور تمدن کا دور کہلاتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۵ دسمبر ۲۰۰۸ء

عید میلاد المسیحؑ اور اسلام

ہر سال ۲۵ دسمبر کو مسیحی مذہب کے پیروکار کرسمس مناتے ہیں جو ان میں سے اکثر کے بقول سیدنا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا یومِ ولادت ہے۔ چنانچہ مسیحیوں کے مذہبی حلقے اسے ’’عید میلاد المسیح‘‘ کا نام دیتے ہیں جبکہ عمومی مسیحی حلقے اسے ایک قومی دن کے طور پر پوری دنیا میں جوش و خروش کے ساتھ مناتے ہیں۔ پاکستان میں بھی یہ دن بھرپور انداز میں منایا جاتا ہے اور مسیحی مذہب کے پیروکار مختلف تقریبات اور پروگراموں کے ذریعے حضرت عیسٰیؑ کے ساتھ اپنی عقیدت و محبت کا اظہار کرتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ و ۵ جنوری ۲۰۰۸ء

ائمہ مساجد اور علماء کرام کی معاشرتی ذمہ داریاں

علماء کرام کے بارے میں ایک حدیث نبویؐ کی بنیاد پر یہ کہا جاتا ہے کہ وہ حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کے وارث ہیں، جبکہ ائمہ جس مصلے پر کھڑے ہو کر نماز پڑھاتے ہیں اسے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مصلیٰ سمجھا جاتا ہے، اور جس منبر پر خطبہ دیتے ہیں اسے منبر رسولؐ کے عنوان سے پکارا جاتا ہے۔ اس حوالے سے علماء اور ائمہ اس معاشرہ میں جناب نبی اکرمؐ کی نیابت اور نمائندگی کے منصب پر فائز ہیں اور ہمیں اس منصب کی ذمہ داریوں اور تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے یہ جائزہ لینا چاہیے کہ ہم ان ذمہ داریوں کو کہاں تک ادا کر رہے ہیں؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۶ جنوری ۲۰۰۴ء

سیرت نبویؐ کے حوالہ سے ضروری گزارش

ربیع الاول کے مہینہ میں عام طور پر جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت کے حوالہ سے ان کے حالات اور تعلیمات کے تذکرہ کے لیے باقی سال کی بہ نسبت زیادہ اہتمام کے ساتھ مجالس و محافل کا انعقاد ہوتا ہے۔ جس کا کسی شرعی ضابطہ اور اصول سے کوئی تعلق تو نہیں ہے لیکن چونکہ دوسری اقوام میں اپنے پیشواؤں کے دن منانے اور مخصوص ایام میں انہیں اہتمام کے ساتھ یاد کرنے کا سلسلہ موجود ہے، اس لیے ان کی دیکھا دیکھی ہمارے ہاں بھی یہ رسم عام ہوتی جا رہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۲۰۰۳ء

حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کا اسوۂ حسنہ

یوں تو تمام انبیاء کرام علیہم الصلاۃ والتسلیمات کی مبارک زندگیاں پوری نسل انسانی کے لیے مشعل راہ اور اسوۂ حسنہ ہیں لیکن سرور کائنات حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی کے بعد قرآن کریم میں جس شخصیت کی زندگی اور کردار کو بطور خاص اسوۂ حسنہ کہا گیا ہے وہ سیدنا حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ذات گرامی ہے۔ جن کے بارے میں سورۃ الممتحنہ میں مسلمانوں سے کہا گیا ہے کہ تمہارے لیے حضرت ابراہیمؑ اور ان کے رفقاء کی زندگیوں میں اسوۂ حسنہ (عمدہ نمونہ) ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۶ مارچ ۲۰۰۱ء

مکہ کا سردار قیصرِ روم کے دربار میں

رسول اکرمؐ نے اس وقت کی ایک بڑی بلکہ سب سے بڑی سلطنت رومن ایمپائر کے حکمران ہرقل کو بھی، جو قیصر روم کہلاتا تھا، دعوت اسلام کا خط بھجوایا۔ یہ خط حضرت دحیہ کلبیؓ لے کر گئے۔ شام اس دور میں رومی سلطنت کا حصہ تھا اور قیصر روم شام کے دورے پر ایلیا میں آیا ہوا تھا۔ جبکہ جناب ابو سفیان بھی ایک تجارتی قافلہ کے ساتھ وہیں قیام پذیر تھے۔ آنحضرتؐ کا ہرقل کے نام خط لے کر حضرت دحیہ کلبیؓ وہاں پہنچے۔ ہرقل کو اطلاع دی گئی کہ حجاز سے ایک قاصد آیا ہوا ہے جو نئے نبی حضرت محمدؐ کا خط اسے پیش کرنا چاہتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۶ و ۱۸ دسمبر ۲۰۰۰ء

مومن قوم کی بیس اچھی خصلتیں

بنو ازد قبیلے کا ایک وفد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جن میں حضرت سوید بن الحارث ازدیؓ بھی تھے اور وہی اس واقعہ کے راوی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب ہم حضورؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور بات چیت کی تو آپؐ ہمارے طرز گفتگو اور انداز سے خوش ہوئے اور دریافت کیا کہ تم کون لوگ ہو؟ ہم نے عرض کیا کہ یا رسول اللہؐ ہم سب اہل ایمان ہیں۔ آپؐ نے پوچھا کہ ہر دعویٰ پر دلیل کی ضرورت ہوتی ہے، تمہارے اس دعوے کی دلیل کیا ہے؟ ہم نے عرض کیا کہ ہمارے اندر پندرہ خصلتیں موجود ہیں جو ہمارے مومن ہونے کی دلیل ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۲ مارچ ۱۹۹۹ء

عبادات اور معاملات میں توازن

اس واقعہ سے جہاں یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ اسلام حقوق اللہ اور حقوق العباد میں توازن قائم رکھنے حکم دیتا ہے اور حقوق اللہ کی ادائیگی کی کوئی ایسی صورت قبول نہیں کرتا جس سے حقوق العباد متاثر ہوتے ہوں۔ وہاں ایک اور بات بھی ذہن میں آتی ہے کہ انسان جب بھی اپنے بارے میں کوئی فیصلہ کرتا ہے تو اس کے سامنے وقتی حالات ہوتے ہیں اور وہ انہی کی روشنی میں معاملات انجام دیتا ہے۔ جبکہ اسلام ایسا کوئی فیصلہ کرنے میں تمام احوال و ظروف کا لحاظ رکھتا ہے جو کہ بسا اوقات انسان کو عجیب محسوس ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ جنوری ۱۹۹۹ء

سنت نبویؐ اور رائے عامہ کا احترام

جناب رسول اللہؐ کو اس بات کا خیال رہتا تھا کہ ان کے کسی کام سے لوگوں میں بلاوجہ غلط فہمیاں نہ پھیلیں او رپبلک تاثر درست رہے۔ عوامی زندگی میں اپنے بارے میں لوگوں کے تاثرات کو درست رکھنا اور مختلف کاموں کے بارے میں لوگوں کے احساسات و جذبات کا جائزہ لیتے رہنا اور انہیں ملحوظ رکھنا ضروری ہوتا ہے اور یہ سنت نبویؐ بھی ہے۔ اس بارے میں دو واقعات پیش کرنا چاہتا ہوں۔ایک واقعہ بیت اللہ کی تعمیر کے سلسلہ میں ہے جسے امام بخاریؒ نے ام المومنین حضرت عائشہؓ کے حوالہ سے نقل کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ نومبر ۱۹۹۸ء

سیرت نبویؐ اور ڈکٹیٹرشپ

یہ مسئلہ فی الواقع سنگین ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے سب سے اعلیٰ قانون ساز ادارے کے ایک رکن کی زبان پر جناب رسالت مآبؐ کی ذات گرامی کے بارے میں یہ گمراہ کن اور گستاخانہ الفاظ آخر کس طرح آگئے؟ اس معاملہ کے ضروری پہلوؤں کا جائزہ لینا اور انصاف و دینی حمیت کے تقاضے کو پورا کرنا متعلقہ شخصیات اور اداروں کی ذمہ داری ہے۔ مگر ہم اس مسئلے کے بارے میں ایک اور پہلو سے کچھ عرض کرنا چاہتے ہیں کہ جناب رسول اللہؐ کے بارے میں مذکورہ سینیٹر کا یہ جملہ اس کا اپنا نہیں بلکہ ایک درآمدی فقرہ ہے جو مغرب کے نظریہ ساز کارخانوں میں ڈھلا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ نومبر ۱۹۹۸ء

انسانی حقوق کا مغربی تصور سیرت طیبہؐ کی روشنی میں

دراصل مغرب حقوق و فرائض میں توازن قائم رکھنے اور ان کے درمیان حد فاصل قائم کرنے میں ناکام رہا ہے۔ جبکہ جناب رسول اللہؐ نے حقوق اور فرائض کو نہ صرف یکجا ذکر کیا بلکہ ان کے درمیان ایسا حسین توازن قائم کر دیا جو گاڑی کے دو پہیوں کی طرح انسانی زندگی کا یکساں بوجھ اٹھا سکتا ہے اور اسے لے کر کامیابی کے ساتھ آگے بڑھ سکتا ہے۔ مگر مغرب نے حقوق و فرائض کو آپس میں گڈمڈ کر دیا اور ان کے درمیان کوئی خط امتیاز قائم نہ رہنے دیا جس کی وجہ سے انسانی معاشرہ ذہنی انتشار اور فکری انارکی کی آماجگاہ بن کر رہ گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری مارچ ۱۹۹۵ء

اخلاق حسنہ، سیرت نبویؐ کا سب سے نمایاں پہلو

جناب سرور کائناتؐ کی ذات گرامی انسانی تاریخ کی وہ منفرد اور ممتاز ترین شخصیت ہے جس کے حالات زندگی، عادات و اطوار، ارشادات و فرمودات، اور اخلاق حسنہ اس قدر تفصیل کے ساتھ تاریخ کے صفحات پر موجود ہیں کہ آنحضرتؐ کی زندگی ایک کھلی کتاب کے طور پر نسل انسانی کے سامنے ہے اور آپؐ کی معاشرتی و خاندانی حتیٰ کہ شخصی اور پرائیویٹ زندگی کا بھی کوئی پہلو تاریخ کی نگاہوں سے اوجھل نہیں رہا۔ اسے محض اتفاق قرار نہیں دیا جا سکتا کہ انسانی تاریخ اپنے دامن میں جناب رسول اللہؐ کے سوا کسی اور شخصیت کے احوال و اقوال کو اس اہتمام کے ساتھ محفوظ نہیں رکھ سکی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۱۹۹۴ء

سیدنا ابراہیم علیہ السلام، عزیمت و استقامت کے پیکر

سیدنا ابراہیم علیٰ نبینا وعلیہ الصلاۃ والسلام وہ ذات گرامی ہیں جنہیں اللہ رب العزت نے سرور کائنات خاتم الانبیاء حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ساری کائنات میں افضل ترین مقام و مرتبہ عطا فرمایا۔ اور ان کی عظیم قربانیوں اور عزیمت و استقامت کے شاندار مظاہروں کے عوض دنیا بھر کی ایسی امامت بخشی کہ آج دنیا کا کم و بیش ہر الہامی مذہب خود کو حضرت ابراہیمؑ کی طرف منسوب کرنے میں فخر محسوس کرتا ہے۔ یہودی اپنے آپ کو حضرت ابراہیمؑ کا پیروکار کہتے ہیں، عیسائی اس بات کے اپنے لیے دعوے دار ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۶ نومبر ۱۹۷۶ء

معجزہ شق القمر

جناب رسول اللہؐ کے پاس مشرکوں کا ایک گروہ آیا جس میں ولید بن مغیرہ، ابوجہل، عاص بن وائل، عاص بن ہشام، اسود بن عبد المطلب اور نضر بن حارث بھی تھے، انہوں نے آنحضرتؐ سے کہا کہ اگر آپ واقعی سچے ہیں تو اپنی سچائی کے ثبوت میں چاند دو ٹکڑے کر کے دکھائیں، اس طرح کہ اس کا ایک ٹکڑا قبیس کی پہاڑی پر اور دوسرا ٹکڑا قعیقعان پر ہو۔ نبی اکرمؐ نے پوچھا کہ اگر ایسا ہوگیا تو کیا تم لوگ ایمان لے آؤ گے؟ کہنے لگے ہاں! وہ رات چودھویں تھی اور چاند آسمان پر پورے آب تاب کے ساتھ جگمگا رہا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نا معلوم