سیرتِ صحابہؓ

حضرت عمرؓ اور انسانی سوسائٹی کو درپیش چیلنج

حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ صرف ملت اسلامیہ نہیں بلکہ انسانی تاریخ کی عظیم شخصیات میں شمار ہوتے ہیں اور ان سے ہر دور میں امت مسلمہ اور انسانی سوسائٹی نے استفادہ کیا ہے جو قیامت تک جاری رہے گا۔ حضرت فاروق اعظمؓ کے بیسیوں فضائل و مناقب میں سے ایک یہ ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں فرمایا کہ اگر نبوت کا سلسلہ منقطع نہ ہو جاتا اور میرے بعد کسی کے نبی کے منصب پر فائز ہونے کی گنجائش ہوتی تو عمرؓ نبی ہوتے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۶ ستمبر ۲۰۲۰ء

بزرگوں کے تذکرہ کا اصل مقصد

ذی الحجہ میں سیدنا حضرت ابراہیم و اسماعیل علیہما السلام کی عظمت اور قربانیوں کے ذکر اور ان کے ساتھ عقیدت و محبت کے اظہار کے بعد امیر المومنین حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی شہادت کا تذکرہ ہوتا ہے۔ جبکہ محرم الحرام کے آغاز میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے ساتھ مسلمان اپنی عقیدت کا اظہار کرتے ہوئے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اور خانوادہ نبوت کے دیگر عظیم سپوتوں کے تذکرہ میں محو ہو جاتے ہیں۔ اور اس طرح اللہ تعالٰی کے ان نیک بندوں کے تذکرہ سے ثواب و اجر کمانے کے ساتھ ساتھ اپنی نسبتوں کا اظہار کیا جاتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۷ اگست ۲۰۲۰ء

صحابہ کرامؓ و اہل بیتؓ کی عقیدت و احترام کا ناگزیر تقاضہ

خلفائے راشدین اور ازواج مطہرات رضوان اللہ علیہم کی طرح جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بنات مکرمات بھی پوری امت کی عقیدت و ادب کا مرکز ہیں اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی چاروں بیٹیاں حضرت زینب، حضرت رقیہ، حضرت ام کلثوم اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہن کے ساتھ عقیدت و ادب ہر مسلمان کے ایمان کا حصہ ہے، ان میں سے چونکہ خود جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ چھوٹی اور لاڈلی بیٹی ہونے کی وجہ سے فطری اور طبعی طور پر محبت و انس زیادہ تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۲۰۲۰ء

جامعہ ملیہ اسلامیہ لاہور اور حضرت عبد اللہ بن زبیرؓ

۱۸ فروری کو جامعہ ملیہ اسلامیہ لاہور کی سالانہ تقریب میں شرکت کی سعادت حاصل ہوئی۔ یہ جامعہ مفکرِ اسلام حضرت علامہ ڈاکٹر خالد محمود صاحب نے شاہدرہ لاہور میں امامیہ کالونی سے گزر کر عمرؓ چوک کے بائیں جانب محمود کالونی میں قائم کر رکھا ہے۔ علامہ صاحب خود تو مانچسٹر برطانیہ میں قیام رکھتے ہیں جبکہ ان کی نگرانی میں مفتی عزیر الحسن صاحب اور ان کے رفقا کی ٹیم اس ادارہ کو چلا رہی ہے۔ حضرت علامہ صاحب سال میں ایک بار تشریف لا کر چند ہفتے لاہور میں قیام کرتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ فروری ۲۰۱۸ء

اہانتِ رسولؐ پر ایک صحابیؓ کا طرز عمل

صحابیٔ رسولؐ حضرت زید بن ارقمؓ فرماتے ہیں کہ جہاد کے ایک سفر میں وہ آنحضرتؐ کے ساتھ تھے اور عبد اللہ بن ابی بھی چند ساتھیوں کے ساتھ شریک تھا۔ ایک مقام پر مہاجرینؓ اور انصارؓ کے چند لوگوں میں کسی بات پر تنازعہ ہوگیا جس پر عبد اللہ بن ابی نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ یہ مہاجرین جو محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے ساتھ مدینہ منورہ میں آکر آباد ہوئے ہیں ان کا معاملہ زیادہ ہی بڑھتا جا رہا ہے، اس لیے انصار مدینہ ان مہاجرین پر جو کچھ خرچ کرتے ہیں اس کا سلسلہ روک دینا چاہیے تاکہ یہ لوگ مدینہ چھوڑ کر کہیں اور چلے جائیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ مارچ ۲۰۱۷ء

قانون اور سیرتِ حضرت علیؓ

حضرت علیؓ کا یہ ارشاد ہمارے لیے مشعل راہ کی حیثیت رکھتا ہے کہ جب ملعون ابن ملجم نے قاتلانہ حملہ میں انہیں زخمی کر دیا تو وہ موت و حیات کی کشمکش میں تھے۔ جبکہ ابن ملجم پکڑا جا چکا تھا۔ حضرت علیؓ نے اس حال میں بھی اپنے بیٹے حضرت حسنؓ کو تلقین کی کہ اسے کچھ کہنا نہیں اور نہ ہی کوئی اذیت دینی ہے اس لیے کہ میں ابھی زندہ ہوں۔ اگر میں زندہ رہا تو یہ فیصلہ میں خود کروں گا کہ اسے معاف کرنا ہے یا سزا دینی ہے۔ لیکن اگر میں ان زخموں میں شہید ہوگیا تو پھر تمہیں اس سے قصاص لینے کا حق حاصل ہوگا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۵ مئی ۲۰۱۶ء

حضرت سلمان فارسیؓ کی نصیحت

جناب سرور کائناتؐ کی سیرت طیبہ قیامت تک نسل انسانی کے لیے مشعلِ راہ ہے اور اس کے مختلف پہلوؤں سے ہر دور میں انسانی سوسائٹی نے استفادہ کیا ہے جو قیامت تک جاری رہے گا۔ مگر میں آج سیرت طیبہ کے ایک پہلو کے حوالے سے کچھ معروضات پیش کرنا چاہوں گا کہ جناب رسول اللہ نے نسل انسانی کو سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے اور اس کی عبادت میں کسی کو اس کے ساتھ شریک نہ کرنے پر زور دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا قرآن کریم میں ارشاد ہے کہ جو لوگ اللہ کو بھول جاتے ہیں اللہ انہیں اپنے آپ سے غافل کر دیتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۷ فروری ۲۰۱۰ء

رعایا پروری اور حضرت عمر بن الخطابؓ

روزنامہ امت کراچی ۲ جولائی ۲۰۰۹ء کی رپورٹ کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ حضرت عمرؓ نے ریاست میں بسنے والوں کے مسائل کی ذمہ داری اپنے اوپر لی تھی اور انہوں نے فرمایا تھا کہ اگر دریائے فرات کے کنارے کتا بھی بھوک سے مر جائے تو اس کے ذمہ دار وہ ہوں گے، اب اگر کوئی قیدی مر جائے تو کون ذمہ دار ہوگا؟ آج عہدوں پر براجمان تمام ذمہ داران کو حضرت عمرؓ کے اس ارشاد سے راہنمائی لے کر ریاست میں بسنے والوں کی تکالیف اور مسائل کو حل کرنا ہو گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۲۰۰۹ء

’’مقام حضرت معاویہؓ‘‘

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان جلیل القدر صحابہ کرامؓ میں سے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ کی طویل عرصہ تک خدمت کا موقع عنایت فرمایا۔ ان کا شمار امت کے بڑے لوگوں میں ہوتا ہے اور وہ عرب کے ممتاز دانشوروں اور مدبرین میں سے ہیں جن پر اسلام اور عرب کی تاریخ کئی حوالوں سے فخر کرتی ہے۔ وہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے برادر نسبتی تھے اور سلطنت اسلامیہ کے باب میں انہیں امیر المؤمنین حضرت عمرؓ اور امیر المؤمنین حضرت عثمانؓ جیسے بزرگوں کا اعتماد حاصل تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۲۰۰۷ء

رسول اللہؐ کی محبت اور مسلمانوں کے جذبات

سرورِ کائنات حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مسلمانوں کی محبت و احترام کا معاملہ ایسا ہے کہ اس کی اور کوئی مثال نہیں دی جا سکتی۔ اور یہ جناب رسول اللہؐ کا اعجاز ہے کہ جس کا ان کے ساتھ ایمان و عقیدت کا تعلق قائم ہوگیا اس کے لیے دنیا کی ہر چیز ہیچ ہوگئی اور باقی سب رشتوں اور تعلقات کی کشش ثانوی حیثیت اختیار کر گئی۔ اس میں نیک اور گنہگار کا کوئی فرق نہیں، جو نیکی اور تقویٰ میں سب سے آگے ہے اس کی محبت اور عقیدت کا بھی وہی عالم ہے اور اس محبت اور عقیدت میں فاسق و فاجر بھی کسی سے کم نہیں رہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۶ مارچ ۲۰۰۶ء

’’سیدنا معاویہؓ ۔ گمراہ کن غلط فہمیوں کا ازالہ‘‘

امیر المؤمنین حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما تاریخ اسلام کی ان عظیم شخصیات میں سے ہیں جنہوں نے اسلامی ریاست کی توسیع و ترقی اور دنیا میں اسلام کے غلبہ و استحکام کے لیے شاندار خدمات سرانجام دی ہیں۔ اور ان کا بیس سالہ دور خلافت جہاں ملت اسلامیہ کی وحدت کی علامت ہے وہاں اسلام کی دعوت اور دائرۂ اثر کو دنیا کے مختلف اطراف میں پھیلانے کا ذریعہ بھی ہے۔ وہ صحابی رسولؓ ہیں، کاتب وحی ہیں، جناب نبی اکرمؐ کے برادر نسبتی ہیں اور ان کا شمار دنیائے عرب کے ممتاز دانشوروں اور سیاستدانوں میں ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۰۶ء

ایک بدری صحابی کی ’’ڈی بریفنگ‘‘

فتح مکہ پر بھی ایسا ہوا کہ تیاریاں جاری تھیں اور رازداری کا بھی اہتمام کیا جا رہا تھا کہ ان تیاریوں کی دشمن کو قبل از وقت خبر نہ ہو جائے مگر ایک واقعہ ایسا ہوا جس نے صحابہ کرامؓ کو پریشان کر دیا۔ بخاری شریف کی روایت ہے کہ آنحضرتؐ نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ، حضرت زبیر بن العوام اور حضرت مقداد بن الاسودؓ پر مشتمل ایک مہم بھیجی اور انہیں ہدایت کی کہ مکہ مکرمہ جانے والے راستے پر ’’روضۂ خاخ‘‘ نامی جگہ پر ایک خاتون سفر کرتی ہوئی ملے گی، وہ کسی کا خط لے کر مکہ مکرمہ جا رہی ہے، اس سے وہ خط قابو کر کے میرے پاس لے آؤ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ فروری ۲۰۰۴ء

صحابہ کرامؓ اور اُسوۂ نبویؐ

جناب نبی اکرمؐ کا تذکرہ کسی حوالہ سے بھی ہو اور ان کی حیات مبارکہ کے کسی بھی پہلو کا تذکرہ کیا جائے یہ اجروثواب، خیروبرکت اور بے پایاں رحمتوں کے نزول کا باعث ہوتا ہے۔ لیکن سیرت نبویؐ کے ساتھ صحابہ کرامؓ کا تعلق کس انداز کا تھا اور حضرات صحابہ کرامؓ کس طرح حضورؐ کی باتوں کو یاد کیا کرتے تھے؟ اس کی چند جھلکیاں آج کی محفل میں پیش کرنے کو جی چاہتا ہے کیونکہ جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ اور سیرت و سنت کے ساتھ مسلمان کا اصل تعلق یہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ مئی ۲۰۰۳ء

درسگاہِ نبویؐ کا ایک طالب علم

ادارہ علوم اسلامی بھارہ کہو اسلام آباد کے منتظم مولانا فیض الرحمان عثمانی نے فون پر یہ خوش خبری سنائی کہ ان کے ادارہ کے دو طلبہ نے میٹرک کے امتحان میں اسلام آباد ثانوی تعلیمی بورڈ کے نتائج کے مطابق دوسری اور تیسری پوزیشن حاصل کی ہے تو بے حد خوشی ہوئی مگر چونکہ دوسرے روز مجھے ایک دو ضروری اجلاسوں کے لیے اسلام آباد جانا تھا اس لیے فون پر مبارکباد دینے کی بجائے اس مقصد کے لیے خود ادارہ علوم اسلامی میں حاضری کا وعدہ کر لیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۶ جولائی ۲۰۰۰ء

حضرت عثمان غنیؓ کے جلسے میں بھٹو مرحوم کا تذکرہ

حضرت عثمانؓ بلاشبہ اپنے دور کے مالدار ترین شخص تھے مگر ان کی دولت اسلام کے کام آئی، مسلمانوں کے کام آئی، جہاد میں صرف ہوئی، معاشرہ کے نادار افراد پر خرچ ہوئی، اور غرباء و مساکین کے حصے میں آئی۔ حتیٰ کہ حضرت عثمانؓ کی شہادت کے بعد ان کے ایک ساتھی نے کہا کہ میں یہ اندازہ نہیں کر سکتا کہ حضرت عثمانؓ کی زندگی (83 سال) کے دنوں کی تعداد زیادہ ہے یا ان غلاموں کی تعداد زیادہ ہے جنہیں انہوں نے اپنی گرہ سے خرید کر اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے آزاد کیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۳ اپریل ۱۹۹۹ء

حضرت عائشہؓ کا علمی مقام

حضرت عائشہؓ قرآن کریم کی بہت بڑی مفسرہ تھیں، حدیث رسولؐ کی ایک بڑی راویہ و شارحہ تھیں، دینی مسائل و احکام کی حکمت و فلسفہ بیان کرنے والی دانشور تھیں، عرب قبائل کی روایات و کلچر و نسب ناموں و تاریخ پر عبور رکھتی تھیں، انہیں ادب و شعر و خطابت پر دسترس حاصل تھی، وہ مجتہد درجے کی مفتیہ تھیں، عوامی مسائل پر رائے دینے والی راہنما تھیں، اور طب و علاج کے بارے میں بھی ضروری معلومات سے بہرہ ور تھیں۔ اور یہ سب کمالات انہوں نے درسگاہ نبویؐ سے سیکھے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۲ ستمبر ۱۹۹۸ء

دورِ فاروقیؓ کے دو سبق آموز واقعات

امیر المومنین یہ سن کر رو پڑے اور حضرت عائشہؓ سے پوچھا کہ آپ بتائیں کیا جناب نبی اکرمؐ نے کبھی مسلسل تین روز گندم کی روٹی کھائی ہے؟ کیا رسول اللہؐ کے پاس اون کا ایک ہی جبہ نہیں تھا جس کے مسلسل استعمال سے آپؐ کی جلد پر خراشیں پڑ گئی تھیں؟ اور کیا آپؐ کے جسم پر ننگی چٹائی پر لیٹنے کی وجہ سے نشانات نہیں پڑ جاتے تھے؟ پھر حضرت حفصہؓ سے کہا کہ یہ بات تمہی نے بتائی تھی کہ ایک صبح آپؐ اٹھے تو ناراضگی کا اظہار فرمایا کہ اس نرم بستر کی وجہ سے وہ رات کا قیام نہیں فرما سکے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ اگست ۱۹۹۸ء

حضرت امیر معاویہؓ اور ان کی روایت کردہ چند احادیث

امیر المؤمنین حضرت معاویہ بن ابی سفیانؓ ان خوش قسمت ترین افراد میں سے ہیں جنہیں اللہ تبارک و تعالیٰ نے شرف صحابیت کے ساتھ ساتھ عقل و دانش اور فہم و فراست کی وافر دولت سے بھی مالا مال کیا تھا۔ ان کا شمار عرب کے ذہین ترین سیاست دانوں میں ہوتا ہے اور ان کی سیاسی بصیرت بطور مثال پیش کی جاتی ہے۔ حضرت معاویہؓ نہ صرف خود جناب نبی اکرمؐ کے صحابی تھے بلکہ ان کے والد گرامی حضرت ابو سفیانؓ، والدہ محترمہ حضرت ہندہؓ، برادر گرامی حضرت امیر یزیدؓ اور ہمشیرہ محترمہ حضرت ام المؤمنین ام حبیبہؓ کا شمار بھی صحابہ کرامؓ میں ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۹ اکتوبر ۱۹۷۶ء