شریعت

آسمانی تعلیمات کے حوالہ سے درپیش چیلنجز اور اسوۂ نبویؐ

جامعۃ العلوم الشرعیۃ کے ساتھ میرا بہت پرانا تعلق ہے، اس کے بانی حضرت مولانا حافظ محمد اسحاقؒ میرے دوستوں اور جماعتی ساتھیوں میں سے تھے۔ جبکہ ہمارے گوجرانوالہ کے مخدوم و محترم استاذ الاساتذہ حضرت مولانا قاضی شمس الدینؒ یہاں پڑھاتے رہے ہیں جو جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے پہلے شیخ الحدیث تھے۔ میری ان سے مسلسل نیاز مندی رہی ہے اور زندگی بھر ان کی شفقتوں سے فیض یاب ہوتا رہا ہوں، وہ مولانا حافظ محمد اسحاقؒ کے خسر بزرگوار تھے اور اب حضرت قاضی صاحبؒ کے نواسے اس دینی ادارہ کی خدمت و انتظام میں مصروف ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر آسمانی تعلیمات کے حوالہ سے درپیش چیلنجز اور اسوۂ نبویؐ

۱۰ اپریل ۲۰۱۸ء

سماجی ارتقا اور آسمانی تعلیمات

انسانی سماج لمحہ بہ لمحہ تغیر پذیر ہے اور اس میں ہر پیش رفت کو ارتقا سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ چونکہ یہ تغیر اور پیش رفت سوسائٹی کے مشاہدات و تجربات کی بنیاد پر ہوتی ہے اس لیے ہر آنے والے دور کو پہلے سے بہتر قرار دے کر اس کے ساتھ ہم آہنگ ہوجانے کو ضروری سمجھا جاتا ہے اور اسے نظرانداز کرنے کو قدامت پرستی اور معاشرتی جمود کا عنوان دے دیا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے آج کی مروجہ عالمی تہذیب و قوانین کو ’’اینڈ آف ہسٹری‘‘ کے عنوان سے انسانی سماج کی سب سے بہتر صورت اور آئیڈیل تہذیب کے ٹائٹل کے ساتھ پوری نسل انسانی کے لیے ناگزیر تصور کیا جاتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سماجی ارتقا اور آسمانی تعلیمات

۲۸ فروری ۲۰۱۸ء

اللہ اور رسولؐ کی اطاعت

قرآن کریم میں ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی اطاعت کریں اور اس کے ساتھ یہ بھی حکم ہے کہ اس کے رسولؐ کی بھی اطاعت کریں۔ یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولؐ دونوں ہمارے مستقلاً مطاع ہیں۔ اس لیے ہم پر جس طرح اللہ تعالیٰ کے احکام کی بجا آوری ضروری ہے اسی طرح جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام کی بجا آوری بھی ضروری ہے۔ کیونکہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ہمیں بہت سے کاموں کا حکم دیا ہے، ان کے ساتھ جناب نبی اکرمؐ نے بھی ہمیں بہت سے احکام دیے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اللہ اور رسولؐ کی اطاعت

دسمبر ۲۰۱۱ء

دینِ اسلام ۔ خالق و مخلوق کے حقوق میں توازن

ماہِ ربیع الاول کی مناسبت سے ملک بھر میں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ طیبہ اور حیاتِ مبارکہ کے حوالے سے اجتماعات منعقد ہو رہے ہیں۔ بعض اجتماعات میں راقم الحروف کو بھی شرکت کی سعادت حاصل ہوئی۔ ۲۳ فروری کو پاکستان ایئرفورس کے لاہور بیس میں اسی سلسلہ میں کچھ گزارشات پیش کرنے کا موقع ملا۔ بیس کے تربیتی کیمپ کی مسجد میں جلسہ تھا، بیس کے کمانڈر جناب محمد افضل عباسی نے تقریب کی صدارت کی اور صدارتی گفتگو میں سیرتِ طیبہؐ کے بہت سے اہم امور کی طرف توجہ دلائی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دینِ اسلام ۔ خالق و مخلوق کے حقوق میں توازن

یکم مارچ ۲۰۱۰ء

حلال و حرام کا اسلامی تصور اور سوسائٹی کی خواہشات

سپریم کورٹ آف انڈیا نے حال ہی میں جسم فروشی کو قانونی حیثیت دینے کا مشورہ دیا ہے اور اپنے اس مشورہ کو اس مسئلہ کا حل قرار دیا ہے کہ بے شمار قوانین کے باوجود جسم فروشی کے کاروبار میں اضافہ ہی ہو رہا ہے۔ دو فاضل ججوں پر مشتمل بینچ نے کہا ہے کہ: ’’دنیا بھر میں کہیں بھی اور کوئی بھی قانون اس کاروبار کو روکنے میں کامیاب نہیں ہوا ہے اور یہ کہ اس کو قانونی درجہ دے دیے جانے سے اتھارٹیز کو اس کاروبار کی نگرانی کرنے، اس کے ملوثین کی آبادکاری اور طبی امداد فراہم کرنے کا حق و اختیار حاصل ہو جائے گا۔‘‘ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حلال و حرام کا اسلامی تصور اور سوسائٹی کی خواہشات

۲۱ فروری ۲۰۱۰ء

کوڑوں کی سزا اور آسمانی تعلیمات

سوات میں ایک نوجوان لڑکی کو کوڑے مارنے کے مبینہ واقعہ کی ویڈیو فلم نے ملکی اور عالمی سطح پر کوڑوں کی سزا کے حوالے سے ایک بار پھر ارتعاش پیدا کر دیا ہے اور ہر سطح پر اس کے بارے میں بحث و تمحیص کا سلسلہ جاری ہے۔ جہاں تک اس ویڈیو فلم کا تعلق ہے وہ ابھی تک مشکوک و متنازعہ ہے اور سپریم کورٹ میں اس کے بارے میں کوئی حتمی رپورٹ پیش کیے جانے اور عدالتِ عظمیٰ کے فیصلے تک یقینی طور پر نہیں کہا جا سکتا کہ یہ فلم فی الواقع کسی واقعہ کی فلم ہے یا جعلی طور پر بنائی گئی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر کوڑوں کی سزا اور آسمانی تعلیمات

اپریل ۲۰۰۹ء

طلاق کا حق ۔ دین اسلام کیا کہتا ہے؟

اسلامی نظریاتی کونسل کی ایک حالیہ سفارش ملک کے علمی حلقوں میں زیر بحث ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ خلع کو عورت کا مساوی حقِ طلاق قرار دیا جائے اور یہ قانون بنا دیا جائے کہ اگر عورت خاوند سے طلاق کا تحریری مطالبہ کرے تو خاوند ۹۰ روز کے اندر اسے طلاق دینے کا پابند ہوگا، اور اگر وہ اس دوران طلاق نہ دے تو ۹۰ روز گزر جانے پر طلاق خودبخود واقع ہو جائے گی۔ ملک کے دینی حلقے عمومی طور پر اسے قرآن و سنت کے منافی قرار دے رہے ہیں جبکہ اسلامی نظریاتی کونسل کے بعض ارکان اور ان کے ساتھ ملک کے بعض دانشور اس کا دفاع کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر طلاق کا حق ۔ دین اسلام کیا کہتا ہے؟

۱۳ تا ۱۵ دسمبر ۲۰۰۸ء

اسلامی شریعت کی تعبیرو تشریح: علمی وفکری سوالات

آج کے نوجوان اہل علم جو اسلام کے چودہ سو سالہ ماضی اور جدید گلوبلائزیشن کے ثقافتی ماحول کے سنگم پر کھڑے ہیں، وہ نہ ماضی سے دست بردار ہونا چاہتے ہیں اور نہ مستقبل کے ناگزیر تقاضوں سے آنکھیں بند کرنے کے لیے تیار ہیں۔ وہ اس کوشش میں ہیں کہ ماضی کے علمی ورثہ کے ساتھ وابستگی برقرار رکھتے ہوئے قدیم و جدید میں تطبیق کی کوئی قابل قبول صورت نکل آئے۔ مگر انھیں دونوں جانب سے حوصلہ شکنی کا سامنا ہے اور وہ بیک وقت ’قدامت پرستی‘ اور ’تجدد پسندی‘ کے طعنوں کا ہدف ہیں۔ مجھے ان نوجوان اہل علم سے ہمدردی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اسلامی شریعت کی تعبیرو تشریح: علمی وفکری سوالات

اکتوبر ۲۰۰۸ء

وراثت کے مسائل اور وفاقی شرعی عدالت

گزشتہ کالم میں وفاقی شرعی عدالت کے دو فیصلوں کے بارے میں مختصرًا کچھ گزارشات پیش کی تھیں، آج کی صحبت میں انہی میں سے ایک فیصلہ کے ایک اور حصہ کے بارے میں چند معروضات پیش کی جا رہی ہیں۔ ۶ جنوری ۲۰۰۰ء کے اخبارات میں وفاقی شرعی عدالت کے چیف جسٹس میاں محبوب احمد، جسٹس اعجاز یوسف اور جسٹس فدا محمد پر مشتمل فل بینچ کے جس فیصلے کی خبر شائع ہوئی ہے اس میں یتیم پوتے کو دادا کی وراثت میں شریک کرنے کا حکم بھی شامل ہے۔ خبر کے مطابق فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ’’یتیم پوتے کو جائیداد میں حصہ دیا جائے چاہے دادا نے وصیت کی ہو یا نہ کی ہو۔‘‘ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر وراثت کے مسائل اور وفاقی شرعی عدالت

۲۹ جنوری ۲۰۰۰ء

عورت کا طلاق کا اختیار

اسلام نے طلاق کا غیر مشروط حق صرف مرد کو دیا ہے کہ وہ جب چاہے عورت کو طلاق دے کر اپنی زوجیت سے الگ کر دے۔ اگرچہ بلاوجہ طلاق کو شریعت میں سخت نفرت کی نگاہ سے دیکھا گیا ہے اور جناب نبی اکرمؐ نے طلاق کو مباح امور میں مبغوض ترین چیز قرار دیا ہے لیکن گناہ اور ناپسندیدہ ہونے کے باوجود مرد کو یہ حق بہرحال حاصل ہے کہ وہ اگر طلاق دے تو اس سے دونوں میں نکاح کا رشتہ ختم ہو جاتا ہے۔ جبکہ عورت کو براہ راست اور غیر مشروط طلاق کا حق اسلام نے نہیں دیا۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اسے اس حوالہ سے کوئی حق ہی سرے سے حاصل نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر عورت کا طلاق کا اختیار

۲۶ جنوری ۲۰۰۰ء

شرعی احکام و معاملات میں سورج اور چاند کی گردش کا اعتبار

دنیا میں سورج اور چاند کی گردش کے حساب سے دو قسم کے سن رائج ہیں۔ سورج کی گردش کے لحاظ سے جو سن رائج ہے وہ شمسی کہلاتا ہے اور جنوری، فروری اور مارچ وغیرہ مہینے اسی سن کے مہینے ہیں۔ جبکہ چاند کی گردش کے حساب سے جو سن مروج ہے وہ قمری کہلاتا ہے اور محرم، صفر، ربیع الاول وغیرہ اس سن کے مہینے ہیں۔ ہجری سن قمری حساب سے ہے۔ مروجہ شمسی سن عیسوی اور میلادی سن بھی کہلاتا ہے جس کا آغاز حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت سے ہوتا ہے اور ۱۹۹۹ء کا مطلب یہ ہے کہ حضرت عیسٰیؑ کی ولادت کو اتنے سال گزر چکے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر شرعی احکام و معاملات میں سورج اور چاند کی گردش کا اعتبار

مئی ۱۹۹۹ء

اعمال کی سزا و جزا کا اسلامی تصور

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ محترم بزرگو اور دوستو! میں نے آپ کے سامنے سورۃ النساء کی آیت نمبر ۱۲۳ تلاوت کی ہے جس کے بارے میں حضرت عبد اللہ بن عباسؓ کا ارشاد گرامی ہے کہ اس میں اعمال کی سزا اور جزا کے حوالہ سے مشرکین مکہ اور اہل کتاب کے خیالات کا رد کیا گیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے یہ اصول بیان فرمایا ہے کہ اعمال کے بدلے کے بارے میں نہ تو مشرکین کی آرزوئیں پوری ہوں گی اور نہ اہل کتاب کی آرزوؤں کا لحاظ رکھا جائے گا بلکہ جو شخص بھی کوئی برا عمل کرے گا اسے اس کا بدلہ دیا جائے گا اور ہر شخص کو اپنے اعمال کی سزا خود بھگتنا ہوگی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اعمال کی سزا و جزا کا اسلامی تصور

یکم فروری ۱۹۹۹ء