سیاست

تبلیغی جماعت اور دینی سیاست

حضرت مولانا طارق جمیل سے منسوب یہ بات میرے لیے تعجب کا باعث بنی ہے جس میں انہوں نے اپنے عقیدت مندوں کو تلقین کی ہے کہ وہ سیاست میں فریق نہ بنیں اور کسی سیاسی جماعت کا حصہ نہ بنیں، یہ بات اگر انہوں نے کہی ہے تو مجھے اس سے اتفاق نہیں ہے مگر انہیں اپنی رائے کا پورا حق حاصل ہے اور ان کے اس حق کا احترام کیا جانا چاہیے۔ البتہ اس سے مجھے ایک پرانا قصہ یاد آگیا ہے کہ گوجرانوالہ کی مرکزی جامع مسجد کے خطیب استاذ العلماء حضرت مولانا مفتی عبد الواحدؒ ہم سب کے مخدوم تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم اگست ۲۰۱۹ء

کیا ریاست و حکومت کا قیام شرعی فریضہ نہیں ہے؟

قرآنِ کریم کا اسلوب کسی مسئلہ کے بارے میں سارے معاملات یکجا ذکر کرنے کا نہیں ہے بلکہ کسی ایک موضوع یا مسئلہ کے حوالہ سے مختلف مقامات پر متنوع لہجوں میں متفرق ارشادات ملتے ہیں۔ جس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ قرآن کریم مسلسل تئیس سال تک تھوڑا تھوڑا نازل ہوتا رہا ہے اور موقع محل کے مطابق اس کے ارشادات میں اجمال و تفصیل اور اسالیب کا تنوع پایا جاتا ہے۔ اسی لیے تفسیرِ قرآن کریم میں ہمیں پہلا اصول یہ پڑھایا جاتا ہے ’’یفسر بعضہ بعضًا‘‘ کہ قران کریم کا ایک حصہ دوسرے حصے کی تفسیر و تشریح کرتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۶ جنوری ۲۰۱۸ء

دستور کی اسلامی دفعات اور ’’سیاسی اسلام‘‘

ربع صدی سے بھی زیادہ عرصہ پہلے کی بات ہے کہ گکھڑ میں حضرت والد محترم مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کی مسجد میں دینی جلسہ تھا، اس دور کے ایک معروف خطیب بیان فرما رہے تھے، موضوعِ گفتگو دارالعلوم دیوبند کی خدمات و امتیازات تھا۔ جوشِ خطابت میں انہوں نے یہ فرما دیا کہ دارالعلوم دیوبند نے شاہ اسماعیل شہیدؒ جیسے سپوت پیدا کیے۔ جلسہ کے بعد دسترخوان پر ملاقات ہوئی تو میں نے عرض کیا کہ حضرت! دارالعلوم دیوبند کا آغاز 1866ء میں ہوا تھا جبکہ شاہ اسماعیل شہیدؒ اس سے تقریباً پینتیس سال قبل بالاکوٹ میں شہید ہوگئے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۳ دسمبر ۲۰۱۷ء

’’ریاست مدینہ‘‘ کا سماجی و تاریخی پس منظر

یہاں ایک تاریخی سوال سامنے آتا ہے کہ جناب رسول اکرمؐ تو اپنے ساتھیوں کے ہمراہ مکہ مکرمہ کے قریشیوں کے بے پناہ مظالم سے تنگ آکر پناہ لینے کے لیے یثرب کی طرف آئے تھے، یہ آتے ہی ریاست و حکومت کی صورت کیسے بن گئی؟ اس سوال کا جائزہ لینے کے لیے ہجرت نبویؐ کے مقاصد اور اس کے ساتھ اس دور کے سماجی تناظر پر ایک نظر ڈالنا ضروری ہے۔ اس وقت کے آثار و روایات کا ترتیب کے ساتھ مطالعہ کیا جائے تو یہ تاریخی حقیقت سامنے آتی ہے کہ ہجرت کا مقصد صرف کفار مکہ کے مظالم سے نجات اور پناہ کی جگہ حاصل کرنا نہیں تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۸ جولائی ۲۰۱۷ء

دستور سازی، سوشل کنٹریکٹ اور اسلام

نفاذِ اسلام کے فکری مسائل میں دستور سازی، قانون سازی اور معاہدۂ عمرانی کی اصطلاحات علمی و فکری حلقوں میں مسلسل زیربحث ہیں اور ان کے حوالہ سے مختلف افکار و نظریات سامنے آرہے ہیں۔ ایک طرف یہ کہا جا رہا ہے کہ قرآن و سنت اور فقہ و شریعت کی صورت میں اسلامی احکام و قوانین کا وسیع ترین ذخیرہ موجود ہے اس لیے کسی قسم کی دستور سازی، قانون سازی اور عمرانی معاہدات کی ضرورت نہیں ہے۔ اور چونکہ ایک اسلامی ریاست قرآن و سنت اور فقہ و شریعت کی ہدایات کے مطابق مملکت و حکومت کا نظام چلانے کی پابند ہے اس لیے مزید قانون سازی محض تکلف ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم جولائی ۲۰۱۷ء

ریاست، حکومت اور مذہب کا باہمی تعلق

قرآن و سنت کی معاشرتی تعلیمات، اسلامی تاریخ کے دور نبویؐ اور خلافت راشدہ کے نظام سے باخبر نہ ہونے کی وجہ سے ہمارے جدید تعلیم یافتہ دوستوں کا ایک حلقہ مسلسل غلط فہمی کا شکار رہتا ہے کہ یورپ کے قرون مظلمہ (تاریک صدیوں) کی طرح ہمارا ماضی بھی بے علمی، جہالت اور ظلم و جبر سے عبارت تھا اور انقلابِ فرانس نے مغربی معاشرہ کی طرح ہمیں بھی پہلی بار اس دور سے نکال کر روشنی کی طرف لے جانے کا فریضہ سرانجام دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مغرب اور اس کے فلسفہ و نظام کا طوق ہر وقت گردن میں پہنے رہنے میں عافیت محسوس کی جاتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۱ مئی ۲۰۱۷ء

دور نبویؐ میں اسلامی ریاست کا نقشہ

جناب نبی اکرمؐ کی ہجرت سے قبل یثرب کے علاقہ میں ریاست کا ماحول بن چکا تھا اور اس خطہ میں قبائلی معاشرہ کو ایک باقاعدہ ریاست و حکومت کی شکل دینے کی تیاریاں مکمل تھیں۔ بخاری شریف کی روایت کے مطابق انصار مدینہ کے قبیلہ بنو خزرج کے سردار حضرت سعد بن عبادہؓ نے آنحضرتؐ کو بتایا کہ آپؐ کی تشریف آوری سے پہلے اس بحیرہ کے لوگوں نے باقاعدہ حکومت کے قیام کا فیصلہ کر کے عبد اللہ بن أبی کو اس کا سربراہ منتخب کر لیا تھا اور صرف تاج پوشی کا مرحلہ باقی رہ گیا تھا کہ آپ یعنی جناب نبی اکرمؐ تشریف لے آئے جس سے عبد اللہ بن أبی کی بادشاہی کا خواب بکھر گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲ ستمبر ۲۰۱۶ء

کیا ریاست کسی کو کافر قرار دے سکتی ہے؟

میں دلائل کی بحث میں پڑے بغیر تاریخی تناظر میں اس کا جائزہ لینا چاہوں گا کہ جب اسلامی ریاست وجود میں آئی تو وہ کن اصولوں پر قائم ہوئی تھی اور اس قسم کے مسائل کو اس نے کس طریقہ سے ڈیل کیا تھا۔ یہ بات تاریخی طور پر مسلمہ ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے وقت جزیرۃ العرب کسی ریاستی وجود اور باقاعدہ حکومت سے آشنا نہیں تھا۔ لیکن جناب رسول اللہؐ نے جب دنیا سے پردہ فرمایا تو پورا جزیرۃ العرب ایک باقاعدہ ریاست کی شکل اختیار کر چکا تھا اور اس میں ایک منظم حکومت تشکیل پا چکی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۴ جون ۲۰۱۶ء

اسلامی خلافت ۔ دلیل و قانون کی حکمرانی

تا ۴ جنوری کو جامعہ اسلامیہ کلفٹن کراچی کی مجلس صوت الاسلام کے زیر اہتمام فضلائے درس نظامی کے ایک تربیتی کورس میں مسلسل تین روز تک ’’خلافت‘‘ کے عنوان پر گفتگو کا موقع ملا۔ یہ کورس ایک تعلیمی سال کے دورانیے پر مشتمل ہوتا ہے اور کئی سالوں سے جاری ہے، مختلف اصحاب فکر و دانش اپنے اپنے پسندیدہ موضوعات پر اس میں گفتگو کرتے ہیں، مجھے بھی ہر سال دو تین روز کے لیے حاضری کی سعادت حاصل ہوتی ہے اور متنظمین کے ساتھ ساتھ فضلائے درس نظامی کا ذوق اور طلب دیکھ کر خوشی ہوتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۰ جنوری تا یکم فروری ۲۰۱۲ء

خلافت و امامت، اہل سنت اور اہل تشیع کا بنیادی اختلاف

جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں دورۂ حدیث کے طلبہ کے لیے ہر جمعرات کو ایک تعلیمی گھنٹہ فکری نوعیت کے مسائل اور حالات حاضرہ کے لیے مخصوص ہوتا ہے۔ اس سال پہلی اور دوسری سہ ماہی کے دوران مختلف ادیان کے تعارف اور ان کے بارے میں ضروری معلومات پر گفتگو ہوتی رہی، جبکہ شش ماہی امتحان کے بعد سالانہ امتحان تک انسانی حقوق اور اسلامی تعلیمات کے حوالہ سے مسلمانوں اور اہل مغرب کے درمیان جاری فکری تہذیبی کشمکش سے متعلقہ چند امور پر گفتگو ہوگی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مئی ۲۰۱۱ء

اطاعت امیر درست، مگر کن حالات میں!

صدر جنرل پرویز مشرف نے گزشتہ دنوں اسلام آباد میں علمائے کرام اور مشائخ عظام کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے بہت سی فکر انگیز باتیں کی ہیں جن پر ہر پاکستانی کو غور کرنا چاہیے، کیونکہ صدر محترم کی رائے سے اختلاف کیا جا سکتا ہے اور ان کی بہت سے آرا سے ہمیں بھی اختلاف ہے، لیکن اس میں شک کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ جن امور کی انہوں نے نشاندہی کی ہے اور جن مسائل کا پاکستان کے حوالے سے انہوں نے اپنے خطاب میں تذکرہ کیا ہے، وہ اس وقت ہمارے لیے چیلنج کا درجہ رکھتے ہیں اور ان کے بارے میں ہر باشعور شہری فکرمند اور پریشان ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۴ فروری ۲۰۰۴ء

احتساب کا عمل اور خلافتِ راشدہ

اسلامی جمہوریہ پاکستان کے چیف ایگزیکٹو جنرل پرویز مشرف نے قومی دولت لوٹنے والوں کے بے لاگ احتساب کا اعلان کیا ہے۔ قومی دولت کی قومی خزانے میں واپسی اور لوٹ کھسوٹ کرنے والوں کا احتساب ایک دیرینہ عوامی مطالبہ ہے جس پر پہلے بھی کئی حکومتوں نے توجہ دینے کا اعلان کیا مگر انہیں کامیابی نہیں ہوئی۔ اسی لیے جنرل پرویز مشرف کے اس اعلان پر بھی ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے اور بہت سے لوگ دبے لفظوں میں اس خدشہ کا اظہار کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۸ نومبر ۱۹۹۹ء

آج کے دور میں خلافت کے قیام کی عملی صورت

خلافت اسلامیہ کے احیاء اور قیام کے لیے محنت و جدوجہد الگ چیز ہے جبکہ خلافت کے نام پر شخصی ادعا کے ساتھ اپنے گرد لوگوں کو جمع کرنے کی کوشش اس سے بالکل مختلف عمل ہے۔ اول الذکر عمل دینی فریضہ اور اس کی ادائیگی کا خوبصورت احساس و جذبہ ہے جس کے ساتھ تعاون اور اس میں شرکت ہر مسلمان کی شرعی ذمہ داری ہے۔ جبکہ ثانی الذکر محنت پر ’’طالع آزمائی‘‘ کے سوا اور کوئی عنوان فٹ نہیں بیٹھتا۔ چنانچہ اسلام کے لیے کام کرنے والے رہنماؤں، کارکنوں اور حلقوں کو ان دونوں میں فرق کرنا ہوگا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۹ اگست ۱۹۹۹ء

جمہوریت، مولانا صوفی محمد اور اسلام

بنیادی فلسفے کے لحاظ سے جمہوریت اور اسلام ایک دوسرے کے بالمقابل کھڑے ہیں۔ اور صرف جمہوریت ہی نہیں بلکہ جو طرز حکومت بھی آسمانی تعلیمات کی پابندی کو قبول نہیں کرتا اور فائنل اتھارٹی کے اختیارات اپنے پاس رکھتا ہے، سراسر کفر ہے ۔ ۔ ۔ جہاں ایک اسلامی حکومت کے لیے قرآن و سنت کا پابند ہونا شرط ہے وہاں یہ بھی ضروری ہے کہ اسے عام مسلمانوں کا اعتماد حاصل ہو۔ چنانچہ آج کے دور یہ اعتماد حاصل کرنے کی واحد صورت ووٹ ہے، اس کی شرائط اپنی جگہ لیکن ووٹ اور اکثریت کی مطلقاً نفی درست نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۶ فروری ۱۹۹۹ء

نفاذِ اسلام اور دورِ غلامی کی عبوری تعبیرات

دور غلامی میں بعض بنیادی مسائل میں ہمارے فقہاء نے وقتی اور عبوری طور پر ایسی صورتیں نکالی تھیں جن کا جواز بس اسی دور میں ہو سکتا تھا۔ آزادی اور اقتدار کے دور میں اسلامی احکام کی وہ صورتیں کسی طرح بھی قابل قبول نہیں ہو سکتیں۔ مثال کے طور پر نماز اور زکوٰۃ کے دو بنیادی احکام کو سامنے رکھ لیجیے جو اسلام کے احکام میں سب سے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں اور جنہیں سوسائٹی میں عملی طور پر لاگو اور نافذ کرنے کی ذمہ داری کو قرآن نے اسلامی حکومت کے فرائض میں بیان کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲ دسمبر ۱۹۹۸ء

اسلامی نظام حکومت میں صوبائی خودمختاری

اس پس منظر میں جب ہم صوبائی خودمختاری کے مسئلہ کو سنت نبویؐ اور خلفاء راشدینؓ کے طرز عمل کی روشنی میں دیکھتے ہیں تو دو باتیں بطور اصول سمجھ میں آتی ہیں۔ ایک یہ کہ اسلام نے علاقائی یونٹوں کے وجود کو تسلیم کیا ہے لیکن لسانی اور قومی عصبیتوں کی نفی کی ہے۔ نبی اکرمؐ نے ایک طرف تو زبان، رنگ اور نسل کی بنیاد پر اجتماع کرنے اور اس حوالہ سے دوسروں کے خلاف نفرت پھیلانے کو جاہلی عصبیت قرار دے کر اس سے بیزاری کا اظہار فرمایا۔ اور دوسری طرف آپؐ کے زمانے میں جو علاقے فتح ہوئے ان کی انتظامی وحدتوں کو برقرار رکھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۹ نومبر ۱۹۹۸ء

اسلام کا نظامِ حکومت اور رائے عامہ

اسلام کے سیاسی نظام کے حوالے سے ’’جمہوریت‘‘ کی نفی کرنے والے حضرات بھی عام طور پر ادھوری بات کہتے ہیں جس سے کنفیوژن پیدا ہوتا ہے۔ کیونکہ وہ یہ بات تو کہہ دیتے ہیں کہ مغربی جمہوریت کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں ہے لیکن اس کے ساتھ یہ وضاحت نہیں کرتے کہ خود اسلام میں حکومت کی تشکیل کا اصول کیا ہے اور حکومت کے قیام اور اسے چلانے میں رائے عامہ کو کیا مقام حاصل ہے؟ چنانچہ اس سلسلہ میں ایک دو اصولی باتیں قارئین کی خدمت میں پیش کرنے کو جی چاہتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ نومبر ۱۹۹۸ء

انسانی اجتماعیت کے جدید تقاضے اور اسلام کا عادلانہ نظام

لاہور ہائی کورٹ کے شریعت بینچ میں ریٹائرڈ جسٹس جناب بدیع الزمان کیکاؤس کی طرف سے انتخاب و سیاست کے مروجہ قوانین کو چیلنج کیے جانے کے بعد سے علمی و فکری حلقوں میں اس بحث نے سنجیدگی اور شدت اختیار کر لی ہے کہ آج کے دور میں اسلام کے نظامِ عدل و انصاف کو نافذ کرنے کے لیے عملی اقدامات اور ترجیحات کی کیا صورت ہوگی؟ اور موجودہ دور نے انسان کی اجتماعی زندگی کے لیے جن تقاضوں اور ضروریات کو جنم دیا ہے اسلام کا دائرۂ توسعات انہیں کس حد تک اپنے اندر سمونے کے لیے تیار ہے؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ دسمبر ۱۹۷۹ء

لاہور ہائیکورٹ کے شریعت بینچ میں مولانا زاہد الراشدی کی درخواست

بسم اللہ الرحمان الرحیم۔ بعدالت شریعت بینچ عدالت عالیہ پنجاب لاہور۔ بمقدمہ ریٹائرڈ جسٹس بدیع الزمان کیکاؤس۔ بنام سرکار بعنوان خلافِ اسلام قرار دیے جانے والے پولیٹیکل پارٹیز ایکٹ وغیرہ۔ جناب والا! درخواست دہندہ نے ۴ نومبر ۱۹۷۹ء کو شریعت بینچ میں جناب حافظ محمد یوسف ایڈووکیٹ کے ذریعے درخواست کی تھی کہ مذکورہ بالا مقدمہ کے سلسلہ میں قرآن و سنت کی روشنی میں درخواست دہندہ کچھ ضروری معروضات بینچ کے روبرو پیش کرنا چاہتا ہے۔ شریعت بینچ کی طرف سے درخواست دہندہ کو ہدایت کی گئی کہ یہ معروضات تحریری طور پر بینچ کے روبرو پیش کی جائیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۴ دسمبر ۱۹۷۹ء