سود

سودی نظام کے حوالہ سے شریعہ اکیڈمی اسلام آباد کا ایک اہم سیمینار

گزشتہ ہفتہ کے دوران ۶ اگست کو بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد میں شریعہ اکیڈمی کے منعقدہ ’’انسداد سود سیمینار‘‘ میں شرکت کا موقع ملا جس میں یونیورسٹی کے ریکٹر محترم ڈاکٹر محمد یاسین معصوم زئی میرِ محفل تھے جبکہ شریعہ اکیڈمی کے ڈائریکٹر جنرل پروفیسر ڈاکٹر مشتاق احمد اور ان کے رفقاء کی دلچسپی اور محنت سیمینار کی بھرپور کامیابی میں نمایاں طور پر جھلک رہی تھی۔ قومی اسمبلی میں انسدادِ سود کا بل پیش کرنے والے مولانا عبد الاکبر چترالی ایم این اے مہمان خصوصی تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سودی نظام کے حوالہ سے شریعہ اکیڈمی اسلام آباد کا ایک اہم سیمینار

۱۰ اگست ۲۰۱۹ء

سود کے بارے میں سینٹ کا منظور کردہ بل

سینٹ آف پاکستان نے گزشتہ روز جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سینٹر جناب سراج الحق کا پیش کردہ ایک مسودہ قانون منظور کر لیا ہے جس کے تحت اسلام آباد کی حدود میں سود کے نجی کاروبار کو ممنوع قرار دے دیا گیا ہے۔ اخباری رپورٹ کے مطابق سینٹ نے وفاقی دارالحکومت میں نجی طور پر ہر قسم کے لین دین کے حوالے سے سودی کاروبار پر پابندی کے قانون کی منظوری دے دی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سود کے بارے میں سینٹ کا منظور کردہ بل

۶ مارچ ۲۰۱۹ء

ہزارہ میں انسدادِ سود پر چند اجتماعات

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ’’یمحق اللہ الربوا ویربی الصدقات‘‘ اللہ تعالیٰ سود کے ذریعہ رقم کو بے برکت اور ڈی ویلیو کر دیتے ہیں جبکہ صدقہ کی صورت میں رقم کی قدروقیمت میں اضافہ ہوتا ہے۔ بے برکتی کی مختلف صورتیں ہو سکتی ہیں: مثلاً مال کسی نقصان میں ضائع ہو جائے، بے مقصد کاموں پر خرچ ہو جائے، یا وہ کام جو کم مال خرچ کرنے سے ہو سکتے ہوں ان پر زیادہ مال خرچ ہو جائے وغیرہ۔ یوں سمجھ لیں کہ بے برکتی ہماری مصنوعی کرنسی کی طرح ہے کہ گنتی بڑھتی جاتی ہے مگر افادیت اور قدر مسلسل کم ہوتی چلی جاتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ہزارہ میں انسدادِ سود پر چند اجتماعات

۱۵ ستمبر ۲۰۱۷ء

سودی نظام کے خاتمہ کے لیے سنجیدہ توجہ درکار ہے

وفاقی شرعی عدالت نے سودی نظام کے بارے میں زیر سماعت مقدمہ کو غیر متعینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا ہے اور چیف جسٹس صاحب نے اس کے ساتھ یہ ریمارکس دیے ہیں کہ جس دور میں سود کو حرام قرار دیا گیا تھا اس وقت کے حالات مختلف تھے اس لیے ان حالات میں نافذ کیے گئے قوانین و احکام کو آج کے دور پر لاگو نہیں کیا جا سکتا، جبکہ مقدمہ کے التوا کے اسباب میں اس بات کا ذکر بھی کیا گیا ہے کہ قرآن کریم نے ’’ربٰوا‘‘ کی جو اصطلاح استعمال کی ہے وہ مروّجہ سود سے مختلف ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سودی نظام کے خاتمہ کے لیے سنجیدہ توجہ درکار ہے

مئی ۲۰۱۷ء

سودی نظام کا خاتمہ، غیر روایتی اقدامات کی ضرورت

دہشت گردی کی لعنت کو عام دستوری اور قانونی ذرائع سے کنٹرول کرنے میں کامیابی نہ پا کر اس کے لیے ایمرجنسی طریقہ کار اختیار کیا گیا ہے جسے بظاہر قومی سطح پر قبول کر لیا گیا ہے۔ جبکہ اس طریقہ کار کے تحت کیے جانے والے اقدامات کا بڑا حصہ عام قانونی اور عدالتی پراسیس سے بالاتر دکھائی دیتا ہے ۔ ۔ ۔ سودی نظام بھی ’’معاشی دہشت گردی‘‘ سے کم نہیں ہے جس کے نقصانات اور تباہ کاریاں ہر طرف پھیلی ہوئی ہیں۔ اس لیے اس سے نجات حاصل کرنے کے لیے بھی خصوصی اقدامات اور طریق کار کی ضرورت ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سودی نظام کا خاتمہ، غیر روایتی اقدامات کی ضرورت

۲۱ اپریل ۲۰۱۶ء

سودی نظام کے خلاف جدوجہد میں دینی حلقوں کی ذمہ داریاں

جامعۃ الرشید کراچی میں گزشتہ دنوں منعقد ہونے والے ایک سیمینار میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ سودی بینکاری سے نجات حاصل کرنے کے لیے غیر سودی بینکاری کا تجربہ ضروری ہے اور اس وقت اس حوالہ سے جو محنت ہو رہی ہے اس کی اصلاح اور مزید بہتری کے لیے کوششوں کے ساتھ ساتھ اس کی حوصلہ افزائی بھی ہونی چاہیے۔ دوسری طرف اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ڈپٹی گورنر جناب سعید احمد نے جامعۃ الخیر لاہور میں ایک نشست سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ سودی بینکاری کا متبادل شرعی نظام موجود ہے مگر اسے چلانے کے لیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سودی نظام کے خلاف جدوجہد میں دینی حلقوں کی ذمہ داریاں

فروری ۲۰۱۶ء

غیر سودی بینکاری کی عالمی مقبولیت

ایک قومی اخبار نے یہ خبر شائع کی ہے کہ روس کی پارلیمنٹ کے ایوان زیریں میں لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کے رکن اسمبلی دمتری سویولوو نے ایک قانون منظوری کے لیے پیش کیا ہے کہ روس میں بغیر سود اسلامی بینکاری کی اجازت دی جائے۔ اس سے کچھ عرصہ پہلے دمتری سویولوو اسمبلی میں ایک اور مسودہ قانون بھی پیش کر چکے ہیں جس میں اسلامی اصول کی بنیاد پر لیزنگ میں رکاوٹ ڈالے جانے کو غیر قانونی قرار دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر غیر سودی بینکاری کی عالمی مقبولیت

۱۵ دسمبر ۲۰۱۵ء

غیر سودی بینکاری اور آئی ایم ایف

دنیا میں سودی نظام کی تباہ کاریوں کا شعور جوں جوں بڑھتا جا رہا ہے اور اس کے خلاف ردعمل جس طرح منظم ہو رہا ہے اس کے ساتھ ہی آسمانی تعلیمات کی اہمیت و برکات کا احساس بھی دھیرے دھیرے اجاگر ہو رہا ہے۔ جبکہ علمی اور فکری دنیا میں یہ بات اب کم و بیش طے سمجھی جاتی ہے کہ سودی نظام نے نسل انسانی کو اخلاقی تباہی اور معاشی انارکی کے سوا کچھ نہیں دیا اور اصلاحِ احوال کے لیے اب قرآن کریم کی طرف نظریں اٹھ رہی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر غیر سودی بینکاری اور آئی ایم ایف

اپریل ۲۰۱۵ء

پاکستان میں سودی نظام کے حوالہ سے ایک رپورٹ

روزنامہ جنگ راولپنڈی میں ۱۹ نومبر کو شائع ہونے والی ایک خبر میں بتایا گیا ہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور ڈی ایف آئی ڈی کے تعاون سے ہونے والی ایک منفرد تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ: پاکستان میں اسلامک بینکاری کی اشد ضرورت محسوس کی جا رہی ہے اور ۹۵ فیصد عوام کا ماننا ہے کہ سود پر پابندی ہونی چاہیے اور ساتھ ہی بینکوں میں سود کے موجودہ سسٹم کو بھی ختم ہونا چاہیے۔ تحقیق میں اعتراف کیا گیا ہے کہ ملک میں اسلامی بینکاری کے موجودہ حجم سے ملک کے گھریلو اور کاروباری ضروریات پوری نہیں ہو سکتیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر پاکستان میں سودی نظام کے حوالہ سے ایک رپورٹ

دسمبر ۲۰۱۴ء

جاگیرداری نظام اور سود کا خاتمہ ۔ مذہبی جماعتوں کی ترجیحات؟

جماعت اسلامی کے امیر جناب سراج الحق نے مینار پاکستان گراؤنڈ لاہور میں منعقدہ جماعت اسلامی کے سالانہ اجتماع میں سودی نظام کے خلاف جنگ، جاگیرداری نظام کے خاتمے اور متناسب نمائندگی کی بنیاد پر انتخابات کے لیے جدوجہد کو اپنی آئندہ حکمت عملی اور جماعتی کاوشوں کا بنیادی ہدف قرار دینے کا اعلان کیا ہے۔ یہ باتیں ملک کی اکثر دینی اور محب وطن سیاسی جماعتوں کے انتخابی منشوروں میں شامل چلی آ رہی ہیں۔ اگر ۱۹۷۰ء کے الیکشن کے موقع پر پیش کیے جانے والے انتخابی منشوروں کا جائزہ لیا جائے تو ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جاگیرداری نظام اور سود کا خاتمہ ۔ مذہبی جماعتوں کی ترجیحات؟

۲۳ نومبر ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

پاکستان میں غیر سودی معاشی نظام

غیر سودی بینکاری کا ایک پہلو تو یہ ہے کہ پاکستان کے قیام کے بعد سٹیٹ بینک آف پاکستان کا افتتاح کرتے ہوئے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح مرحوم نے واضح طور پر کہا تھا کہ ہم اپنے معاشی نظام کی بنیاد مغرب کے معاشی فلسفہ پر نہیں بلکہ اسلام کے اصولوں پر رکھنا چاہتے ہیں، کیونکہ مغرب کے معاشی نظام نے انسانی سوسائٹی کو جنگوں اور تباہی سے دوچار کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی قائد اعظمؒ نے ملک کے معاشی ماہرین کو ہدایت کی تھی کہ وہ اسلامی اصولوں کے مطابق ملک کے معاشی نظام کی تشکیل کی طرف پیش رفت کریں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر پاکستان میں غیر سودی معاشی نظام

۴ جون ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

سودی نظام کے خلاف دینی حلقوں کی مشترکہ مہم

قائد اعظم محمد علیؒ جناح نے ۱۵ جولائی ۱۹۴۸ء کو کراچی میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے افتتاح کے موقع پر اپنے خطاب میں کہا تھا کہ: ’’میں نہایت اشتیاق کے ساتھ آپ کی ریسرچ فاؤنڈیشن کے تحت موجود بینکنگ نظام کو اسلامی معاشی اور معاشرتی افکار کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی سعی و کوشش کو دیکھنا چاہوں گا۔ مغرب کے معاشی نظام نے انسانیت کے لیے کچھ ناقابل حل مسائل پیدا کیے ہیں اور بظاہر یہی محسوس ہوتا ہے کہ کوئی معجزہ ہی اسے تباہی سے بچا سکتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سودی نظام کے خلاف دینی حلقوں کی مشترکہ مہم

۲۰ فروری ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

سود سے پاک معاشی نظام اور دستوری تقاضہ

روزنامہ پاکستان لاہور ۱۷ جنوری کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر جناب یاسین انور نے کہا ہے کہ پاکستان میں اسلامی بینکاری کا مستقبل روشن ہے جبکہ پچھلے چار عشروں میں عالمی سطح پر اسلامی مالیات میں بہت پیشرفت ہوئی ہے، مشرقی وسطیٰ کی روایتی اسلامی منڈیوں کے علاوہ مختلف مغربی ممالک کے مالی مراکز بھی اس متبادل مالی نظام کی قوت اور افادیت کو تسلیم کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سود سے پاک معاشی نظام اور دستوری تقاضہ

فروری ۲۰۱۴ء

سودی نظام کے خلاف جدوجہد کا فیصلہ

بانیٔ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح مرحوم نے قیام پاکستان کے فورًا بعد اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی افتتاحی تقریب میں اپنے خطاب کے دوران واضح کر دیا تھا کہ وہ پاکستان میں مغربی معاشی نظام کی بجائے اسلامی اصولوں کی روشنی میں معاشی نظام کی خواہش رکھتے ہیں، اور انہوں نے اس موقع پر اس بات کا دو ٹوک اظہار کیا تھا کہ مغربی نظام معیشت نسل انسانی کے لیے تباہی کا باعث بنا ہے اور اس سے کسی خیر کی توقع نہیں کی جا سکتی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سودی نظام کے خلاف جدوجہد کا فیصلہ

دسمبر ۲۰۱۳ء

تحریک انسداد سود پاکستان

مختلف مکاتب فکر کے علماء کرام اور دانش وروں نے پاکستانی معیشت کو اسلامی اصولوں پر استوار کرنے اور سودی نظام کے خاتمہ کے لیے ’’تحریک انسداد سود پاکستان‘‘ کے نام سے ایک مستقل فورم قائم کر لیا ہے اور نومبر کے تیسرے عشرہ سے عوامی بیداری کی مہم چلانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ ۔ ۔ اجلاس میں وفاقی شرعی عدالت میں بینک انٹرسٹ کو ربا (سود) قرار دینے کے حوالہ سے سپریم کورٹ کے فیصلے پر نظر ثانی کے کیس کا جائزہ لیا گیا اور طے پایا کہ اس کیس میں جو حضرات یا ادارے دینی حلقوں کی طرف سے فریق ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر تحریک انسداد سود پاکستان

۵ نومبر ۲۰۱۳ء

سپریم کورٹ اور سودی نظام

عدالت عظمیٰ میں دس سال کے بعد ۲۱ اکتوبر ۲۰۱۳ء کو ایک بار پھر سود کے مسئلہ پر غور شروع کر دیا گیا ہے اور جو سوالات سود کے بارے میں ازسرِنو بحث کا موضوع بن رہے ہیں ان میں سے چند اہم سوالات یہ ہیں کہ: (۱) کیا قرض اور لون (Loan) دونوں قرآن کریم کے نزدیک ہم معنٰی ہیں؟ (۲) کیا سود کے حرام ہونے کا اطلاق غیر مسلم شہریوں پر بھی کیا جائے گا اور دوسرے ملکوں سے جو قرض لیا گیا ہے اس پر اس قانون کو کیسے لاگو کیا جائے گا؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سپریم کورٹ اور سودی نظام

نومبر ۲۰۱۳ء

سود سے متعلق وفاقی شرعی عدالت کا سوال نامہ

وفاقی شرعی عدالت نے اب سے دس برس قبل بینک انٹرسٹ کو رِبٰوا (سود) قرار دے کر ملک میں رائج تمام سودی قوانین کو ختم کرنے اور متبادل نظام و قوانین تجویز کر کے انہیں نافذ کرنے کا حکومت کو آرڈر جاری کیا تھا جس کے خلاف سپریم کورٹ کے شریعت اپلیٹ بینچ میں اپیل دائر کی گئی تو اس نے بھی چند جزوی ترامیم کے ساتھ اس فیصلے کو برقرار رکھا۔ مگر جب اس کے بارے میں نظر ثانی کی اپیل دائر کی گئی تو فیصلہ صادر کرنے والے جج صاحبان فارغ ہو چکے تھے اور نئے ججوں پر مشتمل شریعت اپلیٹ بینچ نے فیصلے کی سماعت میں چند فنی کمزوریوں کا حوالہ دے کر اس کی از سرِ نو سماعت کا حکم صادر فرما دیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سود سے متعلق وفاقی شرعی عدالت کا سوال نامہ

۳۱ اکتوبر ۲۰۱۳ء

سود کے بارے میں چند گزارشات

شریعت اپیلٹ بنچ سپریم کورٹ آف پاکستان کے قابل صد احترام سربراہ اور معزز ارکان سے گزارش ہے کہ سودی نظام کے حوالے سے عدالت عظمیٰ کے تاریخی فیصلے پر نظر ثانی کا فیصلہ کرتے ہوئے اسلامی تعلیمات، جناب نبی اکرمؐ اور خلفاء راشدین کے تعامل، امت کے ہر دور کے جمہور علما وفقہا کے فیصلوں‘ قیام پاکستان کے نظریاتی مقاصد اور قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے ارشادات وتصریحات کو سامنے رکھیں اور نوآبادیاتی استحصالی نظام کے منحوس شکنجے سے مظلوم پاکستانی قوم کو نجات دلانے والے تاریخی فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سود کے بارے میں چند گزارشات

جولائی ۲۰۰۲ء

سودی نظام کا کولہو اور اس کے بیل

جہاں تک نظام کو تبدیل کرنے کی صلاحیت کا تعلق ہے ہم اس صلاحیت سے محروم نہیں ہیں، ہم تو ایک فون کال پر پورے سسٹم میں ’’یو ٹرن‘‘ لینے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور نفع و نقصان کی پرواہ کیے بغیر اسے نباہنے اور بھگتنے کا حوصلہ بھی ہمارے اندر موجود ہے۔ اس لیے بات سسٹم کو تبدیل کرنے کی صلاحیت اور اس تبدیلی کے نقصانات برداشت کرنے کے حوصلہ کی نہیں ہے بلکہ اصل بات کچھ اور ہے۔ جب تک ہم اس بات کا پوری طرح ادراک کر کے اسے گرفت میں لانے کی کوشش نہیں کریں گے نو آبادیاتی استحصالی نظام کے ’’کولہو‘‘ کے گرد اسی طرح چکر کاٹتے رہیں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سودی نظام کا کولہو اور اس کے بیل

۲۹ جون ۲۰۰۲ء

اسلام میں شخصی اور تجارتی سود دونوں حرام ہیں

حکومتی حلقے موجودہ مالیاتی نظام کے تسلسل کو ہر حال میں باقی رکھنا چاہتے ہیں اور سودی قوانین کو اسلامی قوانین میں تبدیل کرنے کے لیے قطعاً تیار نہیں ہیں۔ اس کی غمازی اٹارنی جنرل آف پاکستان کے اس بیان سے بھی ہوتی ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ ہم ایسے علماء تلاش کر رہے ہیں جو سود کا شرعی طور پر جواز پیش کر سکیں۔ اس لیے اس سلسلہ میں اب تک ہونے والے اقدامات کی روشنی میں قیاس کیا جا سکتا ہے کہ حکومت عدالت عظمیٰ سے اس فیصلہ پر عملدرآمد کو غیر معینہ مدت تک ملتوی کرانے یا کم از کم مزید مہلت حاصل کرنے میں کامیاب ہوگی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اسلام میں شخصی اور تجارتی سود دونوں حرام ہیں

۱۲ جون ۲۰۰۲ء

سود کی حیثیت رسول اللہؐ کی نظر میں

سود کے بارے میں سپریم کورٹ آف پاکستان میں بحث جاری ہے اس مناسبت سے جناب نبی اکرمؐ کے چند ارشادات پیش کیے جا رہے ہیں۔ (۱) بخاری شریف میں حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ جناب نبی اکرمؐ نے کبیرہ گناہوں میں سات بڑے گناہوں کا ذکر فرمایا اور ان میں سود کا بھی ذکر کیا کہ سات بڑے گناہوں میں سود کا لین دین بھی شامل ہے۔ (۲) بخاری شریف میں حضرت عبد اللہؓ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہؐ نے فرمایا کہ سود کھانے والوں، دینے والوں، سودی کاروبار کے گواہوں، اور سود کا معاملہ لکھنے والوں پر اللہ تعالیٰ نے لعنت فرمائی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سود کی حیثیت رسول اللہؐ کی نظر میں

۱۱ جون ۲۰۰۲ء

سودی نظام کے خاتمہ کی جدوجہد ۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ اور یونائیٹڈ بینک کی اپیل

گزشتہ اتوار کو جامعہ انوار القرآن کراچی میں پاکستان شریعت کونسل کے زیر اہتمام منعقدہ ’’علماء کنونشن‘‘ میں شرکت کے لیے گیا تو اس موقع پر دارالعلوم کراچی کے سربراہ حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی سے غیر سودی مالیاتی نظام کے سلسلہ میں تفصیلی گفتگو کا موقع ملا۔ مفتی صاحب اس کمیشن کے واحد عالم دین رکن ہیں جو سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلہ کی روشنی میں غیر سودی مالیاتی نظام کے مسودہ کی تیاری کے لیے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے سابق گورنر جناب ایم آئی حنفی کی سربراہی میں قائم کیا گیا ہے اور جس نے مسودہ قانون مرتب کر کے حکومت کے سپرد کر دیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سودی نظام کے خاتمہ کی جدوجہد ۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ اور یونائیٹڈ بینک کی اپیل

۲۷ مئی ۲۰۰۱ء

سودی نظام اور سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ

سپریم کورٹ آف پاکستان کے شریعت ایپلیٹ بینچ نے ہر قسم کے سود اور سودی کاروبار کو قرآن و سنت سے متصادم اور غیر اسلامی قرار دے کر فیصلہ دے دیا ہے کہ سود اور سودی کاروبار کے بارے میں تمام مروجہ قوانین 31 مارچ 2000ء کو خودبخود ختم ہو جائیں گے۔ جسٹس خلیل الرحمان خان، جسٹس منیر اے شیخ، جسٹس وجیہہ الدین اور جسٹس مولانا محمد تقی عثمانی پر مشتمل ایپلیٹ بینچ نے وفاقی شرعی عدالت کے فیصلہ کے خلاف متعلقہ فریقوں کی اپیلوں کی طویل سماعت کے بعد یہ تاریخی فیصلہ صادر کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سودی نظام اور سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ

۲ جنوری ۲۰۰۰ء

کراچی میں سود پر ایک سیمینار

۲۵ اپریل ۱۹۹۹ء کو جامعہ انوار القرآن آدم ٹاؤن نارتھ کراچی میں پاکستان شریعت کونسل کے زیراہتمام منعقد ہونے والا سیمینار اگرچہ سود کے موضوع پر تھا لیکن میری طرح اور بہت سے دوستوں کے لیے اس لحاظ سے خوشی کا عنوان بن گیا کہ اس میں جمعیۃ علماء اسلام کے دونوں دھڑوں اور پاکستان شریعت کونسل کے سرکردہ حضرات شریک ہوئے۔ گویا پندرہ بیس برس پہلے کی متحدہ جمعیۃ علماء اسلام کے احباب ایک جگہ جمع ہوئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر کراچی میں سود پر ایک سیمینار

۳ مئی ۱۹۹۹ء

سود کے بارے میں حضرت عمرؓ کا ایک فیصلہ

سپریم کورٹ کے شریعت بینچ میں سود پر بحث کے دوران ایک معزز جج نے یہ نکتہ اٹھایا ہے کہ سود کے حکم میں علماء یہ بیان کرتے ہیں کہ ایک جنس کا تبادلہ اسی جنس کے ساتھ کیا جائے تو بالکل برابری شرط ہے اور اس میں کمی بیشی کی کوئی صورت درست نہیں ہے۔ تو کیا جب سونے کی ڈلی کا تبادلہ سونے کے زیورات کے ساتھ کیا جائے گا تب بھی برابری ضروری ہوگی؟ ۔ ۔ ۔ گزشتہ روز حدیث نبویؐ کی کتاب ’’سنن ابن ماجہ‘‘ کے سبق میں ایک واقعہ سامنے آیا جس میں کم و بیش اسی نکتے پر امیر المومنین حضرت عمرؓ کا ایک واضح فیصلہ موجود ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سود کے بارے میں حضرت عمرؓ کا ایک فیصلہ

۸ مارچ ۱۹۹۹ء

سودی نظام اور اس کا مجوزہ متبادل سسٹم

حکومت کی درخواست میں کہا گیا ہے کہ بلاسود بینکاری کا کوئی متبادل سسٹم ابھی تک پیش نہیں کیا گیا اس لیے ملکی معیشت سے سود کو ختم کرنا عملاً مشکل ہے۔ یہ بات غلط ہے اس لیے کہ جون 1984ء میں اس وقت کے وزیرخزانہ جناب غلام اسحاق خان نے اپنی سالانہ بجٹ تقریر میں واضح طور پر اس امر کا اعلان کیا تھا کہ اسٹیٹ بینک اور قومی معاشی اداروں کی مشاورت کے ساتھ بلاسود بینکاری کا ایک جامع اور ٹھوس پروگرام طے پا چکا ہے اور اس کی بنیاد پر اگلے سال یعنی 85-1984ء کا بجٹ قطعی طور پر غیرسودی ہوگا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سودی نظام اور اس کا مجوزہ متبادل سسٹم

یکم مارچ ۱۹۹۹ء