تعارف و تبصرہ

رؤیت ہلال کا مسئلہ

رؤیت ہلال کا مسئلہ ہمارے ہاں طویل عرصہ سے بحث ومباحثہ اور اختلاف وتنازعہ کا موضوع چلا آ رہا ہے اور مختلف کوششوں کے باوجود ابھی تک کوئی تسلی بخش اجتماعی صورت بن نہیں پا رہی۔ اکابر علماء کرام کی مساعی سے حکومتی سطح پر مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی قائم ہوئی تو امید ہو گئی تھی کہ اب یہ مسئلہ مستقل طور پر طے پا جائے گا، مگر ملک کے بیشتر حصوں میں اجتماعیت کا ماحول قائم ہو جانے کے باوجود بعض علاقوں میں انفرادیت کی صورتیں ابھی تک موجود ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر رؤیت ہلال کا مسئلہ

جون ۲۰۱۷ء

مولانا ولی رازی کی تصنیف ’’ہادیٔ عالم‘‘ پر ایک نظر

کہا جاتا ہے کہ عباسی دور کے ایک معروف خطیب سحبان بن وائل اپنی زبان کی لکنت کی وجہ سے بعض حروف روانی کے ساتھ نہیں بول سکتے تھے لیکن جب وہ خطبہ کے لیے کھڑے ہوتے تو گھنٹوں بولتے چلے جاتے مگر ان کے خطاب میں وہ حروف نہیں ہوتے تھے اور ایسے حروف کو استعمال میں لائے بغیر وہ اپنا مافی الضمیر پوری مہارت اور اعتماد کے ساتھ بیان کر دیا کرتے تھے۔ اس وجہ سے ان کی خطابت و فصاحت ضرب المثل بن گئی تھی اور بڑے بڑے فصیح اللسان خطباء کو اپنے وقت کا سحبان کہا جاتا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا ولی رازی کی تصنیف ’’ہادیٔ عالم‘‘ پر ایک نظر

۶ مئی ۲۰۱۷ء

تین معاصر بزرگوں کے تصنیفی کارنامے

حضرت مولانا سمیع الحق سے ملاقات بلکہ طویل نشست ہوئی، حضرت ڈاکٹر صاحبؒ کی وفات پر تعزیت اور دعائے مغفرت کے علاوہ متعدد ملکی و قومی مسائل پر تبادلۂ خیالات ہوا اور مولانا سمیع الحق کی تصنیفی سرگرمیوں اور مساعی سے آگاہی حاصل کی۔ میں نے اس موقع پر عرض کیا کہ اپنے تین معاصر بزرگوں کی محنت دیکھ کر مجھے بے حد خوشی ہوتی ہے بلکہ رشک ہوتا ہے کہ وہ تحریری محاذ پر مستند معلومات اور تاریخ کا ایک بڑا ذخیرہ مرتب کر کے نئی نسل کے حوالے کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر تین معاصر بزرگوں کے تصنیفی کارنامے

۲۲ نومبر ۲۰۱۵ء

سرزمین جہلم کے بزرگ

10 اکتوبر کو ڈومیلی ضلع جھلم کی ایک با مقصد تقریب میں شرکت کا موقع ملا۔ ڈومیلی کا نام زبان پر آتے ہی حضرت مولانا حکیم سید علی شاہؒ کا سراپا نگاہوں کے سامنے گھوم جاتا ہے جنہوں نے اس علاقہ میں توحید و سنت کے فروغ اور رفض و بدعت کے تعاقب میں مسلسل جدوجہد کی۔ اور آج ان کی اس جدوجہد کے آثار پورے خطے میں دکھائی دے رہے ہیں۔ وہ حضرت علامہ سید محمد انور شاہ کشمیریؒ اور حضرت مولانا مفتی کفایت اللہ دہلویؒ کے شاگرد اور حکیم الامت حضرت تھانویؒ سے روحانی سلوک و تربیت کا تعلق رکھتے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سرزمین جہلم کے بزرگ

۱۵ اکتوبر ۲۰۱۵ء

گوجرانوالہ سے حضرت شیخ الہندؒ کے تلامذہ

شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ کے تلامذہ میں میری معلومات کے مطابق تین بزرگ ضلع گوجرانوالہ سے تعلق رکھتے ہیں، ان میں سے ایک کی میں نے زیارت کی ہے۔ تحصیل وزیر آباد کے گاؤں دلاور چیمہ کے ایک بزرگ حضرت مولانا ابوالقاسم محمد رفیق دلاوریؒ کا شمار حضرت شیخ الہندؒ کے تلامذہ میں ہوتا ہے اور وہ اپنی تصنیفی خدمات کے حوالہ سے علمی دنیا میں معروف ہیں۔ حنفی فقہ کے مطابق اردو زبان میں نماز کے احکام و مسائل پر ان کی کتاب ’’الصلوٰۃ عماد الدین‘‘ نے خاصی شہرت و قبولیت حاصل کی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر گوجرانوالہ سے حضرت شیخ الہندؒ کے تلامذہ

نا معلوم

شرح صحیح مسلم شریف

اس وقت میرے سامنے مولانا حقانی کی تالیف کردہ ’’شرح صحیح مسلم‘‘ کی پانچ ضخیم جلدیں ڈیسک پر پڑی ہیں جو آغاز سے کتاب الایمان تک ہیں۔ اور ان کی سرسری ورق گردانی کی سعادت حاصل کرنے کے بعد یہ سطور لکھ رہا ہوں۔ امام مسلمؒ کی ’’الجامع الصحیح‘‘ کو حدیث کی کتابوں میں امام بخاریؒ کی ’’الجامع الصحیح‘‘ کے بعد سب سے نمایاں حیثیت اور درجہ حاصل ہے۔ اور بخاری شریف کی مجموعی فوقیت کے باوجود مسلم شریف کو بعض حوالوں سے اس پر ترجیح حاصل ہے جس کا مختلف محدثین نے ذکر کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر شرح صحیح مسلم شریف

۱۱ اکتوبر ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

خانقاہ یاسین زئی اور مولانا سید محمد محسن شہیدؒ

پنیالہ ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کی خانقاہ یاسین زئی کے بارے میں میرا مبلغ علم اتنا ہی تھا کہ مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمودؒ کی زبان سے بارہا اس روحانی مرکز کا تذکرہ سنا ۔ اور اس کی عظمت دل میں بیٹھ جانے کے لیے اتنی بات ہی میرے لیے کافی تھی کہ حضرت مفتی صاحبؒ کی نیاز مندی اور رفاقت میں میری جماعتی اور سیاسی زندگی کے کئی سال گزرے ہیں اور بحمد اللہ مجھے ان کی شفقت و اعتماد کا بھرپور حصہ میسر آیا ہے۔ میں نے انہیں بے پناہ سیاسی زندگی کے دور عروج میں بھی ذاکر و شاغل اور شب زندہ دار پایا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر خانقاہ یاسین زئی اور مولانا سید محمد محسن شہیدؒ

ستمبر ۲۰۱۴ء

اسلام کا نظام حکومت ۔ تصنیفی کاوشیں

حضرت مولانا محمد میاں المعروف منصور انصاریؒ شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندیؒ کے تربیت یافتہ لوگوں میں سے تھے۔ دارالعلوم دیوبند کے فاضل اور حجۃ الاسلام حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کے نواسے تھے۔ انہوں نے مفکر انقلاب حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ کے ساتھ آزادیٔ ہند کی تحریک میں ان کے دست راست کے طور پر کام کیا۔ ہندوستان سے ہجرت کر کے وہ کابل چلے گئے تھے اور وہیں انہوں نے تحریکی جدوجہد کے تانے بانے بُنے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اسلام کا نظام حکومت ۔ تصنیفی کاوشیں

۹ جنوری ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

اسلام، جمہوریت اور پاکستان

۱۹۶۲ء کی بات ہے جب صدر محمد ایوب خان مرحوم نے مارشل لا ختم کرتے وقت نئے دستور کی تشکیل وترتیب کے کام کا آغاز کیا تھا اور پاکستان کے نام سے ’’اسلامی‘‘ کا لفظ حذف کر کے اسے صرف ’’جمہوریہ پاکستان‘‘ قرار دینے کی تجویز سامنے آئی تھی تو دینی وعوامی حلقوں نے اس پر شدید احتجاج کرتے ہوئے حکومت کو یہ تجویز واپس لینے پر مجبور کر دیا تھا۔ میری عمر اس وقت چودہ برس تھی اور میں نے بھی بحمد اللہ تعالیٰ اس جدوجہد میں اس طور پر حصہ لیا تھا کہ اپنے آبائی قصبہ گکھڑ میں نظام العلماء پاکستان کی دستوری تجاویز پر لوگوں سے دستخط کرائے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اسلام، جمہوریت اور پاکستان

دسمبر ۲۰۱۳ء

بین الاقوامی قوانین اور اسلامی تعلیمات

ڈاکٹر عامر الزمالی کی کتاب کا اردو ترجمہ اس وقت ہمارے سامنے ہے جو مختلف اصحابِ علم کے مقالات کا مجموعہ ہے۔ پروفیسر محمد مشتاق احمد نے انتہائی مہارت اور ذوق کے ساتھ اسے اردو کے قالب میں ڈھالا ہے اور آج کے دور کی ایک اہم ضرورت کو پورا کیا ہے جس پر وہ اور بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی ہم سب کی طرف سے شکریہ کے مستحق ہیں۔ بین الاقوامی قوانین و معاہدات کا اسلامی تعلیمات کی روشنی میں مطالعہ اور مطابقت و اختلاف کے پہلوؤں کی نشاندہی ہماری اس دور کی اہم ضرورت ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر بین الاقوامی قوانین اور اسلامی تعلیمات

۲ اکتوبر ۲۰۱۳ء

چند قابل تعارف کتابیں

بہت سے اصحاب قلم اپنی تصانیف بھجواتے ہیں اور ان کی خواہش ہوتی ہے کہ کسی کالم میں ان کا تذکرہ ہو جائے لیکن عملاً یہ بہت مشکل کام ہے۔ اس لیے کہ ہر کتاب کو پڑھنے اور پھر اس کے بارے میں کچھ لکھنے کے لیے ذہنی یکسوئی کے ساتھ جو وقت درکار ہوتا ہے وہ میرے لیے اب حسرت ہی کا درجہ رکھتا ہے۔ اور اس لیے بھی کہ اس کالم کا یہ موضوع نہیں ہے، کیونکہ اگر ہر کتاب پر کچھ نہ کچھ تبصرہ اور اس کے تذکرہ کا معمول بنا لیا جائے تو یہ کالم اسی کام کے لیے مختص ہو کر رہ جائے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر چند قابل تعارف کتابیں

۲۱ اگست ۲۰۱۳ء

منقبت صحابہؓ پر ایک قابل قدر کاوش

ہمارے ایک فاضل دوست مولانا ثناء اللہ سعد بھی اسی بحرِ دخار کے غوطہ زن ہیں اور وقتاً فوقتاً ان کی مختلف تحقیقی کاوشیں ہماری نظر سے گزرتی رہتی ہیں۔ انہوں نے قرآن کریم کی ہزاروں آیات کریمہ میں مختلف حوالوں سے حضرات صحابہ کرامؓ کے تذکرہ کو موضوع بحث بنایا ہے اور ’’اصحاب النبی الکریم فی آیات القرآن الحکیم‘‘ کے نام سے ایک ضخیم کتاب مرتب کی ہے جو تین جلدوں میں ہے اور دو ہزار سے زائد صفحات کو محیط ہے۔ انہوں نے ترتیب کے ساتھ قرآن کریم کی کم و بیش سب سورتوں کو سامنے رکھا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر منقبت صحابہؓ پر ایک قابل قدر کاوش

۳ جولائی ۲۰۱۳ء

تذکرہ تحریکات آزادی

ہمارے فاضل دوست مولانا شفیع اللہ چترالی نے ’’تذکرہ تحریکات آزادی‘‘ کے عنوان سے آزادی کی مختلف تحریکات کے تعارف پر مشتمل ایک جامع کتاب مرتب کی ہے جس میں انہوں نے بہت سی طویل کتابوں میں بکھری ہوئی معلومات کو اچھے ذوق اور اسلوب کے ساتھ جمع کر دیا ہے۔ میرے خیال میں ان کی یہ کتاب دینی مدارس کے اساتذہ اور طلبہ کے ساتھ ساتھ دینی جماعتوں کے کارکنوں کے لیے بھی اپنے اکابر کی قومی و ملی جدوجہد سے واقفیت کے حوالہ سے بہترین گائیڈ اور راہنما ثابت ہوگی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر تذکرہ تحریکات آزادی

۱۴ مارچ ۲۰۱۳

مشاہیر بنام مولانا سمیع الحق

مولانا سمیع الحق دارالعلوم حقانیہ کے اہتمام وتدریس کے ساتھ ساتھ امریکی ڈرون حملوں اور نیٹو سپلائی کی ممکنہ بحالی کے خلاف عوامی محاذ کی عملی قیادت کررہے ہیں جس میں انہیں ملک کے طول وعرض میں مسلسل عوامی جلسوں اور دوروں کا سامنا ہے، جبکہ قلمی محاذ پر رائے عامہ کی راہ نمائی اور دینی جدوجہد کی تاریخ کو نئی نسل کے لیے محفوظ کرنے میں بھی وہ اسی درجہ میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔ انہوں نے شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالحق رحمہ اللہ اور خود اپنے نام مشاہیر کے خطوط کو آٹھ ضخیم جلدوں میں جمع کرکے جو عظیم کارنامہ سرانجام دیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مشاہیر بنام مولانا سمیع الحق

۷ مئی ۲۰۱۲ء

چند کتابوں اور ان کے مصنفین کا تعارف

آج کا کالم چند کتابوں اور ان کے مصنفین کے تعارف کی نذر ہے: حضرت مولانا مجاہد الحسینی صاحب تحریک آزادی اور تحریک ختم نبوت کے سرگرم کارکنوں اور امیر شریعت حضرت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کے رفقاء میں سے ہیں، انہوں نے مختلف دینی و قومی مسائل پر کم و بیش پون صدی تک لکھا ہے اور اب بھی یہ سلسلہ جاری ہے۔ اس وقت ان کی ایک حالیہ تصنیف ’’رسول اللہ ﷺ کا نظام امن عالم‘‘ میرے سامنے ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر چند کتابوں اور ان کے مصنفین کا تعارف

۲۲ فروری ۲۰۱۲ء

تحفظِ ختم نبوت کی جدوجہد اور ’’احتسابِ قادیانیت‘‘

گزشتہ روز عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی راہنما مولانا اللہ وسایا نے جمعیۃ علماء اسلام (ف) پنجاب کے امیر مولانا رشید احمد لدھیانوی اور عالمی مجلس کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات مولانا عزیز الرحمان ثانی کے ہمراہ غریب خانے پر قدم رنجہ فرمایا۔ وہ ان دنوں ۱۵ دسمبر کو اسلام آباد میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی آل پارٹیز تحفظ ناموس رسالت کانفرنس کے سلسلہ میں رابطہ مہم پر ہیں اور مختلف دینی جماعتوں کے راہنماؤں کے ساتھ ملاقاتیں کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر تحفظِ ختم نبوت کی جدوجہد اور ’’احتسابِ قادیانیت‘‘

۱۳ دسمبر ۲۰۱۰ء

جامعہ اشرفیہ کی ساٹھ سالہ تقریبات کا آغاز

جامعہ اشرفیہ لاہور کی ساٹھ سالہ تقریبات کا آغاز ہو گیا ہے اور ملک بھر سے مشائخ عظام، علماء کرام، طلبہ اور دینی کارکن ہزاروں کی تعداد میں جمع ہو کر اس عظیم دینی درسگاہ اور روحانی تربیت گاہ کے ساتھ اپنی نسبت اور تعلق کا اظہار کر رہے ہیں۔ قیام پاکستان کے بعد نیلا گنبد لاہور کی جامع مسجد اور اس کے قریب ایک عمارت میں شروع ہونے والا یہ مدرسہ آج ایک عظیم درسگاہ کی صورت اختیار کر چکا ہے اور مسلم ٹاؤن میں پنجاب یونیورسٹی کے پہلو بہ پہلو نہر کے دوسرے کنارے پر جامعہ اشرفیہ بھی ایک یونیورسٹی کی آب و تاب کے ساتھ دینی علوم کی تدریس و ترویج میں مصروف کار ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جامعہ اشرفیہ کی ساٹھ سالہ تقریبات کا آغاز

۲۰۰۷ء

ماہنامہ الشریعہ کی سترہویں جلد کا آغاز

ہماری بھرپور کوشش رہی ہے کہ پیش آمدہ مسائل پر دینی حلقوں میں بحث ومباحثہ کاماحول پیدا ہو اور کسی بھی مسئلہ پر اپنا موقف پیش کرنے کے ساتھ ساتھ دوسرے فریق کا موقف اور دلائل بھی حوصلہ اور اطمینان کے ساتھ سننے اور پڑھنے کا مزاج بنے ۔ ۔ ۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں تحقیق، مطالعہ، مباحثہ اور مکالمہ کی روایت ابھی تک جڑ نہیں پکڑ سکی اور چند شخصیات کے استثنا کے ساتھ عمومی ماحول یہی ہے کہ دلائل کی روشنی میں رائے قائم کرنے کے بجائے رائے قائم کر کے اس کے لیے دلائل تلاش کیے جاتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ماہنامہ الشریعہ کی سترہویں جلد کا آغاز

جنوری ۲۰۰۶ء

علماء کشمیر اور دارالعلوم دیوبند: پروفیسر محمد یعقوب شاہق کی ’’فیض الغنی‘‘

گزشتہ اتوار کو جماعت اسلامی کے دفتر واقع لٹن روڈ لاہور کی ایک تقریب میں شرکت کا موقع ملا۔ یہ تقریب آزاد کشمیر کے مجاہد عالم دین حضرت مولانا عبد الغنی مرحوم کے سوانحی حالات اور علماء کشمیر کی جدوجہد پر پروفیسر محمد یعقوب شاہق صاحب کی ضخیم تصنیف ’’فیض الغنی‘‘ کی رونمائی کے لیے ادارہ ’’بازگشت‘‘ نے منعقد کی تھی۔ پروفیسر نصیر الدین ہمایوں اس تقریب کے صدر تھے جبکہ مجھے بطور مہمان مقرر اظہار خیال کی دعوت دی گئی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر علماء کشمیر اور دارالعلوم دیوبند: پروفیسر محمد یعقوب شاہق کی ’’فیض الغنی‘‘

۴ اپریل ۲۰۰۱ء

الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کے قیام کا پس منظر

ایک عرصہ سے خواہش تھی کہ کوئی ایسا ادارہ ہو جو درس نظامی کے فضلاء کے لیے فکری و ذہنی تربیت گاہ کے ساتھ ساتھ مطالعہ و تحقیق اور تحریر و تقریر کا تربیتی مرکز بنے۔ دینی مدارس کا موجودہ نظام جس بین الاقوامی دباؤ اور اس کے نتیجے میں ریاستی اداروں کی مداخلت کے خطرہ سے دوچار ہے اس کے پیش نظر دینی مدارس کے منتظمین کے ذہنی تحفظات کی وجہ سمجھ میں آتی ہے، اس لیے ان کے داخلی نظام میں کسی بڑی تبدیلی کی سردست کوئی توقع ہے اور نہ ہی میں خود موجودہ فضا میں اس کے حق میں ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کے قیام کا پس منظر

۸ دسمبر ۱۹۹۹ء

انٹرنیٹ کے نقارخانے میں ’’الشریعہ‘‘ کی آواز

الشریعہ کا بنیادی مقصد ایک ہی ہے اور وہ ہے ’’اسلامائزیشن‘‘۔ کیونکہ ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ انسانی معاشرہ وحی الٰہی اور آسمانی تعلیمات کی پابندی قبول کیے بغیر امن و سکون اور فلاح و کامیابی کی منزل حاصل نہیں کر سکتا۔ جبکہ آسمانی تعلیمات کا مکمل اور محفوظ ایڈیشن صرف اسلام ہے ، اس لیے جلد یا بدیر انسانی سوسائٹی کو اسلامی تعلیمات و احکام کے نفاذ کی طرف آنا ہوگا کہ اس کے علاوہ نسل انسانی کے پاس کوئی دوسرا آپشن موجود نہیں ہے۔ چنانچہ الشریعہ اسی حقیقت کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کی جدوجہد میں مصروف ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر انٹرنیٹ کے نقارخانے میں ’’الشریعہ‘‘ کی آواز

۹ جنوری ۱۹۹۹ء

برطانیہ کا ایک دینی ادارہ: جامعہ الہدٰی نوٹنگھم

گزشتہ روز برطانیہ کے شہر نوٹنگھم میں مسلمان بچیوں کے ایک تعلیمی ادارہ ’’جامعۃ الہدٰی‘‘ کے اجلاس میں شرکت کا موقع ملا جس میں ان بچیوں کے لیے دو سالہ تعلیمی نصاب کا خاکہ تجویز کیا گیا ہے جو سولہ سال کی عمر تک سرکاری مدارس میں لازمی تعلیم کے مرحلہ سے گزر کر سکول و کالج کی مزید تعلیم کی متحمل نہیں ہوتیں اور ان کے والدین چاہتے ہیں کہ یہ نوجوان بچیاں سکول و کالج کے مخلوط و آزاد ماحول سے محفوظ رہنے کے ساتھ ساتھ کچھ دینی تعلیم بھی حاصل کر لیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر برطانیہ کا ایک دینی ادارہ: جامعہ الہدٰی نوٹنگھم

۱۷ جون ۱۹۹۷ء

’’دروس الحدیث‘‘

اس وقت ہمارے سامنے ’’دروس الحدیث‘‘ کی تین جلدیں ہیں جو ’’مسند امام احمد بن حنبلؒ‘‘ کی ساڑھے چھ سو سے زائد روایات پر مشمل ہیں جبکہ ان کی مجموعی ضخامت ایک ہزار صفحات کے لگ بھگ ہے۔ یہ تینوں جلدیں عمدہ کتابت و طباعت اور مضبوط جلد کے ساتھ مزین ہیں۔ حضرت صوفی صاحب مدظلہ کا اندازِ بیان عام مجالس میں سادہ اور عام فہم ہوتا ہے اور ان کی کوشش ہوتی ہے کہ دقیق علمی اور تحقیقی مباحث سے گریز کرتے ہوئے سامعین کو زندگی کے مختلف شعبوں کے بارے میں مسائل و احکام ذہن نشین کرائے جائیں، یہ رنگ دروس الحدیث میں بھی جھلکتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ’’دروس الحدیث‘‘

فروری مارچ ۱۹۹۵ء

ماہنامہ الشریعہ گوجرانوالہ کا آغاز

یہ جنگ سیکولرازم کے نام پر انسانی اجتماعیت کو مذہب سے لاتعلق قرار دینے، اور اجتہاد مطلق کے نام پر نئی اور من مانی تعبیر و تشریح کے ذریعہ دین کو اپنے نظریات و مقاصد کے سانچے میں ڈھالنے کے دو محاذوں پر جاری ہے۔ اور اسی نظریاتی اور فکری معرکہ میں اہل حق کی خدمت اور ترجمانی کے لیے ’’الشریعہ‘‘ اپنے سفر کا آغاز کر رہا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ اس فکری و نظریاتی جہاد میں الشریعہ کو اہل فکر و نظر کی سرپرستی حاصل رہے گی اور اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور احباب کے تعاون سے الشریعہ دین و قوم کی بہتر خدمت کر سکے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ماہنامہ الشریعہ گوجرانوالہ کا آغاز

اکتوبر ۱۹۸۹ء

دارالعلوم مدنیہ ڈسکہ

گوجرانوالہ اور سیالکوٹ کے وسط میں واقع ڈسکہ ملک کے اہم صنعتی مراکز میں شمار ہوتا ہے جہاں زرعی مشینری کے آلات اور لوہے کی الماریوں کی صنعت نے خاصی ترقی کی ہے، اس کے علاوہ یہ شہر ہسپتالوں کے لیے بھی مشہور ہے۔ اور اس کی شہرت کا ایک اور بھی باعث ہے اور وہ ہے بین الاقوامی شہرت کے قادیانی لیڈر آنجہانی ظفر اللہ خان ڈسکہ کے رہنے والے تھے اور آج بھی ان کا بیشتر خاندان ڈسکہ میں رہائش پذیر ہے۔ چوہدری ظفر اللہ خان کو قیام پاکستان سے قبل سرکاری حلقوں میں خاصی اہمیت حاصل تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دارالعلوم مدنیہ ڈسکہ

۸ مئی ۱۹۸۷ء

جامعہ انوار القرآن، نارتھ کراچی

حضرت الامیر مولانا محمد عبد اللہ درخواستی دامت برکاتہم کو اللہ رب العزت نے علم حدیث کے خصوصی شغف کے ساتھ ساتھ دینی مدارس کے قیام اور سرپرستی کا جو ذوق عطا فرمایا ہے اس کے مظاہر ملک کے مختلف حصوں میں بے شمار چھوٹے بڑے مدارس کی صورت میں نظر آتے ہیں، جن مدارس کے قیام کی تحریک حضرت درخواستی مدظلہ کی طرف سے ہوئی یا عملی سرپرستی کرتے ہوئے حضرت مدظلہ نے لوگوں کو ان مدارس کی معاونت کی ترغیب دلائی۔ چنانچہ حضرت مدظلہ کی سرپرستی میں کام کرنے والے دینی مدارس کی تعداد بلاشبہ سینکڑوں سے متجاوز ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جامعہ انوار القرآن، نارتھ کراچی

۲۴ اپریل ۱۹۸۷ء

جمعیۃ علماء ہند پر ایک دستاویزی کتاب

محترمہ پروین روزینہ صاحبہ نے ’’جمعیۃ علماء ہند‘‘ کو اپنی جستجو اور تحقیقی تگ و دو کا عنوان بنایا ہے۔ انہوں نے کئی برسوں کی مسلسل محنت اور تلاش کے بعد جمعیۃ علماء ہند سے متعلق اہم دستاویزات کو جمع کر کے انہیں دو جلدوں میں شائع کرنے کا اہتمام کیا ہے۔ اس وقت ان کی کتاب ’’جمعیۃ علماء ہند‘‘ کی جلد اول ہمارے سامنے ہے جو پانچ سو سے زائد صفحات پر مشتمل ہے اور اس میں مصنفہ نے ۱۹۱۹ء سے ۱۹۴۵ء تک جمعیۃ کے آٹھ مرکزی اجلاسوں کے فیصلے، قراردادیں، خطبہ ہائے صدارت، خطبہ ہائے استقبالیہ اور دیگر ضروری تفصیلات کو یکجا کر دیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جمعیۃ علماء ہند پر ایک دستاویزی کتاب

یکم جنوری ۱۹۸۲ء