تاثر و مشاہدہ

گولڑہ شریف اور بگھار شریف

عید الاضحیٰ سے قبل چھٹیوں کے دو دن اسلام آباد میں گزرے۔ 28 اگست کو مولانا سمیع الحق کی طلب کردہ آل پارٹیز کانفرنس میں حاضری کا وعدہ تھا، جامعہ نصرۃ العلوم میں اسباق پڑھا کر ظہر تک جامعہ رحمانیہ ماڈل ٹاؤن ھمک اسلام آباد پہنچا اور نمازِ ظہر کے بعد مسجد میں قربانی کی اہمیت کے حوالہ سے ایک نشست میں گفتگو کی۔ پھر مولانا حافظ سید علی محی الدین کے ہمراہ آل پارٹیز کانفرنس میں شریک ہوا جس کی مختصر رپورٹ گزشتہ کالم میں ذکر کر چکا ہوں ۔ ۔ ۔

۸ ستمبر ۲۰۱۷ء

ہزارہ کا سفر اور صفہ اکیڈمی مانسہرہ کا منصوبہ

صفہ اکیڈمی کا یہ طریق کار مجھے بہت پسند آیا بلکہ حضرت مولانا قاضی زاہد الحسینیؒ کی ایک پرانی تجویز یاد آگئی کہ بڑے دینی مدارس کو اپنی اقامت گاہوں میں ایسے بچوں کے لیے بھی کمرے تعمیر کرنے چاہئیں جن کے والدین ان کے تعلیمی اخراجات برداشت کرنے کی توفیق نہ رکھتے ہوں۔ وہ تعلیم تو سکولوں اور کالجوں میں حاصل کریں مگر دینی ماحول اور اخراجات کی کفالت ساتھ ساتھ ضروری دینی تعلیم کا ان کے لیے انتظام کر دیا جائے۔ یوں وہ قومی زندگی کے جس شعبے میں جائیں گے ایک فرض شناس مسلمان کے طور پر جائیں گے اور اپنے مدرسہ و مسلک کے نمائندہ بھی ہوں گے ۔ ۔ ۔

یکم نومبر ۲۰۱۶ء

شخصیت پر نام کے اثرات !

جہاز کی کپتان محترمہ کیپٹن عائشہ رابعہ کی طرف سے اعلان ہوا کہ جہاز اتارنے کے لیے لاہور کا موسم سازگار نہیں ہے اس لیے اگر مناسب موقع نہ ملا تو ہم کراچی واپس چلے جائیں گے۔ میں پہلے ہی اپنے طے شدہ شیڈول سے لیٹ ہوگیا تھا، جبکہ میرے لیے طے شدہ پروگرام میں گڑبڑ سب سے مشکل مسئلہ ہوتی ہے، اس لیے پریشانی ہوئی کہ ایک دن اور لیٹ ہو جاؤں گا۔ دل میں کئی بار خیال آیا کہ کیپٹن عورت ذات ہے شاید رسک نہ لے۔ پھر خیال آیا کہ نام عائشہ ہے ممکن ہے ہمت کر ہی لے۔ اسی شش و پنج میں کم و بیش نصف گھنٹہ تک جہاز فضا میں بادلوں کے اوپر چکر کاٹتا رہا ۔ ۔ ۔

۵ جولائی ۲۰۱۶ء

حج کے انتظامات کے متعلق کچھ تجاویز

حج کا سفر صبر و مشقت کا سفر ہوتا ہے اور اس کا اجر و ثواب بھی بقدر مشقت بتایا گیا ہے، اس لیے ایسے معاملات میں شکوہ و شکایت کا کوئی موقع و محل نہیں بنتا۔ البتہ جن امور کا تعلق اجتماعی نظم سے ہے ان کا تذکرہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔ یہ بات منطقی اور اصولی ہے کہ حج کے انتظامات کرنے والی اتھارٹی اپنے فقہی مسلک اور ترجیحات کے مطابق ہی انتظامات کرے گی ۔ ۔ ۔

۱۰ اکتوبر ۲۰۱۵ء

میری صحافتی زندگی

صحافتی زندگی میں میری باضابطہ انٹری ستمبر 1965ء میں ہوئی جب میں نے گکھڑ میں روزنامہ وفاق لاہور کے نامہ نگار کے طور پر کام شروع کیا۔ 6 ستمبر کو جنگ کے پہلے مرحلہ میں ہی صبح نماز کے وقت گکھڑ ریلوے اسٹیشن پر بھارتی فضائیہ کے طیاروں نے بمباری کی جس میں ہمارے ایک دوست صفدر باجوہ شہید ہوگئے۔ وہ ریلوے اسٹیشن کی دوسری جانب اپنے کھیتوں کی طرف جا رہے تھے کہ بھارتی طیارے کی بمباری کا نشانہ بن گئے۔ میں نے اس واقعہ پر ایک فیچر لکھا جو روزنامہ وفاق لاہور میں شائع ہوا تھا ۔ ۔ ۔

۳ ستمبر ۲۰۱۵ء

مادرِ علمی جامعہ نصرۃ العلوم

جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کا آغاز 1952ء میں ہوا تھا جب چچا محترم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ نے اس کی بنیاد رکھی۔ تھوڑے عرصہ کے بعد حضرت والد محترم مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ بھی ساتھ شامل ہوگئے۔ اہل علم اور اہل خیر میں سے بہت سے سرکردہ حضرات ان کے شریک کار بنے اور یہ قافلہ چلتے چلتے ایک ایسے علمی، مسلکی اور فکری مرکز کی صورت اختیار کر گیا جس کا تعارف اور فیض صرف پاکستان اور جنوبی ایشیا تک محدود نہیں ہے بلکہ مشرق بعید، مشرق وسطیٰ، وسطی ایشیا، یورپ، امریکہ اور افریقہ کے بہت سے ممالک میں ۔ ۔ ۔

۲۳ جولائی ۲۰۱۵ء

تمغۂ امتیاز

گزشتہ ۲۳ مارچ کو میں نے زندگی میں دوسری بار شیروانی پہنی۔ اس سے قبل شادی کے موقع پر ۲۵ اکتوبر ۱۹۷۰ء کو شیروانی پہنی تھی جو حضرت والد محترم رحمہ اللہ تعالیٰ نے بطور خاص میری شادی کے لیے سلوائی تھی۔ خود میرے ساتھ بازار جا کر ٹیلر ماسٹر کو ناپ دلوایا تھا اور ایک قراقلی ٹوپی بھی خرید کر دی تھی۔ یہ دونوں شادی کے دن میرے لباس کا حصہ بنیں۔ قراقلی تو میں اس کے بعد بھی ایک عرصہ تک خاص تقریبات میں پہنتا رہا ہوں لیکن شیروانی دوبارہ پہننے کا حوصلہ نہیں ہوا ۔ ۔ ۔

۲۶ مارچ ۲۰۱۵ء

ڈاکٹر خالد محمود سومرو کا قتل اور کیپٹن صفدر کے خیالات

ڈاکٹر خالد محمود سومرو شہید کے المناک قتل کا درد ملک بھر کے بیشتر حلقوں میں یکساں طور پر محسوس کیا گیا ہے، اور ہر سطح پر اس کا اظہار ہوا ہے۔ قومی اسمبلی کے متعدد معزز ارکان نے یکم دسمبر کو ایوان میں اس المناک سانحہ پر اپنے جذبات کا اظہار کیا، جبکہ وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کے داماد اور مانسہرہ سے قومی اسمبلی کے رکن کیپٹن صفدر نے اس دکھ کو جس انداز میں پیش کیا ہے اس میں اس سلسلہ میں قومی اضطراب کی جھلک دیکھی جا سکتی ہے ۔ ۔ ۔

۶ دسمبر ۲۰۱۴ء

مولانا سعید احمد عنایت اللہ سے ملاقات

26 اکتوبر کو سیالکوٹ چھاؤنی میں سیرت اسٹڈی سنٹر کے ایک پروگرام میں حاضری ہوئی تو وہاں ہمارے محترم دوست جناب محمد اعجاز رتو نے بتایا کہ مولانا سعید احمد عنایت اللہ صاحب مکہ مکرمہ سے تشریف لائے ہوئے ہیں اور وہ ان سے مل کر آرہے ہیں۔ میں نے موقع غنیمت سمجھا اور ان سے عرض کیا کہ پروگرام کے بعد میں بھی مولانا موصوف سے ملنا چاہوں گا۔ انہوں نے رابطہ کیا تو ملاقات کا وقت طے ہوگیا اور ہم اس کے مطابق عصر کے وقت ان کے گاؤں میں حاضر ہوگئے ۔ ۔ ۔

۶ نومبر ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

خوشی اور غم

صدارتی ایوارڈز کی اس فہرست میں ڈاکٹر محمد شکیل اوج صاحب بھی شامل تھے اور ان کی شہادت کا غم تمغۂ امتیاز ملنے کی خوشی پر ہزاروں گنا بھاری ہے۔ اس لیے دوستوں سے گزارش ہے کہ وہ مجھے کوئی مبارک باد دینے کی بجائے ڈاکٹر صاحب مرحوم کے لیے دعا کریں کہ اللہ رب العزت انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام سے نوازیں، اور اپنے مذموم مقاصد کے لیے معصوم مذہبی جذبات کے شرمناک استعمال کے خوگر حضرات کو ہدایت عطا فرمائیں، آمین یا رب العالمین ۔ ۔ ۔

۲۷ ستمبر ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

چنیوٹ اور سرگودھا میں داخلہ پر پابندی

چنیوٹ اور سرگودھا کے اضلاع میں میرے ساتھ متعدد بار یہ واقعہ پیش آچکا ہے کہ تحریک ختم نبوت کے سلسلہ میں کسی اجتماع میں شرکت کے لیے جاتا ہوں تو پابندی کا سامنا کرنا پڑ جاتا ہے۔ گزشتہ سے پیوستہ سال سرگودھا شہر میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی ختم نبوت کانفرنس میں شرکت کے لیے سرگودھا پہنچ چکا تھا اور مولانا محمد الیاس گھمن کے مرکز اہل سنت میں تھوڑی دیر کے لیے رکا ہوا تھا کہ وہیں پیغام آگیا کہ ضلعی پولیس نے چند مقررین کے خطابات سے منع کر دیا ہے جس میں میرا نام بھی شامل ہے ۔ ۔ ۔

۱۵ جنوری ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

نفاذ شریعت کی پر امن جدوجہد اور مولانا سمیع الحق

اگلے روز نئے سال کے پہلے دن کی اخبار میں یہ خبر پڑھ کر اس امید کے بر آنے کی کچھ آس لگ گئی ہے کہ وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے جمعیۃ علماء اسلام (س) پاکستان کے امیر مولانا سمیع الحق سے تفصیلی ملاقات کر کے طالبان کے ساتھ مجوّزہ مذاکرات کے بارے میں ان سے گفتگو کی ہے اور انہیں یہ ذمہ داری سونپی ہے کہ وہ پاکستانی طالبان کے ساتھ حکومت کے مذاکرات کا ماحول پیدا کرنے کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں اور مذاکرات کی طرف پیش رفت میں کردار ادا کریں ۔ ۔ ۔

۴ جنوری ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

شہداء کا مشن جاری رکھنے کی ضرورت

اس موقع پر میں نے گزارش کی کہ شہداء راولپنڈی اور مولانا شمس الرحمن معاویہؓ کو خراج عقیدت پیش کرنے کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ ان کی قربانیاں جس مقصد کے لیے ہوئی ہیں اس پر توجہ دی جائے اور ان کے مشن کو جاری رکھنے کی محنت کی جائے۔ میں نے عرض کیا کہ سنی شیعہ کشیدگی کا دائرہ دن بدن پھیلتا جا رہا ہے اور اس کی سنگینی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کے حل کی طرف فوری توجہ کی ضرورت ہے، میرے خیال میں پاکستان میں سنی شیعہ تنازعات کے اسباب بنیادی طور پر تین ہیں ۔ ۔ ۔

۲۶ دسمبر ۲۰۱۳ء

مہتمم دارالعلوم دیوبند مولانا ابوالقاسم نعمانی کے ساتھ

جوہانسبرگ میں مولانا محمد ابراہیم پانڈور کی رہائش گاہ پر دارالعلوم دیوبند کے مہتمم حضرت مولانا ابوالقاسم نعمانی کے ساتھ نشست کی باتیں ادھوری رہ گئی تھیں، ان کا مکمل کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے۔ مولانا نعمانی کی اس بات کا تذکرہ ہو رہا تھا کہ بڑے بزرگوں کے جانے پر بعد والے لوگوں میں ان کی خصوصیات تلاش کرنا ضروری نہیں ہوتا۔ اس پر مولانا مفتی محمد اسماعیل نے کہا کہ اللہ تعالیٰ ہر دور کے لیے اس کی ضروریات اور تقاضوں کے مطابق صلاحیتوں کے ساتھ لوگوں کو کھڑا کرتا ہے اور چونکہ دین نے قیامت تک باقی رہنا ہے اس لیے یہ تسلسل بھی باقی رہے گا ۔ ۔ ۔

۳ دسمبر ۲۰۱۳ء

مظفر آباد میں ایک دن

مقامی اخبارات میں ایک خبر نظر سے گزری کہ دو روز قبل مظفر آباد میں توہین رسالتؐ کے ایک مبینہ واقعہ پر فساد ہوتے ہوتے رہ گیا ہے اور مقامی علماء کرام نے اس فساد کو رکوانے کے لیے اہم کردار ادا کیا ہے جس پر پریس نے انہیں خراج تحسین پیش کیا۔ تفصیل معلوم کی تو پتہ چلا کہ ایک چینی کمپنی کے چینی ملازم نے اپنی رہائش تبدیل کی اور اس کا سامان جب کمرے سے نکالا جا رہا تھا تو قرآن کریم کا ایک نسخہ زمین پر گر گیا جس پر کچھ لوگوں نے اردگرد سے بہت سے لوگوں کو یہ کہہ کر جمع کر لیا کہ قرآن کریم کی توہین کی گئی ہے ۔ ۔ ۔

۲۴ مئی ۲۰۱۳ء

میٹرو بس لاہور کا ایک سفر

گوجرانوالہ سے ویگن پر شاہدرہ پہنچا اور وہاں سے میٹرو بس کے اسٹیشن سے سوار ہونے کی ترتیب بنائی، اکیلا ہی سفر کر رہا تھا جیسا کہ میرا عام معمول ہے، میٹرو اسٹیشن پر مسافروں کی لمبی لائن دیکھ کر کچھ الجھن سی ہوئی مگر برقی سیڑھی کو عبور کر کے لائن میں لگنے کا حوصلہ کر ہی لیا۔ مجھے لائن میں کھڑا دیکھ کر عملے کا ایک نوجوان آگے بڑھا اور کہا کہ آپ لائن میں کھڑے نہ ہوں آگے سیدھے کاؤنٹر پر چلے جائیں، آپ کو براہ راست ٹکٹ مل جائے گا۔ میں ساری لائن کراس کر کے کھڑکی کے پاس پہنچا ۔ ۔ ۔

۱۵ اپریل ۲۰۱۳ء

مسلمانوں کے اختلافات: مورس عبد اللہ کے تاثرات

مورس نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ وہ کسی مسلمان کی دعوت پر مسلمان نہیں ہوا اور نہ ہی کسی مسلمان کو دیکھ کر اور اس سے متاثر ہو کر مسلمان ہوا ہے، وہ صرف اور صرف قرآن کریم کے مطالعہ سے مسلمان ہوا ہے۔ بلکہ دوسرے جن نومسلموں کو وہ جانتا ہے، ان میں سے کوئی بھی کسی مسلمان کی دعوت پر یا اس سے متاثر ہو کر مسلمان نہیں ہوا، سب کے سب قرآن کریم پڑھ کر مسلمان ہوئے ہیں۔ البتہ مسلمان ہونے کے بعد مسلمانوں نے ان نومسلموں کو الجھایا ضرور ہے ۔ ۔ ۔

جون ۲۰۰۸ء

برطانیہ کے نومسلم مورس عبد اللہ سے ملاقات

میں اس وقت اسکاٹ لینڈ کے دارالحکومت ایڈنبرا کے قریب ایک بستی ڈنز میں اپنے بھانجے ڈاکٹر سبیل رضوان کے گھر میں بیٹھا یہ سطور لکھ رہا ہوں۔ اس سے قبل دو روز میں نے گلاسگو میں گزارے اور مختلف احباب سے ملاقات کے علاوہ دو تین اجتماعات سے خطاب بھی کیا۔ ۶ اپریل کی شب ڈاکٹر رضوان مجھے گلاسگو سے لے کر گھر پہنچے تو رات کے دو بج چکے تھے اور میرا پروگرام یہ تھا کہ ظہر تک کا وقت ان کے پاس گزار کر واپس گلاسگو جاؤں گا تاکہ شام نو بجے برمنگھم کے لیے فلائٹ پکڑ سکوں جس کے لیے میں نے سیٹ بک کروا رکھی تھی ۔ ۔ ۔

۲۴ مئی ۲۰۰۸ء

ڈاکٹر یوگندر سکند کے خیالات

بھارت کے معروف دانشور ڈاکٹر یوگندر سکند گزشتہ دنوں پاکستان آئے، چند روز لاہور میں قیام کیا، حیدر آباد اور دیگر مقامات پر بھی گئے ۔ ۔ ۔ ان کے والد سکھ تھے اور والدہ کا تعلق ہندو خاندان سے ہے۔ خود اپنے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ وہ خدا کی ذات پر یقین رکھتے ہیں اور انسانی سوسائٹی کے لیے مذہب کے رفاہی پہلوؤں کے قائل ہیں، مگر خود کو کسی خاص مذہب کے دائرے میں پابند نہیں سمجھتے، البتہ ان کے مطالعہ وتحقیق اور تحریروں کا سب سے زیادہ موضوع مسلمان ہیں اور انہوں نے اب تک جو کچھ لکھا ہے، زیادہ تر اسی حوالے سے لکھا ہے ۔ ۔ ۔

فروری ۲۰۰۶ء

محکمہ ڈاک اور پی آئی اے کی ’’حسن کارکردگی‘‘

محکمہ ڈاک اور پی آئی اے کے بارے میں اپنی ان تازہ شکایتوں کا قارئین سے تذکرہ تو کر دیا ہے مگر یہ بات سمجھ میں نہیں آرہی کہ باضابطہ شکایت کس سے کروں؟ جی چاہتا ہے کہ یہ شکایت امریکی سفیر محترمہ کرسٹینا روکا سے کروں کہ وہ ان دنوں ہماری ’’وزیر امور ہند‘‘ ہیں۔ ان سے یہ عرض کرنے کو جی چاہتا ہے کہ ہم پر انگریزوں نے بھی ڈیڑھ دو سو برس حکومت کی ہے اور آزادی اور خودمختاری کے لیے ان سے ہماری کشمکش جاری رہتی تھی مگر محکمانہ نظام اور سرکاری ملازمین کی کارکردگی کا معیار انہوں نے قائم رکھا ہوا تھا جسے اب تک یہاں کے لوگ یاد کرتے ہیں ۔ ۔ ۔

۶ جولائی ۲۰۰۵ء

حضرت مولانا حافظ نذیر احمد

گزشتہ دنوں ملک کے معروف دینی ادارہ جامعہ ربانیہ پھلور ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ کی سالانہ تقریب میں حاضری کا موقع ملا اور شیخ الحدیث حضرت مولانا حافظ نذیر احمد مدظلہ کی زیارت و ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ حضرت مولانا حافظ نذیر احمد میرے والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر دامت برکاتہم کے دورۂ حدیث کے ساتھیوں میں سے ہیں اور تقریباً ساٹھ سال سے پھلور ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ کے علاقہ میں دینی و تعلیمی خدمات میں مصروف ہیں۔ نابینا ہیں لیکن قرآن و حدیث کے علوم پر اس قدر دسترس رکھتے ہیں جو بڑے بڑے اساتذہ کے لیے قابل رشک ہے ۔ ۔ ۔

۲۸ اگست ۲۰۰۴ء

مولانا طارق جمیل کا مدرسہ الحسنینؓ

مولانا طارق جمیل کو گزشتہ روز ایک نئے روپ میں دیکھا تو دل سے دعا نکلی کہ اللہ تعالیٰ انہیں اس مشن اور پروگرام میں کامیابی اور ثمرات سے بہرہ ور فرمائیں، آمین۔ مولانا موصوف کا تعلق تلمبہ خانیوال کے ایک کھاتے پیتے زمیندار گھرانے سے ہے۔ تبلیغی جماعت سے تعلق قائم ہوا تو اس میں اس رفتار سے آگے بڑھے کہ اسی کے ہو کر رہ گئے۔ مولانا دعوت و تبلیغ کے عمل سے وابستہ ہوئے تو تنہا تھے کہ خاندان میں کوئی اس کار خیر پر شاباش دینے والا نہیں تھا لیکن یہ ان کی استقامت اور جہد مسلسل کا ثمر ہے کہ اب پورا خاندان بلکہ پورا علاقہ اس نیک عمل میں ان کا دست و بازو ہے ۔ ۔ ۔

۲۳ جون ۲۰۰۳ء

سینٹ کے حالیہ انتخابات اور ماضی کا ایک ذاتی تجربہ

اسلام آباد اور فاٹا سے سینٹ کے بارہ ارکان کے انتخاب کے ساتھ ہی پارلیمنٹ کے انتخاب کا عمل مکمل ہوگیا ہے اور سینٹ میں مختلف سیاسی جماعتوں کی طرف سے آنے والی اہم شخصیات کو سامنے رکھتے ہوئے ملک کے معروف دانشور اور ماہر قانون ایس ایم ظفر نے، جو خود بھی (ق) لیگ کی طرف سے سینیٹر منتخب ہوئے ہیں، یہ تبصرہ کیا ہے کہ ’’موجودہ سینٹ پاکستان کا تھنک ٹینک ثابت ہوگا‘‘۔ ویسے بھی مالیاتی اختیارات میں کوئی حصہ نہ ہونے کی وجہ سے سینٹ کی عملی پوزیشن ’’تھنک ٹینک‘‘ جیسی ہی ہے ۔ ۔ ۔

۳ مارچ ۲۰۰۳ء

گوجرانوالہ، ہنر مندوں اور کاریگروں کا شہر

گوجرانوالہ میں بننے والی اشیاء اور مصنوعات کی نمائش ۱۵ فروری سے ۴ مارچ تک گلشن اقبال پارک میں ’’میڈ اِن گوجرانوالہ صنعتی نمائش‘‘ کے نام سے جاری رہی۔ مطبوعہ پروگرام میں ۵ مارچ کا دن بھی شامل تھا اور میں نے اسی کے مطابق آخری روز نمائش میں جانے کا پروگرام اپنے شیڈول میں شامل کر لیا تھا کہ نمائش دیکھنے کے ساتھ ساتھ اس کی مجموعی سرگرمیوں سے بھی آگاہی ہو جائے گی اور اس کے بعد آسانی سے کچھ گزارشات اپنے قارئین کے لیے قلمبند کر سکوں گا ۔ ۔ ۔

۱۴ مارچ ۲۰۰۱ء

ڈاکٹر عبید اللہ غازی سے ملاقات

دوسرا مسئلہ آج کے عالمی ماحول اور ضروریات کے لیے علماء کرام اور اسکالرز تیار کرنے کا ہے جس کا ہمارے ہاں بہت بڑا خلاء ہے اور بدقسمتی سے اس خلاء کو پر کرنے یا کم کرنے کی ضرورت تک محسوس نہیں کی جا رہی۔ ڈاکٹر صاحب کا کہنا ہے کہ ہمیں ایسے علماء کی ضرورت ہے جو آج کے فکری چیلنجز اور معاصر افکار و نظریات کو سمجھتے ہوں، ان کا تقابلی مطالعہ رکھتے ہوں، دنیا میں مروج مذاہب سے واقفیت رکھتے ہوں، انگلش و دیگر عالمی زبانوں میں گفتگو اور تحریر کی صلاحیت رکھتے ہوں، اور ابلاغ عامہ کے جدید ترین ذرائع کے استعمال کی صلاحیت سے بہرہ ور ہوں ۔ ۔ ۔

۱۸ نومبر ۲۰۰۰ء

حرکۃ المجاہدین کا طلبہ سیمینار

کراچی میں حرکۃ المجاہدین کے زیراہتمام منعقد ہونے والے ’’طلباء سیمینار‘‘ میں شرکت کے لیے ۱۳ ستمبر کو رات مولانا اللہ وسایا قاسم اور سید سلمان گیلانی کے ہمراہ کراچی پہنچا تو ایئرپورٹ پر ہی اطلاع مل گئی تھی کہ انتظامیہ نے نشتر پارک میں حرکۃ المجاہدین کو سیمینار منعقد کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے اور نشتر پارک کو پولیس کی گاڑیوں نے گھیرے میں لے رکھا ہے تاکہ حرکۃ کے نوجوان وہاں سیمینار کے انتظامات نہ کر سکیں ۔ ۔ ۔

۲۴ ستمبر ۲۰۰۰ء

ایک اور ’’زاہد الراشدی‘‘

مرزا غلام نبی جانباز مرحوم تحریک آزادی کے ان کارکنوں میں سے تھے جنہوں نے فرنگی استعمار کے تسلط کے خلاف جدوجہد آزادی میں اپنا بہت کچھ قربان کر دیا اور اپنے خون سے آزادی کی شمع روشن کی۔ ان کا تعلق مجلس احرار اسلام سے تھا، وہ ایک انقلابی شاعر کےطور پر کاروانِ آزادی کے حدی خوان تھے اور انہوں نے ایثار و قربانی کے دیگر کٹھن مراحل کے علاوہ اپنی جوانی کے تقریباً چودہ برس آزادی کی خاطر جیلوں کی نذر کیے۔ عام حلقوں میں جانباز مرزا کے نام سے متعارف تھے اور ماہنامہ تبصرہ کے نام سے لاہور سے ایک رسالہ شائع کیا کرتے تھے ۔ ۔ ۔

۱۳ ستمبر ۲۰۰۰ء

طالبان کی اسلامی حکومت اور ڈاکٹر جاوید اقبال

معاصر قومی اخبار روزنامہ نوائے وقت نے یہ خوشگوار انکشاف کیا ہے کہ فرزند اقبالؒ ڈاکٹر جاوید اقبال نے گزشتہ دنوں افغانستان کا دورہ کیا ہے اور واپسی پر اکوڑہ خٹک میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے طالبان کے اسلامی انقلاب کی تعریف کی ہے اور اسے ایک کامیاب انقلاب قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جس طرح طالبان نے افغانستان میں امن قائم کیا آج کے دور میں اور کوئی نہیں کر سکتا۔ ڈاکٹر جاوید اقبال نے اس ارادے کا اظہار کیا ہے کہ وہ پاکستان میں طالبان اور ان کے طرزِ حکومت کے بارے میں پائی جانے والی غلط فہمیوں کے ازالہ کے لیے آواز اٹھائیں گے ۔ ۔ ۔

۱۳ اپریل ۲۰۰۰ء

مولانا محمد عیسیٰ منصوری کی پاکستان آمد

مولانا محمد عیسیٰ منصوری کا تعلق انڈیا کے صوبہ گجرات سے ہے، فاضل اور دانش ور عالم دین ہیں، صاحب قلم ہیں اور عالم اسلام کے اجتماعی مسائل پر گہری نظر رکھتے ہیں، گزشتہ ۲۵ سال سے لندن میں مقیم ہیں۔ ۱۹۹۲ء میں راقم الحروف اور مولانا منصوری دونوں نے مل کر دوسرے رفقاء کے ہمراہ ورلڈ اسلامک فورم کی بنیاد رکھی تھی، پانچ سال تک راقم الحروف چیئرمین اور مولانا موصوف سیکرٹری جنرل رہے، اب دو سال سے وہ چیئرمین ہیں اور میں ان کی مجلس عاملہ کا رکن ہوں ۔ ۔ ۔

۲۳ نومبر ۱۹۹۹ء

’’پاکستان بنانے کا گناہ‘‘ اور مولانا مفتی محمودؒ

مولانا مفتی محمودؒ نے جمعیۃ علماء اسلام کی مرکزی مجلس شوریٰ میں ان مذاکرات کی تفصیل بیان کرتے ہوئے بتایا کہ وہ اور خان عبد الولی خان دونوں شیخ مجیب سے ملے اور ان سے دیگر بہت سی باتوں کے علاوہ یہ بھی کہا کہ ’’شیخ صاحب! یہ بات یاد رکھیں کہ آپ مسلم لیگی ہیں اور ہم کانگرسی۔ کل آپ پاکستان بنا رہے تھے تو ہم نے کہا تھا کہ نہ بنائیں اس سے مسلمانوں کا نقصان ہوگا۔ اور آج آپ پاکستان توڑ رہے ہیں تو ہم آپ سے یہ کہنے آئے ہیں کہ اسے نہ توڑیں مسلمانوں کو نقصان ہوگا۔‘‘ ۔ ۔ ۔

۲۳ مئی ۱۹۹۹ء

افغان سفارت خانے میں دو گھنٹے

افغان سفیر نے کہا کہ مغربی ممالک بالخصوص امریکہ اس پر زور دے رہا ہے کہ افغانستان میں وسیع البنیاد حکومت قائم کی جائے۔ اس سے ان کی مراد ہرگز یہ نہیں ہے کہ عوام کے مختلف گروہوں اور طبقات کی نمائندگی حاصل ہو، اس سے ان کا مقصد یہ ہے کہ خالص اسلامی ذہن رکھنے والے لوگوں کی تنہا حکومت نہ رہے اور اس میں سیکولر اور کمیونسٹ عناصر کو بھی شریک اقتدار کیا جائے تاکہ طالبان اسلامی نظام کے مکمل نفاذ کے پروگرام پر عمل نہ کر سکیں ۔ ۔ ۔

۲۵ اپریل ۱۹۹۸ء

صدر محترم اور ان کی مسنون داڑھی

صدر محترم جناب محمد رفیق تارڑ جب سے اسلامی جمہوریہ پاکستان کی صدارت کے منصب پر فائز ہوئے ہیں ان کی داڑھی مسلسل موضوع گفتگو بنی ہوئی ہے اور کسی نہ کسی حوالہ سے اس کا تذکرہ سامنے آتا رہتا ہے۔ جہاں تک نمازی ہونے کا تعلق ہے موجودہ ایوان صدر میں داخل ہونے والے سارے صدر نمازی رہے ہیں۔ جنرل محمد ضیاء الحق شہیدؒ ، جناب غلام اسحاق خان، جناب وسیم سجاد، اور سردار فاروق احمد خان لغاری سکہ بند نمازی شمار ہوتے ہیں ۔ ۔ ۔

۲۵ مارچ ۱۹۹۸ء

روزنامہ اوصاف میں ’’نوائے قلم‘‘ کا آغاز

میں ’’صحافت برائے صحافت‘‘ کا قائل نہیں ہوں اور نہ ہی اس معنٰی میں خود کو صحافی سمجھتا ہوں۔ صحافت میرے نزدیک محض ایک ذریعہ ہے لوگوں کے ذہنوں تک رسائی کا، اور اس ذریعے کو صحیح مقاصد کے لیے استعمال کرنا ہی اس کے ساتھ انصاف کا اصل تقاضہ ہے۔ اس لیے یہ کہنے میں کوئی حجاب محسوس نہیں کرتا کہ اسلام، ملت اسلامیہ اور پاکستان کے ساتھ میری کمٹمنٹ دو ٹوک اور بے لچک ہے۔ اور ان تین میں سے کسی ایک حوالہ سے بھی ’’غیر جانبداری‘‘ کا قائل بلکہ متحمل نہیں ہوں ۔ ۔ ۔

۳ مارچ ۱۹۹۸ء

آکسفورڈ سنٹر فار اسلامک اسٹڈیز

گزشتہ ہفتے کے دوران برطانیہ کے دو مسلم اداروں میں جانے کا اتفاق ہوا۔ ایک لیسٹر کی اسلامک فاؤنڈیشن اور دوسرا آکسفورڈ کا اسلامک سنٹر۔ اسلامک فاؤنڈیشن لیسٹر کے قریب مارک فیلڈ کے مقام پر پاکستان کے معروف دانشور پروفیسر خورشید احمد کی سربراہی میں مصروف کار ہے اور ڈاکٹر مناظر حسن ڈائریکٹر کی حیثیت سے اس کے انتظامی معاملات چلا رہے ہیں۔ فاؤنڈیشن مختلف اسلامی موضوعات پر یورپی زبانوں میں لٹریچر کی اشاعت کے ساتھ ساتھ یہاں کے لوگوں کے لیے اسلامی عنوانات پر تربیتی کورسز کا اہتمام کرتی ہے اور علمی و تحقیقی کاموں میں پیش پیش ہے ۔ ۔ ۔

۱۳ ستمبر ۱۹۹۷ء

جشن یسوع ۔ لندن کی ایک مسیحی تقریب کا آنکھوں دیکھا حال

ورلڈ اسلامک فورم کے ایک وفد کو کچھ عرب دوستوں سے ملنا تھا۔ ملاقات کی جگہ لندن میں چیئرنگ کراس ریلوے اسٹیشن کے ساتھ اسی نام کے ہوٹل کے گیٹ پر طے تھی۔ وفد میں راقم الحروف کے علاوہ مولانا محمد عیسیٰ منصوری اور مولانا مفتی برکت اللہ شامل تھے۔ اتفاق سے عرب دوستوں کو پروگرام کے دن کے بارے میں غلط فہمی ہوگئی اور فون کرنے پر معلوم ہوا کہ وہ ملاقات کے لیے تشریف نہیں لا سکیں گے۔ ہم تینوں کو باہمی گفتگو کے لیے مناسب جگہ کی تلاش ہوئی، وہیں لندن کی شہرہ آفاق نیشنل آرٹ گیلری ہے جس کے سامنے ایک کھلا میدان ہے ۔ ۔ ۔

ستمبر ۱۹۹۴ء

دارالعلوم مدنیہ ڈسکہ

گوجرانوالہ اور سیالکوٹ کے وسط میں واقع ڈسکہ ملک کے اہم صنعتی مراکز میں شمار ہوتا ہے جہاں زرعی مشینری کے آلات اور لوہے کی الماریوں کی صنعت نے خاصی ترقی کی ہے، اس کے علاوہ یہ شہر ہسپتالوں کے لیے بھی مشہور ہے۔ اور اس کی شہرت کا ایک اور بھی باعث ہے اور وہ ہے بین الاقوامی شہرت کے قادیانی لیڈر آنجہانی ظفر اللہ خان ڈسکہ کے رہنے والے تھے اور آج بھی ان کا بیشتر خاندان ڈسکہ میں رہائش پذیر ہے۔ چوہدری ظفر اللہ خان کو قیام پاکستان سے قبل سرکاری حلقوں میں خاصی اہمیت حاصل تھی ۔ ۔ ۔

۸ مئی ۱۹۸۷ء