تبلیغ

دعوت دین کے عصری مسائل، تقاضے اور اہداف

دنیا بھر کے غیر مسلموں کو اسلام کی دعوت دینے کے لیے مسیحی مشنریوں کی طرز پر مسلمانوں کا کوئی منظم نیٹ ورک موجود نہیں ہے۔ حالانکہ سات ارب کی انسانی آبادی میں مسلمانوں کی تعداد پونے دو ارب بیان کی جاتی ہے۔ اور سوا پانچ ارب انسان اس بات کے انتظار میں ہیں کہ انہیں کوئی اسلام کی دعوت دے، انہیں جناب نبی اکرم ﷺ سے متعارف کرائے اور ان تک قرآن کریم کی تعلیمات پہنچانے کا اہتمام کرے۔ ظاہر ہے کہ یہ ذمہ داری بہرحال ہم مسلمانوں کی ہی بنتی ہے، اس کے لیے آسمان سے فرشتے نہیں اتریں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دعوت دین کے عصری مسائل، تقاضے اور اہداف

۴ نومبر ۲۰۱۳ء

علم کی ضروریات اور ذمہ داریاں

امام غزالیؒ نے جتنے درجات بیان کیے ہیں مجھے یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہم ان میں سے دوسرے درجے میں زیادہ فٹ بیٹھتے ہیں۔ یعنی وہ لوگ جو دین کے کسی نہ کسی شعبہ میں اور کسی نہ کسی درجے میں کچھ نہ کچھ علم تو رکھتے ہیں لیکن ہمیں اس حیثیت سے اپنی ضروریات اور ذمہ داریوں کا احساس نہیں ہے اور ہم انہیں پورا کرنے کی طرف متوجہ نہیں ہو رہے۔ اس لیے میں اسی حوالہ سے کچھ گزارشات آپ حضرات کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہوں۔علماء کہلاتے ہوئے کچھ چیزیں تو ہماری ضروریات ہیں اور کچھ باتیں ہماری ذمہ داریوں میں شامل ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر علم کی ضروریات اور ذمہ داریاں

نومبر ۲۰۱۳ء

تبلیغی جماعت کے اہداف: بانیٔ جماعت کے ملفوظات کی روشنی میں

تبلیغی جماعت کی جدوجہد اصولی طور پر مسلمانوں کو دین کے عملی ماحول کی طرف واپس لانے، مسجدوں کو آباد کرنے اور عام مسلمانوں میں دین کی تعلیم اور دینی اعمال پر عمل کا ذوق بیدار کرنے کی تحریک ہے۔ تبلیغی جماعت کے اہل دانش کا کہنا ہے کہ جب عام مسلمانوں میں دین پر عمل کا ماحول عام ہوگا، مسجدیں آباد ہوں گی، قرآن و سنت کی تعلیم کا فروغ ہوگا اور امت مسلمہ مجموعی طور پر دینی ماحول کی طرف واپس آجائے گی تو اس سے دو بڑے فائدے ہوں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر تبلیغی جماعت کے اہداف: بانیٔ جماعت کے ملفوظات کی روشنی میں

۲۰ نومبر ۲۰۱۱ء

مولانا طارق جمیل ’’نائن زیرو‘‘ میں

مولانا طارق جمیل کو نائن زیرو میں دیکھ کر بہت خوشی ہوئی۔ میں آج صبح (۳۱ جولائی) نیویارک کے علاقہ لانگ آئی لینڈ میں مولانا عبد الرزاق عزیز کے ہاں تھا، وہ ایک عرصہ کراچی میں رہے ہیں، شیرشاہ کی جامع مسجد طور میں خطابت کے فرائض سرانجام دیتے رہے ہیں اور جمعیۃ علماء اسلام کے سرگرم راہنماؤں میں ان کا شمار ہوتا تھا۔ ناشتے کے بعد برونکس روانگی سے قبل انہوں نے مجھے کہا کہ جانے سے قبل ایک نظر خبروں پر ڈال لیتے ہیں۔ خبروں میں دیکھا کہ مولانا طارق جمیل ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو پہنچے ہوئے ہیں اور کراچی والوں کو محبت کا پیغام دے رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مولانا طارق جمیل ’’نائن زیرو‘‘ میں

۲ اگست ۲۰۱۱ء

دعوت دین ۔ دنیوی و اخروی نجات کا ذریعہ

ہمارے ہاں عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ کامیابی اور نجات کا مطلب جنت میں جانا ہے اور جو شخص جنت میں چلا جائے گا وہ کامیاب ہے۔ اس کے ساتھ یہ بات بھی شامل کر لیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہر اس مسلمان اور کلمہ گو کے ساتھ جنت کا وعدہ کیا ہے جو شرک سے بچ کر رہے گا۔ بلکہ جناب نبی اکرمؐ کا ارشاد گرامی ہے کہ جس شخص نے زندگی میں ایک بار بھی کلمہ پڑھا ہے وہ بالآخر جنت میں ضرور جائے گا۔ اس سے عام ذہن یہ بنتا ہے کہ جنت میں تو بالآخر جانا ہی ہے اس لیے زیادہ مشقت اور محنت کی چنداں ضرورت نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دعوت دین ۔ دنیوی و اخروی نجات کا ذریعہ

دسمبر ۲۰۱۰ء

رائے ونڈ کا تبلیغی اجتماع ۲۰۰۸ء

رائے ونڈ کے عالمی تبلیغی اجتماع کے حوالہ سے میرا معمول یہ چلا آرہا ہے کہ اجتماع کے دوسرے روز یعنی ہفتہ کے دن حاضری دیتا ہوں اس طور پر کہ صبح گوجرانوالہ سے روانہ ہوتا ہوں اور مغرب رائے ونڈ میں پڑھ کر واپسی کرتا ہوں۔ مگر اس سال یہ معمول تبدیل کرنا پڑا اس لیے کہ گوجرانوالہ میں جمعیۃ علماء اسلام سے قدیمی تعلق رکھنے والے ایک خاندان میں اس روز ایک نوجوان کی شادی تھی اور ان کا اصرار تھا کہ نکاح بہرحال میں ہی پڑھاؤں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر رائے ونڈ کا تبلیغی اجتماع ۲۰۰۸ء

۱۳ اکتوبر ۲۰۰۸ء

ایک تبلیغی دورے کی سرگزشت

تبلیغی جماعت کی برکت سے مجھے عید الاضحی کے بعد دو دن ماڈل ٹاؤ ن لاہور کے علاقے میں گزارنے کا موقع ملا۔کبھی کبھی میں تبلیغی جماعت کے ساتھ سہ روزہ لگایا کرتا ہوں جس کا ایک مقصد تو اس کارِ خیر کے ساتھ نسبت اور تعلق قائم رکھنا ہوتا ہے ،اس کے ساتھ ساتھ بہت سے دوستوں سے ملاقات ہو جاتی ہے اور دینی جدوجہد کے نئے رجحانات سے آگاہی ہوتی رہتی ہے۔ پروگرام کے مطابق مجھے عیدالاضحی کے بعد جمعہ کے روز شام کو گوجرانوالہ سے علمائے کرام کی ایک بڑ ی جماعت کے ساتھ لاہور پہنچنا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ایک تبلیغی دورے کی سرگزشت

۲۴ جنوری ۲۰۰۶ء

کرسمس اور آسمانی تعلیمات

ہم کرسمس کے موقع پر دنیا بھر کے مسیحی دوستوں کو بالعموم اور پاکستانی مسیحیوں کو ’’بڑے دن‘‘ کی مبارک باد پیش کرتے ہوئے ان آسمانی تعلیمات کی طرف توجہ دلانا چاہتے ہیں جو نسل انسانی کی راہنمائی کے لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰؑ اور دیگر حضرات انبیاء کرامؑ کے ذریعہ ہمیں عطا فرمائی ہیں۔ وہ آسمانی تعلیمات جنہیں پس پشت ڈال کر آج ہم دنیا بھر کے انسان افراتفری، خلفشار اور بے سکونی کا شکار ہوگئے ہیں اور جن آسمانی تعلیمات کی طرف واپسی ہی انسانی معاشرہ کے لیے نجات و فلاح اور امن و خوشحالی کی طرف واحد راستہ باقی رہ گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر کرسمس اور آسمانی تعلیمات

۲۵ دسمبر ۲۰۰۰ء

دینی شعبوں کی ’’ریکروٹنگ ایجنسی‘‘

میں تبلیغی جماعت کو مسجد و مدرسہ اور دین کے دیگر شعبوں کی ’’ریکروٹنگ ایجنسی‘‘ کہا کرتا ہوں جو عام مسلمانوں کے گھروں میں جا کر اور ایک ایک دروازے پر دستک دے کر انہیں دین کے کام کے لیے بھرتی کرتی ہے اور گھیر گھار کر مسجد میں لے آتی ہے۔ اس کے بعد دین کے مختلف شعبوں کے ذمہ دار حضرات کا کام ہے کہ وہ انہیں سنبھالیں اور ان کی تعلیم و تربیت کا اہتمام کر کے دینی محنت کے کسی نہ کسی کام میں کھپائیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دینی شعبوں کی ’’ریکروٹنگ ایجنسی‘‘

۱۷ نومبر ۱۹۹۹ء

مسیحی دنیا کو قرآن کریم کی دعوت

تاریخ نے قرآن کریم کی اس پیش گوئی کو اس طرح سچا کر دکھایا کہ آج یہودی اور عیسائی اپنی تمام تر دشمنی اور لڑائیاں بھلا کر باہم شیر و شکم ہوگئے ہیں کہ عیسائی دنیا کے وسائل اور یہودی دماغ مل کر اسلام اور عالم اسلام کے خلاف متحدہ محاذ قائم کیے ہوئے ہیں۔ مگر ان سب باتوں سے قطع نظر جی چاہتا ہے کہ مسیحی برادری کو ان کی اس عید پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے قرآن کریم کی وہ دعوت دہرا دی جائے جس میں مسیحی دنیا بلکہ سب اہل کتاب کو آسمانی تعلیمات کی ’’مشترک اقدار‘‘ کی طرف واپس لوٹ آنے کی دعوت دی گئی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مسیحی دنیا کو قرآن کریم کی دعوت

۳۱ دسمبر ۱۹۹۸ء

دعوتِ اسلامی کا فریضہ اور اس کے تقاضے

اس خطۂ زمین میں اسلام کی دعوت و تبلیغ کا عمل حضرت خواجہ معین الدین چشتیؒ اور حضرت سید علی ہجویریؒ جیسے عظیم صوفیاء کرام کا ورثہ ہے۔ ان مشائخِ امت نے محبت اور اخلاق کے ذریعے اسلام کا پیغام اس سرزمین کے باشندوں تک پہنچایا اور لاکھوں پیاسے دلوں کو سیراب کر گئے۔ مگر بدقسمتی سے اس روایت کا تسلسل قائم نہ رہا اور ہم مسلمانوں نے صدیوں تک جنوبی ایشیا میں سیاست اور اقتدار پر اپنی گرفت کو ہی سب کچھ سمجھتے ہوئے محبت اور کردار کے ذریعہ اسلام کی دعوت و تبلیغ کی بساط لپیٹ کر ایک طرف رکھ دی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دعوتِ اسلامی کا فریضہ اور اس کے تقاضے

۲۲ ستمبر ۱۹۹۸ء