تعلیم

قادیانیت کا رد اور تعاقب

فتنوں سے آگاہی حاصل کرنا اور امت کو ان سے خبردار کرنا دینی تقاضوں اور فرائض میں سے ہے، اور معاشرہ میں کسی بھی حوالہ سے پیدا ہونے والی خرابیوں کی نشاندہی کر کے مسلمانوں کو ان سے بچانے کی کوشش کرنا بھی ہماری دینی ذمہ داریوں میں سے ہے۔ اس لیے توحید و سنت، ختم نبوت، مقام صحابہ کرامؓ اور اہل سنت کے عقائد و مسلک کے تحفظ کے حوالہ سے مختلف مقامات پر اس قسم کے جو کورسز ہو رہے ہیں وہ دینی جدوجہد کا اہم حصہ ہیں اور ان کو کامیاب بنانے کی سب حضرات کو پوری کوشش کرنی چاہیے ۔ ۔ ۔

۶ جون ۲۰۱۵ء

دینی موضوعات پر تعلیمی وتربیتی کورسز

دورۂ تفسیر قرآن کریم کے علاوہ مختلف مقامات پر میراث، صرف و نحو، منطق، اصول فقہ اور دیگر علوم و فنون کے ماہرین ان تعطیلات کے دوران اپنے اپنے فنون میں مختصر دورانیے کے کورسز کراتے ہیں جو بہت مفید اور ضروری ہیں۔ اب کچھ عرصہ سے عربی بول چال اور تحریر و تقریر کے کورسز کا اہتمام بھی ہونے لگا ہے، جس میں ہمارے فاضل دوست مولانا مفتی ابو لبابہ شاہ منصور کی شبانہ روز محنت کی جھلک نمایاں نظر آتی ہے۔ یہ سب کورسز ہماری اجتماعی ضرورت کا درجہ رکھتے ہیں ۔ ۔ ۔

۲۹ مئی ۲۰۱۵ء

مجلس صوت الاسلام کے زیر اہتمام تقریری مقابلے

صوت الاسلام کی یہ مہم در اصل کئی سالوں سے جاری ہے کہ دینی مدارس کے طلبہ میں خطابت کے عصری تقاضوں کا ذوق بیدار کیا جائے اور انہیں بیان و خطابت کی فنی ضروریات کے ساتھ ساتھ عصر حاضر کے اسلوب اور معروضی حالات و مسائل کے ادراک کی طرف متوجہ کیا جائے، تاکہ وہ اسلام کی دعوت و دفاع اور معاشرہ کی اصلاح و تنظیم کے لیے زیادہ بہتر خدمات سر انجام دے سکیں۔ اس مقصد کے لیے مجلس صوت الاسلام کے زیر اہتمام خطابت کا ایک سالہ تربیتی کورس بھی جاری ہے ۔ ۔ ۔

۱۰ جنوری ۲۰۱۵ء

طرز تدریس میں جدت لانے کی ضرورت!

استاذ صرف معلّم نہیں ہوتا بلکہ اس کی حیثیت سوسائٹی کے راہ نما کی بھی ہوتی ہے۔ اس لیے ہمیں اس بات کی طرف توجہ دینی چاہیے کہ آج کے حالات بالخصوص فکری و علمی تغیرات اور ثقافتی تبدیلیوں پر نظر رکھیں اور انہیں سامنے رکھ کر اپنے شاگردوں اور سوسائٹی کی صحیح سمت راہ نمائی کا اہتمام کریں۔ اساتذہ کرام سے میری گزارش ہے کہ وہ نئی نسل کی تعلیم اور سوسائٹی کی راہ نمائی میں عالمی سطح پر رونما ہونے والی فکری و تہذیبی تبدیلیوں پر نظر رکھیں اور اس کے ساتھ سائنسی ارتقاء کا مسلسل جائزہ لیتے رہیں ۔ ۔ ۔

۱۸ مئی ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

علماء کرام کی تربیت

سب سے پہلے تو اس بات کی طرف توجہ دلانا چاہوں گا کہ ’’تربیت علماء کورس‘‘ کا عنوان بہت اہم ہے جو احساس دلا رہا ہے کہ ہم لوگ جو علماء کرام کہلاتے اور سمجھے جاتے ہیں انہیں بھی تربیت حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ ورنہ ہمارے ہاں عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہم علماء کرام اب مزید تعلیم اور تربیت سے بے نیاز ہیں اور سند فراغت حاصل ہوتے ہی ہم ’’خدائی فوجدار‘‘ بن کر لوگوں پر مسلّط ہونے کی کوشش میں لگ جاتے ہیں۔ حالانکہ تعلیم و تربیت تو زندگی بھر ساتھ چلتی ہے اور انسان موت تک طالب علم ہی رہتا ہے ۔ ۔ ۔

۱۳ مارچ ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

عمل تدریس میں استاد کا کردار

دنیا کے حالات کو محسوس کریں۔ علمی، فکری، ایمانی اور تہذیبی دنیا میں مستقبل کے خطرات کو محسوس کریں اور اپنے طلبہ کو اپنے نصاب کے دائرے میں ان سے آگاہ کریں۔ استاد سب کچھ کر لیتا ہے، استاد کے لیے کتاب نہیں بلکہ اس کا ذوق اہم ہے۔ کوئی بھی کتاب ہو، استاد کا فہم اصل اہمیت رکھتا ہے۔ اس بات کو سامنے رکھیں کہ آج ہماری ذمہ داری کیا ہے اور ہمارے زیر تعلیم جو پود ہے، اس کو مستقبل میں کیا صورت حال پیش آنے والی ہے، اس کے لیے ہم نے انہیں کیسے تیار کرنا ہے ۔ ۔ ۔

نومبر ۲۰۱۲ء

نوجوان علماء کرام کی تربیت : ضرورت اور تقاضے

مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندوی ؒ کے بقول ہمارے بزرگوں نے دین و علم کی محنت کو چٹائیوں اور تپائیوں تک محدود کر کے اسے کمیوفلاج کر دیا اور راڈار کی رینج سے نیچے لے گئے جس کی وجہ سے وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوگئے۔ مگر آج کا دور اس سے مختلف ہے، آج دین و علم کی اس محنت کو نچلے طبقوں میں بدستور جاری رکھنے کے ساتھ ساتھ معاشرہ کے بالائی طبقات تک لے جانے کی بھی ضرورت ہے اور ان طبقوں کو علم و دین کے ساتھ مانوس کرنے کی ضرورت ہے جو ملک میں حکمرانی کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔

جولائی ۲۰۱۲ء

دینی اور دنیاوی علوم کی ضرورت

ایک صحابیؓ نے سوال کیا کہ یا رسول اللّٰہ متی الساعۃ؟ کہ اے اللہ کے رسول قیامت کب آئے گی؟ یہ وہی سوال ہے جو کافر بھی کیا کرتے تھے اور جو حضرت جبرائیلؑ نے کیا تھا۔ حضورؐ نے جواب دیا کہ ما أعددت لھا؟ کہ (قیامت کا تو پوچھ رہے ہو) کوئی تیاری بھی کر رکھی ہے؟ یعنی جناب نبی کریمؑ نے سوال کا رخ موڑ دیا کہ ایک مسلمان کا یہ سوال کرنا نہیں بنتا کہ قیامت کب آئے گی بلکہ مسلمان کا سوال یہ ہونا چاہیے کہ میری قیامت کے لیے تیاری کتنی ہے ۔ ۔ ۔

جون ۲۰۱۱ء (غالباً‌)

شاہ ولی اللہ یونیورسٹی کا تجدیدی منصوبہ

قارئین کے سامنے ایک پرانی داستان کی یاد تازہ کرنا چاہتا ہوں جو بہت سے دوستوں کو شاید یاد ہوگی۔ کم وبیش ربع صدی قبل کی بات ہے کہ گوجرانوالہ میں دیوبندی مسلک کے علماء کرام اور دیگر متعلقین نے جمعیت اہل السنۃ و الجماعۃ کے نام سے ایک تنظیم قائم کی تھی جس کا مقصد مسلکی معاملات کی بجا آوری اور بوقت ضرورت دیوبندی مسلک سے تعلق رکھنے والے حلقوں اور جماعتوں کو باہمی اجتماع کے لیے مشترکہ فورم مہیا کرنا تھا۔ یہ جمعیت آج بھی موجود ہے، لیکن زیادہ متحرک نہیں رہی اور صرف علماء کرام تک محدود ہوکر رہ گئی ہے ۔ ۔ ۔

اگست ۲۰۱۰ء

تعلیم نسواں کی اہمیت و تقاضے

آج کے دور میں جبکہ ہر مسلمان اپنے اپنے معاملات میں بے حد مصروف ہے یہ جو ریفریشر کورسز اور سمر کورسز وغیرہ ہیں یہ بہت ضروری ہیں اور بہت زیادہ فائدہ مند بھی ہیں۔ اگرچہ اصل ضرورت تو باقاعدہ تعلیم حاصل کرنے کی ہے لیکن باقاعدہ تعلیم حاصل کرنے کا وقت اور گنجائش نہ ہو اور اس کی مہلت نہ ملے تو کم از کم اس طرح کے چھوٹے کورسز یعنی ایک ہفتے کا، ایک مہینے کا، دو ماہ کا، ان سے فائدہ اٹھانا بہت ضروری ہے۔ دین کی معلومات حاصل کرنے سے ذوق بنتا ہے، حصولِ علم کا شوق پیدا ہوتا ہے اور انسان مزید علم و معلومات حاصل کرنے کے مواقع تلاش کرتا ہے ۔ ۔ ۔

جولائی ۲۰۱۰ء

میٹرک کا نصاب اور سورہ توبہ

جہاں تک سورۃ توبہ کا تعلق ہے، مولانا قاضی محمد رویس خان ایوبی کے اس خیال سے ہمیں اتفاق ہے کہ یہ طلبہ اور طالبات کے لیے مشکل ہو یا نہ ہو البتہ سورۃ کے مضامین کو ہضم کرنا ان عالمی طاقتوں اور بین الاقوامی اداروں کے لیے بہت مشکل ہو رہا ہے جو ملت اسلامیہ میں تیزی سے ابھرتے ہوئے جذبۂ جہاد کو موجودہ عالمی نظام کے لیے خطرہ سمجھ رہے ہیں۔ اور ان کے نزدیک مسلمان بچوں کا قرآنی تعلیمات سے واقف ہونا ان کے بنیاد پرست ہونے اور جہاد کے احکام و فضائل سے آگاہی ان کے دہشت گرد ہونے کی علامت ہے ۔ ۔ ۔

۴ فروری ۲۰۰۰ء