تعلیم

اربابِ علم و تحقیق کی خدمت میں چند سوالات

کراچی میں چار روز گزارنے کے بعد جمعرات کی شب گوجرانوالہ واپسی ہوگئی ہے، اس سفر میں میرے سوشل میڈیا کے ایڈمن اور عزیز نواسہ حافظ محمد خزیمہ خان سواتی بھی ہمراہ تھے، اس دوران بیشتر مصروفیات کی جولانگاہ تعلیمی ادارے رہے اور اساتذہ و طلبہ کے ساتھ مختلف امور پر تبادلۂ خیالات کا موقع ملا، فالحمد للہ علٰی ذٰلک۔ جامعہ انوار القرآن نارتھ کراچی میں ’’ریاست مدینہ اور عصر حاضر‘‘ کے موضوع پر مسلسل تین روز تک گفتگو ہوئی۔ چھ نشستوں میں مجموعی طور پر ساڑھے سات گھنٹے بات ہوئی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اربابِ علم و تحقیق کی خدمت میں چند سوالات

۲۱ اکتوبر ۲۰۱۸ء

قرآن کریم کی تعلیم اور ریاستی تعلیمی نظام

اپریل کو گکھڑ میں والد گرامی حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کی مسجد میں جمعہ پڑھانے اور ان کے قائم کردہ مدرسہ معارف اسلامیہ اکادمی کے شعبہ تجوید و قراءت اور شعبہ حفظ و ناظرہ کی تعلیم مکمل کرنے والے قراء اور حفاظ کی دستار بندی کرانے کی سعادت حاصل ہوئی، اس موقع پر کی جانے والی گزارشات کا خلاصہ نذر قارئین ہے۔ بعد الحمد والصلوٰۃ۔ میں نے جو آیت کریمہ آپ کے سامنے تلاوت کی ہے اس میں اللہ رب العزت نے نسل انسانی اور امت محمدیہ علیٰ صاحبہا التحیۃ والسلام پر اپنے اس عظیم احسان کا ذکر کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قرآن کریم کی تعلیم اور ریاستی تعلیمی نظام

یکم و ۲ مئی ۲۰۱۸ء

قادیانیت کا رد اور تعاقب

فتنوں سے آگاہی حاصل کرنا اور امت کو ان سے خبردار کرنا دینی تقاضوں اور فرائض میں سے ہے، اور معاشرہ میں کسی بھی حوالہ سے پیدا ہونے والی خرابیوں کی نشاندہی کر کے مسلمانوں کو ان سے بچانے کی کوشش کرنا بھی ہماری دینی ذمہ داریوں میں سے ہے۔ اس لیے توحید و سنت، ختم نبوت، مقام صحابہ کرامؓ اور اہل سنت کے عقائد و مسلک کے تحفظ کے حوالہ سے مختلف مقامات پر اس قسم کے جو کورسز ہو رہے ہیں وہ دینی جدوجہد کا اہم حصہ ہیں اور ان کو کامیاب بنانے کی سب حضرات کو پوری کوشش کرنی چاہیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قادیانیت کا رد اور تعاقب

۶ جون ۲۰۱۵ء

دینی موضوعات پر تعلیمی وتربیتی کورسز

دورۂ تفسیر قرآن کریم کے علاوہ مختلف مقامات پر میراث، صرف و نحو، منطق، اصول فقہ اور دیگر علوم و فنون کے ماہرین ان تعطیلات کے دوران اپنے اپنے فنون میں مختصر دورانیے کے کورسز کراتے ہیں جو بہت مفید اور ضروری ہیں۔ اب کچھ عرصہ سے عربی بول چال اور تحریر و تقریر کے کورسز کا اہتمام بھی ہونے لگا ہے، جس میں ہمارے فاضل دوست مولانا مفتی ابو لبابہ شاہ منصور کی شبانہ روز محنت کی جھلک نمایاں نظر آتی ہے۔ یہ سب کورسز ہماری اجتماعی ضرورت کا درجہ رکھتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دینی موضوعات پر تعلیمی وتربیتی کورسز

۲۹ مئی ۲۰۱۵ء

مجلس صوت الاسلام کے زیر اہتمام تقریری مقابلہ

صوت الاسلام کی یہ مہم دراصل کئی سالوں سے جاری ہے کہ دینی مدارس کے طلبہ میں خطابت کے عصری تقاضوں کا ذوق بیدار کیا جائے اور انہیں بیان و خطابت کی فنی ضروریات کے ساتھ ساتھ عصر حاضر کے اسلوب اور معروضی حالات و مسائل کے ادراک کی طرف متوجہ کیا جائے، تاکہ وہ اسلام کی دعوت و دفاع اور معاشرہ کی اصلاح و تنظیم کے لیے زیادہ بہتر خدمات سر انجام دے سکیں۔ اس مقصد کے لیے مجلس صوت الاسلام کے زیر اہتمام خطابت کا ایک سالہ تربیتی کورس بھی جاری ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مجلس صوت الاسلام کے زیر اہتمام تقریری مقابلہ

۱۰ جنوری ۲۰۱۵ء

طرز تدریس میں جدت لانے کی ضرورت!

استاذ صرف معلّم نہیں ہوتا بلکہ اس کی حیثیت سوسائٹی کے راہ نما کی بھی ہوتی ہے۔ اس لیے ہمیں اس بات کی طرف توجہ دینی چاہیے کہ آج کے حالات بالخصوص فکری و علمی تغیرات اور ثقافتی تبدیلیوں پر نظر رکھیں اور انہیں سامنے رکھ کر اپنے شاگردوں اور سوسائٹی کی صحیح سمت راہ نمائی کا اہتمام کریں۔ اساتذہ کرام سے میری گزارش ہے کہ وہ نئی نسل کی تعلیم اور سوسائٹی کی راہ نمائی میں عالمی سطح پر رونما ہونے والی فکری و تہذیبی تبدیلیوں پر نظر رکھیں اور اس کے ساتھ سائنسی ارتقا کا مسلسل جائزہ لیتے رہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر طرز تدریس میں جدت لانے کی ضرورت!

۱۸ مئی ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

علماء کرام کی تربیت

سب سے پہلے تو اس بات کی طرف توجہ دلانا چاہوں گا کہ ’’تربیت علماء کورس‘‘ کا عنوان بہت اہم ہے جو احساس دلا رہا ہے کہ ہم لوگ جو علماء کرام کہلاتے اور سمجھے جاتے ہیں انہیں بھی تربیت حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ ورنہ ہمارے ہاں عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہم علماء کرام اب مزید تعلیم اور تربیت سے بے نیاز ہیں اور سند فراغت حاصل ہوتے ہی ہم ’’خدائی فوجدار‘‘ بن کر لوگوں پر مسلّط ہونے کی کوشش میں لگ جاتے ہیں۔ حالانکہ تعلیم و تربیت تو زندگی بھر ساتھ چلتی ہے اور انسان موت تک طالب علم ہی رہتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر علماء کرام کی تربیت

۱۳ مارچ ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

حضرت مولانا صوفی عبد الحمیدؒ سواتی اور ہمارا تعلیمی نصاب

عم مکرم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی قدس اللہ سرہ العزیز کا ذوق اس بارے میں یہ تھا کہ وہ درس نظامی کی تعلیم کے دوران جہاں خلا محسوس کرتے تھے، اسے پُر کرنے کی اپنے طور پر کوشش کرتے تھے۔ چنانچہ وہ دورۂ حدیث کے طلبہ کو حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی کتاب ”حجۃ اللہ البالغۃ“ سبقاً سبقاً پڑھاتے تھے۔ صبح کا دو سالہ ترجمہ قرآن کریم اور ”حجۃ اللہ البالغۃ“ کی تدریس بحمد اللہ تعالیٰ جامعہ نصرۃ العلوم کے نصاب تعلیم کے امتیازی شعبے ہیں جو ہمارے ان دو بزرگوں کے ذوق کی علامت اور ان کا صدقہ جاریہ ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت مولانا صوفی عبد الحمیدؒ سواتی اور ہمارا تعلیمی نصاب

جنوری ۲۰۱۳ء

عمل تدریس میں استاد کا کردار

دنیا کے حالات کو محسوس کریں۔ علمی، فکری، ایمانی اور تہذیبی دنیا میں مستقبل کے خطرات کو محسوس کریں اور اپنے طلبہ کو اپنے نصاب کے دائرے میں ان سے آگاہ کریں۔ استاد سب کچھ کر لیتا ہے، استاد کے لیے کتاب نہیں بلکہ اس کا ذوق اہم ہے۔ کوئی بھی کتاب ہو، استاد کا فہم اصل اہمیت رکھتا ہے۔ اس بات کو سامنے رکھیں کہ آج ہماری ذمہ داری کیا ہے اور ہمارے زیر تعلیم جو پود ہے، اس کو مستقبل میں کیا صورت حال پیش آنے والی ہے، اس کے لیے ہم نے انہیں کیسے تیار کرنا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر عمل تدریس میں استاد کا کردار

نومبر ۲۰۱۲ء

نوجوان علماء کرام کی تربیت : ضرورت اور تقاضے

مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندوی ؒ کے بقول ہمارے بزرگوں نے دین و علم کی محنت کو چٹائیوں اور تپائیوں تک محدود کر کے اسے کمیوفلاج کر دیا اور راڈار کی رینج سے نیچے لے گئے جس کی وجہ سے وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوگئے۔ مگر آج کا دور اس سے مختلف ہے، آج دین و علم کی اس محنت کو نچلے طبقوں میں بدستور جاری رکھنے کے ساتھ ساتھ معاشرہ کے بالائی طبقات تک لے جانے کی بھی ضرورت ہے اور ان طبقوں کو علم و دین کے ساتھ مانوس کرنے کی ضرورت ہے جو ملک میں حکمرانی کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر نوجوان علماء کرام کی تربیت : ضرورت اور تقاضے

جولائی ۲۰۱۲ء

تعلیمی اداروں میں قرآن کریم کی تعلیم اور پنجاب اسمبلی کی قرارداد

پنجاب اسمبلی نے ۸ مارچ ۲۰۱۲ء کو محترمہ عاصمہ ممدوٹ کی پیش کردہ ایک قرارداد متفقہ طور پر پاس کی ہے جس میں قرآن کریم کی تعلیم و تدریس کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ (۱) سرکاری تعلیمی اداروں کے نصابِ تعلیم میں قرآن کریم کو نصابی کتاب کے طور پر شامل کیا جائے۔ (۲) مکمل قرآن کریم ترجمہ سمیت پڑھایا جائے۔ (۳) اس کے لیے حکومت کی طرف سے تمام ضروری وسائل فراہم کیے جائیں۔ (۴) قرآن و حدیث کی تعلیم و تدریس کو تعلیمی اداروں میں یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر تعلیمی اداروں میں قرآن کریم کی تعلیم اور پنجاب اسمبلی کی قرارداد

۲۹ مارچ ۲۰۱۲ء

دینی اور دنیاوی علوم کی ضرورت

ایک صحابیؓ نے سوال کیا کہ یا رسول اللّٰہ متی الساعۃ؟ کہ اے اللہ کے رسول قیامت کب آئے گی؟ یہ وہی سوال ہے جو کافر بھی کیا کرتے تھے اور جو حضرت جبرائیلؑ نے کیا تھا۔ حضورؐ نے جواب دیا کہ ما أعددت لھا؟ کہ (قیامت کا تو پوچھ رہے ہو) کوئی تیاری بھی کر رکھی ہے؟ یعنی جناب نبی کریمؑ نے سوال کا رخ موڑ دیا کہ ایک مسلمان کا یہ سوال کرنا نہیں بنتا کہ قیامت کب آئے گی بلکہ مسلمان کا سوال یہ ہونا چاہیے کہ میری قیامت کے لیے تیاری کتنی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دینی اور دنیاوی علوم کی ضرورت

جون ۲۰۱۱ء (غالباً‌)

النور ٹرسٹ فیصل آباد کا ’’قرآن و سنت کورس‘‘

گزشتہ ماہ کے آخری روز محترم جناب مجیب الرحمان شامی کے ہمراہ فیصل آباد کی ایک بابرکت تقریب میں شمولیت کی سعادت حاصل ہوئی۔ یہ تقریب النور ٹرسٹ کے زیراہتمام ملک کے مختلف شہروں میں چالیس روزہ قرآن و سنت کورس کے کامیاب انعقاد پر ان کورسز کے منتظمین اور اساتذہ میں انعامات اور سرٹیفکیٹس تقسیم کرنے کے لیے منعقد کی گئی تھی اور محترم شامی صاحب اس میں مہمان خصوصی تھے۔ فیصل آباد کا النور ٹرسٹ محترم حافظ ریاض احمد قادری چشتی کی سربراہی میں ایک عرصہ سے مختلف دینی شعبوں میں سرگرم عمل ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر النور ٹرسٹ فیصل آباد کا ’’قرآن و سنت کورس‘‘

۲۰ اکتوبر ۲۰۱۰ء

شاہ ولی اللہ یونیورسٹی کا تجدیدی منصوبہ

قارئین کے سامنے ایک پرانی داستان کی یاد تازہ کرنا چاہتا ہوں جو بہت سے دوستوں کو شاید یاد ہوگی۔ کم وبیش ربع صدی قبل کی بات ہے کہ گوجرانوالہ میں دیوبندی مسلک کے علماء کرام اور دیگر متعلقین نے جمعیت اہل السنۃ و الجماعۃ کے نام سے ایک تنظیم قائم کی تھی جس کا مقصد مسلکی معاملات کی بجا آوری اور بوقت ضرورت دیوبندی مسلک سے تعلق رکھنے والے حلقوں اور جماعتوں کو باہمی اجتماع کے لیے مشترکہ فورم مہیا کرنا تھا۔ یہ جمعیت آج بھی موجود ہے، لیکن زیادہ متحرک نہیں رہی اور صرف علماء کرام تک محدود ہوکر رہ گئی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر شاہ ولی اللہ یونیورسٹی کا تجدیدی منصوبہ

اگست ۲۰۱۰ء

تعلیم نسواں کی اہمیت و تقاضے

آج کے دور میں جبکہ ہر مسلمان اپنے اپنے معاملات میں بے حد مصروف ہے یہ جو ریفریشر کورسز اور سمر کورسز وغیرہ ہیں یہ بہت ضروری ہیں اور بہت زیادہ فائدہ مند بھی ہیں۔ اگرچہ اصل ضرورت تو باقاعدہ تعلیم حاصل کرنے کی ہے لیکن باقاعدہ تعلیم حاصل کرنے کا وقت اور گنجائش نہ ہو اور اس کی مہلت نہ ملے تو کم از کم اس طرح کے چھوٹے کورسز یعنی ایک ہفتے کا، ایک مہینے کا، دو ماہ کا، ان سے فائدہ اٹھانا بہت ضروری ہے۔ دین کی معلومات حاصل کرنے سے ذوق بنتا ہے، حصولِ علم کا شوق پیدا ہوتا ہے اور انسان مزید علم و معلومات حاصل کرنے کے مواقع تلاش کرتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر تعلیم نسواں کی اہمیت و تقاضے

جولائی ۲۰۱۰ء

دینی تعلیم اور عصری تقاضے ۔ تحریکِ اصلاحِ تعلیم کے زیر اہتمام سیمینار

بلتستان کے دورے کے کچھ تاثرات ابھی باقی ہیں لیکن اس سے قبل ۱۷ اکتوبر کو لاہور کے ایک ہوٹل میں ’’دینی تعلیم اور عصری تقاضے‘‘ کے زیرعنوان منعقد ہونے والے سیمینار کے حوالے سے کچھ عرض کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ اس سیمینار کا اہتمام تحریک اصلاح تعلیم اور صفا اسلامک سنٹر کے سربراہ ڈاکٹر محمد امین نے ایک قومی اخبار کے مذہبی ونگ کے تعاون سے کیا، اور اس میں ڈاکٹر صاحب موصوف کے علاوہ صوبائی وزیر قانون رانا ث مکمل تحریر دینی تعلیم اور عصری تقاضے ۔ تحریکِ اصلاحِ تعلیم کے زیر اہتمام سیمینار

۲۵ اکتوبر ۲۰۰۹ء

دینی تعلیم کے مختصر کورسز ۔ ضرورت و اہمیت

گزشتہ روز تھوڑی دیر کے لیے فیصل آباد جانا ہوا، ملت ٹاؤن میں واقع جامعہ دارالارشاد والاصلاح میں ’’فہم دین کورس‘‘ کے آغاز کی تقریب تھی۔ مولانا محمد اشرف ہمدانی کا شمار ایک دور میں ملک کے معروف خطباء میں رہا ہے۔ جس دور میں وہ گوجرانوالہ کی جامع مسجد پل لکڑ والا میں خطیب تھے، میرا طالب علمی کا آخری دور تھا۔ اس کے بعد وہ جناح کالونی فیصل آباد کی مرکزی جامع مسجد میں خاصا عرصہ خطیب رہے اور اب ملت ٹاؤن فیصل آباد میں مذکورہ بالا عنوان سے ادارہ قائم کر کے سرگرم عمل ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دینی تعلیم کے مختصر کورسز ۔ ضرورت و اہمیت

۲۰ جولائی ۲۰۰۶ء

آغا خان تعلیمی بورڈ اور حکومتی وضاحتیں

آغا خان تعلیمی بورڈ کے بارے میں حکومتی وضاحتوں کا سلسلہ جاری ہے لیکن ان وضاحتوں سے مسئلہ صاف ہونے کی بجائے مزید الجھتا جا رہا ہے ۔کچھ عرصہ قبل حکومت نے آغا خان یونیورسٹی کے بورڈ کو ایک پرائیویٹ تعلیمی بورڈ کے طور پر منظور کیا اور یہ خبریں منظر عام پر آنے لگیں کہ ملک کے تمام تعلیمی بورڈز کو آغا خان بورڈ کے ساتھ ملحق کرنے کی اسکیم زیرغور ہے۔ اور ایک مرحلہ پر یہ خبر بھی اخبارات کی زینت بنی کہ اسلام آباد کے وفاقی ثانوی تعلیمی بورڈ کو آغا خان بورڈ کے ساتھ منسلک کرنے کے سوال پر وفاقی بورڈ کے ارکان میں اختلاف رائے پیدا ہوگیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر آغا خان تعلیمی بورڈ اور حکومتی وضاحتیں

جنوری ۲۰۰۵ء

نصاب میں تبدیلی پر اضطراب اور اسماعیلی فرقہ کا تعارف

سکولوں اور کالجوں کے نصابِ تعلیم کے بارے میں متضاد خبریں سامنے آرہی ہیں۔ حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ نصاب میں کوئی جوہری تبدیلی نہیں کی جا رہی، وفاقی وزراء نصاب تعلیم سے اسلامی مواد کو خارج نہ کرنے کی یقین دہانیاں کرا رہے ہیں اور اب وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی نے بھی کہا ہے کہ ہمارا نصاب تعلیم اسلامی ہے اور اس میں اس حوالے سے کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ لیکن دوسری جانب ملک کے تعلیمی حلقے مسلسل حالتِ اضطراب میں ہیں، اساتذہ اور طلبہ کے مختلف فورموں کی طرف سے کہا جا رہا ہے کہ نصاب میں تبدیلیاں کر دی گئی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر نصاب میں تبدیلی پر اضطراب اور اسماعیلی فرقہ کا تعارف

۱۱ اپریل ۲۰۰۴ء

تعلیمی نصاب میں تبدیلی اور آغا خان فاؤنڈیشن

ملک کے سرکاری نصابِ تعلیم کے حوالے سے مبینہ تبدیلیوں پر بحث و تمحیص کا سلسلہ جاری ہے اور آغا خان فاؤنڈیشن کا حوالہ اس میں بار بار سامنے آرہا ہے۔ بہت سے دوست سوال کر رہے ہیں کہ ملک کے ریاستی نصاب تعلیم کے ساتھ آغا خان فاؤنڈیشن کا کیا تعلق ہے اور ملک کے بہت سے تعلیمی حلقوں کو آغا خان فاؤنڈیشن سے کیا شکایت ہے کہ وہ اس سلسلہ میں اس قدر تشویش و اضطراب کا اظہار کر رہے ہیں؟ اس لیے ضروری محسوس ہوتا ہے کہ اس حوالہ سے کچھ گزارشات قارئین کی خدمت میں پیش کر دی جائیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر تعلیمی نصاب میں تبدیلی اور آغا خان فاؤنڈیشن

۹ اپریل ۲۰۰۴ء

نصابی کتابوں کی اشاعت بین الاقوامی اداروں کے سپرد کرنے کا حکومتی فیصلہ

نصابی کتابوں کی تیاری، طباعت اور تقسیم کا نظام بین الاقوامی اداروں کے سپرد کرنے کے حکومتی فیصلہ نے قومی حلقوں میں تشویش کی ایک نئی لہر پیدا کر دی ہے اور پنجاب پبلشرز اینڈ بک سیلرز ایسوسی ایشن کے عہدہ داروں نے گزشتہ دنوں لاہور میں ایک تقریب کے دوران اپنے خدشات کا اظہار کیا ہے جن پر سنجیدگی سے توجہ دینا ضروری ہے۔ ایسوسی ایشن کے صدر مسٹر زبیر سعید کے مطابق وفاقی کابینہ کی طرف سے صوبائی ٹیکسٹ بک بورڈوں کو ڈی ریگولیٹ کرنے کے احکامات صادر کر دیے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر نصابی کتابوں کی اشاعت بین الاقوامی اداروں کے سپرد کرنے کا حکومتی فیصلہ

یکم مئی ۲۰۰۱ء

میٹرک کا نصاب اور سورہ توبہ

جہاں تک سورۃ توبہ کا تعلق ہے، مولانا قاضی محمد رویس خان ایوبی کے اس خیال سے ہمیں اتفاق ہے کہ یہ طلبہ اور طالبات کے لیے مشکل ہو یا نہ ہو البتہ سورۃ کے مضامین کو ہضم کرنا ان عالمی طاقتوں اور بین الاقوامی اداروں کے لیے بہت مشکل ہو رہا ہے جو ملت اسلامیہ میں تیزی سے ابھرتے ہوئے جذبۂ جہاد کو موجودہ عالمی نظام کے لیے خطرہ سمجھ رہے ہیں۔ اور ان کے نزدیک مسلمان بچوں کا قرآنی تعلیمات سے واقف ہونا ان کے بنیاد پرست ہونے اور جہاد کے احکام و فضائل سے آگاہی ان کے دہشت گرد ہونے کی علامت ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر میٹرک کا نصاب اور سورہ توبہ

۴ فروری ۲۰۰۰ء

نفاذ اسلام اور ہمارا نظام تعلیم

اسلامی جمہوریہ پاکستان کا قیام ایک صحت مند اور مثالی معاشرہ کی تشکیل کے لیے عمل میں لایا گیا تھا اور اس سلسلہ میں قائد اعظم محمد علی جناح مرحوم سمیت بانیان پاکستان کے واضح اعلانات تاریخ کا انمٹ حصہ ہیں جن میں اسلام کے مکمل عادلانہ نظام کے نفاذ اور قرآن و سنت کی بالادستی کو پاکستان کی حقیقی منزل قرار دیا گیا ہے۔ لیکن بدقسمتی کی بات ہے کہ دنیا کے نقشے پر اس نظریاتی ملک کو نمودار ہوئے نصف صدی کا عرصہ گزرنے کو ہے مگر ابھی تک ہم اسلامی نظام کی منزل سے بہت دور ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر نفاذ اسلام اور ہمارا نظام تعلیم

اپریل ۱۹۹۶ء