تنظیمات

متحدہ مجلس عمل کی بحالی

متحدہ مجلس عمل کی بحالی کا اعلان کر دیا گیا ہے جس کے تحت مولانا فضل الرحمان کو صدر، جناب لیاقت بلوچ کو سیکرٹری جنرل اور مولانا شاہ اویس نورانی کو سیکرٹری اطلاعات منتخب کر کے مرکزی باڈی تشکیل دی گئی ہے۔ اور کم و بیش سبھی دینی مکاتب فکر کی اہم قیادتوں نے اگلا الیکشن متحدہ مجلس عمل کے فورم پر ایک پرچم، ایک منشور اور ایک نشان کے ساتھ لڑنے کا عزم ظاہر کیا ہے جس پر ملک بھر کے سنجیدہ دینی حلقوں میں اطمینان کا اظہار کیا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر متحدہ مجلس عمل کی بحالی

۲۴ مارچ ۲۰۱۸ء

جمعیۃ العلماء کے مقاصد اور دائرہ کار

جمعیۃ علماء ہند کا قیام 1919ء میں عمل میں لایا گیا تھا جبکہ 1927ء کے دوران پشاور میں جمعیۃ علماء ہند کے زیراہتمام منعقدہ سہ روزہ اجلاس میں امام المحدثین علامہ سید محمد انور شاہ کشمیریؒ نے اپنے تاریخی خطبۂ صدارت میں جمعیۃ کی آٹھ سالہ کارکردگی، مقاصد اور عزائم کا ایک ہلکا سا خاکہ پیش فرمایا تھا۔ یہ خطبۂ صدارت ایک وقیع فکری و علمی دستاویز ہے جو جنوبی ایشیا کے مسلمانوں، علماء کرام اور دینی کارکنوں کے لیے ہمیشہ مشعل راہ رہے گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جمعیۃ العلماء کے مقاصد اور دائرہ کار

۷ اپریل ۲۰۱۷ء

جمعیۃ علماء اسلام کا صد سالہ اجتماع

پشاور میں جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے زیر اہتمام علماء حق کی خدمات کے حوالہ سے صد سالہ عالمی اجتماع کا انعقاد کیا جا رہا ہے جس کے لیے ملک بھر میں تیاریاں جاری ہیں اور جمعیۃ علماء اسلام کی ہر سطح کی قیادت اور کارکن اس کیلئے متحرک نظر آرہے ہیں۔ تیاریوں کے حوالہ سے محسوس ہو رہا ہے کہ یہ بہت بڑا اجتماع ہوگا جو ملک کی دینی جدوجہد اور قومی سیاست میں ایک نئی ہلچل اور تبدیلی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ ’’صد سالہ‘‘ کے لفظ کے بارے میں بعض دوستوں کو الجھن ہو رہی ہے جسکے باعث جمعیۃ علماء ہند اور جمعیۃ علماء اسلام کی تاریخ اور ان کے باہمی تعلق کی بحث چل پڑی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جمعیۃ علماء اسلام کا صد سالہ اجتماع

یکم اپریل ۲۰۱۷ء

جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کا تعارف ۔ مولانا مفتی محمودؒ کی زبانی

اپریل کے پہلے عشرہ کے دوران پشاور میں جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے زیر اہتمام ’’عالمی کانفرنس‘‘ کا انعقاد کیا جا رہا ہے جس کے لیے ملک بھر میں سرگرمیاں جاری ہیں۔ وطن عزیز کی موجودہ عمومی صورتحال خاص طور پر ملک کے نظریاتی تشخص، اسلامی تہذیب و معاشرت اور دستور و قانون کی اسلامی دفعات کے خلاف بین الاقوامی اور ملکی سیکولر لابیاں جس طرح ہر سطح پر متحرک ہیں اس کے پیش نظر جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کا یہ اجتماع، بلکہ کسی بھی دینی حوالہ سے اس نوعیت کے عوامی اجتماعات قومی اور ملی ضرورت کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کا تعارف ۔ مولانا مفتی محمودؒ کی زبانی

۱۲ مارچ ۲۰۱۷ء

انجمن خدام الدین کی سرگرمیاں، حضرت مولانا عبید اللہ انورؒ کے قلم سے

اجتماع میں مسلسل پانچ روز تک روحانی تربیتی محافل ہوتی رہیں، ذکر الٰہی، درود شریف اور مراقبہ کے روحانی اعمال کا سلسلہ جاری رہا۔ اس موقع پر انجمن خدام الدین کے مقاصد اور سرگرمیوں کے حوالہ سے حضرت مولانا عبید اللہ انور قدس اللہ سرہ العزیز کا تحریر فرمودہ ایک مضمون تقسیم کیا گیا۔ حضرت رحمہ اللہ تعالیٰ میرے شیخ و مرشد تھے اور میں انہی کے حوالہ سے راشدی کہلاتا ہوں۔ اس لیے برکت کی خاطر ان کی تحریر کو من و عن اپنے کالم کا حصہ بنا رہا ہوں۔ حضرت شیخ ؒ فرماتے ہیں کہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر انجمن خدام الدین کی سرگرمیاں، حضرت مولانا عبید اللہ انورؒ کے قلم سے

۲۴ جولائی ۲۰۱۶ء

ایک اچھی خبر اور ایک حسرت!

جمعیۃ علماء اسلام میرا گھر ہے، میں نے 1962ء میں چودہ سال کی عمر میں اس حویلی میں قدم رکھا تھا اور اب جبکہ ہجری اعتبار سے سترہواں (۷۰) سال گزر رہا ہے اس کے مین گیٹ کے اندر ہی ہوں اور اسی حویلی میں زندگی کے باقی ماندہ لمحات گزارنے کی خواہش رکھتا ہوں۔ کنبے بڑے ہو جائیں تو حویلی میں دیواریں بھی کھینچی جاتی ہیں، نئے نئے پورشن بھی تعمیر ہوتے ہیں اور اسٹرکچر میں رد و بدل بھی ہوتا رہتا ہے۔ ان سارے مراحل سے گزشتہ نصف صدی کے دوران میں بھی بار بار گزرا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ایک اچھی خبر اور ایک حسرت!

۱۸ فروری ۲۰۱۶ء

اسلامک تھنک ٹینک اور ورلڈ اسلامک فورم

گزشتہ روز ایک قومی اخبار میں اسلامک تھنک ٹینک کی سرگرمیوں کے حوالہ سے دو خبریں نظر سے گزریں۔ ایک خبر میں اسلام آباد میں ہونے والے ایک اجلاس کا ذکر ہے جس سے خطاب کرنے والوں میں جناب سرتاج عزیز، جناب مشاہد حسین سید اور جناب نیر حسین بخاری شامل ہیں، جبکہ دوسری خبر میں بتایا گیا ہے کہ اسلامک تھنک ٹینک کے ذمہ دار حضرات نے اپنے فورم کا نام تبدیل کر کے ’’ورلڈ اسلامک فورم‘‘ کے نام سے کام کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جہاں تک اس فورم کے مقاصد اور سرگرمیوں کا تعلق ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اسلامک تھنک ٹینک اور ورلڈ اسلامک فورم

۱۱ مارچ ۲۰۱۵ء

مجلس علماء اسلام پاکستان کا قیام

ابن امیر شریعتؒ مولانا حافظ سید عطاء المومن شاہ بخاری کی دعوت پر ان کی شبانہ روز مساعی کے نتیجہ میں 18 نومبر کو اسلام آباد میں اہل السنۃ والجماعۃ دیوبندی مکتب فکر کی کم و بیش سب جماعتوں، حلقوں اور بڑے مراکز کے سربراہوں اور نمائندوں نے جمع ہو کر جو مشترکہ فورم قائم کرنے کا اعلان کیا تھا، اس نے 9 دسمبر کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی دفتر ملتان میں منعقدہ اجلاس میں ’’مجلس علماء اسلام پاکستان‘‘ کے نام سے ایک باقاعدہ اتحاد کی شکل اختیار کر لی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مجلس علماء اسلام پاکستان کا قیام

۱۳ دسمبر ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

سنٹر فار پالیسی ریسرچ اینڈ ڈائیلاگ کا قیام

جامعۃ الرشید ایک بار پھر سبقت لے گیا ہے کہ اس نے وقت کی نبض پر ہاتھ رکھتے ہوئے تحقیق اور مکالمہ کی اہم ملی و قومی ضرورت کے لیے قومی سطح پر ایک نیا فورم تشکیل دینے کا اعلان کیا ہے اور ’’نیشنل سنٹر فار اسٹڈی اینڈ ڈائیلاگ‘‘ کے عنوان سے ’’تھنک ٹینک‘‘ کی سرگرمیوں کا آغاز کر دیا ہے۔ ۳ اپریل کو اسلام آباد کے ایک معروف ہوٹل میں اس فکری و علمی فورم کا افتتاحی پروگرام علمی و فکری دنیا میں تازہ ہوا کا ایک خوشگوار جھونکا تھا جس نے مستقبل کے لیے امید کی نئی کرن روشن کی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سنٹر فار پالیسی ریسرچ اینڈ ڈائیلاگ کا قیام

۶ اپریل ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

شیخ الہندؒ عالمی امن فورم کا قیام

شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسنؒ نہ صرف اپنے وقت کے عظیم محدث اور صوفی تھے بلکہ تحریک آزادی کے بہت بڑے مجاہد بھی تھے۔ انہوں نے تحریک آزادی کی مدبرانہ قیادت کی ہے اور جنوبی ایشیا کی تمام اقوام کو آزادی کی جدوجہد میں راہ نمائی فراہم کی ہے۔ انہوں نے آزادی اور فروغ اسلام کے لیے جدوجہد کے جن خطوط کی طرف امت مسلمہ کی راہ نمائی فرمائی تھی انہیں آج پھر سے سامنے لانے کی ضرورت ہے اور شیخ الہندؒ کے حوالہ سے منعقد ہونے والی اس عظیم الشان کانفرنس میں ہمیں اس کے لیے کوئی لائحہ عمل طے کر لینا چاہیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر شیخ الہندؒ عالمی امن فورم کا قیام

۲۴ دسمبر ۲۰۱۳ء

نفاذ اسلام کی دستوری جدوجہد اور جمعیۃ علماء اسلام

جمعیۃ علماء اسلام کے حوالہ سے میں نے شرکاء کو یاد دلایا کہ ملک میں نفاذ اسلام کے لیے جمعیۃ علماء اسلام کی سابقہ جدوجہد اور مساعی کے ساتھ ساتھ اس بات کو بھی پیش نظر رکھا جائے کہ اس وقت ملک کے ہر شخص کی زبان پر ہے کہ کرپشن سے نجات حاصل کی جائے اور انتخابات کے ذریعہ ایسی قیادت سامنے لائی جائے جو کرپشن سے پاک ہو اور ملک کو کرپشن سے نجات دلا سکے۔ میں نے عرض کیا کہ گزشتہ چند سالوں میں کرپشن کے حوالہ سے تین بڑی بڑی فہرستیں قوم کے سامنے آئی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر نفاذ اسلام کی دستوری جدوجہد اور جمعیۃ علماء اسلام

۲۹ مارچ ۲۰۱۳ء

شیخ الہندؒ اکادمی

جب سے ہم نے اپنے اکابر سے نئی نسل کو متعارف کرانا بلکہ خود ان کی زندگیوں، جدوجہد اور دائرہ کار سے واقفیت حاصل کرنا چھوڑ رکھا ہے ’’اکابر‘‘ کا مفہوم ہی بدلتا جا رہا ہے۔ ہم نے دیوبندیت کے اپنے اپنے دائرے قائم کر رکھے ہیں اور ہر دائرے کے اکابر الگ ہیں۔ پرانے اکابر جو ہمارے اصل اکابر ہیں ان کا مصرف ہمارے ہاں صرف یہ رہ گیا ہے کہ اپنے اپنے طے کردہ دیوبندیت کے دائروں میں ان کا کوئی ارشاد یا عمل ہمیں اپنے مطلب کا مل جاتا ہے تو اپنی ترجیحات کی تائید میں اسے استعمال کر لیا جائے، اس سے زیادہ اکابر کا مفہوم اور مصرف اور کوئی دکھائی نہیں دے رہا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر شیخ الہندؒ اکادمی

۳۱ مئی ۲۰۱۱ء

ملی مجلسِ شرعی کا پسِ منظر اور تعارف

جنوری ۲۰۱۰ء کو لاہور میں ’’ملی مجلس شرعی‘‘ کے زیراہتمام مختلف مکاتب فکر کے سرکردہ علماء کرام اور سول سوسائٹی کے مختلف طبقات کے رہنماؤں کا مشترکہ اجلاس منعقد ہو رہا ہے جس کا مقصد ملک کی خودمختاری کی بحالی کے لیے جدوجہد کو منظم کرنا ہے۔ اس موقع پر ملی مجلس شرعی کا تعارف اور پس منظر پیش خدمت ہے۔ ۳ اگست ۲۰۰۷ء کو تحریک اصلاحِ تعلیم ٹرسٹ کے زیر اہتمام گلبرگ شان اسلام ارقم سکول میں دینی مدارس کے علماء کرام کی ایک ورکشاپ میں یہ خیال سامنے آیا کہ ایک علمی مجلس ایسی ہونی چاہیے جس میں تمام مکاتب فکر کے ثقہ علماء شریک ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ملی مجلسِ شرعی کا پسِ منظر اور تعارف

۱۰ جنوری ۲۰۱۰ء

متحدہ علماء کونسل کا احیا

قوم کے اجتماعی مسائل پر ملک کے دینی حلقوں کا موقف ہمیشہ یکساں رہا ہے جس کا اظہار پاکستان کی گزشتہ ساٹھ سال کی تاریخ میں کئی بار ہوا ہے۔ ملک میں نفاذِ اسلام کا مسئلہ ہو، ختم نبوت کے تحفظ کی بات ہو، متفقہ دستوری نکات کا مرحلہ ہو، شریعت بل کی تحریک ہو، تحفظِ ناموسِ رسالتؐ کا مسئلہ ہو، ملک کے نظریاتی اسلامی تشخص کی بات ہو، نظامِ مصطفٰیؐ کی تحریک ہو، جہاد افغانستان کا معاملہ ہو یا قومی خودمختاری کے تحفظ اور دفاع کا مسئلہ ہو، ہر بار ایسا ہوا ہے کہ ملی و قومی مسائل پر دینی جماعتوں نے متحد ہو کر اپنے موقف کا اعلان کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر متحدہ علماء کونسل کا احیا

۲۳ اکتوبر ۲۰۰۸ء

جمعیۃ علماء اسلام میں اختلافات ۔ پس منظر و پیش منظر

مولانا صاحبزادہ پیر عبد الرحیم نقشبندی گزشتہ دنوں اپنے بعض رفقاء سمیت گوجرانوالہ تشریف لائے اور جمعیۃ علماء اسلام (سمیع الحق گروپ) میں نئے خلفشار کے حوالے سے مجھے کہا کہ میں اس سلسلہ میں اب کوئی متحرک کردار ادا کروں۔ میں نے ان سے عرض کی کہ میں جمعیۃ علماء اسلام کا مسلسل رکن ہوں اور تاحیات اسی جماعت میں رہنا چاہتا ہوں لیکن اس میں کوئی عملی اور متحرک کردار ادا کرنا بوجوہ میرے بس میں نہیں ہے۔ مجھ سے دریافت کیا گیا کہ میں جمعیۃ کے مختلف دھڑوں میں سے کس میں ہوں؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جمعیۃ علماء اسلام میں اختلافات ۔ پس منظر و پیش منظر

۱۵ جنوری ۲۰۰۶ء

حضرت عمرؓ کا نظامِ حکومت اور اسفند یار ولی

اسفند یار خان ولی صاحب کے ارشاد کا خیر مقدم کرتے ہوئے ہم ان سے گزارش کرنا چاہتے ہیں کہ حضرت عمرؓ کا نظام حکومت نافذ کرنے میں اس وقت دو بڑی رکاوٹیں ہیں۔ اور یہ دونوں رکاوٹیں اس قدر بڑی ہیں کہ انہیں متحدہ مجلس عمل صوبائی اسمبلی میں واضح اکثریت رکھنے کے باوجود شاید اکیلی عبور نہ کر سکے۔ اور اس سلسلہ میں قومی اتفاق رائے کے حصول کے لیے ایم ایم اے کو شاید نہیں بلکہ یقیناً اے این پی کے 10 ووٹوں کی حمایت کی ضرورت بھی ایک مرحلہ پر لازماً پیش آسکتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حضرت عمرؓ کا نظامِ حکومت اور اسفند یار ولی

۱۲ دسمبر ۲۰۰۲ء

عام انتخابات میں متحدہ مجلس عمل کی کامیابی

عام انتخابات کے نتائج نے ایک دنیا کو حیران و ششدر کر دیا ہے اور ان کے بارے میں سب کے اندازے غلط ثابت ہوئے ہیں۔ خود میرا اندازہ یہ تھا بلکہ برطانیہ آمد کے بعد اکثر دوست مجھ سے پوچھتے رہے تو میں ان سے یہی کہتا تھا کہ متحدہ مجلس عمل بیس کے لگ بھگ سیٹیں قومی اسمبلی میں حاصل کر پائے گی، اور اگر اسمبلی میں مجلس عمل کی قیادت اسی طرح اکٹھی رہی جس طرح اس الیکشن کیمپین میں اس نے یکجہتی کا اظہار کیا ہے اور اگلے انتخابات تک یہ اتحاد قائم رہا تو مجلس عمل کے ملک گیر سطح پر الیکشن جیتنے کی توقع بھی کی جا سکتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر عام انتخابات میں متحدہ مجلس عمل کی کامیابی

۱۶ اکتوبر ۲۰۰۲ء

مجلس احرار اسلام ۔ پس منظر اور جدوجہد

جب استنبول میں خلافت عثمانیہ کا خاتمہ ہوا اور مصطفی کمال اتاترک نے آخری عثمانی خلیفہ کو جلاوطن کر کے خلافت کا باب بند کر دیا تو خلافت کے تحفظ کے لیے متحدہ ہندوستان میں چلائی جانے والی تحریک بھی غیر مؤثر ہوگئی۔ اس کے ساتھ ہی قومی سطح پر تحریک آزادی کے حوالہ سے بعض مسائل پر مرکزی تحریک خلافت اور پنجاب کی تحریک خلافت میں اختلافات نمودار ہونے لگے۔ اس کے نتیجے میں پنجاب کی تحریک خلافت کے لیڈروں نے مرکز سے اپنا راستہ الگ کرتے ہوئے ’’مجلس احرار اسلام ہند‘‘ کے نام سے ایک نیا پلیٹ فارم قائم کر لیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مجلس احرار اسلام ۔ پس منظر اور جدوجہد

۷ مئی ۱۹۹۹ء

ورلڈ اسلامک فورم کے پہلے باضابطہ اجلاس کا دعوت نامہ

باسمہ سبحانہ۔ بگرامی خدمت، زید لطفکم۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مزاج گرامی؟ گزارش ہے کہ کافی عرصہ سے اس امر کی ضرورت محسوس کی جا رہی تھی کہ اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں مغربی میڈیا اور اسلام دشمن لابیوں کے معاندانہ پراپیگنڈا کا سائنٹیفک انداز میں جائزہ لیا جائے اور اس کے توڑ کے لیے منظم کام کیا جائے۔ نیز یورپ میں مقیم مسلمانوں بالخصوص مشرقی یورپ کے کمیونزم سے آزاد ہونے والے ممالک کی مسلم اقلیتوں کی دینی ضروریات کا حقیقت پسندانہ جائزہ لے کر اس کے مطابق ضروری لٹریچر کی اشاعت و تقسیم کا اہتمام کیا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ورلڈ اسلامک فورم کے پہلے باضابطہ اجلاس کا دعوت نامہ

اکتوبر ۱۹۹۶ء

پاکستان شریعت کونسل کی مرکزی مجلس شورٰی کا تاسیسی اجلاس

پاکستان شریعت کونسل نے ملک میں نوآبادیاتی نظام کے خاتمہ، عورت کی حکمرانی سے نجات اور اسلامی نظام کے عملی نفاذ کے لیے دینی حلقوں کے تعاون کے ساتھ عوامی تحریک منظم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور مولانا فداء الرحمان درخواستی کو کونسل کا امیر اور مولانا زاہد الراشدی کو سیکرٹری جنرل منتخب کر کے مارچ ۱۹۹۷ء کے دوران لاہور میں ملک گیر سطح پر ’’نظام شریعت کنونشن ‘‘ منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ فیصلے پاکستان شریعت کونسل کی مرکزی مجلس شوریٰ کے تاسیسی اجلاس میں کیے گئے جو ۱۳ و ۱۴ اگست ۱۹۹۶ء کو مدنی مسجد لنگر کسی بھوربن مری میں منعقد ہوا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر پاکستان شریعت کونسل کی مرکزی مجلس شورٰی کا تاسیسی اجلاس

اکتوبر ۱۹۹۶ء

پاکستان شریعت کونسل کے قیام کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

اسلامی جمہوریہ پاکستان میں نوآبادیاتی نظام کے خاتمہ، اسلامی نظام کے نفاذ، قومی خودمختاری کے تحفظ اور مغرب کی نظریاتی و ثقافتی یلغار کے مقابلہ کے لیے رائے عامہ کو بیدار و منظم کرنے کی غرض سے ’’پاکستان شریعت کونسل‘‘ کے قیام کا اعلان سامنے آیا تو مختلف حلقوں کی طرف سے اس سوال کا اٹھایا جانا ایک فطری امر تھا کہ آخر ان مقاصد کے لیے ایک نئی جماعت کے قیام کی ضرورت کیوں محسوس کی گئی؟ بعض دوستوں کا خیال ہے کہ پہلے سے موجود بیسیوں جماعتوں میں ایک نئی جماعت کا اضافہ کوئی ضروری امر نہیں تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر پاکستان شریعت کونسل کے قیام کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

اکتوبر ۱۹۹۶ء

ملی یکجہتی کونسل پاکستان کا قیام

پاکستان کا اسلامی تشخص اور اس کے دستور کی نظریاتی بنیادیں ان عالمی قوتوں کو مسلسل کھٹک رہی ہیں جو کمیونزم کے خاتمہ کے بعد اسلام کو ویسٹرن سولائزیشن اور مغرب کی بالادستی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ سمجھتی ہیں اور اسلامی قوتوں کو بنیاد پرست اور دہشت گرد قرار دے کر ان کے خلاف فیصلہ کن اقدامات کی تیاریاں کر رہی ہیں۔ ان قوتوں کی خواہش اور کوشش یہ ہے کہ عالم اسلام بھی کھلے دل کے ساتھ مغرب کے مادہ پرستانہ فلسفہ، اجتماعیات سے مذہب کی لاتعلقی، اباحت مطلقہ پر مبنی فری سوسائٹی اور بے قید معاشرت کو قبول کر لے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ملی یکجہتی کونسل پاکستان کا قیام

اپریل ۱۹۹۵ء

کچھ حزب التحریر کے بارے میں

ان دنوں برطانیہ کے قومی ذرائع ابلاغ میں ’’حزب التحریر‘‘ کا تذکرہ چل رہا ہے اور 7 اگست 1994ء کو ویمبلے کانفرنس ہال لندن میں حزب التحریر کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی ’’بین الاقوامی خلافت کانفرنس‘‘ کے حوالہ سے مختلف امور زیر بحث ہیں۔ اس کانفرنس میں برطانیہ بھر سے ہزاروں مسلمانوں نے شرکت کی جن میں یونیورسٹیوں کے طلبہ اور طالبات نمایاں تھے جس سے یہ تاثر عام ہوا کہ حزب التحریر کو برطانیہ کے پڑھے لکھے مسلمانوں میں گہرا اثر و رسوخ حاصل ہے۔ اسی وجہ سے سیاسی و مذہبی حلقوں میں حزب التحریر سنجیدہ گفتگو کا موضوع بنی ہوئی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر کچھ حزب التحریر کے بارے میں

اکتوبر ۱۹۹۴ء

ورلڈ اسلامک فورم کا قیام

پاکستان سے میری طویل غیر حاضری اور لندن میں قیام کے مقاصد میں سے ایک اہم مقصد کی طرف بحمد اللہ تعالیٰ پیش رفت ہوئی ہے اور چند اصحاب فکر نے راقم الحروف کی دعوت پر لبیک کہتے ہوئے ’’ورلڈ اسلامک فورم‘‘ کے نام سے ایک نیا فکری حلقہ قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ’’الشریعہ‘‘ کے قارئین گواہ ہیں کہ راقم الحروف نے علمائے کرام اور دینی تحریکات کے قائدین کی خدمت میں ہمیشہ یہ عرض کیا ہے کہ اسلام کے غلبہ و نفاذ کی جدوجہد میں مؤثر پیش قدمی کے لیے ضروری ہے کہ اسلام کے حوالہ سے مغربی فلسفہ کا مکمل ادراک حاصل کیا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ورلڈ اسلامک فورم کا قیام

جنوری ۱۹۹۳ء

جمعیۃ علماء اسلام کی جدوجہد کا نظریاتی اور تاریخی پس منظر

قراردادِ مقاصد کی منظوری اور علماء کے ۲۲ دستوری نکات سامنے آنے کے بعد قوم کو یہ توقع ہوگئی تھی کہ اب نفاذِ اسلام کی طرف عملی پیش رفت ہوگی لیکن خان لیاقت علی خانؒ کی شہادت اور علامہ شبیر احمدؒ عثمانی کی وفات کے بعد بات آگے نہ بڑھ سکی۔ مسلم لیگ اس کے بعد اقتدار کی کشمکش اور کرسیوں کی اکھاڑ پچھاڑ میں مصروف ہوگئی اور جمعیۃ علماء اسلام نئی قیادت کی تلاش میں سرگرداں رہی۔ ۱۹۵۷ء میں حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ، حضرت مولانا عبد اللہ درخواستی مدظلہ، مولانا مفتی محمودؒ اور مولانا غلام غوث ہزارویؒ نے آگے بڑھ کر جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کی زمامِ کار کو اپنے ہاتھ میں لیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جمعیۃ علماء اسلام کی جدوجہد کا نظریاتی اور تاریخی پس منظر

۲۲ مئی ۱۹۹۲ء

تحریک نفاذ فقہ جعفریہ ۔ نفاذ اسلام کی جدوجہد میں معاون یا رکاوٹ؟

ایرانی انقلاب کے بعد ’’تحریک نفاذ فقہ جعفریہ‘‘ کی بنیاد رکھ دی گئی اور مطالبہ یہ ہوا کہ پرسنل لاء میں نہیں بلکہ پورے قانونی نظام میں فقہ جعفریہ کو متوازی قانون کے طور پر نافذ کیا جائے۔ اس مطالبہ کے لیے تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے دو گروپ کام کر رہے ہیں اور دونوں خود کو انقلاب ایران کا نمائندہ قرار دیتے ہیں۔ دونوں گروپوں نے اس بنیاد پر سینٹ میں زیر بحث ’’شریعت بل‘‘ کی مخالفت کی۔ اور تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے میدان عمل میں آنے کا منطقی اور نظریاتی نتیجہ یہ سامنے آیا کہ شریعت اسلامیہ کی بالادستی اور نفاذ کا مطالبہ فرقہ وارانہ مطالبہ قرار دے دیا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر تحریک نفاذ فقہ جعفریہ ۔ نفاذ اسلام کی جدوجہد میں معاون یا رکاوٹ؟

فروری ۱۹۹۰ء

جمعیۃ علماء اسلام کی جدوجہد کا نظریاتی اور تاریخی پس منظر

جمعیۃ علماء اسلام پاکستان علماء کرام، دینی کارکنوں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے ان مسلمانوں کی ملک گیر تنظیم ہے جو وطن عزیز میں قرآن و سنت اور خلافت راشدہ کی روشنی و راہنمائی میں مکمل اسلامی نظام نافذ کرنے کی جدوجہد میں مصروف عمل ہیں۔ جمعیۃ کا تعلق علماء حق کے اس عظیم گروہ سے ہے جس نے برصغیر پاکستان، ہندوستان اور بنگلہ دیش پر برٹش استعمار کے تسلط کے بعد آزادی کی دو سو سالہ جنگ کی قیادت کی اور قربانی و ایثار کی تاریخ میں نئے ابواب کا اضافہ کرتے ہوئے بالآخر برطانوی سامراج کو اس خطہ سے بوریا بستر سمیٹنے پر مجبور کر دیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جمعیۃ علماء اسلام کی جدوجہد کا نظریاتی اور تاریخی پس منظر

۴ مارچ ۱۹۸۸ء

اسلام کی تشریح اور پیپلز پارٹی ۔ علماء کرام توجہ فرمائیں!

پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بے نظیر بھٹو نے پولیٹیکل پارٹیز ایکٹ میں ترامیم کے خلاف سپریم کورٹ میں جو آئینی پٹیشن دائر کر رکھی ہے اس پر سپریم کورٹ کے گیارہ رکنی فل بینچ نے گیارہ روز بحث کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔ رٹ پٹیشن کے دوران بے نظیر بھٹو کے وکیل اور پیپلز پارٹی کے راہنما جناب یحییٰ بختیار نے دیگر متعلقہ امور کے علاوہ نظریۂ پاکستان کے حوالہ سے اسلام کی تعبیر و تشریح کے بارے میں اپنی پارٹی کا نقطۂ نظر بھی عدالت کے سامنے پیش کیا ہے جو بلاشبہ اس اہم اور نازک مسئلہ پر پیپلز پارٹی کے باضابطہ اور ذمہ دارانہ موقف کی حیثیت رکھتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اسلام کی تشریح اور پیپلز پارٹی ۔ علماء کرام توجہ فرمائیں!

۲۶ فروری ۱۹۸۸ء

بڑھتے ہی چلو کہ اب ڈیرے منزل پہ ڈالے جائیں گے

جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے زیر اہتمام ’’کل پاکستان نظام شریعت کانفرنس‘‘ ۴ مارچ ۱۹۸۸ء کو مینارِ پاکستان کے وسیع گراؤنڈ میں منعقد ہو رہی ہے اور مرکزی دفتر میں موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ملک کے چاروں صوبوں، آزاد کشمیر اور آزاد قبائل میں شریعت اسلامیہ کی بالادستی کے علمبردار پورے جوش و خروش کے ساتھ کانفرنس میں شرکت کے لیے تیاریاں کر رہے ہیں۔ مینارِ پاکستان کا یہ گراؤنڈ وہی تاریخی میدان ہے جس میں ۱۹۴۰ء میں مسلم لیگ نے دو قومی نظریہ کے تحت مسلمانوں کے لیے الگ وطن کے مطالبے پر مشتمل ’’قراردادِ پاکستان‘‘ منظور کی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر بڑھتے ہی چلو کہ اب ڈیرے منزل پہ ڈالے جائیں گے

فروری ۱۹۸۸ء ۔ جلد ۳۱ شمارہ ۹ و ۱۰

جمعیۃ علماء اسلام، تاریخ کے پس منظر میں

جمعیۃ علماء اسلام حق پرست علماء اور دین دار کارکنوں کی ایسی تنظیم ہے جس کی فکری بنیاد علماء کے شاندار ماضی اور اہل حق کے مجاہدانہ کردار پر ہے۔ جمعیۃ علماء اسلام اپنی موجودہ ہیئت و حیثیت میں دراصل اسی قافلۂ حق و صداقت اور کاروانِ عزمِ وفا کا ایک حصہ ہے جس نے برصغیر پاک و ہند و بنگلہ دیش میں فرنگی حکومت و نظام کے خلاف جرأت مندانہ جنگ لڑی، اور اب فرنگی حکومت سے آزادی حاصل کر لینے کے بعد فرنگی نظام سے چھٹکارا حاصل کرنے اور اس کی جگہ اسلام کا عادلانہ نظام نافذ و رائج کرنے کی مقدس جدوجہد میں مصروف ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جمعیۃ علماء اسلام، تاریخ کے پس منظر میں

۳ فروری ۱۹۷۸ء

جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کی تنظیم نو اور اس کے تقاضے

قائد جمعیۃ حضرت مولانا مفتی محمود صاحب مدظلہ نے جمعیۃ علماء اسلام پنجاب کے ضلعی عہدہ داروں کے اجلاس اور بعد ازاں کارکنوں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے جمعیۃ کی تنظیم نو کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور فرمایا کہ آج کے دور میں دین اسلام کی سربلندی اور معاشرہ کی اصلاح کے لیے سیاسی قوت کا حصول ضروری ہے۔ حضرت مفتی صاحب کا یہ ارشاد بالکل بجا ہے اس لیے کہ آج کی دنیا سیاست کی دنیا ہے اور سیاسی قوت ہی آج دنیا سے اپنی بات منوا سکتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کی تنظیم نو اور اس کے تقاضے

۲۹ جون ۱۹۷۳ء