تاریخ

دولت فاطمیہ

حضرت امام جعفر صادقؒ کی وفات کے بعد اہل تشیع دو حصوں میں بٹ گئے تھے۔ ایک گروہ نے ان کے فرزند امام موسیٰ کاظمؒ کو ان کے جانشین کے طور پر امام تسلیم کر لیا۔ اس اکثریتی گروہ نے امام موسیٰ کاظمؒ کے بعد بارہویں امام تک امام حاضر، اور پھر بارہویں امام کے غائب ہو جانے پر ’’امام غائب‘‘ کی مسلسل امامت کے ساتھ اثنا عشریہ کا عنوان اختیار کر رکھا ہے۔ جبکہ دوسرے گروہ نے امام جعفر صادقؒ کے بڑے بیٹے امام اسماعیلؒ کو، جو اُن کی زندگی میں ہی وفات پا چکے تھے، ان کا جانشین قرار دیتے ہوئے ان کے فرزند محمدؒ (امام جعفر صادقؒ کے پوتے) کو اپنا امام بنا لیا۔ یہ گروہ اسماعیلی کہلاتا ہے جو آج تک امام حاضر کے تسلسل کے ساتھ دنیا میں موجود ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر دولت فاطمیہ

۱۰ اکتوبر ۲۰۱۴ء

اسرائیل کے قیام اور بقا کی جدوجہد

1918ء سے 1948ء تک برطانیہ نے فلسطین میں یہودیوں کی آمد اور آبادی کی سرپرستی کرکے ’’اعلان بالفور‘‘ کے ذریعہ کیا گیا وعدہ پورا کیا۔ اور جب دیکھا کہ فلسطین کا ایک بڑا حصہ یہودی خرید چکے ہیں تو 15 مئی 1948ء کو فلسطین کا علاقہ یہودیوں اور فلسطینیوں کے درمیان تقسیم کرنے کا اعلان کر کے برطانیہ وہاں سے چلا گیا ۔ ۔ ۔ 1967ء کی عرب اسرائیل جنگ میں اسرائیل نے (مصر، شام اور اردن کے دیگر علاقوں کے ساتھ) یروشلم کے مشرقی حصے اور مسجد اقصیٰ پر بھی قبضہ کر لیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اسرائیل کے قیام اور بقا کی جدوجہد

۲۹ جولائی ۲۰۱۳ء

ملالہ اور ملالئے

اقوام متحدہ نے گزشتہ دنوں ’’ملالہ ڈے‘‘ منایا اور مختلف ممالک میں اس حوالہ سے تقریبات کا انعقاد کیا گیا۔ خود ملالہ یوسف زئی نے بھی ایک بڑی تقریب سے خطاب کیا اور کہا کہ وہ نوجوانوں کے ہاتھ میں کلاشنکوف کی جگہ قلم اور کتاب پکڑانا چاہتی ہیں۔ یہ خواہش بہت معصوم سی ہے اور ملالہ جیسی بھولی بھالی بچیوں کی زبانوں پر ہی آسکتی ہے، جبکہ مغرب اس بچی کی معصومیت اور اس کی معصوم خواہش کو ایکسپلائیٹ کر کے جو فوائد حاصل کرنا چاہتا ہے اور کر رہا ہے، محاورے کی زبان میں اس کی ملالہ یوسف زئی کے فرشتوں کو بھی خبر نہیں ہوگی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ملالہ اور ملالئے

۲۱ جولائی ۲۰۱۳ء

تحریک ریشمی رومال اور گوجرانوالہ۔ ایک وضاحت

شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندی کی تحریک ریشمی رومال میں گوجرانوالہ کے کردار کے بارے میں گزشتہ ایک کالم میں کچھ معروضات پیش کر چکا ہوں۔ اس سلسلہ میں ہمارے اہل حدیث دوست مولانا حافظ ابرار احمد ظہیر نے ایک فروگزاشت کی طرف توجہ دلائی ہے جس پر ان کا شکر گزار ہوں۔ ان کا کہنا ہے کہ جس ’’قاضی کوٹ‘‘ کا ذکر اس تحریک کے سلسلہ میں ریکارڈ میں آتا ہے وہ گوجرانوالہ سے قلعہ دیدار سنگھ جاتے ہوئے راستہ میں آنے والا قاضی کوٹ نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر تحریک ریشمی رومال اور گوجرانوالہ۔ ایک وضاحت

۱۷ جنوری ۲۰۱۲ء

حرمین شریفین سے دارالعلوم دیوبند تک

حرمین شریفین کے امام محترم معالی الدکتور الشیخ عبد الرحمان السدیس حفظہ اللہ تعالیٰ ان دنوں بھارت کے دورے پر ہیں۔ انہوں نے بہت سے دیگر پروگراموں میں شریک ہونے کے علاوہ جمعۃ المبارک کا خطبہ دارالعلوم دیوبند کی جامع مسجد الرشید میں دیا اور دہلی میں جمعیۃ علماء ہند کی کانفرنس سے خطاب کیا۔ شیخ السدیس کو حرمین شریفین کا امام محترم ہونے کے ساتھ ساتھ قرآن کریم کی پرسوز تلاوت کے حوالے سے بھی پورے عالم اسلام میں محبوبیت کا مقام حاصل ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر حرمین شریفین سے دارالعلوم دیوبند تک

۳۱ مارچ ۲۰۱۱ء

ضلع گوجرانوالہ کی دلچسپ تاریخ

شبیر احمد میواتی گزشتہ دنوں آئے تو مجلس میں حافظ محمد عمار خان ناصر، ڈاکٹر انوار احمد اور پروفیسر میاں انعام الرحمان موجود تھے۔ ان کے ہاتھ میں حسب معمول کتابوں کی زنبیل دیکھ کر پہلے تو میاں انعام الرحمان کا جی للچایا پھر میں نے بھی نقاب کشائی کا تقاضا کر دیا۔ ہمیشہ کی طرح کئی نئی کتابیں دیکھنے کو ملیں جن میں ’’گوجرانوالہ کے ضلع کا جغرافیہ‘‘ کے نام سے ایک چھوٹی سی پرانی کتاب بھی تھی جو میں نے رکھ لی۔ آج اس کتاب کے مطالعہ میں قارئین کو اپنے ساتھ شریک کرنا چاہتا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ضلع گوجرانوالہ کی دلچسپ تاریخ

۲۷ مارچ ۲۰۱۱ء

غلامی کے مسئلہ پر ایک نظر

غلامی کا رواج قدیم دور سے چلا آ رہا ہے۔ بعض انسانوں کو اس طور پر غلام بنا لیا جاتا تھا کہ وہ اپنے مالکوں کی خدمت پر مامور ہوتے تھے، ان کی خرید وفروخت ہوتی تھی، انھیں آزاد لوگوں کے برابر حقوق حاصل نہیں ہوتے تھے اور اکثر اوقات ان سے جانوروں کی طرح کام لیا جاتا تھا۔ جدید دنیا میں بھی ایک عرصے تک غلامی کا رواج رہا۔ ریاستہائے متحدہ امریکہ میں، جسے جدید دنیا کی علامت کہا جاتا ہے، غلامی کو باقاعدہ ایک منظم کاروبار کی حیثیت حاصل تھی۔ افریقہ سے بحری جہازوں میں افراد کو بھر کر لایا جاتا تھا اور امریکہ کی منڈیوں میں فروخت کیا جاتا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر غلامی کے مسئلہ پر ایک نظر

اکتوبر ۲۰۰۶ء

لندن بم دھماکے اور مشرق وسطیٰ میں نوے سالہ برطانوی تاریخ

برطانیہ میں خودکش بم دھماکوں کے ردعمل کا سلسلہ جاری ہے اور تازہ ترین خبروں کے مطابق دوسری جنگ عظیم کے بعد لندن کی تاریخ کا سب سے بڑا کریک ڈاؤن اور آپریشن شروع ہو چکا ہے جس میں چھ ہزار کے قریب سپاہی حصہ لے رہے ہیں۔ یہ آپریشن دہشت گردوں کی تلاش، ان کے نیٹ ورک کا سراغ لگانے اور مستقبل میں دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لیے کیا جا رہا ہے جو حفاظتی نقطۂ نظر سے انتہائی ضروری سمجھا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر لندن بم دھماکے اور مشرق وسطیٰ میں نوے سالہ برطانوی تاریخ

۱۰ اگست ۲۰۰۵ء

کشمیر کی تاریخ پر ایک نظر

پانچ فروری کو پاکستان میں کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کا دن منایا جا رہا ہے۔ یہ دن ہر سال قومی سطح پر منایا جاتا ہے، قوم کے مختلف طبقات عام جلسوں، ریلیوں، مذاکرات اور مضامین و بیانات وغیرہ کی صورت میں کشمیری عوام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھنے کا عزم دہراتے ہیں اور ان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔ ریاست جموں و کشمیر کے عوام نصف صدی سے زیادہ عرصہ سے اس جدوجہد میں مصروف ہیں کہ بھارت اقوام متحدہ کے فورم پر ان کے ساتھ کیا گیا یہ وعدہ پورے کرے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر کشمیر کی تاریخ پر ایک نظر

۲ فروری ۲۰۰۵ء

یومِ شہدائے بالاکوٹ

ہنٹر نے لکھا ہے کہ ہم نے کس طرح ان مجاہدین کو ’’وہابی‘‘ کہہ کر بدنام کرنے کی سازش کی اور مقامی آبادی کو ان سے متنفر کیا۔ چنانچہ انگریزوں کی حکمت عملی کامیاب رہی اور وہ صرف چھ ماہ کے عرصہ میں پشاور کے علاقہ میں مجاہدین اسلامی حکومت کے خلاف سادہ لوح عام مسلمانوں میں بغاوت کے جراثیم پیدا کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ اس پر مجاہدین نے پشاور کے متبادل کے طور پر مظفر آباد کا انتخاب کیا اور وہاں کے علماء کرام اور دیندار مسلمانوں سے رابطہ کر کے مظفر آباد میں منتقل ہونے کا پروگرام بنا لیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر یومِ شہدائے بالاکوٹ

۶ مئی ۲۰۰۳ء

بغداد کی تاریخ پر ایک نظر

دجلہ کے کنارے بغداد نامی بستی کافی عرصہ سے آباد تھی جس کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ یہ ’’بغ‘‘ نامی ایک بت سے منسوب تھی جبکہ ’’داد‘‘ فارسی کا لفظ ہے جس کا معنی ’’عطیہ‘‘ ہے۔ اس طرح اس کا معنٰی بنتا ہے ’’بغ کا عطیہ‘‘۔ بعض مورخین نے لکھا ہے کہ ’’بغ‘‘ کا لفظ اللہ تعالیٰ کے لیے بھی بولا جانے لگا تھا اس لیے یہ ’’اللہ تعالیٰ کا عطیہ‘‘ کے معنی میں ہے۔ اور بعض مورخین کی نکتہ رسی نے اسے ’’باغ داد‘‘ کی صورت میں پیش کیا ہے اور بتایا ہے کہ نوشیرواں عادل اس جگہ باغ میں بیٹھ کر داد انصاف دیا کرتا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر بغداد کی تاریخ پر ایک نظر

۱۵ اپریل ۲۰۰۳ء

خلافت عثمانیہ کے خاتمہ میں یہودی کردار

روزنامہ نوائے وقت لاہور نے ایک اسرائیلی اخبار کے حوالہ سے خبر دی ہے کہ اسرائیل کے وزیر دفاع جنرل موفاذ نے کہا ہے کہ چند روز تک عراق پر ہمارا قبضہ ہوگا اور ہمارے راستے میں جو بھی رکاوٹ بنے گا اس کا حشر عراق جیسا ہی ہوگا۔ جنرل موفاذ نے خلافت عثمانیہ کا حوالہ بھی دیا ہے کہ عثمانی خلیفہ سلطان عبد الحمید نے ہمیں فلسطین میں جگہ دینے سے انکار کیا تھا جس کی وجہ سے ہم نے نہ صرف ان کی حکومت ختم کر دی بلکہ عثمانی خلافت کا بستر ہی گول کر دیا۔ اب جو اسرائیل کی راہ میں مزاحم ہوگا اسے اسی انجام سے دو چار ہونا پڑے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر خلافت عثمانیہ کے خاتمہ میں یہودی کردار

۱۷ مارچ ۲۰۰۳ء

ملتان، احمد شاہ ابدالی کا شہر

ملتان ایک پرانا اور تاریخی شہر ہے جس کا ذکر قبل از مسیح دور کی تاریخ میں اسی نام سے ملتا ہے اور تاریخ کی بہت سی یادیں اس شہر سے وابستہ ہیں۔ خلافت بنو امیہ کے دور میں جب اسلامی فوجیں ۴۴ھ میں سجستان اور مکران پر قابض ہوئیں تو مسلم کمانڈر ابن المہلبؒ کے بارے میں تذکرہ ملتا ہے کہ وہ آگے بڑھتے ہوئے ملتان تک پہنچا لیکن اس شہر پر قبضہ نہ کر سکا۔ اس کے بعد جب سندھ کے راجہ داہر کے خلاف محمد بن قاسمؒ کی قیادت میں اسلامی فوجوں نے یلغار کی اور سندھ کو فتح کرتے ہوئے محمد بن قاسمؒ نے پیش قدمی جاری رکھی تو ۹۵ھ میں اس نے ملتان کا محاصرہ کر لیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ملتان، احمد شاہ ابدالی کا شہر

۱۱ اگست ۲۰۰۲ء

افغان طالبان اور سلطان ٹیپو شہیدؒ ۔ تاریخی مماثلت

اگر خدانخواستہ طالبان کا وجود ختم بھی ہوگیا اور وہ افغانستان کا کنٹرول دوبارہ حاصل نہ کر سکے تو بھی تاریخ میں ان کا یہ کردار کم نہیں ہے کہ انہوں نے ساری دنیا کی مخالفت اور دشمنی کے باوجود افغانستان میں اسلامی احکام و قوانین کے نفاذ اور اس کی برکات کا عملی نمونہ آج کے دور میں دنیا کو دکھا دیا۔ اور شرعی قوانین کے ذریعہ ایک تباہ شدہ معاشرہ میں مکمل امن قائم کر کے ثابت کر دیا ہے کہ آج بھی انسانی سوسائٹی کو امن قرآن و سنت کے فطری قوانین کے ذریعہ ہی مل سکتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر افغان طالبان اور سلطان ٹیپو شہیدؒ ۔ تاریخی مماثلت

۱۰ دسمبر ۲۰۰۱ء

خلافت عثمانیہ کا خاتمہ ۔ عربوں کا برطانیہ کے ساتھ تعاون

برطانوی استعمار نے خلافت عثمانیہ کے خاتمہ اور عربوں کو خلافت سے بے زار کرنے کے لیے مختلف عرب گروپوں سے سازباز کی تھی اور نہ صرف لارنس آف عریبیہ بلکہ اس قسم کے بہت سے دیگر افراد و اشخاص کے ذریعہ عرب قومیت اور خود عربوں کے داخلی دائرہ میں مختلف علاقائی و طبقاتی عصبیتوں کو ابھارنے کے لیے ایک وسیع نیٹ ورک قائم کر رکھا تھا۔ یہ اسی تگ و دو کا نتیجہ ہے کہ خلافت عثمانیہ کا صدیوں تک حصہ رہنے والی عرب دنیا آج چھوٹے چھوٹے بے حیثیت ممالک میں بٹ کر رہ گئی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر خلافت عثمانیہ کا خاتمہ ۔ عربوں کا برطانیہ کے ساتھ تعاون

۱۸ جنوری ۲۰۰۱ء

جابر حکمران کے سامنے کلمۂ حق کہنے کی روایت

خلیفہ ہارون الرشید کو ایک دفعہ مسجد نبویؐ میں حضرت امام مالکؒ کی مجلس میں حدیث رسولؐ پڑھنے کا شوق ہوا تو وہ اپنے صاحبزادوں سمیت حاضر ہوا۔ امام مالکؒ کی مجلس عروج پر تھی۔ خلیفۂ وقت نے گزارش کی کہ وہ آپ کی خدمت میں چند احادیث پڑھنا چاہتا ہے مگر دوسرے لوگوں کو تھوڑی دیر کے لیے یہاں سے اٹھا دیا جائے۔ امام مالکؒ نے جواب دیا کہ ’’اگر خواص کی خاطر عوام کو محروم کر دیا جائے گا تو پھر خود خواص کو بھی کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا۔‘‘ یہ کہہ کر امام مالکؒ نے مجلس میں حدیث رسولؐ کی قرأت کرنے کے لیے شاگرد کو پڑھنے کی ہدایت دی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جابر حکمران کے سامنے کلمۂ حق کہنے کی روایت

۲۴ نومبر ۲۰۰۰ء

القدس کا تاریخی پس منظر

بیت اللہ کی طرح بیت المقدس بھی سیدنا حضرت ابراہیمؑ نے تعمیر کیا اور اس کی تعمیر بیت اللہ کے چالیس سال بعد ہوئی۔ حضرت ابراہیمؑ نے مکہ مکرمہ میں بیت اللہ تعمیر کر کے وہاں اپنے ایک بیٹے حضرت اسماعیلؑ کو بسایا جبکہ فلسطین میں بیت المقدس تعمیر کر کے وہاں دوسرے بیٹے حضرت اسحاقؑ کو بسا دیا۔ حضرت اسحاقؑ کی اولاد میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کا عظیم الشان سلسلہ قائم فرمایا۔ ’’اسرائیل‘‘ حضرت یعقوبؑ کا لقب تھا اور انہی کی اولاد کو بنی اسرائیل کہا جاتا ہے۔ اس خاندان کو اپنے دور میں اللہ تعالیٰ نے بہت سی عظمتوں سے نوازا اور دین و دنیا کی شوکتیں عطا فرمائیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر القدس کا تاریخی پس منظر

۱۷ نومبر ۲۰۰۰ء

امیر امان اللہ خان اور افغانستان میں مغربی ثقافت کی ترویج

امیر امان اللہ خان افغانستان میں سیاسی اور ثقافتی انقلاب برپا کرنا چاہتے تھے جس کے لیے انہوں نے یورپ کے مختلف ممالک کا دورہ کیا اور وہاں کے جدید کلچر سے اس قدر متاثر ہوئے کہ یورپی ثقافت کو افغانستان میں طاقت کے زور پر رائج کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ عزیز ہندی کے بقول امان اللہ خان نے سردار محمود خان یاور کے ذمہ لگا رکھا تھا کہ وہ ان کے واپس آنے تک افغانستان میں رائے عامہ کو ثقافتی انقلاب کے لیے ہموار کرنے کی کوشش کریں اور خاص طور پر آزاد خیالی اور برہنہ روئی کا پرچار کریں۔ برہنہ روئی کا مطلب یہ ہے کہ وہ عورتوں کے لیے پردہ کو ضروری نہیں سمجھتے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر امیر امان اللہ خان اور افغانستان میں مغربی ثقافت کی ترویج

۹ دسمبر ۱۹۹۹ء

سلطنت برطانیہ اور آل سعود کے درمیان معاہدہ

تاریخ کا وہ حصہ میری خصوصی دلچسپی کا موضوع ہے جس کا تعلق اب سے دو صدیاں پہلے کی دو عظیم مسلم سلطنتوں خلافت عثمانیہ اور سلطنت مغلیہ کے خلاف یورپی ملکوں کی سازشوں سے ہے۔ اور اس حوالہ سے وقتاً فوقتاً ان کالموں میں کچھ لکھتا بھی رہتا ہوں۔ اسی مناسبت سے مجھے ایک معاہدہ کی تفصیلات کی تلاش تھی جو برطانوی حکومت اور آل سعود کے درمیان ہوا تھا اور جس پر اب تک بدستور عمل ہو رہا ہے ۔ ۔ ۔ یہ معاہدہ قارئین کے سامنے لانا چاہتا ہوں مگر پہلے اس کا تھوڑا سا پس منظر واضح کرنا بھی ضروری ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سلطنت برطانیہ اور آل سعود کے درمیان معاہدہ

۲۴ نومبر ۱۹۹۹ء

فلسطین میں یہودیوں کی آبادکاری اور خلافتِ عثمانیہ

عالمی یہودی تحریک کے نمائندہ لارنس اولیفینٹ نے پیشکش کی کہ اگر یہودیوں کو فلسطین میں آباد کاری کی سہولت فراہم کر دی جائے تو اس کے عوض یہودی سرمایہ کار سلطنت عثمانیہ کی تمام مشکلات میں ہاتھ بٹانے کے لیے تیار ہیں۔ سلطان عبد الحمید مرحوم نے کہا کہ یورپی ملکوں سے نکالے جانے والے یہودیوں کو سلطنت عثمانیہ کے کسی بھی حصہ میں آباد ہونے کی اجازت دینے کے لیے تیار ہیں، مگر فلسطین میں چونکہ یہودی ریاست قائم کرنے کا منصوبہ ان کے ذہنوں میں ہے اس لیے اس خطہ میں کسی یہودی کو آباد ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر فلسطین میں یہودیوں کی آبادکاری اور خلافتِ عثمانیہ

۱۶ نومبر ۱۹۹۹ء

مصطفیٰ کمال اتاترک اور جدید ترکی

مصطفیٰ کمال اتاترک جدید ترکیہ کے بانی اور معمار ہیں جنہوں نے اب سے پون صدی قبل جمہوریہ ترکیہ کی بنیاد رکھی اور ترکی اس کے بعد سے انہی کے متعین کردہ خطوط پر پوری سختی کے ساتھ گامزن ہے۔ انہوں نے ایک طرف یورپی ملکوں بالخصوص یونان کا مقابلہ کرتے ہوئے ترکی کی داخلی خودمختاری کی حفاظت کی اور بیرونی حملہ آوروں کو نکال کر ترکی کی وحدت کا تحفظ کیا جبکہ دوسری طرف خلافت عثمانیہ کا خاتمہ کر کے ترکی کو عالم اسلام سے بھی الگ کر لیا۔ وہ ترک قوم پرستی کے علمبردار تھے اور انہوں نے اس بنیاد پر ترک قوم کو بیدار کرنے اور ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مصطفیٰ کمال اتاترک اور جدید ترکی

۱۱ نومبر ۱۹۹۹ء

قاہرہ پر برطانوی فوج کے قبضے کا پس منظر

نہر سویز کی کھدائی فرانسیسی ماہرین نے کی تھی لیکن حکومت برطانیہ پہل کر گئی اور اس نے یہ حصص خرید لیے۔ مگر نہر سویز کے یہ حصص فروخت کر کے بھی قرضوں کی ادائیگی نہ ہو سکی جس کے نتیجہ میں اسماعیل پاشا نے 1876ء میں سرکاری ہنڈیوں پر لوگوں کو رقوم کی ادائیگی روک دی اور ملک میں خلفشار کی کیفیت پیدا ہوگئی۔ قرض دینے والے یورپی ملکوں نے قرض خواہوں کے مفادات کے تحفظ کے عنوان سے مشترکہ طور پر ایک نگران کمیشن قائم کر لیا جس نے مصر کے مالی معاملات میں مداخلت کر کے دباؤ بڑھانا شروع کر دیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر قاہرہ پر برطانوی فوج کے قبضے کا پس منظر

۱۴ اکتوبر ۱۹۹۹ء

عثمانی خلیفہ سلطان عبد الحمیدؒ ثانی کی یادداشتیں (۳)

سلطان مرحوم کے بقول جب وہ کھانے کی دعوت پر برطانوی ماہرین کا خیر مقدم کرتے ہوئے یہ بتا رہے تھے کہ برطانوی حکومت نے سلطنت عثمانیہ کے مختلف علاقوں میں آثار قدیمہ کی دریافت اور تاریخی نوادرات کی تلاش کے لیے اپنے خرچہ پر کھدائی کی پیشکش کی ہے جو انہوں نے قبول کر لی ہے، تو محفل میں موجود روسی سفیر کے لبوں پر انہیں عجیب سی مسکراہٹ کھیلتی دکھائی دی۔ حالانکہ اس سے قبل روسی سفیر گہری توجہ اور سنجیدگی کے ساتھ ان کی گفتگو سن رہے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر عثمانی خلیفہ سلطان عبد الحمیدؒ ثانی کی یادداشتیں (۳)

۳۰ ستمبر ۱۹۹۹ء

عثمانی خلیفہ سلطان عبد الحمیدؒ ثانی کی یادداشتیں (۲)

عثمانی خلیفہ سلطان عبد الحمید ثانی مرحوم کی یادداشتوں کا گزشتہ ایک کالم میں ذکر کیا تھا، ان میں سے کچھ اہم امور کا دو تین کالموں میں تذکرہ کرنے کو جی چاہتا ہے تاکہ قارئین یہ جان سکیں کہ خلافت عثمانیہ کا خاتمہ کن حالات میں اور کن لوگوں کے ہاتھوں ہوا۔ یہ یادداشتیں سلطان عبد الحمید کی ذاتی ڈائری کے ان صفحات پر مشتمل ہیں جو خلافت سے معزولی کے بعد نظر بندی کے دوران انہوں نے قلمبند کیے۔ یہ پہلے ترکی زبان میں مختلف جرائد میں شائع ہو چکی ہیں اور عربی میں ان کا ترجمہ و ایڈیٹ کا کام عین شمس یونیورسٹی کے استاد پروفیسر محمد حرب نے کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر عثمانی خلیفہ سلطان عبد الحمیدؒ ثانی کی یادداشتیں (۲)

۱۱ ستمبر ۱۹۹۹ء

عثمانی خلیفہ سلطان عبد الحمیدؒ ثانی کی یادداشتیں (۱)

سلطان عبد الحمید مرحوم نے لکھا ہے کہ مدحت پاشا کی مغرب نوازی ان کے علم میں آچکی تھی اور وہ جانتے تھے کہ انگریزوں کے ساتھ مدحت پاشا کے خفیہ روابط ہیں۔ حتیٰ کہ سفارتی ذرائع نے اس بات کی تصدیق کر دی تھی کہ مدحت پاشا کے رفیق کار جنرل عونی پاشا نے انگریزوں سے بھاری مقدار میں رقوم وصول کی ہیں۔ لیکن چونکہ رائے عامہ مدحت پاشا کے ساتھ تھی اور اسے قومی ہیرو کی حیثیت دے دی گئی تھی اس لیے ان کے لیے اس کے سوا کوئی چارہ کار نہیں تھا کہ وہ اسے صدر اعظم کا منصب عطا کریں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر عثمانی خلیفہ سلطان عبد الحمیدؒ ثانی کی یادداشتیں (۱)

۲۴ اگست ۱۹۹۹ء

خیر القرون میں خواتین کے علم و فضل کا اعتراف

حضرت سعید بن الحسیبؒ معروف بزرگ ہیں جنہیں ’’افقہ التابعین‘‘ کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔ انہوں نے اپنی بیٹی کا نکاح اپنے شاگردوں میں سے ایک ذہین شخص سے کر دیا۔ شادی کے بعد شب عروسی گزار کر صبح جب وہ صاحب گھر سے نکلنے لگے تو نئی نویلی دلہن نے پوچھا کہ کہاں جا رہے ہیں؟ جواب دیا کہ استاد محترم حضرت سعید بن الحسیبؒ کی مجلس میں حصول علم کا سلسلہ جاری رکھنے کے لیے جا رہا ہوں۔ اس پر خاتون نے کہا کہ اس کے لیے وہاں جانے کی ضرورت نہیں ہے، ابا جان کا سارا علم میرے پاس ہے اور وہ میں ہی آپ کو سنا دوں گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر خیر القرون میں خواتین کے علم و فضل کا اعتراف

۶ اگست ۱۹۹۹ء

کوسووو پر سرب جارحیت کا تاریخی پس منظر

صدیوں یہ پوزیشن رہی ہے کہ یہ خطہ جسے بلقان کے تاریخی نام سے پکارا جاتا ہے، مسلمانوں اور صلیبی قوتوں کا محاذ جنگ رہا ہے۔ ایک طرف ترکی کی خلافت عثمانیہ تھی اور دوسری طرف یونان اور دیگر مغربی صلیبی ممالک جن کے درمیان جنگوں کا ایک لامتناہی سلسلہ چلتا رہا۔ یہی کوسووو ہے جہاں 1389ء میں خلافت عثمانیہ اور سربیا کی فوجیں آمنے سامنے ہوئیں اور ترکی کی افواج نے سربوں کو شکست دے کر کوسووو پر قبضہ کر لیا جس کے بعد 1912ء تک کم و بیش چھ سو برس کوسووو خلافت عثمانیہ کا حصہ رہا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر کوسووو پر سرب جارحیت کا تاریخی پس منظر

۱۳ جولائی ۱۹۹۸ء

خلافت راشدہ اور حضرت عمر ثانی ؒ

مذہبی امور کے وفاقی وزیر راجہ محمد ظفر الحق نے گزشتہ روز اسلام آباد میں حمید نظامی مرحوم کی یاد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بڑی دلچسپ باتیں کی ہیں اور موجودہ حالات کے تناظر میں قوم کو ملت اسلامیہ کے شاندار ماضی کے آئینے کے سامنے کھڑا کر دیا ہے۔ راجہ صاحب کا کہنا ہے کہ ان سے کسی نے پوچھا کہ پاکستان میں خلافت راشدہ کا نظام کیسے نافذ ہوگا؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ اس کے لیے ’’خلیفہ راشد‘‘ کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس سلسلہ میں تاریخ سے ’’عمر ثانی‘‘ کا خطاب پانے والے حضرت عمر بن عبد العزیزؒ کا بھی ذکر کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر خلافت راشدہ اور حضرت عمر ثانی ؒ

۱۸ مارچ ۱۹۹۸ء

ہمارا علمی و ثقافتی ورثہ ۔ انڈیا آفس لائبریری لندن

انڈیا آفس لائبریری لندن کو دیکھنے کے بعد سب سے پہلا تاثر یہ ابھرتا ہے کہ یہ علمی ڈکیتی کی ایک افسوسناک شکل ہے کہ پورے برصغیر کو علمی وراثت سے محروم کر کے فرنگی حکمرانوں نے اس علمی ذخیرے کو اپنی جھولی میں ڈال لیا اور برصغیر کے باشندوں کے مال و دولت اور صنعت و حرفت کے ساتھ ساتھ ان کے علمی اداروں کو بھی لوٹ لیا۔ لیکن معاملے کا دوسرا رخ یہ ہے کہ ہمیں اس بات پر اپنے انگریز حکمرانوں کا بہرحال شکرگزار ہونا پڑے گا کہ انہوں نے ہمارے کتب خانوں کے ساتھ تاتاریوں والا سلوک نہیں کیا، ورنہ ہندوستان میں بھی بہت سے دریاؤں کا پانی سیاہ ہو سکتا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر ہمارا علمی و ثقافتی ورثہ ۔ انڈیا آفس لائبریری لندن

۱۶ ستمبر ۱۹۹۷ء

مسجد اقصیٰ کی تاریخ

روزنامہ ’’الاہرام‘‘ قاہرہ نے دس اکتوبر ۲۰۰۰ء کی اشاعت میں مسجد اقصیٰ کے بارے میں ایک مخصوص صفحہ پر کچھ رپورٹیں اور مضامین شائع کیے ہیں جن کی روشنی میں مسجد اقصیٰ کی تاریخ قارئین کی خدمت میں پیش کی جا رہی ہے۔ بیت المقدس کی تاریخ تو بہت قدیم ہے اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سفر معراج کی ایک منزل ہونے کے علاوہ مدینہ منورہ ہجرت کے بعد کم و بیش سترہ ماہ تک مسلمانوں کا قبلہ بھی رہا ہے جس کی وجہ سے اسے قبلۂ اول کہا جاتا ہے۔ لیکن مسجد صخرہ کی تاریخ اموی خلیفہ عبد الملک بن مروان کے دور سے شروع ہوتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مسجد اقصیٰ کی تاریخ

۲۹ اکتوبر ۲۰۰۰ء

تحریک پاکستان کے بارے میں نیشنلسٹ علماء کا موقف

تحریک پاکستان کے بارے میں جمعیۃ علماء ہند، مجلس احرار اسلام اور دیگر جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ان مسلمانوں کا موقف آج کل پھر صحافتی حلقوں میں زیر بحث ہے جنہیں ’’نیشنلسٹ مسلمانوں‘‘ کا خطاب دیا جاتا ہے۔ اس لیے سرکردہ نیشنلسٹ مسلم لیڈروں کے خیالات قارئین کی خدمت میں پیش کیے جا رہے ہیں تاکہ تصویر کے دوسرے رخ کے طور پر نیشنلسٹ مسلمانوں کا اصل موقف سامنے آسکے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر تحریک پاکستان کے بارے میں نیشنلسٹ علماء کا موقف

۷ نومبر ۱۹۷۵ء