سانحہ لال مسجد

سانحۂ لال مسجد سے متعلق عدالتی کمیشن کی رپورٹ

لال مسجد کے سانحہ کے بارے میں عدالتی کمیشن کی رپورٹ منظر عام پر آنے کے بعد یہ بات ایک بار پھر واضح ہوگئی ہے کہ جامعہ حفصہؓ اور لال مسجد کے خلاف خونی آپریشن کی ذمہ داری بہرحال جنرل (ر) پرویز مشرف پر عائد ہوتی ہے جو اس وقت ملک کے صدر تھے اور انہی کے حکم پر یہ المناک خونریز کاروائی ہوئی تھی جس کے نتیجے میں بہت سے دیگر افراد کے ساتھ حضرت مولانا محمد عبد اللہ شہیدؒ کی اہلیہ محترمہؒ اور ان کے فرزند غازی عبد الرشیدؒ جام شہادت نوش کر گئے تھے اور پورا ملک صدمہ اور رنج و غم میں ڈوب گیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سانحۂ لال مسجد سے متعلق عدالتی کمیشن کی رپورٹ

۱۷ جولائی ۲۰۱۳ء

شہدائے لال مسجد اور تحفظ ختم نبوت کانفرنسیں

۶ جولائی کو ملک کی مختلف دینی جماعتوں کے راہنماؤں کا رخ اسلام آباد کی جانب تھا جبکہ میں اسی روز کندیاں کی طرف عازم سفر تھا۔ اسلام آباد میں لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے سانحہ فاجعہ کو ایک سال گزر جانے کے باوجود مسائل کے حل کی طرف کوئی پیشرفت نہ ہونے پر ’’لال مسجد علماء ایکشن کمیٹی‘‘ نے لال مسجد میں ہی احتجاجی کنونشن رکھا ہوا تھا جس کی مشاورت میں شرکت کی مجھے بھی سعادت حاصل تھی اور میں نے مختلف مضامین میں اس کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے وقت کی ضرورت قرار دیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر شہدائے لال مسجد اور تحفظ ختم نبوت کانفرنسیں

۱۲ جولائی ۲۰۰۸ء

لال مسجد علماء ایکشن کمیٹی کا قیام اور دینی جماعتوں کی ذمہ داری

اسلام آباد اور راولپنڈی کے علماء کرام نے لال مسجد اور جامعہ حفصہؓ کے سانحہ کے سلسلہ میں رائے عامہ کو منظم و بیدار کرنے کے لیے ’’لال مسجدعلماء ایکشن کمیٹی ‘‘ کے نام سے فورم قائم کر کے ۶ جولائی کو لال مسجد میں جلسہ کرنے اور وہاں سے احتجاجی مہم شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ جبکہ وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی مرکزی مجلس عاملہ نے اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے ’’لال مسجد علماء ایکشن کمیٹی‘‘ کو مکمل تعاون کا یقین دلایا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر لال مسجد علماء ایکشن کمیٹی کا قیام اور دینی جماعتوں کی ذمہ داری

جولائی ۲۰۰۸ء

لال مسجد و جامعہ حفصہ کے حل طلب معاملات

لال مسجد کے سانحہ کو ایک برس ہونے والا ہے مگر اس سے متعلقہ مسائل ابھی تک جوں کے توں ہیں اور بظاہر ان کے جلد طے ہونے کی کوئی صورت نظر نہیں آرہی۔ لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے خلاف وحشیانہ آپریشن اور اس کے نتیجے میں سینکڑوں معصوم بچیوں اور دیگر افراد کی مظلومانہ شہادت کے ذمہ داروں کی نشاندہی، جامعہ فریدیہ کی مسلسل بندش، جامعہ حفصہ کی دوبارہ تعمیر، مولانا عبد العزیز کی رہائی، اور اس سلسلہ میں درج کیے جانے والے مقدمات کے بارے میں حکومتی پالیسی جیسے اہم مسائل کے بارے میں آج بھی صورتحال وہی ہے جو اب سے گیارہ ماہ قبل تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر لال مسجد و جامعہ حفصہ کے حل طلب معاملات

۱۹ جون ۲۰۰۸ء

تحریک طلبہ و طالبات

لال مسجد اور جامعہ حفصہؓ کے افسوسناک سانحہ کے پس منظر میں پشاور میں ایک اجلاس کے دوران ’تحریک طلبہ و طالبات‘‘ کے نام سے ایک فورم کی تشکیل عمل میں لائی گئی ہے جس کے سربراہ حضرت مولانا ڈاکٹر شیر علی شاہ دامت برکاتہم کو منتخب کیا گیا ہے اور ان کی امارت میں صوبائی امراء اور دیگر ذمہ داروں کا تعین کرکے اسی رخ پر تحریک کو آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جو لال مسجد اور جامعہ حفصہؓ کے خلاف آپریشن سے قبل موجود تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر تحریک طلبہ و طالبات

نومبر ۲۰۰۷ء

لال مسجد کا سانحہ اور اقوام متحدہ

لال مسجد اور جامعہ حفصہؓ کے خلاف حکومت کے وحشیانہ آپریشن کے بعد اس کی صدائے بازگشت پوری دنیا میں سنائی دے رہی ہے اور مختلف اداروں میں اس کے اسباب و عوامل اور نتائج و عواقب پر بحث جاری ہے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان اپنے سو موٹو نوٹس اور وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی طرف سے دائر کردہ رٹ کو غازی عبدالرشید شہیدؒ کے اہل خاندان کی طرف سے دی گئی درخواستوں کے ساتھ جمع کرتے ہوئے اس کیس کو آگے بڑھا رہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر لال مسجد کا سانحہ اور اقوام متحدہ

نومبر ۲۰۰۷ء

سانحہ لال مسجد اور شریعت وحکمت کے تقاضے

پچیس برس قبل افغانستان کو روسی استعمار کی مسلح مداخلت اور معاشرہ میں لادینیت کے فروغ کے سنگین مسئلہ کا سامنا تھا، جس کا حل افغان علما اور عوام نے مسلح جدوجہد کی صورت میں نکالا اور روس مخالف بین الاقوامی حلقوں کے تعاون سے اس میں کامیابی حاصل کر کے ایک مرحلے میں طالبان کی حکومت کے نام سے اسلامی امارت بھی قائم کر لی۔ لیکن اس مرحلے تک پہنچنے میں بھرپور تعاون کرنے والے بین الاقوامی حلقوں نے اس سے آگے ان کی کسی بھی پیش رفت کو خود اپنے لیے خطرہ محسوس کرتے ہوئے ان کا راستہ بزور قوت روک دیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سانحہ لال مسجد اور شریعت وحکمت کے تقاضے

ستمبر ۲۰۰۷ء

سانحہ لال مسجد کے اثرات اور دینی وسیاسی حلقوں کی ذمہ داری

سانحہ لال مسجد کے اثرات و نتائج جوں جوں سامنے آرہے ہیں ان کے اسباب و عوامل پر بحث و تمحیص کا سلسلہ وسیع ہوتا جا رہا ہے اور مختلف پہلوؤں پر اظہار خیال کا سلسلہ جاری ہے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے اس کا از خود نوٹس لیتے ہوئے کاروائی کا آغاز لال مسجد کے خلاف آپریشن کے دوران ہی کر دیا تھا، جبکہ وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے صدر حضرت مولانا سلیم اللہ خان اور سیکرٹری جنرل مولانا قاری محمد حنیف جالندھری کی طرف سے عدالت عظمیٰ میں رٹ دائر کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سانحہ لال مسجد کے اثرات اور دینی وسیاسی حلقوں کی ذمہ داری

ستمبر ۲۰۰۷ء

لال مسجد کا سانحہ اور ہماری ذمہ داریاں

لال مسجد اور جامعہ حفصہؓ کے سانحے نے پوری قوم کو غم اور صدمہ سے دو چار کر دیا ہے اور جس شخص کے سینے میں بھی گوشت کا دل ہے وہ اس المیہ پر مضطرب اور بے چین ہے۔ ۱۰ جولائی کی صبح کو عین اس وقت جبکہ حکومت اور غازی عبدالرشید شہیدؒ کے درمیان مذاکرات ایک مثبت نتیجے پر پہنچ چکے تھے، ان مذاکرات کو ملک کی مقتدر شخصیت نے ویٹو کر دیا اور پھر مذاکرات کا سلسلہ ختم ہوتے ہی جس بے دردی اور سنگدلی کے ساتھ لال مسجد اور جامعہ حفصہؓ کے اندر موجود افراد بالخصوص طالبات اور بچوں کو مسلح آپریشن کا نشانہ بنایا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر لال مسجد کا سانحہ اور ہماری ذمہ داریاں

اگست ۲۰۰۷ء

مذہبی شدت پسندی، حکومت اور دینی جماعتیں

جامعہ حفصہ اور لال مسجد اسلام آباد کے خلاف سرکاری فورسز کے مسلح آپریشن نے پورے ملک کو دہلا کر رکھ دیا ہے۔ ایک عرصہ سے مختلف حلقوں کی طرف سے یہ کوشش جاری تھی کہ کسی طرح یہ تصادم رک جائے اور خونریزی کا وہ الم ناک منظر قوم کو نہ دیکھنا پڑے جس نے ملک کے ہر فرد کو رنج و صدمہ کی تصویر بنا دیا ہے، لیکن جو ہونا تھا وہ ہوا، بہت برا ہوا اور بہت برے طریقے سے ہوا۔ اس سے کچھ لوگوں کو ضرور تسکین حاصل ہوئی ہوگی جو حکومت کی رٹ بحال کرنے کے ساتھ ساتھ دہشت اور رعب ودبدبہ مسلط کرنا بھی ضروری سمجھ بیٹھے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مذہبی شدت پسندی، حکومت اور دینی جماعتیں

اگست ۲۰۰۷ء

اسلام آباد کے مساج پارلر اور لال مسجد

لال مسجد اسلام آباد کی انتظامیہ نے گزشتہ دنوں اسلام آباد کے ایک مساج پارلر پر چھاپہ مارا اور وہاں کام کرنے والی لڑکیوں اور کارکنوں کو یرغمال بنا کر لال مسجد میں لے آئے جن میں چین کے باشندے بھی تھے۔ اس پر اسلام آباد کی انتظامیہ نے لال مسجد کی انتظامیہ سے بات چیت کی اور اسلام آباد میں چین کے سفیر محترم بھی حرکت میں آئے جس پر لال مسجد کی انتظامیہ نے اسلام آباد کی انتظامیہ کے اس وعدہ پر ان یرغمالیوں کو رہا کر دیا ہے کہ اسلام آباد میں ان مساج پارلروں کو بند کر دیا جائے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اسلام آباد کے مساج پارلر اور لال مسجد

جولائی ۲۰۰۷ء

منکرات وفواحش کا فروغ اور ارباب دانش کی ذمہ داری

مساج پارلروں کا معاملہ ہی سامنے رکھ لیا جائے جن میں نوجوان اور نوعمر لڑکیاں مردوں کو مساج کرتی ہیں اور مساج کے نام پر بدکاری کا ایک وسیع نیٹ ورک کام کر رہا ہے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دار الحکومت اسلام آباد میں اس قسم کے بدکاری کے اڈوں کی موجودگی، ان کا فروغ اور ان پر حکومتی اداروں، دینی وسیاسی جماعتوں کی خاموشی اور سماجی اداروں کی لا تعلقی اور بے حسی کا ایک انتہائی افسوس ناک منظر سامنے ہے۔ اس صورت حال میں اگر ہمارے دانش ور صرف لال مسجد کی انتظامیہ کو ہی کوستے چلے جائیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر منکرات وفواحش کا فروغ اور ارباب دانش کی ذمہ داری

جولائی ۲۰۰۷ء