دین و ریاست

سیرت کانفرنس میں وزیراعظم صاحب کی تقریر

وزیر اعظم جناب عمران خان صاحب نے جو گفتگو کی ہے جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ طیبہ کے حوالے سے، ریاستِ مدینہ کے حوالے سے، فلاحی ریاست کے حوالے سے، اور اس حوالے سے کہ ناموس رسالت کے تحفظ کے لیے عالمی سطح پر قانون سازی کی ضرورت ہے، اور یہ بات کہ انبیاء کرام علیہم السلام کی توہین اور مسلمانوں کے جذبات سے کھیلنا یہ دونوں آزادی رائے کے اظہار کے دائرے میں نہیں آتے، اور اس پر پاکستان کی حکومت کا یہ اعلان کہ ہم دنیا بھر میں کمپین کریں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

خلافت کا قیام، کس کی ذمہ داری؟

اس پہلو پر غور کرنا بھی ضروری ہے کہ بحیثیت نبی اور رسول جناب نبی اکرمؐ کی دیگر ذمہ داریاں بھی اسی طرح امت کو منتقل ہوگئی ہیں جس طرح دعوت و تبلیغ کی ذمہ داری امت کے ذمہ آگئی ہے۔ ان ذمہ داریوں میں سے ایک اہم ذمہ داری امت مسلمہ کی اجتماعی قیادت اور مسلم سوسائٹی میں اللہ تعالیٰ اور ان کے آخری رسولؐ کی تعلیمات و احکامات کا عملی نفاذ ہے۔ حضرات انبیاء کرامؑ نے لوگوں کو صرف اللہ تعالیٰ کے دین کی دعوت نہیں دی بلکہ اس دعوت کے ذریعہ کلمہ پڑھنے والوں کا باہمی نظم قائم کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

استحکامِ پاکستان اور اس کے تقاضے

میں مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن (MSO) کو اس بر وقت اجتماع پر مبارک باد دینا چاہوں گا۔ آج پاکستان کا استحکام، پاکستان کی سالمیت اور پاکستان کی وحدت بہت سی غیر ذمہ دارانہ حرکتوں کی وجہ سے سوالیہ نشان بنے ہوئے ہیں۔ اِن حالات میں وہ نوجوان جو دین کی بات کرتے ہیں اور دین سے تعلق رکھتے ہیں، اُن کا استحکام پاکستان کے عنوان پر اکٹھے ہونا پاکستان کے اچھے مستقبل کی علامت ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ حضرات کے جذبات قبول فرمائیں۔ مجھ سے پہلے ہمارے فاضل دوست جناب قمر الزمان صاحب جس صورت حال کی طرف اشارہ کر رہے تھے، یہ کشمکش تو ہماری صدیوں سے جاری ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

’’حدود آرڈیننس‘‘ میں ترامیم کا پس منظر

پاکستان میں حدود قوانین کی مخالفت کا سلسلہ ان کے نفاذ کے بعد سے ہی جاری ہے اور ملک کے سیکولر حلقوں کے ساتھ سینکڑوں این جی اوز اور انسانی حقوق کے حوالہ سے کام کرنے والی بیسیوں تنظیمیں اس مقصد کے لیے ربع صدی سے متحرک ہیں۔ ان کی اس مہم کا اصل مقصد تو وہی ہے جو بین الاقوامی حلقوں کا ہے جبکہ ملک کے اندرونی سیکولر حلقوں کی جدوجہد کے اہداف مذکورہ بالا بین الاقوامی اہداف سے مختلف نہیں ہیں، لیکن ان کے اعتراضات میں کچھ داخلی امور بھی ہیں جن میں سے ایک دو کا تذکرہ ضروری معلوم ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

سیرت نبویؐ کی روشنی میں جہاد کا مفہوم

باطل مذاہب پر حق مذہب کی بالادستی کے لیے عسکری جنگ لڑنے کا آغاز حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا بلکہ جہاد کا یہ عمل آسمانی ادیان میں پہلے سے تسلسل کے ساتھ چلا آ رہا ہے، اور جناب نبی اکرم نے اس حوالے سے تاریخ میں کسی نئے عمل اور اسلوب کا اضافہ کرنے کے بجائے آسمانی مذاہب کی ایک مسلسل روایت کو برقرار رکھا ہے۔ چنانچہ جس طرح قرآن کریم میں جہاد اور مجاہدین کا تذکرہ پایا جاتا ہے، اسی طرح بائبل میں بھی ان مجاہدین اور مذہبی جنگوں کا ذکر موجود ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اسلامی نظام اور ہمارا اجتماعی عمل

آج دنیا بھر میں مسلمان عید کی خوشی کے ساتھ سیدنا ابراہیمؑ کی عظیم قربانی کی یاد تازہ کر رہے ہیں۔ صاحبِ استطاعت حضرات جانور ذبح کریں گے اور اس عزم کا اظہار کریں گے کہ مولائے کریم! آج ہم آپ کی رضا اور خوشی کے لیے جانوروں کی قربانی دے رہے ہیں، کل اگر ضرورت پڑی اور آپ کا حکم ہوا تو اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے سے بھی گریز نہیں کریں گے۔ قربانی دراصل اسی عزم کو تازہ کرنے کا نام ہے اور حضرت ابراہیمؑ کی سنت ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے اپنے بیٹے حضرت اسماعیلؑ کی گردن پر چھری رکھ دی اور اپنی طرف سے انہیں قربان کر دیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

خلافتِ اسلامیہ کے احیا کی اہمیت اور اس کے تقاضے

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ آج کی نشست کے لیے گفتگو کا عنوان طے ہوا ہے ’’خلافتِ اسلامیہ کا احیا اور اس کا طریق کار‘‘۔ اس لیے خلافت کے مفہوم اور تعریف کے ذکر کے بعد تین امور پر گفتگو ہوگی: (۱) خلافت کا اعتقادی اور شرعی پہلو کہ ہمارے عقیدہ میں خلافت کی اہمیت اور اس کا شرعی حکم کیا ہے؟ (۲) خلافت کا تاریخی پہلو کہ اس کا آغاز کب ہوا تھا اور خاتمہ کب اور کیسے ہوا؟ (۳) اور یہ سوال کہ آج کے دور میں خلافتِ اسلامیہ کے احیا کے لیے کون سا طریق کار قابل عمل ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جہاد افغانستان اور ہماری ذمہ داریاں

آپ حضرات مختلف علاقوں سے اپنے معمولات، گھر بار، مصروفیات اور مشاغل چھوڑ کر ایک بے آب و گیاہ وادی کی سنگلاخ چٹانوں میں جمع ہیں۔ آپ کے یہاں جمع ہونے کا ایک مقصد ہے، وہ مقصد آپ دلوں میں لیے جوش و جذبہ کے ساتھ اپنے ایمان کو حرارت دے رہے ہیں، اللہ تعالٰی آپ کے اس مقصد میں آپ کو اور دنیا بھر کے مسلمانوں کو کامیابی عطا فرمائے، آمین۔ وہ مقصد یہ ہے کہ آج کے دور میں جہاد کا فریضہ مسلمانوں کی عملی زندگی سے نکل چکا ہے، وہ فریضہ مسلمانوں کے عملی زندگی میں دوبارہ آ جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر