عبادت و نیکی

اسلام میں حج کا تصور اور نظم

فتح مکہ ۸ ہجری کے سال ہوئی۔ فتح مکہ کے بعد پہلا حج ۹ ہجری میں آیا۔ نبی کریمؐ نے ۹ ہجری کا حج ادا نہیں فرمایا بلکہ مدینہ منورہ میں مقیم رہے۔ آپؐ نے حضرت صدیق اکبرؓ کی اِمارت میں صحابہ کرامؓ کو ادائیگیٔ حج کے لیے بھیجا۔ حضورؐ نے ۹ ہجری کا سال اصلاحات و تبدیلیوں کے لیے استعمال کیا۔ آپؐ نے حضرت صدیق اکبرؓ کے ذریعے ۹ ہجری کے حج کے موقع پر بہت سے اعلانات کروائے جو حج کے نظام کی تطہیر ، دیگر قوموں کے ساتھ معاہدات، جاہلی رسومات پر پابندی اور دیگر دینی و انتظامی امور کے متعلق تھے۔ یہ اعلان بھی ہوا کہ اگلے سال حضورؐ حج کے لیے تشریف لائیں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

آسمانی مذاہب میں قربانی کا تصور

آج عید کا دن ہے، قربانی کی عید جس میں دنیا بھر کے مسلمان اللہ تعالی کی بارگاہ میں نذرانہ پیش کرنے کے لیے جانور ذبح کرتے ہیں اور اللہ تعالی کی رضا کے لیے اپنا مال خرچ کرتے ہیں۔ یہ قربانی نسلِ انسانی کے آغاز سے چلی آرہی ہے، قرآن کریم نے سب سے پہلی قربانی کا حضرت آدم علیہ السلام کے دو بیٹوں ہابیل اور قابیل کے حوالہ سے ذکر کیا ہے۔ ان کا رشتے پر جھگڑا ہو گیا تھا، فیصلے کے لیے انہیں قربانی پیش کرنے کو کہا گیا، دونوں نے قربانی پیش کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

روزے کا تاریخی پس منظر اور رمضان المبارک کی فضیلت

رمضان المبارک کی آمد آمد ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے رمضان المبارک اور اس کے ساتھ روزے کا ذکر فرمایا ہے اور یہ بات بتائی ہے کہ تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں اور بھوکا پیاسا رہنا تمہارے لیے عبادت قرار دیا گیا ہے۔ پھر یہ بتایا کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے بلکہ اس سے پہلے بھی امتوں پر روزے فرض کیے گئے تھے۔ اور جب سے یہ مذہب اور انسان چلے آرہے ہیں نماز، روزہ اور دیگر عبادات بھی چلی آرہی ہیں۔ یعنی تم سے پہلے لوگ بھی روزے رکھتے تھے اور ان پر بھی روزے ایسے ہی فرض تھے جیسے تم پر فرض کیے گئے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نیکی اور اس کی حفاظت

میں نے آپ کے سامنے سورۃ الکہف کے آخری رکوع کی ایک آیت کریمہ تلاوت کی ہے جس میں اللہ تعالٰی نے ایک اہم مسئلہ کی طرف ہمیں توجہ دلائی ہے، وہ یہ کہ دنیا میں ہر مسلمان کی خواہش اور کوشش ہوتی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ نیکیاں کمائے اور ثواب والے کام کرے تاکہ یہ ثواب اور نیکیاں آخرت میں اسے کام آئیں، لیکن جس طرح نیکیاں کمانا ضروری ہے اسی طرح ان کی حفاظت بھی ضروری ہے کیونکہ بسا اوقات کمائی ہوئی نیکیاں برباد ہو جاتی ہیں اور کیے ہوئے نیک اعمال غارت ہو جاتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

قربانی کے بارے میں چند شبہات کا ازالہ

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ بخاری شریف میں حضرت براء بن عازبؓ سے روایت ہے کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عید الاضحی کے روز نماز عید کے لیے عید گاہ میں تشریف لائے، نماز پڑھائی، اس کے بعد خطبہ ارشاد فرمایا، اور اس میں یہ فرمایا کہ جس نے نماز کے بعد قربانی کی اس نے ہماری سنت کو پا لیا اور جس نے نماز عید سے قبل قربانی کر لی اس نے عام دنوں کی طرح گوشت کھایا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر