تذکرہ بزرگان دینؒ

’’عشرۂ شیخ الہندؒ‘‘

سالِ رواں کے آغاز میں ’’مولانا ارشد مدنی سوشل میڈیا ڈیسک‘‘ کی طرف سے شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندیؒ کی یاد میں ’’عشرۂ شیخ الہندؒ‘‘ کا اہتمام کیا گیا جس کے تحت مسلسل دس روز تک اکابر اہل علم و دانش کے خطابات کا سلسلہ چلتا رہا اور سوشل میڈیا کے ذریعے دنیا بھر میں ہزاروں افراد نے اس سے استفادہ کیا۔ اختتامی نشست دارالعلوم دیوبند کے صدر المدرسین حضرت مولانا سید ارشد مدنی دامت برکاتہم کی زیرصدارت انعقاد پذیر ہوئی جس میں مہمان خصوصی ندوۃ العلماء لکھنو کے رئیس حضرت مولانا سید رابع ندوی دامت برکاتہم تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۰ جنوری ۲۰۲۱ء

ڈسکہ میں مولانا سمیع الحق شہیدؒ سمینار

مولانا سمیع الحق شہیدؒ ہماری ملی و دینی جدوجہد کی تاریخ کے ایک مستقل باب کا عنوان ہیں اور ان کی خدمات کا اس مختصر گفتگو میں تفصیلی تذکرہ ممکن نہیں ہے، البتہ چند باتیں عرض کر دیتا ہوں کہ مولانا سمیع الحق شہیدؒ کی حیات و خدمات کے مختلف پہلو ہیں جن میں سے ہر ایک پر کام کی ضرورت ہے اور ان کے تلامذہ و رفقاء کو اس کی کوئی صورت نکالنی چاہیے۔ مثلاً ایک پہلو یہ ہے کہ وہ شیخ الحدیث حضرت مولانا عبد الحق رحمہ اللہ تعالٰی کے فرزند و جانشین ہونے کے ساتھ ساتھ ان کی علمی، سیاسی و تحریکی جدوجہد کے رفیق کار بھی رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۵ نومبر ۲۰۱۹ء

ایبٹ آباد میں حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ سیمینار

۱۸ اگست ۲۰۱۹ء کو پریس کلب ایبٹ آباد میں مفکر انقلاب حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ کی حیات و خدمات کے تذکرہ کے لیے ایک سیمینار کا اہتمام کیا گیا جس کی صدارت شہر کی مرکزی جامع مسجد کے خطیب مولانا مفتی عبد الواجد نے کی جبکہ میزبان مسجد بیت الحکمت کے خطیب مولانا شکیل اختر تھے۔ سیمینار سے خطاب کرنے والوں میں مولانا شیخ نذیر احمد احمدزئی، پروفیسر حافظ وقار احمد، مولانا اورنگزیب اعوان، جناب ابوبکر شیخ، جناب عنایت خان سواتی اور جناب فاروق کشمیری شامل ہیں۔ اس موقع پر مجھے جو گزارشات پیش کرنے کا موقع ملا، ان کا خلاصہ درج ذیل ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۸ اگست ۲۰۱۹ء

حضرت علامہ شبیر احمد عثمانیؒ کا مشن

حضرت علامہ ڈاکٹر خالد محمود ان دنوں پاکستان تشریف لائے ہوئے ہیں اور جامعہ اشرفیہ لاہور میں دورۂ حدیث شریف کے طلبہ کو بخاری شریف کے اسباق پڑھانے کے علاوہ مختلف علماء کرام سے ملاقاتوں اور دینی و قومی معاملات میں گفتگو اور راہنمائی کے کاموں میں مصروف ہیں۔ گزشتہ شب مولانا عبد الرؤف فاروقی، قاری محمد عثمان رمضان اور اپنے دو پوتوں ہلال خان اور ابدال خان کے ہمراہ جامعہ اشرفیہ حاضر ہوا تو بہت خوشی کا اظہار کیا اور دعاؤں سے نوازا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳ فروری ۲۰۱۹ء

حضرت قاری محمد انورؒ

استاذ الحفاظ و القراء حضرت قاری محمدانور صاحبؒ کاچند روز پہلے مدینہ منورہ میں انتقال ہو گیا ہے، آپؒ میرے حفظ کے استاذتھے اور صرف میرے ہی نہیں بلکہ ہمارے پورے خاندان کے استاذ تھے، ہم سب بھائی بہنیں ان کے شاگرد ہیں۔الحمدللہ نو بھائیوں نے اور تین بہنوں نے حفظ کیا ہے اور ایک بڑی بہن کے سوا باقی سب کے استاذ وہی تھے۔ جبکہ وہ گکھڑ اور اس کے ارد گرد سینکڑون حفاظ کے استاذ تھے۔ گکھڑ سے وہ افریقہ کے ایک ملک میں تشریف لے گئے، وہاں بھی بیسیوں حفاظ کے استاذ ہیں۔ پھر مدینہ منورہ میں تقریباً پینتیس سال انہوں نے قرآن کریم پڑھایا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۴ فروری ۲۰۱۷ء

حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ کی خدمات

حضرت تھانویؒ کو 1857ء کی جنگ آزادی میں مسلمانوں کی ناکامی اور برطانوی استعمار کے مکمل تسلط کے تناظر میں دیکھا جائے تو صورتحال کا نقشہ کچھ اس طرح سامنے آتا ہے کہ 1857ء کی جنگِ آزادی کے بعد اس خطہ کے مسلمان اپنا سب کچھ کھو کر نئے سرے سے معاشرتی زندگی کا آغاز کر رہے تھے۔ صدیوں اس خطہ پر حکومت کرنے کے بعد مسلمانوں کا سیاسی نظام ختم ہو چکا تھا، عدالتی اور انتظامی سسٹم ان کے ہاتھ سے نکل گیا تھا، عسکری قوت اور شان و شوکت سے وہ محروم ہو چکے تھے، اور ان کا علمی و تہذیبی ڈھانچہ بھی شکست و ریخت سے دوچار تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۹ جنوری ۲۰۱۷ء

حضرت مولانا مفتی عبد الواحدؒ

آج کی نشست میں تذکرہ ہے حضرت مولانامفتی عبد الواحد نور اللہ مرقدہ کا، ان کے تعارف اور تذکرہ سے پہلے کچھ پسِ منظرعرض کرناچاہتاہوں۔ مرکزی جامع مسجدشیرانوالہ باغ گوجرانوالہ شہر کی قدیمی مساجدمیں سے ہے، اب سے تقریباً ڈیڑھ سوسال پہلے یہاں ایک بزرگ ہواکرتےتھے مولانا سراج الدین احمد جو کہ بڑے عالم اور فقیہ تھے انہیں فقیہِ پنجاب کہا جاتا تھا۔ مسجد کے عقب میں بازار تھانے والا کی گلی مولوی سراج دین اور مسجد مولوی سراج دین ان ہی کےنام پر ہیں اور وہ مسجد شہرکی جامع مسجد ہوا کرتی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۱۷ء

’’دینِ الٰہی‘‘ اور حضرت مجدد الفؒ ثانی: آج کے مغربی فلسفہ کے تناظر میں

حضرت مجدد الفؒ ثانی کی حیات د خدمات کے بارے میں ارباب فکر و دانش اس محفل میں اظہار خیال کر رہے ہیں جو حضرت مجددؒ کی جدوجہد کے مختلف پہلوؤں کے حوالہ سے ہوگی، میں ان میں سے صرف ایک پہلو پر کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں۔ عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ حضرت مجددؒ نے اکبر بادشاہ کے خودساختہ ’’دین الٰہی‘‘ کو اپنی مخلصانہ جدوجہد کے ذریعہ ناکام بنا دیا تھا۔ وہ دین الٰہی کیا تھا اور اس کے مقابلہ میں حضرت مجددؒ کی جدوجہد کیا تھی؟ اکبر بادشاہ کے دین الٰہی کے خدوخال اور حدود اربعہ کے بارے میں تاریخ بہت کچھ بتاتی ہے جسے میں چار دائروں یا مراحل میں تقسیم کروں گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۷ نومبر ۲۰۱۶ء

مولانا عبید اللہ سندھیؒ کا پیغام

حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ کے بارے میں گفتگو کے مختلف پہلو ہیں جن میں سے ہر ایک مستقل گفتگو کا متقاضی ہے۔ مثلاً ان کا قبول اسلام کیسے ہوا؟ ضلع سیالکوٹ کے گاؤں چیانوالی کے سکھ گھرانے کے ایک نوجوان نے اسلام قبول کیا تو اس کے اسباب کیا تھے اور وہ کن حالات و مراحل سے گزر کر حلقہ بگوش اسلام ہوئے۔ اسلام کی دعوت و تبلیغ اور غیر مسلموں کو اسلام کی طرف راغب کرنے میں اس سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔ بوٹا سنگھ نامی نوجوان جب مسلمان ہوا تو سیالکوٹ سے جام پور اور وہاں سے بھرچونڈی شریف سندھ تک کے سفر کی داستان بھی توجہ کی مستحق ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نومبر ۲۰۱۶ء

حضرت مولانا محمد حیاتؒ

ہماری آج کی گفتگو کا موضوع فاتحِ قادیان استاذ المناظرین حضرت مولانا محمد حیاتؒ ہیں۔ مولانا محمد حیاتؒ شکرگڑھ کے قریب ایک گاؤں کے رہنے والے تھے اور درویش صفت عالمِ دین تھے۔ اللہ تبارک و تعالٰی نے ان کو علم و تکلم، تقویٰ و عمل کی بڑی خصوصیات سے نوازا تھا۔ مولانا کی ڈاڑھی قدرتی طور پر نہیں تھی اور ان کا طرزِ زندگی بہت سادہ تھا، جس طرح زمیندار اور کاشتکار ہوتے ہیں کہ سادہ وضع قطع اور سادہ طور طریقے۔ اس لیے کوئی آدمی بظاہر انہیں دیکھ کر یہ اندازہ نہیں کر سکتا تھا کہ وہ عالم دین اور دینی بزرگ ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ نومبر ۲۰۱۶ء

حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ

آج جس شخصیت کے حوالے سےگفتگو کرنے لگا ہوں وہ صرف ہمارے پاکستان نہیں بلکہ برصغیر کی بڑی علمی اور تحریکی شخصیات میں سے ہیں۔ حضرت مولانا محمدعلیؒ جالندھر کے رہنے والے تھے۔ جامعہ خیر المدارس ملتان پہلے جالندھر میں تھا۔ مولانا خیرمحمد جالندھریؒ حکیم الامۃ مولانا اشرف علی تھانویؒ کے بڑے خلفاء میں سے تھے، انہوں نے جالندھرمیں جامعہ خیر المدارس بنایا تھا۔ مولانا محمدعلی جالندھریؒ ان کے خلفاء میں سے تھے اور خیرالمدارس میں پڑھاتے رہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۰ اکتوبر ۲۰۱۶ء

حضرت مولانا عبید اللہ انورؒ

مولانا عبید اللہ انورؒ میرے شیخ تھے اور امیر بھی۔ میں نے ایک طویل عرصہ ان کے ساتھ ایک خادم، مرید اور ساتھی کے طور پر گزارا ہے۔ حضرت لاہوریؒ کے بڑے بیٹے حضرت مولانا حافظ حبیب اللہؒ فاضل دیوبند تھے، ان کی زیارت میں نہیں کر سکا کہ وہ میرے ہوش سنبھالنے سے پہلے ہی ہجرت کر کے مکہ مکرمہ چلے گئے تھے۔ اسی وجہ سے وہ ’’مہاجر مکی‘‘ کہلاتے تھے، وہیں زندگی گزاری اور ان کا انتقال بھی وہیں ہوا۔ حضرت لاہوریؒ کے دوسرے بیٹے حضرت مولانا عبید اللہ انورؒ تھے۔ جبکہ حضرت لاہوریؒ کے تیسرے بیٹے حضرت مولانا حافظ حمید اللہ تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۸ اگست ۲۰۱۶ء

حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستی ؒ

حضرت مولانا محمد عبداللہ درخواستیؒ ہمارے دور کے اکابر علماء میں سے تھے جن کی امارت و سیادت کو ملک بھر کے علماء تسلیم کرتے تھے۔ بزرگ تھے، بڑے تھے، وہ ہم سب کے رہنما اور سربراہ تھے۔ سیاسی میدان میں بھی، روحانی دائرے میں بھی اور علمی ماحول میں بھی۔ ضلع رحیم یار خان میں خانپور کٹورہ کے ساتھ ایک بستی ہے دینپور شریف، جو ہمارے بڑے علمی اور روحانی مراکز میں سے ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۱۶ء

شاہ ولی اللہؒ کی تعلیمات اور فکرِ اقبالؒ میں فرق

حضرت شاہ ولی اللہؒ اور علامہ محمد اقبالؒ کے درمیان دو صدیوں کا فاصلہ ہے۔ شاہ ولی اللہؒ کا دور وہ ہے جب اورنگزیب عالمگیرؒ کی نصف صدی کی حکمرانی کے بعد مغل اقتدار کے دورِ زوال کا آغاز ہوگیا تھا اور شاہ ولی اللہؒ کو دکھائی دے رہا تھا کہ ایک طرف برطانوی استعمار اس خطہ میں پیش قدمی کر رہا ہے اور دوسری طرف جنوبی ہند کی مرہٹہ قوت دہلی کے تخت کی طرف بڑھنے لگی ہے۔ جبکہ علامہ اقبالؒ کو اس دور کا سامنا تھا جب انگریزوں کی غلامی کا طویل عرصہ گزارنے کے بعد برصغیر کے باشندے اس سے آزادی کی جدوجہد میں مصروف تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم دسمبر ۲۰۱۲ء

تحریک شیخ الہند سے رہنمائی لینے کی ضرورت

شیخ الہندؒ حضرت مولانا محمود حسن دیوبندیؒ کی خدمات اور جدوجہد کے تذکرہ کے لیے اس تقریب کا اہتمام کرنے پر ایبٹ آباد کی جے یو آئی مبارک باد اور شکریہ کی مستحق ہے۔ یہ آج کی ایک اہم ضرورت ہے کہ ہم اپنے اسلاف اور بزرگوں کی یاد کو تازہ رکھیں اور ان میں حضرت شیخ الہندؒ کی ذات ایک مرکزی اور اہم شخصیت کی حامل ہے۔ شیخ الہندؒ دارالعلوم دیوبند کے پہلے طالب علم تھے اور پھر دارالعلوم کے صدر مدرس اور استاذ الاساتذہ کے منصب تک پہنچے اور اپنے دور میں علمائے کرام اور اہل دین کے مرجع کی حیثیت حاصل کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۳ جون ۲۰۱۲ء

نسلِ انسانی کی ضروریات اور امام ابوحنیفہؒ کے افکار

اتحاد اہل سنت کے اسلام آباد کے سیمینار میں حضرت امام اعظمؒ کی سیاسی جدوجہد کے حوالے سے کچھ معروضات پیش کی تھیں، لاہور کے سیمینار میں امام صاحبؒ کی فقہی خدمات اور قانون سازی کے بارے میں عظیم جدوجہد پر کچھ عرض کیا تھا، جبکہ آج کے سیمینار میں ’’عقائد اہل سنت کی تعبیر اور وضاحت‘‘ کے بارے میں چند گزارشات کرنا چاہ رہا ہوں۔ حضرت امام ابوحنیفہؒ جس طرح فقہ و احکام میں ہمارے امام ہیں اسی طرح عقائد اور ان کی تعبیرات میں بھی انہیں امام کا درجہ حاصل ہے۔ انہوں نے اپنی علمی زندگی کا آغاز عقائد اہل سنت کی وضاحت اور مناظروں سے کیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۲ جنوری ۲۰۱۲ء

حضرت شیخ احمدفاروقی المعروف مجدد الفؒ ثانی اور ان کی جدوجہد

سب سے پہلے تو اِس خطاب یعنی ’’مجددِ الفِ ثانی‘‘ کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ’’الف‘‘ ہزار کو کہتے ہیں۔ ’’الفِ ثانی‘‘ یعنی دوسرا ہزاریہ۔ مطلب یہ ہوا کہ ایک ہزار سال گزرنے کے بعد جو دوسرا ہزاریہ شروع ہوا تھا مجدد صاحب اس کے آغاز میں آئے۔ وہ دسویں صدی ہجری کے آخر میں پیدا ہوئے اور ان کی محنت کا جو دورانیہ ہے وہ گیارہویں صدی کے پہلے تین عشرے ہیں۔ ۱۰۳۲ء تک حضرت مجدد الفؒ ثانی نے اپنی علمی و دینی خدمات سر انجام دیں۔ چنانچہ انہیں دوسرے ہزاریے کا مجدد کہا جاتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰۱۲ء

حضرت شیخ الہندؒ کا تعلیمی نظریہ

شیخ الہند اکادمی نے ۲۰ دسمبر کو الحمرا ہال لاہور میں ’’شیخ الہند سیمینار‘‘ منعقد کر کے سال رواں ۱۴۳۳ھ کو حضرت شیخ الہند کے سال کے طور پر منانے کے حوالے سے اپنی سرگرمیوں کا آغاز کر دیا ہے اور اس موقع پر عزم کا اظہار کیا ہے کہ سال کے دوران ملک کے مختلف شہروں میں شیخ الہند سیمینار منعقد کر کے نئی نسل کو اہل حق کی جدوجہد سے متعارف کرایا جائے گا اور دور حاضر کے حالات اور مسائل کے تناظر میں حضرت شیخ الہند کے افکار اور تعلیمات کو فروغ دینے کی منظم جدوجہد کی جائے گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ دسمبر ۲۰۱۱ء

امام اعظم کی تعلیمات اور عصرِ حاضر

دسمبر اتوار کو لوئر مال لاہور کے عامر ہوٹل میں ’’اتحاد اہل سنت‘‘ کے زیر انتظام ’’امام اعظم ابوحنیفہؒ سیمینار‘‘ منعقد ہوا جس کا اہتمام حضرت مولانا خواجہ خان محمدؒ آف کندیاں شریف کی یاد میں کیا گیا تھا۔ مولانا محمد الیاس گھمن سیمینار کے داعی و منتظم اور مولانا عبد الشکور حقانی اسٹیج سیکرٹری تھے۔ لاہور کے علماء کرام اور دینی کارکنوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی جبکہ خطاب کرنے والوں میں حضرت علامہ ڈاکٹر خالد محمود، مولانا حافظ فضل الرحیم، مولانا محب اللہ آف لورائی، مولانا محمد الیاس گھمن، الحاج سید سلیمان گیلانی اور دیگر سرکردہ حضرات شامل تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ دسمبر ۲۰۱۱ء

امام ابوحنیفہؒ کی سیاسی خدمات

امام اعظم حضرت امام ابوحنیفہؒ کی خدمات اور حیات کے بارے میں اس سیمینار کا انعقاد ایک خوش آئند امر ہے اور ہماری دینی ضروریات میں سے ہے۔ اپنے اسلاف کو یاد کرنا اور ان کی تعلیمات اور جدوجہد کو اجاگر کر کے نئی نسل کی راہنمائی کا سامان فراہم کرنا ایک اہم ضرورت ہے جس کے اہتمام پر میں سیمینار کے منتظمین کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ مجھے گفتگو کے لیے حضرت امام اعظمؒ کی سیاسی خدمات کا موضوع دیا گیا ہے اور میں اسی کے حوالے سے کچھ گزارشات پیش کرنا چاہتا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۲۰۱۱ء

اکابر کا تذکرہ اور ان سے راہنمائی کا حصول

گزشتہ روز (۲۳ ستمبر) مجھے دھیرکوٹ آزاد کشمیر کے جامعہ انوار العلوم میں منعقدہ ایک سیمینار میں شرکت اور گفتگو کا موقع ملا جو شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد یوسف خانؒ کی وفات پر تعزیتی نشست کے طور پر منعقد ہوا تھا، اس میں آزاد کشمیر کے بہت سے علماء کرام اور دیگر طبقات کے راہنماؤں نے خطاب کیا۔ راقم الحروف نے اس سیمینار میں جو گفتگو کی اس کا صرف ایک حصہ قارئین کی نذر کر رہا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۳ ستمبر ۲۰۱۰ء

حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ: الشریعہ اکادمی کا تعزیتی ریفرنس

۲۷ مئی کو الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں امام اہل سنت حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر کی یاد میں تعزیتی ریفرنس منعقد ہوا جس کی صدارت مولانا مشتاق احمد چنیوٹی نے کی اور اس میں مولانا موصوف کے علاوہ راقم الحروف اور عزیزم حافظ محمد عمار خان ناصر سلمہ نے حضرت کو خراج عقیدت پیش کیا جبکہ اکادمی کے اساتذہ، طلبہ اور معاونین کے ساتھ ساتھ شہر کے بہت سے علماء کرام اور اہل دانش نے بھی شرکت کی۔ مولانا مشتاق احمد چنیوٹی نے اپنے استاذ محترم کے ساتھ دورِ طالب علمی سے وابستہ یادوں کا تذکرہ کیا اور عقیدت کے پھول نچھاور کیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۷ مئی ۲۰۰۹ء

حضرت مولانا محمد عبد اللہؒ درخواستی کی یاد میں

’’حافظ الحدیث نمبر‘‘ کے حوالہ سے ہمارے بزرگ حضرات مولانا مجاہد الحسینی جو تبصرہ کر چکے ہیں میں اس میں کسی اور اضافے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا، البتہ اس حوالہ سے کچھ عرض کرنا چاہوں گا کہ اس خصوصی نمبر کی اشاعت سے جہاں نئی نسل کے علماء اور کارکنوں کو حضرت درخواستیؒ اور ان کی جدوجہد سے روشناس ہونے کا موقع ملے گا وہاں میرے جیسے پرانے کارکنوں کے لیے بھی یہ خصوصی نمبر بہت سی یادوں کو تازہ کرنے کا باعث ہوگا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۶ مئی ۲۰۰۳ء

تحریک پاکستان اور شیخ الاسلام علامہ شبیر احمدؒ عثمانی

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ آج کی یہ تقریب الشبان المسلمون کے زیراہتمام تحریک پاکستان کے عظیم راہنما شیخ الاسلام علامہ شبیر احمدؒ عثمانی کی خدمات اور جدوجہد کے تذکرہ کے لیے منعقد ہو رہی ہے۔ اس سے پہلے پروفیسر محمد عبد الجبار صاحب اور مولانا محمد انذر قاسمی اپنے خیالات کا اظہار کر چکے ہیں جبکہ پروفیسر میاں منظور احمد صاحب جو حضرت علامہ عثمانی کے شاگرد بھی ہیں میرے بعد اظہارِ خیال فرمانے والے ہیں۔ مجھے حکم دیا گیا کہ حضرت مولانا شبیر احمدؒ عثمانی کی جدوجہد اور خدمات کے بارے میں کچھ معروضات پیش کروں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۸ مارچ ۱۹۹۰ء

شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندیؒ

شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی رحمۃ اللہ علیہ کا شمار برصغیر پاک و ہند و بنگلہ دیش کے ان عظیم راہنماؤں میں ہوتا ہے جنہوں نے برطانوی استعمار کی غلامی کے دورِ عروج میں سورج غروب نہ ہونے والی سلطنت کے غلبہ و استعلا کو نہ صرف یہ کہ خود ذہنی اور شعوری طور پر قبول نہ کیا بلکہ فکر و عمل، جہد و استقامت اور عزم و استقلال کی شمع کو اپنے خون سے روشن کر کے برادرانِ وطن کو آزادی اور استقلال کی اس شاہراہ پر گامزن کر دیا جس پر چلتے ہوئے اس خطہ کے عوام نے غلامی کی ہولناک دلدل کو عبور کر کے حریت کے میدان میں قدم رکھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ مارچ ۱۹۸۷ء