تذکرہ بزرگان دینؒ

حضرت قاری محمد انورؒ

استاذ الحفاظ و القراء حضرت قاری محمدانور صاحبؒ کاچند روز پہلے مدینہ منورہ میں انتقال ہو گیا ہے، آپؒ میرے حفظ کے استاذتھے اور صرف میرے ہی نہیں بلکہ ہمارے پورے خاندان کے استاذ تھے، ہم سب بھائی بہنیں ان کے شاگرد ہیں۔الحمدللہ نو بھائیوں نے اور تین بہنوں نے حفظ کیا ہے اور ایک بڑی بہن کے سوا باقی سب کے استاذ وہی تھے۔ جبکہ وہ گکھڑ اور اس کے ارد گرد سینکڑون حفاظ کے استاذ تھے۔ گکھڑ سے وہ افریقہ کے ایک ملک میں تشریف لے گئے، وہاں بھی بیسیوں حفاظ کے استاذ ہیں۔ پھر مدینہ منورہ میں تقریباً پینتیس سال انہوں نے قرآن کریم پڑھایا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۴ فروری ۲۰۱۷ء

حضرت مولانا مفتی عبد الواحدؒ

آج کی نشست میں تذکرہ ہے حضرت مولانامفتی عبد الواحد نور اللہ مرقدہ کا، ان کے تعارف اور تذکرہ سے پہلے کچھ پسِ منظرعرض کرناچاہتاہوں۔ مرکزی جامع مسجدشیرانوالہ باغ گوجرانوالہ شہر کی قدیمی مساجدمیں سے ہے، اب سے تقریباً ڈیڑھ سوسال پہلے یہاں ایک بزرگ ہواکرتےتھے مولانا سراج الدین احمد جو کہ بڑے عالم اور فقیہ تھے انہیں فقیہِ پنجاب کہا جاتا تھا۔ مسجد کے عقب میں بازار تھانے والا کی گلی مولوی سراج دین اور مسجد مولوی سراج دین ان ہی کےنام پر ہیں اور وہ مسجد شہرکی جامع مسجد ہوا کرتی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۱۷ء

حضرت مولانا محمد حیاتؒ

ہماری آج کی گفتگو کا موضوع فاتحِ قادیان استاذ المناظرین حضرت مولانا محمد حیاتؒ ہیں۔ مولانا محمد حیاتؒ شکرگڑھ کے قریب ایک گاؤں کے رہنے والے تھے اور درویش صفت عالمِ دین تھے۔ اللہ تبارک و تعالٰی نے ان کو علم و تکلم، تقویٰ و عمل کی بڑی خصوصیات سے نوازا تھا۔ مولانا کی ڈاڑھی قدرتی طور پر نہیں تھی اور ان کا طرزِ زندگی بہت سادہ تھا، جس طرح زمیندار اور کاشتکار ہوتے ہیں کہ سادہ وضع قطع اور سادہ طور طریقے۔ اس لیے کوئی آدمی بظاہر انہیں دیکھ کر یہ اندازہ نہیں کر سکتا تھا کہ وہ عالم دین اور دینی بزرگ ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ نومبر ۲۰۱۶ء

حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ

آج جس شخصیت کے حوالے سےگفتگو کرنے لگا ہوں وہ صرف ہمارے پاکستان نہیں بلکہ برصغیر کی بڑی علمی اور تحریکی شخصیات میں سے ہیں۔ حضرت مولانا محمدعلیؒ جالندھر کے رہنے والے تھے۔ جامعہ خیر المدارس ملتان پہلے جالندھر میں تھا۔ مولانا خیرمحمد جالندھریؒ حکیم الامۃ مولانا اشرف علی تھانویؒ کے بڑے خلفاء میں سے تھے، انہوں نے جالندھرمیں جامعہ خیر المدارس بنایا تھا۔ مولانا محمدعلی جالندھریؒ ان کے خلفاء میں سے تھے اور خیرالمدارس میں پڑھاتے رہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۰ اکتوبر ۲۰۱۶ء

حضرت مولانا عبید اللہ انورؒ

مولانا عبید اللہ انورؒ میرے شیخ تھے اور امیر بھی۔ میں نے ایک طویل عرصہ ان کے ساتھ ایک خادم، مرید اور ساتھی کے طور پر گزارا ہے۔ حضرت لاہوریؒ کے بڑے بیٹے حضرت مولانا حافظ حبیب اللہؒ فاضل دیوبند تھے، ان کی زیارت میں نہیں کر سکا کہ وہ میرے ہوش سنبھالنے سے پہلے ہی ہجرت کر کے مکہ مکرمہ چلے گئے تھے۔ اسی وجہ سے وہ ’’مہاجر مکی‘‘ کہلاتے تھے، وہیں زندگی گزاری اور ان کا انتقال بھی وہیں ہوا۔ حضرت لاہوریؒ کے دوسرے بیٹے حضرت مولانا عبید اللہ انورؒ تھے۔ جبکہ حضرت لاہوریؒ کے تیسرے بیٹے حضرت مولانا حافظ حمید اللہ تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۸ اگست ۲۰۱۶ء

حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستی ؒ

حضرت مولانا محمد عبداللہ درخواستیؒ ہمارے دور کے اکابر علماء میں سے تھے جن کی امارت و سیادت کو ملک بھر کے علماء تسلیم کرتے تھے۔ بزرگ تھے، بڑے تھے، وہ ہم سب کے رہنما اور سربراہ تھے۔ سیاسی میدان میں بھی، روحانی دائرے میں بھی اور علمی ماحول میں بھی۔ ضلع رحیم یار خان میں خانپور کٹورہ کے ساتھ ایک بستی ہے دینپور شریف، جو ہمارے بڑے علمی اور روحانی مراکز میں سے ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۱۶ء

حضرت شیخ احمدفاروقی المعروف مجدد الفؒ ثانی اور ان کی جدوجہد

سب سے پہلے تو اِس خطاب یعنی ’’مجددِ الفِ ثانی‘‘ کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ’’الف‘‘ ہزار کو کہتے ہیں۔ ’’الفِ ثانی‘‘ یعنی دوسرا ہزاریہ۔ مطلب یہ ہوا کہ ایک ہزار سال گزرنے کے بعد جو دوسرا ہزاریہ شروع ہوا تھا مجدد صاحب اس کے آغاز میں آئے۔ وہ دسویں صدی ہجری کے آخر میں پیدا ہوئے اور ان کی محنت کا جو دورانیہ ہے وہ گیارہویں صدی کے پہلے تین عشرے ہیں۔ ۱۰۳۲ء تک حضرت مجدد الفؒ ثانی نے اپنی علمی و دینی خدمات سر انجام دیں۔ چنانچہ انہیں دوسرے ہزاریے کا مجدد کہا جاتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰۱۲ء

حضرت مولانا محمد عبد اللہؒ درخواستی کی یاد میں

’’حافظ الحدیث نمبر‘‘ کے حوالہ سے ہمارے بزرگ حضرات مولانا مجاہد الحسینی جو تبصرہ کر چکے ہیں میں اس میں کسی اور اضافے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا، البتہ اس حوالہ سے کچھ عرض کرنا چاہوں گا کہ اس خصوصی نمبر کی اشاعت سے جہاں نئی نسل کے علماء اور کارکنوں کو حضرت درخواستیؒ اور ان کی جدوجہد سے روشناس ہونے کا موقع ملے گا وہاں میرے جیسے پرانے کارکنوں کے لیے بھی یہ خصوصی نمبر بہت سی یادوں کو تازہ کرنے کا باعث ہوگا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۶ مئی ۲۰۰۳ء

تحریک پاکستان اور شیخ الاسلام علامہ شبیر احمدؒ عثمانی

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ آج کی یہ تقریب الشبان المسلمون کے زیراہتمام تحریک پاکستان کے عظیم راہنما شیخ الاسلام علامہ شبیر احمدؒ عثمانی کی خدمات اور جدوجہد کے تذکرہ کے لیے منعقد ہو رہی ہے۔ اس سے پہلے پروفیسر محمد عبد الجبار صاحب اور مولانا محمد انذر قاسمی اپنے خیالات کا اظہار کر چکے ہیں جبکہ پروفیسر میاں منظور احمد صاحب جو حضرت علامہ عثمانی کے شاگرد بھی ہیں میرے بعد اظہارِ خیال فرمانے والے ہیں۔ مجھے حکم دیا گیا کہ حضرت مولانا شبیر احمدؒ عثمانی کی جدوجہد اور خدمات کے بارے میں کچھ معروضات پیش کروں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۸ مارچ ۱۹۹۰ء