تذکرہ خاتم الانبیاءؐ

سیرۃالنبیؐ اور مزدوروں کے حقوق

ہماری آج کی نشست کا عنوان ہے ’’سیرۃ النبیؐ اور مزدوروں کے حقوق‘‘ اس حوالے سے دو تین اصولی باتیں عرض کروں گا۔ پہلی بات یہ کہ مزدور کسے کہتے ہیں۔ شاہ ولی اللہؒ کہتے ہیں کہ ہم آپس میں اشیا اور صلاحیتوں کا تبادلہ کرتے ہیں تو ہمارا نظام چلتا ہے۔ ہر آدمی اپنی ساری ضروریات خود پوری نہیں کر سکتا، کوئی ضرورت کوئی بندہ پوری کرتا ہے، دوسری ضرورت کوئی اور پوری کرتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

سیرۃ النبیؐ اور دعوتِ اسلام

سرورِ کائنات، فخرِ موجودات حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت ملنے پر اللہ تعالٰی کی طرف سے توحید اور دین کا پیغام پہنچانے کا حکم موصول ہونے کے بعد جب اپنی دعوت اور محنت کا آغاز کیا تو کہاں سے کیا اور کیسے کیا؟ حضورؐ کو حکم ملا ’’فاصدع بما تؤمر‘‘ جو کچھ آپ سے کہا گیا ہے اب اس کا اعلان کیجیے۔ تو آپؐ نے سب سے پہلے صفا پہاڑی سے عمومی دعوت کا آغاز کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

سیرۃ النبیؐ اور مہمانوں کے حقوق

آج کا ہمارا موضوع ہے کہ مہمان نوازی کے حوالے سے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہدایات فرمائی ہیں اور حضورؐ کی سنت مبارکہ کیا تھی؟ آپؐ کا نبوت کے بعد جو پہلا تعارف ہے وہ مہمان نوازی کے حوالے سے ہے۔ جناب نبی اکرمؐ پر جب غارِ حرا میں پہلی وحی نازل ہوئی تو آپؐ نے یہ واقعہ ام المؤمنین حضرت خدیجۃ الکبرٰیؓ سے ذکر کیا اور فرمایا ’’خشیت علٰی نفسی‘‘ مجھے اپنے بارے میں ڈر لگنے لگا ہے۔ آپؐ کو تشویش تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

سیرۃ النبیؐ اور افسروں کے حقوق

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ اس سال کی ہماری نشستوں کا موضوع یہ چلا آ رہا ہے کہ مختلف طبقات کے ساتھ (مسافروں، قیدیوں، غلاموں، مہمانوں، مزدوروں کے ساتھ) حضورؐ کی سنت مبارکہ کیا تھی؟ آج کی نشست کا عنوان ہے کہ افسروں کے ساتھ حضورؐ کا طرزعمل کیا تھا۔ جناب نبی کریمؐ جن لوگوں کو ڈیوٹی پر مقرر فرماتے، وقتی طور پر یا مستقل طور پر، اس زمانے میں عامل اور والی کی اصطلاح استعمال ہوتی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

سیرۃ النبیؐ اور غلاموں کے حقوق

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ جناب نبی کریمؐ سے پہلے بھی غلاموں کا سلسلہ جاری تھا، غلام جانوروں کی طرح خریدے اور بیچے جاتے تھے اور ان سے کام لیا جاتا تھا۔ ہمارے ہاں تو یہ سلسلہ اسلام کے آغاز سے کچھ عرصہ بعد ہی کنٹرول ہو گیا تھا لیکن باقی دنیا میں یہ سلسلہ جاری رہا، مثلاً امریکہ میں اب سے ایک صدی پہلے ۱۹۲۴ء، ۱۹۲۵ء تک غلاموں کی منڈیاں لگتی تھیں اور انہیں خریدا اور بیچا جاتا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

سیرۃ النبیؐ اور معاشی حقوق

معاشی حقوق کیا ہوتے ہیں اور معیشت کیا ہوتی ہے؟ انسان جب زندگی گزارتا ہے تو اسے اخراجات کے لیے اسباب کی ضرورت پڑتی ہے، پیسوں کی اور چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ بچہ پیدا ہوتے ہی اس کی ضروریات شروع ہو جاتی ہیں اور اس کو جتنی بھی زندگی ملے آخر وقت تک یہ ضروریات باقی رہتی ہیں۔ یہ ضروریات اسباب سے ہی پوری ہوتی ہیں، جیب میں پیسے ہوں گے، خرچہ ہو گا تو ضروریات پوری ہوں گی۔ اللہ تبارک و تعالٰی نے اور جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے مختلف دائرے بتائے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

سیرۃ النبیؐ اور قیدیوں کے حقوق

آج ہماری نشست کا موضوع ہے ’’سیرۃ النبیؐ اور قیدیوں کے حقوق‘‘ کہ حضورؐ قیدیوں کے ساتھ کیا سلوک کیا کرتے تھے۔ قیدی اس زمانے میں مختلف قسموں کے ہوتے تھے۔ ایک تو جنگی قیدی ہوتے تھے۔ جنگی قیدیوں کے بارے میں قرآن کریم نے مختلف صورتیں بیان فرمائی ہیں اور حضورؐ نے بھی ان کے بارے میں وہ صورتیں اختیار کی تھیں۔ مثلاً قرآن کریم میں جنگی قیدیوں کے بارے میں ارشاد خداوندی ہے ’’امّا منا بعد وامّا فداءً حتٰی تضع الحرب اوزارھا‘‘۔ جنگی قیدیوں کے بارے میں چار پانچ آپشن ہوتے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

سیرۃ النبیؐ اور غیر مسلموں کے حقوق

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ آج کی گفتگو کا عنوان ہے سیرۃ النبیؐ اور غیر مسلموں کے حقوق۔ نبوت سے پہلے تو مسلم اور غیر مسلم کا کوئی فرق نہیں تھا، البتہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تئیس سالہ نبوی زندگی، یعنی تیرہ سالہ مکی اور دس سالہ مدنی زندگی میں آپؐ کا تین قسم کے کافروں کا سامنا ہوا اور تینوں کے ساتھ آپؐ کا معاملہ الگ الگ تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

سیرۃ النبیؐ اور معاشرتی حقوق

بعد الحمد والصلٰوۃ۔ انسان دنیا کی جاندار چیزوں میں سے وہ مخلوق ہے جو اکٹھے مل جل کر زندگی گزارتے ہیں۔ تمدن، محلے، بستیاں، مکانات، شہر، ریاستیں، حکومتیں کسی اور مخلوق میں نہیں ہیں۔ یہ سسٹم نہ شیروں میں ہے، نہ ہاتھیوں میں ہے۔ تمدن یعنی مل جل کر رہنا، ایک دوسرے کی ضروریات پوری کرنا، یہ صرف انسانوں میں ہے، اگرچہ دوسرے جاندار بھی یہ کرتے ہیں لیکن محدود دائرے میں۔ تمدن کو معاشرت بھی کہتے ہیں اور یہ انسان کا خاصہ ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

سیرۃ النبیؐ اور مسافروں کے حقوق

مسافروں کے حوالے سے آج میرا جی چاہتا ہے کہ آپ کو جناب نبی کریمؐ کے زمانے کے چند مسافروں کے قصے سناؤں۔ حضرت ابوذر غفاریؓ بنو غفار قبیلے سے تعلق رکھتے تھے، بہت بڑے صحابی ہوئے ہیں۔ ان کا قصہ بخاری شریف میں مذکور ہے، وہ خود بیان کرتے ہیں، قصہ سفر کا بھی ہے اور قبول اسلام کا بھی ہے۔ جاہلیت کے زمانے میں انہیں دیگر بہت سے حضرات کی طرح بت پرستی سے نفرت تھی، موحد تھے، اللہ کی عبادت پسند تھی اور اپنے طور پر عبادت کرتے رہتے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

سیرۃ النبیؐ اور پڑوسیوں کے حقوق

جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑوسیوں کے جو حقوق بیان فرمائے وہ اس طرح ہیں کہ ان کی خوشی غمی میں شریک ہوا جائے، ان کی بیمار پرسی کی جائے، حال احوال کی خبر رکھی جائے، ان کو نفع پہنچایا جائے، گھر میں کوئی چیز زیادہ پک گئی ہے یا زیادہ پکا لی جائے تو پڑوسیوں کو بھی اس میں شریک کیا جائے وغیرہ۔ جناب نبی اکرمؐ کا ارشاد گرامی ہے ’’لیس المؤمن الذی یبیت شبعان وجارہ جائع فی جنبہ وھو یعلم‘‘ وہ آدمی مومن نہیں ہے جو خود تو پیٹ بھر کر سویا ہے مگر اس کا پڑوسی بھوکا سویا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

سیرۃ النبیؐ اور سیاست و حکومت

(۱) اس عنوان سے متعلق پہلی بات تو یہ ہے کہ کیا سیاست کا نبی سے اور نبی کا سیاست سے کوئی تعلق ہوتا ہے؟ قرآن کریم کہتا ہے کہ ہاں ہوتا ہے بلکہ دینی سیاست کی بنیاد ہی نبوت ہوتی ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالٰی نے بنی اسرائیل کا ذکر کیا اور فرمایا، ہم نے ان کو نبوت بھی دی تھی، بادشاہت بھی دی تھی اور حکمت بھی دی تھی، چنانچہ انبیائے بنی اسرائیل علیہم السلام حضرت موسٰیؑ کے بعد یوشع بن نونؑ سے لے کر حضرت زکریاؑ تک اکثر انبیاء حاکم اور قاضی بھی تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

سیرۃ النبیؐ اور انسانی حقوق

بعد الحمد والصلٰوۃ۔ گزشتہ سال کی فکری نشستوں میں وہ نمایاں شخصیات جن کے ساتھ میں نے وقت گزارا ان کا تذکرہ ہوا، اس سال ان فکری نشستوں کا موضوع یہ ہے کہ انسانی معاشرت، سوسائٹی اور سماج کے حوالے سے جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوۂ حسنہ کیا ہے؟ حضورؐ کی سیرتِ طیبہ کیا ہے؟ حضورؐ کا معمول کیا رہا ہے؟ اس کے مختلف پہلوؤں پر بات ہو گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

حکمت عملی کا جہاد

یہ بات غور طلب ہے کہ منافقین کے خلاف کون سا جہاد ہوا؟ اس لیے کہ دس سالہ مدنی دور میں منافقوں کے خلاف ایک بار بھی ہتھیار نہیں اٹھایا گیا۔ وہ مدینہ منورہ میں رہے اور سارے معاملات میں شریک رہے، شرارتیں بھی کرتے رہے اور بڑے بڑے فتنے انہوں نے کھڑے کیے مگر ایک بار بھی ان کے خلاف تلوار استعمال نہیں ہوئی۔ حتیٰ کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بعض سرکردہ منافقوں کو قتل کرنے کی اجازت مانگی گئی مگر جناب سرور کائنات ؐ نے اجازت دینے سے انکار کر دیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

تذکرۂ نبویؐ کے چند آداب

بزرگوں کے دن منانا یا کچھ ایام کو ان کی یاد کیلئے مخصوص کر دینا تو کوئی شرعی حیثیت نہیں رکھتا لیکن انہیں یاد کرنا اور ان کی خدمات اور قربانیوں کا تذکرہ کرتے رہنا رحمتوں اور برکتوں کا ذریعہ بنتا ہے ا ور اس سے راہ نمائی ملتی ہے۔ اور بزرگوں کے تذکرہ کے کچھ آداب اور کچھ تقاضے بھی ہیں جنہیں ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔ ہم سب سے زیادہ تذکرہ سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کا کرتے ہیں اور انہی کا سب سے زیادہ تذکرہ کرنا چاہیے۔ مگر قرآن کریم نے اس کے کچھ آداب بیان کیے ہیں اور خود حضورؐ نے بھی چند آداب کا ذکر کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

معراج النبیؐ: ایک سبق، ایک پیغام

معراج اور اسراء جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات میں سے ہیں۔ اسراء اس سفر کو کہتے ہیں جو نبی اکرمؐ نے مسجد حرام سے مسجد اقصٰی تک کیا، اور معراج وہ سفر ہے جو زمین سے ساتوں آسمانوں اور اس سے آگے سدرۃ المنتہیٰ تک ہوا، اور اس میں رسالتمآبؐ نے سات آسمانوں، عرش و کرسی اور جنت و دوزخ کے بہت سے مناظر دیکھے جن کا تذکرہ قرآن کریم میں بھی ہے اور سینکڑوں احادیث میں ان کی تفصیلات مذکور ہیں۔ عام طور پر روایات میں آتا ہے کہ یہ دونوں سفر ایک ہی رات میں ہوئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

تجارت اور سیرت نبویؐ

تجارت وہ ناگزیر ضرورت ہے جس کے بغیر انسانی معاشرے کا نظام نہیں چل سکتا، اللہ تعالیٰ نے تجارت کو انسانوں کی معاشی ضروریات پوری کرنے کا ایک ذریعہ بنایا ہے۔ جناب نبی کریمؐ کے فرمان کے مطابق زراعت، تجارت، ملازمت، اور مال غنیمت کمائی کے وہ حلال اور جائز طریقے ہیں جن کے ذریعے انسان اپنی ضروریات زندگی مہیا کر سکتا ہے۔ جناب رسول اللہؐ نے تجارت کو کمائی کے بہترین ذرائع میں ارشاد فرمایا ہے، بہت سی روایات ہیں جن میں نبی کریمؐ نے تجارت کی فضیلت و اہمیت ذکر فرمائی ہے، درجات بیان فرمائے ہیں اور تجارت کے متعلق احکامات ارشاد فرمائے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

صلح و جنگ اور سیرت نبویؐ

جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگیں بھی کی ہیں اور صلحات بھی۔ حضورؐ نے جو جنگیں کی ان کا مقصد کیا تھا اور وہ کن اصولوں کے تحت لڑی گئیں؟ اور آپؐ نے جو صلحیں کیں وہ کن مصلحتوں کے تحت کی گئیں اور حضورؐ نے ان صلحوں کو کیسے نبھایا؟ اس حوالے سے مختصراً چند باتیں عرض کرنے کی کوشش کروں گا۔ جناب نبی کریمؐ نے جو دین پیش کیا وہ صرف اخلاقیات اور عبادات پر ہی مشتمل نہیں بلکہ یہ دین پوری زندگی کا انسانی ضابطہ حیات ہے۔ ہمارا یہ عقیدہ اور ایمان ہے کہ یہ دین زندگی کے ہر شعبے کو محیط ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

غلامی کا تصور اور سیرت نبویؐ

جب غلامی کو ممنوع قرار دینے کی بات ہوئی تو یہ کہا گیا کہ اسلام بھی ان مذاہب میں سے ہے جنہوں نے غلامی کو جائز قرار دیا اور اپنے نظام میں غلامی کا رواج برقرار رکھا۔ اس بات کی بظاہر تائید بھی ہوتی ہے اس لیے کہ قرآن کریم میں غلامی کے بارے میں آیات موجود ہیں، احادیث میں ان کا ذکر ہے اور غلامی کے متعلق فقہ کے ابواب ہیں۔ اگرچہ آج کے دور میں عملاً غلامی موجود نہیں ہے لیکن اسلام کے اندر غلامی کا ایک مستقل تصور ہے جو پڑھا اور پڑھایاجاتا ہے۔ چنانچہ اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ غلامی کیا تھی اور اسلام نے اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

غیر مسلموں سے سلوک اور سیرت نبویؐ

غیر مسلموں کے ساتھ جناب نبی کریمؐ کے معاملات کی نوعیت کیا تھی یہ ایک بڑا موضوع ہے جس کے بیسیوں پہلو ہیں۔ یہ ایک حساس اور پیچیدہ موضوع بھی ہے جس پر میں اصولی طور پر چند گزارشات پیش کرنے کی کوشش کروں گا۔ قرآن کریم اور جناب رسول اللہؐ کی سنت و سیرت کے حوالے سے کافروں کے ساتھ تعلقات دیکھے جائیں تو اس کی الگ الگ نوعیتیں اور درجات سامنے آتے ہیں جن کے الگ الگ احکام ہیں۔ مسلمانوں کے غیر مسلموں کے ساتھ تعلقات کی سب سے پہلی نوعیت وہ ہے جس کا دائرہ پوری دنیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نبی اکرمؐ کا خطبہ حجۃ الوداع

خطبۂ حجۃ الوداع جسے کہتے ہیں، یہ حضورؐ کی مختلف ہدایات کا مجموعہ ہے۔ ان میں دو تو بڑے خطبے ہیں۔ ایک خطبہ حضورؐ نے عرفات میں ارشاد فرمایا، یہی خطبہ سنتِ رسولؐ کے طور پر اب بھی ۹ ذی الحجہ کی دوپہر کو عرفات کے میدان میں پڑھا جاتا ہے۔ دوسرا خطبہ وہ ہے جو حضورؐ نے منٰی میں ارشاد فرمایا۔ جبکہ امام قسطلانیؒ نے ’’المواہب اللدنیۃ‘‘ میں حضرت امام شافعیؒ کے حوالہ سے چار خطبات کا ذکر کیا ہے۔ اس موقع پر صحابہ کرامؓ کثیر تعداد میں تھے، انہوں نے نبی کریمؐ سے خطبات سنے، جس کو جو بات یاد رہی اس نے وہ آگے نقل کر دی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

گھریلو زندگی اور سیرت نبویؐ

انسان گھریلو زندگی کا آغاز ماں باپ کے زیر سایہ ایک بچے کی حیثیت سے کرتا ہے، بڑا ہوتا ہے تو بہن بھائیوں کا ساتھ میسر آتا ہے، خود مختار ہوتا ہے تو میاں بیوی کے رشتے میں منسلک ہوتا ہے جس کے بعد اولاد کی نوبت آتی ہے، یہ ہر شخص کی گھریلو زندگی کا ایک عمومی خاکہ ہے۔ اور گھر معاشرے کی ایک بنیادی اکائی ہے، اللہ تعالیٰ نے اکیلے انسان کو اس دنیا میں نہیں بھیجا بلکہ جنت سے میاں بیوی کا ایک جوڑا زمین پر اتارا، حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حوا علیہا السلام کی صورت میں ایک کنبہ بھیجا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

عورتوں کے حقوق اور سیرت نبویؐ

عورتوں کے حقوق، آج کی دنیا کے موضوعات میں سے ایک بہت اہم موضوع ہے۔ اسلام میں عورت کو رائے دینے کا حق ہے یا نہیں، تعلیم حاصل کرنے کا حق ہے یا نہیں، اسے مرد کے برابر حقوق حاصل ہیں یا نہیں اور یہ کہ عورت کو معاشرے کے اندر عام زندگی کے معاملات میں شرکت کا مساوی موقع ملنا چاہیے یا نہیں۔ یہ ایک ایسا موضوع ہے جس کے کئی پہلوؤں پر گفتگو ہو سکتی ہے لیکن میں چند ایک ضروری نکات پر جناب رسول اللہؒ اور آپ کے متبعین سنت کے چند واقعات کے حوالے سے کچھ ضروری گزارشات پیش کرنے کی کوشش کروں گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

صلہ رحمی اور سیرت نبویؐ

خاندانی زندگی کے حوالے سے جناب نبی کریمؐ کی تعلیم یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ رشتوں کو جوڑ کر رکھو، آپس میں میل جول پیدا کرو، تعاون کی فضا قائم کرو اور ضرورت کے وقت ایک دوسرے کی مدد کا سلسلہ رکھو۔ جناب رسول اللہؐ نے فرمایا ’’صِل من قطعک‘‘ کوئی تم سے تعلق توڑے تب بھی اس سے تعلق جوڑ کر رکھو۔ آپؐ نے یہ تعلیم دی کہ رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کا معاملہ کرو، اس سے خاندان میں جوڑ پیدا ہوتا ہے آپس میں محبت بڑھتی ہے اور ضرورت کے وقت دوسروں کی مدد اور تعاون میسر ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

عدل و انصاف اور سیرت نبویؐ

اللہ تعالیٰ کے اسمائے گرامی میں بھی ایک اسم ’’عادل‘‘ ہے یعنی اللہ تعالیٰ عدل کرنے والے ہیں۔ اور جناب نبی کریمؐ کے اسماء میں بھی ایک اسم ’’عادل‘‘ ہے یعنی رسول اللہؐ بھی عدل کے پیکر تھے، عدل کرنے والے تھے۔ ہر چیز کا حق ادا کرنے کو عدل کہتے ہیں۔ عدل کے مقابلے میں ظلم کا لفظ آتا ہے۔ ظلم کہتے ہیں کسی کے ساتھ ناحق سلوک کرنے کو، کسی کے حق کو ضبط کرنا یا کسی کا حق دوسرے کو دے دینا۔ لغوی اصطلاح میں ’’وضع الشئی فی غیر محلہ‘‘ ظلم کا معنٰی ہے کسی چیز کو اس کے اصل مقام کے بجائے کسی دوسری جگہ پر رکھنا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

سرور کائناتؐ اور اتحاد بین المسلمین

مجھے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ کے ہزاروں پہلوؤں میں سے ایک اہم پہلو پر کچھ عرض کرنے کی دعوت دی گئی ہے کہ آقائے نامدار امت مسلمہ کے اتحاد کا مرکزی نقطہ ہیں۔ حضورؐ کی ذات اقدس ہمیشہ مسلمانوں کی وحدت کا مرکز رہی ہے، آج بھی امت آپؐ کی ذات پر مجتمع ہے، اور قیامت تک آپؐ تمام مسلمانوں کی یکساں عقیدت و اطاعت کا مرکز رہیں گے۔ اس عنوان پر گفتگو کرتے ہوئے میں وقت کے اختصار کے باعث صرف تین حوالوں سے کچھ گزارشات پیش کرنا چاہوں گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مشکلات و مصائب میں سنت نبویؐ

کفار کی طرف سے ان کے خلاف یہ پابندیاں عائد کی گئی تھیں کہ ان کے ساتھ لین دین نہیں ہوگا، ان سے رشتہ داری قائم نہیں کی جائے گی، ان کے پاس خوراک وغیرہ کی کوئی چیز نہیں جانے دی جائے گی اور ان کی معاشی ناکہ بندی ہوگی۔ اس دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ساتھیوں کو کن پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا، ان کا اندازہ حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کے اس ارشاد سے لگایا جا سکتا ہے کہ ہم درختوں کے پتے کھا کر گزارے کیا کرتے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

انسانی حقوق اور اسوۂ نبویؐ

سب سے پہلے محکمہ اوقاف پنجاب کا شکر گزار ہوں کہ جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ اور حیات مبارکہ کے حوالہ سے منعقد ہونے والی اس تقریب میں شرکت اور آپ حضرات سے گفتگو کا موقع فراہم کیا۔ سیرت نبویؐ پر گفتگو کرنے والا اپنی بات شروع کرنے سے پہلے اس الجھن میں مبتلا ہو جاتا ہے کہ اس وسیع و عریض چمنستان کے سدا بہار پھولوں میں سے کس کا انتخاب کرے اور کسے چھوڑے کیونکہ اس باغ کے ہر پھول کی خوشبو نرالی ہے اور کسی ایک کو چھوڑ کر آگے نکل جانے کا حوصلہ نہیں ہوتا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مکارم اخلاق اور سیرت نبویؐ

سب سے پہلے تو میں مدنی مسجد (نوٹنگھم، برطانیہ) کی منتظمہ اور بالخصوص مولانا رضاء الحق سیاکھوی کا شکرگزار ہوں کہ انہوں نے میرے لیے اس سعادت میں شمولیت کا اہتمام فرمایا کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ پر چند دن مسلسل کچھ گزارش کرنے کا موقع مل رہا ہے۔ اس کے بعد میں آپ حضرات سے درخواست کروں گا کہ گفتگو کے باقاعدہ آغاز سے پہلے اللہ تبارک وتعالیٰ کی بارگاہ میں خصوصی دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ ہماری نیتوں کی اصلاح فرمائیں اور یہ عمل جو ہم شروع کر رہے ہیں، اللہ تعالیٰ خلوص نیت کے ساتھ اس کی تکمیل کی توفیق عطا فرمائیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

انسانی حقوق اور سیرت نبویؐ

آج دنیا میں انسانی حقوق کے حوالے سے سب سے زیادہ گفتگو ہو رہی ہے۔ دنیا کی تمام اقوام کے ذرائع ابلاغ میں اصحابِ علم و دانش اس موضوع پر سب سے زیادہ گفتگو کر رہے ہیں کہ دنیا میں انسانوں کو کیا حقوق حاصل ہونے چاہئیں ، کونسے حقوق انہیں حاصل ہیں اور کن حقوق سے وہ محروم ہیں۔ میں آج کی گفتگو میں تاریخی حقائق کی بنیاد پر یہ بات واضح کرنا چاہوں گا کہ انسانی حقوق کا تصور سب سے پہلے اسلام نے پیش کیا جس کی عملی شکل جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی زندگیوں میں ملتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

خاندان نبوتؐ

حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دو بیٹے تھے، ایک حضرت اسحاق علیہ السلام اور دوسرے حضرت اسماعیل علیہ السلام۔ یوں حضرت ابراہیمؑ کی اولاد میں دو سلسلے چلے۔ حضرت اسحاقؑ کے بیٹے حضرت یعقوبؑ تھے جن کا لقب ’’اسرائیل‘‘ تھا جو کہ عبرانی زبان میں ’’عبد اللہ‘‘ کو کہتے ہیں یعنی اللہ کا بندہ ۔ حضرت اسحاقؑ سے بنی اسرائیل کا سلسلہ چلا، اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل میں تقریباً تین ہزار پیغمبر مبعوث فرمائے۔ جبکہ حضرت ابراہیمؑ کے دوسرے بیٹے حضرت اسماعیلؑ کی اولاد میں سے صرف ایک ہی پیغمبر ہوئے جو کہ جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

خواتین کی معاشرتی حیثیت اور سیرت نبویؐ

انسانی زندگی ایک مشین کی مانند ہے جبکہ مرد و عورت اس کے دو کلیدی پرزے ہیں۔ دنیا میں اصول یہ ہے کہ جو کمپنی ایک مشینری بناتی ہے وہ اس کے استعمال کے لیے ہدایات بھی دیتی ہے اس لیے کہ جس کمپنی نے مشینری بنائی ہے وہی اس کی قوت اور کارکردگی کو زیادہ بہتر سمجھتی ہے۔ پھر جن لوگوں تک وہ مشینری پہنچتی ہے وہ ان ہدایات کی پیروی کرتے ہوئے اسے استعمال میں لاتے ہیں۔ اسی طرح ہمارا یہ ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ انسانی زندگی کی اس مشینری کا خالق ہے اور وہی اس کی کارکردگی اور نظم و ضبط کو سمجھتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دعوت اسلام اور سیرت نبویؐ

دعوتِ اسلام کے حوالے سے میں تین پہلوؤں پر بات کروں گا: پہلی بات یہ کہ اسلام کی دعوت کی بنیادی حیثیت و نوعیت کیا ہے۔ دوسری بات اس الزام کی حقیقت کو واضح کرنا کہ رسول اللہؐ نے اسلام کو تلوار کے زور سے پھیلایا تھا اور یہ کہ اسلام دنیا میں طاقت کے بل پر پھیلا ہے۔ تیسری بات یہ کہ اسلام کی دعوت اور دوسروں کو اسلام کی طرف بلانے کے حوالے سے رسول اللہؐ کا طریقہ کار کیا تھا۔ جناب رسالت مآب حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے جتنے انبیاء علیہم الصلواۃ والتسلیمات بھی دنیا میں آئے ان کی نبوت علاقہ، قوم اور وقت کے لحاظ سے محدود تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

سماجی خدمت اور سیرت نبویؐ

اجتماعی حقوق کا معنٰی یہ ہے کہ معاشرے کا انسان پر کیا حق ہے، سوسائٹی کا جو مشترکہ حق انسان پر ہے اسے سماجی خدمت یا سوشل ورک کہتے ہیں۔ معاشرہ اجتماعی طور پر جو انسان سے تقاضا کرتا ہے اس تقاضے کو پورا کرنا سماجی خدمت کرنا کہلاتا ہے۔ اس پیمانے پر دیکھا جائے تو حضرات انبیاء کرام علیہم الصلواۃ والتسلیمات سے بڑھ کر اور کوئی سماجی خدمت گزار نہیں رہا اور پھر انبیاء میں سب سے بڑے سوشل ورکر جناب رسالت مآبؐ ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے بالکل آغاز میں ہی آپؐ کا تعارف ایک سوشل ورکر کے طور پر سامنے آتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

سیاسی قیادت اور سیرت نبویؐ

سیاست بھی انسانی زندگی کا ایک بہت اہم شعبہ ہے۔ سیاست کسے کہتے ہیں؟ قوم کی اجتماعی قیادت کرنا، ان کے لیے نظام حکومت قائم کرنا، اس نظام حکومت کا نظم اچھے طریقے سے چلانا اور اجتماعی معاملات میں قوم کی راہنمائی کرنا، اسے سیاست کہتے ہیں۔ حضرات انبیاء کرامؑ نے اس شعبے میں بھی وحی الٰہی کی بنیاد پر انسانیت کی راہنمائی کی، اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآن کریم میں بہت سے انبیاء کرامؑ کا تذکرہ فرمایا ہے جو اپنے اپنے دور میں وقت کے حکمران بھی تھے اور دینی و مذہبی معاملات میں قائد بھی تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

قانون کی بالادستی اور سیرت نبویؐ

آج جب مسلمان دنیا کے کسی خطے میں بھی حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کو حکومت و قانون کی بنیاد بنانے کی بات کرتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ ایک مسلمان ملک کا سارے کا سارا نظام قرآن کریم اور سنت رسولؐ کے مطابق ہونا چاہیے، وہاں اسلام کی بالادستی ہونی چاہیے، حدودِ شرعیہ نافذ ہونی چاہئیں، خلافت کا مکمل نظام نافذ ہونا چاہیے، تو اس کے جواب میں عام طور پر ایک بات کہی جاتی ہے کہ آج کے دور میں تھیاکریسی نہیں چل سکتی، یا آج کے دور میں پاپائیت کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ تھیا کریسی اور پاپائیت کسے کہتے ہیں؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

معاشی انصاف اور سیرت نبویؐ

انسان کی ضروریات کیسی بھی ہوں یہ وسائل کے ذریعے سے پوری ہوتی ہیں کیونکہ یہ دنیا وسائل اور اسباب کی دنیا ہے، اسباب اور وسائل کے بغیر اس دنیا میں زندگی بسر کرنا ممکن نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ کے ضابطے کے خلاف ہے۔ ایک وقت آئے گا جب انسانی زندگی جنت میں اسباب اور وسائل کی محتاج نہیں ہوگی اور جب انسان کو اپنی خواہشات و ضروریات کو پورا کرنے کے لیے محنت و مشقت کا راستہ اختیار نہیں کرنا پڑے گا۔ لیکن اس دنیامیں بہرحال اللہ تبارک وتعالیٰ نے انسانی زندگی کو محنت و مشقت اور وسائل و اسباب کے ساتھ وابستہ کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر