مکتبۂ فکر

فقہ حنفی کی چار امتیازی خصوصیات

فقہ حنفی کی ایک امتیازی خصوصیت یہ ہے کہ یہ عالم اسلام کی پہلی باقاعدہ فقہ ہے۔ امام صاحبؒ سے پہلے بھی تفقہ کے مختلف دائرے رہے ہیں لیکن اس تفقہ کی بنیاد پر کسی باقاعدہ فقہ کی تشکیل سب سے پہلے امام صاحبؒ نے کی۔ فقہ حنفی کی اولین امتیازی خصوصیت یہ ہے کہ یہ عالم اسلام کی پہلی باضابطہ مدون فقہ ہے۔ اس کا اعتراف مؤرخین و محدثین نے کسی تأمل کے بغیر کیا ہے۔ ہمارے علمی ماضی کا ایک حسن یہ بھی ہے کہ ایک دوسرے کے امتیازات کا اور ایک دوسرے کی خصوصیات کا اعتراف کرنے میں کبھی بخل سے کام نہیں لیا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۰ دسمبر ۲۰۱۱ء

عصرِ حاضر میں امام ابو حنیفہؓ کے طرزِ فکر کی اہمیت

یہ سیمینار حضرت امام اعظم ابو حنیفہؒ کے حوالے سے ہے اس لیے میں اِن تین اسلامی شخصیات کے تعارف کے حوالے سے یہ بات مزید لمبی نہیں کرتا۔ لیکن ایک طالب علم کے طور پر میری ذاتی رائے یہ ہے کہ انقلاب اور حکومتی نظام میں حضرت عمر بن عبد العزیزؒ ، فقہ اور قانون میں حضرت امام ابو حنیفہؒ ، جبکہ فکر و فلسفے میں حضرت شاہ ولی اللہؒ ۔ میں علماء سے درخواست کیا کرتا ہوں کہ ان شخصیات کا بطور خاص مطالعہ کریں۔ آج کے حالات کو سامنے رکھ کر گہرائی سے ان شخصیات اسٹڈی کو کریں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰۱۰ء

ہم حنفی کیوں کہلاتے ہیں؟

حنفی ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ہم فقہی احکام ،فقہی اصول اور فروعات میں حضرت امام ابو حنیفہؒ کے مقلد ہیں۔ یعنی ہم ان کے علم، ثقاہت، دیانت اور فراست پر اعتماد کرتے ہوئے ان کے اقوال و فتاویٰ کو دلائل کی بحث میں پڑے بغیر قبول کرتے ہیں اور انہیں دوسرے ائمہ کرامؒ کے اقوال و فتاویٰ پر ترجیح دیتے ہیں ۔ ہم ایسا کیوں کرتے ہیں ؟ اس کو سمجھنے کے لیے چند اصولی باتوں کو پہلے سمجھ لینا ضروری ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۲۰۰۹ء