تفہیم دین

باہمی مشاورت کی اہمیت اور شرعی حیثیت

مشورہ اور شورائی نظام و ماحول اسلام کے امتیازات میں سے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی خصوصیات میں اس بات کا قرآن کریم میں ذکر فرمایا ہے کہ ’’وامرھم شوریٰ بینھم‘‘ ان کے معاملات باہمی مشاورت کے ساتھ طے ہوتے ہیں۔ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کا سلسلہ جاری تھا اور آپؐ کو بظاہر مشورہ کی ضرورت نہیں تھی مگر آپؐ کے لیے بھی حکم خداوندی یہ تھا کہ ’’وشاورھم فی الامر‘‘ آپ مسلمانوں سے اپنے معاملات میں مشاورت کرتے رہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲ دسمبر ۲۰۲۰ء

نسل انسانی کا امتیاز و اعزاز اور اس کی شکر گزاری

اللہ تعالٰی نے انسان کو باقی مخلوقات پر جو امتیاز بخشا ہے، قرآن کریم میں اس کا مختلف مقامات پر مختلف حوالوں سے تذکرہ کیا گیا ہے۔ مثلاً ایک جگہ فرمایا کہ ہم نے انسان کو ’’احسن تقویم‘‘ میں پیدا کیا ہے یعنی سب سے اچھے سانچے میں ڈھالا ہے۔ یہ احسن تقویم جسمانی ساخت کے حوالہ سے بھی ہے اور صلاحیتوں اور استعداد کے دائرے میں بھی ہے، جس کا مشاہدہ ہم روزمرہ کرتے رہتے ہیں، لیکن ساتھ ہی فرمایا کہ ہم اسے ’’اسفل سافلین‘‘ کے درجے میں بھی اتار دیتے ہیں، یعنی وہ سب سے نچلے درجے میں چلا جاتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ اگست ۲۰۲۰ء

تقویٰ کا مفہوم اور اس کے تقاضے

مجھے گوجرانوالہ میڈیکل کالج آ کر خوشی ہوتی ہے، ایک تو اس حوالہ سے کہ یہ میرے شہر کا میڈیکل کالج ہے جہاں اساتذہ کے ساتھ ساتھ بچوں اور بچیوں سے اجتماعی ملاقات ہو جاتی ہے اور کالج کی ترقی اور پیشرفت دیکھ کر اطمینان ہوتا ہے جو یقیناً پرنسپل محترم ڈاکٹر پروفیسر سمیع ممتاز اور ان کے رفقاء کی مسلسل محنت کا نتیجہ ہے۔ اور دوسرا اس حوالہ سے کہ یہاں کا ماحول اور اور سرگرمیاں بھی مسرت کا باعث بنتی ہیں جو فنی، اخلاقی اور دینی تینوں دائروں میں نمایاں دکھائی دیتی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۳ مئی ۲۰۱۹ء

دینی اصطلاحات کا اجماعی مفہوم

کسی بھی زبان کے کسی بھی لفظ کے بارے میں اصول یہ ہے کہ اس کا ایک تو لغوی ور وضعی معنٰی ہوتا ہے جس کے لیے وہ وضع کیا جاتا ہے اور ابتداء میں بولا جاتا ہے، پھر جب وہ لفظ عام استعمال کے ذریعہ کسی مخصوص معنٰی پر زیادہ بولا جانے لگے یا کسی شعبہ میں اسے کسی خاص مفہوم کے لیے مخصوص کر لیا جائے تو وہ اس کا اصطلاحی معنٰی کہلاتا ہے۔ اس کے باوجود اگر وہ لفظ اس سے مختلف کسی مطلب کے لیے استعمال ہو تو اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ بھی اس کا مصداق ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ مئی ۲۰۱۷ء

قدیم اور جدید تعلیم کی اصطلاحات

قرآن کریم حادث کے مقابلہ میں بلاشبہ قدیم ہے اور وہ ہمارا اعتقادی مسئلہ ہے، لیکن جدید کے مقابلے میں قرآن کریم یا حدیث و سنت کو قدیم قرار دینا یہ تاثر پیدا کرتا ہے کہ یہ پرانے علوم ہیں جن کا زمانہ گزر چکا ہے اور آج ان کی جگہ نئے علوم و فنون نے لے لی ہے۔ یہ بات قطعی طور پر غلط ہے، اس لیے کہ قرآن و سنت قیامت تک کے لیے ہیں اور ماضی کی طرح حال کا زمانہ، بلکہ آنے والا مستقبل بھی قرآن و سنت کے دائرہ کار میں شامل ہے، اور قرآن کریم کی ٹرم قیامت تک باقی رہے گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۶ ستمبر ۲۰۱۵ء

دین میں عُسر اور یُسر کا مفہوم

قرآن کریم کی جس آیت کریمہ میں ماہ رمضان میں قرآن کریم کے نزول اور روزے کی فرضیت کا تذکرہ ہے اور مسافر و مریض کے لیے روزہ دوسرے دنوں میں قضا کر لینے کی سہولت بیان کی گئی ہے، وہاں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ ’’یرید اللّٰہ بکم الیسر ولا یرید بکم العسر‘‘ اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ آسانی کا ارادہ فرماتے ہیں اور تنگی کا ارادہ نہیں فرماتے۔ آج قرآن کریم کے اس ارشاد گرامی کے حوالہ سے کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ یُسر اور عُسر کا مفہوم کیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے شریعت کے احکام میں تنگی اور آسانی کی کون سی صورتیں بیان فرمائی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۲ جولائی ۲۰۱۴ء

تحقیق کی اسلامی روایت اور اسلاف کا طرز عمل

تحقیق، روایت اور ہمارے اسلاف کا طرز عمل، اگر میں اس موضوع کو تھوڑا سا تقسیم کروں تو یہ تین بنیادی نکتے ہیں: (۱) تحقیق کیا ہے؟ (۲) ہماری روایت کیا ہے؟ (۳) اور آج کے دور میں اس کے تقاضے کیا ہیں؟ اس عنوان سے مزید شاخیں بھی نکلتی ہیں اور نئے عنوان بنتے ہیں لیکن میں انہی دو تین نکات کے گرد اپنی گفتگو مکمل کرنے کی کوشش کروں گا۔ تحقیق حق سے ہے، حق معلوم کرنا، حق تک رسائی حاصل کرنا، حق کو سمجھنا، حق کی وضاحت کرنا، حق کو پیش کرنا، حق کو ثابت کرنا، حق کی حجت قائم کرنا، یہ سارے تحقیق کے مراحل ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۲ مئی ۲۰۱۲ء

منصب رسالتؐ — دین کے تمام شعبوں کی اتھارٹی

آج کی اس کانفرنس کا موضوع سیرت النبیؐ ہے اور جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے منصب رسالت کو گفتگو کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔ سیرت نبوی کے ہزاروں پہلو ہیں جو گفتگو کے لیے توجہ کو کھینچتے ہیں اور منصب کے بھی بیسیوں پہلو ایسے ہیں جن پر گفتگو کی جا سکتی ہے اور جن پر گفتگو کی ضرورت محسوس ہوتی ہے، لیکن میں منصب کو ’’اتھارٹی‘‘ کے مفہوم پر فوکس کرتے ہوئے یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ جناب نبی اکرمؐ دین کے تمام شعبوں میں فائنل اتھارٹی کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۸ مارچ ۲۰۱۲ء

تجارت و ابلاغ اور اسلامی تعلیمات

’’رفاہ انٹرنیشنل اسلامی یونیورسٹی‘‘ کا نام سن رکھا تھا مگر کبھی حاضری کا اتفاق نہیں ہوا تھا۔ ۱۰ جنوری کو یونیورسٹی کے ماسٹر آف بزنس ایڈمنسٹریشن (MBA) کے شعبے کی ایک تقریب میں شرکت کا موقع ملا جو راولپنڈی صدر میں سپریم کورٹ آف پاکستان کی سابقہ عمارت میں واقع رفاہ یونیورسٹی کے اولڈ کیمپس میں منعقد ہوئی۔ شعبہ کے سربراہ ڈاکٹر عمیر صاحب اور دیگر اساتذہ سے ملاقات و گفت و شنید ہوئی اور تجارت میں تشہیر و ابلاغ کی اخلاقیات و آداب کے حوالہ سے منعقدہ تقریب میں کچھ معروضات پیش کرنے کا موقع ملا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۰ جنوری ۲۰۱۲ء

قرآن و سنت کا باہمی ربط

حدیث گفتگو کو کہتے ہیں اور سنت طریقے کو محدثین کی اصطلاح میں حدیث اور سنت میں فرق بھی ہے اور یہ دونوں مترادف بھی ہیں۔ بعض نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کا نام حدیث ہے اور عمل کا نام سنت ہے۔ محدثین نے یہ بھی کہا ہے کہ حدیث وہ ہے جو ایک آدھ مرتبہ بیان ہوئی جبکہ سنت وہ ہے جو معمول یا قانون کا درجہ اختیار کر گئی۔ بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ آپؐ کی ساری زندگی کے ارشادات حدیث ہیں، جبکہ جن ضوابط اور قوانین پر آپؐ رخصت ہوئے یعنی آپؐ کی زندگی کے جو آخری اقوال و اعمال ہیں وہ سنت کا درجہ رکھتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰۱۱ء

قرآن کریم کی بعض آیات سمجھنے میں اشکال

آج کی گفتگو کا عنوان یہ ہے کہ قرآن مجید میں جہاں کہیں بھی بات سمجھنے میں کوئی الجھن پیش آتی تو صحابہ کرامؓ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے رجوع کرتے تھے اس لیے کہ حضورؐ قرآن مجید کے شارح ہیں۔ حضورؐ کی سنت اور حضورؐ کے ارشادات قرآن کریم کی تشریح ہے۔ چنانچہ تابعین یعنی خیر القرون اور قرون اولیٰ کے لوگ صحابہ کرامؓ سے رجوع کرتے تھے اس لیے کہ انہی کے سامنے قرآن کریم نازل ہوا تھا اور وہ اس کے پس منظر اور موقع محل کو زیادہ بہتر جانتے تھے اور اس کی زیادہ بہتر تشریح کر سکتے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰۱۱ء

مسئلہ سود پر دو اہم باتیں

مختلف مکاتب فکر کے ارباب علم و دانش سود اور سودی نظام کے حوالہ سے موجودہ معروضی صورتحال اور اس سلسلہ میں مشکلات و مسائل کے حل کے موضوع پر اظہار خیال کر رہے ہیں۔ میں اس مرحلہ میں اس موضوع پر کوئی تفصیلی بات نہیں کرنا چاہتا اور مختلف الخیال ارباب دانش کے خیالات سننے کی نیت سے حاضر ہوا ہوں، مگر مجھ سے پہلے ایک فاضل دوست نے اپنے خطاب میں کچھ اہم نکات کی طرف توجہ دلائی ہے جن میں سے دو نکات پر مختصرًا کچھ عرض کرنا مناسب سمجھتا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲ جون ۲۰۱۰ء

دینِ اسلام ۔ خالق و مخلوق کے حقوق میں توازن

سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ طیبہ اور حیاتِ مبارکہ کے سینکڑوں پہلو ایسے ہیں جن پر گفتگو کا ذہن میں تقاضا ہوتا ہے، بسا اوقات اس موضوع پر بات کرتے ہوئے اس بحرِ ناپیدا کنار کے کسی ایک رخ کا تعین مشکل ہو جاتا ہے لیکن آج میں اس پہلو پر کچھ عرض کرنا چاہوں گا کہ بحیثیت نبی اور رسول، تاریخ کے ریکارڈ میں جناب نبی اکرمؐ کا پہلا تعارف کیا تھا؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۳ فروری ۲۰۱۰ء

حدیث قدسی کسے کہتے ہیں؟

چند سالوں سے معمول ہے کہ جناب نبی کریمؐ کی احادیث مبارکہ کے کسی ایک پہلو پر گفتگو ہوتی ہے۔ ایک سال بخاری شریف کی ’’ثلاثیات‘‘ پر بات ہوئی، ایک سال مسلم شریف کے ’’باب الفتن‘‘ کے بارے میں گفتگو ہوئی، اور ایک سال ابن ماجہ کی’’ کتاب السنن‘‘ پر خطاب کا موقع ملا۔ اس سال بھی احادیث مبارکہ ہی کے ایک پہلو ’’احادیث قُدسیہ‘‘ کا انتخاب کیا ہے جو کہ احادیث کریمہ میں ایک مستقل شعبہ ہے۔ اہل علم کے ہاں حدیث اور سنت میں تھوڑا سا تکنیکی فرق ہے لیکن عام لوگوں کے ہاں یہ دونوں لفظ ایک ہی معنٰی میں سمجھے جاتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۲۰۰۸ء

روشن خیالی کے مغربی اور اسلامی تصور میں فرق

مغرب نے تاریکی سے روشنی کی طرف سفر انقلاب فرانس سے شروع کیا اور مغرب کے ہاں تاریک دور اور روشن دور میں فاصل انقلاب فرانس ہے۔ اس سے پہلے کا دور تاریکی، جہالت اور ظلم و جبر کا دور کہلاتا ہے جبکہ اس کے بعد کے دور کو روشنی، علم اور انصاف و حقوق کا دورکہا جاتا ہے۔ مگر ہمارے ہاں دور جاہلیت جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے کے دور کو سمجھا جاتاہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری سے پہلے زمانہ جاہلیت، ظلم وجبراور تاریکی کا دورکہلاتاہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۸ جنوری ۲۰۰۷ء

پاکستان میں اجتماعی اجتہاد کی کوششوں پر ایک نظر

۱۹، ۲۰، ۲۱ مارچ کو بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد میں ادارہ تحقیقات اسلامی کے زیراہتمام ’’اجتماعی اجتہاد: تصور، ارتقا اور عملی صورتیں‘‘ کے عنوان پر تین روزہ سیمینار کا انعقاد ہوا جس میں پاکستان کے مختلف مکاتب فکر کے سرکردہ علماء کرام اور اہل دانش کے علاوہ متحدہ عرب امارات سے عرب دنیا کے ممتاز عالم و فقیہہ الاستاذ الدکتور وہبہ الزحیلی اور بھارت سے مولانا خالد سیف اللہ رحمانی، مولانا سید جلال الدین العمری، مولانا سعود عالم قاسمی اور جناب فہیم اختر ندوی نے شرکت کی۔ مجھے بھی شرکت اور گفتگو کی دعوت دی گئی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ مارچ ۲۰۰۵ء

آسمانی مذاہب کے درمیان مکالمہ کے لیے قرآنی اصول

مجھے توحید کی اہمیت اور اس پر ہمارے ایمان و عقیدہ کی بنیاد کے حوالہ سے کچھ عرض کرنے کے لیے کہا گیا ہے اور میری اس کمزوری اور مجبوری سے آپ حضرات واقف ہیں کہ کسی بھی موضوع پر بات کرنے سے پہلے معروضی حالات اور عالمی تناظر کو ضرور دیکھتا ہوں اور اسے سامنے رکھتے ہوئے گفتگو کی کوشش کرتا ہوں۔ آج کی دنیا میں مذاہب و ادیان کے درمیان مکالمہ اور ڈائیلاگ کی بات چل رہی ہے اور مختلف مذاہب کے دینی راہنماؤں کی مشترکہ کانفرنسیں ہو رہی ہیں، ابھی اسلام آباد میں ایک کانفرنس ہوئی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳ اکتوبر ۲۰۰۴ء

دور جدید میں اجتہاد کی ضرورت اور دائرۂ کار

قرآن وسنت کی نئی تعبیر وتشریح اور جدید فقہ اسلامی کی تدوین کے نعرہ سے تو ہمیں اتفاق نہیں ہے کہ اس سے چودہ سو سالہ اجماعی تعامل سے کٹ جانے کا تصور اجاگر ہوتا ہے مگر فقہ اسلامی پر اجتماعی نظر ثانی کو ہم وقت کی ناگزیر ضرورت سمجھتے ہیں۔ ویسی ہی ضرورت جیسی اورنگزیب عالمگیرؒ کے دور میں محسوس کی گئی اور جس کے نتیجے میں فتاویٰ عالمگیری وجود میں آیا تھا۔ اگر گیارہویں صدی میں فقہ کے سابقہ ذخیرہ پر نظر ثانی اور اس دور کے جدید مسائل کے حل کے لیے مشترکہ علمی کاوش فقہی تسلسل کے منافی نہ تھی تو آج بھی اس کی ضرورت سے انکار نہیں کیا جا سکتا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۸ مارچ ۲۰۰۳ء

نعمتوں کی ناشکری پر عذاب الٰہی کا ضابطہ

آج عید کا دن ہے، عید خوشی کو کہتے ہیں اور آج دنیا بھر کے مسلمان اس بات پر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں خوشی اور تشکر کا اظہار کر رہے ہیں کہ رمضان المبارک کا رحمتوں اور برکتوں والا مہینہ نصیب ہوا اور اس میں ہر مسلمان کو اپنے ذوق اور توفیق کے مطابق اللہ تعالیٰ کی بندگی اور نیک اعمال کا موقع ملا۔ روزہ، قرآن کریم کا سننا سنانا ‘ صدقہ خیرات اور نوافل کی توفیق ہوئی، اس خوشی میں مسلمان بارگاہ ایزدی میں سجدہ ریز ہیں اور تشکر و امتنان کا اظہار کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

عید الفطر ۲۰۰۱ء

شرعی احکام و معاملات میں سورج اور چاند کی گردش کا اعتبار

دنیا میں سورج اور چاند کی گردش کے حساب سے دو قسم کے سن رائج ہیں۔ سورج کی گردش کے لحاظ سے جو سن رائج ہے وہ شمسی کہلاتا ہے اور جنوری، فروری اور مارچ وغیرہ مہینے اسی سن کے مہینے ہیں۔ جبکہ چاند کی گردش کے حساب سے جو سن مروج ہے وہ قمری کہلاتا ہے اور محرم، صفر، ربیع الاول وغیرہ اس سن کے مہینے ہیں۔ ہجری سن قمری حساب سے ہے۔ مروجہ شمسی سن عیسوی اور میلادی سن بھی کہلاتا ہے جس کا آغاز حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت سے ہوتا ہے اور ۱۹۹۹ء کا مطلب یہ ہے کہ حضرت عیسٰیؑ کی ولادت کو اتنے سال گزر چکے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۱۹۹۹ء

وحی کی ضرورت اور اس کی حقیقت و ماہیت

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ حضرات علمائے کرام، محترم بزرگو، دوستو اور عزیز طلبہ! حضرت مولانا قاری سعید الرحمان صاحب نے مجھے اور آپ دونوں کو آزمائش میں ڈال دیا ہے کہ شیخ الحدیث حضرت مولانا حسن جان مدظلہ کے خطاب کے بعد اور شیخ الحدیث حضرت مولانا ڈاکٹر شیر علی شاہ مدظلہ کے خطاب سے پہلے مجھے حکم دیا ہے کہ بخاری شریف کے سبق کے افتتاح کی اس تقریب میں آپ حضرات کی خدمت میں کچھ گزارشات پیش کروں۔ سمجھ میں نہیں آرہا کہ ان دو بزرگوں کے درمیان مجھ جیسا طالب علم کیا بات کرے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۰ مارچ ۱۹۹۹ء

اعمال کی سزا و جزا کا اسلامی تصور

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ محترم بزرگو اور دوستو! میں نے آپ کے سامنے سورۃ النساء کی آیت نمبر ۱۲۳ تلاوت کی ہے جس کے بارے میں حضرت عبد اللہ بن عباسؓ کا ارشاد گرامی ہے کہ اس میں اعمال کی سزا اور جزا کے حوالہ سے مشرکین مکہ اور اہل کتاب کے خیالات کا رد کیا گیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے یہ اصول بیان فرمایا ہے کہ اعمال کے بدلے کے بارے میں نہ تو مشرکین کی آرزوئیں پوری ہوں گی اور نہ اہل کتاب کی آرزوؤں کا لحاظ رکھا جائے گا بلکہ جو شخص بھی کوئی برا عمل کرے گا اسے اس کا بدلہ دیا جائے گا اور ہر شخص کو اپنے اعمال کی سزا خود بھگتنا ہوگی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ جنوری ۱۹۹۹ء