تفہیم دین

تقویٰ کا مفہوم اور اس کے تقاضے

مجھے گوجرانوالہ میڈیکل کالج آ کر خوشی ہوتی ہے، ایک تو اس حوالہ سے کہ یہ میرے شہر کا میڈیکل کالج ہے جہاں اساتذہ کے ساتھ ساتھ بچوں اور بچیوں سے اجتماعی ملاقات ہو جاتی ہے اور کالج کی ترقی اور پیشرفت دیکھ کر اطمینان ہوتا ہے جو یقیناً پرنسپل محترم ڈاکٹر پروفیسر سمیع ممتاز اور ان کے رفقاء کی مسلسل محنت کا نتیجہ ہے۔ اور دوسرا اس حوالہ سے کہ یہاں کا ماحول اور اور سرگرمیاں بھی مسرت کا باعث بنتی ہیں جو فنی، اخلاقی اور دینی تینوں دائروں میں نمایاں دکھائی دیتی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۳ مئی ۲۰۱۹ء

تحقیق کی اسلامی روایت اور اسلاف کا طرز عمل

تحقیق، روایت اور ہمارے اسلاف کا طرز عمل، اگر میں اس موضوع کو تھوڑا سا تقسیم کروں تو یہ تین بنیادی نکتے ہیں: (۱) تحقیق کیا ہے؟ (۲) ہماری روایت کیا ہے؟ (۳) اور آج کے دور میں اس کے تقاضے کیا ہیں؟ اس عنوان سے مزید شاخیں بھی نکلتی ہیں اور نئے عنوان بنتے ہیں لیکن میں انہی دو تین نکات کے گرد اپنی گفتگو مکمل کرنے کی کوشش کروں گا۔ تحقیق حق سے ہے، حق معلوم کرنا، حق تک رسائی حاصل کرنا، حق کو سمجھنا، حق کی وضاحت کرنا، حق کو پیش کرنا، حق کو ثابت کرنا، حق کی حجت قائم کرنا، یہ سارے تحقیق کے مراحل ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۲ مئی ۲۰۱۲ء

قرآن و سنت کا باہمی ربط

حدیث گفتگو کو کہتے ہیں اور سنت طریقے کو محدثین کی اصطلاح میں حدیث اور سنت میں فرق بھی ہے اور یہ دونوں مترادف بھی ہیں۔ بعض نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کا نام حدیث ہے اور عمل کا نام سنت ہے۔ محدثین نے یہ بھی کہا ہے کہ حدیث وہ ہے جو ایک آدھ مرتبہ بیان ہوئی جبکہ سنت وہ ہے جو معمول یا قانون کا درجہ اختیار کر گئی۔ بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ آپؐ کی ساری زندگی کے ارشادات حدیث ہیں، جبکہ جن ضوابط اور قوانین پر آپؐ رخصت ہوئے یعنی آپؐ کی زندگی کے جو آخری اقوال و اعمال ہیں وہ سنت کا درجہ رکھتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰۱۱ء

قرآن کریم کی بعض آیات سمجھنے میں اشکال

آج کی گفتگو کا عنوان یہ ہے کہ قرآن مجید میں جہاں کہیں بھی بات سمجھنے میں کوئی الجھن پیش آتی تو صحابہ کرامؓ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے رجوع کرتے تھے اس لیے کہ حضورؐ قرآن مجید کے شارح ہیں۔ حضورؐ کی سنت اور حضورؐ کے ارشادات قرآن کریم کی تشریح ہے۔ چنانچہ تابعین یعنی خیر القرون اور قرون اولیٰ کے لوگ صحابہ کرامؓ سے رجوع کرتے تھے اس لیے کہ انہی کے سامنے قرآن کریم نازل ہوا تھا اور وہ اس کے پس منظر اور موقع محل کو زیادہ بہتر جانتے تھے اور اس کی زیادہ بہتر تشریح کر سکتے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰۱۱ء

مسئلہ سود پر دو اہم باتیں

مختلف مکاتب فکر کے ارباب علم و دانش سود اور سودی نظام کے حوالہ سے موجودہ معروضی صورتحال اور اس سلسلہ میں مشکلات و مسائل کے حل کے موضوع پر اظہار خیال کر رہے ہیں۔ میں اس مرحلہ میں اس موضوع پر کوئی تفصیلی بات نہیں کرنا چاہتا اور مختلف الخیال ارباب دانش کے خیالات سننے کی نیت سے حاضر ہوا ہوں، مگر مجھ سے پہلے ایک فاضل دوست نے اپنے خطاب میں کچھ اہم نکات کی طرف توجہ دلائی ہے جن میں سے دو نکات پر مختصرًا کچھ عرض کرنا مناسب سمجھتا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲ جون ۲۰۱۰ء

حدیث قدسی کسے کہتے ہیں؟

چند سالوں سے معمول ہے کہ جناب نبی کریمؐ کی احادیث مبارکہ کے کسی ایک پہلو پر گفتگو ہوتی ہے۔ ایک سال بخاری شریف کی ’’ثلاثیات‘‘ پر بات ہوئی، ایک سال مسلم شریف کے ’’باب الفتن‘‘ کے بارے میں گفتگو ہوئی، اور ایک سال ابن ماجہ کی’’ کتاب السنن‘‘ پر خطاب کا موقع ملا۔ اس سال بھی احادیث مبارکہ ہی کے ایک پہلو ’’احادیث قُدسیہ‘‘ کا انتخاب کیا ہے جو کہ احادیث کریمہ میں ایک مستقل شعبہ ہے۔ اہل علم کے ہاں حدیث اور سنت میں تھوڑا سا تکنیکی فرق ہے لیکن عام لوگوں کے ہاں یہ دونوں لفظ ایک ہی معنٰی میں سمجھے جاتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۲۰۰۸ء

روشن خیالی کے مغربی اور اسلامی تصور میں فرق

مغرب نے تاریکی سے روشنی کی طرف سفر انقلاب فرانس سے شروع کیا اور مغرب کے ہاں تاریک دور اور روشن دور میں فاصل انقلاب فرانس ہے۔ اس سے پہلے کا دور تاریکی، جہالت اور ظلم و جبر کا دور کہلاتا ہے جبکہ اس کے بعد کے دور کو روشنی، علم اور انصاف و حقوق کا دورکہا جاتا ہے۔ مگر ہمارے ہاں دور جاہلیت جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے کے دور کو سمجھا جاتاہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری سے پہلے زمانہ جاہلیت، ظلم وجبراور تاریکی کا دورکہلاتاہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۸ جنوری ۲۰۰۷ء

آسمانی مذاہب کے درمیان مکالمہ کے لیے قرآنی اصول

مجھے توحید کی اہمیت اور اس پر ہمارے ایمان و عقیدہ کی بنیاد کے حوالہ سے کچھ عرض کرنے کے لیے کہا گیا ہے اور میری اس کمزوری اور مجبوری سے آپ حضرات واقف ہیں کہ کسی بھی موضوع پر بات کرنے سے پہلے معروضی حالات اور عالمی تناظر کو ضرور دیکھتا ہوں اور اسے سامنے رکھتے ہوئے گفتگو کی کوشش کرتا ہوں۔ آج کی دنیا میں مذاہب و ادیان کے درمیان مکالمہ اور ڈائیلاگ کی بات چل رہی ہے اور مختلف مذاہب کے دینی راہنماؤں کی مشترکہ کانفرنسیں ہو رہی ہیں، ابھی اسلام آباد میں ایک کانفرنس ہوئی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳ اکتوبر ۲۰۰۴ء

نعمتوں کی ناشکری پر عذاب الٰہی کا ضابطہ

آج عید کا دن ہے، عید خوشی کو کہتے ہیں اور آج دنیا بھر کے مسلمان اس بات پر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں خوشی اور تشکر کا اظہار کر رہے ہیں کہ رمضان المبارک کا رحمتوں اور برکتوں والا مہینہ نصیب ہوا اور اس میں ہر مسلمان کو اپنے ذوق اور توفیق کے مطابق اللہ تعالیٰ کی بندگی اور نیک اعمال کا موقع ملا۔ روزہ، قرآن کریم کا سننا سنانا ‘ صدقہ خیرات اور نوافل کی توفیق ہوئی، اس خوشی میں مسلمان بارگاہ ایزدی میں سجدہ ریز ہیں اور تشکر و امتنان کا اظہار کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

عید الفطر ۲۰۰۱ء

شرعی احکام و معاملات میں سورج اور چاند کی گردش کا اعتبار

دنیا میں سورج اور چاند کی گردش کے حساب سے دو قسم کے سن رائج ہیں۔ سورج کی گردش کے لحاظ سے جو سن رائج ہے وہ شمسی کہلاتا ہے اور جنوری، فروری اور مارچ وغیرہ مہینے اسی سن کے مہینے ہیں۔ جبکہ چاند کی گردش کے حساب سے جو سن مروج ہے وہ قمری کہلاتا ہے اور محرم، صفر، ربیع الاول وغیرہ اس سن کے مہینے ہیں۔ ہجری سن قمری حساب سے ہے۔ مروجہ شمسی سن عیسوی اور میلادی سن بھی کہلاتا ہے جس کا آغاز حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت سے ہوتا ہے اور ۱۹۹۹ء کا مطلب یہ ہے کہ حضرت عیسٰیؑ کی ولادت کو اتنے سال گزر چکے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۱۹۹۹ء

وحی کی ضرورت اور اس کی حقیقت و ماہیت

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ حضرات علمائے کرام، محترم بزرگو، دوستو اور عزیز طلبہ! حضرت مولانا قاری سعید الرحمان صاحب نے مجھے اور آپ دونوں کو آزمائش میں ڈال دیا ہے کہ شیخ الحدیث حضرت مولانا حسن جان مدظلہ کے خطاب کے بعد اور شیخ الحدیث حضرت مولانا ڈاکٹر شیر علی شاہ مدظلہ کے خطاب سے پہلے مجھے حکم دیا ہے کہ بخاری شریف کے سبق کے افتتاح کی اس تقریب میں آپ حضرات کی خدمت میں کچھ گزارشات پیش کروں۔ سمجھ میں نہیں آرہا کہ ان دو بزرگوں کے درمیان مجھ جیسا طالب علم کیا بات کرے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۰ مارچ ۱۹۹۹ء