دین و معاشرہ

نسبت کی اہمیت و برکات اور اس کے تقاضے

آج کا یہ اجتماع ’’سالکین‘‘ کے عنوان سے ہے۔ سلوک، احسان اور تزکیۂ تصوف کی اصطلاحات ہیں جو اصلاح نفس کے حوالہ سے صوفیاء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کے مختلف دائروں میں اپنا اپنا مفہوم اور دائرہ کار رکھتی ہیں۔ میں تفصیلات میں جائے بغیر اس سلسلہ کے دو پہلوؤں پر کچھ عرض کرنا چاہوں گا ایک یہ کہ نسبت کے تقاضے کیا ہوتے ہیں؟ اور دوسرا یہ کہ اصلاح اور تزکیہ کے لیے قرآن کریم نے کیا نصاب بیان فرمایا ہے؟ بزرگوں کے ساتھ نسبت ہمارے ہاں بہت اعزاز، برکت اور اعتماد کی بات سمجھی جاتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ اکتوبر ۲۰۲۰ء

مساجد کمیٹیوں کو رفاہی اور مصالحتی کردار بھی ادا کرنا چاہیے

عاشوراء کے روز دیگر بہت سے معمولات کے ساتھ ایک ایسے کارِ خیر میں شریک ہونے کا موقع مل گیا جس طرح کے کاموں کی مجھے تلاش رہتی ہے۔ واپڈا ٹاؤن گوجرانوالہ کے سامنے کنگ مال کے عقب میں ایک نئی مسجد روڈ پر بنی ہے جس کے سامنے سے کئی بار گزر ہوا اور اب یہ معلوم کر کے خوشی ہوئی کہ مسلم روڈ کے حاجی محمد طارق بشیر صاحب نے یہ مسجد تعمیر کرائی ہے ، وہ مسجد اقدس کے سابق خطیب مولانا حافظ محمد عارفؒ کے حلقہ احباب میں سے ہیں جو ہمارے مہربان اور بزرگ دوست تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۲۰۲۰ء

خیر و برکت کے اصول

قرآن کریم میں شرک اور جاہلانہ رسوم کی مذمت و مخالفت کے ساتھ ساتھ حلال و حرام کے ان ضابطوں کو بھی موضوع بحث بنایا گیا ہے جو دور جاہلیت میں مختلف قبائل اور علاقوں کے لوگوں نے از خود طے کر لیے تھے اور جن پر وہ صدیوں سے عمل پیرا تھے۔ مطلق اباحیت اور فری اکانومی کا یہ تصور قدیم سے موجود چلا آرہا ہے کہ ہم اپنے اموال میں تصرف کے حوالہ سے خودمختار ہیں اور کسی کو اس میں مداخلت کا حق حاصل نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مئی ۲۰۱۶ء

آج کے انسانی معاشرے کے مسائل اور مذہب کا کردار

میں کانفرنس کے معزز شرکاء کو اس بات پر غور کی دعوت دوں گا کہ ان میں سے کون سے مسائل ہیں جو مذہب کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں؟ زیادہ سے زیادہ دہشت گردی اور شدت پسندی کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ ان میں کسی حد تک مذہب کا کردار ہو سکتا ہے۔ لیکن باقی سب مسائل مذہب کی وجہ سے نہیں بلکہ مذہبی تعلیمات سے انحراف کے نتیجے میں وجود میں آئے ہیں۔ اس لیے ہمیں یکطرفہ بات نہیں کرنی چاہیے اور اپنے ایجنڈے کو متوازن اور بیلنس بنانا چاہیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۵ نومبر ۲۰۱۵ء

معاشرے کے خصوصی افراد

اعضا کی صحت بھی بہت بڑی نعمت ہے، لیکن عزم و حوصلہ اور قوت ارادی ان سے بھی بڑی نعمتیں ہیں جنہیں کام میں لا کر جسمانی کمزوریوں پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ انسان بہت کمزور بھی ہے اور انسان بہت طاقت ور بھی ہے۔ اگر اس کے عزم و حوصلہ کا رخ کمزوری کی طرف ہے تو اس سے زیادہ کمزور کوئی نہیں ہے۔ اور اگر اس کی قوت ارادی عزم و ہمت کی طرف متوجہ ہے تو اس سے زیادہ طاقت ور بھی کوئی نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو عزم و حوصلہ کی صورت میں بہت بڑی قوت عطا فرمائی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۹ اپریل ۲۰۱۴ء

سودی نظام کے خاتمہ کی مہم

جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جاہلیت کی جن اقدار کو انسانی معاشرہ سے ختم کیا ان میں ایک بڑی لعنت سود کی تھی، جاہلی معاشرہ میں سود کا چلن عام تھا اور ذاتی قرضوں اور تجارت دونوں میں سود کا لین دین ہوتا تھا۔ جب سود کی حرمت کا اعلان ہوا تو مشرکین کی طرف سے یہ اشکال پیش کیا گیا کہ ’’انما البیع مثل الربوٰا‘‘ تجارت بھی تو سود ہی کی طرح ہے، جب تجارت جائز ہے تو سود کیسے حرام ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ’’احل اللہ البیع وحرم الربوٰا‘‘ یہ دونوں ایک نہیں ہیں، تجارت کو اللہ تعالیٰ نے حلال کیا ہے اور سود کو حرام قرار دیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۴ فروری ۲۰۱۴ء

مسجد، انسانی آبادی کا زیرو پوائنٹ

مسجد کو مسلم سوسائٹی میں دل کی حیثیت حاصل ہے کہ سوسائٹی کی تمام تر دینی و روحانی سرگرمیاں مسجد کے متحرک ہونے پر موقوف ہیں، سوسائٹی کا دینی و روحانی نظام مسجد کے ساتھ وابستہ ہے۔ اور میں عرض کیا کرتا ہوں کہ مسلم سوسائٹی میں مسجد کا مقام دل کا اور مدرسے کا مقام دماغ کا ہے، یہ ہمارے اجتماعی دینی نظام کے اعصابی مراکز ہیں اور انہی کی حرکت پر ہماری سب دینی حرکات وجود میں آتی ہیں۔ قرآن کریم کے ارشاد کے مطابق مسجد کو انسانی آبادی کے زیروپوائنٹ کی حیثیت حاصل ہے کہ روئے زمین پر سب سے پہلا جو گھر تعمیر کیا گیا وہ بیت اللہ ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۲ اکتوبر ۲۰۱۱ء

قومی بدعہدی پر اجتماعی توبہ و استغفار کی ضرورت

غزوۂ تبوک کے موقع پر منافقین نے جہاد میں شرکت سے گریز کرنے اور پیچھے رہ جانے کے ساتھ ساتھ جو مختلف حرکتیں کی تھیں سورہ التوبہ میں انہیں ایک ایک کر کے بیان کیا گیا ہے، اور ان آیات میں اسی تسلسل میں ایک اہم بات بیان فرمائی گئی ہے۔ بعض مفسرین کرامؒ نے ان آیات کے ضمن میں ثعلبہ بن حاطب نامی ایک شخص کا واقعہ بیان کیا ہے اور محققین نے اس کے ساتھ یہ وضاحت فرمائی ہے کہ ثعلبہ بن حاطبؓ نامی معروف بزرگ بدری صحابی ہیں اور بدری صحابہؓ میں سے کسی بزرگ کے ساتھ نفاق کی نسبت درست نہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ اگست ۲۰۱۱ء

دنیا کو حقوق کا شعور کس نے عطا کیا؟

آج کی نشست میں، جو اس موضوع پر اس سلسلہ کی آخری نشست ہے، اسلامی تعلیمات اور سنت نبویؐ میں انسانی حقوق کی پاسداری کے حوالہ سے کچھ واقعات عرض کرنا چاہوں گا تاکہ مغرب کے اس پروپیگنڈا اور دعوے کی حقیقت واضح ہو سکے کہ دنیا کو اس نے حقوق کا شعور عطا کیا ہے اور انسانی حقوق کی پاسداری کا دور مغرب کے تہذیبی انقلاب سے شروع ہوا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۴ مارچ ۲۰۱۱ء

مانع حمل تدابیر اور اسلام

بعد الحمد والصلٰوۃ۔ شادی، نکاح کی بات ہو رہی ہے۔ اور اس بات کا ذکر ہو رہا تھا کہ مانع حمل تدابیر اختیار کرنا، اس کے بارے میں جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا ہے۔ میاں بیوی کے، مرد و عورت کے ملاپ سے بچہ پیدا ہوتا ہے اور بچے کی پیدائش سے بسا اوقات مرد و عورت بچتے ہیں کہ اپنا تقاضا تو پورا کریں لیکن بچہ نہ پیدا ہو، حمل نہ ہو۔ ہر زمانے میں یہ خواہش رہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰۱۰ء

ماں اور بچے کی صحت

ماں اور بچے کی صحت کے حوالہ سے اس سیمینار میں باخبر حضرات کی طرف سے جو اعداد و شمار پیش کیے گئے ہیں اور صورتحال کا جو نقشہ کھینچا گیا ہے وہ انتہائی تشویشناک ہے، حاملہ خواتین کو بروقت طبی امداد مہیا نہ ہونے کے باعث ہزاروں خواتین کی زچگی کی حالت میں موت، اور نوزائیدہ بچوں کو ضروری طبی سہولتیں میسر نہ آنے کی وجہ سینکڑوں بچوں کی اموات کے بارے میں یہ اعداد و شمار چونکا دینے والے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۰ جولائی ۲۰۱۰ء

معاشرتی عدل وانصاف میں پولیس کا کردار

ہمارے ڈی آئی جی صاحب باذوق آدمی ہیں، سال میں ایک آدھ بار ہماری آپ حضرات سے ملاقات کی کوئی صورت نکال لیتے ہیں، ہم گھنٹہ بھر کے لیے جمع ہوتے ہیں، بات چیت ہوتی ہے اور کم از کم اتنا ضرور ہو جاتا ہے کہ ہمارا کچھ خوف کم ہو جاتا ہے، اور شاید آپ حضرات کا خوف بھی کچھ کم ہو جاتا ہے۔ وہ اس طرح کہ سال بھر ہم آپ حضرات سے ڈرتے رہتے ہیں جبکہ یہ گھنٹہ پون گھنٹہ ہمیں میسر آجاتا ہے کہ ہم آپ حضرات کو ڈرا سکیں۔ بہرحال اس طرح کی کوئی صورت بن جاتی ہے جس کے لیے میں ڈی آئی جی صاحب کا شکر گزار ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۳ فروری ۲۰۱۰ء

مرد و عورت کا میل جول

جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا، کسی عورت کے لیے یہ حلال نہیں ہے کہ وہ تین دن سے زیادہ یعنی شرعی مسافت کا سفر کرے مگر اس کے ساتھ محرم ہو۔ محرم کے بغیر سفر نہ کرے۔ تین دن سے مراد شرعی مسافت ہے جو آج کل ۴۸ میل یا ۸۰ کلو میٹر کے لگ بھگ بنتی ہے۔ اس کے ساتھ یہ بھی فرماتے ہیں کہ عورت اپنے گھر میں بھی کسی مرد کے ساتھ تنہا نہ ہو جبکہ ساتھ کوئی محرم نہ ہو ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰۱۰ء

کیا دینی مدارس غیر ضروری ہیں؟

آج ایک سوال اٹھایا جاتا ہے کہ ان دینی مدارس میں جو کچھ پڑھایا جاتا ہے اور جن مضامین کی تعلیم دی جاتی ہے ان کا ہمارا عملی زندگی کے ساتھ کیا تعلق ہے اور ہمیں زندگی میں پیش آنے والی ضروریات میں سے وہ کس ضرورت کو پورا کرتے ہیں؟یہ سوال اٹھانے کے بعد کہا جاتا ہے کہ چونکہ ان مدارس کی تعلیمات کا ہماری عملی زندگی اور اس کی ضروریات کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے اس لیے ان مدارس کی بھی کوئی ضرورت نہیں ہے اور یہ مدارس قوم کی کوئی مثبت خدمت کرنے کی بجائے غیر ضروری مضامین پر قوم کے ایک بڑے حصے کا وقت ضائع کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲ نومبر ۲۰۰۷ء

عورتوں کے اسلامی حقوق اور ہمارا معاشرہ

ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اس وقت ہمارے معاشرے میں جو تنظیمیں اور ادارے عورتوں کے حقوق کے لیے کام کر رہے ہیں ان کی اکثریت کا ایجنڈا مغربی ثقافت کی عملداری ہے۔ وہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر کی بنیاد پر کام کر رہے ہیں اور اس کی عملداری میں مصروف ہیں، جبکہ ہم اقوام متحدہ کے چارٹر کے بارے میں واضح تحفظات رکھتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے داخلی نظام کے بارے میں، اس کے طرز عمل کے بارے میں، اس کے طریق کار کے بارے میں اور اس کے چارٹر کے بارے میں ہمارے تحفظات ہیں جو دلیل کی بنیاد پر ہیں اور حقائق کے تناظر میں ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ فروری ۲۰۰۴ء

شادی اور اس کے سماجی اثرات

شادی کو عام طور پر ایک سماجی ضرورت سمجھا جاتا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ایک طبعی ضرورت ہے اور سماجی ضرورت بھی ہے۔ لیکن اسلام نے اسے صرف ضرورت کے دائرے تک محدود نہیں رکھا بلکہ زندگی کے مقاصد میں شمار کیا ہے اور نیکی اور عبادت قرار دیا ہے جس سے شادی کے بارے میں اسلام کے فلسفہ اور باقی دنیا کی سوچ میں ایک بنیادی فرق سامنے آتا ہے۔ کیونکہ اگر شادی کو محض ایک ضرورت اور مجبوری سمجھا جائے تو پھر یہ ضرورت جہاں پوری ہو اور جس حد تک پوری ہو بس اسی کی کوشش کی جائے گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳ اپریل ۲۰۰۰ء

اسلام میں سوشل ورک کی اہمیت

سوشل ورک یا انسانی خدمت اور معاشرہ کے غریب و نادار لوگوں کے کام آنا بہت بڑی نیکی ہے اور اسلام نے اس کی تعلیم دی ہے۔ یہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتِ مبارکہ ہے اور آپؐ نے دکھی انسانیت کی خدمت اور نادار لوگوں کا ہاتھ بٹانے کا بڑا اجر و ثواب بیان فرمایا ہے۔ حتیٰ کہ میں عرض کیا کرتا ہوں کہ آقائے نامدارؐ پر وحی نازل ہونے کے بعد آپؐ کا پہلا تعارف ہمارے سامنے اسی حوالہ سے آیا ہے کہ آپؐ نادار اور مستحق لوگوں کی خدمت میں پیش پیش رہتے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ جنوری ۱۹۹۹ء