دین و معاشرہ

نسبت کے تقاضے اور تزکیہ و طہارت کا نظام العمل

آج کا یہ اجتماع ’’سالکین‘‘ کے عنوان سے ہے۔ سلوک، احسان اور تزکیۂ تصوف کی اصطلاحات ہیں جو اصلاح نفس کے حوالہ سے صوفیاء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کے مختلف دائروں میں اپنا اپنا مفہوم اور دائرہ کار رکھتی ہیں۔ میں تفصیلات میں جائے بغیر اس سلسلہ کے دو پہلوؤں پر کچھ عرض کرنا چاہوں گا ایک یہ کہ نسبت کے تقاضے کیا ہوتے ہیں؟ اور دوسرا یہ کہ اصلاح اور تزکیہ کے لیے قرآن کریم نے کیا نصاب بیان فرمایا ہے؟ بزرگوں کے ساتھ نسبت ہمارے ہاں بہت اعزاز، برکت اور اعتماد کی بات سمجھی جاتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ اکتوبر ۲۰۲۰ء

قومی بدعہدی پر اجتماعی توبہ و استغفار کی ضرورت

(مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں سورۃ التوبہ کی آیات نمبر ۷۵ تا ۷۷ کا درس۔)

بعد الحمد والصلٰوۃ۔

’’اور بعضے ان میں سے وہ ہیں جنہوں نے اللہ سے عہد کیا تھا کہ اگر وہ ہمیں اپنے فضل سے نوازے تو ہم ضرور خیرات کیا کریں اور نیک لوگوں میں سے ہو جائیں۔ پھر جب اللہ نے اپنے فضل سے نوازا تو اس میں بخل کرنے لگے اور منہ موڑ کر پھر بیٹھے۔ تو نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ نے ان کے دلوں میں نفاق پیدا کر دیا اس دن تک جب اللہ سے ملیں گے اس لیے کہ انہوں نے جو اللہ سے وعدہ کیا تھا اسے پورا نہ کیا اور اس لیے کہ جھوٹ بولا کرتے تھے۔‘‘ (سورہ التوبہ ۔ آیات ۷۵ و ۷۷)

۱۵ اگست ۲۰۱۱ء

دنیا کو حقوق کا شعور کس نے عطا کیا؟

آج کی نشست میں، جو اس موضوع پر اس سلسلہ کی آخری نشست ہے، اسلامی تعلیمات اور سنت نبویؐ میں انسانی حقوق کی پاسداری کے حوالہ سے کچھ واقعات عرض کرنا چاہوں گا تاکہ مغرب کے اس پروپیگنڈا اور دعوے کی حقیقت واضح ہو سکے کہ دنیا کو اس نے حقوق کا شعور عطا کیا ہے اور انسانی حقوق کی پاسداری کا دور مغرب کے تہذیبی انقلاب سے شروع ہوا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۴ مارچ ۲۰۱۱ء

مانع حمل تدابیر اور اسلام

بعد الحمد والصلٰوۃ۔ شادی، نکاح کی بات ہو رہی ہے۔ اور اس بات کا ذکر ہو رہا تھا کہ مانع حمل تدابیر اختیار کرنا، اس کے بارے میں جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا ہے۔ میاں بیوی کے، مرد و عورت کے ملاپ سے بچہ پیدا ہوتا ہے اور بچے کی پیدائش سے بسا اوقات مرد و عورت بچتے ہیں کہ اپنا تقاضا تو پورا کریں لیکن بچہ نہ پیدا ہو، حمل نہ ہو۔ ہر زمانے میں یہ خواہش رہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰۱۰ء

ماں اور بچے کی صحت

ماں اور بچے کی صحت کے حوالہ سے اس سیمینار میں باخبر حضرات کی طرف سے جو اعداد و شمار پیش کیے گئے ہیں اور صورتحال کا جو نقشہ کھینچا گیا ہے وہ انتہائی تشویشناک ہے، حاملہ خواتین کو بروقت طبی امداد مہیا نہ ہونے کے باعث ہزاروں خواتین کی زچگی کی حالت میں موت، اور نوزائیدہ بچوں کو ضروری طبی سہولتیں میسر نہ آنے کی وجہ سینکڑوں بچوں کی اموات کے بارے میں یہ اعداد و شمار چونکا دینے والے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۰ جولائی ۲۰۱۰ء

مرد و عورت کا میل جول

جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا، کسی عورت کے لیے یہ حلال نہیں ہے کہ وہ تین دن سے زیادہ یعنی شرعی مسافت کا سفر کرے مگر اس کے ساتھ محرم ہو۔ محرم کے بغیر سفر نہ کرے۔ تین دن سے مراد شرعی مسافت ہے جو آج کل ۴۸ میل یا ۸۰ کلو میٹر کے لگ بھگ بنتی ہے۔ اس کے ساتھ یہ بھی فرماتے ہیں کہ عورت اپنے گھر میں بھی کسی مرد کے ساتھ تنہا نہ ہو جبکہ ساتھ کوئی محرم نہ ہو ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰۱۰ء

کیا دینی مدارس غیر ضروری ہیں؟

آج ایک سوال اٹھایا جاتا ہے کہ ان دینی مدارس میں جو کچھ پڑھایا جاتا ہے اور جن مضامین کی تعلیم دی جاتی ہے ان کا ہمارا عملی زندگی کے ساتھ کیا تعلق ہے اور ہمیں زندگی میں پیش آنے والی ضروریات میں سے وہ کس ضرورت کو پورا کرتے ہیں؟یہ سوال اٹھانے کے بعد کہا جاتا ہے کہ چونکہ ان مدارس کی تعلیمات کا ہماری عملی زندگی اور اس کی ضروریات کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے اس لیے ان مدارس کی بھی کوئی ضرورت نہیں ہے اور یہ مدارس قوم کی کوئی مثبت خدمت کرنے کی بجائے غیر ضروری مضامین پر قوم کے ایک بڑے حصے کا وقت ضائع کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲ نومبر ۲۰۰۷ء

شادی اور اس کے سماجی اثرات

شادی کو عام طور پر ایک سماجی ضرورت سمجھا جاتا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ایک طبعی ضرورت ہے اور سماجی ضرورت بھی ہے۔ لیکن اسلام نے اسے صرف ضرورت کے دائرے تک محدود نہیں رکھا بلکہ زندگی کے مقاصد میں شمار کیا ہے اور نیکی اور عبادت قرار دیا ہے جس سے شادی کے بارے میں اسلام کے فلسفہ اور باقی دنیا کی سوچ میں ایک بنیادی فرق سامنے آتا ہے۔ کیونکہ اگر شادی کو محض ایک ضرورت اور مجبوری سمجھا جائے تو پھر یہ ضرورت جہاں پوری ہو اور جس حد تک پوری ہو بس اسی کی کوشش کی جائے گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳ اپریل ۲۰۰۰ء

اسلام میں سوشل ورک کی اہمیت

سوشل ورک یا انسانی خدمت اور معاشرہ کے غریب و نادار لوگوں کے کام آنا بہت بڑی نیکی ہے اور اسلام نے اس کی تعلیم دی ہے۔ یہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتِ مبارکہ ہے اور آپؐ نے دکھی انسانیت کی خدمت اور نادار لوگوں کا ہاتھ بٹانے کا بڑا اجر و ثواب بیان فرمایا ہے۔ حتیٰ کہ میں عرض کیا کرتا ہوں کہ آقائے نامدارؐ پر وحی نازل ہونے کے بعد آپؐ کا پہلا تعارف ہمارے سامنے اسی حوالہ سے آیا ہے کہ آپؐ نادار اور مستحق لوگوں کی خدمت میں پیش پیش رہتے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ جنوری ۱۹۹۹ء