ملک و ملت

اہلِ سنت کے تمام مکاتب فکر کی مشترکہ جدوجہد

جامع مسجد خلفاء راشدینؓ کھیالی دروازہ گوجرانوالہ کے منتظمین کا گزشتہ چار عشروں سے معمول چلا آ رہا ہے کہ وہ محرم الحرام کے آخری عشرہ کے دوران تحفظ ناموس صحابہ کرام و اہل بیت عظام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے عنوان سے دو روزہ کانفرنس منعقد کرتے ہیں جس میں اہل سنت کے تینوں مکاتب فکر دیوبندی، بریلوی اور اہل حدیث کے سرکردہ علماء کرام کا خطاب ہوتا ہے اور ہزاروں عوام اس میں شریک ہوتے ہیں۔ بحمد اللہ تعالٰی میں اس کانفرنس کے بانیوں میں سے ہوں اور مسلسل شریک ہو رہا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۲ ستمبر ۲۰۲۰ء

آزادی کا تحفظ اور اہل دین کی ذمہ داریاں

کل ہمارا یوم آزادی ہے، ۱۴ اگست کو ہمیں برطانوی استعمار کی غلامی سے آزادی ملی تھی اور اسی روز پاکستان کے نام سے جنوبی ایشیا میں مسلمانوں کی خودمختار نظریاتی اسلامی ریاست کا قیام عمل میں آیا تھا۔ اس لیے یہ دوہری خوشی کا دن ہے اور اس روز پاکستانی عوام ملک بھر میں بلکہ دنیا میں جہاں بھی وہ ہیں، آزادی اور نئے وطن کی خوشی میں تقریبات کا اہتمام کرتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۳ اگست ۲۰۲۰ء

وحدت امت اور تحفظ ختم نبوت کے ضروری تقاضے

لاہور میں ’’جامعۃ العروۃ الوثقٰی‘‘ کے نام سے اہل تشیع کا ایک بڑا تعلیمی ادارہ ہے جو آغا سید جواد نقوی کی سربراہی میں کام کر رہا ہے اور طلبہ و طالبات کی ایک بڑی تعداد وہاں مختلف شعبوں میں تعلیم حاصل کرتی ہے۔ مشترکہ دینی و قومی معاملات میں ملی مجلس شرعی کے فورم پر ان کا ہمارے ساتھ رابطہ رہتا ہے اور نقوی صاحب کے نائب علامہ توقیر عباس اجلاسوں میں ان کی اکثر نمائندگی کرتے ہیں۔ ایک عرصہ سے ان کا تقاضہ تھا کہ جامعہ کی سالانہ کانفرنس میں شریک ہوں مگر موقع نہیں بن رہا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ نومبر ۲۰۱۹ء

آزاد کشمیر کی حکومت اور علماء کرام سے چند گزارشات

خطۂ کشمیر کی موجودہ صورتحال آپ کے سامنے ہے، کسی وضاحت کی ضرورت نہیں ہے کہ گزشتہ سات عشروں سے کشمیری عوام کو ان کے مسلمہ حق خودارادیت سے مسلسل محروم رکھا جا رہا ہے اور حالیہ صورتحال یہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام دو ماہ سے زیادہ عرصہ سے کرفیو کے ماحول میں ہیں، آزادانہ نقل و حرکت کے حق سے محروم ہیں اور اشیائے خورد و نوش کی قلت کا شکار ہیں، جبکہ ان کی بے بسی اور مظلومیت پر ارباب فہم و شعور کا اضطراب بڑھتا جا رہا ہے مگر عملاً کوئی بھی کچھ کرنے کی پوزیشن میں دکھائی نہیں دے رہا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۲ اکتوبر ۲۰۱۹ء

دستور پاکستان کی اسلامی دفعات کے بارے میں مبینہ خدشات

پہلی بات یہ ہے کہ یہ خدشات و خطرات کیسے سامنے آئے ہیں اور کیوں محسوس کیے جا رہے ہیں؟ قادیانی امت کے سربراہ مرزا مسرور احمد کا ایک ویڈیو کلپ ان دنوں سوشل میڈیا پر مسلسل گردش کر رہا ہے جس میں ان سے پوچھا گیا ہے کہ پاکستان میں حالات کی مبینہ تبدیلی کے تناظر میں کیا یہ توقع ہے کہ قادیانیوں کا مرکز پاکستان میں واپس چلا جائے گا؟ اس کے جواب میں انہوں نے دو باتیں کہی ہیں۔ ایک یہ کہ ہمارا اصل مرکز تو قادیان ہے اور دوسری یہ کہ پاکستان میں ہمارا مرکز واپس جائے یا نہ جائے مگر پاکستان کا دستور ضرور تبدیل ہوگا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۵ اگست ۲۰۱۹ء

کشمیری عوام کی جد و جہد اور ہماری ذمہ داریاں

مسئلہ کشمیر کا مختصر پس منظر یہ ہے کہ ہندوستان کی تقسیم اور پاکستان کے قیام کے وقت تقسیم کے فارمولا میں ریاستوں کو یہ حق دیا گیا تھا کہ وہ دونوں ملکوں میں سے جس کے ساتھ چاہیں الحاق کر لیں۔ اس موقع پر جموں و کشمیر کے ہندو راجہ نے ریاست کی غالب مسلم اکثریت کے جذبات کی پروا نہ کرتے ہوئے ہندوستان کے ساتھ الحاق کا اعلان کیا جسے کشمیری عوام نے مسترد کرتے ہوئے مزاحمت کی جدوجہد شروع کر دی اور جہاد کے ذریعے مظفر آباد، باغ اور دیگر علاقوں کو آزاد کراتے ہوئے جب وہ سری نگر تک پہنچ گئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۵ فروری ۲۰۱۹ء

سنکیانگ کے مسلمانوں کا مسئلہ

ایک اہم مسئلہ کی طرف احباب کو توجہ دلانا چاہتا ہوں، وہ یہ ہے کہ چین کا مغربی صوبہ سنکیانگ جس کی سرحد ہمارے ملک کے ساتھ لگتی ہے اور جو کسی زمانے میں کاشغر کہلاتا تھا، ہمارے پرانے مسلم لٹریچر میں اس کا ایک اسلامی خطہ کے طور پر کاشغر کے نام سے ذکر موجود ہے لیکن بعد میں اسے سنکیانگ کا نام دیا گیا ہے، میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق وہاں مسلمانوں کے ساتھ معاملات بہت پریشان کن اور اضطراب انگیز ہیں کہ وہ ریاستی جبر کا شکار ہیں، انہیں مذہبی آزادی بلکہ شہری آزادیاں بھی حاصل نہیں ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۱۹ء

کیا پاکستان کو اسرائیلی ریاست تسلیم کر لینی چاہیے؟

مجھے اس سوال پر گفتگو کرنی ہے کہ آج کل اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کی جو بات ہو رہی ہے اس کے بارے میں پاکستان کا اصولی موقف کیا ہے؟ کیا موقف ہونا چاہیے؟ اور معروضی حالات میں پاکستان کا مفاد کیا ہے؟ لیکن اس سے پہلے مسئلہ کی نوعیت سمجھنے کے لیے اسرائیل کے قیام کے پس منظر پر کچھ گفتگو کرنا ہوگی، اس کے بعد موجودہ معروضی صورتحال صحیح طور پر سامنے آئے گی اور پھر میں اپنی رائے کا اظہار کروں گا۔ آج سے ایک صدی پہلے اسرائیل کا کوئی وجود نہیں تھا اور فلسطین کا سارا علاقہ خلافت عثمانیہ کا صوبہ تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۱۹ء

علماء کرام کی جدوجہد کا تسلسل

ان دنوں ملک بھر میں جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کی رکن سازی کا سلسلہ جاری ہے اور آئندہ پانچ سالہ مدت کے لیے رکن سازی اور تنظیم نو کے عمل میں احباب ہر سطح پر سرگرم عمل ہیں۔ رکن سازی کے بعد مرحلہ وار جماعتی انتخابات ہوں گے اور پھر مرکزی انتخابات کے بعد نومنتخب مجلس عاملہ اگلے پانچ سال کے لیے جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کا نظم و نسق سنبھال لے گی ۔سندھ کے شہید راہنما ڈاکٹر خالد محمود سومروؒ کے فرزند مولانا راشد محمود سومرو مرکزی ناظم انتخابات کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۷ اکتوبر ۲۰۱۸ء

شام کی موجودہ صورتحال کا تاریخی پس منظر

مارچ اتوار کو جامعہ حنفیہ تعلیم الاسلام جہلم کے سالانہ جلسہ کی آخری نشست میں حاضری ہوئی، تحریک خدام اہل سنت پاکستان کے امیر حضرت مولانا قاضی ظہور الحسین اظہر میر مجلس تھے جبکہ جمعیۃ علمائے برطانیہ کے قائد مولانا قاری تصور الحق مہمان خصوصی تھے۔ اس موقع پر جو گزارشات پیش کرنے کا موقع ملا ان کا خلاصہ درج ذیل ہے۔ بعد الحمد والصلوٰۃ۔ یہ ہمارے بزرگوں کی جگہ ہے جہاں حاضر ہو کر بہت سی نسبتیں اور یادیں تازہ ہو جاتی ہیں۔ یہاں ایک دور میں حضرت مولانا قاضی مظہر حسینؓ، حضرت مولانا عبدا للطیف جہلمیؒ، حضرت مولانا حکیم سید علی شاہؒ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۵ مارچ ۲۰۱۸ء

’’یوم پاکستان‘‘

حتیٰ کہ اب یہ کہنے میں کوئی باک محسوس نہیں کیا جا رہا کہ ’’پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ‘‘ کا نعرہ لگانے میں اور پاکستان میں قرآن و سنت کے قوانین نافذ کرنے کے اعلان میں تحریک پاکستان کی قیادت سنجیدہ نہیں تھی بلکہ صرف وقتی سیاست کی خاطر ایسا کیا گیا تھا۔ اگرچہ درحقیقت ایسا نہیں ہے کیونکہ قائد اعظم محمد علی جناح مرحوم کے ارشادات اور سابق وزیراعظم خان محمد لیاقت خان شہید کی طرف سے قانون ساز اسمبلی میں پیش کی جانے والی قرارداد مقاصد اس خیال کی نفی کرتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۲ مارچ ۲۰۱۷ء

تجدیدِ عہد برائے دفاع وطن

آج کی اس تقریب کا عنوان ’’تجدیدِ عہد اور دفاعِ وطن‘‘ ہے مگر میں اس میں ایک لفظی ترمیم کر کے اسے ’’تجدیدِ عہد برائے دفاعِ وطن‘‘ کی صورت میں پیش کرنا چاہوں گا اور اپنے ان عزیز نوجوانوں کو جو اسلام، وطن اور قوم کی خدمت کا جذبہ رکھتے ہیں، وطنِ عزیز پاکستان کے حوالہ سے چند باتوں کی طرف توجہ دلاؤں گا۔ وطنِ عزیز پاکستان اس وقت ہم سے جن باتوں کا تقاضہ کر رہا ہے اسے سامنے رکھنا ہم سب کے لیے ضروری ہے۔ وطنِ عزیز کا پہلا تقاضہ پاکستان کی تکمیل ہے، جغرافیائی تکمیل بھی، نظریاتی تکمیل بھی اور معاشی تکمیل بھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۲ جنوری ۲۰۱۷ء

وطن کے دفاع کے حوالے سے جناب نبی اکرمؐ کی سنت مبارکہ

جناب رسول اللہؐ جب ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لائے اور ایک ریاست کا ماحول بنا تو آنحضرتؐ نے سب سے پہلا کام یہ کیا کہ مدینہ منورہ اور اردگرد کے سب قبائل کو جمع کر کے مشترکہ حکومتی نظام کے ساتھ ساتھ مشترکہ دفاع کے معاہدہ کا اہتمام فرمایا۔ ’’میثاق مدینہ‘‘ میں سب نے مل کر طے کیا کہ مدینہ منورہ پر حملہ کی صورت میں اس کے دفاع کی ذمہ داری سب پر ہوگی اور مسلمان و کافر مل کر اس وطن کا تحفظ کریں گے۔ اس طرح آپؐ نے یہ اصول دیا کہ وطن کا دفاع سب اہل وطن کی مشترکہ ذمہ داری ہوتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳ اکتوبر ۲۰۱۶ء

قرآن کریم اور پاکستان کا تعلق

قائد اعظم محمد علی جناحؒ اور تحریک پاکستان کے دیگر قائدین نے قیام پاکستان سے پہلے اور بعد اپنی بیسیوں تقاریر و بیانات میں اس کا اظہار کیا۔ بلکہ ایک موقع پر قائد اعظمؒ سے پوچھا گیا کہ پاکستان کا دستور کیا ہوگا تو انہوں نے واضح طور پر کہا کہ پاکستان کا دستور ہمارے پاس پہلے سے قرآن کریم کی شکل میں موجود ہے اور وہی ہمارے دستور و قانون کی بنیاد ہوگا۔ اس کے ساتھ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ قرآن کریم جس طرح چودہ سو سال قبل سیاسی و معاشرتی حوالہ سے قابل عمل تھا اسی طرح وہ آج بھی قابل عمل ہے اور ہماری راہنمائی کرتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۳ مارچ ۲۰۱۶ء

قیام پاکستان اور علماء کرام

قیام پاکستان کا بنیادی مقصد اور فلسفہ یہ ہے کہ مسلم اکثریت کے علاقے میں حکومت خود مسلمانوں کی ہونی چاہیے اور قرآن و سنت کے احکام و قوانین کے مطابق ملک کا نظام تشکیل پانا چاہیے۔ یہ اسلام کے تقاضوں میں سے ہے، جناب نبی اکرمؐ کی سنت مبارکہ ہے، اور ملت اسلامیہ کی تاریخ اور ماضی کے تسلسل کا حصہ ہے۔ جناب نبی اکرمؐ کی سنت مبارکہ کے حوالہ سے یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ مکہ مکرمہ سے ہجرت کے بعد جب مدینہ منورہ میں مسلمانوں کی سوسائٹی قائم ہوئی تو نبی اکرمؐ نے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۴ اگست ۲۰۱۵ء

تحفظ ختم نبوت کی جدوجہد کے چند پہلو

میں قادیانیوں سے کہا کرتا ہوں کہ انہیں مسیلمہ اور اسود کے راستہ پر بضد رہنے کی بجائے طلیحہؓ اور سجاحؒ کا راستہ اختیار کرنا چاہیے اور غلط عقائد سے توبہ کر کے مسلم امت میں واپس آجانا چاہیے۔ جبکہ اہل اسلام سے میری گزارش یہ ہے کہ قادیانیوں کے دجل و فریب کا مقابلہ اپنی جگہ لیکن انہیں اسلام کی دعوت دینا اور دعوت کے لیے مناسب ماحول پیدا کرنا بھی ضروری ہے۔ اور یہ بات بھی سمجھنا ضروری ہے کہ مقابلہ کا ماحول اور نفسیات الگ ہوتی ہیں جبکہ دعوت کا ماحول اور نفسیات اس سے بالکل مختلف ہوتی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۲۰۱۵ء

دستور کی بالادستی اور قومی خودمختاری کا مسئلہ

اسلامی نظریاتی کونسل 1973ء میں دستور کے نفاذ کے بعد قائم ہوئی تھی جس کے ذمہ یہ بات تھی کہ وہ ملک کے تمام قوانین کا جائزہ لے کر خلاف اسلام قوانین کی نشاندہی کرے اور ان کو قرآن و سنت کے مطابق ڈھالنے کے لیے تجاویز مرتب کرے۔ اسلامی نظریاتی کونسل نے ملک میں رائج سات سو سے زیادہ غیر شرعی قوانین کی نشاندہی کر کے انہیں اسلام کے مطابق بنانے کے لیے تجاویز مرتب کر کے حکومت کے حوالے کر رکھی ہیں۔ سارا کام مکمل ہو جانے کے باوجود اب تک قانون سازی کیوں نہیں ہوئی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۶ فروری ۲۰۱۴ء

’’عیدِ محکوماں ہجومِ مومنین‘‘

آزاد قوموں کی عید تب ہوتی ہے جب ملک با وقار ہو اور دین سر بلند ہو۔ آج ہمارا دین کے ساتھ کیا معاملہ ہے اور ہمارے ملک کی کیا حالت ہے؟ ہماری اصل عید تو اس دن ہوگی جب ملک کو حقیقی آزادی حاصل ہوگی، قوم خود مختار ہوگی ، دین سر بلند ہوگا، اور ہم اپنے دین کے نفاذ اور سر بلندی کے لیے سرگرم عمل ہوں گے۔ اس لیے کہ غلاموں اور مجبوروں کی عید بھی کیا عید ہوتی ہے؟ آئیے مل کر دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں حقیقی عید نصیب فرمائیں، ملکی آزادی، قومی خود مختاری اور دین کی سر بلندی کی منزل سے ہمکنار کریں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ اگست ۲۰۱۲ء

دفاعِ پاکستان کے پانچ دائرے

پاکستان کے دفاع و سالمیت اور قومی وحدت و خودمختاری پر پوری قوم متفق ہے۔ جوں جوں اس سلسلہ میں عالمی قوتوں کی منفی خواہشات اور بین الاقوامی لابیوں کی سازشیں بے نقاب ہو رہی ہیں عوام کے جوش و جذبے بلکہ غیظ و غضب میں اضافہ ہو رہا ہے اور عوامی جذبات کا لاوا پکتا جا رہا ہے جو کسی وقت بھی آتش فشاں کی شکل میں پھٹ سکتا ہے۔ اس لیے ہماری قومی قیادت خواہ اس کا تعلق حکمران طبقات سے ہو یا اپوزیشن سے اور خواہ اس کا دائرہ سیاسی ہو یا دینی، سب کی یہ ذمہ داری ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۶ نومبر ۲۰۱۱ء

سالانہ ختم نبوت کانفرنس ۔ تین اہم گزارشات

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت تمام دینی حلقوں کی طرف سے شکریہ اور مبارکباد کی مستحق ہے کہ اس نے چناب نگر (سابق ربوہ) میں سالانہ ختم نبوت کانفرنس کی روایت تسلسل کے ساتھ قائم رکھی ہوئی ہے جس میں ملک بھر سے ہزاروں مسلمان اور سینکڑوں علماء کرام شریک ہو کر تحریک ختم نبوت کے جذبے کو تازہ کرتے ہیں، اور مختلف مکاتب فکر اور دینی جماعتوں کے سرکردہ راہنما تحفظ ختم نبوت کے حوالے سے تازہ ترین حالات کی روشنی میں امت مسلمہ کی راہنمائی کرتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۳ اکتوبر ۲۰۱۱ء

دفاعِ اسلام اور استحکامِ پاکستان

سیمینار کے عنوان کے حوالے سے مجھے دو امور کے بارے میں کچھ عرض کرنا ہے۔ ایک دفاعِ اسلام اور دوسرا استحکامِ پاکستان۔ دفاعِ اسلام پر گفتگو کو میں تین دائروں میں تقسیم کروں گا۔ ذاتی دائرہ، قومی دائرہ اور عالمی دائرہ۔ (۱) ذاتی دائرے میں مجھے اس بات کا جائزہ لینا ہے کہ میں اور ہم میں سے ہر فرد اسلام کے ساتھ کس درجے کی کمٹمنٹ رکھتا ہے اور اس کے احکام پر کس قدر عمل پیرا ہے؟ اسلام میرا دین ہے اور ایک مسلمان کی حیثیت سے میں اس بات کا پابند ہوں کہ میری زندگی قرآن کریم اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت و سیرت کے مطابق بسر ہو ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ جون ۲۰۱۱ء

الطاف حسین اور سلمان تاثیر کے بیانات پر ایک نظر

میں آج آپ حضرات کی وساطت سے جناب الطاف حسین (قائد ایم کیو ایم) اور جناب سلمان تاثیر (گورنر پنجاب) سے کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے گزشتہ دنوں (۱) تحفظ ناموس رسالتؐ کے قانون، (۲) قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے، (۳) اور اسلام کے نام پر انہیں اپنے مذہب کی تبلیغ سے روکنے کے قوانین پر اعتراض کیا ہے اور ان قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۶ اکتوبر ۲۰۰۹ء

خلافت کا قیام ۔ ایک بھولا ہوا سبق!

برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر نے چند برس قبل اپنی پارٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ انتہا پسند مسلمان دنیا میں خلافت کو بحال کرنا چاہتے ہیں لیکن ایسا نہیں ہونے دیا جائے گا۔ اسی بات کو اب امریکی وزیر دفاع رمز فیلڈ نے ایک مضمون میں اس انداز سے دہرایا ہے کہ امریکہ اگر عراق سے نکل گیا تو انتہا پسند مسلمان مراکش سے انڈونیشیا تک خلافت قائم کر لیں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۷ اگست ۲۰۰۶ء

امریکی عزائم اور پاکستان کا کردار

اسامہ بن لادن کا نام صرف بہانہ ہے، اصل مسئلہ جہادی تحریکات ہیں جو امریکہ اور اس کے حواری ممالک کے لیے ناقابلِ برداشت ہوتی جا رہی ہیں اور اب صدر بش نے صاف طور پر تمام جہادی تحریکات کے خاتمہ کو اپنا سب سے بڑا ہدف قرار دے کر ہمارے ان خدشات کی تصدیق کر دی ہے۔ مگر اس میں ستم ظریفی کی بات یہ ہے کہ امریکہ افغانستان پر حملے کے لیے ہمارے کندھے پر بندوق رکھنا چاہتا ہے اور پاکستان کی زمین اور فضا سے حملہ آور ہو کر امارتِ اسلامی افغانستان کی طالبان حکومت کو ختم کرنے کے درپے ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ ستمبر ۲۰۰۱ء

اقوامِ متحدہ اور عالمِ اسلام

۲۴ اکتوبر ۱۹۹۵ء کو اقوام متحدہ کا پچاسواں یومِ تاسیس منایا جا رہا ہے اور اس موقع پر عالمی سطح پر اقوامِ متحدہ کی پچاس سالہ تقریبات کا اہتمام کیا گیا ہے۔ اقوامِ متحدہ سے قبل بھی عالمی سطح پر اقوام کی ایک مشترکہ تنظیم ’’انجمنِ اقوام‘‘ کے نام سے موجود تھی جس کا مقصد مختلف ملکوں کے درمیان محاذ آرائی اور مسلح تصادم کے امکانات کو روکنا اور بین الاقوامی طور پر رواداری اور مفاہمت کی فضا کو فروغ دینا تھا۔ لیکن انجمن اقوام اس مقصد میں کامیاب نہ ہو سکی اور دوسری جنگ عظیم کی تباہ کاریوں کے بعد ’’اقوام متحدہ‘‘ کے نام سے ایک نئی عالمی تنظیم کا قیام عمل میں لایا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۳ اکتوبر ۱۹۹۵ء

پاکستان کے داخلی معاملات میں امریکی مداخلت اور مسیحی رہنماؤں سے مخلصانہ گزارش

امریکی سینٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی نے 1987ء میں پاکستان کی فوجی و اقتصادی امداد کے لیے شرائط عائد کر کے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے خلاف جس نظریاتی اور اعصابی جنگ کا آغاز کیا تھا وہ اب فیصلہ کن مرحلہ میں داخل ہوگئی ہے۔ ان شرائط میں پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خاتمہ کے ساتھ ساتھ اسلامی قوانین نافذ نہ کرنے کی ضمانت، جداگانہ طرز انتخاب کی منسوخی، اور قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیے جانے کے اقدامات کی واپسی کے مطالبات شامل تھے، اور ان میں اب گستاخ رسولؐ کے لیے موت کی سزا کا قانون تبدیل کرنے کے تقاضہ کا اضافہ بھی ہوگیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ اپریل ۱۹۹۴ء

علماء اور قومی سیاست

میں سب سے پہلے جمعیۃ اہل سنت گوجرانوالہ کا شکر گزار ہوں کہ اس نے آپ حضرات سے ملاقات و گفتگو کا موقع فراہم کیا۔ مولانا حافظ گلزار احمد آزاد کے ساتھ آج کی اس گفتگو کے لیے ’’علماء اور قومی سیاست‘‘ کا موضوع طے ہوا ہے اور میں اس کے حوالہ سے کچھ ضروری گزارشات آپ کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہوں۔ یہ معروضات بنیادی طور پر تین پہلوؤں پر مشتمل ہوگی: (۱) سیاست کے ساتھ علماء کا تعلق کیا ہے؟ (۲) قومی سیاست میں اب تک علماء کا رول کیا ہے اور اس کے ثمرات و نتائج کیا ہیں؟ (۳) آئندہ سیاسی محاذ پر علماء کے آگے بڑھنے کے امکانات کیا ہیں؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۱۹۹۳ء

نیو ورلڈ آرڈر۔ عالم اسلام کے خلاف سازش

میں صرف اجتماع میں شرکت اور آپ حضرات کے ہم نشینوں میں نام لکھوانے کے لیے حاضر ہوا ہوں، وقت مختصر ہے۔ دیگر حضرات علماء کرام بھی تشریف فرما ہیں اور بالخصوص مفتی صاحب دامت برکاتہم تشریف فرما ہیں، اس لیے کسی تمہید کے بغیر صرف دو مختصر باتیں عروض کروں گا۔ ایک تو اس وقت جہاد افغانستان کس پوزیشن میں ہے اس کا نقشہ تھوڑا سا سامنے ہونا چاہیے۔ ایک وقت وہ تھا جب افغانستان کے علماء نے جہاد کا آغاز کیا تو دنیا کے دانشور یہ کہتے تھے۔ یہ پاگل لوگ ہیں روس جیسی سپر پاور چٹان ہے ان سے سر ٹکرا ٹکرا کر تھک ہار کر بیٹھ جائیں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۸ نومبر ۱۹۹۱ء

کیا افغان مجاہدین کی جنگ مسلمان اور مسلمان کی جنگ ہے؟

جہاد افغانستان کے بارے میں اس وقت جن دو سوالوں پر سب سے زیادہ زور دیا جا رہا ہے ان میں ایک یہ ہے کہ جب روسی افواج افغانستان سے چلی گئی ہیں تو اب جہاد جاری رکھنے کا شرعی جواز کیا باقی رہ گیا ہے اور کیا افغانستان میں ہونے والی موجودہ جنگ مسلمان کی مسلمان کے ساتھ جنگ نہیں ہے؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ افغان مجاہدین نے اب تک جو جنگ لڑی ہے اس میں انہیں امریکہ، پاکستان اور دوسرے ممالک کی پشت پناہی حاصل تھی مگر اب ان ممالک کی پالیسیوں میں تبدیلی نظر آرہی ہے اور پشت پناہی اور امداد کی پہلی کیفیت باقی نہیں رہی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۳ نومبر ۱۹۸۹ء