دعوت و تبلیغ

دعوتِ دین اور اس کے تقاضے

ایک عرصہ سے عید الاضحٰی کی تعطیلات میں تبلیغی جماعت کے ساتھ سہ روزہ لگانے کا معمول ہے، اس سال گوجرانوالہ کے تبلیغی مرکز کی طرف سے مسجد ابراہیم سول لائن شیخوپورہ میں تشکیل ہوگئی اور گوجرانوالہ کے ۲۵ کے لگ بھگ علماء کرام اور چار پانچ دیگر احباب کے ساتھ عید سے پہلا جمعہ، ہفتہ اور اتوار تبلیغی جماعت کے ساتھ گزارا۔ دیگر معمول کی سرگرمیوں کے علاوہ اتوار کو ضلع کے علماء کرام کا جوڑ رکھا گیا تھا جس میں کچھ معروضات پیش کرنے کا موقع ملا، ان گزارشات کا خلاصہ نذرِ قارئین ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نومبر ۲۰۱۱ء

مکالمہ بین المذاہب کے مختلف دائرے اور اہداف

’’مکالمہ بین المذاہب‘‘ پر اس وقت دنیا میں مختلف سطحوں پر ہونے والی گفتگو کا پس منظر کیا ہے؟ اور اس میں ہمارا کردار کیا ہونا چاہیے؟ میں اسے تین حصوں میں تقسیم کروں گا، ایک یہ کہ مکالمہ بین المذاہب کا دائرہ کیا ہے؟ دوسرا یہ کہ موجودہ عالمی تناظر میں اس کے اہداف و مقاصد کیا ہیں؟ اور تیسرا یہ کہ اسلامی نقطۂ نظر سے اس کے معروضی تقاضے کیا ہیں؟ مکالمہ بین المذاہب کا ایک دائرہ یہ ہے کہ سرے سے مذہب کی کوئی ضرورت انسان کو فرد یا معاشرے کی سطح پر ہے بھی یا نہیں؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۲ جون ۲۰۱۱ء

دعوت دین ۔ دنیوی و اخروی نجات کا ذریعہ

ہمارے ہاں عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ کامیابی اور نجات کا مطلب جنت میں جانا ہے اور جو شخص جنت میں چلا جائے گا وہ کامیاب ہے۔ اس کے ساتھ یہ بات بھی شامل کر لیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہر اس مسلمان اور کلمہ گو کے ساتھ جنت کا وعدہ کیا ہے جو شرک سے بچ کر رہے گا۔ بلکہ جناب نبی اکرمؐ کا ارشاد گرامی ہے کہ جس شخص نے زندگی میں ایک بار بھی کلمہ پڑھا ہے وہ بالآخر جنت میں ضرور جائے گا۔ اس سے عام ذہن یہ بنتا ہے کہ جنت میں تو بالآخر جانا ہی ہے اس لیے زیادہ مشقت اور محنت کی چنداں ضرورت نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۲۰۱۰ء