تدریس و تربیت

خطابت ۔ ضروریات اور دائرے

اللہ تعالیٰ نے انسان کو قوت گویائی سے نوازا ہے جس کے مختلف مدارج ہیں اور ایک انسان جب بہت سے انسانوں کوخطاب کر کے اپنے جذبات و احساسات اور مافی الضمیر کا اظہار کرتا ہے تو اسے خطابت سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اس خطابت میں جس قدر فصاحت ہو گی اور مخاطبین کو سمجھانے کا بہتر انداز ہو گا اسی قدر و ہ کمال کی حامل ہو گی۔ خطابت زندگی کے دوسرے شعبوں کی طرح دین کی ضروریات میں بھی بہت زیادہ اہمیت رکھتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

تدریس حدیث کے چند اہم تقاضے

جب ہم حدیث پڑھا رہے ہوں تو جس طرح ایک عام اجتماع میں حدیث بیان کرتے ہوئے پبلک کی ذہنی نفسیات، ذہنی سطح اور اس کے معروفات ومسلمات کو سامنے رکھنا ضروری ہے، اسی طرح ہمارے سامنے جو کلاس بیٹھی ہے اس کی ذہنی سطح کو بھی سامنے رکھنا ضروری ہے کہ کون سی بات ان کے ذہن میں جائے گی اور کون سی نہیں جائے گی۔ کیونکہ آج ہمارے سامنے جو طلبہ حدیث پڑھنے بیٹھتے ہیں ان کا لیول آج سے پچاس سال پہلے والا نہیں ہے۔ چالیس پچاس سال پہلے سامنے بیٹھے ہوئے طلبہ کی اکثر یت مطالعہ کرکے آتی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

تدریس فقہ کے چند ضروری تقاضے

سب سے پہلے فقہ کے مفہوم و مقصد کے حوالے سے کچھ عرض کرنا چاہوں گا کہ قرن اول میں ’’فقہ‘‘ اور ’’تفقہ‘‘ کا لفظ جس مقصد کے لیے اور جس معنٰی میں بولا جاتا تھا وہ آج کے اس مفہوم سے بہت زیادہ وسیع تھا جس پر ہمارے اِس دور میں فقہ کا اطلاق ہوتا ہے۔ ’’التوضیح والتلویح‘‘ میں حضرت امام ابوحنیفہؒ کے حوالے سے فقہ کی یہ تعریف بیان کی گئی ہے ’’معرفۃ النفس ما لہا و ما علیہا‘‘ کہ ایک انسان اپنے حقوق و فرائض کی پہچان حاصل کرے۔ حقوق و فرائض کا یہ دائرہ دین کے تمام شعبوں کو محیط ہے اس لیے فقہ اس دور میں دین کے مجموعی فہم کو کہا جاتا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دینی مدارس کے اساتذہ کے لیے تربیتی نظام کی ضرورت اور تقاضے

علم انسان کا وہ امتیاز ہے جس نے انہیں فرشتوں پر فضیلت عطا کی اور معلّم وہ منصب ہے جسے سرور کائنات حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرما کر اپنے تعارف کے طور پر پیش کیا کہ ’’انما بعثت معلما‘‘ میں معلم اور استاذ بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ جب کہ رسول اکرمؐ پر نازل ہونے والی پہلی وحی قراءت، قلم اور تعلیم کے تذکرہ پر مشتمل ہے۔ اسی لیے اسلام میں تعلیم کے مشغلہ اور معلم کے منصب کو ہمیشہ عزت اور وقار کا مقام حاصل رہا ہے بلکہ دنیا کی ہر مہذب اور متمدن قوم میں معلم کو احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فکری ومسلکی تربیت کے چند ضروری پہلو

فکری تربیت سے مراد یہ ہے کہ دینی مدارس کے طلبہ جب ایک خاص نصاب کی تعلیم پاکر سوسائٹی میں جاتے ہیں اور انہیں آج کے مسائل اور حالات سے سابقہ پیش آتا ہے تو ان کی فکر اور سوچ کیا ہو؟ ان کا نصب العین اور زندگی کا مقصد کیا ہو؟ ہر آدمی کا کوئی نہ کوئی فکری نصب العین بن جاتا ہے جس کے ارد گرد اس کی زندگی کی ساری تگ ودو گھومتی ہے۔ طالب علمی کے دوران میں اس کے ذہن میں کوئی نہ کوئی ترجیح قائم ہو جاتی ہے کہ میں نے تو یہ کام کرنا ہے، اور پھر وہ ساری زندگی اسی میں لگا رہتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر