قرآن و علومِ قرآن

قرآن کریم اور سماجی تبدیلیاں

اس سال ہماری گفتگو کا موضوع ’’قرآن کریم اور انسانی سماج‘‘ ہے جس کے ایک حصہ پر ۳ رمضان المبارک کی نشست میں کچھ گزارشات پیش کی تھیں کہ اس وقت کے انسانی سماج کے لیڈروں نے بجا طور پر یہ بات سمجھ لی تھی کہ قرآن کریم سماج کے پورے نظام کو تبدیل کرنے کی بات کر رہا ہے اس لیے انہوں نے ہر ممکن مزاحمت کی اور اس مزاحمت کی مختلف صورتوں اور مراحل کا ہم نے تذکرہ کیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۸ جون ۲۰۱۸ء

قرآن کریم کا ایجنڈا اور سماج کی مزاحمت

قرآن کریم کے نزول کا بڑا مقصد انسانی سماج کی تبدیلی تھا اور اس نے تئیس سال کے مختصر سے عرصہ میں جزیرۃ العرب کے سماج کو یکسر تبدیل کر کے دنیا کو آسمانی تعلیمات و ہدایات پر مبنی ایک مثالی معاشرہ کا عملی نمونہ دکھا دیا جبکہ اس معاشرتی انقلاب نے دیکھتے ہی دیکھتے دنیا کے ایک بڑے حصے کو اپنے دائرے میں سمو لیا۔ اس حوالہ سے دو پہلوؤں پر گفتگو کرنا چاہتا ہوں۔ ایک یہ کہ انسانی سماج کی تبدیلی کے اس ایجنڈے پر اس وقت کے سماج کا ردعمل کیا تھا اور دوسرا یہ کہ قرآن کریم نے انسانی معاشرہ کو کن تبدیلیوں سے روشناس کرایا؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۸ مئی ۲۰۱۸ء

کیا قرآن کریم صرف پڑھ لینا کافی ہے؟

دنیا میں بحمد اللہ تعالیٰ اس وقت قرآن کریم کے کروڑوں حفاظ موجود ہیں جو اللہ تعالیٰ کے اس پاک کلام کا اعجاز ہے لیکن ہر مسلمان کو کچھ نہ کچھ قرآن کریم یاد ہونا ضروری ہے۔ ہمیں اس کا تھوڑا سا اندازہ کر لینا چاہیے کہ ہر مسلمان مرد، عورت، بوڑھے، بچے کو کم سے کم کتنا قرآن کریم یاد کرنا ضروری ہے۔ صرف ایک بات پر غور کر لیں کہ پانچ وقت کی نماز ہر مسلمان پر فرض ہے۔ ان پانچ نمازوں کی رکعتوں کو شمار کرلیں اور یہ دیکھ لیں کہ ان میں سورۃ فاتحہ کے ساتھ کتنی رکعتوں میں قرآن کریم پڑھنا لازمی ہے اور اس سلسلہ میں حضورؐ کی سنت مبارکہ کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۰ مئی ۲۰۱۶ء

قرآن کریم صرف ماضی کی کتاب نہیں!

قرآن کریم کی تعلیم و تدریس اور حفظ و تلاوت کا سلسلہ دنیا بھر میں تمام تر مخالفتوں اور رکاوٹوں کے باوجود دن بدن وسیع ہوتا جا رہا ہے اور اس کے دائرے کو سمیٹنے کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہو رہی، جو بلاشبہ قرآن کریم کا اعجاز ہے۔ لیکن اس سے عالمی استعماری حلقے اس مغالطہ کا شکار ہوگئے ہیں کہ قرآن کریم کی تعلیم و تدریس اور قراءت و تلاوت کا یہ سلسلہ دینی مدارس کی وجہ سے باقی ہے۔ اس لیے وہ دینی مدارس کے پیچھے پڑ گئے ہیں اور دینی مدارس کا کردار محدود کرنے اور انہیں غیر مؤثر بنانے کے لیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۹ فروری ۲۰۱۵ء

قرآن کریم کے حقوق

8 ،9، 10 جولائی کو دنیا ٹی وی کے سحری و افطاری کے پانچ نشریاتی پروگراموں میں شرکت کا موقع ملا جنہیں جناب انیق احمد بڑے ذوق و مہارت کے ساتھ چلا رہے ہیں۔ پہلے پروگرام میں مولانا اسعد تھانوی، مولانا شجاع الملک اور مولانا قاری اکبر مالکی کے ساتھ رفاقت رہی۔ موضوعِ گفتگو عمومی طور پر ’’قرآن کریم کے حقوق‘‘ تھا جبکہ سورۃ الانبیاء کی آیت 10 کا یہ جملہ بطور خاص زیر بحث آیا کتاباً فیہ ذکرکم۔ کم و بیش تین گھنٹے پر مشتمل اس پروگرام میں بیسیوں نکات پر بات ہوئی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۸ جولائی ۲۰۱۴ء

اللہ اور رسولؐ کی اطاعت

قرآن کریم میں ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی اطاعت کریں اور اس کے ساتھ یہ بھی حکم ہے کہ اس کے رسولؐ کی بھی اطاعت کریں۔ یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولؐ دونوں ہمارے مستقلاً مطاع ہیں۔ اس لیے ہم پر جس طرح اللہ تعالیٰ کے احکام کی بجا آوری ضروری ہے اسی طرح جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام کی بجا آوری بھی ضروری ہے۔ کیونکہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ہمیں بہت سے کاموں کا حکم دیا ہے، ان کے ساتھ جناب نبی اکرمؐ نے بھی ہمیں بہت سے احکام دیے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۴ نومبر ۲۰۱۱ء

تلاوتِ قرآنِ کریم کے تقاضے

آج تمہید اور آغاز کے طور پر چند گزارشات پیش کر رہا ہوں دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اس کارِ خیر کو جاری رکھنے کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔ قرآن کریم نے خود اپنے بارے میں متعدد ہدایات اور احکامات بیان فرمائے ہیں جن میں سے دو تین کا تذکرہ کرنا چاہوں گا، مثلاً ایک جگہ ارشاد ربانی ہے کہ ’’لایمسہ الا المطہرون‘‘ قرآن کریم کو پاک لوگ ہی ہاتھ لگاتے ہیں۔ اس سے فقہاء کرام نے یہ مسئلہ بیان فرمایا ہے کہ قرآن کریم کو طہارت کے بغیر ہاتھ لگانا جائز نہیں ہے۔ طہارت کے دو درجے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۹ اکتوبر ۲۰۱۱ء

تلاوتِ قرآن کریم کا ذوق اور ضرورت

بحمد اللہ تعالیٰ آج ہم الشریعہ اکادمی میں حفظ قرآن کریم کی کلاس کا باقاعدہ آغاز کر رہے ہیں، ناظرہ اور قاعدہ کی کلاس تو اکادمی کے آغاز سے جاری ہے اور روزانہ صبح محلہ کے بچے یہاں آ کر قاعدہ اور ناظرہ قرآن کریم کے ساتھ ضروری دینی امور کی تعلیم حاصل کرتے ہیں مگر حفظ قرآن کریم کی باقاعدہ کلاس آج شروع ہو رہی ہے جس میں بچوں کو حفظ قرآن کریم اور ضروریات دین کی ابتدائی تعلیم کے ساتھ ساتھ ریاضی اور انگلش کی ضروری تعلیم بھی دی جائے گی، ان شاء اللہ تعالیٰ، تا کہ وہ حفظ قرآن کریم کی تکمیل کے بعد حسب استعداد مڈل یا میٹرک کا امتحان دے سکیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۲ اپریل ۲۰۱۱ء

گلوبل ہیومن سوسائٹی کا مستقبل اور قرآن کریم

میں نے آپ حضرات کے سامنے قرآن کریم کی دو آیات پڑھی ہیں جو بیسویں پارے کی آخری آیات ہیں اور ان میں اللہ رب العزت نے قرآن کریم ہی کے بارے میں ایک بات ارشاد فرمائی ہے۔ مشرکین مکہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مسلسل نشانیوں اور معجزات کا مطالبہ کرتے رہتے تھے، حالانکہ بیسیوں کھلے معجزات کا انہوں نے اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کر رکھا تھا مگر اس کے باوجود ان کا معجزات اور نشانیوں کے لیے مطالبہ جاری رہتا تھا اور وہ اپنی طرف سے طے کر کے کہا کرتے تھے کہ جو نشانیاں ہم مانگتے ہیں وہ دکھائی جائیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ اگست ۲۰۱۰ء

قرآن کریم پڑھنے کے سات مقاصد

قرآن کریم ہم پڑھتے بھی ہیں سنتے بھی ہیں اور کچھ نہ کچھ یاد بھی کرتے ہیں، سوال یہ ہے کہ ہم قرآن کریم کو کس غرض اور مقصد کے لیے پڑھتے ہیں اور اسے اصل میں کس مقصد کے لیے پڑھنا چاہیے؟ اس کا اپنا مقصد اور ایجنڈا کیا ہے جس کے لیے اللہ تعالیٰ کے اس پاک کلام کو پڑھنے اور سننے کی ضرورت ہے۔ ہم عام طور پر قرآن کریم کو چند مقاصد کے لیے پڑھتے ہیں جن کا تذکرہ اس وقت مناسب سمجھتا ہوں، مثلاً ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۰ جولائی ۲۰۱۰ء

ہم قرآن کس لیے پڑھتے ہیں؟

کراچی سے گزشتہ جمعرات کو گوجرانوالہ واپس پہنچ کر اپنی معمول کی مصروفیات میں محو ہو چکا ہوں مگر دو تین حاضریوں کا تذکرہ باقی ہے۔ سہراب گوٹھ کی جامع مسجد گلشن عمرؓ میں واقع جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن کی شاخ کے سامنے سے تو بیسیوں مرتبہ گزر ہوا ہو گا، مگر حاضری پہلی بار ہوئی۔ جامعہ کے اساتذہ کی فرمائش تھی کہ حاضری کی کوئی صورت نکلے اور طلبہ سے کچھ معروضات بھی کی جائیں۔ چنانچہ بدھ کی شب کو مولانا محمد شفیع چترالی کے ہمراہ عشاء کی نماز وہاں ادا کی، عشاء کے بعد طلبہ سے چند گزارشات کیں اور اس کے بعد کھانے پر حضرات اساتذہ کے ساتھ مختلف امور پر تبادلۂ خیالات ہوا۔ مکمل تحریر

نامعلوم

امریکہ میں درس قرآن کی چند محافل

حسب سابق اس سال بھی رمضان المبارک کا پہلا جمعہ دارالہدٰی، سپرنگ فیلڈ، ورجینیا میں پڑھایا اور دو تین روز تک تراویح کے بعد تراویح میں پڑھے جانے والے قرآن کریم کے خلاصہ کے طور پر کچھ معروضات پیش کیں۔ اس کے علاوہ بالٹی مور، نیوجرسی، برونکس اور لانگ آئی لینڈ کی متعدد مساجد میں قرآن کریم کے حوالہ سے گفتگو ہوئی جس کا خلاصہ درج ذیل ہے: بعد الحمد والصلوٰۃ۔ قرآن کریم جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات میں سب سے بڑا معجزہ ہے جس کے اعجاز کے بیسیوں پہلو مفسرین کرام نے بیان فرمائے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

ستمبر ۲۰۰۹ء

فہم قرآن کی اہمیت اور اس کے تقاضے

برطانیہ کے حالیہ سفر کے دوران یکم اکتوبر ۲۰۰۴ء کو آکسفورڈ کی مدینہ مسجد میں جمعۃ المبارک کے اجتماع سے خطاب کے موقع پر فہم قرآن کی اہمیت اور اس کے چند ضروری تقاضوں پر کچھ معروضات پیش کرنے کا موقع ملا۔ ان کا خلاصہ قارئین کی دلچسپی کے لیے درج ذیل ہے۔ بعد الحمد والصلوٰۃ! محترم بزرگو اور دوستو! میں نے آپ کے سامنے قرآن کریم کی سورۃ القمر کی ایک آیت تلاوت کی ہے، اس کی روشنی میں کچھ ضروری گزارشات پیش کرنا چاہتا ہوں۔ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ دو باتیں فرمائی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم اکتوبر ۲۰۰۴ء

قرآن کریم کا معجزہ

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ میں نے سورۃ العنکبوت کی دو آیات تلاوت کی ہیں جو اکیسویں پارے کے پہلے رکوع کی آخری آیتیں ہیں، ان میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین مکہ کے ایک سوال کا جواب دیا ہے۔ مشرکین مکہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اکثر و بیشتر نشانیوں اور معجزات کا مطالبہ کرتے رہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے جناب نبی اکرمؐ کو سینکڑوں معجزات عطا فرمائے ہیں جن میں سے بعض معجزات ایسے ہیں جو مشرکین کی فرمائش پر دیے گئے اور ایسے معجزات بھی ہیں جو اللہ تعالیٰ نے کسی فرمائش کے بغیر اپنی حکمت سے عطا فرمائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ جون ۱۹۹۹ء

قرآن فہمی میں سنتِ نبویؐ کی اہمیت

قرآن کریم کے درس کے حوالہ سے قرآن فہمی کے بنیادی اصولوں کے بارے میں کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں کیونکہ یہ غلط فہمی آج کل عام ہو رہی ہے کہ قرآن کریم کو سمجھنے کے لیے صرف عربی زبان جان لینا کافی ہے اور جو شخص عربی زبان پر، گرامر پر اور لٹریچر پر عبور رکھتا ہے وہ براہِ راست قرآن کریم کی جس آیت کا جو مفہوم سمجھ لے وہی درست ہے۔ یہ گمراہی ہے اور قرآن فہمی کے بنیادی تقاضوں کے منافی ہے اس لیے اس کے بارے میں کچھ عرض کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ مئی ۱۹۹۹ء