عصر حاضر کے چیلنجز

تحفظِ ناموسِ رسالتؐ کے سلسلہ میں علماء اور وکلاء کی مشترکہ ذمہ داری

اسلام آباد کے بہت سے سرکردہ وکلاء محترم حافظ ملک مظہر جاوید ایڈووکیٹ کی سربراہی میں تحفظ ختم نبوت اور ناموسِ رسالت کے تحفظ کے لیے سرگرم عمل ہیں جو لائقِ تحسین ہے۔ گذشتہ دنوں ان کی محنت و کاوش سے خصوصی عدالت برائے انسدادِ دہشت گردی کے جج راجہ جواد عباسی نے سوشل میڈیا پر توہینِ رسالت کا ارتکاب کرنے والے تین مجرموں کو سزائے موت، جبکہ ایک مجرم کو دس سال قید اور جرمانے کی سزا سنائی ہے۔ محترم وکلاء کا یہ گروپ ’’انٹرنیشنل لائیرز فورم اسلام آباد‘‘ کے عنوان سے سرگرم عمل ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ فروری ۲۰۲۱ء

تعلیمی نظام اور تحریکی تقاضے

کافی عرصہ کے بعد جامعہ فریدیہ میں حاضری اور اساتذہ و طلبہ کے ساتھ ملاقات کی سعادت حاصل ہوئی ہے اور مجھ سے کہا گیا ہے کہ کچھ گزارشات بھی کروں اس لیے تعمیل حکم میں چند باتیں عرض کر رہا ہوں۔ جامعہ فریدیہ ملک کے بڑے تعلیمی اداروں میں سے ہے اور مختلف حوالوں سے اپنی ایک الگ تاریخ رکھتا ہے۔ حضرت مولانا محمد عبد اللہ شہیدؒ کی محنتوں کا ثمرہ اور ان کا صدقہ جاریہ ہے۔ انہوں نے اور ان کے خاندان و رفقاء نے اس علمی ادارہ اور مرکز کے لیے بے پناہ قربانیاں دی ہیں اور جامعہ فریدیہ آزمائشوں کے مختلف مراحل سے گزرا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۰ دسمبر ۲۰۲۰ء

نصاب تعلیم کی یکسانیت پر قومی تعلیمی کانفرنس

ملک میں تعلیمی نصاب و نظام کے دوہرے پن کو ختم کرنے اور خاص طور پر دینی و عصری تعلیم کے نصاب و نظام میں یکسانیت پیدا کرنے کے لیے قومی سطح پر جو کوششیں جاری ہیں میں ان کے مؤیدین اور ناقدین دونوں کی صف اول میں شامل ہوں۔ مؤیدین میں تو اس لیے کہ میں خود گزشتہ نصف صدی سے اس کا داعی چلا آرہا ہوں، اس دوران اس اہم قومی مسئلہ کے مختلف پہلوؤں پر میرے بیسیوں مقالات و مضامین متعدد جرائد اور اخبارات میں شائع ہو چکے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ مارچ ۲۰۲۰ء

معاصر اسلامی معاشروں کو درپیش فکری تحدیات

اسلامی علوم کے ان شعبوں میں علمی و فکری سرگرمیوں میں اضافہ کے ساتھ جو بات خوشی اور اطمینان کا باعث بن رہی ہے، یہ ہے کہ یونیورسٹیوں اور دینی مدارس کے فضلاء میں میل جول بڑھ رہا ہے جو وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ان سرگرمیوں میں شریک ہونے والے اور ان کا اہتمام کرنے والے اساتذہ و طلبہ میں دونوں طرف کے فضلاء شریک ہیں۔ پی ایچ ڈی اسکالرز میں دینی مدارس کے فضلاء کی تعداد روز افزوں ہے اور دینی مدارس کے اساتذہ و فضلاء کی دلچسپی اس میں مسلسل بڑھ رہی ہے جو ہمارے پرانے خواب کی تعبیر ہے کہ قدیم و جدید علوم کے ماہرین یکجا بیٹھیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۱ دسمبر ۲۰۱۶ء

فرقہ وارانہ کشمکش اور اصول انسانیت

میری گفتگو کا عنوان ’’فرقہ وارانہ کشیدگی اور اصول انسانیت‘‘ ہے اور مجھے انسانی معاشرہ کی مختلف حوالوں سے تفریق کے متنوع دائروں میں انسانی اصول و اخلاق کی پاسداری کے تقاضوں پر کچھ گزارشات پیش کرنی ہیں۔ انسانی سماج میں تفریق کئی حوالوں سے ہمیشہ سے موجود چلی آرہی ہے۔ یہ نسل کے عنوان سے بھی ہے، رنگ اور زبان کے حوالہ سے بھی ہے، مذہب بھی اس کا ایک دائرہ ہے اور وطن، قومیت، علاقہ اور دیگر بہت سے امور اس کے اسباب میں شامل ہیں۔ مگر میں ان میں سے مذہب کے حوالہ سے پائی جانے والی تفریق کی بات کروں گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۸ اگست ۲۰۱۹ء

دینی و عصری تعلیم کے حوالہ سے چند ضروری گزارشات

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ دینی مدارس کے تعلیمی سال کا اس عشرہ میں آغاز ہو رہا ہے اور پورے جنوبی ایشیا میں ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں دینی مکاتب و مدارس سالِ رواں کے تعلیمی دورانیہ کا سلسلہ شروع کر رہے ہیں، اس لیے میں اس موقع پر دینی مدارس کے حوالہ سے کچھ سوالات کا جائزہ لینا چاہوں گا تاکہ دینی مدارس کے تعلیمی کام کی اہمیت کا آج کے تعلیم یافتہ لوگوں کو تھوڑا بہت اندازہ ہو جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ جون ۲۰۱۹ء

ڈسٹرکٹ بار گوجرانوالہ کا تحفظ ناموس رسالتؐ سیمینار

میں سب سے پہلے گوجرانوالہ کے وکلاء اور ڈسٹرکٹ بار کو اس حالیہ کامیابی پر مبارکباد پیش کروں گا جو گوجرانوالہ میں لاہور ہائیکورٹ کا بینچ قائم کرنے کے سلسلہ میں انہوں نے حاصل کی ہے۔ یہ گوجرانوالہ ڈویژن کے عوام کا حق اور وکلاء کا جائز مطالبہ تھا جسے پورا کرنے پر حکومت بھی تحسین کی مستحق ہے۔ تحفظ ناموس رسالتؐ کے عنوان پر وکلاء کا یہ سیمینار آپ حضرات کے ایمانی ذوق اور محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی علامت ہے۔ گوجرانوالہ کے وکلاء نے ختم نبوت اور ناموس رسالت کے تحفظ کی جدوجہد میں ہمیشہ بھرپور کردار ادا کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳ جنوری ۲۰۱۹ء

تہذیبی چیلنج اور تعلیمی اداروں کی ذمہ داریاں

گوجرانوالہ کے بہت سے علماء کرام کا یہ معمول سالہا سال سے چلا آرہا ہے کہ وہ سال میں تبلیغی جماعت کے ساتھ ایک اجتماعی سہ روزہ لگاتے ہیں اور دو تین روز دعوت و تبلیغ کے ماحول میں گزارتے ہیں، اس سہ روزہ میں مجھے بھی ان کے ساتھ شامل ہونے کا موقع مل جاتا ہے۔ اس سال تیس کے لگ بھگ علماء کرام کے اس سہ روزہ کی تشکیل دارالعلوم الشہابیہ سیالکوٹ میں ہوئی اور تین دن ہم تبلیغی جماعت کے ساتھ اعمال میں شریک رہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۲۰۱۸ء

فیصل آباد میں ختم نبوت کانفرنس

۹ اگست کو ستیانہ روڈ فیصل آباد کے سلیمی چوک میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی جس کی صدارت مرکزی نائب امیر مولانا خواجہ عزیز احمد آف کندیاں شریف نے کی اور خطاب کرنے والوں میں مولانا اللہ وسایا، پروفیسر ڈاکٹر عبد الماجد حمید المشرقی، مولانا ضیاء الدین آزاد اور دیگر سرکردہ حضرات شامل تھے جبکہ راقم الحروف نے بھی کچھ معروضات پیش کیں جن کا خلاصہ نذر قارئین ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۹ اگست ۲۰۱۸ء

آسمانی تعلیمات کے حوالے سے ایک مستقل آزمائش

سورۃ المائدہ آیت ۴۴ تا آیت ۵۰ میں اللہ تعالیٰ نے آسمانی کتابوں کے نزول کا مقصد اور تسلسل بیان فرمایا ہے کہ ہم نے تورات نازل کی جس کے مطابق حضرات انبیاء کرامؑ لوگوں کے درمیان فیصلے کیا کرتے تھے، پھر انجیل نازل کی اور اس کے ماننے والوں کو حکم دیا کہ وہ اپنے معاملات اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ اس کتاب کے مطابق کیا کریں، اس دوران زبور نازل ہوئی اور حضرت داؤدؑ کو بھی اللہ رب العزت نے یہی حکم دیا کہ وہ لوگوں کے معاملات اور تنازعات کا کتاب اللہ کی روشنی میں فیصلہ کریں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ اپریل ۲۰۱۸ء

آسمانی تعلیمات کے حوالہ سے درپیش چیلنجز اور اسوۂ نبویؐ

جامعۃ العلوم الشرعیۃ کے ساتھ میرا بہت پرانا تعلق ہے، اس کے بانی حضرت مولانا حافظ محمد اسحاقؒ میرے دوستوں اور جماعتی ساتھیوں میں سے تھے۔ جبکہ ہمارے گوجرانوالہ کے مخدوم و محترم استاذ الاساتذہ حضرت مولانا قاضی شمس الدینؒ یہاں پڑھاتے رہے ہیں جو جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے پہلے شیخ الحدیث تھے۔ میری ان سے مسلسل نیاز مندی رہی ہے اور زندگی بھر ان کی شفقتوں سے فیض یاب ہوتا رہا ہوں، وہ مولانا حافظ محمد اسحاقؒ کے خسر بزرگوار تھے اور اب حضرت قاضی صاحبؒ کے نواسے اس دینی ادارہ کی خدمت و انتظام میں مصروف ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۷ اپریل ۲۰۱۸ء

قادیانیوں کے حمایتی اداروں اور حلقوں کے نام دو ٹوک پیغام

آج میں عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کے حوالہ سے قادیانی مسئلہ کے ایک پہلو پر کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ جب ہمارا اور قادیانیوں کا اس بات پر مکمل اتفاق ہے کہ ان کا مذہب ہمارے مذہب سے الگ ہے اور ہم دونوں ایک مذہب کے پیروکار نہیں ہیں تو پھر قادیانیوں کو مسلمانوں کے مذہب کا نام، اصطلاحات، علامات اور ٹائٹل استعمال کرنے پر اس قدر اصرار اور ضد کیوں ہے؟ اور وہ ایک الگ اور نئے مذہب کا پیروکار ہونے کے باوجود اپنا نام، علامات اور اصطلاحات و شعائر الگ اختیارکرنے کے لیے تیار کیوں نہیں ہیں؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ مارچ ۲۰۱۸ء

موجودہ دور میں مسلمانوں اور غیر مسلموں کے باہمی تعلقات کار کی نوعیت

آج ہماری گفتگو کا عنوان ہے کہ ایک مسلمان ریاست میں غیر مسلموں کے کیا حقوق و مسائل ہیں اور کسی غیر مسلم ریاست میں رہنے والے مسلمانوں کے معاملات کی نوعیت کیا ہے؟ ہمارے ہاں جب پاکستان، بنگلہ دیش، بھارت اور برما سمیت یہ خطہ، جو برصغیر کہلاتا ہے، متحد تھا اور مسلمانوں کی حکمرانی تھی تو اس کی شرعی حیثیت کے بارے میں فقہی بحث و مباحثہ اس قسم کے عنوانات سے ہوتا تھا کہ یہاں رہنے والے ذمی ہیں یا معاہد ہیں، اور یہاں کی زمینیں عشری ہیں یا خراجی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۴ جنوری ۲۰۱۸ء

عقیدۂ ختم نبوت اور ایک قادیانی مغالطہ

غلط یا صحیح کی بحث اپنی جگہ پر ہے لیکن تاریخی تناظر میں مرزا غلام احمد قادیانی کو بنی اسرائیل کے ان انبیاء کرام پر قیاس نہیں کیا جا سکتا جن کے آنے سے مذہب تبدیل نہیں ہوا تھا۔ بلکہ اس کی حیثیت یہ ہے کہ ایک شخص نے نئی نبوت اور وحی کا دعویٰ کیا جسے قبول کرنے سے امت مسلمہ نے مجموعی طور پر انکار کر دیا، جس کی وجہ سے وہ اور اس پر ایمان لانے والے پہلے مذہب کا حصہ رہنے کی بجائے نئے مذہب کے پیروکار کہلائے، اور ان کا مذہب ایک الگ اور مستقل مذہب کے طور پر متعارف ہوا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم جون ۲۰۱۶ء

قادیانیوں کا ایک مغالطہ

قادیانی حضرات کا کہنا ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے مستقل نبوت کا دعویٰ نہیں کیا بلکہ حضرت محمد رسول اللہؐ کی پیروی میں نبی ہونے کا دعویٰ کیا ہے جو عقیدۂ ختم نبوت کے منافی نہیں ہے۔ مگر یہ بات محض ایک مغالطہ ہے اور میں جناب سرور کائناتؐ کی سیرت طیبہ کی روشنی میں اس کا جائزہ لینا چاہتا ہوں۔ رسول اللہؐ کے دور میں تین بندوں نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا۔ یمامہ کے مسیلمہ کذاب، بنو اسد کے طلیحہ بن خویلد، یمن کے اسود عنسی، جبکہ ایک خاتون سجاح بھی نبوت کی دعوے دار تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ جنوری ۲۰۱۶ء

اسلام اور سائنس

اسلام اور سائنس کے موضوع پر گفتگو کے بیسیوں دائرے ہیں، ان میں سے صرف ایک پہلو پر عرض کرنا چاہوں گا کہ کیا اسلام اور سائنس آپس میں متصادم ہیں؟ کیونکہ عموماً‌ یہ بات دنیا میں کہی جاتی ہے کہ مذہب اور سائنس ایک دوسرے کے مخالف ہیں اور ان کے درمیان بُعد اور منافاۃ ہے۔ میں آج کی گفتگو میں اس سوال کا جائزہ لینے کی کوشش کروں گا۔ سب سے پہلے اس بات پر غور فرمائیں کہ مذہب اور سائنس کے باہم مخالف اور متصادم ہونے کا جو تاثر عام طور پر پایا جاتا ہے اس کے بڑے اسباب دو ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۵ نومبر ۲۰۱۵ء

حالات کا تغیر اور علماء کرام کی ذمہ داریاں

ہمارے اکابر کا ہمیشہ سے یہ معمول رہا ہے کہ وہ حالات کے تغیر اور اس سے پیدا شدہ صورت حال پر مسلسل نظر رکھتے ہیں اور اس حوالہ سے سامنے آنے والے مسائل اور ضروریات کو نظر انداز کرنے کی بجائے ان کے حل کی صورتیں نکالتے ہیں۔ اس لیے کہ نئے پیدا ہونے والے مسائل کو نظر انداز کر دینا ان کا صحیح حل نہیں ہوتا بلکہ ان کے مناسب حل کی طرف قوم کی راہ نمائی کرنا علماء کرام کی ذمہ داری شمار ہوتا ہے۔ یہ بات تو فطری طور پر طے ہے کہ حالات تبدیل ہوتے رہتے ہیں، قوموں کے عرف و تعامل میں مسلسل تغیر بپا رہتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۵ اپریل ۲۰۱۵ء

مذہبی ہم آہنگی اور باہمی رواداری کے تقاضے

آرا و افکار کا تنوع اور خیالات و تاثرات کا اختلاف سیاست میں بھی ہے، تہذیب و ثقافت میں بھی ہے، معیشت و تجارت میں بھی ہے، طب و حکمت میں بھی ہے، اور مذہب میں بھی ہے۔ اس لیے اختلافات کا موجود ہونا کوئی پریشانی کی بات نہیں ہے بلکہ انسانی عقل و دانش کے مسلسل استعمال کی علامت ہے۔ البتہ اختلاف کا اظہار جب اپنی جائز حدود کو کراس کرنے لگتا ہے تو وہ تنازعہ اور جھگڑے کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ رواداری اور ہم آہنگی کے باب میں یہی نکتہ سب سے زیادہ قابل توجہ ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۲ مارچ ۲۰۱۵ء

ہم آہنگی کی حکمت عملی ۔ ماضی اور حال کے تجربات کی روشنی میں

پاکستان میں ہم آہنگی اور کشمکش کے اسباب میں چار امور خصوصی توجہ کے طلبگار ہیں۔ ہمارا اجتماعی مزاج یہ بن گیا ہے کہ دو باتیں ہمارے درمیان اتحاد، ہم آہنگی اور رواداری کا سبب بنتی ہیں، جبکہ دو باتیں انتشار و افتراق اور کشمکش کا ذریعہ بن جاتی ہیں۔ قیام پاکستان کے بعد کے تناظر میں بات کروں گا کہ جب بھی ہم نے کسی مشترکہ قومی یا دینی مسئلہ کے لیے جدوجہد کی ہے ہمارے درمیان ہم آہنگی کا ماحول پیدا ہوا ہے اور تمام مذہبی مکاتب فکر باہمی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ایک پیج پر آگئے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ جنوری ۲۰۱۵ء

علوم اسلامیہ میں تحقیق کے جدید تقاضے

پہلی بات یہ ہے کہ اسلامی علوم و فنون کے حوالہ سے تحقیق اور ریسرچ کے شعبہ میں ہم ایک عرصہ سے تحفظات اور دفاع کے دائرے میں محصور چلے آرہے ہیں۔ مستشرقین نے اسلام، قرآن کریم اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں اعتراضات اور شکوک و شبہات پھیلانے کا سلسلہ شروع کیا تو ہم ان کے جوابات میں مصروف ہوگئے اور تحقیق کے میدان میں ابھی تک ہمارا رخ وہی ہے۔ کم و بیش تین صدیاں گزر گئی ہیں کہ ہماری علمی کاوشوں کی جولانگاہ کم و بیش یہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ جون ۲۰۱۴ء

دعوت دین کے عصری مسائل، تقاضے اور اہداف

دنیا بھر کے غیر مسلموں کو اسلام کی دعوت دینے کے لیے مسیحی مشنریوں کی طرز پر مسلمانوں کا کوئی منظم نیٹ ورک موجود نہیں ہے۔ حالانکہ سات ارب کی انسانی آبادی میں مسلمانوں کی تعداد پونے دو ارب بیان کی جاتی ہے۔ اور سوا پانچ ارب انسان اس بات کے انتظار میں ہیں کہ انہیں کوئی اسلام کی دعوت دے، انہیں جناب نبی اکرم ﷺ سے متعارف کرائے اور ان تک قرآن کریم کی تعلیمات پہنچانے کا اہتمام کرے۔ ظاہر ہے کہ یہ ذمہ داری بہرحال ہم مسلمانوں کی ہی بنتی ہے، اس کے لیے آسمان سے فرشتے نہیں اتریں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۶ اکتوبر ۲۰۱۳ء

اسوۂ نبویؐ اور عصرِ حاضر

جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ قیامت تک ہر زمانے اور ہر قوم کے لیے اسوۂ حسنہ ہے اور ہر دور میں نسلِ انسانی اس سے راہنمائی حاصل کرتی ہے۔ آج بھی نسلِ انسانی اور خاص طور پر امتِ مسلمہ کے لیے یہی راہنمائی فلاح و نجات کا سب سے بڑا سر چشمہ ہے۔ امتِ مسلمہ اس وقت جن مسائل میں الجھی ہوئی ہے ان کی فہرست بہت طویل اور انہیں صرف شمار کیا جائے تو اس کے لیے خاصا وقت درکار ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۳ جنوری ۲۰۱۳ء

اسلامی تحقیق و مطالعہ کے حوالہ سے جدید تحدّیات

معزز اساتذہ کرام اور عزیز طلبہ و طالبات! ارباب فکر و دانش کے اس اجتماع میں شرکت اور گفتگو کا موقع فراہم کرنے پر محترم ڈاکٹر دوست محمد صاحب، مولانا ڈاکٹر صالح الدین حقانی اور ان کے رفقاء کا شکریہ ادا کرتا ہوں، اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر سے نوازیں، آمین۔ مجھے خوشی ہو رہی ہے کہ ان طلبہ و طالبات سے مخاطب ہوں جو تعلیم کا ایک دور مکمل کر کے تحقیق، ریسرچ اور مطالعہ کے نئے دور میں داخل ہوئے ہیں اور نسل انسانی کی راہنمائی کا فریضہ سنبھالنے کی تیاری کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۷ نومبر ۲۰۱۲ء

مسئلہ قادیانیت کے تین پہلو

جنوبی ایشیا کے کسی حصے میں عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کے اس پہلو پر جب بات ہوتی ہے تو قادیانیت کا تذکرہ لازمی سمجھا جاتا ہے کیونکہ گزشتہ کم و بیش سوا سو برس سے قادیانیت ہی کو عقیدۂ ختم نبوت سے انکار کے عنوان سے پہچانا جاتا ہے اور اسی کے ساتھ علماء اسلام اور دینی جماعتوں کی کشمکش جاری ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے نبوت کا دعویٰ کیا تو تمام مکاتب فکر کے علماء کرام نے متفقہ طور پر انہیں اور ان کے پیروکاروں کو دائرۂ اسلام سے خارج قرار دیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ اپریل ۲۰۱۲ء

فکری مرعوبیت اور اس کا سدّباب

عام طور پر علم و فکر کی بات کی جاتی ہے، علم کا دائرہ اپنا ہے اور فکر کا دائرہ اس سے قدرے مختلف ہے۔ فکر کا ایک اہم دائرہ جو میں سمجھا ہوں، صحابیؓ رسول حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کا یہ ذوق ہے جس کا وہ خود ان الفاظ میں ذکر فرماتے ہیں کہ ’’کانوا یساَلونہ عن الخیر وکنت اَساَلہ عن الشر‘‘ اصحابِ رسول عام طور پر جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خیر کی بات پوچھا کرتے تھے جبکہ میں شر کے بارے میں دریافت کرتا رہتا تھا۔ خیر کے بارے میں علم اور معلومات حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ شر کے بارے میں علم اور معلومات حاصل کرنا بھی ضروری ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم جنوری ۲۰۱۲ء

امت مسلمہ کے مسائل و مشکلات اور علماء کا کردار

امت مسلمہ اس وقت عالمی اداروں کی رپورٹوں کے مطابق ڈیڑھ ارب سے زیادہ مسلمانوں پر مشتمل ہے، ایک امریکی تھنک ٹینک کے حوالہ سے شائع ہونے والی اخباری خبروں کے مطابق اس وقت دنیا میں مسلمانوں کی تعداد ایک ارب سرسٹھ کروڑ کے لگ بھگ ہے اور کہا جاتا ہے کہ مسلم امہ جو دنیا کی کل آبادی کا پانچواں حصہ سمجھی جاتی تھی اب چوتھے حصے کی طرف بڑھ رہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ مئی ۲۰۱۱ء

علماء اور جدید دور کے تقاضے

آپ حضرات دعوت و ارشاد کے حوالہ سے تخصص کا دو سالہ کورس مکمل کر کے چند دنوں میں فارغ التحصیل ہونے والے ہیں جبکہ آپ میں سے بیشتر حضرات اپنا تعلیمی دورانیہ مکمل کر کے عملی زندگی کا آغاز کر رہے ہیں، اس لیے آپ کے استاذ محترم حضرت مولانا ڈاکٹر ساجد الرحمن صدیقی صاحب کا ارشاد ہے کہ میں آپ حضرات کے سامنے اس موضوع پر گفتگو کروں کہ رسمی تعلیم کے دور سے فارغ ہونے کے بعد عملی زندگی میں داخل ہونے پر آپ حضرات کو کس قسم کی مشکلات کا سامنا کرنا ہو گا اور ان سے نمٹنے کے لیے آپ کیا تدابیر اختیار کریں گے؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ جون ۲۰۱۰ء

دینی مدارس سرکاری مداخلت کیوں نہیں قبول کرتے؟

پہلا سبب یہ ہے کہ دینی مدارس کے موجودہ نظام کے آغاز ہی پر سب سے پہلے قائم ہونے والے دینی مدرسہ دارالعلوم دیوبند کے بنیادی اصول میں بانیٔ دارالعلوم حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ نے اس بات کی ہدایت کر دی تھی کہ مدرسہ کا نظام عام لوگوں کے چندے اور تعاون کے ذریعے چلایا جائے اور کسی حکومت یا ریاست کی طرف سے مستقل امداد قبول نہ کی جائے۔ یہ بات دارالعلوم دیوبند کے اصول ہشت گانہ میں درج ہے اور ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی کے بعد قائم ہونے والے دینی مدارس کے آزادانہ نظام کے لیے راہنما اصول کا درجہ رکھتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۴ جون ۲۰۱۰ء

نئے مورچے،پرانے ہتھیار ۔ لمحہ فکریہ!

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ المرکز الاسلامی بنوں میں حاضری کی ایک عرصہ سے خواہش تھی مگر ہر کام کا ایک وقت مقرر ہوتا ہے۔ حضرت مولانا سید نصیب علی شاہ الہاشمیؒ ہمارے پرانے ساتھیوں میں سے تھے، ہم نے جمعیۃ طلباء اسلام اور پھر جمعیۃ علماء اسلام میں ایک عرصہ تک اکٹھے کام کیا ہے، ان کا یہ کام تو خود میرے ذوق کا کام ہے کہ آج کے جدید مسائل کا علمی حل اجتماعی طور پر تلاش کیا جائے اور علمی مسائل میں باہمی مشاورت اور علمی مذاکرہ کو ذریعہ بنایا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۵ مارچ ۲۰۱۰ء

امت مسلمہ کو درپیش چیلنجز

اللہ تعالٰی کا بے حساب شکر ہے کہ اس نے ہم سب کو اپنے گھر میں نماز ادا کرنے کے بعد دین کی کچھ باتیں کہنے سننے کے لیے مل بیٹھنے کی توفیق عطا فرمائی، اللہ رب العزت کچھ با مقصد باتیں عرض کرنے کی توفیق دیں اور ان پر عمل کی توفیق سے بھی نوازیں، آمین یا رب العالمین۔ میرے میزبان دوست جناب سلیمان قاضی نے فرمائش کی ہے کہ ’’ملت اسلامیہ کو درپیش چیلنجز‘‘ کے عنوان پر کچھ معروضات پیش کی جائیں، یہ ایک وسیع اور متنوع موضوع ہے جس کے مختلف پہلوؤں پر ایک مجلس میں بات کرنا مشکل ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۹ اپریل ۲۰۰۹ء

موجودہ حالات میں علماء کرام کی ذمہ داریاں

۲ اگست کو صبح مجھے لاہور سے نیویارک کے لیے روانہ ہونا تھا، چھ بج کر پچاس منٹ پر پی آئی اے کی فلائٹ تھی اس لیے یکم اگست کو جمعہ پڑھا کر شام ہی لاہور حاضری کا پروگرام بنا لیا۔ والد محترم مدظلہ کی خدمت میں ایک روز قبل حاضر ہو آیا تھا، مجھ سے اکثر ملکی حالات کے بارے میں پوچھا کرتے ہیں، میں نے عرض کیا کہ حالات روز بروز مزید بگڑ رہے ہیں اور بظاہر صورتحال میں اصلاح کی کوئی توقع نظر نہیں آرہی، یہ سن کر آبدیدہ ہوگئے۔ میں نے سفر کے بارے میں بتایا، واپسی کا پوچھا تو عرض کیا کہ حسب معمول رمضان المبارک کے دوسرے جمعۃ المبارک تک ان شاء اللہ واپسی ہو جائے گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم اگست ۲۰۰۸ء

فکری بیداری کے مختلف دائرے اور ہماری ذمہ داری

اب سے سترہ اٹھارہ برس پہلے ہم نے ورلڈ اسلامک فورم تشکیل دیا اور احباب کو توجہ دلائی کہ وہ دینی جدوجہد کے حوالے سے آج کے دور کی ضروریات اور تقاضوں کا ادراک حاصل کریں اور ان کو سامنے رکھ کر اسلام اور مسلمانوں کے لیے اپنی محنت کو مؤثر بنائیں، تو ہماری یہ آواز اجنبی سی محسوس ہو رہی تھی اور یوں لگتا تھا کہ شاید کوئی بھی ہماری اس آواز کو سنجیدگی کے ساتھ سننے کے لیے تیار نہیں ہوگا۔ لیکن آج بحمد اللہ تعالٰی ہم مطمئن ہیں کہ اس آواز کو دھیرے دھیرے پذیرائی حاصل ہو رہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۳ مئی ۲۰۰۸ء

دینی مدارس اور زندگی کا ایمانی و روحانی پہلو

دینی مدارس کو درپیش فکری چیلنجز بہت سے ہیں جن میں ایک یہ بھی ہے کہ ان مدارس کی آخر الگ سے کیا ضرورت ہے؟ اور جب مسلمان معاشرے میں اسکول، کالج اور یونیورسٹیاں موجود ہیں اور تعلیمی خدمات سرانجام دے رہی ہیں تو اجتماعی دھارے اور مین اسٹریم سے ہٹ کر یہ مدارس الگ کیا کام کر رہے ہیں اور کیوں کر رہے ہیں؟ یہ بہت بڑا سوال ہے جو پوری دنیا میں دہرایا جا رہا ہے اور بار بار دہرایا جا رہا ہے جس کا جواب دینا ضروری ہے اور نئی نسل کو مطمئن کرنا ضروری ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نامعلوم

اسلام کا تصور علم اور دینی مدارس کا کردار

اسلام نے علم کو نافع اور ضار کے درجوں میں تقسیم کیاہے۔ یہ نفع وضرر دنیا و آخرت دونوں حوالوں سے ہے۔ آج کے عالمی تعلیمی نظام اور اسلا م کے فلسفہ تعلیم میں یہی جوہری فرق ہے کہ آج کی دنیا کے نزدیک نفع وضرر صرف اس دنیا کے حوالے سے ہے۔ جو بات دنیا کی زندگی کو بہتر بنانے اور شخصی، طبقاتی یا اجتماعی زندگی کی کامیابی کے لیے مفید ہے، وہ تعلیمی نظام کا حصہ ہے۔ لیکن اسلام اس دنیا کے ساتھ بلکہ اس سے کہیں زیادہ آخرت کی فوز و فلاح اور اس ابدی زندگی میں نجات کو اپنے تعلیمی و تربیتی نظام کا اساسی ہدف قرار دیتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۴ نومبر ۲۰۰۶ء

عصر حاضر کے چیلنجز اور دینی جدوجہد کے ۷ دائرے

اس وقت پورے عالم اسلام میں علماء کرام اور دین سے تعلق رکھنے والے حلقے، شخصیات اور ادارے جن دائروں میں کام کر رہے ہیں، اور جو دین کے حوالے سے ان کی تگ و دو کے دائرے ہیں، ان کی معروضی صورتحال پر میں اس وقت آپ حضرات سے گفتگو کرنا چاہتا ہوں، تاکہ یہ بات آپ دوستوں کے سامنے آ جائے کہ کون سے کام ہمارے کرنے کے ہیں؟ ان میں سے کون سے ہو رہے ہیں اور کون سے نہیں ہو رہے ہیں؟ میں نے موجودہ مسلم معاشرے اور عالمی ماحول کو سامنے رکھتے ہوئے دینی جدوجہد کی مختلف سطحوں کو سات دائروں میں تقسیم کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳ جون ۲۰۰۶ء

دینی مدارس اور عصر حاضر

حاضرین کرام! یہ میرے ایک بہت پرانے خواب کی تعبیر کا آغاز ہے جو آج آپ موجودہ شکل میں الشریعہ اکادمی میں دیکھ رہے ہیں۔ ایک مدت سے میں یہ سوچ رہا تھا کہ درس نظامی کے فضلا کے لیے کسی ایسے کورس اور تربیت گاہ کا اہتمام ہونا چاہیے جس میں انھیں دور حاضر کے تقاضوں اور ضروریات سے آگاہ کیا جائے اور اس بات کے لیے تیار کیا جائے کہ وہ اس دور کے لوگوں کی نفسیات اور ذہنی سطح کو سمجھتے ہوئے ان کے سامنے دین کو بہتر انداز میں پیش کر سکیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۷ اگست ۲۰۰۵ء

سوشل گلوبلائزیشن کا ایجنڈا اور علماء کرام کی ذمہ داریاں

یہ گلوبلائزیشن انسانی معاشرے کے ارتقا کا نام ہے جسے سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی نے عروج تک پہنچا دیا ہے اور نسل انسانی کے معاشرتی ارتقا اور سائنس وٹیکنالوجی کی ترقی کے امتزاج نے پوری انسانی آبادی کو ایک دوسرے کے نہ صرف قریب کر دیا ہے بلکہ ذہنوں اور دلوں کے فاصلے بھی کم ہوتے جا رہے ہیں۔ اس گلوبلائزیشن کا اپنا کوئی ایجنڈا نہیں ہے۔ یہ صرف ارتقا کا ایک عمل ہے جو اپنی انتہا کی طرف فطری رفتار سے بڑھ رہا ہے، البتہ گلوبلائزیشن کے حوالے سے دنیا میں مختلف ایجنڈوں پر کام ہو رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ جون ۲۰۰۵ء

مغربی فلسفہ و تہذیب اور مسلم امہ کا رد عمل

موضوع پر گفتگو شروع کرنے سے قبل اس کے عنوان میں تبدیلی کی طرف اشارہ ضروری سمجھتا ہوں کہ میں نے جمہوریت کے ساتھ لادینی کا سابقہ حذف کر دیا ہے اور مطلق جمہوریت بلکہ مغربی تہذیب و ثقافت کے حوالے سے امت مسلمہ کے رد عمل اور موجودہ صورتحال پر گفتگو کا خواہش مند ہوں۔ مغرب نے اب سے کم و بیش تین سو برس قبل جمہوریت کا راستہ اختیار کیا تھا اور اس سے قبل کی صدیوں میں اسے جس صورتحال کا سامنا کرنا پڑا تھا، یہ اس کا رد عمل ہے کہ وہ جمہوریت کی شاہراہ پر مسلسل آگے بڑھتا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۹ مارچ ۲۰۰۵ء

دینی مدارس میں تحقیق وتصنیف کی صورت حال

دینی مدارس کی قیادت کو آج کے اس خوفناک چیلنج کا ادراک واحساس کرنا چاہیے جو عالمی تہذیبی کشمکش کے حوالے سے مسلم امہ کو درپیش ہے اور جس میں انسانی حقوق اور گلوبلائزیشن کے عنوان سے مسلمانوں کے عقائد وافکار، تہذیب وثقافت، خاندانی نظام، معاشرتی اقدار اور مسلم ممالک کے اسلامی تشخص کو پامال کر دینے کی منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔ اس کشمکش کے علمی، اعتقادی اور ثقافتی پہلوؤں کو اجاگر کرنا، فکر وفلسفہ اور علم وتحقیق کے جدید ہتھیاروں کے ساتھ اس یلغار کا سامنا کرنا اور مسلمانوں کو اس سیلاب بلا سے محفوظ رکھنے کے لیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ جولائی ۲۰۰۴ء

عالمی تہذیبی جنگ اور ہمارے محاذ

حکمران طبقوں اور مغرب کی تہذیب و ترقی سے مرعوب حلقوں کا ہم سے یہ تقاضا ہے کہ اسلام کی کوئی ایسی نئی تعبیر و تشریح کی جائے جس میں ہماری عیاشی، مفادات اور موجودہ زندگی کے طور طریقوں پر کوئی اثر نہ پڑے۔ سود کی حرمت کی بات ہوتی ہے تو کہا جاتا ہے کہ اس کے بغیر ہماری تجارت نہیں چل سکتی۔ شراب کی بات کریں تو کہا جاتا ہے کہ یہ دقیانوسی باتیں ہیں۔ ناچ گانے اور عریانی و فحاشی کی مخالفت کریں تو کلچر اور تہذیب کا سوال سامنے آ جاتا ہے۔ اور نماز روزے کی پابندی کی طرف توجہ دلائیں تو زندگی کی مصروفیات کا بہانہ کھڑا ہو جاتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۰ جولائی ۲۰۰۳ء

علماء کرام کی تین اہم ذمہ داریاں

مجھے یہ کہا گیا ہے کہ آج کے حالات میں علماء کرام کی ذمہ داریوں کے عنوان پر آپ حضرات سے کچھ عرض کروں۔ میرے نزدیک یہ دو الگ الگ موضوع ہیں، آج کے حالات مستقل گفتگو کے متقاضی ہیں اور اپنے اندر اس قدر وسعت اور تنوع رکھتے ہیں کہ اگر ان پر بات شروع ہو گئی تو دوسرے عنوان پر کچھ کہنے کا وقت باقی نہیں رہے گا۔ جبکہ علماء کرام کی ذمہ داریاں ایک الگ موضوع ہے اور اس کا تقاضہ بھی یہ ہے کہ اس پر تفصیل کے ساتھ گفتگو کی جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۶ مارچ ۲۰۰۳ء

جدید مغربی معاشرے کے لیے دینی مدارس کا پیغام

تعجب کی بات یہ ہے کہ ہم مسلمانوں کے لیے بنیاد پرستی کو طعنہ بنا دیا گیا ہے اور اہل مغرب خود بنیادوں کی طرف واپسی کا راستہ تلاش کر رہے ہیں۔ برطانوی ولی عہد شہزادہ چارلس نے بی بی سی پر کئی لیکچر دیے اور کہا کہ ہم نے صرف عقل کو معیار قرار دے کر ٹھوکر کھائی ہے اور ہم نسل انسانی کو نقصان کی طرف لے جا رہے ہیں اس لیے ’’وجدان‘‘ کی طرف واپسی کی ضرورت ہے۔ برطانوی شہزادے نے ’’وجدان‘‘ کی اصطلاح استعمال کی ہے جو ابتدائی مرحلہ ہے۔ اس کے بعد وحی اور الہام ہی کی بات آئے گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ اکتوبر ۲۰۰۲ء

موجودہ عالمی صورتحال میں علماء کرام کی ذمہ داریاں

علماء کرام میری برادری ہے اس لیے ان سے گفتگو کرنے اور بہت سی گزارشات پیش کرنے کو جی چاہتا ہے لیکن ڈر بھی لگتا ہے کہ کوئی ایسی بات نہ ہو جائے جو ان کے شایان شان نہ ہو، اور یہ خوف بھی دامن گیر ہوتا ہے کہ کوئی بات کسی نازک مزاج پر گراں گزر گئی تو پھر وہی کچھ نہ ہو جائے جو ایسے مواقع پر ہوجایا کرتا ہے۔ اس لیے پیشگی معذرت خواہی کے ساتھ ڈرتے ڈرتے کچھ معروضات پیش کرنا چاہتا ہوں جو موجودہ عالمی صورتحال میں علماء کرام کی ذمہ داریوں کے حوالہ سے ہوں گی اور جن میں تین امور کو واضح کرنے کی کوشش کروں گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۰ نومبر ۲۰۰۱ء

نائن الیون کا سانحہ اور مسلمانوں کے لیے لائحہ عمل

مسلم ممالک میں سب سے پہلے ترکی نے سیکولر فلسفہ کو دستوری طور پر قبول کیا تھا اور وہی سب سے زیادہ شدت کے ساتھ اس پر ابھی تک قائم بھی ہے، حتٰی کہ ترکی کا دستور صراحت کے ساتھ قرآن و سنت کی راہنمائی کو مسترد کرتا ہے، لیکن ترکی کے عام مسلمان نے آج تک اس لا مذہبی فلسفہ کو قبول نہیں کیا اور عام ترکی مسلمانوں کو جب بھی موقع ملتا ہے، وہ قرآن و سنت کے ساتھ اپنی کمٹمنٹ کا کھلم کھلا اظہار کر دیتے ہیں۔ یہ بات مغرب کے حکمرانوں کے لیے پریشانی کا باعث بنی ہوئی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۲۰۰۱ء

عورت ۔ ثقافتی جنگ میں مغرب کا ہتھیار

اس وقت عالم اسلام اور مغرب میں فلسفۂ حیات اور کلچر و ثقافت کی جو کشمکش جاری ہے اور جسے خود مغرب کے دانشور ’’سولائزیشن وار‘‘ قرار دے رہے ہیں اس میں مغرب کا دعویٰ ہے کہ وہ جس کلچر اور ثقافت کا علمبردار ہے وہ ترقی یافتہ اور جدید ہے اس لیے ساری دنیا کو اسے قبول کر لینا چاہیے۔ لیکن مغرب کا یہ دعویٰ درست نہیں ہے کیونکہ جدید تہذیب کی اقدار و روایات میں کوئی ایک بات بھی ایسی شامل نہیں ہے جسے نئی قرار دیا جا سکے بلکہ یہ سب کی سب اقدار و روایات وہی ہیں جو ’’جاہلیت قدیمہ‘‘ کا حصہ رہ چکی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۴ ستمبر ۲۰۰۰ء

اکیسویں صدی اور علمائے کرام

دنیا بھر میں اکیسویں صدی کی آمد آمد کا غلغلہ ہے اور ہر جگہ نئی عیسوی صدی کے آغاز کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ ہمارے ہاں بھی اس موضوع پر بہت کچھ لکھا اور کہا جا رہا ہے اور مختلف حوالوں سے اکیسویں صدی کے تقاضوں پر بحث ہو رہی ہے۔ ہم نے تو اپنی نئی ہجری صدی کا آغاز بیس سال قبل کیا تھا اور اس موقع پر بھی عالم اسلام میں بہت تیاریاں ہوئی تھیں اور تقریبات کا اہتمام کیا گیا تھا، اب نئی عیسوی صدی کے آغاز پر دنیا کے مختلف حصوں میں تقریبات منعقد ہو رہی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲ فروری ۱۹۹۹ء

تحریک ولی اللہ کا موجودہ دور اور معروضی حالات میں کام کی ترجیحات

علماء حق کی وہ جماعت جس نے گزشتہ دو صدیوں کے دوران برصغیر پاک و ہند و بنگلہ دیش میں دین اسلام کے تحفظ و بقا اور ترویج و اشاعت کی مسلسل جدوجہد کی ہے اور اسلامی عقائد و نظریات اور مسلم معاشرہ کو بیرونی اثرات سے بچانے کے لیے صبر آزما جنگ لڑی ہے، آج پھر تاریخ کے ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے اور عالمی سطح پر اسلام اور اسلامی معاشرت کے خلاف منظم اور ہمہ گیر انداز میں لڑی جانے والی ثقافتی جنگ علماء حق کی اس جماعت سے نئی صف بندی، ترجیحات اور حکمت عملی کا تقاضا کر رہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۱۹۹۵ء

اقوام متحدہ کا انسانی حقوق کا چارٹر اور اسلامی تعلیمات

مغرب نے انسانی حقوق کے بارے میں اقوام متحدہ کے چارٹر کو مسلمہ معیار کا درجہ دے کر کسی بھی معاملہ میں اس سے الگ رویہ رکھنے والے تیسری دنیا اور عالم اسلام کے ممالک کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دینے کی مہم شروع کر رکھی ہے۔ اور اس سلسلہ میں اسے عالمی ذرائع ابلاغ کے ساتھ ساتھ عالم اسلام اور تیسری دنیا میں اپنی ہم نوا لابیوں کا بھرپور تعاون حاصل ہے۔ جبکہ اس نظریاتی و فکری یلغار میں ملت اسلامیہ کے عقائد و احکام اور روایات و اقدار سب سے زیادہ مغربی دانشوروں، لابیوں اور ذرائع ابلاغ کے حملوں کی زد میں ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ اپریل ۱۹۹۵ء

اسلامی نظام، انسانی حقوق اور قادیانیت

بعد الحمد والصلوۃ۔ حضرت الامیر! قابل احترام علماء کرام، بزرگو، دوستو اور ساتھیو! ایک دور تھا جب مرزا غلام احمد قادیانی کی امت کا ہیڈ کوارٹر قادیان میں تھا اور یہ وہ زمانہ تھا جب قادیانیت کے خلاف کوئی بات کہنا برطانوی حکومت کے غیظ و غضب کو دعوت دینا تھا۔ تب مجلس احرار اسلام کے شعبہ تبلیغ نے قادیان میں کانفرنس کا اہتمام کیا جہاں قادیانی امت اپنا سالانہ اجتماع منعقد کیا کرتی تھی اور اسے مبینہ طور پر معاذ اللہ حج کی طرح مقدس اجتماع کی حیثیت دی جاتی تھی۔ اس دور میں قادیان میں مسلمانوں کا اجتماع منعقد کرنے میں احرار کو کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۴ جولائی ۱۹۹۳ء

قادیانی مسئلہ اور مغربی ممالک میں مقیم مسلمانوں کی ذمہ داری

قادیانی گروہ کی سرپرست لابیوں اور ویسٹرن میڈیا کی طرف سے قادیانی مسئلہ کے حوالہ سے ایک الزام پاکستان کے مسلمانوں پر، پاکستان کی حکومت پر اور پاکستان کے دستوری اور قانونی ڈھانچے پر پورے شدومد کے ساتھ دنیا بھر میں دہرایا جا رہا ہے کہ پاکستان میں قادیانیوں کے انسانی حقوق پامال کر دیے گئے ہیں، ان کے شہری حقوق معطل ہو گئے ہیں اور قادیانیوں کے ہیومن رائٹس ختم کر دیے گئے ہیں۔ ابھی حال میں اسی ماہ کے آغاز میں برطانیہ میں ٹل فورڈ کے مقام پر قادیانیوں کے سالانہ اجتماع میں بھارتی ہائی کمشنر نے شرکت کی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۶ اگست ۱۹۹۲ء

عالم اسلام پر مغربی فکر کی یلغار اور علماء کرام کی ذمہ داری

آج کی اس ملاقات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس عنوان کے تحت کچھ تلخ گزارشات آپ حضرات کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہوں ۔ ۔ ۔ حضرات محترم! اس عنوان کے تحت بنیادی طور پر چار امور غور طلب ہیں: ایک یہ کہ مغربی فکر کیا ہے؟ دوسرا یہ کہ مغربی فکر کے عالم اسلام پر اثرات کیا ہیں؟ تیسرا یہ کہ اس کے مقابلہ میں ہم جو کچھ کر رہے ہیں، وہ کہاں تک مؤثر ہے؟ اور چوتھا یہ کہ مسلمانوں کو اس مغربی فکر کے حصار سے نکالنے کے لیے علماء کرام پر کیا ذمہ داری عائد ہوتی ہے؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲ اگست ۱۹۹۲ء

نفاذ شریعت کی جدوجہد اور مغربی ممالک میں مقیم مسلمانوں کی ذمہ داریاں

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ محترم بزرگو، دوستو اور قابل صد احترام بہنو! ابھی تھوڑی دیر قبل شکاگو پہنچا ہوں اور مجھے ہدایت کی گئی ہے کہ آپ حضرات کے سامنے پاکستان میں شریعت اسلامیہ کے نفاذ کی جدوجہد کے بارے میں کچھ معروضات پیش کروں۔ اس عزت افزائی پر مسلم کمیونٹی سنٹر کے ذمہ دار حضرات کا شکریہ ادا کرتے ہوئے آپ سب احباب سے اس دعا کا خواستگار ہوں کہ اللہ رب العزت کچھ مقصد کی باتیں کہنے اور سننے کی توفیق دیں اور حق کی جو بات بھی علم اور سمجھ میں آئے، اللہ تعالیٰ اس پر عمل کی توفیق عطا فرمائیں، آمین یا الہ العالمین ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲ دسمبر ۱۹۹۰ءِِ

ختم نبوت کے فکری و عملی تقاضے اور ہماری ذمہ داریاں

تحریک ختم نبوت کی عملی صورتحال یہ ہے کہ نوے سال کی طویل جدوجہد کے بعد اسلامیانِ پاکستان ۱۹۷۴ء میں ملک کے دستور میں منکرین ختم نبوت کے ایک گروہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دلوانے میں کامیاب ہوئے، لیکن اس دستوری ترمیم کے بعد اس کے عملی تقاضوں کی تکمیل کے لیے قانون سازی کا کام نہ ہو سکا۔ اور ۱۹۸۴ء میں مولانا محمد اسلم قریشی کے حوالے سے منظم ہونے والی تحریک ختم نبوت کے نتیجہ میں صدر جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم کے جاری کردہ امتناع قادیانیت آرڈیننس کی صورت میں قانون سازی کی طرف پہلی عملی پیشرفت ہوئی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۷ ستمبر ۱۹۹۰ء

امریکہ میں مقیم مسلمانوں سے چند ضروری گزارشات

میں مسجد الہدٰی واشنگٹن ڈی سی کی انتظامیہ اور جمعیۃ المسلمین کے ذمہ دار حضرات کا شکر گزار ہوں جنہوں نے آج یہاں اس محفل کا انعقاد کر کے ہمیں اپنی دینی ذمہ داریوں کے بارے میں کچھ کہنے سننے کا موقع فراہم کیا، اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر دیں۔ تفصیلی خطاب تو حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹی کا ہوگا جو قادیانیت کی فتنہ خیزیوں کے بارے میں آپ سے کھل کر بات کریں گے، مجھے مختصر وقت میں آپ دوستوں سے یہاں امریکہ میں مقیم مسلمانوں بالخصوص پاکستانی دوستوں کی ذمہ داریوں کے حوالے سے کچھ گزارشات پیش کرنی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۳ اکتوبر ۱۹۸۹ء