حدیث و علومِ حدیث

حدیث و سنت کی اہمیت اور امام بخاری کا اسلوبِ استدلال

عزیز طلبہ اور طالبات سے گزارش ہے کہ مدرسہ کے ماحول میں چند سال گزارنے کے بعد اب وہ عملی زندگی میں قدم رکھیں گے تو انہیں ایک نئے ماحول کا سامنا کرنا ہو گا، بہت سی نئی باتیں دیکھنے میں آئیں گی اور تغیرات محسوس ہوں گے۔ وہ مدرسہ کے محدود ماحول سے نکل کر سوسائٹی کے وسیع ماحول میں داخل ہو رہے ہیں جسے میں یوں تعبیر کیا کرتا ہوں کہ وہ جزیرہ سے نکل کر سمندر میں کود رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

حدیثِ نبویؐ کی ضرورت و اہمیت

’’حدیث‘‘ عربی زبان میں بات چیت اور گفتگو کو کہتے ہیں، لیکن جب ہم مذہبی حوالہ سے حدیث کا لفظ بولتے ہیں تو اس سے مراد ہر وہ بات ہوتی ہے جو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول و منسوب ہو، یا ان کے بارے میں کسی روایت میں مذکور ہو۔ گویا کسی قول، عمل یا واقعہ میں جناب نبی اکرمؐ کا ذکر آجائے تو وہ حدیث بن جاتا ہے اور حضرت امام ولی اللہ دہلویؒ کے بقول حدیثِ نبویؐ تمام دینی علوم کا سر چشمہ ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

علومِ حدیث: امام بخاریؒ، امام طحاویؒ اور شاہ ولی اللہؒ کا اسلوب

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ ہم اس وقت سب حدیث نبویؐ کے طلبہ بیٹھے ہیں اور حدیث نبویؐ کے حوالہ سے گفتگو کر رہے ہیں، حدیث نبویؐ اپنے عمومی مفہوم میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال و اعمال اور احوال و واقعات پر مشتمل ہے اور تمام علوم دینیہ کا سر چشمہ اور ماخذ ہے۔ ہمیں قرآن کریم حدیث نبویؐ کی وساطت سے ملا ہے، سنت نبویؐ کے حصول کا ذریعہ بھی یہی ہے، اور فقہ کا استنباط بھی اسی سے ہوتا ہے۔ اسی لیے حدیث نبویؐ کو ہمارے نصاب میں سب سے زیادہ مقدار میں اور تفصیل کے ساتھ پڑھایا جاتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

بخاری شریف کے چند امتیازات

بخاری شریف علم حدیث کی سب سے مستند کتاب ہے جسے ’’اصح الکتب بعد کتاب اللہ‘‘ کہا جاتا ہے، حدیث نبویؐ کا علم بہت مہتم بالشان علم ہے، جسے حضرت امام ولی اللہ دہلویؒ نے تمام علوم دینیہ کی اصل اور اساس کہا ہے، اس لیے کہ تمام علوم دینیہ کے چشمے اسی سے پھوٹتے ہیں حتٰی کہ قرآن کریم بھی ہمیں حدیث نبویؐ کے ذریعے ملا ہے۔ قرآن کریم کا معنٰی و مفہوم تو جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمائے ہیں مگر ہمیں تو قرآن کریم کے الفاظ بھی آنحضرتؐ کے ارشادات کے ذریعے حاصل ہوئے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

امام بخاریؒ اور بخاری شریف

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ حضرات علمائے کرام اور عزیز طلبہ! ختم بخاری شریف کی اس تقریب میں شرکت اور کچھ عرض کرنے کا موقع میرے لیے سعادت کی بات ہے اور اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کچھ گزارشات آپ حضرات کی خدمت میں پیش کرنا چاہوں گا۔ بخاری شریف کی آخری حدیث کے حوالہ سے علمی مباحث تو حضرت ڈاکٹر صاحب مدظلہ آپ کے سامنے رکھیں گے البتہ کتاب کے موضوع اور صاحبِ کتاب کے بارے میں چند معروضات ضروری سمجھتا ہوں۔ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ کچھ مقصد کی باتیں کہننے سننے کی توفیق عطا فرمائیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر