مسجد ختم نبوت، ابوبکر ٹاؤن، سیالکوٹ روڈ، گوجرانوالہ

قرآن کریم کا ایجنڈا اور سماج کی مزاحمت

قرآن کریم کے نزول کا بڑا مقصد انسانی سماج کی تبدیلی تھا اور اس نے تئیس سال کے مختصر سے عرصہ میں جزیرۃ العرب کے سماج کو یکسر تبدیل کر کے دنیا کو آسمانی تعلیمات و ہدایات پر مبنی ایک مثالی معاشرہ کا عملی نمونہ دکھا دیا جبکہ اس معاشرتی انقلاب نے دیکھتے ہی دیکھتے دنیا کے ایک بڑے حصے کو اپنے دائرے میں سمو لیا۔ اس حوالہ سے دو پہلوؤں پر گفتگو کرنا چاہتا ہوں۔ ایک یہ کہ انسانی سماج کی تبدیلی کے اس ایجنڈے پر اس وقت کے سماج کا ردعمل کیا تھا اور دوسرا یہ کہ قرآن کریم نے انسانی معاشرہ کو کن تبدیلیوں سے روشناس کرایا؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۸ مئی ۲۰۱۸ء

’’من احب شیئا اکثر ذکرہ‘‘

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ ہم سب کے لیے سعادت کی بات ہے کہ جناب سرور کائناتؐ کے تذکرہ کے لیے منعقد ہونے والی مبارک محفل میں بیٹھے ہیں، مختلف حوالوں سے آقائے نامدارؐ کا ذکر کر رہے ہیں اور سن رہے ہیں، اللہ تعالیٰ ہماری حاضری قبول فرمائیں اور عمل کی توفیق سے بھی نوازیں، آمین یا رب العالمین۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تذکرہ کے ہزاروں پہلو ہیں جن میں سے آج کی مختصر گفتگو میں ایک دو کا تذکرہ ہی ہو سکے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ مارچ ۲۰۱۴ء