تعارف و مطالعہ

چند معاصر مذاہب کا تعارفی مطالعہ ― دورِ حاضر کے مدعیانِ نبوت

میری گفتگو کا ایک دائرہ یہ ہوتا ہے کہ جس دور میں ہم رہ رہے ہیں اس میں نئی نبوت اور وحی کے دعوے کے ساتھ کون کون سے گروہ دنیا میں موجود ہیں اور اپنا کام کر رہے ہیں۔ ان سے بھی ہمیں ضرور متعارف ہونا چاہیے، یہ تقریباً چار یا پانچ ہیں، ان کا ذکر کرتا ہوں۔ ایک تو ذکری مذہب ہے کہ بلوچستان میں مکران اور تربت کی پٹی ان سے بھری پڑی ہے، یہ تقریباً چار سو سال سے چلے آرہے ہیں، ان کی مختصر تاریخ ذکر کر دیتا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰۱۸ء

چند معاصر مذاہب کا تعارفی مطالعہ ― دورِ اول کے مدعیانِ نبوت

حضرات علماء کرام! آج منحرف مذاہب کے حوالے سے بات کریں گے۔ منحرف مذاہب سے مراد وہ مذاہب ہیں جو نام اسلام کا لیتے ہیں لیکن نئی نبوت اور نئی وحی کے قائل ہیں۔ میں نے ان کو منحرف مذاہب کا ٹائٹل صرف فرق بتانے کے لیے دے رکھا ہے ورنہ تو یہ غیر مسلموں میں ہی ہیں۔ یہ اس وقت کون کون سے ہیں؟ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اور آپؐ کے بعد اب تک بہت سے لوگوں نے مختلف ادوار میں مختلف علاقوں میں نبوت اور نئی وحی کا دعوٰی کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰۱۸ء

چند معاصر مذاہب کا تعارفی مطالعہ ― بدھ مت

بعد الحمد والصلٰوۃ۔ حضرات علماء کرام! آج بدھ مذہب کے بارے میں تعارفی معلومات مہیا کی جائیں گی۔ بدھ ازم، بدھ مت، یہ مہاتما بدھ کے نام سے متعارف ہے۔ مہاتما بدھ کا اصل نام ’’سدارتھا بوتم‘‘ ہے۔ ’’مہاتما‘‘ خدا کی صفات کے مظہر کو کہتے ہیں۔ مہاتما بدھ پانچ سو سال قبل مسیح ہندوستان کے علاقے میں راجہ شدودھن کے ہاں پیدا ہوئے جو کہ ہندو کھشتری ذات سے تعلق رکھتے تھے۔ مہاتما بدھ کی پیدائش نیپال کی سرحد کے قریب بھارت میں اور بعض مؤرخین کے مطابق بنارس کے شمال میں ایک سو کلو میٹر کے فاصلے پر ایک بستی میں ہوئی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰۱۸ء

چند معاصر مذاہب کا تعارفی مطالعہ ― ہندو

حضرات علماء کرام! آج ہندو مذہب کے حوالے سے کچھ بات ہو گی کہ ہندو مذہب کیا ہے، اس کے ساتھ ہمارے معاملات کیا چلے آرہے ہیں، اور اس وقت ہم کس پوزیشن میں ہیں۔ ہندو مذہب کا آغاز کب ہوا، اس کی بنیادیں کیا ہیں، اور ان کے بنیادی عقائد کیا ہیں، اس بارے میں تاریخ خاموش ہے۔ ہندو مذہب کی بنیاد اور بنیادی عقائد کے بارے میں کوئی متفقہ بات نہیں ملتی۔ عام طور پر اسے وطنی مذہب سمجھا جاتا ہے۔ ایک زمانے میں متحدہ ہندوستان میں رہنے والے لوگ ہندی اور ان کا مذہب ہندو مذہب کہلاتا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰۱۸ء

چند معاصر مذاہب کا تعارفی مطالعہ ― سکھ

ان ادیان میں سے جن مذاہب کے ساتھ ہمارا عملی واسطہ ہے آج آغاز کرنے لگا ہوں، اپنے قریبی اور پڑوسی مذہب یعنی سکھ مذہب کے بارے میں۔ سکھ مذہب پنجاب کا مذہب ہے، ان کی تاریخ زیادہ سے زیادہ پانچ سو سال کی ہے، اکبر بادشاہ کے زمانے میں ان کا آغاز ہوا۔ ان کو سمجھنے سے پہلے ایک اور بات سمجھنی ضروری ہے کہ بابا گرو نانک سکھ مذہب کے بانی پہلے ہندو تھے۔ شیخوپورہ کے ساتھ ننکانہ صاحب ضلع ہے، اس کا پرانا نام تلونڈی تھا۔ بابا نانک کے نام سے اس کا نام ننکانہ صاحب رکھا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰۱۸ء

چند معاصر مذاہب کا تعارفی مطالعہ ― عیسائیت

حضرات علماء کرام! آج آپ سے بات کرنا چاہوں گا عیسائیت، مسیحیت، حضرت عیسٰی علیہ السلام کی پیروکاری کا دعوٰی رکھنے اور انجیل کی بات کرنے والوں کے بارے میں۔ حضرت عیسٰی علیہ السلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ساڑھے پانچ، چھ صدیاں پہلے مبعوث ہوئے اور خاتم انبیائے بنی اسرائیل ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں انجیل عطا فرمائی، ان کو بغیر باپ کے پیدا کیا اور بغیر موت کے زندہ اٹھا لیا۔ یہ ان کے اعزازات و امتیازات میں سے ہے۔ حضرت عیسٰیؑ نے فلسطین میں اپنی دعوت پیش کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰۱۸ء

چند معاصر مذاہب کا تعارفی مطالعہ ― یہودیت

تعارف ادیان و مذاہب کے حوالے سے ہم نے گزشتہ نشست میں بات شروع کی تھی۔ موجودہ تناظر میں عالمی طور پر ہمارا سب سے بڑا ٹکراؤ یہود سے ہے، تو آج ان کے حوالے سے بات ہوگی۔ یہودیت اس وقت تعداد کے لحاظ سے کوئی بڑا مذہب نہیں ہے تقریباً ڈیڑھ کروڑ ہیں۔لیکن اثر و رسوخ کے اعتبار سے، عالمی نظام میں مداخلت کے اعتبار سے، میڈیا اور معیشت پر کنٹرول کے حوالے سے یہودی اس وقت طاقتور ترین قوم ہیں۔ یہودیت کو سمجھنا اور پہچاننا ہمارے لیے بہت سے حوالوں سے ضروری ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰۱۸ء

چند معاصر مذاہب کا تعارفی مطالعہ

بعد الحمد و الصلوٰۃ۔ حضرات علماء کرام! آج سے ہم اپنے دوسرے سمسٹر کا آغاز کر رہے ہیں۔ پہلے سمسٹر میں ہمارا موضوع تھا کہ موجودہ تہذیبی کشمکش اور انسانی حقوق کے حوالے سے ہمارے ساتھ دنیا کے جو فکری، ثقافتی اور تہذیبی تنازعات ہیں، ان کے کچھ حصوں کو میں نے آپ کے سامنے بیان کیا تھا۔ انسانی حقوق کے چارٹر کے حوالے سے اقوام متحدہ اور بین الاقوامی اداروں و تنظیموں کے قوانین کے حوالے سے چند مسائل میں نے آپ کے سامنے بیان کیے تھے، جو ہمارے درمیان تنازعہ اور کشمکش کا باعث بنے ہوئے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰۱۸ء

لاہور میں ’’سہ روزۂ تحریکِ ختمِ نبوت‘‘

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ آج کی یہ نشست دو حوالوں سے ہے۔ شہدائے ختم نبوت کی یاد میں ہے اور ۹ اپریل کو ایوان اقبالؒ لاہور میں مجلس احرار اسلام کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی ’’امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کانفرنس‘‘ کی تیاری کے سلسلہ میں بھی ہے اور میں ان دونوں امور کے بارے میں چند مختصر گزارشات پیش کرنا چاہوں گا۔ شہدائے ختم نبوت کا تذکرہ ان کی جدوجہد کو تازہ کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے ساتھ نسبت و محبت کے اظہار اور ان کے مشن کے ساتھ وابستگی کا احساس بیدار رکھنے کے لیے بھی ہے اور زندہ قومیں اپنے شہیدوں کو یاد رکھا کرتی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ مارچ ۲۰۱۸ء

مذاہب اور مسالک کے درمیان اختلافات ۔ تقاضے اور آداب

ہمارے ہاں ’’تقابلِ ادیان‘‘ کے عنوان سے مختلف مدارس اور مراکز میں کورسز ہوتے ہیں جن میں ادیان و مذاہب کے درمیان چند اعتقادی اختلافات پر مباحثہ و مناظرہ کی تربیت دی جاتی ہے جو اپنے مقاصد کے اعتبار سے انتہائی ضروری ہے اور اس کی افادیت سے انکار نہیں ہے۔ مگر میری طالب علمانہ رائے میں یہ اس وسیع تر موضوع کے لحاظ سے انتہائی محدود اور جزوی سا دائرہ ہے جبکہ اس عنوان پر اس سے کہیں زیادہ وسیع تناظر میں گفتگو کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس سلسلہ میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ تقابل سے پہلے تعارف ضروری امر ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم جون ۲۰۱۷ء

فقہ حنفی پر ایک نظر

فقہ حنفی نے عالم اسلام میں طویل عرصہ تک حکومت کی ہے اور وہ عباسی خلافت اور عثمانی خلافت کے علاوہ جنوبی ایشیا میں مغل حکومت کا بھی مدّتوں قانون و دستور رہی ہے۔ امام اعظم حضرت امام ابوحنیفہؒ کو اللہ رب العزت نے یہ اعزاز بخشا ہے کہ ان کی علمی و فقہی کاوشوں کو امت مسلمہ میں سب سے زیادہ قبولیت حاصل ہوئی ہے۔ اور صدیوں تک کئی حکومتوں کا دستور و قانون رہنے کے ساتھ ساتھ عام مسلمانوں میں بھی اس کے پیروکاروں کی ہمیشہ اکثریت رہی ہے جو آج بھی اپنا تسلسل قائم رکھے ہوئے ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم مارچ ۲۰۱۴ء

سنی شیعہ جھگڑوں کی وجوہات

ملک کے کسی حصے میں سنی شیعہ تنازعہ عام طور پر دو میں سے کسی ایک مسئلہ پر کھڑا ہوتا ہے۔ ایک یہ کہ حضرات صحابہ کرامؓ میں سے کسی بزرگ شخصیت پر تبرّا کے عنوان سے توہین کی جاتی ہے جو اہل سنت کے کسی فرد کے لیے قابل برداشت نہیں ہو سکتی ۔ ۔ ۔ دوسرا سبب ماتمی جلوس ہے کہ اس میں جو کچھ ہوتا ہے وہ ایک فریق کے نزدیک بالفرض عبادت ہو تب بھی یہ صورت حال قابل قبول نہیں ہوتی کہ دوسرا فریق جو غالب اکثریت بھی رکھتا ہے اس کے دروازہ پر یہ عبادت ادا کی جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۴ نومبر ۲۰۱۳ء

مسئلہ قادیانیت کے تین پہلو

جنوبی ایشیا کے کسی حصہ میں عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کے اس پہلو پر جب بات ہوتی ہے تو قادیانیت کا تذکرہ لازمی سمجھا جاتا ہے کیونکہ گزشتہ کم و بیش سوا سو برس سے قادیانیت ہی کو عقیدۂ ختم نبوت سے انکار کے عنوان سے پہچانا جاتا ہے اور اسی کے ساتھ علمائے اسلام اور دینی جماعتوں کی کشمکش جاری ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے نبوت کا دعویٰ کیا تو تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام نے متفقہ طور پر انہیں اور ان کے پیروکاروں کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ اپریل ۲۰۱۲ء

قادیانیت کے حوالے سے کام کے مختلف دائرے

۲۷ مارچ کو مجھے عصر کے بعد جوہر ٹاؤن لاہور میں ملی مجلس شرعی کے ایک اہم اجلاس میں شریک ہونا تھا، مولانا قاری جمیل الرحمان اختر سے بات کی تو انہوں نے بتایا کہ ظہر کے بعد انارکلی میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی ۲۱ اپریل کو شالامار چوک لاہور میں منعقد ہونے والی ختم نبوت کانفرنس کی تیاریوں کے سلسلہ میں ایک اجلاس ہو رہا ہے، وہیں آجائیں وہاں سے اکٹھے چلے جائیں گے۔ اس طرح میں نے ظہر کے بعد انارکلی میں حضرت مولانا محمد ابراہیم مرحوم کی مسجد میں منعقدہ مذکورہ اجلاس میں شرکت کی سعادت حاصل کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۷ مارچ ۲۰۱۲ء

مکالمہ بین المذاہب اور اس کے راہنما اصول

جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب وحی کے نزول کے بعد اعلان نبوت کیا اور لوگوں کو توحید اور قرآن کریم کی طرف دعوت دی تو مشرکین کے ردعمل کا پہلا دور یہ تھا کہ انہوں نے طعنہ زنی، الزامات اور افتراءات کے ذریعے اس دعوت کا راستہ روکنے کی کوشش کی۔ جادوگر، مجنوں، کاہن، شاعر اور طرح طرح کے الزامات اور طعنوں کے ذریعے آنحضرتؐ کو خوفزدہ اور ناکام کرنے کی مہم چلائی گئی۔ مگر اس میں کامیابی نہ ہوئی تو پھر نبی کریمؐ اور آپ کے ساتھیوں کو اذیتیں دینے کا سلسلہ شروع کر دیا جو کم و بیش ایک عشرے تک چلتا رہا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۹ اگست ۲۰۱۱ء

شہدائے بالاکوٹ اور تحریکِ آزادی میں ان کا کردار

ہم جب برصغیر کی تحریک آزادی کے عنوان سے بات کرتے ہیں تو اس سے مراد برصغیر پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش اور برما وغیرہ پر برطانوی استعمار کے تسلط کے بعد وطن کی آزادی کے لیے بپا کی جانے والی تحریکات ہوتی ہیں۔ ان میں ایک دور مسلح تحریکات کا ہے اور دوسرا دور پر اَمن سیاسی تحریکات کا ہے، ان دونوں قسم کی تحریکات میں اپنے اپنے وقت میں ہمارے اکابر نے خدمات سرانجام دی ہیں اور جدوجہد کی ہے۔ شہدائے بالاکوٹ کی جدوجہد بھی اسی کا ایک باب ہے لیکن اس کے تذکرہ سے پہلے تحریک آزادی کا مختصر پس منظر پیش کرنا چاہتا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۰ مئی ۲۰۱۰ء

مکالمہ بین المذاہب: اہداف اور دائرے

’’مکالمہ بین المذاہب‘‘ آج کے اہم عالمی موضوعات میں سے ہے جس پر دنیا بھر میں گفتگو کا سلسلہ جاری ہے اور ہر سطح پر اس کی اہمیت پر زور دیا جا رہا ہے۔ برطانیہ کے وزیراعظم جناب ٹونی بلیئر کے حوالے سے اخبارات میں یہ خبر شائع ہوئی ہے کہ وہ ۲۷ جون ۲۰۰۷ء کو وزارت عظمیٰ سے سبکدوش ہونے کے بعد انٹرفیتھ ڈائیلاگ یعنی بین المذاہب مکالمہ کے لیے ایک باقاعدہ ادارہ قائم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ چونکہ اس سلسلہ میں عالمی سطح پر سنجیدگی کے ساتھ کوئی فورم یا ادارہ کام نہیں کر رہا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۳ مئی ۲۰۰۷ء

الحاج سید امین گیلانی کے ساتھ ایک شام

پاکستان شریعت کونسل پنجاب کے سیکرٹری جنرل مولانا قاری جمیل الرحمان اختر نے ۱۸ مارچ ۲۰۰۳ء کو باغبانپورہ لاہور میں اپنی رہائشگاہ پر تحریک آزادی کے نامور شاعر الحاج سید امین گیلانی کے ساتھ ایک شام کا اہتمام کیا۔ قاری صاحب نے نیا مکان تعمیر کیا ہے جس میں وہ منتقل ہوئے ہیں، اس سے قبل وہ مسجد کی رہائشگاہ میں رہتے تھے، یہ تقریب نئے مکان کی خوشی میں بھی تھی اور الحاج سید امین گیلانی کے اعزاز میں بھی تھی، جس میں لاہور کے سرکردہ علماء کرام نے شرکت کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۸ مارچ ۲۰۰۳ء