ترکی

عالمی معاہدات اور طیب اردگان کی صدائے احتجاج

کم و بیش نصف صدی قبل انڈونیشیا کے صدر عبد الرحیم احمد سوئیکارنو نے بغاوت کی ایک ہلکی سی جھلک دکھائی تھی مگر کسی طرف سے بھی حمایت نہ پا کر ’’پہلی تنخواہ پر گزارہ‘‘ کرنے میں ہی عافیت محسوس کی تھی۔ اس کے بعد ملائیشیا کے سابق وزیراعظم مہاتیر محمد مغرب کے اس معاہداتی جبر اور اقوام متحدہ کے غیر منصفانہ نظام کے خلاف اپنے دور حکومت میں آواز بلند کرتے رہے مگر کوئی شنوائی نہ دیکھ کر خاموش ہوگئے۔ اب ترکی کے صدر محترم رجب طیب اردگان اس میدان میں آئے ہیں اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں انہوں نے اس کھلی دھاندلی کے خلاف صدائے احتجاج بلند کی ہے ۔ ۔ ۔

۴ نومبر ۲۰۱۶ء

مشرق وسطیٰ کی صورتحال ۔ ترکی اور خلیجی تعاون کونسل کی کوشش

اس زمینی حقیقت سے کسی صاحب شعور کے لیے انکار کی گنجائش نہیں ہے کہ جو سنی شیعہ اختلافات موجود ہیں وہ اصولی اور بنیادی ہیں اور صدیوں سے چلے آرہے ہیں، نہ ان سے انکار کیا جا سکتا ہے، نہ دونوں میں سے کوئی فریق دوسرے کو مغلوب کر سکتا ہے، اور نہ ہی ان اختلافات کو ختم کرنا ممکن ہے۔ ان اختلافات کو تسلیم کرتے ہوئے اور ایک دوسرے کے وجود کا اعتراف کرتے ہوئے باہمی معاملات کو ازسرنو طے کرنے کی ضرورت بہرحال موجود ہے جس کے لیے آبادی کے تناسب اور دیگر مسلمہ معروضی حقائق کو سامنے رکھ کر ہی توازن کا صحیح راستہ اختیار کیا جا سکتا ہے ۔ ۔ ۔

۱۸ اکتوبر ۲۰۱۶ء

ترکی اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر ایک اجلاس

ضرورت اس امر کی ہے کہ ایران اور سعودی عرب دونوں سے اس مسئلہ پر بات کی جائے، دونوں کی باہمی شکایات کا جائزہ لیا جائے اور اس تنازعہ کو مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے دونوں کو ایک میز پر لایا جائے۔ ظاہر بات ہے کہ عالمی قوتوں سے اس بات کی توقع نہیں کی جا سکتی اس لیے کہ وہ خود اس آگ کو بھڑکانے میں خاص دلچسپی رکھتی ہیں اور اسی میں وہ اپنا مفاد سمجھتی ہیں۔ اس لیے عالم اسلام کو ہی اس سلسلہ میں کوئی کردار ادا کرنا ہوگا اور اس کے لیے سب سے اہم کردار او آئی سی کا بنتا ہے کہ وہ خاموش تماشائی بنے رہنے کی بجائے اس معاملہ میں متحرک ہو ۔ ۔ ۔

۲۰ جولائی ۲۰۱۶ء

مصطفیٰ کمال اتاترک اور جدید ترکی

مصطفیٰ کمال اتاترک جدید ترکیہ کے بانی اور معمار ہیں جنہوں نے اب سے پون صدی قبل جمہوریہ ترکیہ کی بنیاد رکھی اور ترکی اس کے بعد سے انہی کے متعین کردہ خطوط پر پوری سختی کے ساتھ گامزن ہے۔ انہوں نے ایک طرف یورپی ملکوں بالخصوص یونان کا مقابلہ کرتے ہوئے ترکی کی داخلی خودمختاری کی حفاظت کی اور بیرونی حملہ آوروں کو نکال کر ترکی کی وحدت کا تحفظ کیا جبکہ دوسری طرف خلافت عثمانیہ کا خاتمہ کر کے ترکی کو عالم اسلام سے بھی الگ کر لیا۔ وہ ترک قوم پرستی کے علمبردار تھے اور انہوں نے اس بنیاد پر ترک قوم کو بیدار کرنے اور ۔ ۔ ۔

۱۱ نومبر ۱۹۹۹ء

ترکی کو الجزائر بنانے کی کوشش!

برادر اسلامی ملک ترکی میں حکومت نے اسلامی سرگرمیوں کو روکنے کا بل منظور کیا ہے جس کے تحت مذہبی تنظیموں میں شمولیت اور ان سے تعاون کو جرم قرار دینے کے علاوہ اسلامی شعائر و علامات کے اظہار کو بھی ممنوع قرار دے دیا گیا ہے۔ اخباری اطلاعات کے مطابق حکومت نے یہ قانون فوج کے دباؤ کے تحت منظور کیا ہے جو خود کو سیکولرازم کی محافظ قرار دیتے ہوئے ہر اس رجحان کو کچل دینا چاہتی ہے جو کسی بھی درجے میں اسلامیت کے اظہار کی علامت سمجھا جاتا ہو ۔ ۔ ۔

۱۴ اپریل ۱۹۹۸ء