برطانیہ

برطانوی سامراج کی غلامی سے عالمی معاہدات کی غلامی تک

آزادی کے حوالہ سے ہمیں سب سے پہلے اس بات کو دیکھنا ہے کہ جس آزادی کا اعلان 14 اگست 1947ء کو کیا گیا تھا وہ آج کے دور میں کس کیفیت سے دوچار ہے۔ اس لیے کہ بظاہر آزاد ہو جانے کے بعد بھی ہم غلامی کے ان آثار سے نجات حاصل نہیں کر سکے جو ایسٹ انڈیا کمپنی اور تاج برطانیہ نے اپنے دو سو سالہ تسلط کے دوران ہمارے معاشرے پر قائم کیے تھے۔ استعماری قوتوں نے جو نظام، طرز زندگی اور پالیسیاں نوآبادیاتی دور میں رائج کی تھیں وہی سب کچھ بین الاقوامی معاہدات کے نام سے آج بھی ہمارے گلے کا ہار بنی ہوئی ہیں ۔ ۔ ۔

۱۲ اگست ۲۰۱۶ء

برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی اور عالمی معاہدوں کا جبر

کہا جاتا ہے کہ یورپین یونین سے علیحدگی کو برطانوی عوام برطانیہ کی خودمختاری اور آزادی کی بحالی سے تعبیر کر رہے ہیں۔ اس لیے کہ ان کے خیال میں یورپی یونین کے قوانین اور معاہدات کی وجہ سے برطانیہ کی اپنی خودمختاری محدود ہو کر رہ گئی ہے اور اس کے لیے اپنے بہت سے قوانین پر چلنا مشکل ہوگیا ہے۔ چنانچہ برطانوی عوام اپنے ملکی قوانین و نظام پر ایسے بین الاقوامی معاہدات کی بالادستی کو پسند نہیں کرتے اور آزادی و خودمختاری کا ماحول بحال کرنے کے لیے اس کے دائرے سے باہر نکل جانا چاہتے ہیں ۔ ۔ ۔

۲۹ جون ۲۰۱۶ء

برطانوی اسکولوں میں بچیوں کے اسکرٹ پہننے پر پابندی

اے پی پی کے حوالہ سے ’’پاکستان‘‘ میں 6 اگست کو شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق لندن کے علاقے ورسسٹر شائر کے ایک مڈل سکول نے 9 سال تک کی عمر کی طالبات پر سکرٹ پہننے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ ذرائع کے مطابق واک ورڈ چرچ آف انگلینڈ مڈل سکول کا موقف ہے کہ طالبات نے بہت ہی چھوٹے سکرٹ پہننا شروع کر دیے تھے جس کی وجہ سے انہوں نے مجبوری میں پابندی لگائی ہے۔ سکول انتظامیہ نے طالبات سے کہا ہے کہ وہ ستمبر سے ٹراؤزر اور واجبی سا بلاؤزر پہننے کی بجائے یونیفارم کا ٹاپ زیب تن کریں ۔ ۔ ۔

۸ اگست ۲۰۱۳ء

ڈاکٹر روون ولیمز کا بیان اور اسلامی شرعی قوانین

برطانیہ میں پروٹسٹنٹ فرقے کے سربراہ آرچ بشپ آف کنٹربری ڈاکٹر روون ولیمز کا یہ بیان عالمی سطح پر موضوع بحث بنا ہوا ہے کہ برطانیہ میں رہنے والے مسلمانوں کو خاندانی معاملات اور مالیاتی مسائل میں اپنے شرعی قوانین پر عمل کا حق ملنا چاہیے اور اس مقصد کے لیے اسلامی شرعی قوانین کو ملک کے قانونی نظام کا حصہ بنایا جانا چاہیے۔ اس سلسلہ میں جو تفصیلات مختلف اخبارات کے ذریعے سامنے آئی ہیں ان کے مطابق ڈاکٹر روون کا کہنا ہے کہ نکاح و طلاق اور وراثت وغیرہ جیسے خاندانی معاملات میں اسلام کے شرعی احکام پر عمل کرنا مسلمانوں کا حق ہے ۔ ۔ ۔

۷ مارچ ۲۰۰۸ء

برطانوی وزیر جیری اسٹکلف کے خیالات

اعلیٰ انسانی اقدار کو رائج کرنے کے لیے طاقت کے استعمال کی ضرورت و جواز پر اسلام اور مغرب کے درمیان کوئی جوہری اختلاف نہیں ہے۔ دونوں اس بات پر متفق ہیں کہ جو اقدار و روایات انسانی سوسائٹی کے لیے مفید ہوں اور اسے فلاح و نجات کی طرف لے جاتی ہوں ان کے لیے طاقت کا استعمال نہ صرف جائز ہے بلکہ حسب موقع ضروری ہو جاتا ہے۔ البتہ اعلیٰ انسانی اقدار کے تعین میں اختلاف ہے ۔اسلام کے نزدیک اعلیٰ انسانی اقدار کی بنیاد آسمانی تعلیمات پر ہے، جبکہ مغربی فلسفہ و فکر کے نزدیک انسانی سوسائٹی کی اجتماعی عقل و خواہش کی بنیاد پر اعلیٰ انسانی اقدار تشکیل پاتی ہیں ۔ ۔ ۔

۷ جنوری ۲۰۰۶ء

برطانیہ اور امریکہ کا سفر (۲۰۰۵ء)

۱۱ ستمبر کو میں نے ان دوستوں سے عرض کیا کہ میں ورلڈ ٹریڈ سنٹر کے علاقے میں جانا چاہتا ہوں اور وہاں کے مناظر کے ساتھ ساتھ عام لوگوں کے تاثرات بھی دیکھنا چاہتا ہوں۔ انھوں نے کہا کہ شام کو وہاں یادگاری تقریب ہوگی، ا س موقع پر یا اس سے قبل وہاں جانا مناسب نہیں ہوگا۔ رات نو بجے کے بعد وہاں چلیں گے اور جو دیکھنا ہوگا، دیکھ لیں گے۔ چنانچہ رات کو نو بجے کے بعد وہاں پہنچے تو ہزاروں افراد مختلف ٹولیوں کی صورت میں اس علاقے میں گھوم رہے تھے ۔ ۔ ۔

یکم دسمبر ۲۰۰۵ء

لندن بم دھماکے اور مشرق وسطیٰ میں نوے سالہ برطانوی تاریخ

برطانیہ میں خودکش بم دھماکوں کے ردعمل کا سلسلہ جاری ہے اور تازہ ترین خبروں کے مطابق دوسری جنگ عظیم کے بعد لندن کی تاریخ کا سب سے بڑا کریک ڈاؤن اور آپریشن شروع ہو چکا ہے جس میں چھ ہزار کے قریب سپاہی حصہ لے رہے ہیں۔ یہ آپریشن دہشت گردوں کی تلاش، ان کے نیٹ ورک کا سراغ لگانے اور مستقبل میں دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لیے کیا جا رہا ہے جو حفاظتی نقطۂ نظر سے انتہائی ضروری سمجھا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔

۱۰ اگست ۲۰۰۵ء

لندن بم دھماکے۔ انجام کیا ہوگا؟

اِدھر اسامہ بن لادن کی تلاش میں خفیہ ادارے منگلا ڈیم کے کنارے جا پہنچے ہیں اور اُدھر لندن میں خوفناک بم دھماکوں نے چار درجن سے زائد انسانوں کی جانیں لے کر مغرب کو خوف و ہراس کی ایک نئی فضا سے دوچار کر دیا ہے۔ میرپور آزادکشمیر میں منگلا ڈیم کے کنارے سیاکھ نامی بستی میں خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے گزشتہ ہفتے علی الصبح ایک دینی مدرسہ کو اچانک آپریشن کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں فراہم کی گئی معلومات کے مطابق سیاکھ کے دینی مدرسہ جامعہ ابراہیمیہ میں اسامہ بن لادن چھپے ہوئے ہیں ۔ ۔ ۔

۱۵ جولائی ۲۰۰۵ء

مسئلہ کشمیر اور برطانوی خارجہ جیک اسٹرا کا چٹکلا

جب تقسیم پنجاب کے وقت برطانوی حکمرانوں کا مفاد اس میں تھا تو قادیانیوں نے ریڈ کلف کمیشن کے سامنے اپنا کیس مسلمانوں سے الگ پیش کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کی تھی اور اسی کے نتیجے میں کشمیر کے خوفناک تنازع نے جنم لیا تھا جو آج نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے خطرہ بنا ہوا ہے۔ اس لیے برطانوی وزیر خارجہ جیک اسٹرا کشمیر کا تنازع کھڑا کرنے میں برطانوی کردار کو تسلیم کریں یا نہیں اور اس پر معذرت کی ضرورت محسوس کریں یا نہیں، لیکن وہ خود کو بچہ قرار دے کر تاریخی حقائق لوگوں کی نگاہوں سے اوجھل نہیں کر سکتے ۔ ۔ ۔

۱۶ جولائی ۲۰۰۲ء

افغانستان پر جاری امریکی حملہ ۔ برطانیہ کی رائے عامہ کا ردعمل

جلسہ میں دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث مکاتب فکر اور جماعت اسلامی کے سرکردہ علماء کرام نے شرکت کی۔ بعض حاضرین کا کہنا تھا کہ 11 ستمبر کے سانحہ کے بعد پہلا موقع ہے کہ تمام مکاتب فکر کے علماء کرام مشترکہ فورم سے اس مسئلہ پر اظہار خیال کر رہے ہیں۔ گلاسگو کی مقامی آبادی افغانستان پر امریکی حملوں کے خلاف دو بار مظاہرہ کر چکی ہے۔ 27 اکتوبر کو ہونے والے مظاہروں میں راقم الحروف نے بھی جمعیۃ علماء برطانیہ کے رہنما مولانا امداد الحسن نعمانی، مجلس احرار اسلام کے رہنما عبد اللطیف خالد چیمہ، اور شیخ عبد الواحد کے ہمراہ شرکت کی ۔ ۔ ۔

۲ نومبر ۲۰۰۱ء

خلافت عثمانیہ کا خاتمہ ۔ عربوں کا برطانیہ کے ساتھ تعاون

برطانوی استعمار نے خلافت عثمانیہ کے خاتمہ اور عربوں کو خلافت سے بے زار کرنے کے لیے مختلف عرب گروپوں سے سازباز کی تھی اور نہ صرف لارنس آف عریبیہ بلکہ اس قسم کے بہت سے دیگر افراد و اشخاص کے ذریعہ عرب قومیت اور خود عربوں کے داخلی دائرہ میں مختلف علاقائی و طبقاتی عصبیتوں کو ابھارنے کے لیے ایک وسیع نیٹ ورک قائم کر رکھا تھا۔ یہ اسی تگ و دو کا نتیجہ ہے کہ خلافت عثمانیہ کا صدیوں تک حصہ رہنے والی عرب دنیا آج چھوٹے چھوٹے بے حیثیت ممالک میں بٹ کر رہ گئی ہے ۔ ۔ ۔

۱۸ جنوری ۲۰۰۱ء

سلطنت برطانیہ اور آل سعود کے درمیان معاہدہ

تاریخ کا وہ حصہ میری خصوصی دلچسپی کا موضوع ہے جس کا تعلق اب سے دو صدیاں پہلے کی دو عظیم مسلم سلطنتوں خلافت عثمانیہ اور سلطنت مغلیہ کے خلاف یورپی ملکوں کی سازشوں سے ہے۔ اور اس حوالہ سے وقتاً فوقتاً ان کالموں میں کچھ لکھتا بھی رہتا ہوں۔ اسی مناسبت سے مجھے ایک معاہدہ کی تفصیلات کی تلاش تھی جو برطانوی حکومت اور آل سعود کے درمیان ہوا تھا اور جس پر اب تک بدستور عمل ہو رہا ہے ۔ ۔ ۔ یہ معاہدہ قارئین کے سامنے لانا چاہتا ہوں مگر پہلے اس کا تھوڑا سا پس منظر واضح کرنا بھی ضروری ہے ۔ ۔ ۔

۲۴ نومبر ۱۹۹۹ء

قاہرہ پر برطانوی فوج کے قبضے کا پس منظر

نہر سویز کی کھدائی فرانسیسی ماہرین نے کی تھی لیکن حکومت برطانیہ پہل کر گئی اور اس نے یہ حصص خرید لیے۔ مگر نہر سویز کے یہ حصص فروخت کر کے بھی قرضوں کی ادائیگی نہ ہو سکی جس کے نتیجہ میں اسماعیل پاشا نے 1876ء میں سرکاری ہنڈیوں پر لوگوں کو رقوم کی ادائیگی روک دی اور ملک میں خلفشار کی کیفیت پیدا ہوگئی۔ قرض دینے والے یورپی ملکوں نے قرض خواہوں کے مفادات کے تحفظ کے عنوان سے مشترکہ طور پر ایک نگران کمیشن قائم کر لیا جس نے مصر کے مالی معاملات میں مداخلت کر کے دباؤ بڑھانا شروع کر دیا ۔ ۔ ۔

۱۴ اکتوبر ۱۹۹۹ء

چودھویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس برطانیہ ۔ مسلم پرسنل لاء کا تذکرہ

ہمارے نزدیک لارڈ نذیر احمد کے خطاب کا وہ حصہ سب سے زیادہ توجہ کا مستحق ہے جس میں انہوں نے برطانیہ میں مسلمانوں کے جداگانہ پرسنل لاء کی بحالی کی تجویز پیش کی ہے اور کہا ہے کہ جس طرح برطانیہ نے برصغیر پاک و ہند و بنگلہ دیش پر تسلط کے دوران تمام شعبوں میں اپنے قوانین نافذ کرنے کے باوجود پرسنل لاز میں مسلمانوں کا جداگانہ حق تسلیم کیا تھا اور نکاح و طلاق و وراثت میں مسلمانوں کو اپنے مذہبی احکام اور قوانین پر عمل کا اس دور میں حق حاصل تھا، اسی طرح برطانیہ میں مسلمانوں کا پرسنل لاز میں جداگانہ تشخص بحال کرنے میں بھی کوئی اشکال نہیں ہونا چاہیے ۔ ۔ ۔

۱۷ اگست ۱۹۹۹ء

اعلیٰ تعلیم و تحقیق کے مواقع اور ہمارا قومی مزاج

یہ ادراک اور شعور ابھی تک ہمارے قومی مزاج کا حصہ نہیں بن پایا کہ یہ دونوں کام یعنی اسلامی فلاحی معاشرہ کی تشکیل اور جدید ترین ٹیکنالوجی پر دسترس علم اور تحقیق کے بغیر ممکن نہیں ہیں۔ ان کی بنیاد ہی علم و مطالعہ اور تحقیق و تربیت پر ہے۔ اس کے لیے جہاں اسلامی علوم کی گہرائی تک پہنچنا اور ملت اسلامیہ کی چودہ سو سالہ تاریخ کے اتار چڑھاؤ سے واقفیت ضروری ہے، وہاں ٹیکنالوجی اور صلاحیت و استعداد کے جدید ترین معیار کو قابو میں لانا بھی ناگزیر ہے ۔ ۔ ۔

۱۹ جون ۱۹۹۹ء

پاکستانی مہدی اور برطانوی ہوم آفس

برطانوی اخبار ’’نیوز آف دی ورلڈ‘‘ نے گزشتہ دنوں ایک پاکستانی شخص کے بارے میں رپورٹ شائع کی ہے جس نے مسیح ہونے کا دعوٰی کر کے لندن میں سیاسی پناہ حاصل کر رکھی ہے اور دوسرے پناہ گزینوں کی مدد بھی کرتا ہے۔ اخبار نے اس شخص کا نام نہیں لکھا البتہ یہ بتایا ہے کہ وہ پاکستان کے شہر گجرات سے تعلق رکھتا ہے اور ان دنوں ایسٹ لندن کےعلاقہ لیٹن سٹون میں رہائش پذیر ہے۔ اخبار نے اپنے ایک رپورٹر کے ذریعہ اس شخص کے بارے میں معلومات جمع کی ہیں جو عقیدت مند کے روپ میں اس کے پاس گیا اور اس سے بہت سی معلومات حاصل کیں ۔ ۔ ۔

۴ جولائی ۱۹۹۸ء

آکسفورڈ سنٹر فار اسلامک اسٹڈیز

گزشتہ ہفتے کے دوران برطانیہ کے دو مسلم اداروں میں جانے کا اتفاق ہوا۔ ایک لیسٹر کی اسلامک فاؤنڈیشن اور دوسرا آکسفورڈ کا اسلامک سنٹر۔ اسلامک فاؤنڈیشن لیسٹر کے قریب مارک فیلڈ کے مقام پر پاکستان کے معروف دانشور پروفیسر خورشید احمد کی سربراہی میں مصروف کار ہے اور ڈاکٹر مناظر حسن ڈائریکٹر کی حیثیت سے اس کے انتظامی معاملات چلا رہے ہیں۔ فاؤنڈیشن مختلف اسلامی موضوعات پر یورپی زبانوں میں لٹریچر کی اشاعت کے ساتھ ساتھ یہاں کے لوگوں کے لیے اسلامی عنوانات پر تربیتی کورسز کا اہتمام کرتی ہے اور علمی و تحقیقی کاموں میں پیش پیش ہے ۔ ۔ ۔

۱۳ ستمبر ۱۹۹۷ء

افغانستان میں طالبان کی حکومت اور برطانیہ کے مسلم دانشور

مقررین نے اس بات پر اپنی تشویش کا اظہار کیا کہ طالبان کے تمام تر خلوص، جدوجہد اور قربانیوں کے باوجود کسی نظام کی تشکیل اور اس پر عملدرآمد کے بارے میں تجربہ نہ ہونے کے باعث خدشہ ہے کہ وہ اسلام کے نام پر ایسے اقدامات نہ کر بیٹھیں جو آج کی دنیا میں اسلامی نظام کے بہتر تعارف کی بجائے اس کی بدنامی کا باعث بن جائیں۔ ان اہل دانش کا کہنا ہے کہ آج کے دور میں اسلامی نظام کے حوالہ سے بہت سے امور کا طے ہونا باقی ہے جو ظاہر ہے کہ اجتہاد کے ذریعے اہل اجتہاد کے ہاتھوں طے ہوں گے ۔ ۔ ۔

۱۴ نومبر ۱۹۹۶ء