اقوام متحدہ

سعودی عرب اور اقوام متحدہ میں قادیانیوں کی سرگرمیاں

حرمین شریفین اور حجاج کرام و معتمرین کی مسلسل خدمت کی وجہ سے سعودی عرب پورے عالم اسلام کی عقیدتوں کا مرکز ہے، اور حرمین شریفین کے تقدس و تحفظ کے حوالہ سے سعودی حکومت کے ساتھ ہم آہنگی و یکجہتی کا اظہار بلاشبہ ہمارے ایمانی تقاضوں میں شامل ہے۔ اس کے ساتھ ہی دینی و ملی امور میں راہنمائی کے لیے مسلمانوں کا سعودی عرب بالخصوص ’’رابطہ عالم اسلامی‘‘ اور سعودی علماء و مشائخ کی طرف متوجہ رہنا بھی فطری امر ہے، چنانچہ ۱۹۷۴ء کے دوران جب پاکستان کی منتخب پارلیمنٹ میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کا مسئلہ درپیش تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سعودی عرب اور اقوام متحدہ میں قادیانیوں کی سرگرمیاں

۲۹ ستمبر ۲۰۱۹ء

اقوام متحدہ کا منشور اور اسلامی نقطۂ نظر

اقوامِ متحدہ کی طرف سے ایک بار پھر یہ تقاضہ سامنے آیا ہے کہ پاکستان میں ناموسِ رسالت کے تحفظ کا قانون تبدیل کیا جائے۔ توہینِ رسالتؐ پر سزا کا قانون، تحفظ ختم نبوت کی قانونی دفعات، نافذ شدہ چند شرعی قوانین اور دستور کی اسلامی دفعات ایک عرصہ سے بین الاقوامی دباؤ کی زد میں ہیں۔ اقوام متحدہ، امریکہ، یورپی یونین اور ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت بہت سے عالمی ادارے ہمارے ان قوانین کو انسانی حقوق کے منافی قرار دے کر ان کی تبدیلی کا مطالبہ کرتے چلے آرہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اقوام متحدہ کا منشور اور اسلامی نقطۂ نظر

۲۰ تا ۳۰ دسمبر ۲۰۱۷ء

امت مسلمہ اور اقوام متحدہ ۔ چند ضروری گزارشات

روزنامہ نوائے وقت لاہور میں ۱۷ اکتوبر ۲۰۱۵ء کو شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق: ’’پاکستان نے اقوام متحدہ پر زور دیا ہے کہ اسلام کی غلط اور غیر معقول عکاسی کرنے والوں کے خلاف کاروائی اور دہشت گردی کی روک تھام کے لیے حکمت عملی بنائی جائے اور اسلام کے خلاف متعصبانہ رویے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے تناظر میں اسلامی عقائد کی تعصب پر مبنی کردارکشی کی روک تھام پر بھرپور توجہ دی جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر امت مسلمہ اور اقوام متحدہ ۔ چند ضروری گزارشات

نومبر ۲۰۱۵ء

اقوام متحدہ اور عالم اسلام

اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے جنرل اسمبلی کی لیگل کمیٹی کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’اسلام کی غلط اور غیر معقول عکاسی کرنے والوں کے خلاف کاروائی اور دہشت گردی کی روک تھام کے لیے حکمت عملی بنائی جائے۔ اسلام کے خلاف متعصبانہ رویہ اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے تناظر میں اسلامی عقائد کی تعصب پر مبنی کردار کشی کی روک تھام پر بھرپور توجہ دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر اور اشتعال انگیز کاروائیاں ناقابل برداشت ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اقوام متحدہ اور عالم اسلام

۲۱ اکتوبر ۲۰۱۵ء

انسانی حقوق سیکرٹریٹ اور علمی اداروں کی ذمہ داری

روزنامہ انصاف لاہور میں ۱۸ اگست ۲۰۱۵ء کو شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق: ’’وزیر اعظم نواز شریف نے انسانی حقوق سیکرٹریٹ بنانے کی منظوری دے دی ہے جو انسانی حقوق سے متعلق عالمی معاہدوں پر عملدرآمد کو یقینی بنائے گا، وزارت قانون نے نظام انصاف کو مؤثر بنانے اور انسانی حقوق کے حوالہ سے اصلاحات پر مبنی سمری وزیر اعظم کو بھجوائی تھی جس کی روشنی میں وزیر اعظم نے انسانی حقوق سیکرٹریٹ بنانے کی منظوری دے دی ہے۔‘‘ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر انسانی حقوق سیکرٹریٹ اور علمی اداروں کی ذمہ داری

ستمبر ۲۰۱۵ء

اقوام متحدہ کا ’’ملالہ ڈے‘‘

اقوام متحدہ نے ۱۰ نومبر ۲۰۱۲ء کو ’’ملالہ ڈے‘‘ کے طور پر منانے کا اعلان کیا اور دنیا بھر میں یہ ڈے منایا گیا۔ اس موقع پر ملالہ یوسف زئی کو تعلیم کی علامت کے طور پر پیش کیا گیا جس کا مقصد دنیا کو یہ باور کرانا ہے کہ مسلمانوں میں اور پاکستان میں تعلیم کے فروغ اور تعلیم کی آزادی کے لیے ملالہ یوسف زئی ایک نمونہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ گویا مسلم سوسائٹی میں تعلیم کا آغاز اور تعلیمی شعور کی بیداری ملالہ یوسف زئی سے شروع ہو رہی ہے اور اس کی مظلومیت پاکستان میں عورتوں کی تعلیم کا نقطۂ آغاز بن رہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اقوام متحدہ کا ’’ملالہ ڈے‘‘

۱۱ نومبر ۲۰۱۲ء

انسانی حقوق، اقوام متحدہ اور عالم اسلام

مغربی ممالک میں ایک عرصہ تک حکمرانی کا حق اور اس کے تمام تر اختیارات تین طبقوں کے درمیان دائر رہے ہیں: (۱) بادشاہ (۲) جاگیردار اور (۳) مذہبی قیادت۔ ان میں مختلف مراحل میں آپس میں کشمکش بھی رہی ہے لیکن عام شہری اس تکون کے درمیان جو دراصل جبر اور ظالمانہ حاکمیت کی تکون تھی صدیوں تک پستے رہے ہیں، مغرب خود اس دور کو جبر و ظلم اور تاریکی و جاہلیت کا دور کہتا ہے اور اس تکون سے نجات حاصل کرنے کے لیے مغربی دنیا کے عوام کو طویل جدوجہد اور صبر آزما مراحل سے گزرنا پڑا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر انسانی حقوق، اقوام متحدہ اور عالم اسلام

ستمبر ۲۰۱۲ء

جنوبی سوڈان کی آزادی اور سوڈان کا مستقبل

اقوام متحدہ کی طرف سے ’’جنوبی سوڈان‘‘ کو ایک آزاد اور خود مختار ملک کے طور پر رکنیت دینے کے فیصلے کے ساتھ ہی سوڈان کی پہلی تقسیم مکمل ہو گئی ہے اور دوسری تقسیم کی طرف پیشرفت کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ سوڈان جو افریقہ کا رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا مسلمان ملک تھا نسلی اعتبار سے تین اکائیوں پر مشتمل ہے: (۱) شمالی سوڈان، جہاں عرب مسلمانوں کی اکثریت ہے۔ (۲) جنوبی سوڈان جہاں مسیحیوں اور روح پرست افریقی قبائل کی اکثریت ہے۔ (۳) اور مغربی سوڈان جہاں افریقی مسلمان آباد ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر جنوبی سوڈان کی آزادی اور سوڈان کا مستقبل

ستمبر ۲۰۱۱ء

انسانوں کی تجارت اور اقوام متحدہ

روزنامہ جنگ راولپنڈی کے ۱۶ جون ۲۰۱۰ء کے شمارے میں شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ انسانوں کی تجارت جدید دور میں غلامی کی ایک شکل ہے اور یہ لعنت دنیا کے ہر علاقے میں موجود ہے۔ جنیوا میں اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ محنت، مشقت اور جنسی استحصال کے لیے مردوں عورتوں اور بچوں کی اسمگلنگ اور ان کی خرید و فروخت، مجرموں کے منظم گروہوں کے لیے پیسہ بنانے کا سب سے بڑا ذریعہ بن گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر انسانوں کی تجارت اور اقوام متحدہ

جولائی ۲۰۱۰ء

مذاہب اور مذہبی اکابر کی اہانت کا حق

سہ روزہ دعوت دہلی کی یکم اپریل ۲۰۰۹ء کی اشاعت میں بتایا گیا ہے کہ: ’’جنیوا میں تقریباً ۲۰۰ افراد اور میڈیا گروپوں سے وابستہ دانشوروں نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل سے کہا ہے کہ وہ اسلامی ممالک کی جانب سے پیش کی گئی اس تجویز کو مسترد کر دے جس میں انہوں نے عالمی پیمانے پر ایسا قانون تیار کرنے کی مانگ کی ہے جس کے ذریعے مذہبی رہبروں اور مختلف ادیان کی اہانت سے لوگوں کو روکا جا سکے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر مذاہب اور مذہبی اکابر کی اہانت کا حق

مئی ۲۰۰۹ء

اقوام متحدہ یا پانچ بڑی طاقتوں کی فرعونیت؟

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب حسین عبد اللہ ہارون نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ میں جمہوریت نہیں بلکہ پانچ بڑی طاقتوں کی فرعونیت ہے۔ روزنامہ ایکسپریس گوجرانوالہ ۲۰ جنوری ۲۰۰۹ء کے مطابق ’’ایکسپریس نیوز‘‘ کے میزبان جاوید چوہدری سے بات چیت کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب نے ان تاثرات کا اظہار کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اقوام متحدہ یا پانچ بڑی طاقتوں کی فرعونیت؟

فروری ۲۰۰۹ء

اقوام متحدہ میں ’’بین المذاہب کانفرنس ‘‘

گزشتہ دنوں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ’’بین المذاہب کانفرنس‘‘ منعقد ہوئی جو دو روز جاری رہی اور اس میں کم و بیش ۷۰ ممالک کے سربراہوں، وزرائے خارجہ، سفیروں اور دیگر حکام نے شرکت کی جن میں امریکی صدر جارج ڈبلیو بش، پاکستانی صدر آصف علی زرداری، برطانوی وزیر اعظم گورڈن براؤن، اسرائیلی صدر شمعون پیریز، افغان صدر حامد کرزئی، اردن کے شاہ عبد اللہ اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بین کی مون بطور خاص قابل ذکر ہیں۔ یہ کانفرنس سعودی عرب کے فرمانروا شاہ عبد اللہ کی تحریک پر ہوئی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اقوام متحدہ میں ’’بین المذاہب کانفرنس ‘‘

دسمبر ۲۰۰۸ء

انسانی حقوق کا چارٹر اور مسلمانوں کے تحفظات

دو ہفتے قبل جب میں لندن پہنچا تو مولانا مفتی عبد المنتقم سلہٹی سے بنگلہ دیش میں دینی حلقوں کی اس احتجاجی مہم کے بارے میں معلومات حاصل ہوئیں جو عبوری حکومت کی طرف سے منظور کیے جانے والے ایک مسودہ قانون کے خلاف جاری ہے اور ایمرجنسی کے باوجود ہزاروں لوگ علماء کرام کی قیادت میں احتجاجی مظاہرے کر رہے ہیں۔ یہ مسودہ قانون عبوری حکومت نے ملک میں نفاذ کے لیے منظور کیا ہے لیکن ابھی نافذ نہیں ہوا، اس میں وراثت کے قانون میں ترمیم کر کے باپ کی وراثت میں لڑکی اور لڑکے کو برابر حصے کا حقدار قرار دیا گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر انسانی حقوق کا چارٹر اور مسلمانوں کے تحفظات

۳۱ مئی ۲۰۰۸ء

موت کی سزا: اقوام متحدہ اور آسمانی تعلیمات

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے موت کی سزا ختم کرنے کی قرارداد منظور کر لی ہے جس میں دنیا بھر کے ممالک سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے اپنے قوانین میں موت کی سزا کو ختم کر دیں۔ روزنامہ پاکستان لاہور ۲۰ دسمبر ۲۰۰۷ ء کی ایک خبر کے مطابق یہ قرارداد ۵۴ کے مقابلہ میں ۱۰۴ ووٹوں سے منظور کی گئی ہے جبکہ ۲۹ ملکوں کے نمائندوں نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر موت کی سزا: اقوام متحدہ اور آسمانی تعلیمات

جنوری ۲۰۰۸ء

عالم اسلام کی نمائندگی کے لیے سلامتی کونسل کی مستقل نشست

روزنامہ جنگ لاہور ۲۰ جون ۲۰۰۵ء کی ایک خبر کے مطابق سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ سعود الفیصل نے کہا ہے کہ سلامتی کونسل کے دائمی ارکان کی توسیع کی صورت میں مسلم ممالک کو نمائندگی ملنی چاہیے۔ انہوں نے ریاض میں اخبار نویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اگر سلامتی کونسل میں توسیع کا مقصد سب کو نمائندگی مہیا کرنا اور مبنی بر انصاف رکنیت دینا ہے تو ایسی صورت میں مسلم ممالک کا حق ہے کہ سلامتی کونسل اقوام متحدہ کا سب سے زیادہ بااختیار ادارہ ہے جس کے پانچ ارکان مستقل اور دائمی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر عالم اسلام کی نمائندگی کے لیے سلامتی کونسل کی مستقل نشست

جولائی ۲۰۰۵ء

انسانی حقوق کا عالمی دن یا ان کا مرثیہ؟

آج جبکہ میں یہ سطور قلمبند کر رہا ہوں دس دسمبر ہے اور دنیا بھر میں انسانی حقوق کا دن منایا جا رہا ہے۔ ۱۹۴۸ء میں آج کے دن اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے انسانی حقوق کے اس چارٹر کی منظوری دی تھی جسے آج کی دنیا میں بین الاقوامی قانون کا درجہ حاصل ہے۔ اس چارٹر پر کم و بیش تمام ممالک نے دستخط کر کے اس کی پابندی کا عہد کر رکھا ہے، اس کے تحت بین الاقوامی ادارے کام کر رہے ہیں، اس کی خلاف ورزی پر بہت سے ملکوں کو چارج شیٹ کیا جاتا ہے، سالانہ رپورٹیں جاری ہوتی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر انسانی حقوق کا عالمی دن یا ان کا مرثیہ؟

۱۳ دسمبر ۲۰۰۴ء

اقوام متحدہ کا انسانی حقوق کا چارٹر اور ہمارے دینی مراکز کی ذمہ داری

اقوام متحدہ کے تحت انسانی حقوق کا کمیشن اور دیگر بہت سے بین الاقوامی ادارے اس چارٹر کے حوالے سے دنیا بھر کی صورت حال کا جائزہ لیتے رہتے ہیں اور ہر سال مختلف رپورٹیں منظر عام پر آتی ہیں جن میں یہ بتایا جاتا ہے کہ دنیا کے کون کون سے ممالک میں ان حقوق کی کس حد تک خلاف ورزی ہو رہی ہے۔ ان رپورٹوں کی بنیاد پر بیشتر ممالک اور عالمی ادارے متعلقہ ملکوں کے بارے میں اپنی پالیسیوں کی ترجیحات قائم کرتے ہیں اور ان کے ساتھ اپنے تعلقات پر نظر ثانی کرتے رہتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اقوام متحدہ کا انسانی حقوق کا چارٹر اور ہمارے دینی مراکز کی ذمہ داری

جون ۲۰۰۴ء

سزائے موت کے خاتمہ کے لیے اقوام متحدہ کی قرارداد

روزنامہ جنگ لاہور ۲۲ اپریل ۲۰۰۴ء کی خبر کے مطابق جنیوا میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے نے سزائے موت کے خلاف قرار داد اکثریت سے منظور کر لی ہے۔ قرار داد کے حق میں ۲۹ ووٹ آئے جبکہ پاکستان، سعودی عرب، امریکہ، جاپان، چین، بھارت اور مسلم ممالک سمیت ۱۹ ممالک نے اس کی مخالفت کی۔ ۵ ممالک بشمول برکینا فاسو، کیوبا، گوئٹے مالا، جنوبی کوریا اور سری لنکا نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر سزائے موت کے خاتمہ کے لیے اقوام متحدہ کی قرارداد

جون ۲۰۰۴ء

عورتوں کے اسلامی حقوق اور ہمارا معاشرہ

ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اس وقت ہمارے معاشرے میں جو تنظیمیں اور ادارے عورتوں کے حقوق کے لیے کام کر رہے ہیں ان کی اکثریت کا ایجنڈا مغربی ثقافت کی عملداری ہے۔ وہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر کی بنیاد پر کام کر رہے ہیں اور اس کی عملداری میں مصروف ہیں، جبکہ ہم اقوام متحدہ کے چارٹر کے بارے میں واضح تحفظات رکھتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے داخلی نظام کے بارے میں، اس کے طرز عمل کے بارے میں، اس کے طریق کار کے بارے میں اور اس کے چارٹر کے بارے میں ہمارے تحفظات ہیں جو دلیل کی بنیاد پر ہیں اور حقائق کے تناظر میں ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر عورتوں کے اسلامی حقوق اور ہمارا معاشرہ

۲۰ فروری ۲۰۰۴ء

اقوام متحدہ کے منشور پر نظرثانی کی ضرورت

اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کی انسانی حقوق کمیٹی نے کچھ عرصہ قبل اسلامی جمہوریہ ایران کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیتے ہوئے ایک قرارداد منظور کی ہے جس میں ایرانی حکومت سے متعدد قوانین اور پالیسیوں کی تبدیلی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ یہ قرارداد ۵۲ کے مقابلہ میں ۷۱ ووٹوں سے منظور ہوئی ہے۔ قرارداد کے خلاف ووٹ دینے والوں میں اکثریت مسلم ممالک اور سابق کمیونسٹ ملکوں کی ہے جبکہ ۴۱ ممالک رائے شماری سے غیر حاضر رہے جن میں زیادہ افریقی ممالک ہیں۔ اخباری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جنرل اسمبلی اگلے ماہ اس قرارداد کی حتمی منظوری دے گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اقوام متحدہ کے منشور پر نظرثانی کی ضرورت

۱۲ دسمبر ۲۰۰۱ء

اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کا ’’بیجینگ پلس ۵‘‘ اجلاس

جون ۲۰۰۰ء سے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کا ایک خصوصی اجلاس ’’بیجینگ پلس ۵‘‘ کے عنوان سے شروع ہے جو ۹ جون تک جاری رہے گا اور اس میں خواتین کے حقوق کے بارے میں اقوامِ متحدہ کے پروگرام کا اعلان کیا جائے گا۔ اس کانفرنس کا موضوع ’’خواتین کی صنفی مساوات اور اکیسویں صدی‘‘ بتایا جاتا ہے اور یہ ان عالمی کانفرنسوں کے تسلسل کا حصہ ہے جو خواتین کے حقوق اور مساوات کو اجاگر کرنے کے لیے اس سے قبل مختلف اوقات میں کوپن ہیگن، نیروبی، قاہرہ اور بیجنگ میں منعقد ہو چکی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کا ’’بیجینگ پلس ۵‘‘ اجلاس

۸ جون ۲۰۰۰ء

اقوام متحدہ، بی بی سی اور عالم اسلام

اب اگر وہی باتیں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان اور بی بی سی کے ڈائریکٹر جنرل سر جان برٹ کی زبانوں پر بھی آرہی ہیں تو ہمارے لیے خوشی کی بات ہے کہ مسلمانوں کا موقف کسی حد تک تو سنا اور سمجھا جانے لگا ہے۔ لیکن اس سلسلہ میں اصل کام ابھی باقی ہے کہ درج ذیل امور کے اہتمام کے لیے مسلمان حکومتیں منظم اور مربوط لائحہ عمل کی راہ ہموار کریں۔ کیونکہ مغرب اگر فی الواقع مسلمانوں کی ناراضگی کو محسوس کر رہا ہے اور اسے کم کرنے کا خواہشمند ہے تو اس کا کم سے کم درجہ یہی ہو سکتا ہے، ورنہ اس کے علاوہ تو صرف زبانی جمع خرچ ہوگا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اقوام متحدہ، بی بی سی اور عالم اسلام

۱۴ جون ۱۹۹۹ء

اقوام متحدہ کا منشور اور اسلامی نظام ۔ تضادات پر ایک نظر

جس دور میں اقوام متحدہ کا یہ منشو رمنظور کیا گیا تھا بہت سے مسلمان ممالک غلامی اور محکومیت کی زندگی بسر کر رہے تھے اور عالمی سطح پر امت مسلمہ کو (جغرافیائی طور پر آزادی کی) یہ حیثیت حاصل نہیں تھی جو اب حاصل ہے۔ اور اس کے بعد نصف صدی کے دوران ان پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ چکا ہے اور عالمی منظر تبدیل ہوگیا ہے۔ اس لیے اگر اقوام متحدہ حالات کی تبدیلی کا ادراک نہیں کرے گی اور عالم اسلام کے بڑھتے ہوئے اسلامی رجحانات کا احترام کرنے کی بجائے اسے اپنے خلاف حریف سمجھتی رہے گی تو بالآخر خود اس کے لیے اپنا وجود قائم رکھنا مشکل ہو جائے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اقوام متحدہ کا منشور اور اسلامی نظام ۔ تضادات پر ایک نظر

۲۳ دسمبر ۱۹۹۸ء

امریکی صدر، انسانی حقوق اور اقوام متحدہ

انسانی حقوق کا مغربی فلسفہ، اقوام متحدہ کا منشور، اور اقوام متحدہ کے متعلقہ اداروں کی قراردادوں کا موجودہ فریم ورک ہی سرے سے متنازعہ ہے۔ مثلاً نکاح و طلاق اور خاندانی نظام کے بارے میں اقوام متحدہ کے چارٹر نے جو اصول بیان کیے ہیں، قرآنی تعلیمات ان کو قبول نہیں کرتیں۔ اور اس چارٹر کو من و عن قبول کرنے سے کوئی بھی مسلمان فرد، خاندان، یا قوم بنیادی اسلامی تعلیمات سے منحرف قرار پاتی ہے۔ اس کے علاوہ اور بھی دفعات اس چارٹر میں ایسی موجود ہیں جو اسلامی احکام و قوانین کی نفی کرتی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر امریکی صدر، انسانی حقوق اور اقوام متحدہ

۱۵ جولائی ۱۹۹۸ء

اقوامِ متحدہ اور عالمِ اسلام

۲۴ اکتوبر ۱۹۹۵ء کو اقوام متحدہ کا پچاسواں یومِ تاسیس منایا جا رہا ہے اور اس موقع پر عالمی سطح پر اقوامِ متحدہ کی پچاس سالہ تقریبات کا اہتمام کیا گیا ہے۔ اقوامِ متحدہ سے قبل بھی عالمی سطح پر اقوام کی ایک مشترکہ تنظیم ’’انجمنِ اقوام‘‘ کے نام سے موجود تھی جس کا مقصد مختلف ملکوں کے درمیان محاذ آرائی اور مسلح تصادم کے امکانات کو روکنا اور بین الاقوامی طور پر رواداری اور مفاہمت کی فضا کو فروغ دینا تھا۔ لیکن انجمن اقوام اس مقصد میں کامیاب نہ ہو سکی اور دوسری جنگ عظیم کی تباہ کاریوں کے بعد ’’اقوام متحدہ‘‘ کے نام سے ایک نئی عالمی تنظیم کا قیام عمل میں لایا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اقوامِ متحدہ اور عالمِ اسلام

نومبر ۱۹۹۵ء

اقوام متحدہ کا انسانی حقوق کا چارٹر اور اسلامی تعلیمات

مغرب نے انسانی حقوق کے بارے میں اقوام متحدہ کے چارٹر کو مسلمہ معیار کا درجہ دے کر کسی بھی معاملہ میں اس سے الگ رویہ رکھنے والے تیسری دنیا اور عالم اسلام کے ممالک کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دینے کی مہم شروع کر رکھی ہے۔ اور اس سلسلہ میں اسے عالمی ذرائع ابلاغ کے ساتھ ساتھ عالم اسلام اور تیسری دنیا میں اپنی ہم نوا لابیوں کا بھرپور تعاون حاصل ہے۔ جبکہ اس نظریاتی و فکری یلغار میں ملت اسلامیہ کے عقائد و احکام اور روایات و اقدار سب سے زیادہ مغربی دانشوروں، لابیوں اور ذرائع ابلاغ کے حملوں کی زد میں ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر اقوام متحدہ کا انسانی حقوق کا چارٹر اور اسلامی تعلیمات

مئی ۱۹۹۵ء